Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطعام والشراب

Food & Drink

40586 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14927

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ مِنْ كُلِّ جَادٍّ عَشَرَةُ أَوْسُقٍ مِنْ التَّمْرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر دس وسق کھجور کاٹنے والے کے ذمے ہے کہ ایک خوشہ مسجد میں لا کر غربا کے لئے لٹکائے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14927

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14933

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا عَنْ أَنْ نَسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةَ أَوْ نَسْتَقْبِلَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ قَالَ ثُمَّ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا تھا کہ جب ہم پانی بہانے کے لئے جائیں تو خانہ کعبہ کی جانب شرمگاہ کا رخ یا پشت کریں لیکن اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے وصال سے ایک سال قبل میں نے خود قبلہ کی جانب رخ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

ثُمَّ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ← أَنْ نَسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةَ أَوْ نَسْتَقْبِلَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ قَدْ نَهَانَا ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُجَاهِدُ بْنُ جَبْرٍ، ← أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14933

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8070

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَإِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھا جائے کہ اس سے زائد گھاس روکی جا سکے۔

لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَإِ ← النَّبِيِّ ← لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8070

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8075

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُحَنِّسَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ أَنَّهُ قَالَ أَشْهَدُ الثَّلَاثَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے کہ ابوقاسم نے فرمایا جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا۔

أَشْهَدُ الثَّلَاثَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ أَنَّهُ ← عبد الله بن عبد الرحمن بن يحنس ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8075

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14979

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ سَأَلَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَطَاءً وَأَنَا شَاهِدٌ قَالَ حَدَّثَكَ جَابِرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا وَالزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا قَالَ عَطَاءٌ نَعَمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور، کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

حَدَّثَكَ جَابِرٌ ← سَأَلَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَطَاءً وَأَنَا شَاهِدٌ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14979

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14987

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَبَ وَسَأَلَ أَهْلَهُ الْأُدْمَ قَالُوا مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ قَالَ فَدَعَا بِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ وَيَقُولُ نِعْمَ الْأُدْمُ الْخَلُّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن لانے کو کہا انہوں نے کہا ہمارے پاس تو سرکہ ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منگوا کر کھایا اور ارشاد فرمایا کہ سرکہ بہترین سالن ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← أَبُو بِشْرِ: ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14987

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14988

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُمْ كَانُوا لَا يَضَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الطَّعَامِ حَتَّى يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ يَبْدَأُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کی عادت یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شروع کرنے سے پہلے ہاتھ نہ بڑھاتے تھے۔

أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14988

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20776

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَن أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَمْكُثُ أَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَهُمَا وَلَدٌ ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ ثُمَّ نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهُ فَقَالَ أَبُوهُ رَجُلٌ طُوَالٌ ضَرْبُ اللَّحْمِ كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ وَأُمُّهُ امْرَأَةٌ فِرْضَاخِيَّةٌ طَوِيلَةُ الثَّدْيَيْنِ قَالَ أَبُو بَكْرَةَ فَسَمِعْنَا بِمَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ فَذَهَبْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ فَإِذَا نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمَا فَقُلْنَا هَلْ لَكُمَا وَلَدٌ فَقَالَا مَكَثْنَا ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَنَا وَلَدٌ ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمَا فَإِذَا الْغُلَامُ مُنْجَدَلٌ فِي قَطِيفَةٍ فِي الشَّمْسِ لَهُ هَمْهَمَةٌ قَالَ فَكَشَفْتُ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالَ مَا قُلْتُمَا قُلْنَا وَهَلْ سَمِعْتَ قَالَ نَعَمْ إِنَّهُ تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي قَالَ حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ صَيَّادٍ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کے ماں باپ تیس سال اس حال میں رہیں گے کہ ان کے ہاں یہاں کوئی اولاد نہ ہوگی پھر ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو کانا ہوگا اس کا نقصان زیادہ ہوگا اور نفع کم اس کی آنکھیں سوتی ہوں گی لیکن دل نہیں سوئے گا پھر اس کے والدین کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا اس کا باپ ایک لمبے قد کا آدمی ہوگا اور اس کا گوشت ہلتا ہوگا اس کی ناک بھی لمبی ہوگی ایسا محسوس ہوگا کہ جیسے طوطے کی چونچ اور اس کی ماں بڑی چھاتی والی عورت ہوگی کچھ عرصے کے بعد ہمیں پتا چلا کہ مدینہ میں یہودیوں کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے میں اور زبیر بن عوام اسے دیکھنے کے لئے گئے اس کے والدین کے پاس پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا حلیہ ان دونوں نے پایا وہ بچہ ایک چادر میں لپٹا ہوا پڑا ہوا تھا اس کی ہلکی ہلکی آواز آرہی تھی ہم نے اس کے والدین سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے تیس سال اس حال میں گزارے کہ ہمارے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا پھر ہمارے ہاں یہ ایک کانا بچہ پیدا ہوا جس کا نقصان زیادہ اور نفع کم ہے جب ہم وہاں سے نکلے تو ہم اس کے پاس سے گزرے وہ کہنے لگا تم لوگ کیا باتیں کررہے تھے ہم نے کہا تم نے وہ باتیں سن لیں؟ اس نے کہا جی ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا وہ ابن صیاد تھا۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20776

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14997

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا عَامِرٌ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُلْتُ لَهُ إِنَّ أَبِي تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَيْسَ عِنْدِي إِلَّا مَا يُخْرِجُ نَخْلُهُ فَلَا يَبْلُغُ مَا يَخْرُجُ سُدُسَ مَا عَلَيْهِ قَالَ فَانْطَلَقَ مَعِي لِكَيْلَا تَفَحَّشَ عَلَيَّ الْغُرَمَاءُ فَمَشَى حَوْلَ بَيْدَرٍ مِنْ بَيَادِرِ التَّمْرِ ثُمَّ دَعَا وَجَلَسَ عَلَيْهِ وَقَالَ أَيْنَ غُرَمَاؤُهُ فَأَوْفَاهُمْ الَّذِي لَهُمْ وَبَقِيَ مِثْلُ الَّذِي أَعْطَاهُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام شہید ہوئے تو ان پر کچھ قرض تھا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرے والد فوت ہوگئے ہیں ان پر کچھ قرض تھا اور ہمارے پاس تو صرف وہی ہے جو ہمارے درخت کی پیدوار ہے لیکن وہ تو ان کے قرض کے چھٹے حصے کو بھی نہیں پہنچتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ تشریف لے گئے تاکہ قرض خواہ مجھ سے بدتمیزی نہ کرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ڈھیر کے گرد چکر لگایا وہیں تشریف لے گئے اور دعا کر کے فرمایا کہ قرض خواہوں کو بلاؤ حتی کہ سب کا قرض پورا کر دیا اور میری کھجوریں اسی طرح رہ گئیں جتنی پہلے تھیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَامِرٍ، ← زَکَرِیَّا، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14997

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8125

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ يَمِينَ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ قَالَ وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْقَبْضُ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوا اور خوب سخاوت کرنے والا ہے اسے کسی چیز سے کمی نہیں آتی اور وہ رات دن خرچ کرتا رہتا ہے تم یہی دیکھ لو کہ اس نے جب سے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے کتنا خرچ کیا ہے لیکن اس کے دائیں ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کوئی کمی نہیں آئی اور اس کا عرش پانی پر ہے اس کے دوسرے ہاتھ میں قبضہ ہے جس سے وہ بلند کرتا اور جھکاتا ہے۔

وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْقَبْضُ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8125

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15017

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي خَفْقَةٍ مِنْ الدِّينِ وَإِدْبَارٍ مِنْ الْعِلْمِ فَلَهُ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً يَسِيحُهَا فِي الْأَرْضِ الْيَوْمُ مِنْهَا كَالسَّنَةِ وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالشَّهْرِ وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالْجُمُعَةِ ثُمَّ سَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ هَذِهِ وَلَهُ حِمَارٌ يَرْكَبُهُ عَرْضُ مَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا فَيَقُولُ لِلنَّاسِ أَنَا رَبُّكُمْ وَهُوَ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ك ف ر مُهَجَّاةٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٌ وَغَيْرُ كَاتِبٍ يَرِدُ كُلَّ مَاءٍ وَمَنْهَلٍ إِلَّا الْمَدِينَةَ وَمَكَّةَ حَرَّمَهُمَا اللَّهُ عَلَيْهِ وَقَامَتْ الْمَلَائِكَةُ بِأَبْوَابِهَا وَمَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَالنَّاسُ فِي جَهْدٍ إِلَّا مَنْ تَبِعَهُ وَمَعَهُ نَهْرَانِ أَنَا أَعْلَمُ بِهِمَا مِنْهُ نَهَرٌ يَقُولُ الْجَنَّةُ وَنَهَرٌ يَقُولُ النَّارُ فَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ الْجَنَّةَ فَهُوَ النَّارُ وَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ النَّارَ فَهُوَ الْجَنَّةُ قَالَ وَيَبْعَثُ اللَّهُ مَعَهُ شَيَاطِينَ تُكَلِّمُ النَّاسَ وَمَعَهُ فِتْنَةٌ عَظِيمَةٌ يَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ وَيَقْتُلُ نَفْسًا ثُمَّ يُحْيِيهَا فِيمَا يَرَى النَّاسُ لَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا مِنْ النَّاسِ وَيَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ هَلْ يَفْعَلُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَيَفِرُّ الْمُسْلِمُونَ إِلَى جَبَلِ الدُّخَانِ بِالشَّامِ فَيَأْتِيهِمْ فَيُحَاصِرُهُمْ فَيَشْتَدُّ حِصَارُهُمْ وَيُجْهِدُهُمْ جَهْدًا شَدِيدًا ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيُنَادِي مِنْ السَّحَرِ فَيَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَى الْكَذَّابِ الْخَبِيثِ فَيَقُولُونَ هَذَا رَجُلٌ جِنِّيٌّ فَيَنْطَلِقُونَ فَإِذَا هُمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَيُقَالُ لَهُ تَقَدَّمْ يَا رُوحَ اللَّهِ فَيَقُولُ لِيَتَقَدَّمْ إِمَامُكُمْ فَلْيُصَلِّ بِكُمْ فَإِذَا صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ خَرَجُوا إِلَيْهِ قَالَ فَحِينَ يَرَى الْكَذَّابُ يَنْمَاثُ كَمَا يَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ فَيَمْشِي إِلَيْهِ فَيَقْتُلُهُ حَتَّى إِنَّ الشَّجَرَةَ وَالْحَجَرَ يُنَادِي يَا رُوحَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ فَلَا يَتْرُكُ مِمَّنْ كَانَ يَتْبَعُهُ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کا خروج اس وقت میں ہوگا جب دین میں سستی اور علم میں تنزل آجائے گا وہ چالیس راتوں میں ساری زمین پھر جائے گا جس کا ایک دن سال کے برابر دوسرا مہینے کے برابر، تیسرا ہفتے کے برابر اور باقی ایام تمہارے ہی ایام کی طرح ہوں گے اس کے پاس ایک گدھا ہو گا جس پر وہ سواری کرے گا اور جس کے دونوں کانوں کے درمیان چوڑائی چالیس گز کے برابر ہو گی اور وہ لوگوں سے کہے گا کہ میں تمہارا رب ہی ہوں حالانکہ وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان حروف تہجی سے کافر لکھا ہوا ہو گا جسے ہر مسلمان خواہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ پڑھ لے گا وہ مدینہ اور مکہ جنہیں اللہ نے اس پر حرام قرار دیاہے کے علاوہ ہر پانی اور گھاٹ پر اترے گا اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ ہوں گے اس کے پیروکار کے علاوہ وہ تمام لوگوں اتنہائی پریشان ہوں گے اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی جن کی در حقیقت میں اس سے زیادہ جانتا ہوں ایک نہر کو وہ جنت اور دوسری نہر کو جہنم کہتا ہوگا جسے وہ اپنی جنت میں داخل کرے گا وہ درحقیقت جہنم ہو گی اور جسے وہ اپنی جہنم میں داخل کرے گا وہ جنت ہوگی۔ اللہ اس کے ساتھ شیاطین کو بھیج دے گا جو لوگوں سے باتیں کریں گے اس کے ساتھ ایک عظیم فتنہ ہو گاوہ آسمان کو حکم دے اور لوگوں کو یوں محسوس ہو گا کہ جیسے بارش ہورہی ہے وہ ایک آدمی کو قتل کرے گا پھر لوگوں کی آنکھوں کے سامنے اسے دوبارہ زندہ کرے گا اور لوگوں سے کہے گا کہ لوگوں یہ کام کوئی ایسا شخص کر سکتا ہے جو پروردگار نہ ہو اس وقت حقیقی مسلمان بھاگ جائیں گے اور جا کر شام کے جبل دخان میں پناہ لیں گے دجال ان کا انتہائی سخت محاصرہ کرے گا اور مسلمان انتہائی پریشان ہوں گے ۔ پھر حضرت عیسی کا نزول ہوگا اور وہ سحری کےوقت لوگوں کو پکار کر کہیں گے لوگو تمہیں اس کذاب خبیث کی طرف نکلنے سے کس چیز نے روک رکھا ہے لوگ کہیں گے یہ کوئی جن معلوم ہوتا ہے لیکن نکل کر دیکھیں گے تو وہ حضرت عیسی ہوں گے نماز کھڑی ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ روح آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں وہ فرمائیں گے تمہارے امام ہی کو آگے بڑھ کر نماز پڑھانی چاہیے نماز فجر کے بعد وہ دجال کی طرف نکلیں گے جب وہ کذاب حضرت عیسی کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے حضرت عیسی بڑھ کر اسے قتل کریں گے اور اس وقت وہ شجر اور حجر پکار اٹھیں گے اے روح اللہ یہ یہودی یہاں چھپا ہوا ہے چنانچہ وہ دجال کے کسی پیروکار کو نہیں چھوڑیں گے اور سب کو قتل کردیں گے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15017

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15018

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ امْرَأَةً مِنْ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةٌ عَيْنُهُ طَالِعَةٌ نَاتِئَةٌ فَأَشْفَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونَ الدَّجَّالَ فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَاخْرُجْ إِلَيْهِ فَخَرَجَ مِنْ الْقَطِيفَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ ثُمَّ قَالَ يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ قَالَ فَلُبِسَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَهُ ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فَوَجَدَهُ فِي نَخْلٍ لَهُ يُهَمْهِمُ فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْمَعُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا فَيَعْلَمُ هُوَ هُوَ أَمْ لَا قَالَ يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَلُبِسَ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ فَتَرَكَهُ ثُمَّ جَاءَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي نَفَرٍ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَنَا مَعَهُ قَالَ فَبَادَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِينَا وَرَجَا أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا فَسَبَقَتْهُ أُمُّهُ إِلَيْهِ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ فَقَالَ يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ فَلُبِسَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ صَائِدٍ إِنَّا قَدْ خَبَّأْنَا لَكَ خَبِيئًا فَمَا هُوَ قَالَ الدُّخُّ الدُّخُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَأْ اخْسَأْ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ائْذَنْ لِي فَأَقْتُلَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ لَا يَكُنْ هُوَ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشْفِقًا أَنَّهُ الدَّجَّالُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک یہودی عورت کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کی ایک آنکھ پونچھی تو ہوئی تھی اور دوسری روشن ابھری ہوئی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں یہ دجال نہ ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک چادر میں لیٹے ہوئے دیکھا کہ وہ کچھ گنگنارہا ہے لیکن اس کی ماں نے اسے بروقت مطلع کردیا کہ عبداللہ یہ ابوقاسم آئے ہیں ان کے پاس آؤ چنانچہ وہ اپنی چادر سے نکل کر آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس عورت کو کیا ہوگیا ہے اس پر اللہ کی مار ہو اگر یہ اسے چھوڑ دیتی تو یہ اپنی حقیقت ضرور واضح کردیتا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اے ابن صائد تو کیا دیکھتا ہے اس نے کہا میں حق بھی دیکھتاہوں اور باطل بھی اور میں پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر معاملہ مشتبہ ہو گیا پھر پوچھا کہ کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے پلٹ کو پوچھا کہ آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں میں اللہ کا رسول ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے چھوڑ کرچلے گئے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور یہی حالات پیش آئے پھر تیسری مرتبہ یاچوتھی مرتبہ مہاجرین انصار کی ایک جماعت کے ساتھ جن میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی تھے اور میں بھی تھا تشریف لائے اور یہی حالات پیش آئے البتہ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اے ابن صائد ہم نے تیرے امتحان کے لئے اپنے ذہن میں ایک چیز چھپائی ہوئی ہے بتاوہ کیا ہے اس نے دخ، دخ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دور ہو اس پر حضرت عمر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجیے میں اسے قتل کردوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی ہوا تو اس کے اہل نہیں ہو اس کے اہل حضرت عیسی ہیں اور اگر وہ نہیں ہے تو تمہیں کسی ذمی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ یہ اندیشہ رہا کہ کہیں یہ دجال نہ ہو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15018

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8155

وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزْ اللَّحْمُ وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی شخص گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا اور کھانا خراب نہ ہوتا اور اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8155

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15031

قَالَ وَنَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجوریں کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

خليط البسر والتمر والزبيب والتمر ← وَنَهَى نَبِيُّ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15031

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15039

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُجْزِئُ مِنْ الْوَضُوءِ الْمُدُّ مِنْ الْمَاءِ وَمِنْ الْجَنَابَةِ الصَّاعُ فَقَالَ رَجُلٌ مَا يَكْفِينِي فَقَالَ جَابِرٌ قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَأَكْثَرُ شَعْرًا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو کے لئے ایک مد پانی اور غسل جنابت کے لئے ایک صاع پانی کافی ہوجاتا ہے ایک آدمی نے کہا کہ مجھے تو کافی نہیں ہوتا حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اتنی مقدار تو اس ذات کو کفایت کر جاتی تھی جو تجھ سے بہتر تھی اور ان کے بال بھی مجھ سے زیادہ تھے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔

رَجُلٌ مَا يَكْفِينِي ← يُجْزِئُ مِنْ الْوَضُوءِ الْمُدُّ مِنْ الْمَاءِ وَمِنْ الْجَنَابَةِ الصَّاعُ ← النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15039

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8171

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبُلْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي ثُمَّ تَغْتَسِلْ مِنْهُ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے غسل کرنے لگے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8171

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8179

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَنْشِقْ بِمَنْخِرَيْهِ مِنْ الْمَاءِ ثُمَّ لِيَنْثُرْ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے اسے ناک کے نتھنوں میں پانی ڈال کر اسے اچھی طرح صاف کرنا چاہئے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8179

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8183

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُورَتُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَا يَبْصُقُونَ وَلَا يَتْفِلُونَ فِيهَا وَلَا يَتَمَخَّطُونَ فِيهَا وَلَا يَتَغَوَّطُونَ فِيهَا آنِيَتُهُمْ وَأَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ وَرَشْحُهُمْ الْمِسْكُ وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ يَرَى مُخَّ سَاقَيْهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ مِنْ الْحُسْنِ لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ وَلَا تَبَاغُضَ قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبٍ وَاحِدٍ يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے یہ لوگ پیشاب پاخانہ نہیں کریں گے نہ تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے ان کی کنگھیاں اور برتن سونے کے ہوں گے ان کے پسینے سے مشک کی مہک آئے گی ان کی انگیٹھیوں میں عود مہک رہا ہوگا ان کی بیویاں بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوگی جن کی پنڈلیوں کا گودا حسن کی وجہ سے گوشت سے باہر نظر آئے گا ان کے درمیان کوئی اختلاف اور بغض نہیں ہوگا ان سب کے دل قلب قلب واحد کی طرح ہوں گے اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے ہوں گے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8183

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20853

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ حَدَّثَنِي فُضَيْلُ بْنُ زَيْدٍ الرَّقَاشِيُّ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ وَقَدْ غَزَا مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَبْعَ غَزَوَاتٍ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ مَا حُرِّمَ عَلَيْنَا مِنْ الشَّرَابِ قَالَ الْخَمْرَةُ قَالَ فَقُلْتُ هَذَا فِي الْقُرْآنِ فَقَالَ لَا أُخْبِرُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مُحَمَّدًا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ رَسُولَ اللَّهِ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِمَّا أَنْ يَكُونَ بَدَأَ بِالرِّسَالَةِ أَوْ يَكُونَ بَدَأَ بِالِاسْمِ فَقُلْتُ شَرْعِي بِأَنِّي اكْتَفَيْتُ قَالَ فَقَالَ نَهَى عَنْ الْحَنْتَمِ وَهُوَ الْجَرُّ وَنَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَهُوَ الْقَرْعُ وَنَهَى عَنْ الْمُزَفَّتِ وَهُوَ مَا لُطِّخَ بِالْقَارِ مِنْ زِقٍّ أَوْ غَيْرِهِ وَنَهَى عَنْ النَّقِيرِ قَالَ فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَاكَ اشْتَرَيْتُ أَفِيقَةً فَهِيَ هُوَ ذَا مُعَلَّقَةٌ يُنْبَذُ فِيهَا

فضیل بن زید رقاشی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مغفل کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ شراب کا تذکرہ شروع ہوگیا اور حضرت عبداللہ کہنے لگے کہ شراب حرام ہے میں نے پوچھا کہ کیا کتاب اللہ میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے انہوں نے فرمایا کہ تمہارا کیا مقصد ہے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں نے اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سنا ہے وہ تمہیں بھی سناؤں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو، حنتم، اور مزفت سے منع کرتے ہوئے سنا ہے میں نے حنتم کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہر سبز اور سفید مٹکا میں نے مزفت کا مطلب پوچھا تو فرمایا کہ لک وغیرہ سے بنا ہوا برتن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیر سے منع فرمایا ہے۔ جب میں نے یہ حدیث سنی تو میں نے دباغت دی ہوئی کھال کا برتن خرید لیا یہ دیکھو وہ لٹک رہا ہے اسی میں نبیذ بنائی جاتی ہے۔

إِمَّا ← مُحَمَّدًا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ رَسُولَ اللَّهِ مُحَمَّدًا ← لَا أُخْبِرُكَ إِلَّا مَا ← فَقُلْتُ هَذَا فِي الْقُرْآنِ ← الْخَمْرَةُ ← سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ مَا حُرِّمَ عَلَيْنَا مِنْ الشَّرَابِ ← فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ وَقَدْ غَزَا مَعَ عُمَرَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ ← فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← ثَابِتُ أَبُو زَيْدٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20853

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15048

حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ دَخَلَ عَلَى جَابِرٍ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ خُبْزًا وَخَلًّا فَقَالَ كُلُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ إِنَّهُ هَلَاكٌ بِالرَّجُلِ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ النَّفَرُ مِنْ إِخْوَانِهِ فَيَحْتَقِرَ مَا فِي بَيْتِهِ أَنْ يُقَدِّمَهُ إِلَيْهِمْ وَهَلَاكٌ بِالْقَوْمِ أَنْ يَحْتَقِرُوا مَا قُدِّمَ إِلَيْهِمْ

عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ تشریف لائے انہوں نے اس کے سامنے روئی اور سرکہ پیش کیا اور کہا کہ کھائیے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سرکہ بہترین سالن ہے یہ بات انسان کے لئے باعث ہلاکت ہے کہ اس کے پاس اس کے بھائی آئیں اور اس کے پاس جو کچھ گھر میں موجود ہو وہ اسے ان کے سامنے پیش کرنے میں اپنی تحقیر سمجھے اور لوگوں کے لئے بھی یہ بات باعث ہلاکت ہے کہ ان کے سامنے جو کچھ پیش کیا جائے وہ اسے حقیر سمجھے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← كُلوا، فإنِّي ← دَخَلَ عَلَى جَابِرٍ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ فَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ خُبْزًا وَخَلًّا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15048

chevron_left Previous
1…646566…2,030
Next chevron_right