Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطهارة

Taharah / Purification

36985 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14699

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت سے زائد پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ. ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14699

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14723

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔

زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ ← جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14723

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14756

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي حَائِطٍ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فَقَالَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ وَإِلَّا كَرَعْنَا فَقَالَ عِنْدِي مَاءٌ بَائِتٌ فَانْطَلَقَ إِلَى عَرِيشٍ فَحَلَبَ لَهُ شَاةً ثُمَّ صَبَّ عَلَيْهِ مَاءً بَائِتًا ثُمَّ سَقَاهُ وَصَنَعَ بِصَاحِبِهِ مِثْلَ ذَلِكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی کے ہمراہ کسی انصاری کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لئے اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے ساتھ آنے والے صاحب کے ساتھ اسی طرح کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحٌ، ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14756

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14778

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنْ الْوُرُودِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى كَوْمٍ فَوْقَ النَّاسِ فَيُدْعَى بِالْأُمَمِ وَبِأَوْثَانِهَا وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ بَعْدَ ذَلِكَ فَيَقُولُ مَا تَنْتَظِرُونَ فَيَقُولُونَ نَنْتَظِرُ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْهِ قَالَ فَيَتَجَلَّى لَهُمْ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ يَضْحَكُ وَيُعْطِي كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مُنَافِقٍ وَمُؤْمِنٍ نُورًا وَتَغْشَاهُ ظُلْمَةٌ ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ مَعَهُمْ الْمُنَافِقُونَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ فِيهِ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ يَأْخُذُونَ مَنْ شَاءَ ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ وَيَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ ذَلِكَ حَتَّى تَحِلَّ الشَّفَاعَةُ فَيَشْفَعُونَ حَتَّى يَخْرُجَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِمَّنْ فِي قَلْبِهِ مِيزَانُ شَعِيرَةٍ فَيُجْعَلَ بِفِنَاءِ الْجَنَّةِ وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يُهْرِيقُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ الْمَاءِ حَتَّى يَنْبُتُونَ نَبَاتَ الشَّيْءِ فِي السَّيْلِ وَيَذْهَبُ حَرَقُهُمْ ثُمَّ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا

ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ورود کے متعلق سوال کیا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن ہم تمام لوگوں سے اوپر ایک ٹیلے پرہوں گے درجہ بدرجہ تمام امتوں اور ان کے بتوں کو بلایا جائے گا پھر ہمارا پروردگار ہمارے پاس آکر پوچھے گا کہ تم کس کا انتظار کر رہے ہو لوگ جواب دیں گے کہ ہم اپنے پروردگار کا انتظار کر رہے ہیں وہ کہے گا کہ میں ہی تمہارا رب ہوں لوگ کہیں گے کہ ہم اسے دیکھنے تک یہیں ہیں چنانچہ پروردگار ان کے سامنے اپنی ایک تجلی ظاہر فرمائے گا جس میں وہ مسکرا رہا ہوگا اور ہر انسان کو خواہ منافق ہو یا پکامومن ، ایک نور دیا جائے گا پھر اس پر اندھیرا چھاجائے گا پھر مسلمانوں کے ساتھ منافق کانور بجھ جائے گااور مسلمان اس پل صراط سے نجات پا جائیں گے۔ نجات پانے والے مسلمانوں کا پہلا گروہ اپنے چہروں میں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوگا یہ لوگ سترہزار ہوں گے اور ان کا حساب نہ ہوگا دوسرے نمبر پر نجات پانے والے اس ستارے کی مانند ہوگے جو آسمان میں سب سے زیادہ روشن ہوں پھر درجہ بدرجہ یہاں تک کہ شفاعت کی اجازت دے دی جائے گی اور لوگ سفارش کریں گے جس کی بناء وہ شخص جہنم سے نکال لیا جائے گا جس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا اور اسے صحن جنت میں لے جایا جائے گا اور اہل جنت اس پر پانی بہانے لگیں گے حتی کہ وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب میں خودرو پودے اگ آتے ہیں اور ان کے جسم کی جلن دور ہوجائے گی پھر اللہ ان سے پوچھے گا اور انہیں دنیا سے دس گنا زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔

الْوُرُودِ ← أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14778

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14811

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الْغُسْلِ قَالَ جَابِرٌ أَتَتْ ثَقِيفٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا بِالْغُسْلِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَنَا فَأَصُبُّ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَمْ يَقُلْ غَيْرَ ذَلِكَ

ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے غسل جنابت کے متعلق سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ قبیلہ ثقیف کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہمارا علاقہ ٹھنڈا ہے تو آپ ہمیں غسل کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں توسر پر تین مرتبہ پانی ڈال لیا کرتا تھا اس کے علاوہ کچھ نہیں فرمایا۔

النَّبِيُّ أَمَّا ← إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا بِالْغُسْلِ ← جَابِرٌ أَتَتْ ثَقِيفٌ النَّبِيَّ ← الغسل ← سَأَلْتُ جَابِرًا ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← مُوسَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14811

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14836

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔

رسول الله أنه نهى أن يبال في الماء الراكد ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← حُجَيْنٌ وَيُونُسُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14836

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14866

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ وَحُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَصَابَنَا عَطَشٌ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَجَهَشْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ تَوْرٌ فِيهِ مَاءٌ فَقَالَ بِأَصَابِعِهِ هَكَذَا فِيهَا وَقَالَ خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ قَالَ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَتَخَلَّلُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَنَّهَا عُيُونٌ فَوَسِعَنَا وَكَفَانَا وَقَالَ حُصَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر ہمیں پیاس نے ستایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف ایک پیالہ تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے لوگ گبھرائے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالے میں اپنے دست مبارک کو رکھ دیا اور فرمایا بسم اللہ پڑھ کر یہ پانی لو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان چشموں کی طرح پانی ابلنے لگاہم سب نے اسے پیا اور وضو کیا۔

حُصَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا ← فَجَعَلَ الْمَاءُ يَتَخَلَّلُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَنَّهَا عُيُونٌ فَوَسِعَنَا وَكَفَانَا ← خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ ← بِأَصَابِعِهِ هَكَذَا فِيهَا ← أَصَابَنَا عَطَشٌ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَجَهَشْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ تَوْرٌ فِيهِ مَاءٌ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ وَحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14866

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14885

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ أَوْ ابْنِ أَبِي الْحَارِثِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي حَائِطٍ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فَقَالَ هَلْ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ وَإِلَّا كَرَعْنَا قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى الْعَرِيشِ فَحَلَبَ لَهُ شَاةً ثُمَّ صَبَّ عَلَيْهِ مَاءً بَاتَ فِي شَنٍّ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَقَى صَاحِبَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ کسی انصاری کے گھرتشریف لائے اور جا کر سلام کیا اور فرمایا اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے توٹھیک ہے ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لے کر اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے ساتھ آنے والے صاحب نے اسے پی لیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ أَوْ ابْنِ أَبِي الْحَارِثِ ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14885

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8007

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوْ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنِهِ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ أَوْ نَحْوَ هَذَا فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَ بِهَا مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنْ الذُّنُوبِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بندہ مومن وضو کرتا ہے اور اپناچہرہ دھوتا ہے تو وضو کے پانی کے ساتھ اس کے چہرے سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کی طرف اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھاہوجب ہاتھ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے ہاتھ کے وہ سارے گناہ نکل جاتے ہیں جو اس نے ہاتھ سے پکڑ کرکیے ہوں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو کر نکل آتاہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِكٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8007

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8008

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ قَالَ إِسْحَاقُ فِي الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَذَلِكُمْ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمْ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمْ الرِّبَاطُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہبتاوں جس کے ذریعے اللہ درجات بلند فرماتا ہے اور گناہوں کا کفارہ بناتا ہے ؟ طبعی ناپسندیدگی کے باوجود (خاص طور پر سردی کے موسم میں ) خوب اچھی طرح وضو کرنا کثرت سے مسجدوں کی طرف قدم اٹھنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنایہی چیزسرحدوں کی حفاظت کرنے کی طرح ہے (تین مرتبہ فرمایا)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ ← أَبِي و ← عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِكٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8008

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14903

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ فِيمَا أَحْسِبُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت سے زائد پانی کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

جَابِرٍ فِيمَا أَحْسِبُ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ ← حَمَّادٌ، ← يُونُسُ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14903

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14921

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ فِي الْقَوْمِ مِنْ طَهُورٍ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ بِفَضْلَةٍ فِي إِدَاوَةٍ قَالَ فَصَبَّهُ فِي قَدَحٍ قَالَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ أَتَوْا بَقِيَّةَ الطَّهُورِ فَقَالُوا تَمَسَّحُوا تَمَسَّحُوا قَالَ فَسَمِعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلَى رِسْلِكُمْ قَالَ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ فِي جَوْفِ الْمَاءِ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ الطَّهُورَ قَالَ فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَالَّذِي أَذْهَبَ بَصَرِي قَالَ وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ لَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَهُ حَتَّى تَوَضَّئُوا أَجْمَعُونَ قَالَ الْأَسْوَدُ حَسِبْتُهُ قَالَ كُنَّا مِائَتَيْنِ أَوْ زِيَادَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غزوہ میں ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ شریک تھے نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کسی کے پاس پانی ہے ؟ ایک آدمی یہ سن کر دوڑتا ہوا ایک برتن لے کر آیا جس میں تھوڑا ساپانی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پانی کو ایک پیالے میں ڈالا اور اس سے خوب اچھی طرح وضو کیا وضو کر کے آپ پیالہ وہیں چھوڑ آئے لوگ اس پیالے پر ٹوٹ پڑے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آوازیں سن کر فرمایا رک جاؤ پھر اس پانی اور پیالے میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور بسم اللہ کہہ کر فرمایا خوب اچھی طرح کامل وضو کرو اس ذات کی قسم جس نے مجھے آنکھوں کی نعمت عطاء فرمائی ہے میں نے اس دن دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس وقت تک نہ اٹھایا جب تک سب لوگوں نے وضو نہ کرلیا۔

فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ ← فَصَبَّهُ فِي قَدَحٍ ← فَجَاءَ رَجُلٌ بِفَضْلَةٍ فِي إِدَاوَةٍ ← فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، ← «سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← عُبَيْدَةُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14921

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8041

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ رَجُلًا حَمَلَ مَعَهُ خَمْرًا فِي سَفِينَةٍ يَبِيعُهُ وَمَعَهُ قِرْدٌ قَالَ فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَاعَ الْخَمْرَ شَابَهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ بَاعَهُ قَالَ فَأَخَذَ الْقِرْدُ الْكِيسَ فَصَعِدَ بِهِ فَوْقَ الدَّقَلِ قَالَ فَجَعَلَ يَطْرَحُ دِينَارًا فِي الْبَحْرِ وَدِينَارًا فِي السَّفِينَةِ حَتَّى قَسَمَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی تجارت کے سلسلے میں شراب لے کر کشتی پر سوار ہوا اس کے ساتھ ایک بندر بھی تھا وہ آدمی جب شراب بیچتا تو پہلے اس میں پانی کی ملاوٹ کرتا پھر اسے فروخت کرتا ایک دن بندرنے اس کے پیسوں کا بٹوہ پکڑا اور ایک درخت پر چڑھ گیا اور ایک ایک دینار سمندر میں اور دوسرا اپنے مالک کی کشتی میں پھینکنے لگا حتی کہ اس نے برابر برابر تقسیم کردیا (یہیں سے مثال مشہور ہوگئی کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8041

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14933

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا عَنْ أَنْ نَسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةَ أَوْ نَسْتَقْبِلَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ قَالَ ثُمَّ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا تھا کہ جب ہم پانی بہانے کے لئے جائیں تو خانہ کعبہ کی جانب شرمگاہ کا رخ یا پشت کریں لیکن اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے وصال سے ایک سال قبل میں نے خود قبلہ کی جانب رخ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

ثُمَّ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ← أَنْ نَسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةَ أَوْ نَسْتَقْبِلَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ قَدْ نَهَانَا ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُجَاهِدُ بْنُ جَبْرٍ، ← أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14933

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8070

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَإِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھا جائے کہ اس سے زائد گھاس روکی جا سکے۔

لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَإِ ← النَّبِيِّ ← لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8070

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8075

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُحَنِّسَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ أَنَّهُ قَالَ أَشْهَدُ الثَّلَاثَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے کہ ابوقاسم نے فرمایا جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا۔

أَشْهَدُ الثَّلَاثَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ أَنَّهُ ← عبد الله بن عبد الرحمن بن يحنس ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8075

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14982

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ بَهْزٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ قَالَ لِي سُلَيْمَانُ بْنُ هِشَامٍ إِنَّ هَذَا يَعْنِي الزُّهْرِيَّ لَا يَدَعُنَا نَأْكُلُ شَيْئًا إِلَّا أَمَرَنَا أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْهُ يَعْنِي مَا مَسَّتْهُ النَّارُ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ سَأَلْتُ عَنْهُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ إِذَا أَكَلْتَهُ فَهُوَ طَيِّبٌ لَيْسَ عَلَيْكَ فِيهِ وُضُوءٌ فَإِذَا خَرَجَ فَهُوَ خَبِيثٌ عَلَيْكَ فِيهِ الْوُضُوءُ قَالَ فَهَلْ بِالْبَلَدِ أَحَدٌ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ أَقْدَمُ رَجُلٍ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ عِلْمًا قَالَ مَنْ قُلْتُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ بَهْزٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجِيءَ بِهِ قَالَ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَقَالَ حَدَّثَنِي جَابِرٌ أَنَّهُمْ أَكَلُوا مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ خُبْزًا وَلَحْمًا فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ قَالَ لِعَطَاءٍ مَا تَقُولُ يَعْنِي فِي الْعُمْرَى قَالَ حَدَّثَنِي جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ

قتادہ کہتے ہیں کہ مجھ سے سلیمان بن ہشام نے کہا ہم جو بھی چیز کھاتے ہیں امام زہری ہمیں حکم دیتے ہیں کہ نیا وضو کریں میں نے ان سے کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے یہ مسئلہ پوچھا کہ انہوں نے فرمایا کہ تم جو حلال چیز کھاؤ اسے کھانے کے بعد تم پر وضو نہیں ہے اور جب تمہارے جسم سے کوئی چیز نکلے تو وہ گندگی ہے اور اس میں تم وضو کرو انہوں نے پوچھا کہ شہر میں کسی اور کی بھی رائے ہے یہ والی۔ میں نے کہا جزیرہ عرب میں سے قدیم عالم کی۔ انہوں نے پوچھا کہ وہ کون ہیں میں نے بتایا عطابن ابی رباح چنانچہ انہوں نے عطاء کے پاس پیغام بھجوایا انہوں نے فرمایا کہ مجھے جابر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی ہے کہ انہوں نے حضرت صدیق اکبر کے ساتھ گوشت اور روٹی کھائی پھر انہوں نے یوں ہی نماز پڑھا دی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دینا جائز ہے۔

لِي سُلَيْمَانُ بْنُ هِشَامٍ ← قَتَادَةَ ← بَهْزٌ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ وَبَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14982

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8125

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ يَمِينَ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ قَالَ وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْقَبْضُ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوا اور خوب سخاوت کرنے والا ہے اسے کسی چیز سے کمی نہیں آتی اور وہ رات دن خرچ کرتا رہتا ہے تم یہی دیکھ لو کہ اس نے جب سے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے کتنا خرچ کیا ہے لیکن اس کے دائیں ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کوئی کمی نہیں آئی اور اس کا عرش پانی پر ہے اس کے دوسرے ہاتھ میں قبضہ ہے جس سے وہ بلند کرتا اور جھکاتا ہے۔

وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْقَبْضُ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8125

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15017

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي خَفْقَةٍ مِنْ الدِّينِ وَإِدْبَارٍ مِنْ الْعِلْمِ فَلَهُ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً يَسِيحُهَا فِي الْأَرْضِ الْيَوْمُ مِنْهَا كَالسَّنَةِ وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالشَّهْرِ وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالْجُمُعَةِ ثُمَّ سَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ هَذِهِ وَلَهُ حِمَارٌ يَرْكَبُهُ عَرْضُ مَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا فَيَقُولُ لِلنَّاسِ أَنَا رَبُّكُمْ وَهُوَ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ك ف ر مُهَجَّاةٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٌ وَغَيْرُ كَاتِبٍ يَرِدُ كُلَّ مَاءٍ وَمَنْهَلٍ إِلَّا الْمَدِينَةَ وَمَكَّةَ حَرَّمَهُمَا اللَّهُ عَلَيْهِ وَقَامَتْ الْمَلَائِكَةُ بِأَبْوَابِهَا وَمَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَالنَّاسُ فِي جَهْدٍ إِلَّا مَنْ تَبِعَهُ وَمَعَهُ نَهْرَانِ أَنَا أَعْلَمُ بِهِمَا مِنْهُ نَهَرٌ يَقُولُ الْجَنَّةُ وَنَهَرٌ يَقُولُ النَّارُ فَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ الْجَنَّةَ فَهُوَ النَّارُ وَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ النَّارَ فَهُوَ الْجَنَّةُ قَالَ وَيَبْعَثُ اللَّهُ مَعَهُ شَيَاطِينَ تُكَلِّمُ النَّاسَ وَمَعَهُ فِتْنَةٌ عَظِيمَةٌ يَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ وَيَقْتُلُ نَفْسًا ثُمَّ يُحْيِيهَا فِيمَا يَرَى النَّاسُ لَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا مِنْ النَّاسِ وَيَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ هَلْ يَفْعَلُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَيَفِرُّ الْمُسْلِمُونَ إِلَى جَبَلِ الدُّخَانِ بِالشَّامِ فَيَأْتِيهِمْ فَيُحَاصِرُهُمْ فَيَشْتَدُّ حِصَارُهُمْ وَيُجْهِدُهُمْ جَهْدًا شَدِيدًا ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيُنَادِي مِنْ السَّحَرِ فَيَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَى الْكَذَّابِ الْخَبِيثِ فَيَقُولُونَ هَذَا رَجُلٌ جِنِّيٌّ فَيَنْطَلِقُونَ فَإِذَا هُمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَيُقَالُ لَهُ تَقَدَّمْ يَا رُوحَ اللَّهِ فَيَقُولُ لِيَتَقَدَّمْ إِمَامُكُمْ فَلْيُصَلِّ بِكُمْ فَإِذَا صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ خَرَجُوا إِلَيْهِ قَالَ فَحِينَ يَرَى الْكَذَّابُ يَنْمَاثُ كَمَا يَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ فَيَمْشِي إِلَيْهِ فَيَقْتُلُهُ حَتَّى إِنَّ الشَّجَرَةَ وَالْحَجَرَ يُنَادِي يَا رُوحَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ فَلَا يَتْرُكُ مِمَّنْ كَانَ يَتْبَعُهُ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کا خروج اس وقت میں ہوگا جب دین میں سستی اور علم میں تنزل آجائے گا وہ چالیس راتوں میں ساری زمین پھر جائے گا جس کا ایک دن سال کے برابر دوسرا مہینے کے برابر، تیسرا ہفتے کے برابر اور باقی ایام تمہارے ہی ایام کی طرح ہوں گے اس کے پاس ایک گدھا ہو گا جس پر وہ سواری کرے گا اور جس کے دونوں کانوں کے درمیان چوڑائی چالیس گز کے برابر ہو گی اور وہ لوگوں سے کہے گا کہ میں تمہارا رب ہی ہوں حالانکہ وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان حروف تہجی سے کافر لکھا ہوا ہو گا جسے ہر مسلمان خواہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ پڑھ لے گا وہ مدینہ اور مکہ جنہیں اللہ نے اس پر حرام قرار دیاہے کے علاوہ ہر پانی اور گھاٹ پر اترے گا اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ ہوں گے اس کے پیروکار کے علاوہ وہ تمام لوگوں اتنہائی پریشان ہوں گے اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی جن کی در حقیقت میں اس سے زیادہ جانتا ہوں ایک نہر کو وہ جنت اور دوسری نہر کو جہنم کہتا ہوگا جسے وہ اپنی جنت میں داخل کرے گا وہ درحقیقت جہنم ہو گی اور جسے وہ اپنی جہنم میں داخل کرے گا وہ جنت ہوگی۔ اللہ اس کے ساتھ شیاطین کو بھیج دے گا جو لوگوں سے باتیں کریں گے اس کے ساتھ ایک عظیم فتنہ ہو گاوہ آسمان کو حکم دے اور لوگوں کو یوں محسوس ہو گا کہ جیسے بارش ہورہی ہے وہ ایک آدمی کو قتل کرے گا پھر لوگوں کی آنکھوں کے سامنے اسے دوبارہ زندہ کرے گا اور لوگوں سے کہے گا کہ لوگوں یہ کام کوئی ایسا شخص کر سکتا ہے جو پروردگار نہ ہو اس وقت حقیقی مسلمان بھاگ جائیں گے اور جا کر شام کے جبل دخان میں پناہ لیں گے دجال ان کا انتہائی سخت محاصرہ کرے گا اور مسلمان انتہائی پریشان ہوں گے ۔ پھر حضرت عیسی کا نزول ہوگا اور وہ سحری کےوقت لوگوں کو پکار کر کہیں گے لوگو تمہیں اس کذاب خبیث کی طرف نکلنے سے کس چیز نے روک رکھا ہے لوگ کہیں گے یہ کوئی جن معلوم ہوتا ہے لیکن نکل کر دیکھیں گے تو وہ حضرت عیسی ہوں گے نماز کھڑی ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ روح آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں وہ فرمائیں گے تمہارے امام ہی کو آگے بڑھ کر نماز پڑھانی چاہیے نماز فجر کے بعد وہ دجال کی طرف نکلیں گے جب وہ کذاب حضرت عیسی کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے حضرت عیسی بڑھ کر اسے قتل کریں گے اور اس وقت وہ شجر اور حجر پکار اٹھیں گے اے روح اللہ یہ یہودی یہاں چھپا ہوا ہے چنانچہ وہ دجال کے کسی پیروکار کو نہیں چھوڑیں گے اور سب کو قتل کردیں گے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15017

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15018

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ امْرَأَةً مِنْ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةٌ عَيْنُهُ طَالِعَةٌ نَاتِئَةٌ فَأَشْفَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونَ الدَّجَّالَ فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَاخْرُجْ إِلَيْهِ فَخَرَجَ مِنْ الْقَطِيفَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ ثُمَّ قَالَ يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ قَالَ فَلُبِسَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَهُ ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فَوَجَدَهُ فِي نَخْلٍ لَهُ يُهَمْهِمُ فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْمَعُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا فَيَعْلَمُ هُوَ هُوَ أَمْ لَا قَالَ يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَلُبِسَ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ فَتَرَكَهُ ثُمَّ جَاءَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي نَفَرٍ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَنَا مَعَهُ قَالَ فَبَادَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِينَا وَرَجَا أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا فَسَبَقَتْهُ أُمُّهُ إِلَيْهِ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ فَقَالَ يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ فَلُبِسَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ صَائِدٍ إِنَّا قَدْ خَبَّأْنَا لَكَ خَبِيئًا فَمَا هُوَ قَالَ الدُّخُّ الدُّخُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَأْ اخْسَأْ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ائْذَنْ لِي فَأَقْتُلَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ لَا يَكُنْ هُوَ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشْفِقًا أَنَّهُ الدَّجَّالُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک یہودی عورت کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کی ایک آنکھ پونچھی تو ہوئی تھی اور دوسری روشن ابھری ہوئی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں یہ دجال نہ ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک چادر میں لیٹے ہوئے دیکھا کہ وہ کچھ گنگنارہا ہے لیکن اس کی ماں نے اسے بروقت مطلع کردیا کہ عبداللہ یہ ابوقاسم آئے ہیں ان کے پاس آؤ چنانچہ وہ اپنی چادر سے نکل کر آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس عورت کو کیا ہوگیا ہے اس پر اللہ کی مار ہو اگر یہ اسے چھوڑ دیتی تو یہ اپنی حقیقت ضرور واضح کردیتا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اے ابن صائد تو کیا دیکھتا ہے اس نے کہا میں حق بھی دیکھتاہوں اور باطل بھی اور میں پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر معاملہ مشتبہ ہو گیا پھر پوچھا کہ کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے پلٹ کو پوچھا کہ آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں میں اللہ کا رسول ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے چھوڑ کرچلے گئے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور یہی حالات پیش آئے پھر تیسری مرتبہ یاچوتھی مرتبہ مہاجرین انصار کی ایک جماعت کے ساتھ جن میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی تھے اور میں بھی تھا تشریف لائے اور یہی حالات پیش آئے البتہ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اے ابن صائد ہم نے تیرے امتحان کے لئے اپنے ذہن میں ایک چیز چھپائی ہوئی ہے بتاوہ کیا ہے اس نے دخ، دخ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دور ہو اس پر حضرت عمر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجیے میں اسے قتل کردوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی ہوا تو اس کے اہل نہیں ہو اس کے اہل حضرت عیسی ہیں اور اگر وہ نہیں ہے تو تمہیں کسی ذمی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ یہ اندیشہ رہا کہ کہیں یہ دجال نہ ہو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15018

chevron_left Previous
1…444546…1,850
Next chevron_right