Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطب والصحة

Medicine & Health

12931 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10647

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَذْكُرُونَ الْكَمْأَةَ قَالُوا تُرَاهَا جُدَرِيَّ الْأَرْضِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَمْأَةُ مِنْ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ وَالْعَجْوَةُ مِنْ الْجَنَّةِ وَهِيَ شِفَاءٌ مِنْ السُّمِّ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو وہ اس درخت کے بارے اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے جو سطح زمین سے ابھرتا ہے اور اسے قرار نہیں ہوتا چنانچہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں وہ کھنبی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی تو من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجورہے اور زہر کی شفا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10647

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10819

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْبِذُوا التَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا وَلَا تَنْبِذُوا الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ عَلَى حِدَةٍ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کشمش اور کھجور کچی اور پکی کو ملا کر نبیذ مت بناؤ البتہ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بنا سکتے ہو۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10819

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10936

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ مِنْ وَلَدِ جَرِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُذْكَرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَلَدٍ لَهَا مَرِيضٍ يَدْعُو لَهُ بِالشِّفَاءِ وَالْعَافِيَةِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ مَاتَ لِي ثَلَاثَةٌ قَالَ فِي الْإِسْلَامِ قَالَتْ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ يَحْتَسِبُهُمْ إِلَّا احْتَظَرَ بِحَظِيرٍ مِنْ النَّارِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس (کی زندگی) کے لئے دعاء فرما دیجئے کہ میں اس سے پہلے اپنے تین بچے دفنا چکی ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پوچھا زمانہ اسلام میں؟ اس نے کہا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین نابالغ بچے زمانہ اسلام میں فوت ہوں، اس نے جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو خوب بچا لیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا زُرْعَةَ يُذْكَرُ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ مِنْ وَلَدِ جَرِيرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10936

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11004

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي أَخْبَرَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَرِّ أَنْ يُنْبَذَ فِيهِ وَعَنْ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَعَنْ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے میں نبیذ بنانے اور استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے اور کچی اور پکی کھجور، یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔

التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا» ← التَّمْرِ وَالْبُسْرِ ← الْجَرِّ أَنْ يُنْبَذَ فِيهِ، ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبُو نَضْرَةَ، ← أَبِي ← مُعْتَمِرٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11004

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11035

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرَةِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا وَالْمُحَاقَلَةُ كَرْيُ الْأَرْضِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، بیع مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ درختوں پر لگے ہوئے پھل کوئی کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر معاملہ کرنا اور محاقلہ کا مطلب زمین کو کرائے پر دینا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سُفْيَانَ ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← مَالِكٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ -هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ-

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11035

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11067

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعَيَّ قَالَ أَنْبَأَنَا مَالِكٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ وَالْمُحَاقَلَةُ اسْتِكْرَاءُ الْأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، بیع مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ درختوں پر لگے ہوئے پھل کو کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر معاملہ کرنا اور محاقلہ کا مطلب زمین کو کرائے پر دینا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سُفْيَانَ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← مَالِكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11067

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11081

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الْجَرِّ أَنْ يُنْبَذَ فِيهِ وَعَنْ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا وَعَنْ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے میں نبیذ بنانے اور استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے اور کچی اور پکی کھجور، یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔

الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا ← التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُخْلَطَ بَيْنَهُمَا» ← الْجَرِّ أَنْ يُنْبَذَ فِيهِ، ← النَّبِيِّ أَنَّهُ «نَهَى ← أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ← أَبُو نَضْرَةَ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11081

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11091

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ قَالَ سَأُخْبِرُكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْهُ جَاءَهُ صَاحِبُ تَمْرِهِ بِتَمْرٍ طَيِّبٍ وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ اللَّوْنُ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا التَّمْرُ الطَّيِّبُ قَالَ ذَهَبْتُ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا وَاشْتَرَيْتُ بِهِ صَاعًا مِنْ هَذَا قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَيْتَ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَرْبَى أَمْ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ

ابونضرہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے کی سونے کے بدلے اور چاندی کی چاندی کے بدلے بیع کے بارے میں کچھ سناہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے تمہیں بتائے دیتا ہوں ایک مرتبہ کجھور والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ عمدہ کھجوریں لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کھجوروں کا نام " لون " تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سودی معاملہ کیا پھر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کجھور کے معاملے میں سود کا پہلو زیادہ ہوگا یا سونا اور چاندی کے معاملے میں ؟

أَبُو سَعِيدٍ فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَرْبَى أَمْ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ← ثُمَّ ← فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ أَرْبَيْتَ ← ذَهَبْتُ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا وَاشْتَرَيْتُ بِهِ صَاعًا مِنْ هَذَا ← فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا التَّمْرُ الطَّيِّبُ ← مِنْهُ جَاءَهُ صَاحِبُ تَمْرِهِ بِتَمْرٍ طَيِّبٍ وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ يُقَالُ لَهُ اللَّوْنُ ← سَأُخْبِرُكُمْ مَا ← قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فِي الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11091

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11096

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَكَّ الْأَعْمَشُ قَالَ لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا فَأَكَلْنَا وَادَّهَنَّا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْعَلُوا فَجَاءَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا قَلَّ الظَّهْرُ وَلَكِنْ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ثُمَّ ادْعُ لَهُمْ عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِطَعٍ فَبَسَطَهُ ثُمَّ دَعَاهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ الذُّرَةِ وَالْآخَرُ بِكَفِّ التَّمْرِ وَالْآخَرُ بِالْكِسْرَةِ حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطْعِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ يَسِيرٌ ثُمَّ دَعَا عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ قَالَ فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ حَتَّى مَا تَرَكُوا مِنْ الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ وَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَتْ مِنْهُ فَضْلَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهَا عَبْدٌ غَيْرُ شَاكٍّ فَتُحْجَبَ عَنْهُ الْجَنَّةُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ یا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں تشریف لے گئے، وہاں مسلمانوں کو بھوک نے ستایا اور انہیں کھانے کی شدید حاجت نے آگھیرا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت مانگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تو سواریاں کم پڑ جائیں گی، آپ ان سے ان کے پاس متفرق طور پر جو چیزیں موجود ہیں ، وہ منگوا لیجئے اور اللہ سے اس میں برکت کی دعا فرما لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے کو قبول کرلیا اور متفرق چیزیں جو توشے میں موجود تھیں ، منگوالیں ۔ چنانچہ کوئی شخص ایک مٹھی بھر جو لایا، کوئی مٹھی بھر ٹکڑے، جب دسترخوان پر کچھ چیزیں جمع ہوگئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے اس میں برکت کی دعاء کی اور فرمایا کہ اپنے اپنے برتن لے کر آؤ، سب کے برتن بھر گئے اور سب لوگوں نے خوب سیر ہو کر کھایا، اور بہت سی مقدار بچ بھی گئی، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، اور یہ کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، اور جو شخص ان دونوں گواہیوں کے ساتھ اللہ سے ملے گا اور اسے ان میں کوئی شک نہ ہوا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ، فَقَالُوا: ← أبي هريرة شك الأعمش ← أَبِي سَعِيدٍ أَوْ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11096

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11317

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْوَدَّاكِ وَقَالَ حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ يَقُولُ لَا أَشْرَبُ نَبِيذًا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ نَشْوَانَ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَشْرَبْ خَمْرًا إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا فِي دُبَّاءَةٍ قَالَ فَأَمَرَ بِهِ فَنُهِزَ بِالْأَيْدِي وَخُفِقَ بِالنِّعَالِ وَنَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَنَهَى عَنْ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ يَعْنِي أَنْ يُخْلَطَا

ابن وداک رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے جب حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے، میں نے عہد کرلیا کہ نبیذ نہیں پیوں گا، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نشے کی حالت میں ایک نوجوان کو لایا گیا، اس نے کہا کہ میں نے شراب نہیں پی بلکہ ایک مٹکے میں رکھی ہوئی کشمش اور کھجور کا پانی پیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے ہاتھوں اور جوتوں سے مارا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمادیا۔

الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ يَعْنِي أَنْ يُخْلَطَا ← الدُّبَّاءِ وَنَهَى ← فَأَمَرَ بِهِ فَنُهِزَ بِالْأَيْدِي وَخُفِقَ بِالنِّعَالِ وَنَهَى ← إِنِّي لَمْ أَشْرَبْ خَمْرًا إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا فِي دُبَّاءَةٍ ← أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ بِرَجُلٍ نَشْوَانَ ← أَبَا سَعِيدٍ ← لاَ أَشْرَبُ نَبِيذًا بَعْدَ مَا ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← حجاج، ← ابْنَ الْوَدَّاكِ ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11317

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11432

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ وَكَانَ تَمْرُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرًا بَعْلًا فِيهِ يَبْسٌ فَقَالَ أَنَّى لَكُمْ هَذَا التَّمْرُ فَقَالُوا هَذَا تَمْرٌ ابْتَعْنَا صَاعًا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْلُحُ ذَلِكَ وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ ثُمَّ ابْتَعْ حَاجَتَكَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریان کھجوریں پیش کی گئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں خشک " بعل " کھجوریں آتی تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے، صحیح طریقہ یہ ہے کہ تم اپنی کھجوریں بیچ دو، اس کے بعد اپنی ضرورت کی کھجوریں خرید لو۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11432

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11438

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ قَالَ لَا أَشْرَبُ نَبِيذًا بَعْدَمَا سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ جِيءَ بِرَجُلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالُوا إِنَّهُ نَشْوَانُ فَقَالَ إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا فِي دُبَّاءَةٍ قَالَ فَخُفِقَ بِالنِّعَالِ وَنُهِزَ بِالْأَيْدِي وَنَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا

ابن دواک رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے جب سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے، میں نے عہد کرلیا ہے کہ نبیذ نہیں پیوں گا، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نشے کی حالت میں ایک نوجوان کو لایا گیا، اس نے کہا کہ میں نے شراب نہیں پی بلکہ ایک مٹکے میں رکھی ہوئی کشمش اور کھجور کا پانی پیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے ہاتھوں اور جوتوں سے مارا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے اور کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرما دیا ہے۔

الدُّبَّاءِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا ← فَخُفِقَ بِالنِّعَالِ وَنُهِزَ بِالْأَيْدِي وَنَهَى ← إِنَّهُ نَشْوَانُ فَقَالَ إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِيبًا وَتَمْرًا فِي دُبَّاءَةٍ ← جِيءَ بِرَجُلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← لَا أَشْرَبُ نَبِيذًا بَعْدَمَا ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11438

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11473

حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَمْأَةُ مِنْ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ وَالْعَجْوَةُ مِنْ الْجَنَّةِ وَهِيَ شِفَاءٌ مِنْ السُّمِّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی بھی " من " کا ایک جزو ہے، اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے باعث شفاء ہے اور عجوہ جنت کی کھجور ہے اور وہ زہر سے بھی شفاء دے دیتی ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11473

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11484

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

خليط البسر والتمر والزبيب والتمر ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11484

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11486

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ سَوَاءً بِسَوَاءٍ مَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے برابر سرابر بیچا خریدا جائے، جو شخص اس میں اضافہ کرے یا اضافے کا مطالبہ کرے، وہ سودی معاملہ کرتا ہے اور اس میں لینے والا اور دینے والا دونوں برابر ہیں۔

لَا وَاللَّهِ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّبِيِّ غَيْرُ أَبِي سَعِيدٍ ← لَهُ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ النَّبِيِّ غَيْرُ أَبِي سَعِيدٍ ← النَّبِيِّ ← أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ← أَبُو الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِيُّ ← سليمان بن علي ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11486

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11576

حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَنْبَأَنِي أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ صَاحِبَ التَّمْرِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ فَأَنْكَرَهَا فَقَالَ أَنَّى لَكَ هَذَا قَالَ اشْتَرَيْنَا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا صَاعًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَيْتُمْ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک کھجور والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سا معاملہ لگا، اس لئے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سودی معاملہ کیا۔

رَسُولُ اللَّهِ أَرْبَيْتُمْ ← اشْتَرَيْنَا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا صَاعًا ← أَنَّى لَكَ هَذَا ← أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ صَاحِبَ التَّمْرِ أَتَى رَسُولَ اللهِ بِتَمْرَةٍ فَأَنْكَرَهَا، ← أَبُو نَضْرَةَ، ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11576

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11580

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي أَرْطَاةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي أَرْطَاةَ ← حَبِيبٍ ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11580

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11598

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرَةِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا وَالْمُحَاقَلَةُ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے، بیع مزابنہ سے مراد یہ ہے کہ درختوں پر لگے ہوئے پھل کو کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر معاملہ کرنا اور محاقلہ کا مطلب زمین کو کرائے پر دینا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سُفْيَانَ ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11598

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11620

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ وَمُعَاوِيَةُ قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَعَنْ الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ فَقُلْتُ لِسُلَيْمَانَ أَنْ يُنْبَذَا جَمِيعًا قَالَ نَعَمْ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی کھجور ، یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔

نَعَمْ ← التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَعَنْ الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ فَقُلْتُ لِسُلَيْمَانَ أَنْ يُنْبَذَا جَمِيعًا ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ← الْاَعْمَشِ ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو سَعِيدٍ وَمُعَاوِيَةُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11620

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14289

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرٌ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُنْبَذَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کی کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُنْبَذَا ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14289

chevron_left Previous
1…252627…647
Next chevron_right