Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطهارة

Taharah / Purification

36985 hadiths

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 739

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ عَنْ ابْنِ عَمِّهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ فَقَالَ مَنْ قَامَ إِذَا اسْتَقَلَّتْ الشَّمْسُ فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَ عُقْبَةُ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي أَنْ أَسْمَعَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَكَانَ تُجَاهِي جَالِسًا أَتَعْجَبُ مِنْ هَذَا فَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْجَبَ مِنْ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَ فَقُلْتُ وَمَا ذَلِكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَقَالَ عُمَرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ أَوْ قَالَ نَظَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهِنَّ شَاءَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جب بندہ مسلم (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) بندہ مومن وضو کرتے ہوئے اپناچہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ہمراہ (راوی کو شک ہے) یا شاید پانی کے آخری قطرے کے ہمراہ اس کے چہرے سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کی طرف اس نے اپنی آنکھوں کے ذریعے دیکھا تھا جب وہ اپنے دونوں بازو دھوتا ہے پانی کے ہمراہ (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) پانی کے آخری قطرے کے ہمراہ اس کے بازؤں میں سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جو اس کے ہاتھوں نے کیا ہو (اسی طرح دیگر اعضاسے بھی گناہ نکل جاتا ہے اور جب انسان وضو کر کے فارغ ہوتا ہے) تو یہ گناہوں سے پاک ہوچکا ہوتا ہے۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← ابن عمه ← أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ← حَيْوَةُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 739

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 740

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ قَالَ أَمَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَذَا قُلْتُ لَهُ لِمَ فَعَلْتَهُ قَالَ هَكَذَا فَعَلَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ وَصَلَّى الْخَمْسَ تَحَاتَّتْ ذُنُوبُهُ كَمَا تَحَاتَّ هَذَا الْوَرَقُ ثُمَّ قَالَ وَأَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِلَى قَوْلِهِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ

ابوعثمان بیان کرتے ہیں میں حضرت سلمان فارسی کے ہمراہ ایک درخت کے نیچے موجود تھا انہوں نے خشک ٹہنی کو پکڑ کر جھٹکا دیا تو اس کے تمام پتے جھڑ گئے انہوں نے فرمایا کیا تم مجھ سے سوال نہیں کرو گے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ہے؟ میں نے عرض کی آپ نے ایسا کیوں کیا انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے ایسا ہی کیا تھا اور پھر ارشاد فرمایا تھا جب مسلمان وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرنے کے بعد پانچ نمازیں ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے یہ پتے جھڑجاتے ہیں پھر آپ نے یہ تلاوت کی۔ "دن کے دو کناروں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز ادا کرو یہاں تک تلاوت کی یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے۔

أَبِي عُثْمَانَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 740

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 741

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَكَانَ أَحَدُنَا يَكْفِيهِ الْوُضُوءُ مَا لَمْ يُحْدِثْ

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لئے وضو کیا کرتے تھے باقی ہمارے لئے اتنا ہی کافی ہے جب تک وضو نہ ٹوٹے اس وقت تک اسی وضو سے کئی نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَكَانَ أَحَدُنَا يَكْفِيهِ الْوُضُوءُ مَا لَمْ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 741

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 743

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ الْكَلَاعِيُّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الْعَيْنَانِ وِكَاءُ السَّهِ فَإِذَا نَامَتْ الْعَيْنُ اسْتَطْلَقَ الْوِكَاءُ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ تَقُولُ بِهِ قَالَ لَا إِذَا نَامَ قَائِمًا لَيْسَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ

حضرت معاویہ بن ابوسفیان بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آنکھیں (یعنی بیداری) سرین کی نگران ہیں جب آنکھیں سوج جاتی ہیں تو یہ نگرانی ختم ہوجاتی ہے (راوی کہتے ہیں) امام ابومحمد عبداللہ دارمی سے دریافت کیا گیا آپ اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا نہیں جب کوئی شخص کھڑے کھڑے سوجائے تو اس کو وضو نہیں ٹوٹے گا۔

مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ← عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ الْكَلَاعِيُّ ← أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 743

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 744

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ كُنْتُ أَلْقَى مِنْ الْمَذْيِ شِدَّةً فَكُنْتُ أُكْثِرُ الْغُسْلَ مِنْهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّمَا يُجْزِئُكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ قَالَ قُلْتُ فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ قَالَ خُذْ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَانْضَحْهُ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ

حضرت سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں میں مذی کے خروج کے وجہ سے بہت پریشانی کا شکار رہتا تھا اور اس کی وجہ سے اکثر وضو کیا کرتا تھا میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور آپ سے اس کا حکم دریافت کیا آپ نے فرمایا اس کے خروج کی وجہ سے صرف وضو کرلینا کافی ہے میں نے عرض کی اگر میرے کپڑوں کو لگ جائے آپ نے فرمایا تم ایک چلو میں پانی لو اور جہاں سے لگی ہو وہاں سے دھو لو۔

سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← أَبِيهِ ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 744

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 746

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ قَالَ أَبُو مُحَمَّد هَذَا أَوْثَقُ فِي مَسِّ الْفَرْجِ وَقَالَ الْوُضُوءُ أَثْبَتُ

حضرت بسرہ بنت صفوان بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے اسے وضو کرلینا چاہیے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں یہ حدیث زیادہ مستند ہے امام دارمی یہ بھی فرماتے ہیں کہ وضو کرنا زیادہ مستند طور پر ثابت ہے۔

أَبُو مُحَمَّد هَذَا أَوْثَقُ فِي مَسِّ الْفَرْجِ وَقَالَ الْوُضُوءُ أَثْبَتُ ← مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ ← النَّبِيِّ ← بَسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ: أَنَّھَا ← مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ ← عُرْوَةَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 746

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 747

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ تَأْخُذُ بِهِ قَالَ لَا

حضرت زید بن ثابت انصاری فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے آگ پر پکی ہوئی چیز کھا پی لینے سے وضو لازم ہوجاتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں امام دارمی سے دریافت کیا گیا آپ اس حدیث پر عمل کرتے ہیں انہوں نے جواب دیا نہیں۔

عبد الملك بن أبي بكر بن الحارث بن هشام ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 747

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 750

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَالِكٍ قِرَاءَةً عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ الْأَزْرَقِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَمَعَنَا الْقَلِيلُ مِنْ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں ہمارے پاس تھوڑا سا پانی ہوتا ہے اگر ہم اس کے ذریعے وضو کرلیں تو ہم خود پیاسے رہ جائیں گے کیا ہم سمندری پانی سے وضو کرلیا کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔

سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ الْأَزْرَقِ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← مَالِكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 750

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 751

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبُولُ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کوئی بھی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کے بعد اس میں غسل نہ کرے۔

لَا يَبُولُ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← زَائِدَۃَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 751

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 752

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُسْأَلُ عَنْ الْمَاءِ يَكُونُ بِالْفَلَاةِ مِنْ الْأَرْضِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنْ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ فَقَالَ إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ

حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے آپ سے اس پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا جو کسی ویران جگہ پر موجود ہو جو چوپائے پیتے ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب پانی دو قلوں کی مقدار تک پہنچ جائے تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔

«إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ» ← الْمَاءِ يَكُونُ بِالْفَلَاةِ مِنْ الْأَرْضِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنْ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ ← رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ يُسْأَلُ ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ. ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 752

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 753

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنْ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ الْخَبَثَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جہاں سے چوپائے پیتے ہوں اور درندے پیتے ہوں آپ نے جواب دیا جب پانی دو قلوں کی مقدار کے برابر ہو تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔

ابْنِ عُمَرَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 753

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 755

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَامَتْ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلَتْ فِي جَفْنَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فَضْلِهَا يَسْتَحِمُّ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ اغْتَسَلْتُ فِيهِ قَبْلَكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَى الْمَاءِ جَنَابَةٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے ایک خاتون نے ایک برتن میں سے غسل جنابت کیا بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی برتن سے غسل کرنے لگے تو ان خاتون نے عرض کی آپ سے پہلے میں اس برتن سے غسل کرچکی ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی کو جنابت لاحق نہیں ہوئی ہے۔یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 755

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 764

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ فِي الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ فِي الْقَوْمِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ

حضرت ابن عمران بن حصین بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں شریک تھے آپ نے پڑاؤ کیا اور وضو کے لئے پانی منگوا کر وضو کیا پھر نماز کے لئے اذان ہوئی تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھادی جب آپ نماز پڑھا کر فارغ ہوئے تو ایک صاحب الگ کھڑے ہوئے تھے جنہوں نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا اے فلاں تم نے سب کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی انہوں نے عرض کی اے اللہ کے رسول مجھے جنابت لاحق ہوگئی اور پانی موجود نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم مٹی کے ذریعے تیمم کرلیتے یہ تمہارے لئے کافی ہوتا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أبو رجاء العطاردي ← عَوْفٌ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 764

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 765

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَتْهُمَا الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا فَصَلَّيَا ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ بَعْدُ فِي الْوَقْتِ فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلَاةَ بِوُضُوءٍ وَلَمْ يُعِدْ الْآخَرُ ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَا ذَلِكَ فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَتْكَ صَلَاتُكَ وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں دو صاحبان سفر کے لئے روانہ ہوئے ان دونوں کے پاس پانی نہیں تھا ان دونوں نے پاک مٹی سے وضو کر کے نماز ادا کرلی پھر اس نماز کے وقت کے دوران ہی بعد میں ان کو پانی مل گیا تو ان دونوں میں سے ایک نے وضو کرکے نماز دہرا لی اور دوسرے نے نماز کا اعادہ نہیں کیا جب یہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب سے جنہوں نے نماز کا اعادہ نہیں کیا تھا فرمایا تم نے سنت پر عمل کیا ہے اور تمہاری نماز درست ہے اور جن صاحب نے وضو کر کے نماز دوبارہ پڑھی تھی آپ نے ان سے فرمایا تمہیں دوگنا اجر ملے گا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 765

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 766

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي التَّيَمُّمِ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ قَالَ عَبْد اللَّهِ صَحَّ إِسْنَادُهُ

حضرت عمار بن یاسر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے ایک مرتبہ چہرے اور دونوں بازوؤں پر کیا جائے گا۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس کی سند مستند ہے۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← عَزْرَۃَ ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ← عَفَّانُ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 766

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 767

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ قِلَادَةً مِنْ أَسْمَاءَ فَهَلَكَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا فَأَدْرَكَتْهُمْ الصَّلَاةُ فَصَلَّوْا مِنْ غَيْرِ وُضُوءٍ فَلَمَّا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں انہوں نے سیدہ ام اسماء سے ایک ہار عاریۃ لیا جو گم ہوگیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تلاش میں بعض اصحاب کو روانہ کیا اسی دوران نماز کا وقت ہوگیا تو انہوں نے وضو کئے بغیر نماز ادا کرلی جب وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس بات کی شکایت آپ کی خدمت میں کی تو تیمم کی آیت نازل ہوگئی اس وقت اسید بن حضیر نے کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے اللہ کی قسم آپ کو جب بھی کوئی پریشانی لاحق ہوئی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے نجات عطاکی اور مسلمانوں کے لئے اس میں برکت رکھ دی۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 767

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 768

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَغْسِلُ بِهَا فَرْجَهُ فَلَمَّا فَرَغَ مَسَحَهَا بِالْأَرْضِ أَوْ بِحَائِطٍ شَكَّ سُلَيْمَانُ ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ وَجَسَدِهِ فَلَمَّا فَرَغَ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ فَأَعْطَيْتُهُ مِلْحَفَةً فَأَبَى وَجَعَلَ يَنْفُضُ بِيَدِهِ قَالَتْ فَسَتَرْتُهُ حَتَّى اغْتَسَلَ قَالَ سُلَيْمَانُ فَذَكَرَ سَالِمٌ أَنَّ غُسْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا كَانَ مِنْ جَنَابَةٍ

حضرت میمونہ بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لئے پانی رکھا آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں پر اسے انڈیلا اور اس کے ذریعے اپنی شرمگاہ کو دھویا اس کے بعد آپ نے زمین پر راوی کو شک ہے زمین پر یا شاید دیوار پر ہاتھ پھیر کر صاف کیا پھر آپ نے کلی کی ناک میں پانی ڈالا چہرے اور دونوں بازووں کو دھویا پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہایا اور اس کے بعد ذرا سا ہٹ کر دونوں پاؤں دھو لئے میں نے آپ کو کپڑا دینا چاہا تو آپ نے قبول نہیں کیا اور ہاتھ کے ذریعے جسم کو پونچھ لیا۔ حضرت میمونہ بیان کرتی ہیں میں نے پردہ تان لیا تھا یہاں تک کہ آپ غسل کر کے فارغ ہوگئے۔ راوی سلیمان بیان کرتے ہیں سالم فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ غسل، غسل جنابت تھا۔

مَيْمُونَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← سُلَیْمَانَ ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 768

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 769

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُدْخِلُ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُولَ شَعْرِهِ حَتَّى إِذَا خُيِّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَةَ غَرَفَ بِيَدِهِ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ فَصَبَّهَا عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ اغْتَسَلَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد هَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے آغاز میں پہلے دونوں ہاتھ دھوتے تھے پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے تھے پھر اپنی ہتھیلی پانی ڈال کر اس پانی کے ذریعے بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ کو یہ اندازہ ہوتا کہ جلد تک پانی پہنچ گیا ہے پھر آپ دونوں چلوؤں میں پانی لے کر اپنے سر پر بہاتے اور پھر غسل کرلیتے۔ امام دارمی فرماتے ہیں یہ روایت میرے نزدیک سابقہ روایت سے زیادہ پسند ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 769

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 770

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنْ الْجَنَابَةِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل جنابت کیا کرتے تھے۔

وَرَسُولُ اللَّهِ من إناء واحد من الجنابة ← کُنْتُ أَغْتَسِلُ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 770

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 772

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعْرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ فُعِلَ بِهَا كَذَا وَكَذَا مِنْ النَّارِ قَالَ عَلِيٌّ فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي وَكَانَ يَجُزُّ شَعْرَهُ

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص غسل جنابت میں بال برابر جگہ چھوڑ دے یعنی وہاں تک پانی نہ پہنچ سکے تو اس کے ساتھ جنہم میں یہ سلوک کیا جائے گا حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسی وجہ سے میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں۔ راوی کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سر منڈوا دیتے تھے۔

عَلِيٍّ، ← زَاذَانَ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 772

chevron_left Previous
1…161718…1,850
Next chevron_right