Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطهارة

Taharah / Purification

36985 hadiths

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 367

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ قَالَ غَدَوْتُ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ قُلْتُ ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ قَالَ أَلَا أُبَشِّرُكَ قُلْتُ بَلَى فَقَالَ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ

حضرت ذر بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں صبح کے وقت حضرت صفوان بن عسال مرادی کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرایہ ارادہ تھا کہ میں ان سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں دریافت کروں۔ انہوں نے دریافت کیا تم کیوں آئے ہو۔ میں نے عرض کیا علم کی تلاش میں انہوں نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں کوئی خوش خبری سناؤں۔ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا اور اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے طور پر بیان کیا آپ نے ارشاد فرمایا طالب علم کی طلب سے راضی ہو کر فرشتے اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں۔

رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ ← أَلَا أُبَشِّرُكَ قُلْتُ بَلَى ← مَا جَاءَ بِكَ قُلْتُ ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ ← الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ← أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ ← غَدَوْتُ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 367

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 669

أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِيِّ أَخْبَرَنَا زَيْدٌ الْعَمِّيُّ عَنْ بَعْضِ الْفُقَهَاءِ أَنَّهُ قَالَ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ اعْمَلْ بِعِلْمِكَ وَأَعْطِ فَضْلَ مَالِكَ وَاحْبِسْ الْفَضْلَ مِنْ قَوْلِكَ إِلَّا بِشَيْءٍ مِنْ الْحَدِيثِ يَنْفَعُكَ عِنْدَ رَبِّكَ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ إِنَّ الَّذِي عَلِمْتَ ثُمَّ لَمْ تَعْمَلْ بِهِ قَاطِعٌ حُجَّتَكَ وَمَعْذِرَتَكَ عِنْدِ رَبِّكَ إِذَا لَقِيتَهُ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ إِنَّ الَّذِي أُمِرْتَ بِهِ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ لَيَشْغَلُكَ عَمَّا نُهِيتَ عَنْهُ مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ لَا تَكُونَنَّ قَوِيًّا فِي عَمَلِ غَيْرِكَ ضَعِيفًا فِي عَمَلِ نَفْسِكَ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ لَا يَشْغَلَنَّكَ الَّذِي لِغَيْرِكَ عَنْ الَّذِي لَكَ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ جَالِسْ الْعُلَمَاءَ وَزَاحِمْهُمْ وَاسْتَمِعْ مِنْهُمْ وَدَعْ مُنَازَعَتَهُمْ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ عَظِّمْ الْعُلَمَاءَ لِعِلْمِهِمْ وَصَغِّرْ الْجُهَّالَ لِجَهْلِهِمْ وَلَا تُبَاعِدْهُمْ وَقَرِّبْهُمْ وَعَلِّمْهُمْ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ لَا تُحَدِّثْ بِحَدِيثٍ فِي مَجْلِسٍ حَتَّى تَفْهَمَهُ وَلَا تُجِبْ امْرَأً فِي قَوْلِهِ حَتَّى تَعْلَمَ مَا قَالَ لَكَ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ لَا تَغْتَرَّ بِاللَّهِ وَلَا تَغْتَرَّ بِالنَّاسِ فَإِنَّ الْغِرَّةَ بِاللَّهِ تَرْكُ أَمْرِهِ وَالْغِرَّةَ بِالنَّاسِ اتِّبَاعُ أَهْوَائِهِمْ وَاحْذَرْ مِنْ اللَّهِ مَا حَذَّرَكَ مِنْ نَفْسِهِ وَاحْذَرْ مِنْ النَّاسِ فِتْنَتَهُمْ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ إِنَّهُ لَا يَكْمُلُ ضَوْءُ النَّهَارِ إِلَّا بِالشَّمْسِ كَذَلِكَ لَا تَكْمُلُ الْحِكْمَةُ إِلَّا بِطَاعَةِ اللَّهِ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ الزَّرْعُ إِلَّا بِالْمَاءِ وَالتُّرَابِ كَذَلِكَ لَا يَصْلُحُ الْإِيمَانُ إِلَّا بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ كُلُّ مُسَافِرٍ مُتَزَوِّدٌ وَسَيَجِدُ إِذَا احْتَاجَ إِلَى زَادِهِ مَا تَزَوَّدَ وَكَذَلِكَ سَيَجِدُ كُلُّ عَامِلٍ إِذَا احْتَاجَ إِلَى عَمَلِهِ فِي الْآخِرَةِ مَا عَمِلَ فِي الدُّنْيَا يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَحُضَّكَ عَلَى عِبَادَتِهِ فَاعْلَمْ أَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ أَنْ يُبَيِّنَ لَكَ كَرَامَتَكَ عَلَيْهِ فَلَا تَحَوَّلَنَّ إِلَى غَيْرِهِ فَتَرْجِعَ مِنْ كَرَامَتِهِ إِلَى هَوَانِهِ يَا صَاحِبَ الْعِلْمِ إِنَّكَ إِنْ تَنْقُلْ الْحِجَارَةَ وَالْحَدِيدَ أَهْوَنُ عَلَيْكَ مِنْ أَنْ تُحَدِّثَ مَنْ لَا يَعْقِلُ حَدِيثَكَ وَمَثَلُ الَّذِي يُحَدِّثُ مَنْ لَا يَعْقِلُ حَدِيثَهُ كَمَثَلِ الَّذِي يُنَادِي الْمَيِّتَ وَيَضَعُ الْمَائِدَةَ لِأَهْلِ الْقُبُورِ

زید بیان کرتے ہین ایک عالم نے یہ بات بیان کی ۔ اے صاحب علم اپنے علم پر عمل کرو اور اپنا اضافی مال مستحق لوگوں کو دے دو اور فضول گفتگو نہ کرو۔ صرف وہی بات کرو جو تمہارے پروردگار کی بارگاہ میں تمہیں فائدہ پہنچائے۔ اے صاحب علم جس چیز کا تم نے علم حاصل کیا ہے پھر اس پر عمل نہیں کیا جب تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوگے تو وہ چیز تمہاری حجت کو توڑ دے گی اور تمہاری معذرت کو ختم کردے گی۔ اے صاحب علم۔ تمہیں اللہ کی جب عبادت کا حکم دیا گیا ہے وہ تمہیں اس کی اس نافرمانی سے روکے گی جس سے تمہیں منع کیا گیا ہے اے صاحب علم تم دوسروں کی طرف سے عمل کرنے میں طاقت ور ہو اور اپنی ذات کے طرف سے عمل کرنے میں کمزور نہ ہوجانا۔ اے صاحب علم تم علماء کی تعظیم کرو ان کی خدمت میں حاضر ہوجاؤ ان کی باتیں غور سے سنو اور ان سے بحث نہ کرو۔ اے صاحب علم! علماء کو ان کے علم کی وجہ سے عظیم سمجھو اور جہلاء کو ان کی جہالت کی وجہ سے کم سمجھو لیکن ان سے دوری اختیار نہ کرو۔ بلکہ ان کے قریب رہو اور ان کو تعلیم دو۔ اے صاحب علم کسی محفل میں اس وقت تک کوئی بات نہ کرو جب تک تمہیں اس بات کی سمجھ نہ آجائے اور کسی بھی شخص کی بات کا اس وقت تک جواب نہ دوجب تک یہ جان نہ لو کہ اس نے تم سے کیا کہا۔ اے صاحب علم۔ اللہ کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہ ہونا اور لوگوں کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہ ہونا۔ اللہ کے بارے میں غلط فہمی یہ ہے کہ اس کے حکم کو چھوڑ دیا جائے اور لوگوں کے بارے میں یہ غلط فہمی ہے کہ ان کی نفسانی خواہشات کی پیروی کی جائے اور اللہ کے بارے میں ہر اس چیز سے بچو جس کے بارے میں بچنے کی اس نے تلقین کی ہے اور لوگوں کے حوالے سے فتنے سے بچو۔ اے صاحب علم ہر مسافر کے پاس زاد راہ موجود ہوتا ہے کیونکہ بہت جلد اسے اس سامان کی ضرورت پیش آجاتی ہے اسی طرح ہر عمل کرنے والا شخص آخرت میں اپنے عمل کی ضرورت محسوس کرے گا جو عمل اس نے دنیا میں کیا ہوگا۔ اے صاحب علم جب اللہ اس بات کا ارادہ کرے کہ وہ اپنی عبادت کی تمہیں ترغیب دے تو یہ بات جان لو کہ اس نے اس بات کا ارادہ کیا ہے کہ اپنی بارگاہ میں تمہاری بزرگی کو تمہارے سامنے ظاہر کردے۔ اس لئے تم اس کے علاوہ کسی اور کی طرف نہ جانا ورنہ بزرگی بے عزتی میں تبدیل ہوجائے گی۔ اے اہل علم تمہارا پتھر اور لوہا منتقل کرنا تمہارے نزدیک اس بات سے زیادہ آسان ہونا چاہیے کہ تم کوئی ایسی بات بیان کرو جس کی تمہیں خود بھی سمجھ نہ ہو۔ جو شخص کوئی ایسی بات بیان کرتا ہے جس کی اسے خود سمجھ نہ ہو۔ اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو مردے کو مخاطب کرتا ہے اور قبرستان والوں کے سامنے دسترخوان رکھ دیتا ہے۔

بَعْضِ الْفُقَهَاءِ، ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِیُّ ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 669

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 674

أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبَانُ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ يَمْلَآَنِ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالْوُضُوءُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ وَكُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا

حضرت ابومالک اشعری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں طہارت نصف ایمان ہے اور الحمدللہ میزان یعنی نیکیوں کے پلڑے کو بھر دیتا ہے اور لاالہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہنا آسمان اور زمین میں موجود خلا کو بھر دیتے ہیں نماز نور ہے صدقہ برہان ہے وضو روشنی ہے قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے ہر شخص روزانہ اپنے نفس کا سودا کرتا ہے یا تو وہ اپنے آپ کو شیطان سے آزاد کروا لیتا ہے یا ہلاکت کا شکار کردیتا ہے۔

أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زيد1 ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 674

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 675

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ عَقَدَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِي أَوْ قَالَ عَقَدَهُنَّ فِي يَدِهِ وَيَدُهُ فِي يَدِي سُبْحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَاللَّهُ أَكْبَرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالْوُضُوءُ نِصْفُ الْإِيمَانِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ

جرمی نہدی بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ پر ان باتوں کو گنا، راوی کو شک ہے یا شاید الفاظ یہ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پر ان باتوں کو گنا اور آپ کا دست اقدس میرے ہاتھ میں تھا وہ باتیں یہ تھیں۔ سبحان اللہ پڑھنا نصف میزان کے برابر ہے اور الحمدللہ پڑھنا میزان کے نیکیوں کے پلڑے کو بھر دیتا ہے اللہ اکبر کہنا آسمان اور زمین کے خلا کو بھردیتا ہے۔ وضو نصف ایمان اور روزہ نصف صبر ہے۔

عَقَدَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ فِي يَدِي أَوْ ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ← جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ، ← أَبِي إِسْحَقَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 675

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 676

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ وَالْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ وَقَالَ الْآخَرُ إِنَّ مِنْ خَيْرِ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةَ وَلَنْ يُحَافِظَ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ

حضرت ثوبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں سیدھے رہو، حالانکہ تم لوگ مکمل طور پر سیدھے نہیں رہ سکتے، یہ جان لو کہ تمہارا سب سے بہتر عمل نماز پڑھنا ہے ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں تمہارے بہترین اعمال نماز پڑھنا بھی شامل ہے۔ اور حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں صرف مومن وضو کی حفاظت کرتا ہے۔

ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشُ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 676

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 677

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ قَالَ حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ أَنَّ أَبَا كَبْشَةَ السَّلُولِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ وَلَنْ يُحَافِظَ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ

حضرت ثوبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں درست راستہ اختیار کرو ایک دوسرے کے قریب رہو تمہارا سب سے بہتر عمل نماز پڑھنا ہے اور صرف مومن ہی وضو کی حفاظت کرسکتا ہے۔

ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَّهُ ← حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، أَنَّ أَبَا كَبْشَةَ السَّلُولِيَّ ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 677

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 679

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قُلْتُ أَرَأَيْتَ تَوَضُّؤَ ابْنِ عُمَرَ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ عَمَّ ذَلِكَ قَالَ حَدَّثَتْهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي عَامِرٍ حَدَّثَهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرَ بِالْوُضُوءِ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ أُمِرَ بِالسِّوَاكِ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَرَى أَنَّ بِهِ عَلَى ذَلِكَ قُوَّةً فَكَانَ لَا يَدَعُ الْوُضُوءَ لِكُلِّ صَلَاةٍ

محمد بن یحییٰ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ سے دریافت کیا آپ کے علم کے مطابق کیا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ہر نماز کے وقت از سر نو وضو کرتے تھے خواہ وہ پہلے سے باوضو ہوں یا نہ ہوں۔ عام طور پر ایسا ہی ہوتا تھا تو انہوں نے جواب دیا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو اسماء بنت زید بن خطاب نے یہ بات بتائی تھی کہ حضرت عبداللہ بن حنظلہ نے انہیں یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے وقت وضو کرنے کا حکم دیا ہے خواہ وہ انسان باوضو ہو یا بے وضو ان میں یہ صلاحیت ہے کہ ہر وہ نماز کے وقت وضو کرلیا کریں۔ اسی لئے وہ کسی بھی نماز کے وقت وضوترک نہیں کرتے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 679

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 698

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ذَرٍّ عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ نَجَبَةَ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي وَكَانَتْ تَحْتَ حُذَيْفَةَ أَنَّ حُذَيْفَةَ كَانَ يَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ

مسیب بیان کرتے ہیں میری پھوپھی جو حضرت حذیفہ کی اہلیہ تھی نے مجھے یہ بات بتائی کہ حضرت حذیفہ پانی کے ذریعے استنجا کیا کرتے تھے۔

حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي وَكَانَتْ تَحْتَ حُذَيْفَةَ أَنَّ حُذَيْفَةَ كَانَ يَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ ← الْمُسَيَّبِ بْنِ نَجَبَةَ ← ذَرٍّ، ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 698

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 702

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے مسواک کے بارے میں تمہیں بکثرت تاکید کرتا ہوں۔

أَنَسٍ، ← شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، ← سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 702

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 703

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ

حضرت سعد بن مالک بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمہیں مسواک کے بارے میں بکثرت تاکید کرتا ہوں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 703

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 704

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِهِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ قَالَ أَبُو مُحَمَّد يَعْنِي السِّوَاكَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا خیال نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے وقت اس بات کا حکم دیتا۔ امام دارمی فرماتے ہیں یعنی مسواک کرنے کا حکم دیتا۔

أَبُو مُحَمَّد يَعْنِي السِّوَاكَ ← لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِهِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 704

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 705

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ هُوَ الْقَطْوَانِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسواک منہ کو صاف کردیتی ہے اور پروردگار کو راضی کردیتی ہے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ هُوَ الْقَطْوَانِيُّ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 705

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 706

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُصَيْنٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى التَّهَجُّدِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ

حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تہجد کی نماز کے لئے اٹھتے تو آپ منہ میں مسواک کرلیا کرتے تھے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا قَامَ إِلَى التَّهَجُّدِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ ← حُذَيْفَةَ ← أَبَا وَائِلٍ، ← حُصَيْنٍ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 706

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 719

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ قَالُوا بَلَى قَالَ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكْرُوهَاتِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ

حضرت ابوسعید بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کیا میں ایسی چیزوں کے بارے میں رہنمائی نہ کروں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو ختم کردیتا ہے اور جن کے ذریعے نیکیوں میں اضافہ کردیتا ہے لوگوں نے عرض کی جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس وقت ناپسند ہو اس وقت اچھی طرح وضو کرنا اور مسجد کی طرف دور سے چل کر آنا اور ایک نماز پڑھ لینے کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ یہ اعمال گناہوں کو ختم کردیتے ہیں اور نیکیوں میں اضافہ کردیتے ہیں۔

إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكْرُوهَاتِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ← بَلٰی ← أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ ← النَّبِيِّ أَنَّهُ سَمِعَهُ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 719

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 721

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْجَهْضَمِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْنَا بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہمیں اچھی طرح وضو کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

أُمِرْنَا بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبِي الْجَهْضَمِ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 721

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 727

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا جَعْفَرٌ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ أَبِي يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ

حضرت عبداللہ بن عمرو روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وضو کے دوران خشک رہ جانے والی ایڑیوں کے لئے جہنم کی بربادی ہے اچھی طرح وضو کیا کرو۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي يَحْيَى، ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَعْفَرٌ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 727

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 728

أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ يَمُرُّ بِنَا وَالنَّاسُ يَتَوَضَّئُونَ مِنْ الْمِطْهَرَةِ وَيَقُولُ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد هَذَا أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو

محمد بن زیاد بیان کرتے ہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے کچھ لوگ اس وقت وضو کر رہے تھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے اچھی طرح وضو کیا کرو کیونکہ حضرت ابوقاسم نے ارشاد فرمایا ہے وضو کے دوران خشک رہ جانے والی ایڑھیوں کے لئے جہنم کی بربادی ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں مجھے یہ روایت عبداللہ بن عمرو سے منقول روایت سے زیادہ پسند ہے۔

أَبُو مُحَمَّد هَذَا أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبُو الْقَاسِمِ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ ← كَانَ يَمُرُّ بِنَا وَالنَّاسُ يَتَوَضَّئُونَ مِنْ الْمِطْهَرَةِ وَيَقُولُ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 728

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 733

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَأَلْتُ مَيْمُونَةَ خَالَتِي عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَتْ كَانَ يُؤْتَى بِالْإِنَاءِ فَيُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَسَائِرَ جَسَدِهِ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ ثُمَّ يُؤْتَى بِالْمِنْدِيلِ فَيَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيَنْفُضُ أَصَابِعَهُ وَلَا يَمَسُّهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا برتن رکھ دیا جاتا آپ اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر شرمگاہ اور اس پر موجود نجاست وغیرہ دھوتے پھر آپ نماز کے وضو جیسا وضو کرتے اور پھر اپنے سر کو دھوتے اور پھر تمام جسم کو دھولیتے پھر آپ اس جگہ سے ہٹ کر دونوں پاؤں دھو لیتے پھر آپ کو رومال پیش کیا جاتا آپ اسے ایک طرف کردیتے اور اپنی انگلیوں کے ذریعے پانی جھاڑ لیتے رومال استعمال نہیں کرتے۔

غُسْلِ النَّبِيِّ مِنْ الْجَنَابَةِ ← سَأَلْتُ مَيْمُونَةَ خَالَتِي ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 733

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 735

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ يَعْنِي الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ

حضرت علی بن ابوطالب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لئے یہ مدت تین دن اور تین راتیں جبکہ مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات مقرر کی۔ راوی کہتے ہیں یعنی موزوں پر مسح کرنے کی مدت۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 735

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 736

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى النَّعْلَيْنِ فَوَسَّعَ ثُمَّ قَالَ لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ لَرَأَيْتُ أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا قَالَ أَبُو مُحَمَّد هَذَا الْحَدِيثُ مَنْسُوخٌ بِقَوْلِهِ تَعَالَى وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ

عبد خیر بیان کرتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا انہوں نے جوتوں پر مسح کیا اور اچھی طرح مسح کیا اور فرمایا جس طرح تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میری رائے کے مطابق پاؤں کے اوپروالے حصے کے بجائے نیچے والا حصہ مسح کا زیادہ حق دار ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں یہ حدیث اللہ کے اس فرمان سے منسوخ ہے اپنے سروں کامسح کرو اور اپنے پاؤں ایڑیوں تک دھو لو۔

عبد خير ← أَبِي إِسْحَقَ ← يُونُسَ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 736

chevron_left Previous
1…151617…1,850
Next chevron_right