Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الزهد والورع

Zuhd & Taqwa

46810 hadiths

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2553

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ أَبِي عَوْفٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هِنْدٍ الْبَجَلِيِّ وَكَانَ مِنْ السَّلَفِ قَالَ تَذَاكَرُوا الْهِجْرَةَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ ثَلَاثًا وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا

ابوہندبجلی بیان کرتے ہیں لوگوں نے حضرت معاویہ کی موجودگی میں ہجرت کا مسئلہ چھیڑ دیا اور وہ اس وقت اپنے پلنگ پر آرام فرما رہے تھے انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے ہجرت اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک توبہ ختم نہیں ہوگی۔ (یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا) توبہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب کی جانب سے طلوع نہیں ہوگا۔

النَّبِيِّ ← تَذَاكَرُوا الْهِجْرَةَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ ← أَبِي هِنْدٍ الْبَجَلِيِّ وَكَانَ مِنْ السَّلَفِ ← ابْنِ أَبِي عَوْفٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ← حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2553

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2619

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ قَامَ نَاسٌ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ يَبِيعُونَ آنِيَةَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إِلَى الْعَطَاءِ فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ فَمَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى

ابواشعث صنعانی بیان کرتے ہیں حضرت معاویہ کے عہد حکومت میں کچھ لوگوں نے تنخواہ کے عوض میں سونے اور چاندی کے برتن فروخت کئے تو حضرت عبادہ بن صامت کھڑے ہوئے اور فرمایا بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے عوض میں سونے اور چاندی کے عوض میں چاندی کو اور گندم کے عوض میں گندم اور کھجوروں کے عوض میں کھجور اور جو کے عوض میں جو اور نمک کے عوض میں نمک کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے البتہ انہیں برابر فروخت کیا جاسکتا ہے جبکہ یہ دونوں ایک جیسے ہوں جب کوئی شخص ان میں کوئی اضافہ کرے گا یا کرو ائے گا تو وہ سودی لین دین ہوگا۔

أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← خَالِدٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2619

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2698

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ لَمَّا كَانَ بِأَخَرَةٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ فَأَرَادَ أَنْ يَقُومَ قَالَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتَقُولُ الْآنَ كَلَامًا مَا كُنْتَ تَقُولُهُ فِيمَا خَلَا فَقَالَ هَذَا كَفَّارَةٌ لِمَا يَكُونُ فِي الْمَجَالِسِ

حضرت ابوبرزہ اسلمی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کے آخری حصے میں جب آپ کسی محفل میں تشریف فرما ہوتے اور جب اٹھنے لگتے تو یہ دعا پڑھتے۔ تو پاک ہے اے اللہ اور ہم تیرے ہی لئے ہیں اور میں یہ گواہی دیتاہوں کہ تیرے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ نے آج وہ بات کہہ دی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس محفل میں جو کچھ بھی ہوا یہ اس کا کفارہ ہے۔

أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ ← رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ، ← أَبِي هَاشِمٍ ← حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2698

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2706

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ وَمَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْكُوفَةِ قَالَ أَتَيْنَا قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي بَيْتِهِ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنِ لِلصَّلَاةِ وَقُلْنَا لِقَيْسٍ قُمْ فَصَلِّ لَنَا فَقَالَ لَمْ أَكُنْ لِأُصَلِّيَ بِقَوْمٍ لَسْتُ عَلَيْهِمْ بِأَمِيرٍ فَقَالَ رَجُلٌ لَيْسَ بِدُونِهِ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَنْظَلَةَ بْنِ الْغَسِيلِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ وَصَدْرِ فِرَاشِهِ وَأَنْ يَؤُمَّ فِي رَحْلِهِ قَالَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عِنْدَ ذَاكَ يَا فُلَانُ لِمَوْلًى لَهُ قُمْ فَصَلِّ لَهُمْ

حضرت عبداللہ بن یزید خطمی بیان کرتے ہیں وہ کوفہ کے امیر تھے ایک مرتبہ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ ہمارے ہاں تشریف لائے مؤذن نے نماز کے لئے اذان دی ہم نے حضرت قیس سے کہا آپ اٹھیں اور ہمیں نماز پڑھائیں انہوں نے فرمایا میں ایسے لوگوں کو نماز نہیں پڑھاؤں گا جن کا میں امیر نہیں ہوں اور ایک صاحب بولے جن کا نام حضرت عبداللہ بن حنظلہ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آدمی اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا اور اپنے بچھونے پر درمیان میں بیٹھنے کا اور اپنی رہائش گاہ پرامامت کرنے کا زیادہ حق دار ہے تو حضرت قیس نے اپنے ایک غلام سے کہا اے فلاں تم اٹھو اور ان لوگوں کو نماز پڑھاؤ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْكُوفَةِ ← الْمُسَيَّبُ بْنُ رَافِعٍ، وَمَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، ← إِسْحَقَ بْنِ يَحْيَی بْنِ طَلْحَةَ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2706

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2711

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي كَعْبٍ أَبُو الْحَسَنِ الْعَبْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ مَيْسَرَةَ الْعَبْدِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ السَّفَرَ فَقَالَ لَهُ مَتَى قَالَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ فَأَتَاهُ فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَقَالَ لَهُ فِي حِفْظِ اللَّهِ وَفِي كَنَفِهِ زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى وَغَفَرَ لَكَ ذَنْبَكَ وَوَجَّهَكَ لِلْخَيْرِ أَيْنَمَا تَوَخَّيْتَ أَوْ أَيْنَمَا تَوَجَّهْتَ شَكَّ سَعِيدٌ فِي إِحْدَى الْكَلِمَتَيْنِ

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ میں سفر پر جانا چاہتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کب اس نے کہا اگر اللہ نے چاہا توکل ۔ راوی بیان کرتے ہیں آپ اس کے پاس تشریف لائے آپ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس سے کہا تم اللہ کی حفظ وامان میں رہو اللہ تمہیں تقوی کا زاد راہ عطا کریں تمہارے گناہوں کو بخش دے تم جہاں بھی جاؤ تمہارا بھلائی سے سامناہو۔ اس حدیث کے ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے۔

فَأَتَاهُ فَأَخَذَ بِيَدِهِ ← غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ← لَهُ مَتَى ← لَهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ السَّفَرَ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُوسَى بْنُ مَيْسَرَةَ الْعَبْدِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي كَعْبٍ أَبُو الْحَسَنِ الْعَبْدِيُّ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2711

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2713

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ كَبَّرَ ثَلَاثًا وَيَقُولُ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِي سَفَرِي هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنْ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ وَاطْوِ لَنَا بُعْدَ الْأَرْضِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا بِخَيْرٍ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے اور اپنی سواری پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ تکبیر کہتے اور یہ دعا پڑھتے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے جانوروں کو مسخر کیا ہے ہم تو اس پر قابو نہیں پاسکتے تھے اور بے شک ہم نے اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جاناہے۔ اے اللہ میں اپنے سفر کے بارے میں تجھ سے نیکی اور تقوی کا سوال کرتا ہوں اور ایسے عمل سوال کرتا ہوں جس سے تو راضی ہوجائے اے اللہ ہمارے لئے اس سفر کو آسان کردے اور ہمارے لئے زمین کے فاصلے کوسمیٹ دے۔ اے اللہ سفر کے دوران تو ہی میرا ساتھی ہے اور میرے اہل خانہ میں تو ہی خیال رکھنے والاہے اے اللہ اس سفر میں تو ہمارے ساتھ رہنا اور ہمارے اہل خانہ میں بھلائی رکھنا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2713

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2728

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ وَكَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ وَدِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَمِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًا

حضرت عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابزی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کرتے تو یہ دعا پڑھتے ہم اسلام پر اعتقاد رکھتے ہوئے صبح کرتے ہیں اور اخلاص کے کلمہ پر اعتقاد رکھتے ہوئے صبح کرتے ہیں اور اپنے نبی کے دین پر صبح کرتے ہیں اور اپنے جد امجد حضرت ابراہیم کے مذہب پر صبح کرتے ہیں جو سیدھے راستے پر چلنے والے سچے مسلمان تھے۔

كَانَ النَّبِيُّ إِذَا أَصْبَحَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2728

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2749

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ لِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُتْبِعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ الْأُولَى لَكَ وَالْآخِرَةَ عَلَيْكَ

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نامحرم چیز کی طرف پہلی نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو کیونکہ پہلی کی تمہیں اجازت ہے لیکن دوسری کا تمہیں گناہ ہوگا۔

لِي ← عَلِيٍّ، ← سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الطُّفَيْلِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2749

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2758

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوَلَةَ عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْفِي أَحَدَكُمْ مِنْ الدُّنْيَا خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ

حضرت بریدۃ اسلمی روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی بھی شخص کے لئے دنیا میں اتناہی کافی ہے کہ ایک خادم ہو اور ایک سواری ہو۔

بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوَلَةَ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2758

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2764

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ سَلْمِ بْنِ قُتَيْبَةَ عَنْ سُهَيْلٍ الْقُطَعِيِّ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ قَالَ قَالَ رَبُّكُمْ أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى فَمَنْ اتَّقَانِي فَأَنَا أَهْلٌ أَنْ أَغْفِرَ لَهُ

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی۔ وہی تقوی والے ہیں اور وہی مغفرت والے ہیں ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہمارا پروردگار ارشاد فرماتا ہے میں سب سے زیادہ اس بات کا حق دارہوں کہ مجھ سے ڈراجائے جو شخص مجھ سے ڈرے گا تو میں اس بات کا زیادہ حق دار ہوں کہ میں اس کو بخش دوں۔

أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى فَمَنْ اتَّقَانِي فَأَنَا أَهْلٌ أَنْ أَغْفِرَ لَهُ ← رَبُّكُمْ ← النَّبِيِّ أَنَّهُ قَرَأَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُهَيْلٍ الْقُطَعِيِّ ← سَلمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2764

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2768

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ النُّعْمَانِ هُوَ ابْنُ بَشِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَافَرَ رَجُلٌ فِي أَرْضٍ تَنُوفَةٍ فَقَالَ تَحْتَ شَجَرَةٍ وَمَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ رَاحِلَتُهُ فَعَلَا شَرَفًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ عَلَا شَرَفًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ عَلَا شَرَفًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا قَالَ فَالْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِهَا تَجُرُّ خِطَامَهَا فَمَا هُوَ بِأَشَدَّ فَرَحًا بِهَا مِنْ اللَّهِ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ إِذَا تَابَ إِلَيْهِ

حضرت نعمان بن بشیر کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے ایک مرتبہ ایک شخص ایک بے آب وگیاہ جگہ پر سفر کر رہا تھا وہ دوپہر کے وقت ایک درخت کے نیچے سوگیا اس کے ساتھ اس کی سواری تھی جس پر اس کا سامان اور کھانے پینے کی چیزیں تھی جب وہ شخص بیدار ہوا تو اس کی سواری کہیں جاچکی تھی اس نے ادھر ادھر تلاش کی لیکن اسے کچھ نہیں ملا اس نے پھر تلاش کیا لیکن نہیں ملی ۔ پھر تلاش کیا لیکن نہیں ملی۔ پھر اس نے جب توجہ کی تو سواری وہاں موجود تھی اس نے اس کی لگام کو پکڑا تو وہ شخص جتناخوش ہواہے اللہ کا بندہ جب اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔

النُّعْمَانِ هُوَ ابْنُ بَشِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2768

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2777

أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَخْلَةٍ جَرْبَاءَ قَدْ أَخْرَجَهَا أَهْلُهَا قَالَ تُرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا قَالُوا نَعَمْ قَالَ وَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ایک خارش زدہ بکری کے پاس سے گزرے جس کو اس کے مالک نے باہر پھینک دیا تھا نے دریافت کیا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اس کے مالک کے نزدیک اس کی کوئی حثییت نہیں ہے لوگوں نے عرض کی جی ہاں نے فرمایا اللہ کی قسم یہ اپنے مالک کے نزدیک جتنی بے حثییت ہے دنیا اللہ کی نزدیک اس سے زیادہ کہیں بے حثییت ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْمُهَزِّمِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حجاج،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2777

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2804

أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ الرُّكَيْنِ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ شَرِيكٌ وَرُبَّمَا قَالَ النُّعْمَانِ بْنِ حَنْظَلَةَ عَنْ عَمَّارٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ ذَا وَجْهَيْنِ فِي الدُّنْيَا كَانَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِسَانَانِ مِنْ نَارٍ

حضرت عمار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص دنیا میں دوغلا ہوگا تو قیامت کے دن اس کے لئے جہنم کی دو زبانیں ہوں گی۔

النَّبِيِّ ← عَمَّارٍ ← النُّعْمَانِ بْنِ حَنْظَلَةَ ← شَرِيكٌ وَرُبَّمَا ← نُعَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ ← الرُّکَيْنَ ← شَرِيکٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2804

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2860

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنْ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ الْآيَةَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جنت میں ایک لکڑی کی جگہ دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہے اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ سکتے ہو۔ ہر شخص نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور تمہیں قیامت کے دن پورا اجر دیا جائے گا جس شخص کو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ شخص کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی چیز ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2860

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3143

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ رَجُلٍ قَالَ عِنْدَ فِرَاقِ الدُّنْيَا أَنَا مَوْلَى فُلَانٍ قَالَ يَرِثُ مِيرَاثَهُ لِمَنْ سَمَّى أَنَّهُ مَوْلَاهُ عِنْدَ فِرَاقِ الدُّنْيَا إِلَّا أَنْ يَأْتُوا عَلَيْهِ بِبَيِّنَةٍ بِغَيْرِ ذَلِكَ يَرُدُّونَ بِهِ قَوْلَهُ فَيُرَدُّ مِيرَاثُهُ إِلَى مَا قَامَتْ بِهِ الْبَيِّنَةُ

ابن شہاب بیان کرتے ہیں ایک شخص دنیا سے رخصت ہوتے وقت یہ بیان کردیتا ہے کہ میں فلاں شخص کا آزاد کردہ غلام ہوں تو اس کی وراثت اسی شخص کو ملے گی جسے اس نے اپنا آزاد کرنے والا آقا کہا ہے دنیا سے رخصت ہوتے وقت۔ البتہ اگر دوسرے لوگ ثبوت کے ذریعے یہ بات ثابت کردیں کہ معاملہ مختلف ہے تو اس شخص کا اعتراف مسترد کردیا جائے گا اور وراثت ان لوگوں کو ملے گی جن کا حق ثبوت کے ذریعے ثابت ہوا ہے۔

مَوْلَى فُلَانٍ ← عِنْدَ فِرَاقِ الدُّنْيَا ← رَجُلٌ: ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3143

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3300

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ لَا يَجُوزُ إِقْرَارٌ لِوَارِثٍ قَالَ و قَالَ الْحَسَنُ أَحَقُّ مَا جَازَ عَلَيْهِ عِنْدَ مَوْتِهِ أَوَّلَ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الْآخِرَةِ وَآخِرَ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا

شریح بیان کرتے ہیں وارث کے حق میں اقرار کرنا درست نہیں ہے۔ حسن فرماتے ہیں مرتے وقت جو آخرت کی زندگی کا پہلا دن ہے اور دنیا کی زندگی کا آخری دن ہے اس قت کی کہی ہوئی بات پوری کرنا زیادہ حق رکھتی ہے۔

و، ← لا يجوز إقرار لوارث ← شُرَيْحٍ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← مُّسْلِمٍ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3300

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3372

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ عَمِّي إِيَاسَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ أَخَذَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِيَدِي ثُمَّ قَالَ إِنَّكَ إِنْ بَقِيتَ سَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةُ أَصْنَافٍ فَصِنْفٌ لِلَّهِ وَصِنْفٌ لِلْجِدَالِ وَصِنْفٌ لِلدُّنْيَا وَمَنْ طَلَبَ بِهِ أَدْرَكَ

ایاس بن عامر بیان کرتے ہیں حضرت علی بن ابوطالب نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اگر زندہ رہے تو عنقریب دیکھو گے کہ قرآن تین وجہ سے پڑھا جائے گا ایک صورت اللہ کے لئے ہوگی ایک بحث کے لئے ہوگی اور ایک دنیا کے لئے ہوگی جس مقصد کے لئے پڑھے گا وہ اسے پالے گا۔

أَخَذَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِيَدِي ثُمَّ ← عَمِّي إِيَاسَ بْنَ عَامِرٍ ← مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3372

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3423

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنِي أَيْفَعُ بْنُ عَبْدٍ الْكَلَاعِيُّ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ سُورَةِ الْقُرْآنِ أَعْظَمُ قَالَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَالَ فَأَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ قَالَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ قَالَ فَأَيُّ آيَةٍ يَا نَبِيَّ اللَّهِ تُحِبُّ أَنْ تُصِيبَكَ وَأُمَّتَكَ قَالَ خَاتِمَةُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَإِنَّهَا مِنْ خَزَائِنِ رَحْمَةِ اللَّهِ مِنْ تَحْتِ عَرْشِهِ أَعْطَاهَا هَذِهِ الْأُمَّةَ لَمْ تَتْرُكْ خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ

ایفع عبدالکلاعی بیان کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ قرآن کی کون سی سورت زیادہ عظمت والی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا قل ہو اللہ اس شخص نے عرض کی قرآن کی کون سی آیت عظمت والی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا آیت الکرسی اللہ لاالہ الاھوالحی القیوم اس شخص نے دریافت کیا اے اللہ کے نبی وہ کون سی آیت ہے جس کے بارے میں آپ یہ پسند کریں گے کہ آپ کی امت اسے پڑھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا سورت بقرہ کی آخری آیتیں کیونکہ یہ اللہ کی رحمت کے خزانوں میں سے ہیں جواسکے عرش کے نیچے ہیں اللہ نے یہ اس امت کو عطاکی ہیں دنیا اور آخرت کی کوئی بھلائی ایسی نہیں ہے جس پر مشتمل نہ ہوں۔

رَجُلٌ: ← أَيْفَعُ بْنُ عَبْدٍ الْكَلَاعِيُّ ← صَفْوَانُ؛ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3423

Sahih

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3434

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا بَشِيرٌ هُوَ ابْنُ الْمُهَاجِرِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ تَعَلَّمُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ تَعَلَّمُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا الزَّهْرَاوَانِ وَإِنَّهُمَا تُظِلَّانِ صَاحِبَهُمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ غَيَايَتَانِ أَوْ فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ وَإِنَّ الْقُرْآنَ يَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ فَيَقُولُ لَهُ هَلْ تَعْرِفُنِي فَيَقُولُ مَا أَعْرِفُكَ فَيَقُولُ أَنَا صَاحِبُكَ الْقُرْآنُ الَّذِي أَظْمَأْتُكَ فِي الْهَوَاجِرِ وَأَسْهَرْتُ لَيْلَكَ وَإِنَّ كُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَتِهِ وَإِنَّكَ الْيَوْمَ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تِجَارَةٍ فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ لَا يُقَوَّمُ لَهُمَا الدُّنْيَا فَيَقُولَانِ بِمَ كُسِينَا هَذَا وَيُقَالُ لَهُمَا بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ ثُمَّ يُقَالُ لَهُ اقْرَأْ وَاصْعَدْ فِي دَرَجِ الْجَنَّةِ وَغُرَفِهَا فَهُوَ فِي صُعُودٍ مَا دَامَ يَقْرَأُ هَذًّا كَانَ أَوْ تَرْتِيلًا

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میں بیٹھا ہوا تھا میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا سورت بقرہ کا علم حاصل کرو کیونکہ اس کو پڑھنا برکت ہے اور اسے چھوڑنا حسرت ہے اور جادوگر اس کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر آپ کچھ دیر کے لئے خاموش ہوگئے اور پھر ارشاد فرمایا سورت بقرہ اور آل عمران کا علم حاصل کرو یہ دونوں روشن چیزیں ہیں یہ دونوں قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں پر یوں سایہ کریں گی جیسے یہ دونوں بادل ہیں یا یہ دونوں سائبان ہیں یا یہ دونوں لائن میں چلنے والے پرندے ہیں اور قرآن قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے سے اس وقت ملاقات کرے گا جب اس کی قبر شق ہوگی وہ ایک خوف زدہ شخص کی مانند ہوگا قرآن اس سے کہے گا کیا تم مجھے پہچانتے ہو وہ شخص جواب دے گا میں تمہیں نہیں پہچانتا قرآن یہ کہے گا کہ میں تمہارا ساتھی قرآن ہوں۔ جسے تم پیاس کی حالت میں دوپہر کے وقت پڑھتے تھے اور رات کے وقت جاگ کر پڑھتے تھے ہر تجارت کرنے والے کی تجارت پیچھے رہ گئی آج تم ہر تجارت سے دور ہو پھر بادشاہی کی زندگی اس کے دائیں ہاتھ اور ہمیشہ کی زندگی اس کے بائیں ہاتھ پر دی جائے گی اور اس شخص کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا اس کے والدین کو ایسے جوڑے پہنائے جائیں گے جن کی قیمت پوری دنیا بھی نہیں ہوسکتی۔ وہ دونوں کہیں گے ہمیں یہ لباس کیوں پہنایا گیا ان سے کہا جائے گا کیونکہ تمہارے بچے نے قرآن کا علم حاصل کیا تھا پھر اس شخص سے کہا جائے گا تم قرآن پڑھنا شروع کردو اور جنت کے درجات اور بالاخانہ پر چڑھنا شروع کر دو جب تک وہ شخص قرآن پڑھتارہے گا لگاتار چڑھتا رہے گا خواہ تیزی سے پڑھے یا ہلکی رفتار سے پڑھے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← بَشِيرٌ هُوَ ابْنُ الْمُهَاجِرِ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3434

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3502

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَةَ آيَةٍ لَمْ يُحَاجَّهُ الْقُرْآنُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَتَيْ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ خَمْسَ مِائَةِ آيَةٍ إِلَى الْأَلْفِ أَصْبَحَ وَلَهُ قِنْطَارٌ فِي الْآخِرَةِ قَالُوا وَمَا الْقِنْطَارُ قَالَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا

حضرت حسن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص رات کے وقت ایک سو آیات پڑھتا ہے اور اس رات قرآن کے ساتھ بحث نہیں کرتا اور جو شخص رات کے وقت دو سو آیات پڑھتا ہے اس کے لئے رات بھر عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے اور جو شخص پانچ سو سے لے کر ایک ہزار تک آیات پڑھتا ہے اس کو آخرت میں ایک قنطار نصیب ہوگا۔ لوگوں نے دریافت کیا قنطار سے آپ کی کیا مراد ہے آپ نے جواب دیا بارہ ہزار دینار۔

الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3502

chevron_left Previous
1…484950…2,341
Next chevron_right