حضرت ابوزرعہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا تین آدمی مسلمانوں میں سے مروان بن حکم کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے ان سے سنا نشانیوں کے متعلق بیان کر رہے تھے کہ نشانیوں میں سے پہلی نشانی دجال کا نکلنا ہے وہ لوگ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور جو مروان بن حکم سے نشانیوں سے متعلق سنا تھا وہ حضرت عبداللہ سے بیان کیا کہ پہلی نشانی دجال کا نکلنا ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مروان نے کوئی بات بیان نہیں کی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ پہلی نشانی نشانیوں میں سے نکلنے میں سورج کا طلوع ہونا ہے مغرب سے یا جانور کا نکلنا ہے لوگوں پر چاشت کے وقت اور ان دونوں نشانیوں میں سے جو بھی دوسری نشانی سے پہلے ہوگی دوسری اس کے پیچھے قریب ہی واقع ہو جائے گی بھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ کتابیں پڑھتے تھے کہ میرا گمان ہے کہ ان دونوں نشانیوں سے پہلی سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہوگی اور یہ اس وجہ سے کہ جب بھی وہ غروب ہوتا ہے عرش کے نیچے آتا ہے اور دوبارہ طلوع کی اجازت چاہتا ہے اسے دوبارہ طلوع کی اجازت دے دی جاتی ہے یہاں تک کہ جب اللہ تعالی ٰچاہیں گے کہ سورج مغرب سے طلوع ہو وہ عرش کے نیچے آئے گا اور سجدہ ریز ہوگا واپسی کی اجازت چاہے گا اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا پھرلوٹے گا اور واپسی کی اجازت مانگے گا اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا پھر لوٹے گا اور واپسی کی اجازت مانگے گا اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا یہاں تک جب رات کا جتنا حصہ اللہ چاہیں گے گز ر جائے گا اور سورج یہ جان لے گا کہ اگر اسے اجازت دی گئی تو وہ مشرق تک نہیں پہنچ سکے گا تو وہ عرض کرے گا اے میرے رب مشرق کتنی ہی دور ہے سورج عرض کرے گا اے میرے رب کون ہے میرے لیے لوگوں میں سے یہاں تک کہ جب افق روشن ہوگا گویا کہ طوق ہے واپسی کی اجازت چاہے گا اس سے کہا جائے گا تم پر لازم ہے تمہارا مقام طلوع ہو پس وہ طلوع ہوگا لوگوں پر مغرب سے پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت تلاوت کی جس دن تیرے پروردگار کی کوئی نشانی آئیگی اس دن کسی ایسے شخص کا ایمان کارآمد نہیں ہوگا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی نیک عمل کی کمائی نہ کی ہو۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا کہ جب ( قیامت کی ) نشانیوں میں سے پہلی نشانی ظاہر ہوگی تو کراماً کاتبین کو روک دیا جائے گا اور قلمیں پھینک دی جائیں گی اور جسم اعمال پر گواہی دیں گے ۔
عائشہ سے روایت ہے فرمایا کہ جب نشانیوں میں ( قیامت کی بڑی ) نشانیوں میں سے پہلی نشانی ظاہر ہوگی تو قلمیں اٹھالی جائیں گی اور جسم اعمال پر گواہی دیں گے اور کراما ًکاتبین کو لکھنے سے روک دیا جائے گا۔
الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 40- Book of Temptation › 2- What was mentioned in the charlatan of the Antichrist. · Hadith 38764
مصنف ابن أبي شيبة · 40- كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ 2- ما ذكِر فِي فِتنةِ الدّجّالِ. · حديث 38765
حضرت ابوالعالیہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا انہوں نے فرمایا کہ پہلی نشانی اور آخری نشانی کے درمیان چھ مہینے کا فاصلہ ہوگا اور اس میں نشانیاں پے در پے واقع ہوں گی جیسے (لڑی ٹوٹنے پر ) موتی ایک دوسرے کے پیچھے گرتے ہیں ۔
ابو الاحوص فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے قرآن کی تعلیم حاصل کی اس کو چاہیے کہ علم الفرائض کی تعلیم بھی حاصل کر لے اور اس آدمی کی طرح نہ ہو جائے جس کو ایک دیہاتی ملا اور اس سے پوچھا اے اللہ کے بندے ! کیا آپ مہاجر ہیں؟ اس نے کہا : جی ہاں! اس نے پوچھا میری اہلیہفوت ہو گئی ہے اور اتنا اتنا مال چھوڑ گئی ہے سو اگر اس کو معلوم ہوا تب تو وہ اللہ تعالیٰ کا عطا کیا ہوا علم ہے اور اگر اس معلوم نہ ہوا تو دو دیہاتی کہنے لگا کہ اے مہاجرین کی جماعت ! تمہیں ہم پر کسی بات میں برتری حاصل ہے ؟
32306 - حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہمیں لوگوں پر تین فضیلتیں عطا کی گئیں ہیں ہمارے لئے پوری زمین نماز کی جگہ بنا دی گئی ہے اور ہمارے لیے اس کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی ہے جبکہ ہم پانی کو نہ پائیں اور یہ آیات مجھے عرش کے نیچے خزانے کے کمرے عطا کی گئی ہیں یعنی سورۃ البقرہ کی آخری آیا اس میں سے مجھ سے پہلئ کسی کو نہیں دی گئی اور نہ میرے بعد کسی کو دی جائیں گی ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 30- The Book of Virtues › 2- What was mentioned about what God gave Abraham, may God bless him and grant him peace, and preferred it to him. · Hadith 32487
مصنف ابن أبي شيبة · 30-كِتاب الْفَضَائِلِ ‹ 7- ما ذكِر مِمَّا فضّل الله بِهِ عِيسى صَلَّى الله عليه وسلم. · حديث 32533
32533 - مجاہد ایک دوسری سند سے حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ عیسیٰ نے پچپن میں ان آیا ت کے علاوہ کوئی بات نہیں کی جو اللہ نے ارشاد فرمائی تھی ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 30- The Book of Virtues › 7 - What was mentioned about what God favored by Jesus, peace and blessings be upon him. · Hadith 32533
مصنف ابن أبي شيبة · 30-كِتاب الْفَضَائِلِ ‹ 34- ما ذكِر فِي عائِشة رضي الله عنها. · حديث 32944
32944 - حضرت عبدالرحمٰن بن محمد بن زید فرماتے ہیں کہ ہمیں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن صفوان اور ان کے ساتھ ایک دوسر ا آدمی یہ دونوں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ حضر ت عائشہ نے فرمایا: اے فلاں ! کیا تو نے حضرت حفصہ کی حدیث سنی ؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں! ام المومنین اس پر حضرت عبداللہ بن صفوان نے ان سے پوچھا : اے ام المومنین ! وہ حدیث کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: مجھ میں نو خصلتیں ایسی ہیں جو لوگوں میں سے کسی میں بھی نہیں ہیں۔ سوائے ان کے جو اللہ نے حضرت مریم بنت عمران کو عطا فرمائیں ۔ اللہ کی قسم! میں یہ نہیں کہتہ کہ میں اپنی ساتھیوں پر فخر کرتی ہوں عبداللہ بن صفوان نے پوچھا : اے ام المؤمنین! وہ خصلتیں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: فرشتہ میری تصویر لے کراترا اور ر سول اللہﷺ نے مجھ سے شادی کی جب کہ میں سات سال کی تھی اور مجھے آپﷺ کے سامنے پیش کیا گی اتو سال کی عمر میں ۔ اور آپﷺ نے صرف مجھ باکرہ سے شادی کی ۔ اور اس میں میرا کوئی بھی شریک نہیں۔ اور آپ ﷺ کے پاس وحی آتی اس حال میں کہ میں اور آپﷺ ایک ہی بستر میں ہوتے ۔ اور میں آپﷺ کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 30- The Book of Virtues › 34- What was mentioned in Aisha, may God be pleased with her? · Hadith 32944
مصنف ابن أبي شيبة · 30-كِتاب الْفَضَائِلِ ‹ 34- ما ذكِر فِي عائِشة رضي الله عنها. · حديث 32945
32945- حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ , عَنْ مجالد , عَنِ الشَّعْبِيِّ , عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ : أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ , قَالَتْ : بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فِي الْبَيْتِ إذْ دَخَلَ الْحُجْرَةَ عَلَيْنَا رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ فَقَامَ إلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَعْرَفَةِ الْفَرَسِ فَجَعَلَ يُكَلِّمُهُ , قَالَتْ : ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ هَذَا الَّذِي كُنْتَ تُنَاجِي , قَالَ : وَهَلْ رَأَيْت أَحَدًا , قَالَتْ : قُلْتُ : نَعَمْ , رَأَيْت رَجُلاً عَلَى فَرَسٍ , قَالَ : بِمَنْ شَبَّهْته , قَالَتْ : بِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ , قَالَ : ذَاكَ جِبْرِيلُ , قَالَ : قَدْ رَأَيْت خَيْرًا : قَالَت : ثُمَّ لَبِثْت مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يلْبَثَ فَدَخَلَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْحُجْرَةِ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : يَا عَائِشَةُ , قُلْتُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ , قَالَ : هَذَا جِبْرِيلُ وَقَدْ أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِئَك مِنْهُ السَّلاَمَ , قَالَتْ : قُلْتُ : أَرْجِعْ إلَيْهِ مِنِّي السَّلامَ وَرَحْمَةَ اللهِ وَبَرَكَاتِهِ , جَزَاك اللَّهُ مِنْ دَخِيلٍ خَيْرَ مَا يَجْزِي الدُّخَلاءَ , قَالَتْ : وَكَانَ يَنْزِلُ الْوَحْيُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا وَهُوَ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ.
32945 - حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضر ت عائشہ نے مجھے خبر دی کہ اس درمیان کہ رسول اللہﷺ گھر میں بیٹھے ہوئے تھے ای گھورے پر سوار آدمی حجرے میں پم پر داخل ہوا ۔ رسول اللہﷺ اٹھ کر ا س کی طرف گئے اور اپنا ہاتھ گھورتے کی گردن پر رکھا۔ پھر آپﷺ نے اس شخص سے بات کرنا شروع کر دی ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں پھر رسول اللہﷺ واپس لوٹے۔ تو میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! یہ کون شخص تھا جس سے آپﷺ سرگوشی فرما رہے تھے؟ آپﷺ نے فرمایا: کیا تم نے کسی کو دیکھ ا؟ حضرت عائشہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا: جی ہاں! میں نئ ایک گھوڑے پر سوار دیکھا۔ آپﷺ نے پوچھا : تو نے اس شخص کو کسکے مشابہہ پایا؟؟ آپ ن جواب دیا: حضرت وحیہ کلبی کے ۔ آپﷺ نے فرمایا: وہ جبرائیل تھئے تحقیق تو نے خیر کی بات دیکھی۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں ۔ پھر وہ ٹھہرے جب تک اللہ نے چاہا کہ وہ ٹھہریںپس حضرت جبرائیل داخل ہوئے اس حآل میں کہ رسول اللہﷺ حجرے میں تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ ! میں نے کہا: میں حاضر ہوں : اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ ﷺ نے فرمایا: یہ جبرائیل ہیں تحقیق انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان کی طرف سلام کہوں۔
Musnad Ibne Abi Shaibah · Book › What was narrated by Abdullah bin Masoud, on the authority of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 264
مسند ابن أبي شيبة · کتاب ‹ مَا رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 276
Musnad Ibne Abi Shaibah · Book › What was narrated by Abdullah bin Masoud, on the authority of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 276
مسند ابن أبي شيبة · کتاب ‹ مَا رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 340
Musnad Ibne Abi Shaibah · Book › What was narrated by Abdullah bin Masoud, on the authority of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 340
مسند ابن أبي شيبة · کتاب ‹ مَا رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 366
Musnad Ibne Abi Shaibah · Book › What was narrated by Abdullah bin Masoud, on the authority of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 366
مسند ابن أبي شيبة · کتاب ‹ مَا رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 370
Musnad Ibne Abi Shaibah · Book › What was narrated by Abdullah bin Masoud, on the authority of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 370
Musnad Al Shammean · He did not end the chain of transmission of Abraham bin Abi Abla and wanted Abu Abla Shammar bin Yaqzan › Abraham bin Abi Abla on the authority of Abu al-Zahiriyah Hudayr ibn Qurayb · Hadith 53
Musnad Al Shammean · What has not been completed to us from the chain of transmission of Abd al-Rahman ibn Thabit ibn Thuban › Saeed, on the authority of the Levantines, Saeed bin Abd al-Aziz, on the authority of Ismael ibn Ubayd Allah ibn Abi al-Muhajir · Hadith 279
Musnad Al Shammean · What has been completed to us from the chain of transmission of Mu`awiyah ibn Salih, which is Aba Amr › Muawiya on the authority of Saleh bin Jabir · Hadith 2066
Musnad Al Shammean · What has been completed to us from the chain of transmission of Ata 'ibn Maysara al-Khurasani and Yusra called Aba Muslim › Attendance on the authority of Akrama Mawla Ibn Abbas · Hadith 2413