Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطعام والشراب

Food & Drink

40586 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24944

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ مِنْ الدُّنْيَا ثَلَاثَةٌ الطَّعَامُ وَالنِّسَاءُ وَالطِّيبُ فَأَصَابَ ثِنْتَيْنِ وَلَمْ يُصِبْ وَاحِدَةً أَصَابَ النِّسَاءَ وَالطِّيبَ وَلَمْ يُصِبْ الطَّعَامَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کی تین چیزیں اچھی معلوم ہوتی تھیں کھانا، عورتیں اور خوشبو، دو چیزیں تو انہیں کسی درجے میں حاصل ہو گئیں لیکن ایک چیز نہ مل سکی، عورتیں اور خوشبو آپ کو مل گئی لیکن کھانا نہیں ملا۔

عَائِشَةَ ← رَجُلٌ: ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24944

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17827

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَذَكَرُوا وَطْبَةً وَطَعَامًا وَشَرَابًا فَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيَضَعُ النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبُعَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي بِهِ ثُمَّ قَامَ فَرَكِبَ بَغْلَةً لَهُ بَيْضَاءَ فَأَخَذْتُ بِلِجَامِهَا فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا فَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں آئے، پھر انہوں نے تر کھجوروں کھانے اور پینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کھا کر اس کی گٹھلی اپنی انگلی کی پشت پر رکھتے اور اسے اچھال دیتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور اپنے سفید خچر پر سوار ہوگئے، میں نے اس کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمارے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطاء فرما، ان کی بخشش فرما اور ان پر رحم فرما۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17827

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17830

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ الْمَازِنِيُّ قَالَ بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْعُوهُ إِلَى الطَّعَامِ فَجَاءَ مَعِي فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْ الْمَنْزِلِ أَسْرَعْتُ فَأَعْلَمْتُ أَبَوَيَّ فَخَرَجَا فَتَلَقَّيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَحَّبَا بِهِ وَوَضَعْنَا لَهُ قَطِيفَةً كَانَتْ عِنْدَنَا زِئْبِرِيَّةً فَقَعَدَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ أَبِي لِأُمِّي هَاتِ طَعَامَكِ فَجَاءَتْ بِقَصْعَةٍ فِيهَا دَقِيقٌ قَدْ عَصَدَتْهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ مِنْ حَوَالَيْهَا وَذَرُوا ذُرْوَتَهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ فِيهَا فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا مَعَهُ وَفَضَلَ مِنْهَا فَضْلَةٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ وَوَسِّعْ عَلَيْهِمْ فِي أَرْزَاقِهِمْ

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے میرے والد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلانے کے لئے مجھے بھیجا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ آگئے، جب گھر کے قریب پہنچے تو میں نے جلدی سے جا کر اپنے والدین کو بتایا، وہ دونوں گھر سے باہر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا، پھر ہم نے ایک دبیز چادر جو ہمارے پاس تھی، بچھائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھ گئے، پھر والد صاحب نے میری والدہ سے کہا کہ کھانا لاؤ، چنانچہ وہ ایک پیالہ لے کر آئیں جس میں پانی اور نمک ملا کر آٹے سے بنی روٹی تھی، انہوں نے وہ برتن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کر رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا بسم اللہ پڑھ کر کناروں سے اسے کھاؤ، درمیان کا حصہ چھوڑ دو کیونکہ برکت اس حصے پر اترتی ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا: ہم نے بھی اسے کھایا لیکن وہ پھر بھی بچ گئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ان کی بخشش فرما، ان پر رحم فرما، انہیں برکت عطاء فرما اور ان کے رزق کو کشادہ فرما۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِيِّ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17830

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24953

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَزْرَةَ الْقَاصُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص کھانا سامنے آجانے پر یا بول و براز کے تقاضے کو دبا کر نماز نہ پڑھے۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ← أَبُو حَزْرَةَ الْقَاصُّ ← إِسْمَاعِيلُ ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24953

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24956

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ الْمَاءِ وَالتَّمْرِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اس وقت رخصت ہوئے جب لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کھجور سے اپنا پیٹ بھر تے تھے۔

تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ حِينَ شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ الْمَاءِ وَالتَّمْرِ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أُمِّهِ2، ← مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← دَاودُ يَعْنِي الْعَطَّارَ، ← إِسْحَاقُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24956

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17835

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ أَوْ قَالَ لَهُ أَبِي انْزِلْ عَلَيَّ قَالَ فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ وَحَيْسَةٍ وَسَوِيقٍ فَأَكَلَهُ وَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيُلْقِي النَّوَى وَصَفَ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى بِظَهْرِهِمَا مِنْ فِيهِ ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهُ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ فَقَامَ فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي فَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں آئے، انہوں نے کھانا، حلوہ اور ستو لا کر پیش کئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کھا کر اس کی گٹھلی اپنی انگلی کی پشت پر رکھتے اور اسے اچھال دیتے، پھر پانی پیش کیا، جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمالیا، اور دائیں جانب والے کو دے دیا، انہوں نے اس کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمارے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ! ان کے رزق میں برکت عطاء فرما، ان کی بخشش فرما اور ان پر رحم فرما۔

الْوُسْطَى بِظَهْرِهِمَا مِنْ فِيهِ ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهُ مَنْ ← فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ وَحَيْسَةٍ وَسَوِيقٍ فَأَكَلَهُ وَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيُلْقِي النَّوَى وَصَفَ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ ← لَهُ أَبِي انْزِلْ عَلَيَّ ← جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ أَوْ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17835

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24974

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ جَهْدًا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ الدَّجَّالِ فَقَالُوا أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ يَوْمَئِذٍ قَالَ غُلَامٌ شَدِيدٌ يَسْقِي أَهْلَهُ الْمَاءَ وَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَيْسَ قَالُوا فَمَا طَعَامُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ قَالَ التَّسْبِيحُ وَالتَّقْدِيسُ وَالتَّحْمِيدُ وَالتَّهْلِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَالَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خروج دجال کے موقع پر پیش آنے والی تکالیف کا ذکر کیا تو لوگوں نے پوچھا اس زمانے میں سب سے بہترین مال کون سا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ طاقتور غلام جو اپنے مالک کو پانی پلا سکے، رہا کھانا تو وہ نہیں، لوگوں نے پوچھا کہ اس زمانے میں مسلمانوں کا کھانا کیا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تسبیح و تکبیر اور تحمید و تہلیل، میں نے پوچھا کہ اس دن اہل عرب کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس زمانے میں اہل عرب بہت تھوڑے ہوں گے۔

عَائِشَةَ ← الْحَسَنِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24974

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17880

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُقْبَضُ الصَّالِحُ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ وَيَبْقَى كَحُثَالَةِ التَّمْرِ

حضرت مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ایک کر کے نیک لوگوں کو اٹھالیا جائے گا اور پیچھے کھجور (یا جو) کے چھلکوں کی طرح گھٹیا لوگ رہ جائیں گے جن کی اللہ کو کوئی پرواہ نہ ہوگی۔

يُقْبَضُ الصَّالِحُ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ وَيَبْقَى كَحُثَالَةِ التَّمْرِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17880

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17881

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي قَيْسٌ قَالَ سَمِعْتُ مِرْدَاسًا الْأَسْلَمِيَّ قَالَ يُقْبَضُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ حَتَّى يَبْقَى كَحُثَالَةِ التَّمْرِ أَوْ الشَّعِيرِ لَا يُبَالِي اللَّهُ بِهِمْ شَيْئًا

حضرت مرد اس اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ایک کر کے نیک لوگوں کو اٹھالیا جائے گا اور پیچھے کھجور (یا جو ) کے چھلکوں کی طرح گھٹیا لوگ رہ جائیں گے جن کی اللہ کو کوئی پرواہ نہ ہوگی۔

مِرْدَاسًا الْأَسْلَمِيَّ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17881

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17882

حَدَّثَنَا يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبَضُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ حَتَّى يَبْقَى كَحُثَالَةِ التَّمْرِ أَوْ الشَّعِيرِ لَا يُبَالِي اللَّهُ بِهِمْ شَيْئًا

حضرت مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک ایک کر کے نیک لوگوں کو اٹھالیا جائے گا اور پیچھے کھجور (یا جو ) کے چھلکوں کی طرح گھٹیا لوگ رہ جائیں گے جن کی اللہ کو کوئی پرواہ نہ ہوگی۔

مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← يعلى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17882

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17885

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ يَقُولُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَهْلُ صَيْدٍ فَقَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَأَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ قَتَلَ قَالَ وَإِنْ قَتَلَ قَالَ قُلْتُ إِنَّا أَهْلُ رَمْيٍ قَالَ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ فَكُلْ قَالَ قُلْتُ إِنَّا أَهْلُ سَفَرٍ نَمُرُّ بِالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسِ وَلَا نَجِدُ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ قَالَ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَاغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ ثُمَّ كُلُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم شکاری لوگ ہیں (ہمیں احکام صید بتائیے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور بسم اللہ پڑھ لو، تو وہ جو شکار کرے، تم اسے کھا سکتے ہو، میں نے عرض کیا اگرچہ کتا اس شکار کو مار چکا ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اگرچہ وہ اسے مار چکا ہو، میں نے عرض کیا کہ ہم لوگ تیر انداز ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری کمان تمہیں جو چیز لوٹا دے وہ تم کھا سکتے ہو، میں نے عرض کیا کہ ہم مسافر لوگ ہیں ، یہود ونصاری اور مجوس کے پاس سے گذرتے ہیں اور ان کے برتنوں کے علاوہ کوئی برتن نہیں ملتا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ان کے برتنوں کے علاوہ کوئی برتن نہ ملے تو اسے پانی سے دھو لو، پھر اس میں کھاپی سکتے ہو۔

قُلْتُ ← أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← مَكْحُولٌ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17885

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25005

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قِيلَ لَهُ إِنَّ فُلَانًا وَجِعٌ لَا يَطْعَمُ الطَّعَامَ قَالَ عَلَيْكُمْ بِالتَّلْبِينَةِ فَحَسُّوهُ إِيَّاهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَغْسِلُ بَطْنَ أَحَدِكُمْ كَمَا يَغْسِلُ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ مِنْ الْوَسَخِ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا جاتا کہ فلاں شخص بیمار ہے اور کچھ نہیں کھا رہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ دلیا اختیار کرو (جو اگرچہ طبیعت کو اچھا نہیں لگتا لیکن نفع بہت دیتا ہے) اور وہ اسے کھلاؤ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، یہ تمہارے پیٹ کو اس طرح دھو دیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے چہرہ کو پانی سے دھو کر میل کچیل سے صاف کر لیتا ہے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا قِيلَ لَهُ إِنَّ فُلَانًا وَجِعٌ لَا يَطْعَمُ الطَّعَامَ ← عَائِشَةَ ← أُمِّ کُلْثُومٍ ← أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25005

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17902

حَدَّثَنَا مُهَنَّأُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَعَفَّانُ وَهَذَا لَفْظُ مُهَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ أَفَنَطْبُخُ فِي قُدُورِهِمْ وَنَشْرَبُ فِي آنِيَتِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ وَاطْبُخُوا فِيهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ فَكَيْفَ نَصْنَعُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَتَلَ فَكُلْ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُكَلَّبٍ فَذَكِّ وَكُلْ وَإِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ وَقَتَلَ فَكُلْ

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم لوگ اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں ، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں کھانا پکا سکتے ہیں اور ان کے برتنوں میں پی سکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی اور برتن نہ ملیں تو انہی کو دھو کر کھانا پکا سکتے ہو، پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم لوگ شکاری علاقے میں رہتے ہیں ، ہم کیا کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑو اور تم نے اس پر اللہ کا نام بھی لیا ہو، اور وہ اسے مار دے تو تم اسے کھالو، اور اگر وہ سدھایا ہوا نہ ہو تو تم شکار کو ذبح کرلو، اور کھا لو، اسی طرح جب تم اللہ کا نام لے کر تیر مارو اور وہ تیر اسے مار دے تو تم اسے بھی کھا لو۔

أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّهُ ← أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُهَنَّأُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَعَفَّانُ وَهَذَا لَفْظُ مُهَنَّى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17902

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25045

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي قَالَتْ عَائِشَةُ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ ثُمَّ تُصَلِّي وَكَانَتْ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لِأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى أَنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش "جو حضرت عبدالرحمن بن عوف کے نکاح میں تھیں" سات سال تک دمِ استحاضہ کا شکار رہیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بیماری کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ "معمول کے ایام" نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک رگ کا خون ہے اس لئے جب معمول کے ایام آئیں تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب ختم ہو جائیں تو غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرو، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ پھر وہ ہر نماز کے لئے غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرتی تھیں، اور اپنی بہن زینب جحش کے ٹب میں بیٹھ جاتی تھیں جس سے خون کی سرخی پانی کی رنگت پر غالب آجاتی تھی۔

عمرة بنت عبد الرحمن بن سعد بن زرارة أن عائشة زوج النبي ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25045

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17924

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ كُنْتُ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةِ فَذَكَرُوا مَا هُمْ فِيهِ مِنْ الْعَيْشِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ لَقَدْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا شَبِعَ أَهْلُهُ مِنْ الْخُبْزِ الْغَلِيثِ قَالَ مُوسَى يَعْنِي الشَّعِيرَ وَالسُّلْتَ إِذَا خُلِطَا

موسی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اسکندریہ میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، وہاں کچھ لوگ اپنے طرز زندگانی کے متعلق گفتگو کرنے لگے، تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس حال میں ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ بھوسہ ملے ہوئے جو کی روٹی سے بھی سیراب نہیں ہوتے تھے۔

كُنْتُ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةِ فَذَكَرُوا مَا هُمْ فِيهِ مِنْ الْعَيْشِ ← أَبِي ← مُوسَى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17924

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25068

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ قَالَ حُسَيْنٌ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَمُرُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِلَالٌ وَهِلَالٌ وَهِلَالٌ مَا يُوقَدُ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ نَارٌ قُلْتُ يَا خَالَةُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعِيشُونَ قَالَتْ عَلَى الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ قَالَ حُسَيْنٌ إِنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنَّهُ كَانَ يَمُرُّ بِنَا هِلَالٌ وَهِلَالٌ مَا يُوقَدُ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ فَقُلْتُ يَا خَالَةُ مِثْلَهُ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات ہم پر کئی کئی مہینے اس حال میں گذر جاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا خالہ جان! پھر آپ لوگ کس طرح گذارہ کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا دو سیاہ چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر۔

أَبُو حَازِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25068

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17967

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ ثَنَا رِشْدِينُ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ عَن أَبِيهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقٌ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ قَالَ الرَّجُلُ أَكْثَرْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلِينُ الْكَلَامِ وَبَذْلُ الطَّعَامِ وَسَمَاحٌ وَحُسْنُ خُلُقٍ قَالَ الرَّجُلُ أُرِيدُ كَلِمَةً وَاحِدَةً قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَلَا تَتَّهِمِ اللَّهَ عَلَى نَفْسِكَ

حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا اللہ پر ایمان وتصدیق، اللہ کے راستہ میں جہاد اور حج مبرور، اس آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ تو آپ نے بہت سی چیزیں بیان فرما دی ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کلام میں نرمی، کھانا کھلانا، سہل ہونا اور اچھے اخلاق سب سے افضل عمل ہیں ، اس نے کہا کہ میں صرف ایک بات معلوم کرنا چاہتا ہوں ، نبی نے فرمایا تو پھر جاؤ اور اپنی ذت پر تہمت نہ لگنے دو۔

رَجُلٌ: ← عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← رشدين ← يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17967

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25105

قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لَمْ أَسْمَعْ مِنْ هِشَامٍ شَيْئًا إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ الْوَاحِدَ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخار جہنم کی تپش کا اثر ہو تا ہے اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25105

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25117

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَجَبِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ إِذَا احْتَلَمَتْ وَأَبْصَرَتْ الْمَاءَ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ تَرِبَتْ يَدَاكِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعِيهَا وَهَلْ يَكُونُ الشَّبَهُ إِلَّا مِنْ قِبَلِ ذَلِكَ إِذَا عَلَا مَاؤُهَا مَاءَ الرَّجُلِ أَشْبَهَ أَخْوَالَهُ وَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَهَا أَشْبَهَهُ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر عورت "خواب" دیکھے اور اسے "پانی" کے اثرات نظر آئیں تو کیا وہ بھی غسل کرے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! حضرت عائشہ نے اس عورت سے فرمایا تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں (کیا عورت بھی اس کیفیت سے دوچار ہوتی ہے؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اسے چھوڑ دو، بچے کی اپنے والدین سے مشابہت اسی وجہ سے تو ہوتی ہے کہ اگر عورت کا "پانی" مرد کے"پانی" پر غالب آجائے تو بچہ اپنے ماموں کے مشابہہ ہوتاہے، اور اگر مرد کا "پانی" عورت کے پانی پر غالب آجائے تو بچہ اس کے مشابہہ ہوتاہے۔

لها عائشة تربت يداك. ← نَعَمْ ← لِلنَّبِيِّ هَلْ تَغْتَسِلُ الْمَرْأَةُ إِذَا احْتَلَمَتْ وَأَبْصَرَتْ الْمَاءَ ← عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُسَافِعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَجَبِيِّ ← مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ← قُتَيْبَةُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25117

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17983

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَنِي أَبُو الْقَمُوصِ زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنِي أَحَدُ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ وَأَهْدَيْنَا لَهُ فِيمَا يُهْدَى نَوْطًا أَوْ قِرْبَةً مِنْ تَعْضُوضٍ أَوْ بَرْنِيٍّ فَقَالَ مَا هَذَا قُلْنَا هَذِهِ هَدِيَّةٌ قَالَ وَأَحْسِبُهُ نَظَرَ إِلَى تَمْرَةٍ مِنْهَا فَأَعَادَهَا مَكَانَهَا وَقَالَ أَبْلِغُوهَا آلَ مُحَمَّدٍ قَالَ فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَاءَ حَتَّى سَأَلُوهُ عَنْ الشَّرَابِ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي دُبَّاءٍ وَلَا حَنْتَمٍ وَلَا نَقِيرٍ وَلَا مُزَفَّتٍ اشْرَبُوا فِي الْحَلَالِ الْمُوكَى عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ قَائِلُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُدْرِيكَ مَا الدُّبَّاءُ وَالْحَنْتَمُ وَالنَّقِيرُ وَالْمُزَفَّتُ قَالَ أَنَا لَا أَدْرِي مَا هِيَهْ أَيُّ هَجَرٍ أَعَزُّ قُلْنَا الْمُشَقَّرُ قَالَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ دَخَلْتُهَا وَأَخَذْتُ إِقْلِيدَهَا قَالَ وَكُنْتُ قَدْ نَسِيتُ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا فَأَذْكَرَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَرْوَةَ قَالَ وَقَفْتُ عَلَى عَيْنِ الزَّارَةِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ الْقَيْسِ إِذْ أَسْلَمُوا طَائِعِينَ غَيْرَ كَارِهِينَ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا مَوْتُورِينَ إِذْ بَعْضُ قَوْمِنَا لَا يُسْلِمُونَ حَتَّى يُخْزَوْا وَيُوتَرُوا قَالَ وَابْتَهَلَ وَجْهُهُ هَاهُنَا مِنْ الْقِبْلَةِ يَعْنِي عَنْ يَمِينِ الْقِبْلَةِ حَتَّى اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ يَدْعُو لِعَبْدِ الْقَيْسِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ خَيْرَ أَهْلِ الْمَشْرِقِ عَبْدُ الْقَيْسِ

بنو عبدالقیس کے وفد میں شریک ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہدایا میں تعضوض یا برنی کھجوروں کی ایک ٹوکری بھی لے کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے؟ ہم نے بتایا کہ یہ ہدیہ ہے، غالباً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک کھجور نکال کر دیکھی پھر واپس رکھ کر فرمایا کہ یہ ٹوکری آل محمد کو پہنچا دو۔ لوگوں نے اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف سوالات پوچھے تھے، جن میں سے ایک سوال پینے کے برتنوں سے متعلق بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دباء، حنتم، نقیر اور مزفت میں پانی یا نبیذ مت پیو، اس حلال برتن میں پیا کرو جس کا منہ بندھا ہوا ہو، ہم میں سے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کو معلوم ہے کہ دباء حنتم نقیر اور مزفت کیا ہوتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے خوب اچھی طرح معلوم ہیں کہ وہ کیسے برتن ہوتے ہیں ، یہ بتاؤ کہ ہجر کا کون سا علاقہ سب سے زیادہ معزز ہے؟ ہم نے کہا شقر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا! میں اس میں داخل ہوا ہوں اور اس کی کنجی بھی پکڑی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں اس حدیث کا کچھ حصہ بھول گیا تھا، بعد میں عبیداللہ بن ابی جروہ نے یاد دلایا کہ میں عین زارہ پر کھڑا ہوا تھا، پھر فرمایا اے اللہ! عبدالقیس کی مغفرت فرما کہ یہ رضا مندی سے کسی کے جبر کے بغیر مسلمان ہوگئے ہیں ، اب یہ شرمندہ ہوں گے اور نہ ہی ہلاک، جبکہ ہماری قوم کے کچھ لوگ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتے جب تک رسوا اور ہلاک نہ ہو جائیں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے کا رخ موڑتے ہوئے قبلہ کی جانب کیا اور فرمایا اہل مشرق میں سب سے بہترین لوگ بنو عبدالقیس ہیں ۔

أَبُو الْقَمُوصِ زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ، ← عَوْفٌ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17983

chevron_left Previous
1…697071…2,030
Next chevron_right