Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطب والصحة

Medicine & Health

12931 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17880

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُقْبَضُ الصَّالِحُ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ وَيَبْقَى كَحُثَالَةِ التَّمْرِ

حضرت مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ایک کر کے نیک لوگوں کو اٹھالیا جائے گا اور پیچھے کھجور (یا جو) کے چھلکوں کی طرح گھٹیا لوگ رہ جائیں گے جن کی اللہ کو کوئی پرواہ نہ ہوگی۔

يُقْبَضُ الصَّالِحُ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ وَيَبْقَى كَحُثَالَةِ التَّمْرِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17880

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17881

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي قَيْسٌ قَالَ سَمِعْتُ مِرْدَاسًا الْأَسْلَمِيَّ قَالَ يُقْبَضُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ حَتَّى يَبْقَى كَحُثَالَةِ التَّمْرِ أَوْ الشَّعِيرِ لَا يُبَالِي اللَّهُ بِهِمْ شَيْئًا

حضرت مرد اس اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ایک کر کے نیک لوگوں کو اٹھالیا جائے گا اور پیچھے کھجور (یا جو ) کے چھلکوں کی طرح گھٹیا لوگ رہ جائیں گے جن کی اللہ کو کوئی پرواہ نہ ہوگی۔

مِرْدَاسًا الْأَسْلَمِيَّ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17881

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17882

حَدَّثَنَا يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبَضُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ حَتَّى يَبْقَى كَحُثَالَةِ التَّمْرِ أَوْ الشَّعِيرِ لَا يُبَالِي اللَّهُ بِهِمْ شَيْئًا

حضرت مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک ایک کر کے نیک لوگوں کو اٹھالیا جائے گا اور پیچھے کھجور (یا جو ) کے چھلکوں کی طرح گھٹیا لوگ رہ جائیں گے جن کی اللہ کو کوئی پرواہ نہ ہوگی۔

مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← يعلى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17882

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25037

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَعَكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى قَالَ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَقْلَعَ عَنْهُ تَغَنَّى فَقَالَ أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدْنَ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ اللَّهُمَّ اخْزِ عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ كَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ مَكَّةَ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت صدیق اکبر اور بلال بھی بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر کو جب بخار ہوا تو وہ کہنے لگے "ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔ "حضرت بلال کو جب بخار کچھ کم ہو تا تو وہ یہ شعر پڑھتے "ہائے! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ "فخ" میں رات گذار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور"جلیل" نامی گھاس ہو گی، کیا میں کسی دن مجنہ کے چشموں پر جا سکوں گا اور شامہ اور طفیل میرے سامنے آسکیں گے، اے اللہ! عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف کو رسوا فرما، جیسے انہوں نے ہمیں مکہ مکرمہ سے نکالا۔ "

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25037

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25068

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ قَالَ حُسَيْنٌ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَمُرُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِلَالٌ وَهِلَالٌ وَهِلَالٌ مَا يُوقَدُ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ نَارٌ قُلْتُ يَا خَالَةُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعِيشُونَ قَالَتْ عَلَى الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ قَالَ حُسَيْنٌ إِنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنَّهُ كَانَ يَمُرُّ بِنَا هِلَالٌ وَهِلَالٌ مَا يُوقَدُ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ فَقُلْتُ يَا خَالَةُ مِثْلَهُ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات ہم پر کئی کئی مہینے اس حال میں گذر جاتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا خالہ جان! پھر آپ لوگ کس طرح گذارہ کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا دو سیاہ چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر۔

أَبُو حَازِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25068

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25105

قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لَمْ أَسْمَعْ مِنْ هِشَامٍ شَيْئًا إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ الْوَاحِدَ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بخار جہنم کی تپش کا اثر ہو تا ہے اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25105

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17987

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ أَقْبَلَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَلَأَهُ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَشُقَّ مِنْ النَّحْرِ إِلَى مَرَاقِي الْبَطْنِ فَغُسِلَ الْقَلْبُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ ثُمَّ انْطَلَقْتُ مَعَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَأَتَيْتُ عَلَى آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ ابْنٍ وَنَبِيٍّ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ قِيلَ مَنْ هَذَا قِيلَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى يَحْيَى وَعِيسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمَا فَقَالَا مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الثَّالِثَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى هَارُونَ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ السَّادِسَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ ثُمَّ أَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ بَكَى قِيلَ مَا أَبْكَاكَ قَالَ يَا رَبِّ هَذَا الْغُلَامُ الَّذِي بَعَثْتَهُ بَعْدِي يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِهِ الْجَنَّةَ أَكْثَرُ وَأَفْضَلُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ السَّابِعَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ ابْنٍ وَنَبِيٍّ قَالَ ثُمَّ رُفِعَ إِلَيَّ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يُصَلِّي فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ إِذَا خَرَجُوا مِنْهُ لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ قَالَ ثُمَّ رُفِعَتْ إِلَيَّ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فَإِذَا نَبْقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ وَإِذَا فِي أَصْلِهَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ نَهَرَانِ بَاطِنَانِ وَنَهَرَانِ ظَاهِرَانِ فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ فَقَالَ أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالْفُرَاتُ وَالنِّيلُ قَالَ ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ خَمْسُونَ صَلَاةً فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ فُرِضَتْ عَلَيَّ خَمْسُونَ صَلَاةً فَقَالَ إِنِّي أَعْلَمُ بِالنَّاسِ مِنْكَ إِنِّي عَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ وَإِنَّ أُمَّتَكَ لَنْ يُطِيقُوا ذَلِكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكَ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَسَأَلْتُهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنِّي فَجَعَلَهَا أَرْبَعِينَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَتَيْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ جَعَلَهَا أَرْبَعِينَ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَى فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَجَعَلَهَا ثَلَاثِينَ فَأَتَيْتُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَى فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَجَعَلَهَا عِشْرِينَ ثُمَّ عَشْرَةً ثُمَّ خَمْسَةً فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَى فَقُلْتُ إِنِّي أَسْتَحِي مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كَمْ أَرْجِعُ إِلَيْهِ فَنُودِيَ أَنْ قَدْ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي وَأَجْزِي بِالْحَسَنَةِ عَشْرَ أَمْثَالِهَا

حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں بیت اللہ کے قریب سونے اور جاگنے کے درمیان تھا کہ تین میں سے ایک آدمی دو آدمیوں کے درمیان آگے آیا، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو حکمت اور ایمان سے بھرپور تھا، اس نے سینے سے لے کر پیٹ تک میرا جسم چاک کیا اور دل کو آب زم زم سے دھویا، اور اسے حکمت وایمان سے لبریز کر دیا گیا، پھر میرے پاس ایک جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا اور میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ روانہ ہوگیا۔ ہم آسمان دنیا پر پہنچے، پوچھا گیا کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا جبریل! پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے بتایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم! پوچھا گیا کہ کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! فرشتوں نے کہا خوش آمدید! ایک بہترین آنے والا آیا، وہاں میں حضرت آدم علیہ السلام کے پاس پہنچا اور انہیں سلام کیا، انہوں نے فرمایا خوش آمدید ہو بیٹے کو اور نبی کو خوش آمدید، ایک بہترین آنے والا آیا۔ دوسرے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت یحیی وعیسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بیٹے کی بجائے بھائی کہا، تیسرے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بیٹے کی بجائے بھائی کہا، چوتھے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت ادریس علیہ السام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بھائی کہا، پانچویں آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں بھی بھائی کہا، چھٹے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت موسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی انہوں نے بھی بھائی کہا، جب میں حضرت موسی علیہ السلام سے مل کر آگے بڑھا تو وہ رونے لگے پوچھا گیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ پروردگار! یہ نوجوان جسے آپ نے میرے بعد مبعوث فرمایا: اس کی امت میری امت سے زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوگی، پھر ہم ساتویں آسمان پر پہنچے اور وہاں بھی یہی سوال جواب ہوئے، وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے فرمایا خوش آمدید ہو بیٹے کو اور نبی کو۔ پھر میرے سامنے بیت المعمور کو پیش کیا گیا، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں بتایا کہ یہ بیت المعمور ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور جب ایک مرتبہ باہر آجاتے ہیں تو دوبارہ کبھی داخل ہونے کی نوبت نہیں آتی، پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہی کو پیش کیا گیا، اس کے بیر ہجر کے مٹکوں جیسے تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے، اور اس کی جڑ میں چار نہریں جاری تھیں جن میں دو نہریں باطنی اور دو ظاہری تھیں ، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے ان کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا باطنی نہریں تو جنت میں ہیں اور ظاہری نیل اور فرات ہیں ۔ پھر مجھ سے پچاس نمازیں فرض قرار دی گئیں ، میں حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو وہ کہنے لگے کہ کیا معاملہ ہوا؟ میں نے بتایا کہ مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں ، حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ میں لوگوں کی طبیعت سے اچھی طرح واقف ہوں ، میں نے بنی اسرائیل کو خوب اچھی طرح آزمایا تھا، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، اس لئے آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیے اور ان سے درخواست کیجئے کہ اس تعداد میں کمی کر دیں، چنانچہ میں اپنے رب کے پاس واپس آیا اور ان سے تخفیف کی درخواست کی تو پروردگار نے ان کی تعداد چالیس مقرر کردی، پھر دوبارہ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گذر ہوا تو یہی سوال جواب ہوئے اور دس نمازیں مزید کم ہوگئیں ، اسی طرح دس دس کم ہوتے ہوتے آخری مرتبہ پانچ کم ہوئیں اور صرف پانچ نمازیں رہ گئیں ، اس مرتبہ بھی حضرت موسی علیہ السلام نے تخفیف کرانے کا مشورہ دیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے کہ کتنی مرتبہ اس کے پاس جاؤں ، اسی اثناء میں آواز آئی کہ میں نے اپنا فریضہ مقرر کر دیا، اور اپنے بندوں سے تخفیف کردی، اور میں ایک نیکی کا بدلہ دس گنا عطا کروں گا۔

مَالِکِ بْنِ صَعْصَعَةَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17987

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25159

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِتْعِ وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ وَكَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَشْرَبُونَهُ فَقَالَ كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی نبیذ کے متعلق پوچھا "جسے اہل یمن پیتے تھے" تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، وہ حرام ہے۔

کُلُّ شَرَابٍ أَسْکَرَ فَهُوَ حَرَامٌ ← الْبِتْعِ وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ وَكَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ يَشْرَبُونَهُ ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25159

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18537

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ خَيْثَمَةَ وَالشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالٌ بَيِّنٌ وَحَرَامٌ بَيِّنٌ وَشُبُهَاتٌ بَيْنَ ذَلِكَ مَنْ تَرَكَ الشُّبُهَاتِ فَهُوَ لِلْحَرَامِ أَتْرَكُ وَمَحَارِمُ اللَّهِ حِمًى فَمَنْ أَرْتَعَ حَوْلَ الْحِمَى كَانَ قَمِنًا أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ متشابہات ہیں جو شخص ان متشابہات کو چھوڑ دے گا وہ حرام کو بآسانی چھوڑ سکے گا اور اللہ کے محرمات اس کی چراگاہیں ہیں اور جو شخص چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ میں گھس جائے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← خَيْثَمَةَ، وَالشَّعْبِيُّ، ← عَاصِمٍ، ← شَيْبَانَ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18537

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18540

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَفَعَهُ قَالَ إِنَّ مِنْ الزَّبِيبِ خَمْرًا وَمِنْ التَّمْرِ خَمْرًا وَمِنْ الْحِنْطَةِ خَمْرًا وَمِنْ الشَّعِيرِ خَمْرًا وَمِنْ الْعَسَلِ خَمْرًا

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ شراب کشمش کی بھی بنتی ہے کھجور کی بھی ، گندم کی بھی ، جو کی بھی اور شہد کی بھی ہوتی ہے۔

النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَفَعَهُ ← عَامِرٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18540

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18546

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ وَاللَّهِ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ نَبِيُّكُمْ عَلَيْهِ السَّلَام يَشْبَعُ مِنْ الدَّقَلِ وَمَا تَرْضَوْنَ دُونَ أَلْوَانِ التَّمْرِ وَالزُّبْدِ

سماک بن حرب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا اللہ کی قسم ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک ایک مہینہ تک کبھی ردی کھجور سے اپنا پیٹ نہیں بھرا اور تم لوگ کھجور اور مکھن کے رنگوں پر ہی راضی ہو کر نہیں دیتے۔

نَبِيُّكُمْ يَشْبَعُ مِنْ الدَّقَلِ وَمَا تَرْضَوْنَ دُونَ أَلْوَانِ التَّمْرِ وَالزُّبْدِ ← عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ وَاللَّهِ مَا كَانَ النَّبِيُّ أَوْ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو کَامِلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18546

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18563

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ زَكَرِيَّا قَالَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ شَيْءٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال باہمی محبت ، ہمدردی اور شفقت میں جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے توسارے جسم کو شب بیداری اور بخار کا احساس ہوتا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ ← عَامِرٍ، ← زَکَرِیَّا، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18563

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18564

وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ فَمَنْ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ فِيهِ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَاقَعَهَا وَاقَعَ الْحَرَامَ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَا حَرَّمَ أَلَا وَإِنَّ فِي الْإِنْسَانِ مُضْغَةً إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ متشابہات ہیں جو شخص ان متشابہات کو چھوڑ دے گا وہ حرام کو بآسانی چھوڑ سکے گا اور اللہ کے محرمات اس کی چراگاہیں ہیں اور جو شخص چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ میں گھس جائے، یاد رکھوانسان کے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ صحیح ہوجائے توسارا جسم صحیح ہوجائے اور اگر وہ خراب ہوجائے توساراجسم خراب ہوجائے یاد رکھو! وہ دل ہے ۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18564

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18570

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال باہمی محبت ، ہمدردی اور شفقت میں جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے توسارے جسم کو شب بیداری اور بخار کا احساس ہوتا ہے۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِیَّا، ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18570

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18597

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ كَثِيرٍ الْهَمْدَانِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ السَّرِيَّ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْكُوفِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ الشَّعْبِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الْحِنْطَةِ خَمْرًا وَمِنْ الشَّعِيرِ خَمْرًا وَمِنْ الزَّبِيبِ خَمْرًا وَمِنْ التَّمْرِ خَمْرًا وَمِنْ الْعَسَلِ خَمْرًا وَأَنَا أَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاًمروی ہے کہ شراب کشمش کی بھی بنتی ہے کھجور کی بھی ، گندم کی بھی ، جو کی بھی اور شہد کی بھی ہوتی ہے، اور ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَنَّهُ ← أَنَّ الشَّعْبِيَّ، ← أَنَّ السَّرِيَّ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْكُوفِيَّ ← خَالِدِ بْنِ كَثِيرٍ الْهَمْدَانِيِّ أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثٌ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18597

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11658

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ سَوَاءٌ بِسَوَاءٍ مِثْلٌ بِمِثْلٍ مَنْ زَادَ أَوْ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى الْآخِذُ وَالْمُعْطِي سَوَاءٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر سرابر بیچا خریدا جائے، جو شخص اس میں اضافہ کرے یا اضافے کا مطالبہ کرے، وہ سودی معاملہ کرتا ہے اور اس میں لینے والا اور دینے والا دونوں برابر ہیں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِيُّ ← سليمان بن علي ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11658

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11663

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ غُلَامًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ ذَاتَ يَوْمٍ بِتَمْرٍ رَيَّانَ وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْلًا فِيهِ يُبْسٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّى لَكَ هَذَا التَّمْرُ فَقَالَ هَذَا صَاعٌ اشْتَرَيْنَاهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ هَذَا لَا يَصْلُحُ وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ وَاشْتَرِ مِنْ أَيِّ تَمْرٍ شِئْتَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریان کھجوریں پیش کی گئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں خشک " بعل " کھجوریں آتی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے، صحیح طریقہ یہ ہے کہ تم اپنی کھجوریں بیچ دو، اس کے بعد اپنی ضرورت کی کھجوریں خرید لو۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11663

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11666

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ فَأَتَانَا بِزُبْدٍ وَكُتْلَةٍ فَأُسْقِطَ ذُبَابٌ فِي الطَّعَامِ فَجَعَلَ أَبُو سَلَمَةَ يَمْقُلُهُ بِأُصْبُعِهِ فِيهِ فَقُلْتُ يَا خَالُ مَا تَصْنَعُ فَقَالَ إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَحَدَ جَنَاحَيْ الذُّبَابِ سُمٌّ وَالْآخَرَ شِفَاءٌ فَإِذَا وَقَعَ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوهُ فَإِنَّهُ يُقَدِّمُ السُّمَّ وَيُؤَخِّرُ الشِّفَاءَ

سعید بن خالد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا، وہ ہمارے لئے مکھن اور کھجوروں کا گچھا لے کر آئے، اچانک کھانے میں ایک مکھی گر پڑی، انہوں نے اپنی انگلی سے اسے ڈبو دیا، میں نے ان سے کہا کہ ماموں ! یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائی ہے کہ مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں شفاء ہوتی ہے، اس لئے کھانے میں مکھی پڑ جائے تو اسے اچھی طرح اس میں ڈبو دو کیونکہ وہ زہر والے پر کو پہلے ڈالتی ہے اور شفاء والے پر کو پیچھے کر لیتی ہے۔

دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ فَأَتَانَا بِزُبْدٍ ← سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11666

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11705

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا وَالزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11705

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11835

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ وَهُمَا رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ وَكَانَا ثِقَةً عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ وَهُمَا مِنْ رَهْطِهِمَا وَكَانَا ثِقَةً عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنْ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنْ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ مِنْ التَّمْرِ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوۃ نہیں ہے ، پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم کھجور میں بھی زکوۃ نہیں ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عباد بن تميم وهما من رهطهما وكانا ثقة ← يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ ← هُمَا رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ وَكَانَا ثِقَةً ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11835

chevron_left Previous
1…282930…647
Next chevron_right