Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

القرآن الكريم

Quran

6097 hadiths

مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 25- غَزْوَةُ بَدْرٍ الْكُبْرَى ، وَمَا كَانَتْ ، وَأَمْرُهَا. · حديث 37838

37838- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُقْسِمُ : لَنَزَلَتْ هَؤُلاَءِ الآيَاتُ فِي هَؤُلاَءِ الرَّهْطِ السِّتَّةِ يَوْمَ بَدْرٍ : عَلِيٍّ ، وَحَمْزَةَ ، وَعُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، وَعُتْبَةَ ، وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ : {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ}.

حضرت قیس بن عباد سے روایت ہے کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کوقسم کھا کر کہتے سُنا کہ یہ ( آئندہ ) آیات بدر کے دن ان چھ افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ۔ علی رضی اللہ عنہ ،حمزہ رضی اللہ عنہ اورعبیدہ بن الحارث رضی اللہ عنہ ، اور عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔( آیات یہ ہیں ) (هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ).

قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 25- The Battle of Badr al-Kubra, and what it was, and its command. · Hadith 37838

مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 30- غَزْوَةُ الْحُدَيْبِيةِ. · حديث 38017

38017- حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ أَبِي عَلْقَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَذَكَرُوا أَنَّهُمْ نَزَلُوا دَهَاسًا مِنَ الأَرْضِ ، يَعْنِي بِالدَّهَاسِ الرَّمْلَ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : مَنْ يَكْلَؤُنَا ؟ قَالَ : فَقَالَ بِلاَلٌ : أَنَا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : إِذًا نَنَامُ ، قَالَ : فَنَامُوا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَاسْتَيْقَظَ أُنَاسٌ فِيهِمْ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ وَفِيهِمْ عُمَرُ ، قَالَ : فَقُلْنَا : اهْضِبُوا ، يَعْنِي تَكَلَّمُوا ، قَالَ : فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ، فَقَالَ : افْعَلُوا كَمَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ ، قَالَ : فَفَعَلْنَا ، قَالَ : كَذَلِكَ فَافْعَلُوا لِمَنْ نَامَ ، أَوْ نَسِيَ. قَالَ : وَضَلَّتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَطَلَبْتُهَا ، قَالَ : فَوَجَدْتُ حَبْلَهَا قَدْ تَعَلَّقَ بِشَجَرَةٍ ، فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَرَكِبَ فَسِرْنَا ، قَالَ : وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ اشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، وَعَرَفْنَا ذَلِكَ فِيهِ ، قَالَ : فَتَنَحَّى مُنْتَبِذًا خَلْفَنَا ، قَالَ : فَجَعَلَ يُغَطِّي رَأْسَهُ بِثَوْبِهِ ، وَيَشْتَدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَتَّى عَرَفْنَا أَنَّهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ ، فَأَتَوْنَا فَأَخْبَرُونَا أَنَّهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ : {إِنَّا فَتَحْنَا لَك فَتْحًا مُبِينًا}.

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حدیبیہ سے (واپس) آئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ ہم ریتلی زمین پراترے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں کون بیدار کرے گا؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ میں بیدار کروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر تو ہم سوتے ہیں۔ تمام لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا۔ تو کچھ لوگ ۔۔۔ جن میں فلاں ، فلاں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔۔۔ بیدار ہو گئے ۔ ہم نے کہا ( آپس میں ) باتیں کرو۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی آنکھ مبارک کھل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جس طرح کر رہے تھے ویسے ہی کرتے رہو(یعنی با تیں کرلو ) ۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے پھر وہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کوئی سویا ہو یا اس کو نماز بھول گئی ہوتو تم اس کے ساتھ یہی کچھ کرو ۔ راوی بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی گم ہوئی تو میں اس کی تلاش میں نکلا فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو اس حال میں پایا کہ اس کی رسی ایک درخت کے ساتھ اڑی ہوئی تھی ۔ پس میں (اسے لے کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور ہم روانہ ہو گئے ۔ راوی بیان کر تے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کو اس حالت میں شدت ہوتی تھی ۔ اور ہمیں یہ شدت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر محسوس ہوتی تھی ۔فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پیچھے ایک طرف ہو کر کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر مبارک کو اپنے کپڑے سے ڈھانپ لیا۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سخت شدت کے آثار ظاہر ہوئے یہاں تک کہ ہم سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ہے۔ (انا فتحنا لك فتحا مبينا)۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ ← جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 30- The Battle of Hudaybiyah. · Hadith 38017

مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 34- حَدِيثُ فَتْحِ مَكَّةَ. · حديث 38054

38054- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ : وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَفِينَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ ، فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَصْنَعُ لِبَعْضٍ الطَّعَامَ ، قَالَ : فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِمَّنْ يَصْنَعُ لَنَا فَيُكْثِرُ فَيَدْعُونَا إِلَى رَحْلِهِ ، قَالَ : قُلْتُ : أَلاَ أَصْنَعُ لأَصْحَابِنَا فَأَدْعُوهُمْ إِلَى رَحْلِي ، قَالَ : فَأَمَرْت بِطَعَامٍ فَصُنِعَ ، وَلَقِيت أَبَا هُرَيْرَةَ مِنَ الْعَشِّي ، فَقُلْتُ : الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ ، قَالَ : أَسَبَقَتْنِي ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَدَعَوْتُهُمْ فَهُمْ عِنْدِي ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَلاَ أُعَلِّلْكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ؟ قَالَ : ثُمَّ ذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ. قَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ ، وَبَعَثَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ ، وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الأُخْرَى ، وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ ، فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِي ، قَالَ : وَرَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي كَتِيبَةٍ ، قَالَ : فَنَادَانِي ، قَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ : اهْتِفْ لِي بِالأَنْصَارِ ، وَلاَ يَأْتِنِي إِلاَّ أَنْصَارِيٌّ ، قَالَ : فَهَتَفْتُ بِهِمْ ، قَالَ : فَجَاؤُوا حَتَّى أَطَافُوا بِهِ.قَالَ : وَقَدْ وَبَّشَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشًا لَهَا وَأَتْبَاعًا ، قَالُوا : نُقدِّمَ هَؤُلاَءِ ، فَإِنْ كَانَ لَهُمْ شَيءٌ كُنَا مَعَهُمْ ، وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِي سُئِلْنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم لِلأَنْصَارِ حِينَ أَطَافُوا بِهِ : أَتَرَوْنَ إِلَى أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ ؟ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى : اُحْصُدُوهُمْ ، ثُمَّ ضَرَبَ سُلَيْمَانَ بِحَرْفِ كَفِّهِ الْيُمْنَى عَلَى بَطْنِ كَفِّهِ الْيُسْرَى : اُحْصُدُوهُمْ حَصْدًا حَتَّى تُوَافُونِي بِالصَّفَا ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا ، فَمَا أَحَدٌ مِنَّا يَشَاءُ أَنْ يَقْتُلَ مِنْهُمْ أَحَدًا إِلاَّ قَتَلَهُ ، وَأَمَّا أَحَدٌ مِنْهُمْ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا شَيْئًا ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ ، لاَ قُرَيْشَ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ، قَالَ : فَغَلَّقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ. قَالَ : فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَطَافَ بِالْبَيْتِ ، فَأَتَى عَلَى صَنَمٍ إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَعْبُدُونَهُ ، وَفِي يَدِهِ قَوْسٌ وَهُوَ آخِذٌ بِسِيَةِ الْقَوْسِ ، فَجَعَلَ يَطْعُنْ بِهَا فِي عَيْنِهِ وَيَقُولُ : {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ، إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا} حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَتَى الصَّفَا فَعَلاَهَا حَيْثُ يَنْظُرُ إِلَى الْبَيْتِ ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُهُ ، وَيَدْعُو بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَ ، قَالَ : وَالأَنْصَارُ تَحْتَهُ ، قَالَ : تَقُولُ الأَنْصَارُ بَعْضُهَا لِبَعْضٍ : أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ. قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَجَاءَ الْوَحْيُ ، وَكَانَ إِذَا جَاءَ الْوَحْيُ لَمْ يَخْفَ عَلَيْنَا ، فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يَقْضِيَ ، فَلَمَّا قَضَى الْوَحْيُ ، قَالُ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، قَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ : قُلْتُمْ : أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ ، قَالُوا : قَدْ قُلْنَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ : فَمَا اسَمِي إِذًا ؟ كَلاً إِنِّي عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ ، هَاجَرْت إِلَى اللهِ وَإِلَيْكُمْ ، الْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ ، قَالَ : فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْكُونَ ، يَقُولُونَ : وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلاَّ لِلضَّنِّ بِاللهِ وَبِرَسُولِهِ ، قَالَ : فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَعْذُرَانِكُمْ وَيُصَدِّقَانِكُمْ.

حضرت عبداللہ بن رباح بیان کر تے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف کچھ وفود گئے اور ہم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ یہ رمضان کے دنوں کی بات ہے ۔ پس ہم میں سے بعض ،بعض کے لئے کھانے کی دعوت کا اہتمام کرتے ۔ راوی کا بیان ہے۔ حضرت ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ ان میں سے تھے جو ہمارے لئے بہت زیادہ کھانے کی دعوت کا اہتمام کرتے تھے ۔ اور ہمیں اپنے کجاوہ (منزل )کی طرف بلا لیتے تھے ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ( دل میں ) کہا کہ کیوں نہ میں اپنے ساتھیوں کے لئے دعوت کا اہتمام وں اور انہیں اپنے کجاوہ کی طرف بلا ؤں ۔ کہتے ہیں: پس میں نے کھانے کا کہا اوروہ تیارکرلیا گیا اور شام کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے (ان سے ) کہا ۔ آج کی رات میری طرف دعوت ہے ۔انہوں نے ( آگے سے ) فرمایا: کیاتم ، مجھ پر( آج) سبقت لے گئے ہو؟ کہتے ہیں: میں نے کہا: جی ہاں ! راوی کہتے ہیں: پس میں نے سب کو بلایا اور وہ میرے پاس آگئے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے ۔آے گروہ انصار! کیا میں تمہیں ،تمہاری باتوں میں سے ہی کچھ سناؤں؟ راوی کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے فتح مکہ کا ( واقعہ )ذکر کیا ۔2) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمنہ اور میسرہ میں سے ایک لشکر پر حضرت زبیر کو مقرر فرمایا اور حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کو دوسرے لشکر پر مقرر فرمایا۔ اور حضرت ابوعبیدہ کو خالی ہاتھ لوگوں پر مقرر فرمایا۔ پھر وہ لوگ وادی کے آنگن میں داخل ہو گئے ۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں ۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھوٹے سے لشکر میں تھے ۔فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی ۔ فرمایا۔اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ! میں نے عرض کیا۔ میں حاضر ہوں ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لئے انصار کو آواز دو ۔ میرے پاس صرف میرے انصار (صحابہ ) ہی آئیں ۔ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ پس میں نے انہیں آواز دی۔ کہتے ہیں:وہ سب حاضر ہو گئے یہاں تک کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کواپنے جھرمٹ میں لے لیا۔ 3) راوی کہتے ہیں: قریش نے اپنے بہت سے پیرو اورمتفرق لوگوں کو جمع کر رکھا تھا ۔ اورقریش کہہ رہے تھے ۔ ہم ان لوگوں کہ (پہلے) آگے بھیجیں گے پس اگر ان کو کچھ ( فائدہ ) ملا تو ہم ان کے ساتھ شریک ہوں گے اور اگر یہ لوگ مارے گئے تو ہم سے جو سوال کیا گیا ہم وہ دے چکے ہوں گے۔ 4) جب انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواپنے جھرمٹ میں لیا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا۔ قریش کے پیرو اور ان متفرق لوگوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ مار کر اشارہ فرماتے ہوئے کہا۔ ان کو مار ڈالو۔۔۔۔سلمان راوی نے بھی اپنے دائیں ہتھیلی کے کنارے کو بائیں ہتھیلی پر مارا۔۔۔۔ ان کوخوب مارو یہاں تک کہ تم مجھے صفاء پرملو ۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر ہم اس حالت میں روانہ ہوئے کہ ہم سے جو کوئی بھی ان (اتباع قریش ) میں سے کسی کوقتل کر نا چاہے تو اس کوقتل کر سکتا تھا۔ اوران میں سے کوئی بھی ہمیں کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ابوسفیان نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قریش کے عوام کو مباح قرار دیا گیا ہے؟ ( پھر تو ) آج کے بعد قریش (باقی ) نہیں ہوں گے۔۔۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنادروازہ بند کر لے گا وہ مامون ہو گا اور جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے گاوہ بھی مامون ہوگا ۔ راوی کہتے ہیں : پھرلوگوں نے اپنے اپنے دروازے بند کر لیے ۔ 5) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب رکھے ہوئے بت کی طرف آئے جس کی مشرکین مکہ عبادت کر تے تھے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ( اس وقت ) کمان تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ٹیڑھی جانب سے پکڑا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قوس ( کمان ) کو اس بت کی آنکھ میں مارنا شروع کیا اور ارشاد فرمایا:حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقینا ًباطل ایسی چیز ہے جو مٹنے والی ہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم طواف سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی کی طرف آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اس جگہ تک بلند ہوئے جہاں سے بیت اللہ دکھائی دیتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ بلند کئے اور اللہ تعالی ٰکی تعریف اور خدا کا ذکر کرنے لگے اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مانگنا مطلوب تھاوہ کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگا۔۔۔۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انصار آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیچے تھے ۔ راوی کہتے ہیں: انصارایک دوسرے سے کہنے لگے ۔ اس آدمی ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کوا پنی بستی میں رغبت اور اپنی قوم سے محبت نے آلیا ہے۔ 6) راوی کہتے ہیں : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ( اسی دوران ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آگئی ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آتی تھی تو یہ بات ہم پر مخفی نہ رہتی تھی ۔ اوراس کیفیت ( نزول دحی ) کے ختم ہونے تک لوگوں میں سے کوئی بھی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔ پس جب وحی ( کی کیفیت ) ختم ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔اے گروہ انصار! انصار نے جوابا ًعرض کیا ۔ ہم حاضر ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے یہ بات کہی ہے کہ اس آدمی کو ، اس کی بستی کی رغبت اور اس کی قوم کی محبت نے آلیا ہے۔۔۔۔ انصار نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے ( واقعی ) یہ بات کہی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ اس وقت میرا نام کیا ہوگا ؟ ہرگز نہیں! میں تو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ میں نے اللہ کی طرف اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے۔ زندگی تمہارے ساتھ ہو گی اور موت بھی تمہارے ساتھ ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : انصار نے ( یہ بات سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کر کے رونا شروع کر دیا اور کہنے لگے ۔ بخدا! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو بات ہم نے کہی ہے وہ محض اللہ اور اس کے رسول پر ناز کی وجہ سے کہی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ اوراس کا رسول تمہاری معذرت کو قبول کرتے ہیں اور تمہاری تصدیق کرتے ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو أُسَامَةَ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 34- The hadith of Fath Makkah. · Hadith 38054

مصنف ابن أبي شيبة · 36- كتاب الزُّهْدِ ‹ 1- كَلاَمُ عِيسَى عليه السلام. · حديث 35380

35380- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَا تَكَلَّمَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِلاَّ بِالآيَاتِ الَّتِي تَكَلَّمَ بِهَا حَتَّى بَلَغَ مَبْلَغَ الصِّبْيَانِ.

35380- حضرت ابن عباس فرماتے ہیں : حضرت عیسی کا جو کلام آیا ت میں مذکور ہے اس کے سوا انہوں نے کوئی اور کلام نہیں کیا حتی کہ وہ بچوں کی عمر کئ ہو گئے۔

مَا تَكَلَّمَ عِيسَى إِلاَّ بِالآيَاتِ الَّتِي تَكَلَّمَ بِهَا حَتَّى بَلَغَ مَبْلَغَ الصِّبْيَانِ. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← شِبْلِ بْنِ عَبَّادٍ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 36- The Book of Asceticism › 1- Words of Isa, peace be upon him. · Hadith 35380

مصنف ابن أبي شيبة · 23- كتَاب الدُّعاء ‹ 175- باب السِّيماءِ. · حديث 30507

30507- حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : كُنَّا فِي مَكَان لاَ تَنْفذُهُ الدَّوَابُّ فَقُمْت وَأَنَا أَقْرَأُ هَؤُلاءِ الآيَاتِ {غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ} ، قَالَ فَمَرَّ شَيْخٌ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ ، قَالَ : قُلْ : يَا غَافِرَ الذَّنْبِ اغْفِرْ ذَنْبِي ، يَا قَابِلَ التَّوْبِ اقْبَلْ تَوْبَتِي ، يَا شَدِيدَ الْعِقَابِ اعْفُ عَني عِقَابِي ، يَا ذَا الطَّوْلِ طُل عَلَيَّ بِخَيْرٍ ، قَالَ : فَقُلْتهَا ، ثُمَّ نَظَرْت فَلَمْ أَرَهُ.

حضرت حماد بن سلمہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ثابت رحمۃاللہ علیہ نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگ ایسی جگہ میں تھے جسے جانور پار نہیں کر پا رہے تھے ۔ پس میں کھڑا ہوا اس حال میں کہ میں ان آیات تلاوت کر رہا تھا!ترجمہ ! گناہ کو معاف کرنے والے اور تو بہ قبول کرنے والے ، سخت پکڑ والے ۔ آپ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں : پس ایک بزرگ پیشانی پر بالوں والے خچر پر سوار ہو کر گزرے اور فرمایا : یوں کہو ، اے گناہوں کو معاف کرنے والے ، میرے گناہ کو معاف فرما ، اے توبہ قبول کرنے والے ! میری توبہ کو قبول فرما ۔ اے سخت پکڑ والے ، مجھ سے میری سزا کو معاف فرما ۔ اے لمبائی والے ! مجھ پر خیر کو لمبا کر دے ۔ آپ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں !میں نے ان کلمات کو پڑھا ۔ پھر میں نے دیکھا تو مجھے وہاں کوئی دکھائی نہیں دیا ۔

أَقْرَأُ هَؤُلاءِ الآيَاتِ ← كُنَّا فِي مَكَان لاَ تَنْفذُهُ الدَّوَابُّ فَقُمْت ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 23- The Book of Supplication › 175- The door to heaven. · Hadith 30507

مصنف ابن أبي شيبة · 24- كِتاب فضائِلِ القرآنِ ‹ 1- ما جاء فِي إعرابِ القرآنِ. · حديث 30535

30535- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، عَن يَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ ، عَن يَحْيَى بْنِ يَعْمَُرَ ، عَن أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : تَعَلَّمُوا الْعَرَبِيَّةَ كَمَا تَعَلَّمُونَ حِفْظَ الْقُرْآنِ.

حضرت یحیی بن یعمررحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ارشادفرمایا : تم لوگ عربی زبا ن کو ایسے سیکھو جیسے قرآن کو زبانی یاد کرتے ہو۔

تَعَلَّمُوا الْعَرَبِيَّةَ كَمَا تَعَلَّمُونَ حِفْظَ الْقُرْآنِ. ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← یَّحْیَی بْنِ عَقِیلٍ ← وَاصِلٌ مَوْلٰی اَبِیْ عُیَیْنَۃَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 24- Book of the virtues of the Qur’an › 1- What was stated in the Arabic syntax. · Hadith 30535

مصنف ابن أبي شيبة · 24- كِتاب فضائِلِ القرآنِ ‹ 1- ما جاء فِي إعرابِ القرآنِ. · حديث 30541

30541- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَن عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ اسْتَشَارَ عُمَرَ فِي جَمْعِ الْقُرْآنِ فَأَبِي عَلَيْهِ فَقَالَ : أَنْتُمْ قَوْمٌ تَلْحَنُونَ ، وَاسْتَشَارَ عُثْمَانَ فَأَذِنَ لَهُ.

حضرت سالم رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے قرآن جمع کرنے کے بارے میں مشورہ طلب کیا ۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے انکار فرما دیا : اور فرمایا : تم تو ایسے لوگ ہو جو غلطیاں کرتے ہو اور انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مشورہ مانگا ۔ تو انہوں نے اجازت مرحمت فرما دی ۔

أَنْتُمْ قَوْمٌ تَلْحَنُونَ وَاسْتَشَارَ عُثْمَانَ فَأَذِنَ لَهُ. ← سَالِمٌ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ اسْتَشَارَ عُمَرَ فِي جَمْعِ الْقُرْآنِ فَأَبِي عَلَيْهِ ← عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ← أَبُو أُسَامَةَ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 24- Book of the virtues of the Qur’an › 1- What was stated in the Arabic syntax. · Hadith 30541

مصنف ابن أبي شيبة · 24- كِتاب فضائِلِ القرآنِ ‹ 14- فِي نِسيانِ القرآنِ. · حديث 30619

30619- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَن سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَن طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، قَالَ : مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ ، ثُمَّ نَسِيَهُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ حُطَّ عَنْهُ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةٌ ، وَجَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَخْصُومًا.

حضرت عبدالکریم ابو امیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت طلق بن حبیب رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے قرآن سیکھا پھر بغیر کسی عذر کے اسے بھلا دیا ۔ تو ہر ایک آیت کے بدلے ایکدرجہ کم کر دیا جاتا ہے ، اور شخص قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ قرآن اس سے جھگڑا کرے گا ۔

طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، ← عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 24- Book of the virtues of the Qur’an › 14- In Forgetting the Quran. · Hadith 30619

مصنف ابن أبي شيبة · 36- كتاب الزُّهْدِ ‹ 33- كلام أبِي موسى رضي الله عنه. · حديث 35969

35969- حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُد بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَمَعَ أَبُو مُوسَى الْقُرَّاءَ ، فَقَالَ : لاَ يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ إِلاَّ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ ، قَالَ : فَدَخَلْنَا زُهَاءَ ثَلاَثُ مِئَة رَجُلٍ فَوَعَظَنَا ، وَقَالَ : أَنْتُمْ قُرَّاءُ هَذَا الْبَلَدِ وَأَنْتُمْ ، فَلاَ يَطُولَنَّ عَلَيْكُمَ الأَمَدُ فَتَقْسُو قُلُوبُكُمْ كَمَا قَسَتْ قُلُوبُ أَهْلِ الْكِتَابِ.

35969 - حضرت ابو الا سود سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے قرا ء کو جمع کیا ۔ آپ نے فرمایا: یہاں وہی آئے جس نے قرآن جمع کیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں ہم تین صد کے قریب آدمی جمع ہوئے ۔ پس آپ نے ہمیں نصیحت فرمائی اور کہا تم لوگ اس شہر کے قاری ہ

فَدَخَلْنَا زُهَاءَ ثَلاَثُ مِئَة رَجُلٍ فَوَعَظَنَا ← لاَ يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ إِلاَّ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ ← جَمَعَ أَبُو مُوسَى الْقُرَّاءَ ← أَبِيهِ ← أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 36- The Book of Asceticism › 33- The words of Abu Musa, may God be pleased with him. · Hadith 35969

مصنف ابن أبي شيبة · 36- كتاب الزُّهْدِ ‹ 59- حدِيث طلقِ بنِ حبِيبٍ رحمه الله. · حديث 36313

36313- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خَالِدٍ الرَّبَعِيِّ ، قَالَ : كَانَ فِي بَنِي إسْرَائِيلَ رَجُلٌ ، وَكَانَ مَغْمُورًا فِي الْعِلْمِ ، وَأَنَّهُ ابْتَدَعَ بِدْعَةً ، فَدَعَا النَّاسَ فَاتُّبِعَ ، وَأَنَّهُ تَذَكَّرَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَقَالَ : هَبْ هَؤُلاَءِ النَّاسُ لاَ يَعْلَمُونَ مَا ابْتَدَعْت ، أَلَيْسَ اللَّهُ قَدْ عَلِمَ مَا ابْتَدَعْت ، قَالَ : فَبَلَغَ مِنْ تَوْبَتِهِ أَنْ حَرَقَ تَرْقُوَتَهُ ، وَجَعَلَ فِيهَا سِلْسِلَةً وَرَبَطَهَا بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ ، قَالَ : لاَ أَنْزِعُهَا حَتَّى يُتَابَ عَلَيَّ ، قَالَ : فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى نَبِيٍّ مِنْ أَنْبِيَاءِ بَنِي إسْرَائِيلَ ، وَكَانَ لاَ يَسْتَنْكِرُ بِالْوَحْيِ : أَنْ قُلْ لِفُلاَنٍ : لَوْ أَنَّ ذَنْبَك كَانَ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ لَغَفَرْت لَك ، وَلَكِنْ كَيْفَ بِمَنْ أَضْلَلْت مِنْ عِبَادِي ، فَدَخَلَ النَّارَ.

36313 - حرت خالد ربعی سے روایت ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی تھا اور علم سے ڈھاک ہوا تھا۔ اس نے ایک بدعت ایجاد کی ۔ پھر اس نے لوگوں کو دعوت دی اور اس کی اتباع ہونے لگی ایک رات اس کو یہ خیال ایا اس نے کہا۔ ان لوگوں کو تو چھوڑو ۔ انہیں ےو میر یایجا

خَالِدٍ الرَّبَعِيِّ ← عَوْفٌ، ← أَبُو أُسَامَةَ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 36- The Book of Asceticism › 59- Hadith divorced Ibn Habib, may God have mercy on him. · Hadith 36313

مصنف ابن أبي شيبة · 36- كتاب الزُّهْدِ ‹ 74- كلام عِكرِمة. · حديث 36645

36645- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، قَالَ : لَوْلاَ تِلاَوَةُ الْقُرْآنِ لَسَرَّنِي أَنْ أَكُونَ مَرِيضًا.

36645 - حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ اگر قران پاک کی تلاوت نہ ہوتی تو میں مریض بننا زیادہ پسند کرتا ۔

لَوْلاَ تِلاَوَةُ الْقُرْآنِ لَسَرَّنِي أَنْ أَكُونَ مَرِيضًا. ← الضَّحَّاكُ، ← رَجُلٌ: ← سُفْيَانَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 36- The Book of Asceticism › 74- Words of Ikrimah · Hadith 36645

مصنف ابن أبي شيبة · 24- كِتاب فضائِلِ القرآنِ ‹ 26- فِيمن تعلّم القرآن وعلّمه. · حديث 30694

30694- حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، قَالَ ، عَن سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَن عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ.

حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ۔

عُثْمَانَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← شُعْبَةُ، ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 24- Book of the virtues of the Qur’an › 26- Whose learning the Qur’an? · Hadith 30694

مصنف ابن أبي شيبة · 24- كِتاب فضائِلِ القرآنِ ‹ 26- فِيمن تعلّم القرآن وعلّمه. · حديث 30695

30695- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ.

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ۔

عَلِيٍّ، ← النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 24- Book of the virtues of the Qur’an › 26- Whose learning the Qur’an? · Hadith 30695

مصنف ابن أبي شيبة · 24- كِتاب فضائِلِ القرآنِ ‹ 42- فِي مِثلِ من جمع القرآن والإِيمان. · حديث 30797

30797- حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : مَثَلُ الَّذِي جَمَعَ الإِيمَانَ وَجَمَعَ الْقُرْآنَ مِثْلُ الأُتْرُجَّةِ الطَّيِّبَةِ الطَّعْمِ ، وَمَثَلُ الَّذِي لَمْ يَجْمَعَ الإِيمَانَ وَلَمْ يَجْمَعَ الْقُرْآنَ مِثْلُ الْحَنْظَلَةِ خَبِيثَةُ الطَّعْمِ وَخَبِيثَةُ الرِّيحِ.

حضرت حارث رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: مثال اس شخص کی جو ایمان اور قرآن کو جمع کرنے والا ہو ترنج کی سی ہے اس کو خوشبو عمدہ ہے اور مزہ لذیذ۔ اور مثال اس شخص کی جو نہ ایمان جمع کرے اور نہ ہی قرآن جمع کرے حنظل کے پھل کی سی ہے جو بد مزہ اور بد بو والا ہوتا ہے۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 24- Book of the virtues of the Qur’an › 42- In a parable of the Qur’an and faith. · Hadith 30797

مصنف ابن أبي شيبة · 24- كِتاب فضائِلِ القرآنِ ‹ 59- الرّجل يقرأ مِن هذِهِ السّورةِ وهذِهِ السّورةِ. · حديث 30892

30892- حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، أَنَّهُ أَمَّ النَّاسَ بِالْحِيرَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثُمَّ قَرَأَ مِنْ سُوَرٍ شَتَّى ، ثُمَّ الْتَفَتَ إلَيْنَا حِينَ انْصَرَفَ فَقَالَ : شَغَلَنَا الْجِهَادُ ، عَن تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ.

حضرت ولید بن جمیع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک آدمی نے بیان کیا کہ حضرت خالد بن ولید رحمۃ اللہ علیہ نے حیرہ مقام پر لوگوں کی امامت کروائی اور مختلف سورتوں میں سے تلاوت کی پھر نماز سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جہاد نے ہمیں قرآن سیکھنے سے مشغول کر دیا۔

رَجُلٌ: ← الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 24- Book of the virtues of the Qur’an › 59- The man recites from this surah and this surah. · Hadith 30892

مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 43- مَا جَاءَ فِي خِلاَفَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَسِيرتِهِ فِي الرِّدّةِ. · حديث 38198

38198- حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَنَحْنُ بِمِنًى مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أُعَلِّمُ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ عَوْفٍ الْقُرْآنَ ، فَأَتَيْتُهُ فِي الْمَنْزِلِ ، فَلَمْ أَجِدْهُ ، فَقِيلَ : هُوَعِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى جَاءَ ، فَقَالَ لِي : قَدْ غَضِبَ هَذَا الْيَوْمَ غَضَبًا مَا رَأَيْته غَضِبَ مِثْلَهُ مُنْذُ كَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لِمَ ذَاكَ ؟ قَالَ : بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ ذَكَرَا بَيْعَةَ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالاَ : وَاللهِ مَا كَانَتْ إِلاَّ فَلْتَةً ، فَمَا يَمْنَعُ امْرَءًا إِنْ هَلَكَ هَذَا أَنْ يَقُومَ إِلَى مَنْ يُحِبُّ ، فَيَضْرِبُ عَلَى يَدِهِ ، فَتَكُونُ كَمَا كَانَتْ ، قَالَ : فَهَمَّ عُمَرُ أَنْ يُكَلِّمَ النَّاسَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : لاَ تَفْعَلْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَإِنَّك بِبَلَدٍ قَدَ اجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ أَفْنَاءُ الْعَرَبِ كُلُّهَا ، وَإِنَّك إِنْ قُلْتُ مَقَالَةً حُمِلَتْ عَنْك وَانْتَشَرَتْ فِي الأَرْضِ كُلِّهَا ، فَلَمْ تَدْرِ مَا يَكُونُ فِي ذَلِكَ ، وَإِنَّمَا يُعِينُك مَنْ قَدْ عَرَفْتَ أَنَّهُ سَيَصِيرُ إِلَى الْمَدِينَةِ. فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ رُحْتُ مَهْجَرًا ، حَتَّى أَخَذْتُ عِضَادَةَ الْمِنْبَرِ الْيُمْنَى ، وَرَاحَ إِلَيَّ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ ، حَتَّى جَلَسَ مَعِي ، فَقُلْتُ : لَيَقُولَنَّ هَذَا الْيَوْمَ مَقَالَةً ، مَا قَالَهَا مُنْذُ اُسْتُخْلِفَ ، قَالَ : وَمَا عَسَى أَنْ يَقُولَ ؟ قُلْتُ : سَتَسْمَعُ ذَلِكَ. قَالَ : فَلَمَّا اجْتَمَعَ النَّاسُ خَرَجَ عُمَرُ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ أَبْقَى رَسُولَهُ بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ مِنَ اللهِ ، يُحِلُّ بِهِ وَيُحَرِّمُ ، ثُمَّ قَبَضَ اللَّهُ رَسُولَهُ ، فَرَفَعَ مِنْهُ مَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَ ، وَأَبْقَى مِنْهُ مَا شَاءَ أَنْ يُبْقِي ، فَتَشَبَّثْنَا بِبَعْضٍ ، وَفَاتَنَا بَعْضٌ ، فَكَانَ مِمَّا كُنَّا نَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ : لاَ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ ، فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ ، وَنَزَلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ ، فَرَجَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَرَجَمْنَا مَعَهُ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَقَدْ حَفِظْتُهَا وَعَلِمْتُهَا وَعَقَلْتهَا ، وَلَوْلاَ أَنْ يُقَالُ : كَتَبَ عُمَرُ فِي الْمُصْحَفِ مَا لَيْسَ فِيهِ ، لَكَتَبْتهَا بِيَدِي كِتَابًا ، وَالرَّجْمُ عَلَى ثَلاَثَةِ مَنَازِلَ : حَمْلٌ بَيِّنٌ ، أَوِ اعْتِرَافٌ مِنْ صَاحِبِهِ ، أَوْ شُهُودث عَدْلٌ ، كَمَا أَمَرَ اللَّهُ. وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالاً يَقُولُونَ فِي خِلاَفَةِ أَبِي بَكْرٍ : أَنَّهَا كَانَتْ فَلْتَةً ، وَلَعَمْرِي إِنْ كَانَتْ كَذَلِكَ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعْطَى خَيْرَهَا ، وَوَقَى شَرَّهَا ، وَأَيَّكُمْ هَذَا الَّذِي تَنْقَطِعُ إِلَيْهِ الأَعَنْاقُ كَانْقِطَاعِهَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ. إِنَّهُ كَانَ مِنْ شَأْنِ النَّاسِ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ ، فَأَتَيْنَا ، فَقِيلَ لَنَا : إِنَّ الأَنْصَارَ قَدَ اجْتَمَعَتْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ يُبَايِعُونَهُ ، فَقُمْتُ ، وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَحْوَهُمْ ، فَزِعِينَ أَنْ يُحْدِثُوا فِي الإِسْلاَمِ فَتْقًا ، فَلَقِيَنَا رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ ؛ رَجُلُ صِدْقٍ ، عُوَيْمُ بْنُ سَاعِدَةَ ، وَمَعْن بْنُ عَدِي ، فَقَالاَ : أَيْنَ تُرِيدُونَ ؟ فَقُلْنَا : قَوْمَكُمْ ، لِمَا بَلَغَنَا مِنْ أَمْرِهِمْ ، فَقَالاَ : ارْجِعُوا فَإِنَّكُمْ لَنْ تُخَالِفُوا ، وَلَنْ يُؤْتَ شَيْءٌ تَكْرَهُونَهُ ، فَأَبَيْنَا إِلاَّ أَنْ نَمْضِي ، وَأَنَا أَزوّر كَلاَمُا أُرِيدُ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ ، وَإِذَا هُمْ عَكَر هُنَالِكَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ لَهُ مَرِيضٌ ، فَلَمَّا غَشَيْنَاهُمْ ، تَكَلَّمُوا فَقَالُوا : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ ، فَقَامَ الْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، فَقَالَ : أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَكَّكُ ، وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَّبُ , إِنْ شِئْتُمْ وَاللهِ رَدَدْنَاهَا جَذَعَةً. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : عَلَى رِسْلِكُمْ ، فَذَهَبْتُ لأَتَكَلَّمَ ، فَقَالَ : أَنْصِتْ يَا عُمَرُ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، إِنَّا وَاللهِ مَا نُنْكِرُ فَضْلَكُمْ ، وَلاَ بَلاَءَكُمْ فِي الإِسْلاَمِ ، وَلاَ حَقَّكُمَ الْوَاجِبَ عَلَيْنَا ، وَلَكِنَّكُمْ قَدْ عَرَفْتُمْ أَنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ قُرَيْشٍ بِمَنْزِلَةٍ مِنَ الْعَرَبِ ، لَيْسَ بِهَا غَيْرُهُمْ ، وَأَنَّ الْعَرَبَ لَنْ تَجْتَمِعَ إِلاَّ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ ، فَنَحْنُ الأُمَرَاءُ وَأَنْتُمَ الْوُزَرَاءُ ، فَاتَّقُوا اللَّهَ ، وَلاَ تَصَدَّعُوا الإِسْلاَمَ ، وَلاَ تَكُونُوا أَوَّلَ مَنْ أَحْدَثَ فِي الإِسْلاَمِ , أَلاَ وَقَدْ رَضِيتُ لَكُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ ، لِي وَلأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ , فَأَيُّهُمَا مَا بَايَعْتُمْ فَهُوَ لَكُمْ ثِقَةٌ ، قَالَ : فَوَاللهِ مَا بَقِيَ شَيْءٌ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَقُولَهُ إِلاَّ وَقَدْ قَالَهُ ، يَوْمَئِذٍ ، غَيْرَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ , فَوَاللهِ لأَنْ أُقْتَلَ ، ثُمَّ أُحْيَى ، ثُمَّ أُقْتَلَ ، ثُمَّ أُحْيَى ، فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكُونَ أَمِيرًا عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ. قَالَ ، ثُمَّ قُلْتُ : يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَعْدِهِ : {ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ} أَبُو بَكْرٍ السَّبَّاقُ الْمَتِينُ ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِهِ ، وَبَادَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَضَرَبَ عَلَى يَدِهِ قَبْلَ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى يَدِهِ ، ثُمَّ ضَرَبْتُ عَلَى يَدِهِ ، وَتَتَابَعَ النَّاسُ ، وَمِيلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، فَقَالَ النَّاسُ : قُتِلَ سَعْدٌ ، فَقُلْتُ : اُقْتُلُوهُ ، قَتَلَهُ اللَّهُ ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا ، وَقَدْ جَمَعَ اللَّهُ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ بِأَبِي بَكْرٍ ، فَكَانَتْ لَعَمْرُ اللهِ فَلْتَةٌ كَمَا قُلْتُمْ ، أَعْطَى اللَّهُ خَيْرَهَا وَوَقَى شَرَّهَا ، فَمَنْ دَعَا إِلَى مِثْلِهَا ، فَهُوَ الَّذِي لاَ بَيْعَةَ لَهُ ، وَلاَ لِمَنْ بَايَعَهُ.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس آتا جاتا رہتا تھا اور (اس وقت ) ہم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقام منی ٰمیں تھے ۔ میں عبدالرحمان بن عوف کو قرآن پڑھاتا تھا پس میں ان کے پاس منزل میں آیا تو میں نے انہیں نہیں پایا۔ کہا گیا کہ وہ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے پاس ہیں ۔ چنانچہ میں ان کا انتظار کر نے لگا یہاں تک کہ وہ آ گئے اور انہوں نے بتایا۔ آج حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اتنا شدید غصہ آیا تھا کہ اس سے پہلے کبھی ان کو اتنا غصہ نہیں آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: یہ کیوں؟ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی کہ انصار میں سے دو آدمیوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کا ذکر کیا تو پھران دونوں نے کہا۔ بخدا! ان کی بیعت تو اچا نک ہوئی تھی ۔ وہ اس کے ہاتھ پر مارتا پھر جو ہوتا سو ہوتا ۔ راوی کہتے ہیں: پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے گفتگو کر نے کا ارادہ کیا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔اے امیر المؤمنین! آپ (ابھی ) گفتگو نہ کریں کیونکہ آپ (اس وقت ) ایسے شہر میں ہیں کہ آپ کے پاس تمام عرب کے دور دراز غیر معروف علاقوں کے لوگ جمع ہیں ۔ اور آپ اگر (اب) کوئی بھی بات کر لیں گے تو وہ آپ سے منسوب ہو کر تمام زمین میں پھیل جائے گی ۔ پھر آپ کو نہیں معلوم کہ کیا ہوگا ۔ آپ کے مطلب کے لوگ تو وہی ہیں جن کو آپ جانتے ہیں کہ وہ مدینہ واپس جائیں گے۔ ۲) پھر جب ہم مدینہ میں آئے تو میں سویرے سویرے چلا گیا یہاں تک کہ میں نے منبر کے دائیں پائے ( کے ساتھ جگہ ) پکڑ لی ۔ پھر حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ بھی میری طرف آئے یہاں تک کہ وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ گئے ۔ میں نے (ان سے ) کہا۔ آج کے دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایسی گفتگو کریں گے کہ ویسی گفتگو انہوں نے خلیفہ بننے کے بعد سے کبھی نہیں کی ۔سعید نے پوچھا۔ وہ کیسی بات کر یں گے؟ میں نے جواب دیا ،ابھی تم وہ بات سن لو گے۔ ۳) راوی کہتے ہیں : پھر جب لوگ جمع ہو گئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ منبر پر بیٹھ گئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے درمیان باقی رکھا ان پر اللہ کی جانب سے وحی نازل ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ذریعہ حلال وحرام بیان کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ( کی روح کو ) قبض کر لیا پس جو کچھ ان کے ہمراہ اللہ نے اٹھانا چاہا وہ اٹھالیا۔ اور جس کو اللہ نے باقی رکھنا چاہا تھا اس کو باقی رکھا۔ چنانچہ بعض باتوں کے ساتھ تو ہم وابستہ رہے اور بعض باتیں ہم سے فوت ہوگئیں ۔ پس ہم قرآن میں سے جو کچھ پڑھتے تھے اس میں یہ بھی تھا۔ ولا ترغبوا عن آباء کم فانہ كفر بكم ان ترغبوا عن آباء كم۔ اور رجم کی آیت بھی نازل ہوئی تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم بھی کیا تھا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رجم کیا تھا۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے! بلاشبہ میں نے (خود ) اس آیت کو یاد کیا تھا اور اس کو سمجھا تھا اور معلوم کیا تھا۔ اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ کہا جائے گا ۔ عمر نے قرآن میں اس بات کو لکھا جو اس میں سے نہیں ہے تو البتہ میں اس آیت رجم کو اپنے ہاتھوں سے لکھتا۔ رجم کی تین حالات ہیں ۔ واضح حمل ہو ۔ یا زانی کی طرف سے اقرار ہو یا عادل گواہ ہوں ۔ جیسا کہ حکم خداوندی ہے ۔۴) مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں یہ بات کہی ہے کہ یہ تو اچانک ہوگئی تھی ۔ میری عمر کی قسم ! اگر چہ بات ایسی ہی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی خلافت کی خیر و برکت عطا فرمائی اور اس کے شر سے محفوظ فرمالیا۔ تم میں سے کون سا آدمی ہے جس کے لئے (لوگوں کی ) گردنیں یوں خم ہو جائیں جیسا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے خم ہوگئیں تھیں ۔۵) یقیناً لوگوں کا معاملہ کچھ ایسا تھا کہ (جب ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو ہمارے پاس معاملہ لایا گیا اور ہمیں کہا گیا۔ انصار ، سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس بنو ساعدہ میں جمع ہیں اور سعد رضی اللہ عنہ کی بیعت کر رہے ہیں ۔ چنانچہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ، حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی طرف پریشانی کے عالم میں اٹھ کھڑے ہوئے کہ ( مبادا ) وہ اسلام میں کوئی دراڑ پیدا کردیں ۔ پس ہمیں انصارہی میں سے دو بچے آدمی ملے ۔عویم بن ساعدہ اور معن بن عدی ۔انہوں نے پوچھا : تم کہاں جا رہے ہو؟ ہم نے کہا: تمہاری قوم کے پاس ، کیونکہ ہمیں ان کے بارے میں کوئی بات پہنچی ہے۔ان دونوں نے کہا۔ واپس چلے جاؤ کیونکہ تمہاری مخالفت نہیں کی جائے گی اور ایسی چیز نہیں لائی جائے گی جس کو تم نا پسند کرو لیکن ہم نے آگے جانے پر ہی اصرار کیا۔ اور میں ( عمر رضی اللہ عنہ ) وہ کلام تیار کر رہا تھا جس کے بارے میں میرا ارادہ بیان کا تھا۔ یہاں تک کہ ہم ان لوگوں کے پاس پہنچ گئے وہ لوگ تو سارے کے سارے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ پر جھکے ہوئے تھے اور حضرت سعد بن عبادہ اپنے اپنے تخت پر تشریف فرما تھے ۔ اور بیمار تھے ۔ پس جب ہم اوپر سے ان لوگوں کے پاس پہنچے تو انہوں نے بات شروع کی اور کہنے لگے ۔اے گروہ قریش! ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم میں سے ہوگا۔ اس پر حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ میں ذی رائے اور معتمد لوگوں میں سے ہوں ۔اگر تم چاہو۔۶) پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اپنی حالت پر رہو۔ پس میں نے گفتگو کرنا چاہی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عمر رضی اللہ عنہ خاموش رہو، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی اور پھر کہا۔اے گروہ انصار! خدا کی قسم ! ہم تمہاری فضیلت کے منکر نہیں ہیں اور نہ ہی اسلام کے بارے میں تمہاری محنت و مشقت کے منکر ہیں ۔ اور نہ ہی خود پر واجب تمہارے حق کے منکر ہیں لیکن یقینا ً تم جانتے ہو کہ یہ قبیلہ قریش پورے عرب میں اس مقام پر ہے جس پر اس کے علاوہ کوئی قبیلہ نہیں ہے ۔اور عرب کے لوگ قریش ہی کے کسی آدمی پر جمع ہوں گے۔ پس ہم ( میں سے ) امراء ہوں گے اور تم ( میں سے ) وزراء ہوں گے۔ پس اللہ سے ڈرو اور اسلام میں دراڑ نہ ڈالو۔ اور اسلام میں نئی بات ایجاد کرنے والے نہ بنو۔ اور بغور یہ بات سنو کہ مجھے تمہارے لئے ان دو افراد میں سے کسی ایک پر راضی ہوں ۔مراد میں ( عمر رضی اللہ عنہ ) تھا اور حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ۔ پس ان دونوں میں سے جس پر بھی تم بیعت کرلو تو وہ تمہارے لئے ثقہ ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے ۔ خدا کی قسم ! جو بات کہنا مجھے پسند تھا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے کوئی بات نہ چھوڑی بلکہ سب کہہ دی ۔سوائے آخری بات کے ۔خدا کی قسم! میں غیر معصیت کی حالت میں قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں پھرقتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں تو بھی مجھے یہ بات اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایسی قوم پر امیر بنوں جس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود ہوں ۷) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، پھر میں نے عرض کیا ۔ اے گروہ انصار! اے گر وہ مسلمین ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ (یعنی خلافت ) کالوگوں میں سے سب سے زیادہ حق دار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ ہیں جو غاز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جو ہر میدان میں سبقت رکھنے والے اور مضبوط ہیں ۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا( پکڑنا چاہا) لیکن انصار میں سے ایک آدمی مجھ سے پہل کر گیا پس اس نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ہاتھ مارا قبل اس کے کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ہاتھ مارتا۔ پھر میں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ہاتھ مارا (یعنی بیعت کی ) اور پھر دیگر لوگوں نے تسلسل کے ساتھ بیعت کی۔ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایسے زیادتی ہوگئی اور لوگوں نے کہا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ قتل ہو گئے ۔ میں نے کہا۔ ان کو قتل (ہی) کر دو ۔ اللہ ان کو قتل کرے۔ پھر ہم (وہاں سے ) واپس پلٹ گئے اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے معاملہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ( کے ہاتھ ) پر جمع کر دیا تھا۔ پس خدا کی قسم ! خلافت ( صدیقی ) تھی تو اچانک ہی جیسا کہ تم کہتے ہو (لیکن )اللہ تعالیٰ نے اسی کی خیر و برکت ( امت کو ) عطا کر دی اور اس کے شر سے (امت کو ) بچالیا ۔ پس (اب ) جو آدمی ایسی بیعت (خلافت ) کا داعی ہوتو اس کی بیعت نہ ہوگی اور نہ ہی بیعت کر نے والوں کی بیعت ہوگی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 43 - What came in the succession of Abu Bakr, may God be pleased with him, and his course in apostasy. · Hadith 38198

مصنف ابن أبي شيبة · 40- كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ 1- مَنْ كَرِهَ الْخُرُوجَ فِي الْفِتْنَةِ وَتَعَوَّذَ مِنْهَا. · حديث 38429

38429- حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ، قَالَ : الآيَاتُ خَرَزٌ مَنْظُومَاتٌ فِي سِلْكٍ انْقَطَعَ السِّلْكُ فَيَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا.

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نشانیاں لڑی میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں جب لڑی ٹوٹ جائے تو وہ موتی ایک دوسرے کے پیچھے گر پڑتے ہیں ۔

الآيَاتُ خَرَزٌ مَنْظُومَاتٌ فِي سِلْكٍ انْقَطَعَ السِّلْكُ فَيَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا. ← النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← خَالِدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ:

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 40- Book of Temptation › 1 - Whoever hates going out in fitna and seeking refuge from it. · Hadith 38429

مصنف ابن أبي شيبة · 40- كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ 1- مَنْ كَرِهَ الْخُرُوجَ فِي الْفِتْنَةِ وَتَعَوَّذَ مِنْهَا. · حديث 38430

38430- حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : لَوْ أَنَّ رَجُلاً ارْتَبَطَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللهِ فَأَنْتَجَتْ مُهْرًا عِنْدَ أَوَّلِ الآيَاتِ مَا رَكِبَ الْمُهْرَ حَتَّى يَرَى آخِرَهَا.

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا اگر کوئی آدمی اللہ کے راستے میں ( خروج کے لیے ) کسی گھوڑے کو پالے وہ پچھراجنے نشانیوں میں سے پہلی نشانی کے وقت اس بچھڑے پر سوار نہیں ہو گا یہاں تک کہ آخری نشانی کو بھی دیکھ لے گا۔

حُذَيْفَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 40- Book of Temptation › 1 - Whoever hates going out in fitna and seeking refuge from it. · Hadith 38430

مصنف ابن أبي شيبة · 40- كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ 1- مَنْ كَرِهَ الْخُرُوجَ فِي الْفِتْنَةِ وَتَعَوَّذَ مِنْهَا. · حديث 38431

38431- حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ صِلَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : إِذَا رَأَيْتُمْ أَوَّلَ الآيَاتِ تَتَابَعَتْ.

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ارشاد فرمایا جب تم نشانیوں میں سے پہلی نشانی دیکھو گے تو دوسری لگاتار وقوع پذیر ہوں گی ۔

إِذَا رَأَيْتُمْ أَوَّلَ الآيَاتِ تَتَابَعَتْ. ← حُذَيْفَةَ ← صِلَةَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 40- Book of Temptation › 1 - Whoever hates going out in fitna and seeking refuge from it. · Hadith 38431

مصنف ابن أبي شيبة · 40- كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ 1- مَنْ كَرِهَ الْخُرُوجَ فِي الْفِتْنَةِ وَتَعَوَّذَ مِنْهَا. · حديث 38438

38438- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ ابْن سِيرِينَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَا ذُكِرَ مِنَ الآيَاتِ فَقَدْ مَضَى إِلاَّ أَرْبَعٌ : طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الأَرْضِ وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ، قَالَ : وَالآيَةُ الَّتِي تُخْتَتمُ بِهَا الأَعْمَالُ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى قَوْلِ اللهِ عز وجل : {يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لاَ يَنْفَعُ نَفْسًا إيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ} الآيَةَ.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے ارشاد فرمایا جو نشانیاں ذکر کی گئی ہیں وہ گزرگئیں سوائے چار کے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور دجال ( کا نکلنا ) اور زمین کا جانور اور یاجوج ماجوج کا نکلنا ارشاد فرمایا جس پر اعمال ختم ہوجائیں گے وہ سورج کا مغرب سے طلوع ہوتا ہے کیا تم نے اللہ عزوجل کا ارشاد نہیں سنا کہ جس دن تیرے پروردگار کی کوئی نشانی تیرے پاس آئے گی تو ایسے آدمی کو جو ایمان نہیں لایا ہوگا ایمان لانا نفع نہیں دے گا ( آیت کے اخیر تک )

مَا ← أَبِيهِ ← اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← عَوْفٌ، ← أَبُو أُسَامَةَ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 40- Book of Temptation › 1 - Whoever hates going out in fitna and seeking refuge from it. · Hadith 38438

chevron_left Previous
1…454647…305
Next chevron_right