Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحكم والقضاء

Governance & Judiciary

29060 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14511

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْحَلُ ضَاحِيَةً مِنْ مُضَرَ وَمِنْ الْيَمَنِ وَقَالَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ وَقَالَ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً وَقَالَ فِي الْبَيْعَةِ لَا نَسْتَقِيلُهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مکہ مکرمہ میں رہے اور عکاظ ، مجنہ اور موسم حج میں میدان منی میں لوگوں کے پاس ان کے ٹھکانوں پر جا جا کر ملتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے اپنے یہاں کون ٹھکانہ دے گا کون میری مدد کرے گا میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں اور اسے جنت مل جائے بعض اوقات ایک آدمی یمن سے آتا یا مصر سے تو ان کی قوم کے لوگ اس کے پاس آتے اور اس سے کہتے کہ قریش کے اس نوجوان سے بچ کر رہنا کہیں یہ تمہیں گمراہ نہ کردے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے خیموں کے پاس سے گذرتے وہ انگلیوں سے انکی طرف اشارہ کرتے حتی کہ اللہ نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یثرب سے اٹھادیا اور ہم نے انہیں ٹھکانہ فراہم کیا اور ان کی تصدیق کی چنانچہ ہم میں سے ایک آدمی نکلتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے قرآن پڑھاتے اور جب وہ واپس گھر پلٹ کر آتا تو اس کے اسلام کی برکت سے اس کے اہل خانہ بھی مسلمان ہو جاتے حتی کہ انصار کا کوئی گھر ایساباقی نہ بچا جس میں مسلمانوں کا ایک گروہ نہ ہو، یہ سب لوگ علانیہ اسلام کو ظاہر کرتے تھے۔ ایک دن سب لوگ مشورہ کے لئے اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم کب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں چھوڑے رکھیں گے کہ آپ کو مکہ کے پہاڑوں میں دھکے دیئے جاتے رہیں اور آپ خوف کے عالم میں رہیں چنانچہ ہم میں سے ستر آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے اور ایام حج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے ہم نے آپس میں ایک گھاٹی ملاقات کے لئے طے کی اور ایک ایک دو دو کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے یہاں تک کہ جب ہم پورے ہوگئے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ہم کس شرط پر آپ کی بیعت کریں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھ سے چستی اور سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے ، تنگی اور آسانی اور ہر حال میں خرچ کرنے، امر بالمعروف نہی عن المنکر اور حق بات کہنے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنے اور میری مدد کرنے اور اسی طرح میری حفاظت کرنے کی شر ط پر بیعت کرو جس طرح تم اپنی بیویوں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہو اور تمہیں اس کے بدلے میں جنت ملے گی چنانچہ ہم نے کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرلی۔ حضرت اسعد بن زرارہ جو سب سے چھوٹے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر کہنے لگے کہ اے اہل یثرب ٹھہرو ہم لوگ اپنے اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے یہاں اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین ہوجائے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں یہ سمجھ لو کہ آج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں سے نکال کر لے جانا پورے عرب کی جدائیگی اختیار کرنا ہے اپنے بہترین افراد کو قتل کروانا اور تلواریں کاٹنا ہے اگر تم اس پر صبر کرسکو تو تمہاراجروثواب اللہ کے ذمے ہے۔ اور اگر تمہیں اپنے متعلق ذراسی بھی بزدلی کا اندیشہ ہو تو اسے واضح کر دو تاکہ وہ عند اللہ تمہارے لئے عذر شمار ہوجائے اس پر تمام انصار نے کہا اسعد پیچھے ہٹو بخداہم بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور کبھی ختم نہیں کریں گے چنانچہ اسی طرح ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت عطا فرمائے جانے کے وعدے اور شرائط پرہم سے بیعت لے لی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← دَاودُ يَعْنِي الْعَطَّارَ، ← دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14511

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14512

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَرْحَلُ مِنْ مُضَرَ وَمِنْ الْيَمَنِ وَقَالَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ وَقَالَ فِي كَلَامِ أَسْعَدَ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً وَقَالَ فِي الْبَيْعَةِ لَا نَسْتَقِيلُهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مکہ مکرمہ میں رہے اور عکاظ ، مجنہ اور موسم حج میں میدان منی میں لوگوں کے پاس ان کے ٹھکانوں پر جا جا کر ملتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے اپنے یہاں کون ٹھکانہ دے گا کون میری مدد کرے گا میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں اور اسے جنت مل جائے بعض اوقات ایک آدمی یمن سے آتا یا مصر سے تو ان کی قوم کے لوگ اس کے پاس آتے اور اس سے کہتے کہ قریش کے اس نوجوان سے بچ کر رہنا کہیں یہ تمہیں گمراہ نہ کردے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے خیموں کے پاس سے گذرتے وہ انگلیوں سے انکی طرف اشارہ کرتے حتی کہ اللہ نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یثرب سے اٹھادیا اور ہم نے انہیں ٹھکانہ فراہم کیا اور ان کی تصدیق کی چنانچہ ہم میں سے ایک آدمی نکلتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے قرآن پڑھاتے اور جب وہ واپس گھر پلٹ کر آتا تو اس کے اسلام کی برکت سے اس کے اہل خانہ بھی مسلمان ہو جاتے حتی کہ انصار کا کوئی گھر ایساباقی نہ بچا جس میں مسلمانوں کا ایک گروہ نہ ہو، یہ سب لوگ علانیہ اسلام کو ظاہر کرتے تھے۔ ایک دن سب لوگ مشورہ کے لئے اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم کب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں چھوڑے رکھیں گے کہ آپ کو مکہ کے پہاڑوں میں دھکے دیئے جاتے رہیں اور آپ خوف کے عالم میں رہیں چنانچہ ہم میں سے ستر آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے اور ایام حج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے ہم نے آپس میں ایک گھاٹی ملاقات کے لئے طے کی اور ایک ایک دو دو کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے یہاں تک کہ جب ہم پورے ہوگئے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ہم کس شرط پر آپ کی بیعت کریں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھ سے چستی اور سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے ، تنگی اور آسانی اور ہر حال میں خرچ کرنے، امر بالمعروف نہی عن المنکر اور حق بات کہنے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنے اور میری مدد کرنے اور اسی طرح میری حفاظت کرنے کی شر ط پر بیعت کرو جس طرح تم اپنی بیویوں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہو اور تمہیں اس کے بدلے میں جنت ملے گی چنانچہ ہم نے کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرلی۔ حضرت اسعد بن زرارہ جو سب سے چھوٹے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر کہنے لگے کہ اے اہل یثرب ٹھہرو ہم لوگ اپنے اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے یہاں اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین ہوجائے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں یہ سمجھ لو کہ آج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں سے نکال کر لے جانا پورے عرب کی جدائیگی اختیار کرنا ہے اپنے بہترین افراد کو قتل کروانا اور تلواریں کاٹنا ہے اگر تم اس پر صبر کرسکو تو تمہاراجروثواب اللہ کے ذمے ہے۔ اور اگر تمہیں اپنے متعلق ذراسی بھی بزدلی کا اندیشہ ہو تو اسے واضح کر دو تاکہ وہ عند اللہ تمہارے لئے عذر شمار ہوجائے اس پر تمام انصار نے کہا اسعد پیچھے ہٹو بخداہم بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور کبھی ختم نہیں کریں گے چنانچہ اسی طرح ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت عطا فرمائے جانے کے وعدے اور شرائط پرہم سے بیعت لے لی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14512

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14708

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ يَتَّبِعُ الْحَاجَّ فِي مَنَازِلِهِمْ فِي الْمَوْسِمِ وَبِمَجَنَّةٍ وَبِعُكَاظٍ وَبِمَنَازِلِهِمْ بِمِنًى مَنْ يُؤْوِينِي مَنْ يَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَاتِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَلَهُ الْجَنَّةُ فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَنْصُرُهُ وَيُؤْوِيهِ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَرْحَلُ مِنْ مُضَرَ أَوْ مِنْ الْيَمَنِ أَوْ زَوْرِ صَمَدٍ فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ فَيَقُولُونَ احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ لَا يَفْتِنُكَ وَيَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مِنْ يَثْرِبَ فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيُؤْمِنُ بِهِ فَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ حَتَّى لَا يَبْقَى دَارٌ مِنْ دُورِ يَثْرِبَ إِلَّا فِيهَا رَهْطٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ ثُمَّ بَعَثَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَأْتَمَرْنَا وَاجْتَمَعْنَا سَبْعُونَ رَجُلًا مِنَّا فَقُلْنَا حَتَّى مَتَى نَذَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ فَدَخَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ فَوَاعَدْنَاهُ شِعْبَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي لَا أَدْرِي مَا هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ الَّذِينَ جَاءُوكَ إِنِّي ذُو مَعْرِفَةٍ بِأَهْلِ يَثْرِبَ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ فَلَمَّا نَظَرَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي وُجُوهِنَا قَالَ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَا أَعْرِفُهُمْ هَؤُلَاءِ أَحْدَاثٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَامَ نُبَايِعُكَ قَالَ تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنْ الْمُنْكَرِ وَعَلَى أَنْ تَقُولُوا فِي اللَّهِ لَا تَأْخُذُكُمْ فِيهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي إِذَا قَدِمْتُ يَثْرِبَ فَتَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمْ الْجَنَّةُ فَقُمْنَا نُبَايِعُهُ فَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ أَصْغَرُ السَّبْعِينَ فَقَالَ رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ إِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِلَيْهِ أَكْبَادَ الْمَطِيِّ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ إِنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ وَأَنْ تَعَضَّكُمْ السُّيُوفُ فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى السُّيُوفِ إِذَا مَسَّتْكُمْ وَعَلَى قَتْلِ خِيَارِكُمْ وَعَلَى مُفَارَقَةِ الْعَرَبِ كَافَّةً فَخُذُوهُ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً فَذَرُوهُ فَهُوَ أَعْذَرُ عِنْدَ اللَّهِ قَالُوا يَا أَسْعَدُ بْنَ زُرَارَةَ أَمِطْ عَنَّا يَدَكَ فَوَاللَّهِ لَا نَذَرُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ وَلَا نَسْتَقِيلُهَا فَقُمْنَا إِلَيْهِ رَجُلًا رَجُلًا يَأْخُذُ عَلَيْنَا بِشُرْطَةِ الْعَبَّاسِ وَيُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مکہ مکرمہ میں رہے اور عکاظ ، مجنہ اور موسم حج میں میدان منی میں لوگوں کے پاس ان کے ٹھکانوں پر جاجاکر ملتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے اپنے یہاں کون ٹھکانہ دے گا کون میری مدد کرے گا میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں اور اسے جنت مل جائے بعض اوقات ایک آدمی یمن سے آتا یا مصر سے تو ان کی قوم کے لوگ اس کے پاس آتے اور اس سے کہتے کہ قریش کے اس نوجوان سے بچ کر رہنا کہیں یہ تمہیں گمراہ نہ کردے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے خیموں کے پاس سے گذرتے وہ انگلیوں سے انکی طرف اشارہ کرتے حتی کہ اللہ نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یثرب سے اٹھادیا اور ہم نے انہیں ٹھکانہ فراہم کیا اور ان کی تصدیق کی چنانچہ ہم میں سے ایک آدمی نکلتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے قرآن پڑھاتے اور جب وہ واپس گھر پلٹ کر آتا تو اس کے اسلام کی برکت سے اس کے اہل خانہ بھی مسلمان ہوجاتے حتی کہ انصار کا کوئی گھر ایسا باقی نہ بچا جس میں مسلمانوں کا ایک گروہ نہ ہو، یہ سب لوگ علانیہ اسلام کو ظاہر کرتے تھے۔ ایک دن سب لوگ مشورہ کے لئے اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم کب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں چھوڑے رکھیں گے کہ آپ کو مکہ کے پہاڑوں میں دھکے دیئے جاتے رہیں اور آپ خوف کے عالم میں رہیں چنانچہ ہم میں سے ستر آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے اور ایام حج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے ہم نے آپس میں ایک گھاٹی ملاقات کے لئے طے کی اور ایک ایک دو دو کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے یہاں تک کہ جب ہم پورے ہوگئے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ہم کس شرط پر آپ کی بیعت کریں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھ سے چستی اور سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے ، تنگی اور آسانی اور ہر حال میں خرچ کرنے، امر بالمعروف نہی عن المنکر اور حق بات کہنے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنے اور میری مدد کرنے اور اسی طرح میری حفاظت کرنے کی شر ط پر بیعت کرو جس طرح تم اپنی بیویوں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہو اور تمہیں اس کے بدلے میں جنت ملے گی چنانچہ ہم نے کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرلی۔ حضرت اسعد بن زرارہ جو سب سے چھوٹے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر کہنے لگے کہ اے اہل یثرب ٹھہرو ہم لوگ اپنے اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے یہاں اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین ہوجائے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں یہ سمجھ لو کہ آج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کویہاں سے نکال کرلے جانا پورے عرب کی جدائیگی اختیار کرنا ہے اپنے بہترین افراد کو قتل کروانا اور تلواریں کاٹنا ہے اگر تم اس پر صبر کرسکو تو تمہاراجر و ثواب اللہ کے ذمے ہے۔ اور اگر تمہیں اپنے متعلق ذرا سی بھی بزدلی کا اندیشہ ہو تو اسے واضح کردوتاکہ وہ عند اللہ تمہارے لئے عذر شمار ہوجائے اس پر تمام انصار نے کہا اسعد پیچھے ہٹو واللہ ہم بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور کبھی ختم نہیں کریں گے چنانچہ اسی طرح ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت عطا فرمائے جانے کے وعدے اور شرائط پرہم سے بیعت لے لی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14708

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20650

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَتَبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقْضِي الْحَاكِمُ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی حاکم دو آدمیوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔

أَبِيهِ أَنَّهُ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← سُفْيَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20650

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20656

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ثَلَاثًا الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَذُكِرَ الْكَبَائِرُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ وَقَالَ وَشَهَادَةُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کبیرہ گناہوں کا تذکرہ چل پڑا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹیک لگائی ہوئی تھی سیدھے ہوکر بیٹھے پھر کئی مرتبہ فرمایا جھوٹی گواہ جھوٹی بات یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مرتبہ فرمائی کہ ہم سوچنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوجاتے۔

الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ ← الْكَبَائِرُ عِنْدَ النَّبِيِّ ← أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ثَلَاثًا الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20656

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20660

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْضِي الْقَاضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی حاکم دو آدمیوں کے درمیان غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20660

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20664

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْبَغِي لِلْقَاضِي وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً لِلْحَاكِمِ أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی حاکم کے لئے مناسب نہیں ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان غصہ کی حالت میں فیصلہ کرے۔

لَا يَنْبَغِي لِلْقَاضِي ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20664

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20665

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ذُكِرَ الْكَبَائِرُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ وَشَهَادَةُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ و قَالَ مَرَّةً أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ تَعَالَى فَذَكَرَهُ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کبیرہ گناہوں کا تذکرہ چل پڑا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹیک لگائی ہوئی تھی سیدھے ہو کر بیٹھے پھر کئی مرتبہ فرمایا جھوٹے گواہ جھوٹی بات یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مرتبہ فرمائی کہ ہم سوچنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوجاتے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20665

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20718

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ وَفَدْتُ مَعَ أَبِي إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَأُدْخِلْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ وَيَسْأَلُ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنْ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ قَالَ أَبِي قَالَ عَفَّانُ فِيهِ فَاسْتَاءَ لَهَا قَالَ وَقَالَ حَمَّادٌ فَسَاءَهُ ذَلِكَ

عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت امیر معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا اے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود سنی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نیک خواب بہت اچھے لگتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق پوچھتے رہتے تھے چنانچہ حسب معمول ایک دن پوچھا کہ تم میں سے کوئی کسی نے خواب دیکھا ہے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ میں نے دیکھا ہے میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا جس میں آپ کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے وزن کیا گیا تو آپ کا پلڑا جھک گیا پھر ابوبکر کا عمر سے وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا جھک گیا پھر عمر کا عثمان سے کیا گیا تو عمر کا پلڑا جھک گیا پھر وہ ترازو اٹھا لیا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر یہ خواب بوجھ بنا اور فرمایا اس سے خلافت نبوت کی طرف اشارہ ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا حکومت دے دے گا۔

رَجُلٌ: ← رَسُولُ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ وَيَسْأَلُ عَنْهَا ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← بِشَيْءٍ ← يَا أَبَا بَكْرَةَ ← وَفَدْتُ مَعَ أَبِي إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَأُدْخِلْنَا عَلَيْهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20718

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20721

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَثِبُ عَلَى ظَهْرِهِ إِذَا سَجَدَ فَفَعَلَ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ فَقَالُوا لَهُ وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَفْعَلُ بِهَذَا شَيْئًا مَا رَأَيْنَاكَ تَفْعَلُهُ بِأَحَدٍ قَالَ الْمُبَارَكُ فَذَكَرَ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَسَيُصْلِحُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ الْحَسَنُ فَوَاللَّهِ وَاللَّهِ بَعْدَ أَنْ وَلِيَ لَمْ يُهْرَقْ فِي خِلَافَتِهِ مِلْءُ مِحْجَمَةٍ مِنْ دَمٍ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ایک مرتبہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب سجدے میں جاتے تو امام حسن کود کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار ہوجاتے انہوں نے کئی مرتبہ ایسا کیا اس پر کچھ لوگ کہنے لگے آپ اس بچے کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں وہ ہم نے آپ کو کسی دوسرے کے ساتھ ایسا نہیں کرتے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا حسن کہتے ہیں کہ واللہ ان کے خلیفہ بننے کے بعد ایک سینگی میں آنے والی مقدار کا خون بھی نہیں بہایا گیا۔

أَبُو بَکْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← المبارك ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20721

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20724

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ مَوْلًى لِآلِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ دُعِيَ إِلَى شَهَادَةٍ مَرَّةً فَجَاءَ إِلَى الْبَيْتِ فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ فَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِهِ أَنْ يَجْلِسَ فِيهِ وَأَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَا يَمْلِكُ

ایک مرتبہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو کسی معاملے میں گواہی کے لئے بلایا گیا وہ تشریف لائے تو ایک آدمی اپنی جگہ سے کھڑا ہوا حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اپنی جگہ سے کھڑا ہو اور دوسرا اس کی جگہ پر بیٹھ جائے اور اس بات سے بھی کہ انسان ایسے کپڑے سے ہاتھ پونچھے جس کا وہ مالک نہ ہو۔

سَعِيْد بن أبي الحسن البصري ← مَوْلًى لِآلِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20724

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8047

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَخَرَجَ مِنْ الطَّاعَةِ فَمَاتَ فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي بِسَيْفِهِ يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا لَا يُحَاشِي مُؤْمِنًا لِإِيمَانِهِ وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدٍ بِعَهْدِهِ فَلَيْسَ مِنْ أُمَّتِي وَمَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِلْعَصَبِيَّةِ أَوْ يُقَاتِلُ لِلْعَصَبِيَّةِ أَوْ يَدْعُو إِلَى الْعَصَبِيَّةِ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص امیر کی اطاعت سے نکل گیا اور جماعت کو چھوڑ گیا اور اسی حال میں مر گیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوئی اور جو شخص میری امت پر خروج کرے نیک و بدسب کو مارے مومن سے حیاء کرے اور عہد والے سے عہد پورا نہ کرے وہ میرا امتی نہیں ہے اور جو شخص کسی جھنڈے کے نیچے بے مقصد لڑتا ہے (قومی یا لسانی) تعصب کی بناء پر غصہ کا اظہار کرتا ہے اسی کی خاطر لڑتا ہے اور اسی کے پیش نظر مدد کرتا ہے اور مارا جاتا ہے تو اس کا مرنا بھی جاہلیت کے مرنے کی طرح ہوا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8047

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8078

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ قَالُوا مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ وَالْبَطَنُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم لوگ اپنے درمیان شہید کسے سمجھتے ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہوا مارا جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت میں شہداء کی تعداد بہت کم ہوگی جہاد فی سبیل اللہ میں مارا جانا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے دریا میں غرق ہو کر مرنا بھی شہادت ہے طاعون میں مبتلا ہو کر مرنا بھی شہادت ہے اور نفاس کی حالت میں عورت کا مرنا بھی شہادت ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8078

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20760

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ وَقَالَ بَهْزٌ عَبْدَ رَبِّهِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَبِي مُوسَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو بَكْرَةَ فِي شَهَادَةٍ فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُقِمْ الرَّجُلَ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَقْعُدُ فِيهِ أَوْ قَالَ إِذَا أَقَامَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ فَلَا يَجْلِسْ فِيهِ وَلَا يَمْسَحْ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَا يَمْلِكُ

ایک مرتبہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو کسی معاملے میں گواہی کے لئے بلایا گیا تو وہ تشریف لائے تو ایک آدمی اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اس جگہ سے کھڑا ہو اور دوسرا اس کی جگہ بیٹھ جائے اور اس بات سے بھی انسان ایسے کپڑے سے ہاتھ پونچھے جس کا وہ مالک نہ ہو۔

أَبُو بَکْرَةَ ← دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو بَكْرَةَ فِي شَهَادَةٍ فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَبِي مُوسَى ← بَهْزٌ عَبْدَ رَبِّهِ ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20760

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20777

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ وَفَدْنَا مَعَ زِيَادٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَفِينَا أَبُو بَكْرَةَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَيْهِ لَمْ يُعْجَبْ بِوَفْدٍ مَا أُعْجِبَ بِنَا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ وَيَسْأَلُ عَنْهَا فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنْ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَاسْتَاءَ لَهَا وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا فَسَاءَهُ ذَاكَ ثُمَّ قَالَ خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ قَالَ فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا فَقَالَ زِيَادٌ لَا أَبَا لَكَ أَمَا وَجَدْتَ حَدِيثًا غَيْرَ ذَا حَدِّثْهُ بِغَيْرِ ذَا قَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أُحَدِّثُهُ إِلَّا بِذَا حَتَّى أُفَارِقَهُ فَتَرَكَنَا ثُمَّ دَعَا بِنَا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَكَعَهُ بِهِ فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا فَأُخْرِجْنَا فَقَالَ زِيَادٌ لَا أَبَا لَكَ أَمَا تَجِدُ حَدِيثًا غَيْرَ ذَا حَدِّثْهُ بِغَيْرِ ذَا فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أُحَدِّثُهُ إِلَّا بِهِ حَتَّى أُفَارِقَهُ قَالَ ثُمَّ تَرَكَنَا أَيَّامًا ثُمَّ دَعَا بِنَا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَكَعَهُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ أَتَقُولُ الْمُلْكَ فَقَدْ رَضِينَا بِالْمُلْكِ

عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت امیر معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا اے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود سنی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نیک خواب بہت اچھے لگتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق پوچھتے رہتے تھے چنانچہ حسب معمول ایک دن پوچھا کہ تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ میں نے دیکھا ہے میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا جس میں آپ کا حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے وزن کیا گیا تو آپ کا پلڑا جھک گیا پھر ابوبکر کا عمر سے وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا جھک گیا پھر عمر کا عثمان سے کیا گیا تو عمر کا پلڑا جھک گیا پھر وہ ترازو اٹھا لیا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر خواب بوجھ بنا اور فرمایا اس سے خلافت نبوت کی طرف اشارہ ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا حکومت دے دے گا۔ اس پر ہمیں گدی سے پکڑ کر باہر نکال دیا گیا زیاد کہنے لگا کہ تمہارا باپ نہ رہے کیا تمہیں اس کے علاوہ کوئی حدیث نہیں ملی جو تم اس کے سامنے بیان کرتے انہوں نے فرمایا کہ نہیں واللہ میں اس کے علاوہ ان سے کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا یہاں تک کہ ان سے جدا ہوجاؤں اس پر اس نے ہمیں چھوڑ دیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا پھر حضرت معاویہ نے فرمایا تم حکومت کہتے ہو ہم اس پر راضی ہیں۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20777

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20779

وَبِإِسْنَادِهِ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ نُعَزِّيهِ مَعَ زِيَادٍ وَمَعَنَا أَبُو بَكْرَةَ فَلَمَّا قَدِمْنَا لَمْ يُعْجَبْ بِوَفْدٍ مَا أُعْجِبَ بِنَا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ وَيَسْأَلُ عَنْهَا وَإِنَّهُ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَنَا رَأَيْتُ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنْ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ فِيهِ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ ثُمَّ وُزِنَ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ ثُمَّ وُزِنَ فِيهِ عُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَحَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَاسْتَاءَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ أَوَّلَهَا فَقَالَ خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ قَالَ فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا وَأُخْرِجْنَا فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْغَدِ عُدْنَا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَكَعَهُ بِهِ فَزُخَّ فِي أَقْفَائِنَا فَلَمَّا كَانَ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ عُدْنَا فَسَأَلَهُ أَيْضًا قَالَ فَبَكَعَهُ بِهِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ تَقُولُ إِنَّا مُلُوكٌ قَدْ رَضِينَا بِالْمُلْكِ

عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت امیر معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا اے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود سنی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نیک خواب بہت اچھے لگتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق پوچھتے رہتے تھے چنانچہ حسب معمول ایک دن پوچھا کہ تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ میں نے دیکھا ہے میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا جس میں آپ کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے وزن کیا گیا تو آپ کا پلڑا جھک گیا پھر ابوبکر کا عمر سے وزن کیا گیا تو ابوبکر کا پلڑا جھک گیا پھر عمر کا عثمان سے کیا گیا تو عمر کا پلڑا جھک گیا پھر وہ ترازو اٹھا لیا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر خواب بوجھ بنا اور فرمایا اس سے خلافت نبوت کی طرف اشارہ ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا حکومت دے دے گا۔ اس پر ہمیں گدی سے پکڑ کر باہر نکال دیا گیا زیاد کہنے لگا کہ تمہارا باپ نہ رہے کیا تمہیں اس کے علاوہ کوئی حدیث نہیں ملی جو تم اس کے سامنے بیان کرتے انہوں نے فرمایا کہ نہیں واللہ میں اس کے علاوہ ان سے کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا یہاں تک کہ ان سے جدا ہوجاؤں اس پر اس نے ہمیں چھوڑ دیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا پھر حضرت معاویہ نے فرمایا تم حکومت کہتے ہو ہم اس پر راضی ہیں۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20779

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15090

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ مُرْتَحِلًا عَلَى جَمَلٍ لِي ضَعِيفٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَتْ الرِّفَاقُ تَمْضِي وَجَعَلْتُ أَتَخَلَّفُ حَتَّى أَدْرَكَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لَكَ يَا جَابِرُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْطَأَ بِي جَمَلِي هَذَا قَالَ فَأَنِخْهُ وَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ أَعْطِنِي هَذِهِ الْعَصَا مِنْ يَدِكَ أَوْ قَالَ اقْطَعْ لِي عَصًا مِنْ شَجَرَةٍ قَالَ فَفَعَلْتُ قَالَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَخَسَهُ بِهَا نَخَسَاتٍ ثُمَّ قَالَ ارْكَبْ فَرَكِبْتُ فَخَرَجَ وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ يُوَاهِقُ نَاقَتَهُ مُوَاهَقَةً قَالَ وَتَحَدَّثَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَبِيعُنِي جَمَلَكَ هَذَا يَا جَابِرُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلْ أَهَبُهُ لَكَ قَالَ لَا وَلَكِنْ بِعْنِيهِ قَالَ قُلْتُ فَسُمْنِي بِهِ قَالَ قَدْ قُلْتُ أَخَذْتُهُ بِدِرْهَمٍ قَالَ قُلْتُ لَا إِذًا يَغْبِنُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبِدِرْهَمَيْنِ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَلَمْ يَزَلْ يَرْفَعُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ الْأُوقِيَّةَ قَالَ قُلْتُ فَقَدْ رَضِيتُ قَالَ قَدْ رَضِيتَ قُلْتُ نَعَمْ قُلْتُ هُوَ لَكَ قَالَ قَدْ أَخَذْتُهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِي يَا جَابِرُ هَلْ تَزَوَّجْتَ بَعْدُ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا قَالَ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبًا قَالَ أَفَلَا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَبِي أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ بَنَاتٍ لَهُ سَبْعًا فَنَكَحْتُ امْرَأَةً جَامِعَةً تَجْمَعُ رُءُوسَهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ قَالَ أَصَبْتَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ أَمَا إِنَّا لَوْ قَدْ جِئْنَا صِرَارًا أَمَرْنَا بِجَزُورٍ فَنُحِرَتْ وَأَقَمْنَا عَلَيْهَا يَوْمَنَا ذَلِكَ وَسَمِعَتْ بِنَا فَنَفَضَتْ نَمَارِقَهَا قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مِنْ نَمَارِقَ قَالَ إِنَّهَا سَتَكُونُ فَإِذَا أَنْتَ قَدِمْتَ فَاعْمَلْ عَمَلًا كَيِّسًا قَالَ فَلَمَّا جِئْنَا صِرَارًا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَزُورٍ فَنُحِرَتْ فَأَقَمْنَا عَلَيْهَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَلَمَّا أَمْسَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَدَخَلْنَا قَالَ فَأَخْبَرْتُ الْمَرْأَةَ الْحَدِيثَ وَمَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَدُونَكَ فَسَمْعًا وَطَاعَةً قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَخَذْتُ بِرَأْسِ الْجَمَلِ فَأَقْبَلْتُ بِهِ حَتَّى أَنَخْتُهُ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسْتُ فِي الْمَسْجِدِ قَرِيبًا مِنْهُ قَالَ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى الْجَمَلَ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا جَمَلٌ جَاءَ بِهِ جَابِرٌ قَالَ فَأَيْنَ جَابِرٌ فَدُعِيتُ لَهُ قَالَ تَعَالَ أَيْ يَا ابْنَ أَخِي خُذْ بِرَأْسِ جَمَلِكَ فَهُوَ لَكَ قَالَ فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ اذْهَبْ بِجَابِرٍ فَأَعْطِهِ أُوقِيَّةً فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً وَزَادَنِي شَيْئًا يَسِيرًا قَالَ فَوَاللَّهِ مَازَالَ يَنْمِي عِنْدَنَا وَنَرَى مَكَانَهُ مِنْ بَيْتِنَا حَتَّى أُصِيبَ أَمْسِ فِيمَا أُصِيبَ النَّاسُ يَعْنِي يَوْمَ الْحَرَّةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ ذات الرقاع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اپنے ایک کمزور اونٹ پر سوار ہو کر نکلا واپسی پر سواریاں چلتی گئی اور میں پیچھے رہ گیا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور فرمایا جابر رضی اللہ عنہ تمہیں کیا ہوا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میر اونٹ سست ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے بٹھادو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی اسے بٹھایا اور فرمایا اپنے ہاتھ کی لاٹھی مجھے دیدو اس درخت سے توڑ کر دیدو میں نے ایسا ہی کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چند مرتبہ وہ چبھو کر فرمایا اب اس پر سوار ہو جا چنانچہ میں سوار ہو گیا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ اب دوسری اونٹنیوں سے مقابلہ کر رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے باتیں کرتے ہوئے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں آپ کو ہبہ کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں تم بیچ دو میں نے عرض کیا پھر مجھے اس کی قیمت بتا دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اسے ایک درہم میں لیتا ہوں میں نے کہا پھر نہیں یہ تو نقصان کا سودا ہوگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو درہم کہا لیکن میں نے پھر بھی انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بڑھاتے ہوئے ایک اوقیہ تک پہنچ گئے تب میں نے کہا میں راضی ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راضی ہو میں نے کہا جی ہاں یہ اونٹ آپ کا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے لے لیا۔ تھوڑی دیر بعد مجھ سے پوچھا کہ جابر رضی اللہ عنہ کیا تم نے شادی کر لی میں نے عرض کیا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے یا شوہردیدہ سے میں نے کہا شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری سے کیوں نہیں کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تمہارے ساتھ کھیلتی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ غزوہ احد میں میرے والد صاحب شہید ہو گئے اور سات بیٹیاں چھوڑ گئے تھے میں نے ایسی عورت سے نکاح کیا جو ان کی دیکھ بھال کر سکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا پھر فرمایا کہ اگر ہم کسی بلند ٹیلے پر پہنچ گئے تو اونٹ ذبح کریں گے اور ایک دن یہیں قیام کریں گے خواتین کو ہماری آمد کا علم ہو جائے تو وہ بستر جھاڑ لیں گے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ واللہ ہمارے پاس تو ایسی چادریں نہیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ہوں گی اور جب تم گھر پہنچ جاؤ تو اپنی بیوی کے قریب جا سکتے ہو چنانچہ ایک بلند ٹیلے پر پہنچ کر ایسا ہی ہوا اور شام کو ہم مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے۔ میں نے اپنی بیوی کو یہ سارا واقعہ بتایا اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کیا فرمایا ہے اس نے کہا بہت اچھا سر آنکھوں پر چنانچہ صبح ہوئی تو میں نے اونٹ کا سرا پکڑا اور اسے لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بٹھادیا اور خود قریب جا کر مسجد میں بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر نکلے تو دیکھا تو لوگوں سے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسا ہے ان لوگوں نے بتایا یا رسول اللہ جابر رضی اللہ عنہ لے کر آیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ خود کہاں ہے مجھے بلایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھتیجے یہ اونٹ تمہارا ہے تم لے جاؤ اور حضرت بلال کو بلا کر حکم دیا کہ جابر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے جاؤ اور ایک اوقیہ چاندی دیدد چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا انہوں نے مجھے ایک اوقیہ اور اس میں بھی کچھ جھکتا ہوا دیدیا واللہ وہ ہمیشہ ہمارے پاس رہا حتی کہ حرہ کے دن لوگ اسے لے گئے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15090

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20929

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ اسْتُعْمِلَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ عَلَى خُرَاسَانَ قَالَ فَتَمَنَّاهُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ حَتَّى قِيلَ لَهُ يَا أَبَا نُجَيْدٍ أَلَا نَدْعُوهُ لَكَ قَالَ لَا فَقَامَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَلَقِيَهُ بَيْنَ النَّاسِ قَالَ تَذْكُرُ يَوْمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ عِمْرَانُ اللَّهُ أَكْبَرُ

زیادنے حکم بن عمروغفاری کو خراسان کا گورنر مقرر کردیا حضرت عمران کو ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی اور وہ ان کے گھر کے دروازے پر ملے اور کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے؟ حکم نے فرمایا جی ہاں اس پر حضرت عمران نے اللہ اکبر کہا۔

مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20929

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20930

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ أَرَادَ زِيَادٌ أَنْ يَبْعَثَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَلَى خُرَاسَانَ فَأَبَى عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ أَتَرَكْتَ خُرَاسَانَ أَنْ تَكُونَ عَلَيْهَا قَالَ فَقَالَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا يَسُرُّنِي أَنْ أُصَلِّيَ بِحَرِّهَا وَتُصَلُّونَ بِبَرْدِهَا إِنِّي أَخَافُ إِذَا كُنْتُ فِي نُحُورِ الْعَدُوِّ أَنْ يَأْتِيَنِي كِتَابٌ مِنْ زِيَادٍ فَإِنْ أَنَا مَضَيْتُ هَلَكْتُ وَإِنْ رَجَعْتُ ضُرِبَتْ عُنُقِي قَالَ فَأَرَادَ الْحَكَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ عَلَيْهَا قَالَ فَانْقَادَ لِأَمْرِهِ قَالَ فَقَالَ عِمْرَانُ أَلَا أَحَدٌ يَدْعُو لِي الْحَكَمَ قَالَ فَانْطَلَقَ الرَّسُولُ قَالَ فَأَقْبَلَ الْحَكَمُ إِلَيْهِ قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ فَقَالَ عِمْرَانُ لِلْحَكَمِ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ نَعَمْ فَقَالَ عِمْرَانُ لِلَّهِ الْحَمْدُ أَوْ اللَّهُ أَكْبَرُ

عبداللہ بن صامت کہتے ہیں کہ زیاد نے حضرت عمران بن حصین کو خراسان کا گورنر مقرر کرنا چاہا لیکن انہوں نے انکار کردیا ان کے دوستوں نے ان سے کہا تم خراسان کا گورنر بننے سے انکار کررہے ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ واللہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں اس کی گرمی کا شکار ہوجاؤں اور تم اس کی سردی کا شکار ہوجاؤ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں دشمن کے سامنے ہوا اور میرے پاس زیاد کا کوئی خط آجائے اب اگر میں اسے نافذ کروں تو ہلاک ہوتاہوں اور اگر نافذ نہ کروں تو میری گردن اڑادی جائے۔ پھر زیاد نے حکم بن عمرو غفاری کو اس پر مقرر کرنا چاہا تو وہ تیار ہوگئے حضرت عمران بن حصین کو معلوم ہوا تو فرمایا کہ کوئی آدمی جا کر حضرت حکم کو میرے پاس بلا لائے چنانچہ ایک قاصد گیا اور حضرت حکم آ گئے وہ ان کے گھر میں آئے تو حضرت عمران نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں تو حضرت عمران نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اللہ اکبر کہا۔

أراد زياد ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20930

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20932

حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَ اسْتُعْمِلَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ عَلَى خُرَاسَانَ فَتَمَنَّاهُ عِمْرَانُ حَتَّى قَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَلَا نَدْعُوهُ لَكَ فَقَالَ لَهُ لَا ثُمَّ قَامَ عِمْرَانُ فَلَقِيَهُ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ عِمْرَانُ إِنَّكَ قَدْ وُلِّيتَ أَمْرًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمًا ثُمَّ أَمَرَهُ وَنَهَاهُ وَوَعَظَهُ ثُمَّ قَالَ هَلْ تَذْكُرُ يَوْمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ الْحَكَمُ نَعَمْ قَالَ عِمْرَانُ اللَّهُ أَكْبَرُ

زیادنے حکم بن عمرو غفاری کو خراسان کا گورنر مقرر کردیا حضرت عمران کو ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی اور وہ ان کے گھر کے دروازے پر ملے اور کہا کہ مجھے آپ سے ملنے کی خواہش تھی کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے؟ حکم نے فرمایا جی ہاں اس پر حضرت عمران نے اللہ اکبر کہا۔

مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ-،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20932

chevron_left Previous
1…414243…1,453
Next chevron_right