Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحلال والحرام

Halal & Haram

22952 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6886

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنِي الْجُنَيْدُ بْنُ أَمِينِ بْنِ ذِرْوَةَ بْنِ نَضْلَةَ بْنِ طَرِيفِ بْنِ بُهْصُلٍ الْحِرْمَازِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي أَمِيْنُ بْنُ ذِرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ ذِرْوَةَ بْنِ نَضْلَةَ عَنْ أَبِيهِ نَضْلَةَ بْنِ طَرِيفٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ الْأَعْشَى وَاسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَعْوَرِ كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا مُعَاذَةُ خَرَجَ فِي رَجَبٍ يَمِيرُ أَهْلَهُ مِنْ هَجَرَ فَهَرَبَتْ امْرَأَتُهُ بَعْدَهُ نَاشِزًا عَلَيْهِ فَعَاذَتْ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مُطَرِّفُ بْنُ بُهْصُلِ بْنِ كَعْبِ بْنِ قَمَيْشَعِ بْنِ دُلَفَ بْنِ أَهْضَمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَجَعَلَهَا خَلْفَ ظَهْرِهِ فَلَمَّا قَدِمَ وَلَمْ يَجِدْهَا فِي بَيْتِهِ وَأُخْبِرَ أَنَّهَا نَشَزَتْ عَلَيْهِ وَأَنَّهَا عَاذَتْ بِمُطَرِّفِ بْنِ بُهْصُلٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ يَا ابْنَ عَمِّ أَعِنْدَكَ امْرَأَتِي مُعَاذَةُ فَادْفَعْهَا إِلَيَّ قَالَ لَيْسَتْ عِنْدِي وَلَوْ كَانَتْ عِنْدِي لَمْ أَدْفَعْهَا إِلَيْكَ قَالَ وَكَانَ مُطَرِّفٌ أَعَزَّ مِنْهُ فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَاذَ بِهِ وَأَنْشَأَ يَقُولُ يَا سَيِّدَ النَّاسِ وَدَيَّانَ الْعَرَبْ إِلَيْكَ أَشْكُو ذِرْبَةً مِنْ الذِّرَبْ كَالذِّئْبَةِ الْغَبْشَاءِ فِي ظِلِّ السَّرَبْ خَرَجْتُ أَبْغِيهَا الطَّعَامَ فِي رَجَبْ فَخَلَّفَتْنِي بِنِزَاعٍ وَهَرَبْ أَخْلَفَتْ الْعَهْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ وَقَذَفَتْنِي بَيْنَ عِيصٍ مُؤْتَشَبْ وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ فَشَكَا إِلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَمَا صَنَعَتْ بِهِ وَأَنَّهَا عِنْدَ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مُطَرِّفُ بْنُ بُهْصُلٍ فَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُطَرِّفٍ انْظُرْ امْرَأَةَ هَذَا مُعَاذَةَ فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ فَأَتَاهُ كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُرِئَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا يَا مُعَاذَةُ هَذَا كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكِ فَأَنَا دَافِعُكِ إِلَيْهِ قَالَتْ خُذْ لِي عَلَيْهِ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ لَا يُعَاقِبُنِي فِيمَا صَنَعْتُ فَأَخَذَ لَهَا ذَاكَ عَلَيْهِ وَدَفَعَهَا مُطَرِّفٌ إِلَيْهِ فَأَنْشَأَ يَقُولُ لَعَمْرُكَ مَا حُبِّي مُعَاذَةَ بِالَّذِي يُغَيِّرُهُ الْوَاشِي وَلَا قِدَمُ الْعَهْدِ وَلَا سُوءُ مَا جَاءَتْ بِهِ إِذْ أَزَالَهَا غُوَاةُ الرِّجَالِ إِذْ يُنَاجُونَهَا بَعْدِي

نظلہ بن طریف کہتے ہیں کہ ان کے قبیلے کا ایک آدمی تھاجسے اعشی کہا جاتا تھا اس کا اصل نام عبداللہ بن اعور تھا اس کے نکاح میں جو عورت تھی اس کا نام معاذہ تھا ایک مرتبہ اعشی رجب کے مہینے میں ہجر نامی علاقے سے اپنے اہل خانہ کے لئے غلہ لانے کے لئے روانہ ہوا پیچھے سے اس کی بیوی اس سے ناراض ہو کر گھر سے بھاگ گئی اور اپنے قبیلے کے ایک آدمی کے یہاں پناہ لی جس کا نام مطرف بن بہصل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تھا اس نے اسے اپنی پناہ فراہم کر دی۔ جب اعشی واپس آیا تو گھر میں بیوی نہ ملی پتہ چلا کہ وہ ناراض ہو کر گھربھاگ گئی ہے اور اب مطرف بن بہصل کی پناہ میں ہے اعشی یہ سن کرمطرف کے پاس آیا اور کہنے لگا اے میرے چچازادبھائی! کیا میری بیوی معاذہ آپ کے پاس ہے؟ اسے میرے حوالے کردیں اس نے نے کہا کہ وہ میرے پاس نہیں ہے اگر ہوتی بھی تو میں اسے تیرے حوالے نہ کرتا مطرف دراصل اس کی نسبت زیادہ طاقتور تھا چنانچہ اعشی وہاں سے نکل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ اشعار کہتے ہوئے ان کی پناہ چاہی اے لوگوں کے سردار اور عرب کو دینے والے ! میں آپ کے پاس ایک بدزبان عورت کی شکایت لے کر آیا ہوں وہ اس مادہ بھیڑیے کی طرح ہے جو سراب کے سائے میں دھوکہ دے دیتی ہے ماہ رجب میں اس کے لئے غلہ کی تلاش میں نکلا تھا اس نے پیچھے سے مجھے جھگڑے اور راہ فرار کا منظر دکھایا اس نے وعدہ خلافی کی اور اپنی دم ماری اور اس نے مجھے سخت مشکل میں مبتلا کر دیا اور یہ عورتیں غالب آنے والا شر ہیں اس شخص کے لئے بھی جو ہمیشہ غالب رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا یہ آخری جملہ دہرانے لگے کہ یہ عورتیں غالب آنے والا شر ہیں اس شخص کے لئے بھی جو ہمیشہ دوسروں پر غالب رہے اس کے بعد اعشی نے اپنی بیوی کی شکایت کی اور اس کا سارا کارنامہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا اور یہ بھی کہ اب وہ انہی کے قبیلے کے ایک آدمی کے پاس ہے جس کا نام مطرف بن بہصل ہے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مطرف کو یہ خط لکھا کہ دیکھو اس شخص کی بیوی معاذہ کو اس کے حوالے کردو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط جب اس کے پاس پہنچا اور اسے پڑھ کر سنایا گیا تو اس نے اس عورت سے کہا کہ معاذہ یہ تمہارے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط ہے اس لئے میں تمہیں اس کے حوالے کر رہا ہوں اس نے کہا کہ اس سے میرے لئے عہد و پیمان لے لئے اور اسے اس کے حوالے کر دیا اس پر اعشی نے یہ اشعار کہے تیری عمر کی قسم معاذہ تجھ سے میری محبت ایسی نہیں ہے جسے کوئی رنگ بدل سکے یا زمانہ کا بعد اسے متغیر کر سکے اور نہ ہی اس حرکت کی برائی جو اس سے صادر ہوئی جبکہ اسے بہکے ہوئے لوگوں نے پھسلا لیا اور میرے پیچھے اس سے سرگوشیاں کرتے رہے۔

أَبِيهِ نَضْلَةَ بْنِ طَرِيفٍ ← أَبِيهِ ذِرْوَةَ بْنِ نَضْلَةَ ← أَبِي أَمِيْنُ بْنُ ذِرْوَةَ ← الْجُنَيْدُ بْنُ أَمِينِ بْنِ ذِرْوَةَ بْنِ نَضْلَةَ بْنِ طَرِيفِ بْنِ بُهْصُلٍ الْحِرْمَازِيُّ ← أَبُو سَلَمَةَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَنَفِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6886

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6887

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ بِمِنًى قَالَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَرَى أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الذَّبْحِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ فَقَالَ اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ قَالَ ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَرَى أَنَّ الذَّبْحَ قَبْلَ الرَّمْيِ فَذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ فَارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ قَبْلَ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَجَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْيِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے میدان منٰی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر کھڑے ہوئے دیکھا اسی اثنا میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میں یہ سمجھتا تھا کہ حلق قربانی سے پہلے ہے اس لئے میں نے قربانی کرنے سے پہلے حلق کروا لیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر قربانی کر لو کوئی حرج نہیں ایک دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میں یہ سمجھتا تھا کہ قربانی رمی سے پہلے ہے اس لئے میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب جا کر رمی کر لو کوئی حرج نہیں ہے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نوعیت کا جو سوال بھی پوچھا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں یہی فرمایا اب کر لو کوئی حرج نہیں ۔

فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ بِمِنًى ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَعْمَرٌ، ← ابْنُ شِهَابٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ← مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6887

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6905

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ كُنَّا نَعُدُّ الِاجْتِمَاعَ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ وَصَنِيعَةَ الطَّعَامِ بَعْدَ دَفْنِهِ مِنْ النِّيَاحَةِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ میت کے گھر والوں کے پاس اکٹھا ہونا اور اس کے دفن ہونے کے بعد کھانا تیار کرنا نوحہ کا حصہ سمجھتے تھے۔

كُنَّا نَعُدُّ الِاجْتِمَاعَ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ وَصَنِيعَةَ الطَّعَامِ بَعْدَ دَفْنِهِ مِنْ النِّيَاحَةِ ← جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ البَجَلِيِّ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← نَصْرُ بْنُ بَابٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6905

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7033

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فَذَكَرَ حَدِيثًا قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَذَكَرَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَإِنَّهُ يُدْفَعُ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً فَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَهُمْ وَذَلِكَ شَدِيدُ الْعَقْلِ وَعَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظَةٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ وَذَلِكَ أَنْ يَنْزِغَ الشَّيْطَانُ بَيْنَ النَّاسِ فَتَكُونَ دِمَاءٌ فِي غَيْرِ ضَغِينَةٍ وَلَا حَمْلِ سِلَاحٍ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَعْنِي مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا وَلَا رَصَدَ بِطَرِيقٍ فَمَنْ قُتِلَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ شِبْهُ الْعَمْدِ وَعَقْلُهُ مُغَلَّظَةٌ وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ وَهُوَ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَلِلْحُرْمَةِ وَلِلْجَارِ وَمَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنْ الْإِبِلِ ثَلَاثُونَ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَثَلَاثُونَ ابْنَةُ لَبُونٍ وَثَلَاثُونَ حِقَّةٌ وَعَشْرُ بَكَارَةٍ بَنِي لَبُونٍ ذُكُورٍ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيمُهَا عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عِدْلَهَا مِنْ الْوَرِقِ وَكَانَ يُقِيمُهَا عَلَى أَثْمَانِ الْإِبِلِ فَإِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا وَإِذَا هَانَتْ نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا عَلَى عَهْدِ الزَّمَانِ مَا كَانَ فَبَلَغَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ أَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِائَةِ دِينَارٍ وَعِدْلُهَا مِنْ الْوَرِقِ ثَمَانِيَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ وَقَضَى أَنَّ مَنْ كَانَ عَقْلُهُ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ فِي الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ وَقَضَى أَنَّ مَنْ كَانَ عَقْلُهُ عَلَى أَهْلِ الشَّاءِ فَأَلْفَيْ شَاةٍ وَقَضَى فِي الْأَنْفِ إِذَا جُدِعَ كُلُّهُ بِالْعَقْلِ كَامِلًا وَإِذَا جُدِعَتْ أَرْنَبَتُهُ فَنِصْفُ الْعَقْلِ وَقَضَى فِي الْعَيْنِ نِصْفَ الْعَقْلِ خَمْسِينَ مِنْ الْإِبِلِ أَوْ عِدْلَهَا ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا أَوْ مِائَةَ بَقَرَةٍ أَوْ أَلْفَ شَاةٍ وَالرِّجْلُ نِصْفُ الْعَقْلِ وَالْيَدُ نِصْفُ الْعَقْلِ وَالْمَأْمُومَةُ ثُلُثُ الْعَقْلِ ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ مِنْ الْإِبِلِ أَوْ قِيمَتُهَا مِنْ الذَّهَبِ أَوْ الْوَرِقِ أَوْ الْبَقَرِ أَوْ الشَّاءِ وَالْجَائِفَةُ ثُلُثُ الْعَقْلِ وَالْمُنَقِّلَةُ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنْ الْإِبِلِ وَالْمُوضِحَةُ خَمْسٌ مِنْ الْإِبِلِ وَالْأَسْنَانُ خَمْسٌ مِنْ الْإِبِلِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مسلمان کو عمداً قتل کردے اسے مقتول کے ورثاء کے حوالے کردیا جائے گا وہ چاہیں تو اسے قصاصاً قتل کردیں اور چاہیں تو دیت لے لیں جو کہ ٣٠حقے،٣٠جذعے اور٤٠حاملہ اونٹنیوں پر مشتمل ہو گی یہ قتل عمد کی دیت ہے اور جس چیز پر ان سے صلح ہو جائے وہ اس کے حقدار ہوں گے اور یہ سخت دیت ہے ۔ قتل شبہ عمد کی دیت بھی قتل عمد کی دیت کی طرح ملغظ ہی ہے لیکن اس صورت میں قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا اس کی صورت یوں ہوتی ہے کہ شیطان لوگوں کے درمیان دشمنی پیدا کر دیتا ہے اور بغیر کسی کہنے کے یا اسلحہ کے خونریزی ہوجاتی ہے ۔ اس کی علاوہ جس صورت میں بھی قتل ہو گا وہ شبہ عمد ہو گا اس کی دیت مغلظ ہو گی اور قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا یہ اشہر حرم میں حرمت کی وجہ سے اور پڑوس کی وجہ سے ہو گا ۔ خطاء قتل ہونے والے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں ٣٠ بنت مخاض ٣٠ بنت لبون٣٠حقے اور دس ابن لبون مذکر اونٹ شامل ہوں گے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہر والوں پر اس کی قیمت چار سو دینار یا اس کے برابر چاندی مقرر فرماتے تھے اور قیمت کا تعین اونٹوں کی قیمت کے اعتبار سے کرتے تھے جب اونٹوں کی قیمت بڑھ جاتی تو دیت کی مقدار مذکور میں اضافہ فرما دیتے اور جب کم ہوجاتی تو اس میں بھی کمی فرمادیتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں یہ قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینارتک بھی پہنچی ہے اور اس کے برابر چاندی کی قیمت آٹھ ہزار درہم تک پہنچی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایا کہ جس کی دیت گائے والوں پر واجب ہوتی ہو تو وہ دو سو گائے دے دیں اور جس کی بکری والوں پر واجب ہوتی ہو وہ دوہزار بکریاں دے دیں ناک کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر اسے مکمل طور پر کاٹ دیا جائے تو پوری دیت واجب ہو گی اور اگر صرف نرم حصہ کاٹا ہو تو نصف دیت واجب ہو گی ایک آنکھ کی دیت نصف قرار دی ہے یعنی پچاس اونٹ یا اس کے برابر سونا چاندی یا سو گائے یا ہزار بکریاں ، نیز ایک پاؤں کی دیت بھی نصف اور ایک ہاتھ کی دیت بھی نصف قرار دی ہے ۔ دماغی زخم کی دیت تہائی مقرر فرمائی ہے یعنی ٣٣ اونٹ یا اس کی قیمت کے برابر سونا، چاندی، یا گائے بکری گہرے زخم کی دیت بھی تہائی مقرر فرمائی ہے ہڈی اپنی جگہ سے ہلا دینے کی دیت ١٥ اونٹ مقرر فرمائی ہے اور کھال چیر کر گوشت نظر آنے والے زخم کی دیت پانچ اونٹ مقرر فرمائی ہے اور ہر دانٹ کی دیت پانچ اونٹ مقرر فرمائی ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← حَدِيثًا ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7033

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7036

قَالَ يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قُلْتُ لَهُ مَا أَكْثَرَ مَا رَأَيْتَ قُرَيْشًا أَصَابَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فِيمَا كَانَتْ تُظْهِرُ مِنْ عَدَاوَتِهِ قَالَ حَضَرْتُهُمْ وَقَدْ اجْتَمَعَ أَشْرَافُهُمْ يَوْمًا فِي الْحِجْرِ فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ قَطُّ سَفَّهَ أَحْلَامَنَا وَشَتَمَ آبَاءَنَا وَعَابَ دِينَنَا وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا وَسَبَّ آلِهَتَنَا لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْهُ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ أَوْ كَمَا قَالُوا قَالَ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى اسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ مَرَّ بِهِمْ طَائِفًا بِالْبَيْتِ فَلَمَّا أَنْ مَرَّ بِهِمْ غَمَزُوهُ بِبَعْضِ مَا يَقُولُ قَالَ فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ مَضَى فَلَمَّا مَرَّ بِهِمْ الثَّانِيَةَ غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ مَضَى ثُمَّ مَرَّ بِهِمْ الثَّالِثَةَ فَغَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا فَقَالَ تَسْمَعُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ فَأَخَذَتْ الْقَوْمَ كَلِمَتُهُ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا كَأَنَّمَا عَلَى رَأْسِهِ طَائِرٌ وَاقِعٌ حَتَّى إِنَّ أَشَدَّهُمْ فِيهِ وَصَاةً قَبْلَ ذَلِكَ لَيَرْفَؤُهُ بِأَحْسَنِ مَا يَجِدُ مِنْ الْقَوْلِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ انْصَرِفْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ انْصَرِفْ رَاشِدًا فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ جَهُولًا قَالَ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ وَأَنَا مَعَهُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ذَكَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْكُمْ وَمَا بَلَغَكُمْ عَنْهُ حَتَّى إِذَا بَادَأَكُمْ بِمَا تَكْرَهُونَ تَرَكْتُمُوهُ فَبَيْنَمَا هُمْ فِي ذَلِكَ إِذْ طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَثَبُوا إِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَأَحَاطُوا بِهِ يَقُولُونَ لَهُ أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ كَذَا وَكَذَا لِمَا كَانَ يَبْلُغُهُمْ عَنْهُ مِنْ عَيْبِ آلِهَتِهِمْ وَدِينِهِمْ قَالَ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ أَنَا الَّذِي أَقُولُ ذَلِكَ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ أَخَذَ بِمَجْمَعِ رِدَائِهِ قَالَ وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ دُونَهُ يَقُولُ وَهُوَ يَبْكِي أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنْهُ فَإِنَّ ذَلِكَ لَأَشَدُّ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا بَلَغَتْ مِنْهُ قَطُّ

عروہ بن زبیررحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے کسی ایسے سخت واقعے کے متعلق بتایئے جو مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روا رکھا ہو؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن اشراف قریش حطیم میں جمع تھے میں بھی وہاں موجود تھا وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم نے جیساصبر اس آدمی پر کیا ہے کسی اور پر کبھی نہیں کیا اس نے ہمارے عقلمندوں کو بیوقوف کہا، ہمارے آباؤ اجداد کو برا بھلا کہا ہمارے دین میں عیوب نکالے ہماری جماعت کو منتشر کیا اور ہمارے معبودوں کو برابھلا کہا ہم ان کے معاملے میں بہت صبر کر لیا اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے آگے بڑھے اور حجر اسود کا استلام کیا اور بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان کے پاس سے گذرے اس دوران وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض باتوں میں عیب نکالتے ہوئے ایک دوسرے کو اشارے کرنے لگے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے مبارک پر اس کے اثرات محسوس ہوئے تین چکروں میں اسی طرح ہوا بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گروہ قریش تم سنتے ہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے میں تمہارے پاس قربانی لے کر آیا ہوں لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جملے پر بڑی شرم آئی اور ان میں سے ایک آدمی بھی ایسا نہ تھا جس کے سر پر پرندے نہ بیٹھے ہوئے محسوس نہ ہوئے ہوں حتیٰ کہ اس سے پہلے جو آدمی انتہائی سخت تھا وہ اب اچھی بات کہنے لگا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم آپ خیر و عافیت کے ساتھ تشریف لے جایئے واللہ آپ نا و قف نہیں ہیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے ۔ اگلے دن وہ لوگ پھر حطیم میں جمع ہوئے میں بھی ان کے ساتھ تھا وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ پہلے تو تم نے ان سے پہنچنے والی صبر آزما باتوں کا تذکرہ کیا اور جب وہ تمہارے سامنے ظاہر ہوئے جو تمہیں پسند نہ تھا تو تم نے انہیں چھوڑ دیا ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آ ئے وہ سب اکٹھے کودے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے میں لے کر کہنے لگے کیا تم ہی اس اس طرح کہتے ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! میں ہی اس طرح کہتا ہوں راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو گردن سے پکڑ لیا (اور گھونٹنا شروع کر دیا) یہ دیکھ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانے کے لئے کھڑے ہوئے وہ روتے ہوئے کہتے جا رہے تھے کیا تم ایک آدمی کو صرف اس وجہ سے قتل کر دو گے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اس پر وہ لوگ واپس چلے گئے یہ سب سے سخت دن تھا جس میں قریش کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنی سخت اذیت پہنچی تھی۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7036

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7152

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ إِمَّا تَفَاخَرُوا وَإِمَّا تَذَاكَرُوا الرِّجَالُ أَكْثَرُ أَمْ النِّسَاءُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَوَ لَمْ يَقُلْ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ ثِنْتَانِ يُرَى مُخُّ سَاقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزَبُ

محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے اس بات پر آپس میں فخر یا مذاکرہ کیا کہ مردوں کی تعدادزیادہ ہے یا عورتوں کی؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں ارشاد فرمایا کہ جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہروں والا ہوگا اس کے بعد داخل ہونے والا گر وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے باہر سے نظر آجائے گا اور جنت میں کوئی شخص کنوارہ نہیں ہوگا۔

إِمَّا تَفَاخَرُوا وَإِمَّا تَذَاكَرُوا الرِّجَالُ أَكْثَرُ أَمْ النِّسَاءُ ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7152

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7191

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثِ مَسَاجِدَ إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوائے تین مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طرف خصوصیت سے کجاوے کس کر سفر نہ کیا جائے ایک تو مسجد حرام۔ دوسرے میری یہ مسجد ( مسجد نبوی) اور تیسرے مسجد اقصیٰ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7191

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7232

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَاءِ الْبَحْرِ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے پانی کے متعلق فرمایا کہ اس کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے

فِي مَاءِ الْبَحْرِ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ← سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7232

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7248

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى قَالَ سُفْيَانُ وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثِ مَسَاجِدَ سَوَاءً

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف تین مسجدوں کی طرف خصوصیت سے کجاوے کس کر سفر کیا جائے ایک تو مسجد حرام دوسرے میری یہ مسجد (مسجد نبوی) اور تیسرے مسجد اقصیٰ۔

سُفْيَانُ وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثِ مَسَاجِدَ سَوَاءً ← تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7248

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7252

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7252

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7277

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُفْيَانُ سَأَلْتُهُ عَنْهُ كَيْفَ الطَّعَامُ أَيْ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ قَالَ أَخْبَرَنِي الْأَعْرَجُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَرُّ الطَّعَامِ الْوَلِيمَةُ يُدْعَى إِلَيْهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ وَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے اور جو شخص دعوت ملنے کے باوجود نہ آئے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔

الْأَعْرَجِ ← سُفْيَانُ سَأَلْتُهُ عَنْهُ كَيْفَ الطَّعَامُ أَيْ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7277

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7369

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ اخْتَصَمَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ يُرَى مُخُّ سَاقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزَبُ

محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے اس بات پر آپس میں جھگڑا کیا کہ جنت میں مردوں کی تعدادزیادہ ہوگی یا عورتوں کی ؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہنے لگے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگاوہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہروں والا ہوگا اس کے بعد داخل ہونے وال اگر وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا گوداگوشت کے باہر سے نظر آجائے گا اور جنت میں کوئی شخص کنوارہ نہیں ہوگا۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدٍ اخْتَصَمَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7369

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7409

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ يَحْيَى حَدَّثَنِي ذَكْوَانُ أَبُو صَالِحٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ شَكَّ يَعْنِي يَحْيَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ شَكَّ يَعْنِي يَحْيَى ← ذَكْوَانُ أَبُو صَالِحٍ، ← يَحْيَى ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7409

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7475

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ سَلْمَانَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرَّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَلْمَانَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرَّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7475

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7613

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَالْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى الْغَنِيُّ وَيُتْرَكُ الْمِسْكِينُ وَهِيَ حَقٌّ وَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ عَصَى وَكَانَ مَعْمَرٌ رُبَّمَا قَالَ وَمَنْ لَمْ يُجِبْ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ بد ترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے حالانکہ وہ برحق ہے اور جو شخص دعوت ملنے کے باوجود نہ آئے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَالْأَعْرَجِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7613

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7712

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَنَعَ لِأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ ثُمَّ جَاءَ بِهِ قَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ فَلْيَأْكُلْ فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوفًا قَلِيلًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکا کر لائے اور اس کی گرمی سردی سے بچانے میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر کھانا تھوڑا ہو تو ایک دو لقمے ہی اس کے ہاتھ پر رکھ دے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7712

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7719

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ مِنْ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7719

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7720

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنْ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ ← عَطَاءٌ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7720

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7722

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا لِثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے تین مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طرف خصوصیت سے کجاوے کس کر سفر نہ کیا جائے ایک تو مسجد حرام دوسرے میری یہ مسجد (مسجد نبوی) اور تیسرے مسجد اقصیٰ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7722

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7919

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي وَقَرَّتْ عَيْنِي فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ فَقَالَ كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْبِئْنِي عَنْ أَمْرٍ إِذَا أَخَذْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَالَ أَفْشِ السَّلَامَ وَأَطْعِمْ الطَّعَامَ وَصِلْ الْأَرْحَامَ وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ثُمَّ ادْخُلْ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور آنکھوں کو قرار آ جاتا ہے آپ مجھے ہر چیز کی اصل بتائیے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چیز پانی سے پیدا کی گئی ہے میں نے عرض کیا کہ مجھے ایسی چیز بتا دیجئے کہ اگر میں اسے تھام لوں تو جنت میں داخل ہوجاؤں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلام پھیلاؤ طعام کھلاؤ۔ صلہ رحمی کرو اور راتوں کو جس وقت لوگ سو رہے ہوں تم قیام کرو اور سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔

قُلْتُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي مَيْمُونَةَ2 ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7919

chevron_left Previous
1…424344…1,148
Next chevron_right