Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطعام والشراب

Food & Drink

40586 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17985

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَصَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ وَهُوَ يَقُولُ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ فَرَحُهُمْ بِنَا فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ أَوْسَعُوا لَنَا فَقَعَدْنَا فَرَحَّبَ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا لَنَا ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَنْ سَيِّدُكُمْ وَزَعِيمُكُمْ فَأَشَرْنَا جَمِيعًا إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ عَائِذٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَذَا الْأَشَجُّ فَكَانَ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ عَلَيْهِ هَذَا الِاسْمُ لِضَرْبَةٍ بِوَجْهِهِ بِحَافِرِ حِمَارٍ فَقُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَتَخَلَّفَ بَعْدَ الْقَوْمِ فَعَقَلَ رَوَاحِلَهُمْ وَضَمَّ مَتَاعَهُمْ ثُمَّ أَخْرَجَ عَيْبَتَهُ فَأَلْقَى عَنْهُ ثِيَابَ السَّفَرِ وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ بَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَهُ وَاتَّكَأَ فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ الْأَشَجُّ أَوْسَعَ الْقَوْمُ لَهُ وَقَالُوا هَاهُنَا يَا أَشَجُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَوَى قَاعِدًا وَقَبَضَ رِجْلَهُ هَاهُنَا يَا أَشَجُّ فَقَعَدَ عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَوَى قَاعِدًا فَرَحَّبَ بِهِ وَأَلْطَفَهُ ثُمَّ سَأَلَ عَنْ بِلَادِهِ وَسَمَّى لَهُ قَرْيَةَ الصَّفَا وَالْمُشَقَّرِ وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قُرَى هَجَرَ فَقَالَ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَأَنْتَ أَعْلَمُ بِأَسْمَاءِ قُرَانَا مِنَّا فَقَالَ إِنِّي قَدْ وَطِئْتُ بِلَادَكُمْ وَفُسِحَ لِي فِيهَا قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَكْرِمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ أَشْبَاهُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ وَأَشْبَهُ شَيْءٍ بِكُمْ شِعَارًا وَأَبْشَارًا أَسْلَمُوا طَائِعِينَ غَيْرَ مُكْرَهِينَ وَلَا مَوْتُورِينَ إِذْ أَبَى قَوْمٌ أَنْ يُسْلِمُوا حَتَّى قُتِلُوا فَلَمَّا أَنْ قَالَ كَيْفَ رَأَيْتُمْ كَرَامَةَ إِخْوَانِكُمْ لَكُمْ وَضِيَافَتَهُمْ إِيَّاكُمْ قَالُوا خَيْرَ إِخْوَانٍ أَلَانُوا فَرْشَنَا وَأَطَابُوا مَطْعَمَنَا وَبَاتُوا وَأَصْبَحُوا يُعَلِّمُونَنَا كِتَابَ رَبِّنَا وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا فَأُعْجِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَرِحَ بِهَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَجُلًا رَجُلًا يَعْرِضُنَا عَلَى مَا تَعَلَّمْنَا وَعَلِمْنَا فَمِنَّا مَنْ تَعَلَّمَ التَّحِيَّاتِ وَأُمَّ الْكِتَابِ وَالسُّورَةَ وَالسُّورَتَيْنِ وَالسُّنَّةَ وَالسُّنَّتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ هَلْ مَعَكُمْ مِنْ أَزْوَادِكُمْ شَيْءٌ فَفَرِحَ الْقَوْمُ بِذَلِكَ وَابْتَدَرُوا رِحَالَهُمْ فَأَقْبَلَ كُلُّ رَجُلٍ مَعَهُ صُبْرَةٌ مِنْ تَمْرٍ فَوَضَعَهَا عَلَى نِطْعٍ بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَوْمَأَ بِجَرِيدَةٍ فِي يَدِهِ كَانَ يَخْتَصِرُ بِهَا فَوْقَ الذِّرَاعِ وَدُونَ الذِّرَاعَيْنِ فَقَالَ أَتُسَمُّونَ هَذَا التَّعْضُوضَ قُلْنَا نَعَمْ ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَى صُبْرَةٍ أُخْرَى فَقَالَ أَتُسَمُّونَ هَذَا الصَّرَفَانَ قُلْنَا نَعَمْ ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَى صُبْرَةٍ فَقَالَ أَتُسَمُّونَ هَذَا الْبَرْنِيَّ فَقُلْنَا نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنَّهُ خَيْرُ تَمْرِكُمْ وَأَنْفَعُهُ لَكُمْ قَالَ فَرَجَعْنَا مِنْ وِفَادَتِنَا تِلْكَ فَأَكْثَرْنَا الْغَرْزَ مِنْهُ وَعَظُمَتْ رَغْبَتُنَا فِيهِ حَتَّى صَارَ عُظْمَ نَخْلِنَا وَتَمْرِنَا الْبَرْنِيُّ قَالَ فَقَالَ الْأَشَجُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ ثَقِيلَةٌ وَخِمَةٌ وَإِنَّا إِذَا لَمْ نَشْرَبْ هَذِهِ الْأَشْرِبَةَ هِيجَتْ أَلْوَانُنَا وَعَظُمَتْ بُطُونُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَلْيَشْرَبْ أَحَدُكُمْ فِي سِقَائِهِ يُلَاثُ عَلَى فِيهِ فَقَالَ لَهُ الْأَشَجُّ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ رَخِّصْ لَنَا فِي هَذِهِ فَأَوْمَأَ بِكَفَّيْهِ وَقَالَ يَا أَشَجُّ إِنْ رَخَّصْتُ لَكُمْ فِي مِثْلِ هَذِهِ وَقَالَ بِكَفَّيْهِ هَكَذَا شَرِبْتَهُ فِي مِثْلِ هَذِهِ وَفَرَّجَ يَدَيْهِ وَبَسَطَهَا يَعْنِي أَعْظَمَ مِنْهَا حَتَّى إِذَا ثَمِلَ أَحَدُكُمْ مِنْ شَرَابِهِ قَامَ إِلَى ابْنِ عَمِّهِ فَهَزَرَ سَاقَهُ بِالسَّيْفِ وَكَانَ فِي الْوَفْدِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَصَرٍ يُقَالُ لَهُ الْحَارِثُ قَدْ هُزِرَتْ سَاقُهُ فِي شُرْبٍ لَهُمْ فِي بَيْتٍ تَمَثَّلَهُ مِنْ الشِّعْرِ فِي امْرَأَةٍ مِنْهُمْ فَقَامَ بَعْضُ أَهْلِ ذَلِكَ الْبَيْتِ فَهَزَرَ سَاقَهُ بِالسَّيْفِ قَالَ فَقَالَ الْحَارِثُ لَمَّا سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلْتُ أُسْدِلُ ثَوْبِي لِأُغَطِّيَ الضَّرْبَةَ بِسَاقِي وَقَدْ أَبْدَاهَا اللَّهُ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

وفد عبدالقیس کے کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہا، جب ہم لوگوں کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے لئے جگہ کشادہ کردی، ہم لوگ وہاں جا کر بیٹھ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خوش آمدید کہا، ہمیں دعائیں دیں ، اور ہماری طرف دیکھ کر فرمایا کہ تمہارا سردار کون ہے؟ ہم سب نے منذر بن عائذ کی طرف اشارہ کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہی اشج ہیں ؟ اصل میں ان کے چہرے پر گدھے کے کھر کی چوٹ کا نشان تھا، یہ پہلا دن تھا جب ان کا یہ نام پڑا، ہم نے عرض کیا! جی یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بعد کچھ لوگ جو پیچھے رہ گئے تھے، انہوں نے اپنی سواریوں کو باندھا، سامان سمیٹا، پراگندگی کو دور کیا، سفر کے کپڑے اتارے، عمدہ کپڑے زیب تن کئے ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک پاؤں پھیلا کر پیچھے ٹیک لگائی ہوئی تھی، جب اشج قریب پہنچے تو لوگوں نے ان کے لئے جگہ کشادہ کی اور کہا کہ اے اشج! یہاں تشریف لائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور پاؤں سمیٹ لئے اور فرمایا اشج! یہاں آؤ، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب جا کر بیٹھ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خوش آمدید کہا، اور ان کے ساتھ لطف وکرم سے پیش آئے، اور ان کے شہروں کے متعلق دریافت فرمایا اور ایک ایک بستی مثلا صفا، مشقر وغیرہ دیگر بستیوں کے نام لیے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کو تو ہماری بستویں کے نام ہم سے بھی زیادہ اچھی طرح معلوم ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے علاقوں میں گیا ہوا ہوں اور وہاں میرے ساتھ کشادگی کا معاملہ رہا ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے گروہ انصار! اپنے بھائیوں کا اکرام کرو، کہ یہ اسلام میں تمہاے مشابہہ ہیں ، ملاقات اور خوشخبری میں تمہارے سب سے زیادہ مشابہہ ہیں ، یہ لوگ اپنی رغبت سے بلا کسی جبر واکرام یا ظلم کے اس وقت اسلام لائے ہیں جبکہ دوسرے لوگوں نے اسلام لانے سے انکار کر دیا اور قتل ہوگئے۔ اگلے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے اپنے بھائیوں کا اکرام اور میزبانی کا طریقہ کیسا پایا؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ لوگ بہترین بھائی ثابت ہوئے ہیں ، انہوں نے ہمیں نرم گرم بستر مہیا کئے ، بہترین کھانا کھلایا اور صبح وشام ہمیں اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سکھاتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر بہت خوش ہوئے، پھر ہم سب کی طرف فردا فردا متوجہ ہوئے اور ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہ چیزیں پیش کیں جو ہم نے سیکھی تھیں ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں کچھ باتیں سکھائیں ، ہم میں سے بعض لوگ وہ بھی تھے جنہوں نے التحیات، سورت فاتحہ، ایک دو سورتیں اور کچھ سنتیں سیکھی تھیں ۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ کیا تم لوگوں کے پاس زاد راہ ہے؟ لوگ خوشی سے اپنے اپنے خیموں کی طرف دوڑے اور ہر آدمی اپنے ساتھ کھجوروں کی تھیلی لے آیا، اور لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دستر خوان پر رکھ دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے جو چھڑی پکڑی ہوئی تھی اور کبھی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی کوکھ میں چبھاتے تھے جو ایک گز سے لمبی اور دو گز سے چھوٹی تھی سے اشارہ کر کے فرمایا کیا تم اسے تعضوض کہتے ہو؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں ! پھر دوسری تھیلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کیا تم اسے برنی کہتے ہو؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سب سے زیادہ بہترین اور فائدہ مند کھجور ہے۔ ہم اپنا وہ کھانا لے کر واپس آئے تو ہم نے سوچا کہ اب سب سے زیادہ اسے اگائیں گے اور اس سلسلے میں ہماری رغبت میں اضافہ ہوگیا، حتی کہ ہمارے اکثر باغات میں برنی کھجور لگنے لگی، اسی دوران اشج کہنے لگے یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمارا علاقہ بنجر اور شور علاقہ ہے، اگر ہم یہ مشروبات پئیں تو ہمارے رنگ بدل جائیں اور پیٹ بڑھ جائیں ؟ حنتم اور نقیر کچھ نہ پیا کرو، بلکہ تمہیں اپنے مشکیزے سے پینا چاہئے۔ اشج کہنے لگے یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ہمیں اتنی مقدار کی (دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے اشارہ کر کے کہا) اجازت دے دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ نے بھی اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا اگر میں تمہیں اتنی مقدار کی اجازت دے دوں تو تم اتنی مقدار پینے لگو گے، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں کو کشادہ کیا، مطلب یہ تھا کہ اس مقدار سے آگے نکل جاؤ گے، حتی کہ جب تم میں سے کوئی شخص نشے سے مدہوش ہوجائے تو اپنے ہی چچا زاد کی طرف بڑھ کر تلوار سے اس کی پنڈلی کاٹ دے گا۔ دراصل اس وفد میں ایک آدمی بھی تھا، جس کا تعلق بنو عصر سے تھا اور اس کا نام حارث تھا، اس کی پنڈلی ایسے ہی ایک موقع پر کٹ گئی تھی جبکہ انہوں نے ایک گھر میں اپنے ہی قبیلے کی ایک عورت کے متعلق اشعار کہتے ہوئے شراب پی تھی۔ اور اسی دوران اہل خانہ میں سے ایک شخص نے نشے سے مدہوش ہو کر اس کی پنڈلی کاٹ ڈالی تھی، حارث کا کہنا ہے کہ جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ جملہ سنا تو میں اپنی پنڈلی پر کپڑا ڈال کر اسے چھپانے کی کوشش کرنے لگا جسے اللہ نے ظاہر کر دیا تھا۔

شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَصَرِيُّ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17985

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17987

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ أَقْبَلَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَلَأَهُ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَشُقَّ مِنْ النَّحْرِ إِلَى مَرَاقِي الْبَطْنِ فَغُسِلَ الْقَلْبُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ ثُمَّ انْطَلَقْتُ مَعَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَأَتَيْتُ عَلَى آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ ابْنٍ وَنَبِيٍّ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ قِيلَ مَنْ هَذَا قِيلَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى يَحْيَى وَعِيسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمَا فَقَالَا مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الثَّالِثَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى هَارُونَ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ السَّادِسَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ ثُمَّ أَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ بَكَى قِيلَ مَا أَبْكَاكَ قَالَ يَا رَبِّ هَذَا الْغُلَامُ الَّذِي بَعَثْتَهُ بَعْدِي يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِهِ الْجَنَّةَ أَكْثَرُ وَأَفْضَلُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ السَّابِعَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ ابْنٍ وَنَبِيٍّ قَالَ ثُمَّ رُفِعَ إِلَيَّ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يُصَلِّي فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ إِذَا خَرَجُوا مِنْهُ لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ قَالَ ثُمَّ رُفِعَتْ إِلَيَّ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فَإِذَا نَبْقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ وَإِذَا فِي أَصْلِهَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ نَهَرَانِ بَاطِنَانِ وَنَهَرَانِ ظَاهِرَانِ فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ فَقَالَ أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالْفُرَاتُ وَالنِّيلُ قَالَ ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ خَمْسُونَ صَلَاةً فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ فُرِضَتْ عَلَيَّ خَمْسُونَ صَلَاةً فَقَالَ إِنِّي أَعْلَمُ بِالنَّاسِ مِنْكَ إِنِّي عَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ وَإِنَّ أُمَّتَكَ لَنْ يُطِيقُوا ذَلِكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكَ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَسَأَلْتُهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنِّي فَجَعَلَهَا أَرْبَعِينَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَتَيْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ جَعَلَهَا أَرْبَعِينَ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَى فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَجَعَلَهَا ثَلَاثِينَ فَأَتَيْتُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَى فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَجَعَلَهَا عِشْرِينَ ثُمَّ عَشْرَةً ثُمَّ خَمْسَةً فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَى فَقُلْتُ إِنِّي أَسْتَحِي مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كَمْ أَرْجِعُ إِلَيْهِ فَنُودِيَ أَنْ قَدْ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي وَأَجْزِي بِالْحَسَنَةِ عَشْرَ أَمْثَالِهَا

حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں بیت اللہ کے قریب سونے اور جاگنے کے درمیان تھا کہ تین میں سے ایک آدمی دو آدمیوں کے درمیان آگے آیا، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو حکمت اور ایمان سے بھرپور تھا، اس نے سینے سے لے کر پیٹ تک میرا جسم چاک کیا اور دل کو آب زم زم سے دھویا، اور اسے حکمت وایمان سے لبریز کر دیا گیا، پھر میرے پاس ایک جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا اور میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ روانہ ہوگیا۔ ہم آسمان دنیا پر پہنچے، پوچھا گیا کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا جبریل! پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے بتایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم! پوچھا گیا کہ کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! فرشتوں نے کہا خوش آمدید! ایک بہترین آنے والا آیا، وہاں میں حضرت آدم علیہ السلام کے پاس پہنچا اور انہیں سلام کیا، انہوں نے فرمایا خوش آمدید ہو بیٹے کو اور نبی کو خوش آمدید، ایک بہترین آنے والا آیا۔ دوسرے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت یحیی وعیسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بیٹے کی بجائے بھائی کہا، تیسرے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بیٹے کی بجائے بھائی کہا، چوتھے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت ادریس علیہ السام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بھائی کہا، پانچویں آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں بھی بھائی کہا، چھٹے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت موسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی انہوں نے بھی بھائی کہا، جب میں حضرت موسی علیہ السلام سے مل کر آگے بڑھا تو وہ رونے لگے پوچھا گیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ پروردگار! یہ نوجوان جسے آپ نے میرے بعد مبعوث فرمایا: اس کی امت میری امت سے زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوگی، پھر ہم ساتویں آسمان پر پہنچے اور وہاں بھی یہی سوال جواب ہوئے، وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے فرمایا خوش آمدید ہو بیٹے کو اور نبی کو۔ پھر میرے سامنے بیت المعمور کو پیش کیا گیا، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں بتایا کہ یہ بیت المعمور ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور جب ایک مرتبہ باہر آجاتے ہیں تو دوبارہ کبھی داخل ہونے کی نوبت نہیں آتی، پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہی کو پیش کیا گیا، اس کے بیر ہجر کے مٹکوں جیسے تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے، اور اس کی جڑ میں چار نہریں جاری تھیں جن میں دو نہریں باطنی اور دو ظاہری تھیں ، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے ان کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا باطنی نہریں تو جنت میں ہیں اور ظاہری نیل اور فرات ہیں ۔ پھر مجھ سے پچاس نمازیں فرض قرار دی گئیں ، میں حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو وہ کہنے لگے کہ کیا معاملہ ہوا؟ میں نے بتایا کہ مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں ، حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ میں لوگوں کی طبیعت سے اچھی طرح واقف ہوں ، میں نے بنی اسرائیل کو خوب اچھی طرح آزمایا تھا، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، اس لئے آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیے اور ان سے درخواست کیجئے کہ اس تعداد میں کمی کر دیں، چنانچہ میں اپنے رب کے پاس واپس آیا اور ان سے تخفیف کی درخواست کی تو پروردگار نے ان کی تعداد چالیس مقرر کردی، پھر دوبارہ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گذر ہوا تو یہی سوال جواب ہوئے اور دس نمازیں مزید کم ہوگئیں ، اسی طرح دس دس کم ہوتے ہوتے آخری مرتبہ پانچ کم ہوئیں اور صرف پانچ نمازیں رہ گئیں ، اس مرتبہ بھی حضرت موسی علیہ السلام نے تخفیف کرانے کا مشورہ دیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے کہ کتنی مرتبہ اس کے پاس جاؤں ، اسی اثناء میں آواز آئی کہ میں نے اپنا فریضہ مقرر کر دیا، اور اپنے بندوں سے تخفیف کردی، اور میں ایک نیکی کا بدلہ دس گنا عطا کروں گا۔

مَالِکِ بْنِ صَعْصَعَةَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17987

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25130

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نِسْوَةً مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ دَخَلْنَ عَلَيْهَا فَأَمَرَتْهُنَّ أَنْ يَسْتَنْجِينَ بِالْمَاءِ وَقَالَتْ مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ بِذَلِكَ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ وَهُوَ شِفَاءٌ مِنْ الْبَاسُورِ عَائِشَةُ تَقُولُهُ أَوْ أَبُو عَمَّارٍ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے اور یہ بواسیر کے مرض کی شفاء ہے۔

عَائِشَةَ أَنَّ نِسْوَةً مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ دَخَلْنَ عَلَيْهَا فَأَمَرَتْهُنَّ أَنْ يَسْتَنْجِينَ بِالْمَاءِ ← شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25130

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25147

قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ وَثَابِتٌ عَنْ سُمَيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فِي شَيْءٍ فَقَالَتْ صَفِيَّةُ يَا عَائِشَةُ أَرْضِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِ يَوْمِي فَقَالَتْ نَعَمْ فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ فَقَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكِ يَا عَائِشَةُ إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ قَالَتْ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَأَخْبَرَتْهُ بِالْأَمْرِ فَرَضِيَ عَنْهَا

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ بنت حیی سے کسی بات پر ناراض تھے، حضرت صفیہ نے ان سے کہا کہ عائشہ! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میری طرف سے راضی کردو، میں اپنی ایک باری تمہیں دیتی ہوں ، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، پھر انہوں نے اپنا ایک دوپٹہ لیا، جس پر زعفران سے رنگ کیا گیا تھا اور اس پر پانی چھڑکا تاکہ اس کی مہک پھیل جائے، پھر آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! پیچھے ہٹو، آج تمہاری باری نہیں ہے، انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے، جسے چاہے عطاء فرما دے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ سے راضی ہوگئے۔

عَائِشَةَ ← سُمَيَّةَ ← لَيْثٌ وَثَابِتٌ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25147

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25155

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْ جَنَابَةٍ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ يَأْخُذُ بِيَمِينِهِ لِيَصُبَّ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ حَتَّى يُنَقِّيَهُ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَهُ غَسْلًا حَسَنًا ثُمَّ يُمَضْمِضُ ثَلَاثًا وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ ثَلَاثًا ثُمَّ يَغْتَسِلُ فَإِذَا خَرَجَ غَسَلَ قَدَمَيْهِ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ فرماتے تو پہلے تین مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر دائیں ہاتھ سے برتن پکڑ کر بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، پھر شرمگاہ کو اچھی طرح دھوتے، پھر اس ہاتھ کو اچھی طرح دھوتے، تین مرتبہ کلی کرتے، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے، تین مرتبہ چہرہ دھوتے تین مرتبہ ہاتھ دھوتے، تین مرتبہ سر پر پانی ڈالتے، پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے اور اس جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھولیتے تھے۔

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25155

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25159

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِتْعِ وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ وَكَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَشْرَبُونَهُ فَقَالَ كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی نبیذ کے متعلق پوچھا "جسے اہل یمن پیتے تھے" تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، وہ حرام ہے۔

کُلُّ شَرَابٍ أَسْکَرَ فَهُوَ حَرَامٌ ← الْبِتْعِ وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ وَكَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَشْرَبُونَهُ ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25159

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18009

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَزَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ هُوَ الْحَكَمُ بْنُ سُفَيَانَ أَوْ سُفْيَانُ بْنُ الْحَكَمِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ وَتَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ بِالْمَاءِ

حضرت ابوالحکم یا حکم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر وضو کر کے اپنی شرمگاہ پر پانی کے کچھ چھینٹے مار لیے۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بَالَ وَتَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ بِالْمَاءِ ← رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ هُوَ الْحَكَمُ بْنُ سُفْيَانَ أَوْ سُفْيَانُ بْنُ الْحَكَمِ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانُ وَزَائِدَةُ ← مَنْصُورٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18009

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18025

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ رَبَابَ الضَّبِّيَّةِ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ أَنَّهُ قَالَ إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى الْمَاءِ فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ

حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ کھجور سے افطار کرے، اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے۔

سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ أَنَّهُ ← رَبَابَ الضَّبِّيَّةِ ← حَفْصَةَ، ← هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18025

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18033

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنِ الرَّبَابِ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ بِمَاءٍ فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ

حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ کھجور سے افطار کرے، اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے۔

سَلْمَانُ بْنُ عَامِرٍ الضَّبِّيُّ ← الرَّبَابِ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18033

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18046

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ وَجَدَ تَمْرًا فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ تَمْرًا فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ

حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ کھجور سے افطار کرے، اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ← حَفْصَةَ، ← عَاصِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18046

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25200

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسْتَقَى لَهُ الْمَاءُ الْعَذْبُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ پانی کے مقامات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے کے لئے میٹھا پانی لایا جاتا تھا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25200

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25208

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَبِيتُ جُنُبًا فَيَأْتِيهِ بِلَالٌ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْحَدِرُ فِي جِلْدِهِ وَشَعَرِهِ فَأَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ ثُمَّ يَظَلُّ صَائِمًا قَالَ مُطَرِّفٌ قُلْتُ لِعَامِرٍ فِي رَمَضَانَ قَالَ سَوَاءٌ عَلَيْكَ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات رات کے وقت اختیاری طور پر جنبی ہوتے ، حضرت بلال نماز فجر کی اطلاع دینے آتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر غسل فرماتے اور میں دیکھتی تھی کہ پانی ان کی کھال اور بالوں سے ٹک رہا ہے، اور میں ان کی قرأت سنتی تھی اور اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← مُطَرِّفٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25208

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25213

حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَأَلْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ قَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ قَامَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ قَالَتْ وَثَبَ وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتْ قَامَ فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتْ اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا تُرِيدُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ

اسود بن یزید کو حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے پہر میں سوجاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے، پھر اگر اہلیہ کی طرف حاجت محسوس ہو تی تو اپنی حاجت پوری کرتے، پھر پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے کھڑے ہو تے، جب پہلی اذان ہو تی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے جاتے اور اپنے جسم پر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہو تے تو صرف نماز والا وضو ہی فرمالیتے اور دو رکعتیں پڑھتے۔

صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ← سَأَلْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ، عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25213

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25215

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ أَتَيْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَكَانَ لِي أَخًا وَصَدِيقًا فَقُلْتُ أَبَا عَمْرٍو حَدِّثْنِي مَا حَدَّثَتْكَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَالَتْ كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِي آخِرَهُ فَرُبَّمَا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ ثُمَّ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الْأَوَّلِ وَثَبَ وَمَا قَالَتْ قَامَ فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ وَمَا قَالَتْ اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِيدُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ

اسود بن یزید کو حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی نماز کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے پہر میں سوجاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہو تے تھے، پھر اگر اہلیہ کی طرف حاجت محسوس ہو تی تو اپنی حاجت پوری کر تے ، پھر پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے کھڑے ہو تے، جب پہلی اذان ہو تی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے جاتے اور اپنے جسم پر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہو تے تو صرف نماز والا وضو ہی فرمالیتے اور دو رکعتیں پڑھتے۔

صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ← مَا حَدَّثَتْكَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ ← كَانَ لِي أَخًا وَصَدِيقًا فَقُلْتُ أَبَا عَمْرٍو ← أَتَيْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو کَامِلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25215

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18148

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ صَنْعَانِيٌّ مُرَادِيٌّ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ إِذْ أُدْخِلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَكَلَّمَهُ بِكَلَامٍ أَغْضَبَهُ قَالَ فَلَمَّا أَنْ غَضِبَ قَامَ ثُمَّ عَادَ إِلَيْنَا وَقَدْ تَوَضَّأَ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ وَقَدْ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْغَضَبَ مِنْ الشَّيْطَانِ وَإِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنْ النَّارِ وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ

ابو وائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ عروہ بن محمد کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اس نے کچھ ایسی باتیں کیں جن سے وہ غصے میں آگئے، جب انہیں غصہ زیادہ محسوس ہونے لگا تو وہ اٹھ کر چلے گئے، تھوڑی دیر بعد واپس آئے تو انہوں نے وضو کیا ہوا تھا، اور کہنے لگے کہ مجھے میرے والد نے میرے دادا کے حوالے سے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی کا شرف بھی حاصل تھا، بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غصہ شیطان کا اثر ہوتا ہے اور شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی سے بجھایا جاتا ہے، اس لئے جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہئے کہ وضو کر لے۔

جَدِّي عَطِيَّةَ وَقَدْ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ← أَبِي ← فَلَمَّا أَنْ غَضِبَ قَامَ ثُمَّ عَادَ إِلَيْنَا وَقَدْ تَوَضَّأَ فَقَالَ ← إِذْ أُدْخِلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَكَلَّمَهُ بِكَلَامٍ أَغْضَبَهُ ← كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَبُو وَائِلٍ صَنْعَانِيٌّ مُرَادِيٌّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18148

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18154

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الحَمِيدِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعُتُلِّ الزَّنِيمِ فَقَالَ هُوَ الشَّدِيدُ الْخَلْقِ الْمُصَحَّحُ الْأَكُولُ الشَّرُوبُ الْوَاجِدُ لِلطَّعَامِ وَالشَّرَابِ الظَّلُومُ لِلنَّاسِ رَحْبُ الْجَوْفِ

حضرت عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے عتل زنیم (جو سورت ن والقلم میں آیا ہے) کا معنی پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد وہ مضبوط جسم والا، صحت مند اور خوب کھانے پینے والا ہے جس کے پاس کھانے پینے کا سامان خوب ہو، جو لوگوں پر بہت ظلم کرتا ہو اور خوب کشادہ پیٹ والا ہو۔

العتل الزنيم ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18154

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18243

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ وَعُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا قَالَ فَرَأَيْتُهُ خَرَجَ مِنْ الْخَلَاءِ فَاتَّبَعْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ أَوْ الْقَدَحِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ حَاجَةً أَبْعَدَ فَجَلَسْتُ لَهُ بِالطَّرِيقِ حَتَّى انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْوَضُوءَ قَالَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ فَصَبَّ عَلَى يَدِهِ فَغَسَلَهَا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ بِكَفِّهَا فَصَبَّ عَلَى يَدٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ قَبَضَ الْمَاءَ عَلَى يَدٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ قَبَضَ الْمَاءَ قَبْضًا بِيَدِهِ فَضَرَبَ بِهِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ فَمَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى قَدَمِهِ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى لَنَا الظُّهْرَ

حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کی نیت سے نکلا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے ہیں تو میں پانی کا برتن لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا گیا اور راستے میں بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے دور جایا کرتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) وضو کا پانی حاضر ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اپنے ہاتھوں پر پانی بہایا اور انہیں دھو لیا، پھر برتن میں ہاتھ ڈال کر پانی بہایا اور سر کا مسح کر لیا، پھر مٹھی بھر پانی ہاتھ میں لے کر پاؤں کی پشت پر ڈالا اور اسے اپنے ہاتھ سے ملا، پھر آکر ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی۔

خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ حَاجًّا ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ ← الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ وَعُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18243

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18350

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ مَا سَأَلَ أَحَدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ فَقَالَ لِي أَيْ بُنَيَّ وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ إِنَّهُ لَنْ يَضُرَّكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَعَهُ جِبَالَ الْخُبْزِ وَأَنْهَارَ الْمَاءِ فَقَالَ هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذَاكَ

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دجال کے متعلق جتنی کثرت کے ساتھ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھے ہیں کسی نے نہیں پوچھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ وہ تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچاسکے گا میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں اس کے سا تھا ایک نہر بھی ہوگی اور فلاں فلاں چیزبھی ہوگی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اللہ کے نزدیک اس سے بہت حقیر ہے۔

قُلْتُ ← لِي أَيْ بُنَيَّ وَمَا يُنْصِبُکَ مِنْهُ إِنَّهُ لَنْ يَضُرَّکَ ← الدَّجَّالِ أَکْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ ← مَا سَأَلَ أَحَدٌ رَسُولَ اللهِ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18350

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18413

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ قَالَ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَيْهِ الْمَاءَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ عَنْهُمَا كُمُّ الْجُبَّةِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے چلے گئے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور انہیں دھو کر موزوں پر مسح کیا۔

أبيه المغيرة ← عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18413

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18505

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ نَاجِيَةَ الْعَنَزِيِّ قَالَ تَدَارَأَ عَمَّارٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فِي التَّيَمُّمِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ مَكَثْتُ شَهْرًا لَا أَجِدُ فِيهِ الْمَاءَ لَمَا صَلَّيْتُ فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي الْإِبِلِ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ تَمَعُّكَ الدَّابَّةِ فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَقَالَ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ التَّيَمُّمُ

ناجیہ عنزی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جنبی کے تیمم کرنے کے مسئلہ میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ اگر جنابت کے بعد مجھے ایک مہینے تک پانی نہ ملے تب بھی میں غسل کئے بغیر نماز نہیں پڑھوں گا حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے کیا آپ کو وہ واقعہ یاد نہیں ہے جب ایک مرتبہ میں اور آپ اونٹوں کے ایک باڑے میں تھے رات کو مجھ پر غسل واجب ہوگیا تو میں جانور کی طرح مٹی پر لوٹ پوٹ ہو گیا اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپسی ہوئی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے تو تیمم ہی کافی تھا۔

ناجية العنزي ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18505

chevron_left Previous
1…707172…2,030
Next chevron_right