Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطهارة

Taharah / Purification

36985 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11328

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وجوب غسل آب حیات کے خروج پر ہوتا ہے۔

"الماء من الماء" ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← شَرِيکٍ ← زُهَيْرٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11328

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11454

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ فَمَرَرْنَا فِي بَنِي سَالِمٍ فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَابِ ابْنِ عِتْبَانَ فَصَرَخَ وَابْنُ عِتْبَانَ عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ إِزَارَهُ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْجَلْنَا الرَّجُلَ قَالَ ابْنُ عِتْبَانَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ إِذَا أَتَى امْرَأَةً وَلَمْ يُمْنِ عَلَيْهَا مَاذَا عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ پیر کے دن قباء کی طرف گئے، ہمارا گذر بنو سالم پر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابن عتان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر رک گئے اور ان کا نام لے کر انہیں آواز دی، اس وقت ابن عتان اپنی بیوی سے اپنی خواہش کی تکمیل کر رہے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن کر اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نکلے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس حال میں دیکھ کر فرمایا شاید ہم نے انہیں جلدی فراغت پر مجبور کر دیا، ابن عتان رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے اور انزال نہ ہو تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وجوبِ غسل منی کے خروج پر ہوتا ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← زُهَيْرٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11454

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11458

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ يُونُسَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أَصَبْنَا سَبْيًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَكُنَّا نَلْتَمِسُ فِدَاءَهُنَّ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ اصْنَعُوا مَا بَدَا لَكُمْ فَمَا قَضَى اللَّهُ فَهُوَ كَائِنٌ فَلَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ حنین کے موقع پر قیدی ملے، ہم چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں ، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جو مرضی کر لو، اللہ نے جو فیصلہ فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا، اور پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا۔

الْعَزْل ← أَصَبْنَا سَبْيًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَكُنَّا نَلْتَمِسُ فِدَاءَهُنَّ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← يُونُسَ بْنِ عَمْرِو ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11458

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11482

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَصَبْنَا سَبْيًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَجَعَلْنَا نَعْزِلُ عَنْهُمْ وَنَحْنُ نُرِيدُ الْفِدَاءَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ حنین کے موقع پر قیدی ملے، ہم چاہتے تھے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں ، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جو مرضی کرلو، اللہ نے جو فیصلہ فرما لیا ہے وہ ہو کر رہے گا، اور پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا۔

بَعْضُنَا لِبَعْضٍ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← أَصَبْنَا سَبْيًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَجَعَلْنَا نَعْزِلُ عَنْهُمْ وَنَحْنُ نُرِيدُ الْفِدَاءَ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11482

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11530

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ ثَلَاثًا فَقَالَ إِنِّي كَثِيرُ الشَّعَرِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ شَعَرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے غسل جنابت کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا تین مرتبہ جسم پر پانی بہانا، اس نے کہا کہ میرے سر پر بال بہت زیادہ ہیں ؟ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تم سے بھی زیادہ اور معطر تھے، (لیکن پھر بھی وہ تین مرتبہ ہی جسم پر پانی بہاتے تھے)

أَبُو سَعِيدٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ أَكْثَرَ شَعَرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ ← الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ ثَلَاثًا فَقَالَ إِنِّي كَثِيرُ الشَّعَرِ ← سَأَلَهُ رَجُلٌ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِيَّةَ، ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11530

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11543

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فَيُرِيدُ أَنْ يَنَامَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَنَامَ

اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر رات کو وہ" ناپاک " ہو جائیں تو پھر سونا چاہیں تو کیا کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وضو کر کے سو جایا کریں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ← وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11543

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11587

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَزْلِ فَقَالَ لَيْسَ مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ مِنْهُ شَيْئًا لَمْ يَمْنَعْهُ شَيْءٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی کے ہر قطرے سے بچہ پیدا نہیں ہوتا، اور اللہ جب کسی کو پیدا کرنے کا ارادہ کر لے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔

الْعَزْل ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عُمَرُ بْنُ عُبَیْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11587

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11601

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَكَانَ صَدِيقًا لِي فَقُلْتُ اخْرُجْ بِنَا إِلَى النَّخْلِ فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ فَقُلْتُ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَالَ نَعَمْ اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ مِنْ رَمَضَانَ فَخَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ عِشْرِينَ فَقَالَ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَأُنْسِيتُهَا أَوْ قَالَ فَنَسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْوَتْرِ فَإِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ فَرَجَعْنَا وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً فَجَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمُطِرْنَا حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ وَكَانَ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا: ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کیا، جب بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گذرے، ہم اس وقت اپنا سامان منتقل کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص معتکف تھا، وہ اب بھی اپنے اعتکاف میں رہے، میں نے شب قدر کو دیکھ لیا تھا لیکن پھر مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ اس رات میں نے اپنے آپ کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا ، اس زمانے میں مسجد نبوی کی چھت لکڑی کی تھی، اسی رات بارش ہوئی اور میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ کے نشان پڑ گئے ہیں۔

اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11601

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11648

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَلْبَسُ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ وَإِنْ كَانَ لَهُ طِيبٌ مَسَّ مِنْهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن ہر بالغ آدمی پر غسل کرنا واجب ہے اور یہ کہ وہ اس دن عمدہ کپڑے پہنے اور اگر موجود ہو تو خوشبو بھی لگائے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبَا بَكْرِ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11648

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14309

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا کہ میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈال لیتا ہوں۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14309

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14389

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُخْبِرُ نَحْوًا مِنْ خَبَرِ عَمْرٍو هَذَا وَزَادَ فِيهِ قَالَ وَزَوَّدَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ فَكَانَ يَقْبِضُ لَنَا قَبْضَةً قَبْضَةً ثُمَّ تَمْرَةً تَمْرَةً فَنَمْضُغُهَا وَنَشْرَبُ عَلَيْهَا الْمَاءَ حَتَّى اللَّيْلِ ثُمَّ نَفِدَ مَا فِي الْجِرَابِ فَكُنَّا نَجْتَنِي الْخَبَطَ بِقِسِيِّنَا فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ غُزَاةٌ وَجِيَاعٌ فَكُلُوا فَأَكَلْنَا فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَنْصِبُ الضِّلَعَ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَيَمُرُّ الرَّاكِبُ عَلَى بَعِيرِهِ تَحْتَهُ وَيَجْلِسُ النَّفَرُ الْخَمْسَةُ فِي مَوْضِعِ عَيْنِهِ فَأَكَلْنَا مِنْهُ وَادَّهَنَّا حَتَّى صَلَحَتْ أَجْسَامُنَا وَحَسُنَتْ سَحْنَاتُنَا قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ جَابِرٌ فَذَكَرْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنْ كَانَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ فَأَطْعِمُونَاهُ قَالَ فَكَانَ مَعَنَا مِنْهُ شَيْءٌ فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ فَأَكَلَ مِنْهُ

گذشتہ روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک غزوہ میں زاد راہ کے طور پر کھجوروں کی ایک تھیلی عطا فرمائی اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں حضرت ابوعبیدہ پہلے تو ہمیں ایک ایک مٹھی کھجوریں دیتے رہے پھر ایک کھجور دینے لگے راوی نے پوچھا کہ آپ ایک کھجور کا کیا کرتے ہوں گے انہوں نے جواب دیا کہ ہم بچوں کی طرح اسے چباتے اور چوستے رہتے پھر اس پر پانی پی لیتے اور رات تک ہمارا یہی کھانا ہوتا تھا ۔ پھر جب کھجوریں ختم ہو گئی تو ہم اپنی لاٹھیوں سے جھاڑ کر درختوں کے پتے گراتے انہیں پانی میں بھگوتے اور کھا لیتے اس طرح ہم شدید بھوک میں مبتلا ہو گئے ایک دن ہم ساحل سمندر پر گئے ہوئے تھے سمندر نے ہمارے لئے ایک مری ہوئی مچھلی پھینکی پہلے تو حضرت ابوعبیدہ کہنے لگے کہ یہ مردار ہے پھر فرمایا کہ ہم غازی اور بھوکے ہیں اس لئے اسے کھاؤ ہم وہاں ایک مہینہ رہے ہم تین سو افراد تھے اور اسے کھا کر خوب صحت مند ہو گئے ہم دیکھتے تھے کہ ہم اس کی آنکھوں کے سوراخوں سے مٹکے سے روغن نکالتے تھے اور اس کا گوشت بیل کی طرح کاٹتے تھے۔ حضرت ابوعبیدہ اس کی ایک پسلی کھڑے کرتے اور اونٹ پر سوار آدمی بھی اس کے نیچے سے گذر جاتا تھا اور پانچ آدمیوں کا ایک گروہ اس کی آنکھوں کے سوراخ میں بیٹھ جاتا تھا ہم نے اسے خوب کھایا اور اس کاروغن جسم پر ملا یہاں تک کہ ہمارے جسم تندرست ہو گئے اور ہمارے رخسار بھر گئے اور مدینہ واپسی کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ خدائی رزق تھا جو اللہ نے تمہیں عطا کیا تھا اگر تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ ہمارے پاس اس کا کچھ حصہ تھا جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس میں سے تناول فرمایا۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14389

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14390

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ قَالَ فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً قَالَ قُلْتُ كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِهَا قَالَ نَمَصُّهَا كَمَا يَمَصُّ الصَّبِيُّ ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنْ الْمَاءِ فَيَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ قَالَ وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِيِّنَا الْخَبَطَ ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ فَنَأْكُلُهُ قَالَ وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ دَابَّةٌ يُدْعَى الْعَنْبَرُ قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَيْتَةٌ قَالَ حَسَنُ بْنُ مُوسَى ثُمَّ قَالَ لَا بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ لَا بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوا وَأَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ حَتَّى سَمِنَّا وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَيْنَيْهِ بِالْقِلَالِ الدُّهْنَ وَنَقْتَطِعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ أَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ قَالَ وَلَقَدْ أَخَذَ مِنَّا أَبُو عُبَيْدَةَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَأَقْعَدَهُمْ فِي وَقْبِ عَيْنِهِ وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَأَقَامَهَا ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ مَعَنَا قَالَ حَسَنٌ ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ كَانَ مَعَنَا فَمَرَّ مِنْ تَحْتِهَا وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكُمْ فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ فَتُطْعِمُونَا قَالَ فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَكَلَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک غزوہ میں زاد راہ کے طور پر کھجوروں کی ایک تھیلی عطا فرمائی اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں حضرت ابوعبیدہ پہلے تو ہمیں ایک ایک مٹھی کھجوریں دیتے رہے پھر ایک کھجور دینے لگے راوی نے پوچھا کہ آپ ایک کھجور کا کیا کرتے ہوں گے انہوں نے جواب دیا کہ ہم بچوں کی طرح اسے چباتے اور چوستے رہتے پھر اس پر پانی پی لیتے اور رات تک ہمارا یہی کھانا ہوتا تھا پھر جب کھجوریں ختم ہو گئی تو ہم اپنی لاٹھیوں سے جھاڑ کر درختوں کے پتے گراتے انہیں پانی میں بھگوتے اور کھا لیتے اس طرح ہم شدید بھوک میں مبتلا ہو گئے ایک دن ہم ساحل سمندر پر گئے ہوئے تھے سمندر نے ہمارے لئے ایک مری ہوئی مچھلی نکالی پہلے تو حضرت ابوعبیدہ کہنے لگے کہ یہ مردار ہے پھر فرمایا کہ ہم غازی اور بھوکے ہیں اس لئے اسے کھاؤ ہم وہاں ایک مہینہ رہے ہم تین سو افراد تھے اور اسے کھا کر خوب صحت مند ہو گئے ہم دیکھتے تھے کہ ہم اس کی آنکھوں کے سوراخوں سے مٹکے سے روغن نکالتے تھے اور اس کا گوشت بیل کی طرح کاٹتے تھے۔ حضرت ابوعبیدہ اس کی ایک پسلی کھڑے کرتے اور اونٹ پر سوار آدمی بھی اس کے نیچے سے گذر جاتا تھا اور پانچ آدمیوں کا ایک گروہ اس کی آنکھوں کے سوراخ میں بیٹھ جاتا تھا ہم نے اسے خوب کھایا اور اس کاروغن جسم پر ملا یہاں تک کہ ہمارے جسم تندرست ہو گئے اور ہمارے رخسار بھر گئے اور مدینہ واپسی کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ خدائی رزق تھا جو اللہ نے تمہیں عطا کیا تھا اگر تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ ہمارے پاس اس کا کچھ حصہ تھا جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس میں سے تناول فرمایا۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرٍ ← هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14390

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14430

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ مَا صَنَعْتَ شَيْئًا قَالَ وَيَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِهِ قَالَ فَيُدْنِيهِ مِنْهُ أَوْ قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ وَيَقُولُ نِعْمَ أَنْتَ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً فَيُدْنِيهِ مِنْهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابلیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر کو روانہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قرب وہ شیطان پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے کہ میں نے ایسا ایسا کر دیا ابلیس کہتا ہے کہ تونے کچھ نہیں کیا دوسرا آکر کہتا ہے کہ میں فلاں شخص کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق نہ کرا دی ابلیس اسے اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تو نے سب سے بڑا کارنامہ سرانجام دیا ۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14430

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14445

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ فَلَمْ يَمَسَّ أَعْقَابَهُمْ الْمَاءُ فَقَالَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ ان کی ایڑیوں تک پانی نہیں پہنچا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔

«وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ». ← رَأَى رَسُولُ اللَّهِ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ فَلَمْ يَمَسَّ أَعْقَابَهُمْ الْمَاءُ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14445

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14496

قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْإِبِلِ قَالَ حَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنِيحَتُهَا وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِيهَا كُلِّهَا وَقَعَدَ لَهَا وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِيهِ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرًا الْأَنْصَارِيَّ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ

گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ ایک آدمی نے یہ سن کر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اونٹوں کا حق کیا ہے آپ نے فرمایا پانی پر اس کا دودھ دوہنا اس کا ڈول کسی کو مانگنے پر دینا اس کا نر مانگنے پر کسی کودینا اسے ہبہ کردینا اور جہاد فی سبیل اللہ کے موقع پر اس پر سوار ہونا۔

رَجُلٌ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14496

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1754

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَعْقُوبَ يُحَدِّثُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَتَهُ وَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَرَّزَ كَانَ أَحَبَّ مَا تَبَرَّزَ فِيهِ هَدَفٌ يَسْتَتِرُ بِهِ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ فَدَخَلَ حَائِطًا لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَإِذَا فِيهِ نَاضِحٌ لَهُ فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَنَّ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ ذِفْرَاهُ وَسَرَاتَهُ فَسَكَنَ فَقَالَ مَنْ رَبُّ هَذَا الْجَمَلِ فَجَاءَ شَابٌّ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ أَنَا فَقَالَ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَّكَكَ اللَّهُ إِيَّاهَا فَإِنَّهُ شَكَاكَ إِلَيَّ وَزَعَمَ أَنَّكَ تُجِيعُهُ وَتُدْئِبُهُ ثُمَّ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَائِطِ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ وَالْمَاءُ يَقْطُرُ مِنْ لِحْيَتِهِ عَلَى صَدْرِهِ فَأَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا فَحَرَّجْنَا عَلَيْهِ أَنْ يُحَدِّثَنَا فَقَالَ لَا أُفْشِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ

It was narrated that 'Abdullah bin Ja'far said: The Messenger of Allah (PBUH) rode on his mule, and he seated me behind him. When the Messenger of Allah (PBUH) relieved himself, what he liked best to conceal himself with was a small hill or a Hadeeth of 'Abdullah bin Ja'far (RA)cluster of date palms. He entered a garden belonging to a man of the Ansar where he found a camel. When it saw the Prophet (PBUH) it groaned with tears in its eyes. - The Messenger of Allah (PBUH) dismounted and stroked behind its ears and on its back and it calmed down. He said: "Who is the owner of this camel?” A young man of the Ansar came and said: Me. He said: "Do you not fear Allah with regard to this animal that Allah has put in your possession? It is complaining to me that you keep it hungry and overburden it with work." Then the Messenger of Allah (PBUH) went into the garden and relieved himself, then he did ivudoo' and came, with the water dripping from his beard onto his chest, and he told me something secret that I shall never tell to anyone. We insisted that he tell us, but he said: I shall not disclose the secret of the Messenger of Allah until I meet Allah.

عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1754

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14573

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ فِي شَنَّةٍ وَإِلَّا كَرَعْنَا قَالَ وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ الرَّجُلُ عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فَانْطَلَقَ بِهِمَا إِلَى الْعَرِيشِ فَسَكَبَ مَاءً فِي قَدَحٍ ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ شَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ کسی انصار کے گھر تشریف لے گئے اور جا کر سلام کیا اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے توٹھیک ہے ورنہ ہم لوگ منہ لگا کرپی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے با غ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لے کر اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمالیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے ساتھ آنے والے صاحب نے پی لیا۔

جَابِرٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحٌ، ← أَبُو عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14573

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14576

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْحُصَيْنُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ يَتَوَضَّأُ مِنْهَا إِذْ جَهَشَ النَّاسُ نَحْوَهُ فَقَالَ مَا شَأْنُكُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لَنَا مَاءٌ نَشْرَبُ مِنْهُ وَلَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا فَقُلْتُ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ كَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر لوگوں کو پیاس نے ستایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف ایک پیالہ تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے لوگ گھبرائے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ہوا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارے پاس پینے کے لئے پانی ہے اور نہ ہی وضو کےلئے سوائے اس پانی کے جو آپ کے سامنے ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالہ میں اپنا دست مبارک رکھ دیا ان انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی طرح ابلنے لگاہم سب نے اسے پیا اور وضو کیا راوی نے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی ہوجاتا لیکن اس وقت ہم صرف پندرہ سو تھے ۔

جَابِرٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْحُصَيْنِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14576

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1835

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الزَّرَّادِ قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أُتِيَ فَقَالَ مَا لِي أَرَاكُمْ تَأْتُونِي قُلْحًا اسْتَاكُوا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمْ السِّوَاكَ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمْ الْوُضُوءَ

It was narrated that Abuz- Zarrad said: Ja'far bin Tammam bin 'Abbas narrated to me that his father said: They came to the Prophet (PBUH), or someone came to him, and he said: "Why do I see you coming to me with yellow and dirty teeth? Use the siwak. Were it not that it would be too difficult for my ummah, I would have obliged them to use the siwak as 1 have obliged them to do wudoo'."

أَتَوْا النَّبِيَّ أَوْ أُتِيَ ← أَبِيهِ ← جعفر بن تمام بن عباس ← أبي علي الزراد، ← سُفْيَانَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْمُنْذِرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1835

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14694

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت سے زائد پانی کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔

بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ. ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14694

chevron_left Previous
1…434445…1,850
Next chevron_right