Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الزهد والورع

Zuhd & Taqwa

46810 hadiths

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1523

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أُمِّ صُبَيَّةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ هَبَطَ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَلَمْ يَزَلْ هُنَالِكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ يَقُولُ قَائِلٌ أَلَا سَائِلٌ يُعْطَى أَلَا دَاعٍ يُجَابُ أَلَا سَقِيمٌ يَسْتَشْفِي فَيُشْفَى أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرَ لَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا خیال نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور عشاء کی نماز کو تہائی رات تک موخر کردیتا کیونکہ جب تہائی رات گزرجاتی ہے تو اللہ آسمان دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور صبح صادق ہونے تک اسی عالم میں رہتا ہے اور یہ فرماتا ہے کہ کیا کوئی مانگنے والا ہے جو اسے عطا کیا جائے کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ اسے قبول کیا جائے کیا کوئی بیمار ہے جو شفا چاہتا ہو اسے شفا عطا کی جائے کیا کوئی گناہ گار ہے جو مغفرت طلب کرے اور اس کی مغفرت کردی جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، مَوْلَى أُمِّ صُبَيَّةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← ابْنِ إِسْحَقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1523

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1616

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ الْقُرَشِيَّ ثُمَّ الْجُمَحِيَّ أَخْبَرَهُ وَكَانَ يَسْكُنُ بِالشَّامِ وَكَانَ أَدْرَكَ مُعَاوِيَةَ أَنَّ الْمُخْدَجِيَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ فَرَاحَ الْمُخْدَجِيُّ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ عُبَادَةُ كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ مَنْ أَتَى بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْ حَقِّهِنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ جَاءَ وَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ

ابن محیریز شام کے رہنے والے ہیں اور انہوں نے حضرت امیر معاویہ کی خدمت میں حاضری دی ہے وہ بیان کرتے ہیں بنوکنانہ سے تعلق رکھنے والے مخدجی نامی ایک شخص نے انہیں بتایا کہ شام میں موجود ایک صاحب جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ان کی کنیت ابومحمد ہے انہوں نے اس شخص کو بتایا ہے کہ وتر کی نماز واجب ہے پھر وہ مخدجی حضرت عبادہ بن صامت کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کا تذکرہ ان سے کیا تو حضرت عبادہ نے فرمایا ابومحمد نے غلط بیانی کی ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں جو انہیں ادا کرلے گا اور ان کے حق میں کسی چیز کو بھی کم تر سمجھتے ہوئے ضائع نہیں کرے گا تو اللہ کے ہاں اس کے لئے عہد ہے کہ اللہ اس کو جنت میں داخل کرے گا۔ اور جو شخص انہیں ادا نہیں کرے گا تو اللہ کی بارگاہ میں اس کے لئے کوئی عہد نہیں ہوگا۔ اگر اللہ تعالیٰ چا ہے گا تو اسے عذاب کا شکار کرے گا۔ اور اگر اللہ چا ہے گا تو اسے جنت میں داخل کردے گا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُبَادَةُ کَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ← ذَلِكَ لَهُ، ← أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ فَرَاحَ الْمُخْدَجِيُّ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ ← وَكَانَ يَسْكُنُ بِالشَّامِ وَكَانَ أَدْرَكَ مُعَاوِيَةَ أَنَّ الْمُخْدَجِيَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ ← أَنَّ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ الْقُرَشِيَّ ثُمَّ الْجُمَحِيَّ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1616

Sahih

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1620

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ صَلَاتُهُ مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِخَمْسٍ لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنْ الْخَمْسِ حَتَّى يَجْلِسَ فِي الْآخِرَةِ فَيُسَلِّمَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے نوافل میں تیرہ رکعات ادا کیا کرتے تھے جن میں سے پانچ وتر ہوتی تھیں اور ان پانچ رکعات کے دوران آپ بیٹھتے نہیں تھے بلکہ آخری رکعت میں بیٹھتے تھے اور پھر سلام پھیر دیتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1620

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1696

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ دُحَيْمٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمَّا رَضِيَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي وَأُسَاكِنَكَ وَأَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْزِي عَنْكَ الثُّلُثُ

حضرت عبدالرحمن بن ابولبابہ بیان کرتے ہیں حضرت ابولبابہ نے انہیں بتایا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے راضی ہوگئے تو انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ میری توبہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ میں اپنی قوم کے گھر سے علیحدگی اختیار کرتا ہوں اور آپ کے پاس سکونت اختیار کرتا ہوں اور اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے لئے صدقہ کرتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے لئے ایک تہائی (مال صدقہ کرنا) ہی کافی ہوگا۔

أَنَّهُ لَمَّا رَضِيَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ دُحَيْمٌ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1696

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1919

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ أَخْبِرْنِي عَشِيَّةَ رَدِفْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ فَعَلْتُمْ أَوْ صَنَعْتُمْ قَالَ جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمُعَرَّسِ فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ بَالَ وَمَا قَالَ أَهْرَاقَ الْمَاءَ ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالسَّابِغِ جِدًّا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ قَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَكَ قَالَ فَرَكِبَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ وَالنَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَصَلَّى ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ قَالَ قُلْتُ أَخْبِرْنِي كَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ قَالَ رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ فَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ

کریب بیان کرتے ہیں انہوں نے حضرت اسامہ بن زید سے سوال کیا کہ جب آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سواری پر سوار تھے تو اس شام آپ نے کیا کیا۔ مجھے اس بارے میں بتائیں حضرت اسامہ نے جواب دیا جب ہم اس گھاٹی میں آئے جہاں لوگ رات کے وقت اونٹ بٹھاتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں اونٹنی کو بٹھایا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا (راوی کہتے ہیں انہوں نے) یہ نہیں کہا کہ پانی دو پھر آپ نے وضو کے لئے پانی منگوایا اور وضو کیا لیکن اس میں اسباغ نہیں کیا پھر میں نے عرض کی یا رسول اللہ نماز۔ آپ نے فرمایا نماز آگے چل کر پڑھیں گے حضرت اسامہ بیان کرتے ہیں پھر آپ سوار ہوئے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ آگئے۔ آپ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر آپ نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا لوگ اپنے اپنے پڑاؤ کی جگہ پر تھے لوگوں نے اس وقت تک احرام نہ کھولا جب تک عشاء کی نماز ادانہ کرلی۔ اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھا دی تو پھر لوگوں نے اپنا اپنا احرام کھول دیا۔ کریب بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی مجھے یہ بتائیں اگلے دن آپ نے صبح کیا کیا تو حضرت اسامہ نے جواب دیا اس وقت حضرت فضل بن عباس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے میں قریش کے چند لوگوں کے ساتھ پیدل آگے چلا گیا تھا۔

عَشِيَّةَ رَدِفْتَ النَّبِيَّ كَيْفَ فَعَلْتُمْ أَوْ صَنَعْتُمْ ← كُرَيْبٌ أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1919

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2131

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا حُرِمَهَا فِي الْآخِرَةِ فَلَمْ يُسْقَهَا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں شراب پیے اور پھر اس سے توبہ نہ کرے وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا اسے وہ نہیں پلائی جائے گی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Sunan Darmi · From the book of drinks › Door · Hadith 2131

Sahih

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2171

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ خَرَجْنَا مَعَ حُذَيْفَةَ إِلَى الْمَدَائِنِ فَاسْتَسْقَى فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَرَمَى بِهِ وَجْهَهُ فَقُلْنَا اسْكُتُوا فَإِنَّا إِنْ سَأَلْنَاهُ لَمْ يُحَدِّثْنَا فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ قَالَ أَتَدْرُونَ لِمَ رَمَيْتُهُ قُلْنَا لَا قَالَ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُهُ وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَقَالَ هُمَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ

حضرت عبدالرحمن بن ابویعلی بیان کرتے ہیں ہم حضرت حذیفہ کے ہمراہ مدائن گئے تو حضرت حذیفہ نے پانی مانگا ایک رئیس چاندی کے برتن میں پانی لایا حضرت حذیفہ نے اسے پھینک دیا اور اس کے منہ پر تھپڑ رسید کیا ہم نے ایک دوسرے سے کہا ابھی خاموش رہو کیونکہ ہم نے ابھی سوال کیا تو یہ ہمیں حدیث نہیں سنائیں گے تو بعد میں حضرت حذیفہ نے دریافت کیا کیا تمہیں پتہ ہے میں نے اسے کیوں مارا ہے ہم نے عرض کی نہیں انہوں نے فرمایا میں نے اس بات سے منع کیا تھا پھر حضرت حذیفہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کی کہ آپ نے چاندی اور سونے کے برتن سے پینے سے اور ریشم اور دبیاج پہننے سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے یہ کفار کے لئے دنیا میں ہے اور تمہارے لئے آخرت میں ہے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the book of drinks › Door · Hadith 2171

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2177

أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَوْلُ اللَّهِ لَهُمْ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَقَالَ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ أَوْ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي قَالَ هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ

حضرت ابوقتادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ان لوگوں کے لئے دنیا میں خوشخبری ہے (اس کا مفہوم کیا ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا تم نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے جس کے بارے میں تم سے پہلے کسی نے سوال نہیں کیا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یا میری امت میں سے کسی نے سوال نہیں کیا آپ نے ارشاد فرمایا یہ نیک خواب ہیں جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یا جو اسے دکھائے جاتے ہیں۔

هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ. ← شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ أَوْ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي ← سَأَلْتَنِي ← قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَوْلُ اللَّهِ لَهُمْ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← أَبَانُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the Book of Roya › Door · Hadith 2177

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2241

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا لَا تُغَالُوا فِي صُدُقِ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ كَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَصْدَقَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَلَا أُصْدِقَتْ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ فَوْقَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً أَلَا وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُغَالِي بِصَدَاقِ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَبْقَى لَهَا فِي نَفْسِهِ عَدَاوَةٌ حَتَّى يَقُولَ كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ أَوْ عَرَقَ الْقِرْبَةِ

ابوعجفاء بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب کو خطبہ دیتے ہوئے سنا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا خبردار خواتین کے مہر میں غیرضروری اضافہ نہ کرو کیونکہ اگر یہ چیز دنیا میں عزت کانشان ہوتی یا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پرہیز گاری کانشان ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کے سب سے زیادہ حق دار تھے آپ نے اپنی ازواج میں کسی خاتون کا یاصاحبزادیوں میں کسی کامہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں رکھا خبردار کوئی شخص بیوی کو مہر تو زیادہ دے دیتا ہے لیکن دل میں اس عورت کے لئے عداوت باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ سوچتا ہے تمہاری وجہ سے مجھے بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ← أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِي ← ابْنِ سِيرِينَ، ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2241

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2268

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ عَنْ الْمُغِيرَةِ قَالَ بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ يَقُولُ لَوْ وَجَدْتُ مَعَهَا رَجُلًا لَضَرَبْتُهَا بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفَحٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ أَنَا أَغَيْرُ مِنْ سَعْدٍ وَاللَّهُ أَغَيْرُ مِنِّي وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا شَخْصَ أَغَيْرُ مِنْ اللَّهِ وَلَا أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ الْمَعَاذِرِ وَلِذَلِكَ بَعَثَ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ وَلِذَلِكَ وَعَدَ الْجَنَّةَ

حضرت مغیرہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا پتا چلا کہ حضرت سعد بن عبادہ یہ کہتے ہیں کہ اگر میں اپنی بیوی کے ہمراہ کسی شخص کو پاؤں تو اس عورت کو اپنی تلوار سے قتل کردوں اور کوئی درگزر نہ کروں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگوں کو کیا سعد کی غیرت پر حیرت ہورہی ہے میں سعد سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت والاہے اسی لئے اس نے ظاہری اور خفیہ ہرطرح کے فحش کاموں کو حرام قرار دیاہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیرت والانہیں ہے اور نہ ہی اس کے نزدیک عذر سے زیادہ کوئی اور چیز محبوب ہے اس لئے اس نے انبیاء کو خوشخبری سنانےوالا اور ڈرانے والابناکرمبعوث کیا ہے اور اللہ سے زیادہ کسی بھی شخص کو اپنی تعریف پسند نہیں ہے اسی لئے اس نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔

رَسُولُ اللَّهِ أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ ← لَوْ وَجَدْتُ مَعَهَا رَجُلًا لَضَرَبْتُهَا بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفَحٍ ← بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ← الْمُغِيرَةِ، ← وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2268

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2272

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ سُئِلْتُ عَنْ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمَارَةِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ قَالَ فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ مَنْزِلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ اسْتَأْذِنْ لِي عَلَيْهِ فَقَالَ إِنَّهُ قَائِلٌ لَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَدْخُلَ عَلَيْهِ قَالَ فَسَمِعَ ابْنُ عُمَرَ صَوْتِي فَقَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ ادْخُلْ فَمَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا حَاجَةٌ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ وَهُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةَ رَحْلِهِ مُتَوَسِّدٌ مِرْفَقَةً أَوْ قَالَ نُمْرُقَةً شَكَّ عَبْدُ اللَّهِ حَشْوُهَا لِيفٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلَاعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ نَعَمْ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا رَأَى امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ كَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ وَإِنْ تَكَلَّمَ فَمِثْلُ ذَلِكَ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَقَامَ لِحَاجَتِهِ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدْ ابْتُلِيتُ بِهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ الَّتِي فِي سُورَةِ النُّورِ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ حَتَّى خَتَمَ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ قَالَ فَدَعَا الرَّجُلَ فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ وَذَكَّرَهُ بِاللَّهِ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ فَقَالَ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا ثُمَّ دَعَا الْمَرَأَةَ فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ فَدَعَا الرَّجُلَ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنْ الْكَاذِبِينَ ثُمَّ أُتِيَ بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنْ الصَّادِقِينَ ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں مجھ سے حضرت مصعب بن زبیر کی حکومت کے زمانہ میں لعان کرنے والوں کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ کیا ان کے درمیان علیحدگی کرادی جائے گی مجھے یہ سمجھ نہ آئی کہ میں کیا جواب دوں۔ سعید کہتے ہیں میں اٹھا اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے گھر آیا میں نے ان کے خادم سے کہا میرے لئے اندر آنے کی اجازت مانگو۔ خادم نے جواب دیا وہ قیلولہ کر رہے ہیں تم ان کے پاس نہیں جاسکتے سعید بیان کرتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے شاید یہ میری آواز سن لی تو انہوں نے اندر سے دریافت کیا کیا ابن جبیر ہے؟ میں نے جواب دیا جی ہاں۔ انہوں نے جواب دیا آجاؤ تم اس وقت کسی ضروری کام سے آئے ہوگے سعید بیان کرتے ہیں میں اندران کے پاس آیا تو میں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنی ٹانگوں پر ایک چادر اوڑھی ہوئی ہے اور لیٹے ہوئے ہیں اور اپنے بازو (راوی کو شک ہے یا شاید) نمرقہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں اس تکیے کے اندر پتے بھرے ہوئے ہیں میں نے عرض کی اے ابوعبدالرحمن لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کروا دی جائے گی انہوں نے جواب دیا سبحان اللہ اس بارے میں سب سے پہلے فلاں شخص نے سوال کیا تھا اس نے عرض کی یا رسول اللہ آپ کے خیال میں اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو گناہ کرتے ہوئے دیکھے تو اسے کیا کرنا چاہیے اگر وہ خاموش رہتا ہے تو ایک بڑے جرم پر خاموش ہے اور اگر وہ یہ بیان کرتا ہے تو ایسی بات بیان کرے گا (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا وہ صاحب اٹھ کرچلے گئے اس کے بعد جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی یا رسول اللہ میں نے آپ سے جس چیز کے بارے میں سوال کیا تھا اس میں مبتلا ہوگیا ہوں۔ راوی کہتے ہیں اللہ نے سورت نور کی یہ آیت نازل کی۔ "جولوگ اپنی بیویوں پر الزام لگاتے ہیں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں ہوتا صرف وہ خود گواہ ہوتا ہے تو اس اکیلے شخص کی گواہی چار گواہوں کے برابر ہوگی وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھائے گا کہ وہ سچ کہہ رہاہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے گا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹ بول رہاہو اور عورت سے عذاب ہٹادیا جائے گا اگر وہ اللہ کے نام کی چار مرتبہ یہ گواہی دے کہ وہ مرد جھوٹ بول رہاہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اس عورت پر اللہ کاغضب نازل ہو اگر مرد سچ کہہ رہاہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی پھر آپ نے ان صاحب کو بلایا اور یہ آیات اس کے سامنے تلاوت کرنے کے بعد اسے اللہ کے خوف سے ڈرایا اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے وہ صاحب بولے میں نے اس عورت پر جھوٹا الزام نہیں لگایا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو بلایا اور اسے نصیحت کی یہ بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں آسان ہے وہ عورت بولی اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے یہ صاحب جھوٹ بول رہے ہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو بلوایا ان صاحب نے اللہ کے نام پر چار مرتبہ یہ قسم اٹھا کر گواہی دی کہ وہ سچ کہہ رہاہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا کہ ان پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹ بول رہاہو۔ پھر اس خاتون کو لایا گیا اس نے اللہ کے نام پر چار مرتبہ یہ گواہی دی کہ وہ صاحب جھوٹ بول رہے ہیں اور پانچویں مرتبہ یہ کہا کہ اگر وہ صاحب سچے ہوں تو اس خاتون پر اللہ کی لعنت ہو۔ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروادی۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2272

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2365

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي غَامِدٍ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي فَقَالَ لَهَا ارْجِعِي فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَتْهُ أَيْضًا فَاعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَلَعَلَّكَ أَنْ تَرْدُدَنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَحُبْلَى فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعِي حَتَّى تَلِدِي فَلَمَّا وَلَدَتْ جَاءَتْ بِالصَّبِيِّ تَحْمِلُهُ فِي خِرْقَةٍ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا قَدْ وَلَدْتُ قَالَ فَاذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ ثُمَّ افْطِمِيهِ فَلَمَّا فَطَمَتْهُ جَاءَتْ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبْزٍ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ فَطَمْتُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِيِّ فَدُفِعَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَأَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا حُفْرَةٌ فَجُعِلَتْ فِيهَا إِلَى صَدْرِهَا ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهَا فَأَقْبَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِحَجَرٍ فَرَمَى رَأْسَهَا فَتَلَطَّخَ الدَّمُ عَلَى وَجْنَةِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَسَبَّهَا فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ إِيَّاهَا فَقَالَ مَهْ يَا خَالِدُ لَا تَسُبَّهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ فَأَمَرَ بِهَا فَصُلِّيَ عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتی ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا غامد قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک عورت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی یا رسول اللہ میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے میں یہ چاہتی ہوں کہ آپ مجھے پاک کردیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم واپس چلی جاؤ اگلے دن وہ عورت دوبارہ آئی اور عرض کی میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اے اللہ کے نبی مجھے پاک کردیں۔ شاید آپ بھی مجھے ایسے ہی واپس بھیج دینا چاہتے ہیں جیسے آپ نے ماعز بن مالک کو بھیجا تھا اللہ کی قسم میں حاملہ ہوچکی ہوں اور ابھی میری شادی بھی نہیں ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ارشاد فرمایا تم واپس جاؤ اور بچے کو جنم دو (راوی کہتے ہیں) جب اس عورت نے بچے کو جنم دیدیا تو اس بچے کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی اے اللہ کے نبی میں نے اس کو جنم دیاہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جاؤ اسے دودھ پلاؤ جب دودھ چھڑادوگی پھر آنا۔ جب اس نے دودھ چھڑا دیا توبچے کو لے کر آئی اس بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا تھا اس نے عرض کی اے اللہ کے نبی میں نے اس کا دودھ چھڑوادیاہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس بچے کو ایک مسلمان شخص کے حوالے کردیا گیا آپ نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا کہ اس عورت کے لئے گڑھا کھودا گیا اور اسے سینے تک اس گڑھے میں رکھا گیا پھر آپ نے لوگوں کو اسے پتھر مارنے کا حکم دیا حضرت خالد بن ولید نے ایک پتھر اس کے سر مارا اس کا خون اچھل کر حضرت خالد کے گال پر آگرا حضرت خالد نے اس عورت کو برا کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس عورت کو برا کہتے ہوئے سنا تو آپ نے ارشاد فرمایا اے خالد باز آجاؤ اس کو برا نہ کہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر وصول کرنے والا یہ توبہ کرتا تو اسے بھی بخش دیا جاتا۔ (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس خاتون کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور اسے دفن کردیا گیا۔

كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي غَامِدٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book Alhoudod › Door · Hadith 2365

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2366

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى مِنْ الزِّنَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا فَقَالَ اذْهَبْ فَأَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا فَأْتِنِي بِهَا فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ فَقَالَ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہ زنا کرنے کے بعد حاملہ ہوگئی تھی اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول میں نے ایک قابل حد جرم کا ارتکاب کیا ہے آپ مجھ پر حد قائم کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اور فرمایا اسے لے جاؤ اور اس کا خیال رکھنا اور جب یہ بچے کو جنم دے تو پھر اس کو میرے پاس لے کر آنا اس نے ایسا ہی کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس عورت کے کپڑے اچھی طرح باندھ دیئے گئے اور آپ کے حکم کے تحت اسے سنگسار کردیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی حضرت عمر نے دریافت کیا اے اللہ کے رسول آپ اس کی نماز جنازہ ادا کررہے ہیں حالانکہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر اسے مدینہ میں رہنے والے ستر افراد کے درمیان تقسیم کیا جائے تو ان سب کے لئے کافی ہو۔ کیا تمہیں اس سے زیادہ بہتر اور کوئی صورت نظر آتی ہے اس نے اپنی جان اللہ کے لئے قربان کردی۔

أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Sunan Darmi · From the book Alhoudod › Door · Hadith 2366

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2402

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ثابت بن ضحاک بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مومن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے جو شخص دنیا میں جس چیز کے ذریعے خود کشی کرے گا قیامت کے دن اسی چیز کے ذریعے اسے عذاب دیا جائے گا۔

ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2402

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2437

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَقَامُ الرَّجُلِ فِي الصَّفِّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الرَّجُلِ سِتِّينَ سَنَةً

حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ایک آدمی کا اللہ کی صف میں کھڑے ہونادوسرے آدمی کی ساٹھ سال کی عبادت سے افضل ہے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2437

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2439

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں صبح کرنا یا اللہ کی راہ میں شام کرنا دنیا میں موجود ہر چیز سے افضل ہے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2439

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2450

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ فَتَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَتَوَدُّ أَنَّهَا رَجَعَتْ إِلَيْكُمْ وَلَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلَّا الشَّهِيدَ فَإِنَّهُ وَدَّ أَنَّهُ قُتِلَ كَذَا مَرَّةً لِمَا رَأَى مِنْ الثَّوَابِ

حضرت انس روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو بھی شخص مر کر جنت میں چلا جائے گا ان میں سے کوئی یہ خواہش نہیں کرے گا کہ وہ تمہارے پاس واپس آجائے اور اسے دنیا میں موجود سب کچھ مل جائے البتہ شہید یہ آرزو کرے گا کہ اسے اسی طرح دوبارہ قتل کیا جائے اس کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ شہادت کا اجروثواب اتنا دیکھ لے گا کہ اس کی دوبارہ آرزو کرے گا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2450

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2451

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ أَرْوَاحِ الشُّهَدَاءِ وَلَوْلَا عَبْدُ اللَّهِ لَمْ يُحَدِّثْنَا أَحَدٌ قَالَ أَرْوَاحُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي حَوَاصِلِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ فِي أَيِّ الْجَنَّةِ شَاءُوا ثُمَّ تَرْجِعُ إِلَى قَنَادِيلِهَا فَيُشْرِفُ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ فَيَقُولُ أَلَكُمْ حَاجَةٌ تُرِيدُونَ شَيْئًا فَيَقُولُونَ لَا إِلَّا أَنْ نَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَنُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى

مسروق بیان کرتے ہیں ہم نے عبداللہ سے شہداء کی ارواح کے بارے میں دریافت کیا اگر وہ نہ ہوتے تو شاید ہمیں کوئی اس کے بارے میں نہ بتاتا جواب دیا قیامت کے دن شہداء کی ارواح اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سبز پرندوں کے پیٹ میں ہوں گی ان کےلئے عرش کے ساتھ قندیلیں لٹکی ہوں گی وہ ارواح جنت میں جہاں چاہیں گی سیر کرسکیں گی اور پھر واپس ان قندیلوں میں آجائیں گی ان کا پروردگار ان کے سامنے ظہور کر کے دریافت کرے گا کیا تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے کیا تم کچھ چاہتے ہو؟ وہ جواب دیں گے نہیں البتہ ہم دنیا میں جانا چاہتے ہیں تاکہ ہمیں دوبارہ شہید کیا جائے۔

أَرْوَاحِ الشُّهَدَاءِ وَلَوْلَا عَبْدُ اللَّهِ لَمْ يُحَدِّثْنَا أَحَدٌ ← سَأَلْنَا عَبْدَ اللهِ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2451

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2462

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي بَيْتِهَا يَوْمًا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَضْحَكَكَ قَالَ أُرِيتُ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنْهُمْ ثُمَّ نَامَ أَيْضًا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَضْحَكَكَ قَالَ أُرِيتُ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنْ الْأَوَّلِينَ قَالَ فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَغَزَا فِي الْبَحْرِ فَحَمَلَهَا مَعَهُ فَلَمَّا قَدِمُوا قُرِّبَتْ لَهَا بَغْلَةٌ لِتَرْكَبَهَا فَصَرَعَتْهَا فَدُقَّتْ عُنُقُهَا فَمَاتَتْ

ام حرام بنت ملحان بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے گھر سوگئے جب بیدار ہوئے تو آپ مسکرا رہے تھے میں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں۔ ارشاد ہوا مجھے میری امت کے کچھ لوگ دکھائے گئے جو اس سمندر کی پشت پر یوں سوار تھے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ میرا نام بھی ان میں شامل کریں۔ فرمایا تم ان میں شامل ہو۔ پھر رسول اللہ سوگئے جب بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے میں نے عرض کی کیا بات ہے؟ فرمایا میں خواب میں دیکھتاہوں کہ میری امت کے کچھ لوگ سمندر کی پشت پر سوار ہیں جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ میرا نام بھی ان میں شامل کرلیں آپ نے فرمایا تمہارا نام پہلے والوں میں شامل ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر سیدہ ام حرام سے حضرت عبادہ بن صامت نے شادی کرلی وہ ایک بحری جنگ میں شریک ہوئے اور اپنے ساتھ سیدہ ام حرام کو بھی لے گئے جب وہ لوگ ساحل پر پہنچے تو ام حرام کے لئے ایک خچر لایا گیا تاکہ وہ سوار ہوں اس خچر نے انہیں گرادیا جس کی وجہ سے ان کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور ان کا انتقال ہوگیا۔

حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2462

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2494

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مَعَهُ فِي مَجْلِسٍ بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَسَتَرَهُ اللَّهُ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ قَالَ فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِكَ

حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات ارشاد فرمائی ہے ہم لوگ اس وقت آپ کے ہمراہ ایک مجلس میں شریک تھے۔ کہ تم میرے ہاتھ پر اس بات پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور چوری نہیں کروگے اور زنا نہیں کروگے اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کروگے اور کسی پر جھوٹا الزام عائد نہیں کروگے تم میں سے جو شخص اس کو پورا کرے گا اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جوان میں سے کسی حرکت کامرتکب ہو تو اللہ اسے چھپالے تو یہ اللہ کا معاملہ ہے کہ وہ اگر چاہے تو اللہ اسے عذاب دے اور اگر چاہے تو اس سے درگزر کرے اور جو ان میں سے کسی حرکت کا مرتکب ہو تو اگر دنیا میں اس کو اس کی سزا مل جائے تو وہ اس کے لئے کفارہ بن جائے گی۔ راوی کہتے ہیں ہم نے ان سب باتوں پر بیعت کرلی۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2494

chevron_left Previous
1…474849…2,341
Next chevron_right