Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحلال والحرام

Halal & Haram

22952 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10415

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَبَّادِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ مُنْذُ نَحْوٍ مِنْ أَرْبَعِينَ أَوْ خَمْسِينَ سَنَةً عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَأْكُلُونَ فِيهِ الرِّبَا قَالَ قِيلَ لَهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ قَالَ مَنْ لَمْ يَأْكُلْهُ مِنْهُمْ نَالَهُ مِنْ غُبَارِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جس میں وہ سود کھانے لگیں گے کسی نے پوچھا کہ کیا سارے لوگ ہی سود کھانے لگیں گے؟ فرمایا جو سود نہ بھی کھائے گا اسے اس کا اثر ضرور پہنچے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْحَسَنُ مُنْذُ نَحْوٍ مِنْ أَرْبَعِينَ أَوْ خَمْسِينَ سَنَةً ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ← عَبَّادِ بْنِ رَاشِدٍ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10415

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10417

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْعُرْسِ يُطْعَمُهُ الْأَغْنِيَاءُ وَيُمْنَعُهُ الْمَسَاكِينُ وَمَنْ لَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے اور جو شخص دعوت ملنے کے باوجود نہ آئے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10417

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10480

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔

«صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدِ بْنِ هِلاَلٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10480

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10514

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے تین مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طرف خصوصیت سے کجاوے کس کر سفر نہ کیا جائے ایک تو مسجد حرام دوسرے میری یہ مسجد ( مسجد نبوی) اور تیسرے مسجد اقصیٰ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10514

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10673

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا نَزَلُوا أَرْسَلُوا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ فَلَمَّا وَضَعُوا الطَّعَامَ وَكَادَ أَنْ يَفْرَغُوا جَاءَ فَقَالُوا هَلُمَّ فَكُلْ فَأَكَلَ فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى الرَّسُولِ فَقَالَ مَا تَنْظُرُونَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ قَالَ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ صَدَقَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ فَأَنَا مُفْطِرٌ فِي تَخْفِيفِ اللَّهِ صَائِمٌ فِي تَضْعِيفِ اللَّهِ

ابوعثمان رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سفر میں تھے لوگوں نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کھانا کھانے کے لئے بلا بھیجا وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے قاصد سے کہلا بھیجا کہ میں روزے سے ہوں چنانچہ لوگوں نے کھانا کھانا شروع کردیا جب وہ کھانے سے فارغ ہونے کے قریب ہوئے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور کھانا شروع کردیا لوگ قاصد کی طرف دیکھنے لگے اس نے کہا مجھے کیوں گھورتے ہو انہوں نے خود ہی مجھ سے کہا تھا کہ میں روزے سے ہوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سچ کہہ رہاہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے ماہ رمضان کے مکمل روزے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیناپورے سال روزہ رکھنے کے برابر ہے چنانچہ میں ہر مہینے تین روزے رکھتا ہوں میں جب روزہ کھولتاہوں (نہیں رکھتا) تو اللہ کی تخفیف کے سائے تلے اور رکھتا ہوں تو اللہ کی تضعیف (ہر عمل کا بدلہ دگناکرنے) کے سائے تلے۔

أَبِي عُثْمَانَ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10673

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10849

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خُبَيْبٍ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي وَإِنَّ مَا بَيْنَ مِنْبَرِي وَبَيْتِي لَرَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَصَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنْ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین کا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر نصب کیا جائے گا اور میری اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب مسجد حرام کے علاوہ دیگر تمام مساجد میں ایک ہزار نمازیں پڑھنے کی طرح ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خُبَيْبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10849

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10961

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ قَالَ وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَا فِيهِمْ وَأَبُو هُرَيْرَةَ فِي رَمَضَانَ فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَصْنَعُ لِبَعْضٍ الطَّعَامَ قَالَ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ مَا يَدْعُونَا قَالَ هَاشِمٌ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا إِلَى رَحْلِهِ قَالَ فَقُلْتُ أَلَا أَصْنَعُ طَعَامًا فَأَدْعُوَهُمْ إِلَى رَحْلِي قَالَ فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ يُصْنَعُ وَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنْ الْعِشَاءِ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ قَالَ أَسَبَقْتَنِي قَالَ هَاشِمٌ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَدَعَوْتُهُمْ فَهُمْ عِنْدِي قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَلَا أُعْلِمُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعَاشِرَ الْأَنْصَارِ قَالَ فَذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ قَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَكَّةَ قَالَ فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ وَبَعَثَ خَالِدًا عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَى وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَتِيبَتِهِ قَالَ وَقَدْ وَبَّشَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشَهَا قَالَ فَقَالُوا نُقَدِّمُ هَؤُلَاءِ فَإِنْ كَانَ لَهُمْ شَيْءٌ كُنَّا مَعَهُمْ وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِي سُئِلْنَا قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَنَظَرَ فَرَآنِي فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ اهْتِفْ لِي بِالْأَنْصَارِ وَلَا يَأْتِينِي إِلَّا أَنْصَارِيٌّ فَهَتَفْتُ بِهِمْ فَجَاءُوا فَأَطَافُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَرَوْنَ إِلَى أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى حَصْدًا حَتَّى تُوَافُونِي بِالصَّفَا قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَانْطَلَقْنَا فَمَا يَشَاءُ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ مِنْهُمْ مَا شَاءَ وَمَا أَحَدٌ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا مِنْهُمْ شَيْئًا قَالَ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ قَالَ فَغَلَّقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ قَالَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ قَالَ وَفِي يَدِهِ قَوْسٌ أَخَذَ بِسِيَةِ الْقَوْسِ قَالَ فَأَتَى فِي طَوَافِهِ عَلَى صَنَمٍ إِلَى جَنْبٍ يَعْبُدُونَهُ قَالَ فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِهَا فِي عَيْنِهِ وَيَقُولُ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ قَالَ ثُمَّ أَتَى الصَّفَا فَعَلَاهُ حَيْثُ يُنْظَرُ إِلَى الْبَيْتِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ بِمَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرَهُ وَيَدْعُوهُ قَالَ وَالْأَنْصَارُ تَحْتَهُ قَالَ يَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَجَاءَ الْوَحْيُ وَكَانَ إِذَا جَاءَ لَمْ يَخْفَ عَلَيْنَا فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُقْضَى قَالَ هَاشِمٌ فَلَمَّا قُضِيَ الْوَحْيُ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ يَا مَعَاشِرَ الْأَنْصَارِ أَقُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ قَالُوا قُلْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَمَا اسْمِي إِذًا كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ قَالَ فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْكُونَ وَيَقُولُونَ وَاللَّهِ مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلَّا الضِّنَّ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذُرَانِكُمْ

عبداللہ بن رباح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک میں کئی وفد "جن میں میں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے" حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور ہم ایک دوسرے کے لئے کھانا تیار کرتے تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں اکثر اپنے یہاں کھانے پر بلاتے تھے میں نے کہا کیا میں کھانا نہ پکاؤں اور پھر انہیں اپنے مکان پر آنے کی دعوت دوں تو میں نے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا پھر شام کے وقت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آج رات میرے ہاں دعوت ہے انہوں نے کہا تم نے مجھ پر سبقت حاصل کرلی ہے میں نے کہا جی ہاں میں نے سب کو دعوت دی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا اے انصار کی جماعت کیا میں تمہیں تمہارے بارے میں ایک حدیث کی خبر نہ دوں؟ پھر فتح مکہ کا ذکر کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ سے) چل کر مکہ پہنچے اور دو اطراف میں سے ایک جانب آپ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو اور دوسری جانب خالد رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بے زرہ لوگوں پر امیر بنا کر بھیجا وہ وادی کے اندر سے گزرے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم الگ ایک فوجی دستہ میں رہ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا تو فرمایا ابوہریرہ! میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس انصار کے علاوہ کوئی نہ آئے انصار کو میرے پاس (آنے کی) آواز دو پس وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد جمع ہوگئے اور قریش نے بھی اپنے حمایتی اور متبعین کو اکٹھا کرلیا اور کہا ہم ان کو آگے بھیج دیتے ہیں اگر انہیں کوئی فائدہ حاصل ہوا تو ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہوجائیں گے اور اگر انہیں کچھ ہوگیا تو ہم سے جو کچھ مانگا جائے گا دے دیں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ رضی اللہ عنہم سے) فرمایا تم قریش کے حمایتیوں اور متبعین کو دیکھ رہے ہو پھر اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا (تم چلو) اور تم مجھ سے کوہ صفا پر ملاقات کرنا ہم چل دیئے اور ہم میں سے جو کسی کو قتل کرنا چاہتا تو کردیتا اور ان میں سے کوئی بھی ہمارا مقابلہ نہ کرسکتا حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قریش کی سرداری ختم ہوگئی آج کے بعد کوئی قریشی نہ رہے گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے وہ محفوظ ہے اور جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ امن میں رہے گا چنانچہ لوگوں نے اپنے دروازے بند کرلیے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا، بیت اللہ کا طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کمانی تھی اس کی نوک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بت کی آنکھ میں چھبو دی جس کی مشرکین عبادت کرتے تھے اور وہ خانہ کعبہ کے ایک کونے میں رکھا ہوا تھا اور یہ آیت پڑھتے حق آگیا اور باطل چلا گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھے جہاں سے بیت اللہ نظر آسکے اور اپنے ہاتھ اٹھا کر جب تک اللہ کو منظور ہوا ذکر اور دعاء کرتے رہے انصار اس کے نیچے تھے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر کی محبت اور اپنے قرابت داروں کے ساتھ نرمی غالب آگئی ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آئی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پروحی نازل ہوتی تھی تو کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ سکتا تھا یہاں تک کہ وحی ختم ہوجاتی پس جب وحی پوری ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انصار کی جماعت کیا تم نے کہا ہے کہ اس شخص کو اپنے شہر کی محبت غالب آگئی ہے انہوں نے عرض کیا واقعہ تو یہی ہوا تھا آپ نے فرمایا ہرگز نہیں میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہوں میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے اب میری زندگی تمہاری زندگی کے ساتھ اور موت تمہاری موت کے ساتھ ہے پس(انصار) روتے ہوئے آپ کی طرف بڑھے اور عرض کرنے لگے اللہ کی قسم ہم نے جو کچھ کہا وہ صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی محبت کی حرص میں کہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں۔

هَاشِمٌ يُكْثِرُ ← وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ مَا يَدْعُونَا ← فِيهِمْ وَأَبُو هُرَيْرَةَ ← وَفَدَتْ وفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← هَاشِمٌ ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← بَهْزٌ، وَهَاشِمٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10961

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11019

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهَا بِنَاجِزٍ فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ الرَّمَاءَ وَالرَّمَاءُ الرِّبَا قَالَ فَحَدَّثَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَمَّ مَقَالَتَهُ حَتَّى دَخَلَ بِهِ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ وَأَنَا مَعَهُ فَقَالَ إِنَّ هَذَا حَدَّثَنِي عَنْكَ حَدِيثًا يَزْعُمُ أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَسَمِعْتَهُ فَقَالَ بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهَا بِنَاجِزٍ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو، اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو، کیوں کہ مجھے تم پر سود میں مبتلاء ہونے کا اندیشہ ہے، راوی حدیث نافع کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہی حدیث حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سنائی، ابھی اس کی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی آگئے، میں وہیں پر موجود تھا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا کہ انہوں نے مجھے ایک حدیث سنائی ہے اور ان کے خیال کے مطابق وہ حدیث آپ نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سنائی ہے، کیا واقعی آپ نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر سرابر ہی بیچو، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو اور ان میں سے کسی غائب کو حاضر کے بدلے میں مت بیچو۔

نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11019

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11055

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رِوَايَةً يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ وَنَهَى عَنْ صِيَامِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ النَّحْرِ وَنَهَى عَنْ صَلَاتَيْنِ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، اور نمازِعصرکے بعد سے غروب آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔

قَزَعَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11055

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11314

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ قَزَعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ قَالَ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا فَأَعْجَبْنَنِي وَأَيْنَقْنَنِي قَالَ عَفَّانُ وَآنَقْنَنِي نَهَى أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ قَالَ عَفَّانُ أَوْ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ وَنَهَى عَنْ الصَّلَاةِ فِي سَاعَتَيْنِ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ النَّحْرِ وَيَوْمِ الْفِطْرِ وَقَالَ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَمَسْجِدِي هَذَا قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ أَنْبَأَنِي قَالَ سَمِعْتُ قَزَعَةَ مَوْلَى زِيَادٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چار چیزیں سنی ہیں جو مجھے بہت اچھی لگی تھیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی عورت دو دن کا سفر اپنے محرم ، شوہر کے بغیر کرے، اور نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد طلوع آفتاب تک دووقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے تیاری نہ کی جائے۔

عَفَّانُ وَآنَقْنَنِي نَهَى ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ أَرْبَعًا فَأَعْجَبْنَنِي وَأَيْنَقْنَنِي ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← قَزَعَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11314

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11379

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ فَيْحِ الْمِسْكِ قَالَ صَامَ هَذَا مِنْ أَجْلِي وَتَرَكَ شَهْوَتَهُ عَنْ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ مِنْ أَجْلِي فَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس نے میری خاطر روزہ رکھا ، میری خاطر اپنے کھانے پینے کی خواہش کو ترک کیا ، گویا روزہ میری خاطر ہوا اس لئے اس کا بدلہ میں خود ہی دونگا۔

الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ مِنْ أَجْلِي فَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ← صَامَ هَذَا مِنْ أَجْلِي وَتَرَكَ شَهْوَتَهُ ← لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ فَيْحِ الْمِسْكِ ← نَبِيِّ اللَّهِ أَنَّهُ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← فِرَاسٍ، ← شَيْبَانَ ← مُعَاوِيَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11379

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11437

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي وَمَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا مَعَ زَوْجٍ أَوْ ذِي مَحْرَمٍ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَنَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ النَّحْرِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجدِ حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔ اور کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عصر کے بعد سے غروبِ آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوعِ آفتاب تک دو وقتوں میں نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← قَزَعَةَ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11437

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11503.1

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ حَدَّثَنِي قَزَعَةُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَعْجَبَنِي فَدَنَوْتُ مِنْهُ وَكَانَ فِي نَفْسِي حَتَّى أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا قَالَ فَأُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ أَسْمَعْهُ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

قزعہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تو وہ مجھے اچھی لگی، میں نے ان کے قریب جا کر ان سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ اس پر وہ شدید ناراض ہوئے اور کہنے لگے کیا میں کوئی ایسی حدیث بیان کروں گا جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنی ہو؟ ہاں ! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← رَسُولِ اللَّهِ مَا لَمْ أَسْمَعْهُ نَعَمْ ← فَأُحَدِّثُ ← فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← فَأَعْجَبَنِي فَدَنَوْتُ مِنْهُ وَكَانَ فِي نَفْسِي حَتَّى أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أَنْتَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← قَزَعَةُ، أَنَّهُ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زُهَيْرٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11503.1

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11525

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُجَالِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَصُومُوا يَوْمَيْنِ وَلَا تُصَلُّوا صَلَاتَيْنِ وَلَا تَصُومُوا يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى وَلَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي وَمَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو دن کا روزہ اور دو موقع پر نماز نہ پڑھو، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کا روزہ نہ رکھو، نمازِ فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نمازِ عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک نوافل نہ پڑھو۔ کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے، اور سوائے تین مسجدوں کے یعنی مجسد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبُو الْوَدَّاكِ: ← مجالد ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11525

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11553

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَسْوَأَ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَسْرِقُهَا قَالَ لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدترین چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز میں چوری کیسے ہو سکتی ہے؟ فرمایا اس طرح کہ رکوع و سجود کو مکمل ادا نہ کرے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11553

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11617

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ جَاءَ بِلَالٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا فَقَالَ كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ رَدِيءٌ فَبِعْتُهُ بِهَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا عَيْنُ الرِّبَا فَلَا تَقْرَبَنَّهُ وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ بِمَا شِئْتَ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ مَا بَدَا لَكَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سا معاملہ لگا ، اس لئے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی دو صاع رومی کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوہ! یہ تو عین سود ہے ، اس کے قریب بھی مت جاؤ البتہ پہلے اپنی کھجوروں کو بیج لو ، پھر اس قیمت کے ذریعے جو مرضی خریدو۔

كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ رَدِيءٌ فَبِعْتُهُ بِهَذَا ← مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا ← جَاءَ بِلَالٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ بِتَمْرٍ ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيُّ ← هِشَامِ بْنِ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11617

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11631

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنِي شَهْرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَذُكِرَتْ عِنْدَهُ صَلَاةٌ فِي الطُّورِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْبَغِي لِلْمَطِيِّ أَنْ تُشَدَّ رِحَالُهُ إِلَى مَسْجِدٍ يُبْتَغَى فِيهِ الصَّلَاةُ غَيْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَمَسْجِدِي هَذَا وَلَا يَنْبَغِي لِامْرَأَةٍ دَخَلَتْ الْإِسْلَامَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا مُسَافِرَةً إِلَّا مَعَ بَعْلٍ أَوْ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا وَلَا يَنْبَغِي الصَّلَاةُ فِي سَاعَتَيْنِ مِنْ النَّهَارِ مِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْفَجْرِ إِلَى أَنْ تَرْحَلَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا يَنْبَغِي الصَّوْمُ فِي يَوْمَيْنِ مِنْ الدَّهْرِ يَوْمِ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ وَيَوْمِ النَّحْرِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجدِ حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔ کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر کرے۔ وَلَا يَنْبَغِي الصَّلَاةُ فِي سَاعَتَيْنِ مِنْ النَّهَارِ مِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْفَجْرِ إِلَى أَنْ تَرْحَلَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَذُكِرَتْ عِنْدَهُ صَلَاةٌ فِي الطُّورِ فَقَالَ ← شَهْرٍ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11631

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14287

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَضَاقَتْ بِذَلِكَ صُدُورُنَا وَكَبُرَ عَلَيْنَا فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَحِلُّوا فَلَوْلَا الْهَدْيُ الَّذِي مَعِي لَفَعَلْتُ مِثْلَ مَا تَفْعَلُونَ فَفَعَلْنَا حَتَّى وَطِئْنَا النِّسَاءَ مَا يَفْعَلُ الْحَلَالُ حَتَّى إِذَا كَانَ عَشِيَّةُ التَّرْوِيَةِ أَوْ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ جَعَلْنَا مَكَّةَ بِظَهْرٍ وَلَبَّيْنَا بِالْحَجِّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم لوگ ذی الحجہ کی چار تاریخ کو گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے حج کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ کا احرام بنا لیں اس پر ہمارے دل کچھ بوجھل ہوئے اور یہ بات ہمیں بری محسوس ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو فرمایا کہ لوگو احرام کھول کر حلال ہوجاؤ اگر میں اپنے ساتھ ہدی کا جانور نہ لایا ہوتا تو یہی کرتا جو تم کرو گے چنانچہ ہم نے ایساہی کیا حتی کہ ہم نے اپنی عورتوں سے بھی وہی کیا جو غیر محرم کرسکتا ہے یہاں تک کہ جب آٹھ ذی الحجہ کی شام یا دن ہوا تو ہم نے مکہ مکرمہ کو اپنی پشت پر رکھا اور حج کاتلبیہ پڑھ کر روانہ ہوئے۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14287

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14295

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي قَالَ فَقَالَ آتِيكُمْ قَالَ فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ لِلْمَرْأَةِ لَا تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَسْأَلِيهِ قَالَ فَأَتَانَا فَذَبَحْنَا لَهُ دَاجِنًا كَانَ لَنَا فَقَالَ يَا جَابِرُ كَأَنَّكُمْ عَرَفْتُمْ حُبَّنَا اللَّحْمَ قَالَ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ لَهُ الْمَرْأَةُ صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي أَوْ صَلِّ عَلَيْنَا قَالَ فَقَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا أَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُكِ قَالَتْ تَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَلَا يَدْعُو لَنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے والد صاحب کے قرض کے سلسلے میں تعاون کی درخواست لے کر گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے پاس آؤں گا میں نے واپس جا کر اپنی بیوی سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حوالے سے کوئی بات کرنا اور نہ ہی سوال کرنا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے اپنی ایک بکری ذبح کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر رضی اللہ عنہ ایسا لگتا ہے کہ تمہیں گوشت کے ساتھ ہمارے تعلق خاطر کا پتہ لگ گیا ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس جانے لگے تو میری بیوی نے کہا یا رسول اللہ میرے لئے اور میرے خاوند کے لئے دعا فرما دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ کیا میں نے تمہیں منع نہ کیا تھا اس نے کہا کہ دیکھو تو سہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائیں اور ہمارے لئے دعا بھی نہ فرمائیں۔

فَقُلْتُ لَهَا أَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُكِ ← «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ» ← لَهُ الْمَرْأَةُ صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي أَوْ صَلِّ عَلَيْنَا ← فَلَمَّا خَرَجَ ← يَا جَابِرُ كَأَنَّكُمْ عَرَفْتُمْ حُبَّنَا اللَّحْمَ ← فَأَتَانَا فَذَبَحْنَا لَهُ دَاجِنًا كَانَ لَنَا ← فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ لِلْمَرْأَةِ لَا تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ وَلَا تَسْأَلِيهِ ← آتِيكُمْ ← أَتَيْتُ النَّبِيَّ أَسْتَعِينُهُ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي ← جَابِرٍ ← نُبَيْحٍ، ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14295

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14313

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے کھلانے والے اس کے گواہوں اور منشی پر لعنت فرمائی ہے۔

«لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ» ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14313

chevron_left Previous
1…444546…1,148
Next chevron_right