Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

المعاملات والتجارة

Business & Transactions

25059 hadiths

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · كتاب الفرئض ‹ (12) ميراث ولاية العصبة · حديث 3058

3058 - قَالَ مَالِكٌ: كُلُّ شَيْءٍ سُئِلْتَ عَنْهُ مِنْ مِيرَاثِ الْعَصَبَةِ , فَإِنَّهُ عَلَى نَحْوِ هَذَا النسب: ينْسُبِ الْمُتَوَفَّى وَمَنْ يُنَازِعُ فِي الوِلاَيَة مِنْ العَصَبَتِهِ، فَإِنْ وَجَدْتَ أَحَدًا مِنْهُمْ يَلْقَى الْمُتَوَفَّى إِلَى أَبٍ لاَ يَلْقَاهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَى أَبٍ دُونَهُ، فَاجْعَلْ مِيرَاثَهُ لِلَّذِي يَلْقَاهُ إِلَى الأََبِ الأََدْنَى، دُونَ مَنْ يَلْقَاهُ إِلَى فَوْقِ ذَلِكَ، فَإِنْ كان يلقاه إلى أب فوقه فاجعل ميراثه للذي يلقاه إلى الأب الأدنى دون من يلقاه إلى من فوق ذلك فإذا وَجَدْتَهُمْ كُلَّهُمْ يَلْقَوْنَهُ إِلَى أَبٍ وَاحِدٍ يَجْمَعُهُمْ جَمِيعًا، فَانْظُرْ أَقْعَدَهُمْ فِي النَّسَبِ، فَإِنْ كَانَ أَبٍ فَقَطْ، فَاجْعَلِ الْمِيرَاثَ لَهُ دُونَ الأََطْرَفِ، وَفإِنْ كَانَوا بْنَو أَبٍ وَأُمٍّ، ووَجَدْتَهُمْ مُسْتَوِينَ مِنْ عَدَدِ الآبَاءِ إِلَى عَدَدٍ وَاحِدٍ، حَتَّى يَلْقَوْا نَسَبَ الْمُتَوَفَّى جَمِيعًا، وَكَانُوا كُلُّهُمْ بَنِي أَبٍ وَأُمٍّ، أَوْ بَنِي أَبٍ جَمِيعًا، فَاجْعَلِ الْمِيرَاثَ بَيْنَهُمْ بالسَوَية، فإِنْ كَانَ وَالِدُ بَعْضِهِمْ أَخَا لوَالِدِ الْمُتَوَفَّى لأََبِيه وَأمِّه، وَكَانَ مَنْ سِوَاهُ مِنْهُمْ , إِنَّمَا هُم أَخُوة والد الْمُتَوَفَّى لأَبِيهِ فَقَطْ، فَإِنَّ الْمِيرَاثَ لِبَنِي أَخِي الْمُتَوَفَّى لأَبِيهِ وَأُمِّهِ، دُونَ بَنِي الأََخِ لِلأََبِ قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يقَولَ فِي كِتَابِهِ: {وَأُولُو الأََرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللهِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} .

فِي كِتَابِهِ:

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 3058

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · كتاب الفرئض ‹ (12) ميراث ولاية العصبة · حديث 3059

3059 - قَالَ مَالِكٌ: وَالْجَدُّ أَبُو الأََبِ أَوْلَى مِنَ الْعَمِّ أَخِي الأََبِ لِلأََبِ , وَالأَُمِّ بِالْمِيرَاثِ، وَابْنُ الأََخِ أَوْلَى مِنَ الْجَدِّ بِوَلاَءِ الْمَوَالِي.

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 3059

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · كتاب الفرئض ‹ (13) من لا ميراث له · حديث 3060

3060 - قَالَ مَالِكٌ: الأََمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا، وَالَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا: أَنَّ ابْنَ الأََخِ لِلأَُمِّ، وَالْجَدَّ أَبَا الأَُمِّ، وَالْعَمَّ أَخَا الأََبِ لِلأَُمِّ، وَالْخَالَ، وَالْجَدَّةَ أُمَّ أَبِي الأَُمِّ، وَابْنَةَ الأََخِ لِلأََبِ، وَالْعَمَّةَ، وَالْخَالَةَ، لاَ يَرِثُونَ بِأَرْحَامِهِمْ شَيْئًا. وَإِنَّهُ لاَ تَرِثُ امْرَأَةٌ، هِيَ أَبْعَدُ نَسَبًا مِنَ الْمُتَوَفَّى، مِمَّنْ سُمِّيَ فِي هَذَا الْكِتَابِ، بِأرَحِامِهَم شَيْئًا، وَإِنَّهُ لاَ يَرِثُ أَحَدٌ مِنَ النِّسَاءِ شَيْئًا، إِلاَّ حَيْثُ سُمِّى اللَّهُ فِي كِتَابِهِ: مِيرَاثَ الأَُمِّ مِنْ وَلَدِهَا، وَمِيرَاثَ الْبَنَاتِ مِنْ أَبِيهِنَّ، وَمِيرَاثَ الزَّوْجَةِ مِنْ زَوْجِهَا، وَمِيرَاثَ الأََخَوَاتِ لِلأََبِ، وَمِيرَاثَ الأََخَوَاتِ لِلأَُمِّ، وَوَرِثَتِ الْجَدَّةُ بِالَّذِي جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، وَالْمَرْأَةُ تَرِثُ مَنْ أَعْتَقَتْ هِيَ نَفْسُهَا أو أعتقه مولاها، لأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ: {فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ} .

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 3060

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 407

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: شكا الناس إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قحوط المطر فامر بمنبر فوضع له بالمصلى ووعد الناس يوما يخرجون فيه قالت عائشة: فخرج رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حين بدا حاجب الشمس فقعد على المنبر فكبر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وحمد الله عز وجل ثم قال: «إنكم شكوتم جدب دياركم وقد امركم الله ان تدعوه ووعدكم ان يستجيب لكم» ثم قال: «‏‏‏‏الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحيم ملك يوم الدين لا إله إلا الله يفعل ما يريد اللهم انت الله لا إله إلا انت انت الغني ونحن الفقراء انزل علينا الغيث واجعل ما انزلت علينا قوة وبلاغا إلى حين» ثم رفع يديه فلم يزل حتى رئي بياض إبطيه ثم حول إلى الناس ظهره وقلب رداءه وهو رافع يديه ثم اقبل على الناس ونزل فصلى ركعتين فانشا الله سحابة فرعدت وبرقت ثم امطرت. رواه ابو داود وقال غريب وإسناده جيد. وقصة التحويل في الصحيح من حديث عبد الله بن زيد وفيه: فتوجه إلى القبلة يدعو ثم صلى ركعتين جهر فيهما بالقراءة. وللدارقطني من مرسل ابي جعفر الباقر: وحول رداءه ليتحول القحط.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ میں منبر لے جانے کا حکم دیا، چنانچہ منبر عید گاہ میں لا کر رکھ دیا گیا۔ لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا جس میں وہ سارے باہر نکلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس وقت نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہوا۔ تشریف لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ گئے اور «الله اكبر» کہا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کی پھر (لوگوں سے مخاطب ہو کر) فرمایا ”تم لوگوں نے اپنے علاقوں کی خشک سالی کا شکوہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ تو تمہیں یہ حکم دے چکا ہے کہ اس سے دعا کرو وہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا۔“ پھر فرمایا ”تعریف اللہ ہی کے لیے سزاوار ہے جو کائنات کا پروردگار ہے۔ لوگوں کے حق میں بڑا مہربان اور ہمیشہ مہربان ہے۔ روز جزا کا مالک ہے۔ اللہ کے سوا دوسرا کوئی معبود نہیں۔ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔ الٰہی! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں۔ تو غنی ہے اور ہم فقیر و محتاج ہیں۔ ہم پر باران رحمت کا نزول فرما۔ جو کچھ تو ہمارے اوپر نازل فرمائے اسے ہمارے لیے روزی اور مدت دراز تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں دست مبارک اوپر اٹھائے کہ وہ بتدریج آہستہ آہستہ اوپر اٹھتے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی۔ پھر لوگوں کی جانب اپنی پشت کر کے کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر کو پھیر کر پلٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے ہوئے تھے پھر لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور دو رکعت نماز پڑھائی۔ اسی لمحہ اللہ تعالیٰ نے آسمان پر بادل پیدا کیا۔ وہ بدلی گرجی اور چمکی اور بارش ہونے لگی۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اسے غریب کہا ہے اور اس کی سند نہایت عمدہ و جید ہے۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما کی روایت میں (تبدیلی چادر) کا قصہ اس طرح ہے ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور دعا فرماتے رہے، پھر دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ ان میں قرآت بلند آواز سے کی۔“ اور دارقطنی میں ابو جعفر باقر کی مرسل روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اس لیے پھیر کر بدلی کہ قحط سالی بھی اسی طرح پھر جائے۔

عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 407

بلوغ المرام · كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 524

وعن جبير بن مطعم رضي الله عنه قال: مشيت انا وعثمان بن عفان إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم،‏‏‏‏ فقلنا: يا رسول الله! اعطيت بني المطلب من خمس خيبر وتركتنا،‏‏‏‏ ونحن وهم بمنزلة واحدة؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إنما بنو المطلب وبنو هاشم شيء واحد» .‏‏‏‏ رواه البخاري.

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے بنو عبدالمطلب کو خیبر کے خمس میں حصہ عنایت فرمایا ہے اور ہمیں نظرانداز فرمایا حالانکہ ہم اور وہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم رشتہ کے اعتبار سے) ایک ہی مرتبہ کے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بنو عبدالمطلب اور بنو ہاشم ایک ہی چیز ہیں۔“ (بخاری)

وعثمان بن عفان إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم،‏‏‏‏ فقلنا: ← مشيت ← وعن جبير بن مطعم

Bulugh Al Maram · The Book of Zakat › Chapter · Hadith 524

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 663

وعنه ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن بيع الولاء وعن هبته. متفق عليه.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے فروخت کرنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری و مسلم)

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 663

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 666

وعنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن بيعتين في بيعة. رواه احمد والنسائي،‏‏‏‏ وصححه الترمذي وابن حبان. ولابي داود: «من باع بيعتين في بيعة فله اوكسهما او الربا» .

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیعوں سے منع فرمایا ہے۔ (احمد و نسائی) اور ترمذی اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ جس کسی نے ایک چیز کی دو قیمتیں مقرر کیں، وہ یا تو کم قیمت لے لے، یا پھر وہ سود ہو گا۔

نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← وعنه

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 666

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 685

وعن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «الخراج بالضمان» . رواه الخمسة،‏‏‏‏ وضعفه البخاري وابو داود،‏‏‏‏ وصححه الترمذي وابن خزيمة وابن الجارود وابن حبان والحاكم وابن القطان.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آمدن ضمان (کفالت) کا بدلہ ہے۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ بخاری اور ابوداؤد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ ترمذی، ابن خزیمہ، ابن جارود، ابن حبان، حاکم اور ابن قطان نے اسے صحیح کہا ہے۔

عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 685

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 695

عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال:«‏‏‏‏هم سواء» .‏‏‏‏ رواه مسلم. وللبخاري نحوه من حديث ابي جحيفة

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے، دینے والے اور اس کے تحریر کرنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے۔ نیز فرمایا کہ ”(گناہ کے ارتکاب میں) دہ سب مساوی اور برابر ہیں۔“ مسلم اور بخاری میں ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث بھی اسی طرح ہے۔

جَابِرٍ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 695

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 696

وعن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏الربا ثلاثة وسبعون بابا ايسرها مثل ان ينكح الرجل امه وإن اربى الربا عرض الرجل المسلم» .‏‏‏‏ رواه ابن ماجه مختصرا والحاكم بتمامه وصححه.

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سود کے تہتر درجے ہیں۔ سب سے کم تر درجہ اس گناہ کے مثل ہے کہ کوئی آدمی اپنی ماں کے ساتھ نکاح کرے اور سب سے بڑھ کر سود کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے۔“ اسے ابن ماجہ نے مختصراً اور حاکم نے مکمل بیان کیا ہے اور اسے صحیح بھی قرار دیا ہے۔

النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 696

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 706

وعن ابي امامة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «من شفع لاخيه شفاعة فاهدى له هدية فقبلها فقد اتى بابا عظيما من ابواب الربا» .‏‏‏‏ رواه احمد وابو داود وفي إسناده مقال.

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”جس کسی نے اپنے بھائی کے لیے کوئی سفارش کی (اس کے بعد) وہ اسے کوئی تحفہ دے اور وہ اسے قبول کر لے تو وہ سود کے بہت ہی بڑے دروازے پر پہنچ گیا۔“ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کلام ہے۔

النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← اَبِیْ اُمَامَۃَ،

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 706

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 711

وعن ابن عمر رضي الله عنهما: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن بيع الكالىء بالكالىء. يعني الدين بالدين. رواه إسحاق والبزار بإسناد ضعيف.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھار کے بدلہ ادھار یعنی قرض کے بدلہ قرض کو فروخت کرنا ممنوع فرمایا ہے۔ اسے اسحٰق اور بزار نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 711

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 724

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا يغلق الرهن من صاحبه الذي رهنه له غنمه وعليه غرمه» . رواه الدارقطني والحاكم ورجاله ثقات إلا ان المحفوظ عند ابي داود وغيره إرساله.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مرھونہ (گروی شدہ) چیز اس کے مالک کیلئے روکی اور بند نہیں کی جائے گی۔ اس کا فائدہ بھی اسی کیلئے ہے اور تاوان کا بھی وہی ذمہ دار ہے۔“ اسے دارقطنی اور حاکم نے روایت کیا ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں۔ ابوداؤد وغیرہ کے نزدیک اس کا مرسل ہونا محفوظ ہے۔

وعنه

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 724

بلوغ المرام · كتاب الجامع ‹ باب · حديث 1317

وعن معاوية رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين» ‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا معاویہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ جس شخص سے بھلائی و خیر کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔“ (بخاری و مسلم)

مُعَاوِيَةَ،

Bulugh Al Maram · The Whole Book › Chapter · Hadith 1317

بلوغ المرام · كتاب الجامع ‹ باب · حديث 1326

وعن تميم الداري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏الدين النصيحة» ‏‏‏‏ ثلاثا قلنا: لمن يا رسول الله؟ قال: «‏‏‏‏لله ولكتابه ولرسوله ولائمة المسلمين وعامتهم» ‏‏‏‏ اخرجه مسلم.

سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” دین (دین اسلام) وعظ و نصیحت کا نام ہے۔“ تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا۔ ہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! یہ نصیحت کا حق کس کے لیے ہے؟ فرمایا ” اللہ کے لیے اس کی کتاب کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور مسلمانوں کے آئمہ کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے۔“ (مسلم)

تَمِيمٍ الدَّارِيِّ،

Bulugh Al Maram · The Whole Book › Chapter · Hadith 1326

بلوغ المرام · كتاب الجامع ‹ باب · حديث 1350

وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏اللهم إني اعوذ بك من غلبة الدين وغلبة العدو وشماتة الاعداء» .‏‏‏‏ رواه النسائي وصححه الحاكم.

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من غلبة الدين وغلبة العدو وشماتة الأعداء» ” الٰہی! میں تجھ سے قرض کے غلبہ، دشمن کے غالب آنے اور دشمنوں کے خوش ہونے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ نسائی نے اسے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو

Bulugh Al Maram · The Whole Book › Chapter · Hadith 1350

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 55

وعن علي رضي الله عنه انه قال: لو كان الدين بالراي لكان اسفل الخف اولى بالمسح من اعلاه،‏‏‏‏ وقد رايت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يمسح على ظاهر خفيه. اخرجه ابو داود بإسناد حسن.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ”اگر دین کا دارومدار رائے اور عقل پر ہوتا تو موزوں کی نچلی سطح پر مسح اوپر کی بہ نسبت زیادہ قرین قیاس تھا۔ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزے کے بالائی حصہ پر مسح کرتے دیکھا ہے۔“ ابوداؤد نے اس کو حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

عَلِیٍّ اَنَّہٗ

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 55

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 200

وعنه رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «إذا رايتم من يبيع او يبتاع في المسجد؛ فقولوا له: لا اربح الله تجارتك» .‏‏‏‏ رواه النسائي والترمذي وحسنه.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے یہ روایت بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جب تم کسی شخص کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے دیکھو تو اسے کہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاروبار و تجارت میں نفع نہ دے۔ “ اس حدیث کو ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

Bulugh Al Maram · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 200

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 740

وعن ابي هريرة رضي الله تعالى عنه: ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كان يؤتى بالرجل المتوفى عليه الدين فيسال: «‏‏‏‏هل ترك لدينه من قضاء؟» ‏‏‏‏ فإن حدث انه ترك وفاء صلى عليه وإلا قال: «‏‏‏‏صلوا على صاحبكم» ‏‏‏‏ فلما فتح الله عليه الفتوح قال:«‏‏‏‏انا اولى بالمؤمنين من انفسهم فمن توفي وعليه دين فعلي قضاؤه» .‏‏‏‏ متفق عليه. وفي رواية للبخاري: «‏‏‏‏فمن مات ولم يترك وفاء» .‏‏‏‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقروض آدمیوں کے جنازے لائے جاتے تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے تھے کہ ”کیا اس نے قرضہ کی ادائیگی کیلئے کچھ چھوڑا ہے؟“ اگر بتایا جاتا کہ اس نے اپنا مال چھوڑا ہے تو اس کی نماز جنازہ پڑھاتے ورنہ فرما دیتے کہ ”جاؤ تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔“ پھر جب اللہ تعالیٰ نے فتوحات کے دروازے کھول دیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں مومنوں کو ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوں۔ لہٰذا اب جو شخص فوت ہو جائے اور اس پر قرضہ کا بار ہو تو اس قرضہ کی ادائیگی میرے ذمہ ہے۔“ (بخاری و مسلم) اور بخاری کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ”جو آدمی مر گیا اور اس نے اتنا ترکہ پیچھے نہیں چھوڑا جو قرضہ کی ادائیگی کیلئے کافی ہو۔“

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 740

بلوغ المرام · كتاب البيوع ‹ باب · حديث 789

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏العائد في هبته كالكلب يقيء ثم يعود في قيئه» . متفق عليه. وفي رواية للبخاري: «‏‏‏‏ليس لنا مثل السوء الذي يعود في هبته كالكلب يقيء ثم يرجع في قيئه» .

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہبہ کر کے اسے واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو خود قے کرتا ہے اور پھر اسے کھا لیتا ہے۔“ (بخاری و مسلم) اور بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ ” ہمارے لیے اس سے بری مثال اور کوئی نہیں کہ جو شخص اپنے ہبہ کو دے کر واپس لیتا ہے وہ اس کتے کی مانند ہے جو خود ہی قے کرتا ہے اور پھر اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔“

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · Sales book › Chapter · Hadith 789

chevron_left Previous
1…323334…1,253
Next chevron_right