Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطعام والشراب

Food & Drink

40586 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1868

حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ يُسَلِّفُونَ فِي التَّمْرِ الْعَامَ وَالْعَامَيْنِ أَوْ قَالَ عَامَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فَقَالَ مَنْ سَلَّفَ فِي تَمْرٍ فَلْيُسَلِّفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ

It was narrated that Ibn 'Abbas said: When the Messenger of Allah (PBUH) came to Madinah, the people paid for dates one or two years in advance - or he said: two or three years. He said: "Who- ever pays in advance for dates, let him pay for a specified measure and a specified weight."

عَامَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ ← قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ يُسَلِّفُونَ فِي التَّمْرِ الْعَامَ وَالْعَامَيْنِ أَوْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْمِنْهَالِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ، ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1868

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14723

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔

زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ ← جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14723

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14739

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الْفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي الطَّعَامِ أَوْ الشَّرَابِ أَطْعَمُهُ قَالَ لَا زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ كُنَّا نَضَعُ السَّمْنَ فِي الْجِرَارِ فَقَالَ إِذَا مَاتَتْ الْفَأْرَةُ فِيهِ فَلَا تَطْعَمُوهُ

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی چوہا کسی کھانے پینے کی چیز میں گر جائے تو کیا میں اسے کھا سکتاہوں انہوں نے فرمایا کہ نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرمادیا ہم لوگ مٹکوں میں گھی رکھتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اس میں کوئی چوہا مر جائے تو اسے مت کھایا کرو ۔

إِذَا مَاتَتْ الْفَأْرَةُ فِيهِ فَلَا تَطْعَمُوهُ ← ذَلِكَ كُنَّا نَضَعُ السَّمْنَ فِي الْجِرَارِ ← لَا، زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ ← الْفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي الطَّعَامِ أَوْ الشَّرَابِ أَطْعَمُهُ ← سَأَلْتُ جَابِرًا ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14739

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14756

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي حَائِطٍ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فَقَالَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ وَإِلَّا كَرَعْنَا فَقَالَ عِنْدِي مَاءٌ بَائِتٌ فَانْطَلَقَ إِلَى عَرِيشٍ فَحَلَبَ لَهُ شَاةً ثُمَّ صَبَّ عَلَيْهِ مَاءً بَائِتًا ثُمَّ سَقَاهُ وَصَنَعَ بِصَاحِبِهِ مِثْلَ ذَلِكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی کے ہمراہ کسی انصاری کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لئے اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے ساتھ آنے والے صاحب کے ساتھ اسی طرح کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحٌ، ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14756

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1928

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ فَالطَّعَامُ و قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِرَأْيِهِ وَلَا أَحْسَبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا مِثْلَهُ

It was narrated that Tawoos said: I heard Ibn 'Abbas say: As for what the Messenger of Allah (PBUH) forbade to be sold before possession was taken of it, that is food. And Ibn 'Abbas stated his opinion: I think everything is like that.

ابن عباس برأيه ولا أحسب كل شيء إلا مثله ← أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ فَالطَّعَامُ و ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1928

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1932

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى الْغَائِطَ ثُمَّ خَرَجَ فَدَعَا بِالطَّعَامِ وَقَالَ مَرَّةً فَأُتِيَ بِالطَّعَامِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَوَضَّأُ قَالَ لَمْ أُصَلِّ فَأَتَوَضَّأَ

It was narrated from Sa'eed bin al-Huwairith, who heard Ibn 'Abbas (say): We were with the Prophet (PBUH) and he went to the outhouse, then he came out and called for food - on one occasion he said: food was brought - and it was said; O Messenger of Allah, aren't you going to do wudoo'l He said: "I am not going to pray such that I needed to do wudoo'."

مَرَّةً فَأُتِيَ بِالطَّعَامِ فَقِيلَ ← كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ فَأَتَى الْغَائِطَ ثُمَّ خَرَجَ فَدَعَا بِالطَّعَامِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1932

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14778

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنْ الْوُرُودِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى كَوْمٍ فَوْقَ النَّاسِ فَيُدْعَى بِالْأُمَمِ وَبِأَوْثَانِهَا وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ بَعْدَ ذَلِكَ فَيَقُولُ مَا تَنْتَظِرُونَ فَيَقُولُونَ نَنْتَظِرُ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْهِ قَالَ فَيَتَجَلَّى لَهُمْ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ يَضْحَكُ وَيُعْطِي كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مُنَافِقٍ وَمُؤْمِنٍ نُورًا وَتَغْشَاهُ ظُلْمَةٌ ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ مَعَهُمْ الْمُنَافِقُونَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ فِيهِ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ يَأْخُذُونَ مَنْ شَاءَ ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ وَيَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ ذَلِكَ حَتَّى تَحِلَّ الشَّفَاعَةُ فَيَشْفَعُونَ حَتَّى يَخْرُجَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِمَّنْ فِي قَلْبِهِ مِيزَانُ شَعِيرَةٍ فَيُجْعَلَ بِفِنَاءِ الْجَنَّةِ وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يُهْرِيقُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ الْمَاءِ حَتَّى يَنْبُتُونَ نَبَاتَ الشَّيْءِ فِي السَّيْلِ وَيَذْهَبُ حَرَقُهُمْ ثُمَّ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا

ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ورود کے متعلق سوال کیا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن ہم تمام لوگوں سے اوپر ایک ٹیلے پرہوں گے درجہ بدرجہ تمام امتوں اور ان کے بتوں کو بلایا جائے گا پھر ہمارا پروردگار ہمارے پاس آکر پوچھے گا کہ تم کس کا انتظار کر رہے ہو لوگ جواب دیں گے کہ ہم اپنے پروردگار کا انتظار کر رہے ہیں وہ کہے گا کہ میں ہی تمہارا رب ہوں لوگ کہیں گے کہ ہم اسے دیکھنے تک یہیں ہیں چنانچہ پروردگار ان کے سامنے اپنی ایک تجلی ظاہر فرمائے گا جس میں وہ مسکرا رہا ہوگا اور ہر انسان کو خواہ منافق ہو یا پکامومن ، ایک نور دیا جائے گا پھر اس پر اندھیرا چھاجائے گا پھر مسلمانوں کے ساتھ منافق کانور بجھ جائے گااور مسلمان اس پل صراط سے نجات پا جائیں گے۔ نجات پانے والے مسلمانوں کا پہلا گروہ اپنے چہروں میں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوگا یہ لوگ سترہزار ہوں گے اور ان کا حساب نہ ہوگا دوسرے نمبر پر نجات پانے والے اس ستارے کی مانند ہوگے جو آسمان میں سب سے زیادہ روشن ہوں پھر درجہ بدرجہ یہاں تک کہ شفاعت کی اجازت دے دی جائے گی اور لوگ سفارش کریں گے جس کی بناء وہ شخص جہنم سے نکال لیا جائے گا جس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا اور اسے صحن جنت میں لے جایا جائے گا اور اہل جنت اس پر پانی بہانے لگیں گے حتی کہ وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب میں خودرو پودے اگ آتے ہیں اور ان کے جسم کی جلن دور ہوجائے گی پھر اللہ ان سے پوچھے گا اور انہیں دنیا سے دس گنا زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔

الْوُرُودِ ← أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14778

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1937

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسَلِّفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ فَقَالَ مَنْ سَلَّفَ فَلْيُسَلِّفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ

It was narrated that Ibn 'Abbas said: When the Messenger of Allah (PBUH) came to Madinah, the people used to pay two or three years in advance for dates. He said: "Whoever pays in advance, let him pay in advance for a specified measure and a specified weight, for a specified time."

ابْنِ عَبَّاسٍ قَدِمَ النَّبِيُّ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسَلِّفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ ← أَبِي الْمِنْهَالِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ، ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1937

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1961

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ جُرَشَ يَنْهَاهُمْ أَنْ يَخْلِطُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ

It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (PBUH) wrote to the people of Jurash, forbidding them to mix raisins with dried dates.

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1961

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14836

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔

رسول الله أنه نهى أن يبال في الماء الراكد ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← حُجَيْنٌ وَيُونُسُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14836

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14866

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ وَحُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَصَابَنَا عَطَشٌ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَجَهَشْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ تَوْرٌ فِيهِ مَاءٌ فَقَالَ بِأَصَابِعِهِ هَكَذَا فِيهَا وَقَالَ خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ قَالَ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَتَخَلَّلُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَنَّهَا عُيُونٌ فَوَسِعَنَا وَكَفَانَا وَقَالَ حُصَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر ہمیں پیاس نے ستایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف ایک پیالہ تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے لوگ گبھرائے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالے میں اپنے دست مبارک کو رکھ دیا اور فرمایا بسم اللہ پڑھ کر یہ پانی لو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان چشموں کی طرح پانی ابلنے لگاہم سب نے اسے پیا اور وضو کیا۔

حُصَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا ← فَجَعَلَ الْمَاءُ يَتَخَلَّلُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَنَّهَا عُيُونٌ فَوَسِعَنَا وَكَفَانَا ← خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ ← بِأَصَابِعِهِ هَكَذَا فِيهَا ← أَصَابَنَا عَطَشٌ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَجَهَشْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ تَوْرٌ فِيهِ مَاءٌ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ وَحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14866

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14867

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ مَا أَقْفَرَ بَيْتٌ فِيهِ خَلٌّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا سرکہ بہترین سالن ہے وہ گھر تنگدست نہیں ہوتا جس میں سرکہ ہو۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← حَجَّاجُ بْنُ أَبِي زَيْنَبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14867

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20689

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْكُثُ أَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَهُمَا ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ ثُمَّ نَعَتَ أَبَوَيْهِ فَقَالَ أَبُوهُ رَجُلٌ طُوَالٌ مُضْطَرِبُ اللَّحْمِ طَوِيلُ الْأَنْفِ كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ وَأُمُّهُ امْرَأَةٌ فِرْضَاخِيَّةٌ عَظِيمَةُ الثَّدْيَيْنِ قَالَ فَبَلَغَنَا أَنَّ مَوْلُودًا مِنْ الْيَهُودِ وُلِدَ بِالْمَدِينَةِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ فَرَأَيْنَا فِيهِمَا نَعْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا هُوَ مُنْجَدِلٌ فِي الشَّمْسِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ هَمْهَمَةٌ فَسَأَلْنَا أَبَوَيْهِ فَقَالَا مَكَثْنَا ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَنَا ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا فَلَمَّا خَرَجْنَا مَرَرْنَا بِهِ فَقَالَ مَا كُنْتُمَا فِيهِ قُلْنَا وَسَمِعْتَ قَالَ نَعَمْ إِنَّهُ تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي فَإِذَا هُوَ ابْنُ صَيَّادٍ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کے ماں باپ تیس سال اس حال میں رہیں گے کہ ان کے ہاں یہاں کوئی اولاد نہ ہوگی پھر ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو کانا ہوگا اس کا نقصان زیادہ ہوگا اور نفع کم اس کی آنکھیں سوتی ہوں گی لیکن دل نہیں سوئے گا پھر اس کے والدین کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا اس کا باپ ایک لمبے قد کا آدمی ہوگا اور اس کا گوشت ہلتا ہوگا اس کی ناک بھی لمبی ہوگی ایسا محسوس ہوگا کہ جیسے طوطے کی چونچ اور اس کی ماں بڑی چھاتی والی عورت ہوگی کچھ عرصے کے بعد ہمیں پتا چلا کہ مدینہ میں ایک یہودیوں کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے میں اور زبیر بن عوام اسے دیکھنے کے لئے گئے اس کے والدین کے پاس پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا حلیہ ان دونوں نے پایا وہ بچہ ایک چادر میں لپٹا ہوا پڑا ہوا تھا اس کی ہلکی ہلکی آواز آرہی تھی ہم نے اس کے والدین کو اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے تیس سال اس حال میں گزارے کہ ہمارے ہاں کوئی بچہ پیدانہیں ہوا پھر ہمارے ہاں یہ ایک کانابچہ پیدا ہوا جس کا نقصان زیادہ اور نفع کم ہے جب ہم وہاں سے نکلے تو ہم اس کے پاس سے گزرے وہ کہنے لگا تم لوگ کیا باتیں کررہے تھے ہم نے کہا تم نے وہ باتیں سن لیں ؟ اس نے کہا جی ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرادل نہیں سوتا وہ ابن صیاد تھا۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20689

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14885

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ أَوْ ابْنِ أَبِي الْحَارِثِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي حَائِطٍ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فَقَالَ هَلْ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ وَإِلَّا كَرَعْنَا قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى الْعَرِيشِ فَحَلَبَ لَهُ شَاةً ثُمَّ صَبَّ عَلَيْهِ مَاءً بَاتَ فِي شَنٍّ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَقَى صَاحِبَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ کسی انصاری کے گھرتشریف لائے اور جا کر سلام کیا اور فرمایا اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے توٹھیک ہے ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لے کر اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے ساتھ آنے والے صاحب نے اسے پی لیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ أَوْ ابْنِ أَبِي الْحَارِثِ ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14885

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8007

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوْ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنِهِ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ أَوْ نَحْوَ هَذَا فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَ بِهَا مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنْ الذُّنُوبِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بندہ مومن وضو کرتا ہے اور اپناچہرہ دھوتا ہے تو وضو کے پانی کے ساتھ اس کے چہرے سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کی طرف اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھاہوجب ہاتھ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے ہاتھ کے وہ سارے گناہ نکل جاتے ہیں جو اس نے ہاتھ سے پکڑ کرکیے ہوں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو کر نکل آتاہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِكٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8007

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8019

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو الْهَجَرِيِّ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزْ اللَّحْمُ وَلَمْ يَخْبُثْ الطَّعَامُ وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی شخص گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا اور کھانا خراب نہ ہوتا اور اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو الْهَجَرِيِّ ← عَوْفٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8019

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14903

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ فِيمَا أَحْسِبُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت سے زائد پانی کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

جَابِرٍ فِيمَا أَحْسِبُ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ ← حَمَّادٌ، ← يُونُسُ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14903

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14910

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے وہ پوری ہوتی ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمَؤَمَّلِ ← عَلِيِّ بْنِ ثَابِتٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14910

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14921

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ فِي الْقَوْمِ مِنْ طَهُورٍ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ بِفَضْلَةٍ فِي إِدَاوَةٍ قَالَ فَصَبَّهُ فِي قَدَحٍ قَالَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ أَتَوْا بَقِيَّةَ الطَّهُورِ فَقَالُوا تَمَسَّحُوا تَمَسَّحُوا قَالَ فَسَمِعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلَى رِسْلِكُمْ قَالَ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ فِي جَوْفِ الْمَاءِ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ الطَّهُورَ قَالَ فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَالَّذِي أَذْهَبَ بَصَرِي قَالَ وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ لَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَهُ حَتَّى تَوَضَّئُوا أَجْمَعُونَ قَالَ الْأَسْوَدُ حَسِبْتُهُ قَالَ كُنَّا مِائَتَيْنِ أَوْ زِيَادَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غزوہ میں ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ شریک تھے نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کسی کے پاس پانی ہے ؟ ایک آدمی یہ سن کر دوڑتا ہوا ایک برتن لے کر آیا جس میں تھوڑا ساپانی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پانی کو ایک پیالے میں ڈالا اور اس سے خوب اچھی طرح وضو کیا وضو کر کے آپ پیالہ وہیں چھوڑ آئے لوگ اس پیالے پر ٹوٹ پڑے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آوازیں سن کر فرمایا رک جاؤ پھر اس پانی اور پیالے میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور بسم اللہ کہہ کر فرمایا خوب اچھی طرح کامل وضو کرو اس ذات کی قسم جس نے مجھے آنکھوں کی نعمت عطاء فرمائی ہے میں نے اس دن دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس وقت تک نہ اٹھایا جب تک سب لوگوں نے وضو نہ کرلیا۔

فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ ← فَصَبَّهُ فِي قَدَحٍ ← فَجَاءَ رَجُلٌ بِفَضْلَةٍ فِي إِدَاوَةٍ ← فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، ← «سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← عُبَيْدَةُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14921

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8041

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ رَجُلًا حَمَلَ مَعَهُ خَمْرًا فِي سَفِينَةٍ يَبِيعُهُ وَمَعَهُ قِرْدٌ قَالَ فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَاعَ الْخَمْرَ شَابَهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ بَاعَهُ قَالَ فَأَخَذَ الْقِرْدُ الْكِيسَ فَصَعِدَ بِهِ فَوْقَ الدَّقَلِ قَالَ فَجَعَلَ يَطْرَحُ دِينَارًا فِي الْبَحْرِ وَدِينَارًا فِي السَّفِينَةِ حَتَّى قَسَمَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی تجارت کے سلسلے میں شراب لے کر کشتی پر سوار ہوا اس کے ساتھ ایک بندر بھی تھا وہ آدمی جب شراب بیچتا تو پہلے اس میں پانی کی ملاوٹ کرتا پھر اسے فروخت کرتا ایک دن بندرنے اس کے پیسوں کا بٹوہ پکڑا اور ایک درخت پر چڑھ گیا اور ایک ایک دینار سمندر میں اور دوسرا اپنے مالک کی کشتی میں پھینکنے لگا حتی کہ اس نے برابر برابر تقسیم کردیا (یہیں سے مثال مشہور ہوگئی کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8041

chevron_left Previous
1…636465…2,030
Next chevron_right