Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

القرآن الكريم

Quran

6097 hadiths

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3376

3376 - حدثنا عبيد الله بن عمر الجشمي حدثنا جعفر عن ثابت Y عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا سمع بكاء الصبي مع أمه في الصلاة قرأ بالسور الخفيفة - أو القصيرة شك جعفر - K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ حالت نماز میں ماں کے ساتھ بچے کے رونے کی آواز سنتے تو آپ مختصر قرأت کرتے یا چھوٹی سورت پڑھتے‘ جعفر کوشک ہے۔

كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرٌ، ← عبيد الله بن عمر الجشمي

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3376

مسند أبي يعلى · شهر بن حوشب عن أبي هريرة ‹ شهر بن حوشب عن أبي هريرة · حديث 6647

6647 - حدثنا هدبة حدثنا سلام بن مسكين عن ثابت عن عبد الله بن رباح عن أبي هريرة Y أن رسول الله - صلى الله عليه و سلم - صار إلى مكة ليفتحها قال لأبي هريرة يا أبا هريرة : ( اهتف بالأنصار ) فقال : يا معشر الأنصار أجيبوا رسول الله فجاؤوا كأنما كانوا على ميعاد قال : ( خذوا هذا الطريق فلا يشرف لكم أحد إلا أنمتموه أي قتلتموه ) فسار رسول الله - صلى الله عليه و سلم - ففتح الله عليه قال : فطاف رسول الله - صلى الله عليه و سلم - بالبيت وصلى ركعتين ثم خرج من الباب الذي يلي الصفا فصعد الصفا فخطب الناس ـ والأنصار أسفل منه ـ فقالت الأنصار بعضهم لبعض : أما الرجل فقد أخذته رأفة بقومه والرغبة في قريته فأنزل الله تعالى عليه الوحي بما قالت الأنصار فقال : يامعشر الأنصار ! تقولون : أما الرجل فقد أدركته الرأفة بقومه والرغبة في قريته ؟ فمن أنا إذا ؟ كلا و الله إني عبد الله و رسوله وإن المحيا محياكم و الممات مماتكم ) . قالوا : يا رسول الله ما قلنا ذلك إلا مخافة أن تفارقنا . قال : ( أنتم صادقون عند الله و عند رسوله ) فوالله ما منهم أحد إلا بل نحره بدموع من عينه K إسناده صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مکہ فتح کرنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ ! انصاریوں میں اعلان کر ! انہوں نے اعلان کیا: اے انصاریو! اللہ کے رسول کی بات قبول کرو! پس وہ حاضر خدمت ہوئے' گویا وہ میعاد پر تھے' فرمایا: یہ راستہ اختیار کرو' پس تمہاری طرف کوئی بھی میلی آنکھ اٹھا کر دیکھے تو اسے قتل کر دو۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتوحات عطا ء فرمائیں۔ راوی کا بیان ہے: پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ شریف کا طواف کر کے دو رکعت (برائے طوف واجب) ادا فرمائیں ' پھر اس دروازہ سے نکلی جو صفا کی رطف ہے( یہ اس وقت کی بات ہے جب کعبہ کے دروازے زیادہ تھے ) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا کی پہاڑی پہ چڑھے' لوگوں سے خطاب فرمایا جبکہ انصار اس سے نیچے تھے۔ پس بعض انصاریوں نے بعض سے کہا: بہر حال اس آدمی کی زیادہ ہمدردیاں اپنی قوم کے ساتھ ہیں اور اپنے گاؤں میں بڑی دلچسپی رکھتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فوراً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل فرمائی' اس بات کی جو انصار نے کی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کے گروہ ! تم کہہ رہے تھے کہ بہر حال اس آدمی کی زیادہ ہمدردیاں اپنی قوم کے ساتھ ہیں اور اپنے گاؤں (مکہ) میں بڑی دلچسپی رکھتا ہے؟ پھر میں کون ہوا؟ ہر گز نہیں ! قسم بخدا! میں اللہ کا بندہ اور اس کا سچا رسول ہوں' بے شک میری زندگی' تمہاری زندگی اور میری موت تمہاری موت ہے(یعنی ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں) انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! ہم نے یہ بات نہیں کی مگر اس ڈر سے کہ کہیں آپ ہم سے جدا نہ ہو جائیں (یعنی پھر مکہ میں رہ جائیں) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک سچے ہو۔ (راوی کا بیان ہے: ) قسم بخدا! ہر آدمی کا سینہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ، ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · Shahr bin Hawash on the authority of Abu Hurairah › Chapter · Hadith 6647

مسند أبي يعلى · حديث عمرو بن أمية الضمري ‹ حديث عمرو بن أمية الضمري · حديث 7024

7024 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا الحسن بن موسى حدثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن عوف ابن الحارث عن أخته رميثة بنت الحارث . عن أم سلمة : أن رسول الله - صلى الله عليه و سلم - قال Y لا تؤذيني في عائشة فوالله ما منكن امرأة ينزل علي الوحي - وأنا في لحافها - ليس عائشة قلت : لا جرم والله لا أؤذيك فيها أبدا K إسناده جيد

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق تکلیف نہ دیا کرو۔ اللہ کی قسم مجھ پر کسی عورت کے بستر میں وحی نہیں آتی، سوائے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بستر کے۔ میں نے عرض کی، اللہ کی قسم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے متعلق کبھی بھی تکلیف نہیں دوں گی۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أخته رميثة بنت الحارث ← عوف ابن الحارث ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · The hadith of Amr bin Umayyah al-Damari › Chapter · Hadith 7024

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 64

64 - حدثنا القواريري حدثنا عبد الرحمن بن مهدي حدثنا إبراهيم بن سعد عن الزهري عن عبيد بن السباق أن زيدا حدثه قال Y أرسل أبو بكر مقتل أهل اليمامة فإذا عمر بن الخطاب عنده فقال : إن عمر أتاني فقال : إن القتل قد استحر بقراء القرآن يوم اليمامة وإني لأخشى أن يستحر بالقراء في المواطن كلها فيذهب قرآن كثير وإنني أرى أن تأمر بجمع القرآن قال أبو بكر : قلت لعمر : كيف أفعل شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فقال عمر : هو والله خير فلم يزل عمر بن الخطاب يراجعني حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر عمر ورأيت فيه الذي رآه قال زيد : قال أبو بكر : إنك شاب عاقل ولا نتهمك وقد كنت تكتب لرسول الله صلى الله عليه و سلم الوحي فتتبع القرآن فاجمعه قال : فو الله لو كلفوني نقل جبل من الجبال ما كان أثقل علي من ذاك قال : قلت : كيف تفعلون شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فقال أبو بكر : هو والله خير فلم يزل يراجعني في ذلك أبو بكر و عمر حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر أبو بكر و عمر فتتبعت القرآن أجمعه من الرقاع والسعف والحجارة والرقاق ومن صدور الرجال فوجدت في آخر سورة التوبة براءة مع خزيمة بن ثابت : ( { لقد جاءكم رسول من أنفسكم } ) إلى آخر الآية [ التوبة آية 128 ] K إسناده صحيح

حضرت زید فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نےمیری طرف کسی کو بھیجا جنگ یمامہ میں آپ کے پاس حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آیا ہے اس نے عرض کی ہے کہ جنگ یمامہ سے بڑے قاری قرآن شہید ہوئے ہیں ، میں خوف کرتا ہوں کہ اس طرح قاری شہید ہوتے رہے تو سارا قرآن چلا جاۓ گا ۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرمایا: کیا میں ایسا کام کروں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہیں کیا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ کی قسم ! جمع کرنا بہتر عمل ہے، مسلسل حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے عرض کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے میرے سینے کو کھول دیا جس طرح اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو کھولا تھا۔ میری بھی وہی راۓ ہو گئی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تھی ۔ حضرت زید فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے فرمایا: آپ نو جوان ، سمجھدار اور ہم تجھے متہم نہیں کرتے جبکہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے وہی لکھتے تھے، آپ قرآن کو تلاش کر یں ، آپ جمع کر یں ۔ حضرت زید فرماتے ہیں اگر مجھے ایک پہاڑ اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کرنے کی مکلف بنایا جاتا تو مجھے ایسے کرنا زیادہ آسان تھا۔ میں نے عرض کی تم وہ کام کیسے کرو گے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہیں کیا ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اچھا کام ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہما مجھے مسلسل ابھارتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرے سینے کوکھول دیا جس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کے سینے کو کھولا تھا۔ میں نے قرآن تلاش کرنا شروع کیا، میں نے جمع کیا پر چوں کھجور کی شاخوں اور پتوں پتھروں اور باریک کپڑوں سے ۔اور مردوں کے سینوں سے ، میں نے سورہ توبہ کی آخری آیت خزیمہ بن ثابت سے پائی ۔ وہ آیت یہ ہے لقد جاءكم رسول من أنفسكم .

عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← الْقَوَارِيرِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 64

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 65

65 - حدثنا أبو خثيمة حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن ابن شهاب عن عبيد ابن السباق أن زيد بن ثابت حدثه Y أن أبا بكر قال : إنك رجل شاب عاقل ولا نتهمك قد كنت تكتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه و سلم فتتبع القرآن فاجمعه K إسناده صحيح

حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے فرمایا: تو نوجوان سمجھدار اور ہم تجھ پر تہمت نہیں لگاتے جبکہ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وحی بھی لکھتا تھا ، تو قرآن تلاش کر اور جمع کر ۔

أَنَّ أَبَا بَکْرٍ ← عبيد ابن السباق أن زيد بن ثابت ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 65

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 69

69 - حدثنا أبو خثيمة حدثنا عمرو بن عاصم الكلابي حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس قال Y قال أبو بكر بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم لعمر : انطلق بنا إلى أم أيمن نزورها كما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يزورها فلما انتهينا إليها بكت فقالا لها : مايبكيك ؟ ما عند الله خير لرسوله قال فقالت : ما أبكي أن لا أكون أعلم أن ما عند الله خير لرسوله ولكن أبكي أن الوحي انقطع من السماء قال : فهيجتهما على البكاء فجعلا يبكيان معها K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، چلو ہم ام ایمن کی زیارت کر کے آئیں جس طرح ان کی زیارت حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کرتے تھے۔ جب ہم آپ رضی اللہ عنہا کے پاس آۓ تو وہ رو پڑیں ۔ دونوں بزرگوں نے کہا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ کیا اللہ کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام بہتر نہیں؟ انہوں نے فرمایا (یعنی ام ایمن رضی اللہ عنہا نے) میں اس لیے نہیں رو رہی ہوں کہ میں بھی جانتی ہوں کہ اللہ کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مقام بہتر ہے ۔ لیکن میں رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی آنا ختم ہو گئی ہے ۔ حضرت انس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: حضرت ام ایمن نے دونوں حضرات کو رونے پر مجبور کر دیا دونوں ان کے ساتھ رونے لگے۔

أَبُو بَکْرٍ بَعْدَ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِيُّ ← أبو خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 69

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 71

71 - حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا عثمان بن عمر حدثنا يونس بن يزيد عن الزهري أخبرني بن السباق أخبرني زيد بن ثابت Y أن أبا بكر أرسل إليه مقتل أهل اليمامة قال : فأتيته فإذا عمر عنده فقال أبو بكر : إن عمر أتاني فقال : إن القتل قد استحر بأهل اليمامة من قراء القرآن - أو الناس - شك أبو يعلى - فأنا أخشى أن يستحر القتل في المواطن كلها فيذهب كثير من القرآن لا يوعى وإني أرى أن تأمر بجمع القرآن قلت لعمر : كيف أفعل شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فقال عمر : هو - والله - خير فلم يزل يراجعني في ذلك حتى شرح الله صدري ورأيت فيه الذي رأى عمر : فقال زيد : و عمر عنده جالس لا يتكلم فقال أبو بكر : إنك شاب عاقل ولا نتهمك وكنت تكتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه و سلم فاتبع القرآن فاجمعه قال زيد : فو الله لو كلفوني نقل جبل من الجبال ما كان أثقل علي مما أمرني به من جمع القرآن فقلت : كيف تفعلون شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : هو - والله - خير فلم يزل يراجعني حتى شرح الله صدري بالذي شرح به صدر أبي بكر و عمر فجمعت القرآن أتتبعه من الرقاع و الأكتاف وصدور الرجال حتى وجدت آخر سورة التوبة مع خزيمة الأنصاري لم أجدها مع أحد غيره { لقد جاءكم رسول من أنفسكم } إلى آخر الآية [ التوبة آية 128 ] فكانت المصاحف التي جمعنا فيها القرآن عند أبي بكر حياته حتى توفاه الله ثم عند عمر حتى توفاه الله ثم عند حفصة K إسناه صحيح

حضرت زید فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے میری طرف کسی کو بھیجا جنگ یمامہ میں آپ کے پاس حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آیا ہے اس نے عرض کی ہے کہ جنگ یمامہ سے بڑے قاری قرآن شہید ہوئے ہیں میں خوف کرتا ہوں کہ اس طرح قاری شہید ہوتے رہے تو سارا قرآن چلا جاۓ جو یاد نہ کیا جا سکے گا۔ میری راۓ یہ ہے کہ آپ قرآن جمع کر نے کا حکم دیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرمایا: کیا میں ایسا کام کروں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ کی قسم! یہ بہتر جمع کرنا مسلسل حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے عرض کر تے رہے۔ یہاں تک کہ اللہ عز وجل نے میرے سینے کو کھول دیا جس طرح اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سینے کو کھولا ہوا تھا ۔ میری بھی وہی رائے ہوگئی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تھی ۔ حضرت زید فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نو جوان ،سمجھدار اور نہ تھکنے والے ۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وحی لکھتے تھے، آپ قرآن کو تلاش کر میں ، آپ جمع کر یں ۔ حضرت زید فرماتے ہیں اگر مجھے ایک پہاڑ اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کرنے کا مکلف بنایا جاتا تو مجھے ایسے کرنا زیادہ آسان تھا۔ میں نے عرض کی: میں وہ کام کیسے کروں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے مسلسل ابھارتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرے سینے کو کھول دیا جس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کے سینے کو کھولا ہوا تھا۔ میں نے قرآن تلاش جمع کرنا شروع کیا، میں نے جمع کیا پر چوں اور اور کندھے کی ہڈیوں سے ۔ اور مردوں کے سینوں سے، میں نے سورہ توبہ کی آخری آیت خزیمہ بن ثابت سے پائی ۔ وہ آیت یہ ہے: لقد جاء کم رسول من أنفسكم . وہ ناہ مصاحف جو ہم نے قرآن میں جمع کیے تھے وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا ان کی زندگی میں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو پھر حضرت حفصہ کے پاس رہا۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← بن السباق ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 71

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 91

91 - حدثنا عبد العزيز بن أبي سلمة بن عبيد الله بن عبد الله بن عمر بن الخطاب حدثني إبراهيم بن سعد عن الزهري عن عبيد بن السباق عن زيد بن ثابت حدثه قال Y أرسل إلي أبو بكر مقتل أهل اليمامة فإذا عمر بن الخطاب عنده فقال أبو بكر : إن عمر أتاني فقال : إن القتل قد استحر يوم اليمامة بقراء القرآن وإني أخشى أن يستحر القتل بقراء القرآن في المواطن فيذهب كثير من القرآن وإني أرى أن تأمر فيجمع قال : قلت : كيف أفعل شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : فقال عمر : هو والله خير فلم يزل يراجعني في ذلك إلى أن شرح الله لذلك صدري ورأيت في ذلك الذي رأى عمر قال زيد بن ثابت : قال أبو بكر : إنك فتى شاب عاقل لا نتهمك وقد كنت تكتب الوحي للنبي صلى الله عليه و سلم فتتبع القرآن فاجمعه قال زيد : والله لو كلفني نقل جبل من الجبال ما كان أثقل علي من الذي أمرني به من جمع القرآن قال : قلت : كيف تفعلون شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : هو والله خير فلم يزل يراجعني حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر أبي بكر و عمر ورأيت في ذلك الذي رأيا فتتبعت القرآن أجمعه من الرقاع واللخاف والعسب وصدور الرجال حتى فقدت آخر سورة التوبة فوجدتها مع خزيمة بن ثابت الأنصاري { لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم بالمؤمنين رؤوف رحيم } [ التوبة آية : 128 ] إلى خاتمة براءة وكانت الصحف عند أبي بكر حياته حتى توفاه الله ثم عند عمر حتى توفاه الله ثم عند حفصة K الحديث صحيح

حضرت زید فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میری طرف کسی کو بھیجا جنگ یمامہ میں آپ کے پاس حضرت عمر بن خطاب بھی تھے ۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آیا ہے اس نے عرض کیا ہے کہ جنگ یمامہ سے بڑے قاری قرآن شہید ہوۓ ہیں ، میں خوف کرتا ہوں کہ اس طرح قاری شہید ہوتے رہے تو سارا قرآن چلا جاۓ گا۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرمایا: کیا میں ایسا کام کروں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہیں کیا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی اللہ کی قسم! یہ بہتر جمع کرتا ، مسلسل حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے عرض کر تے رہے ۔ یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے میرے سینے کو کھول دیا جس طرح اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سینے کو کھولا ہوا تھا۔ میری بھی وہی راۓ ہوگئی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تھی ۔ حضرت زید فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نو جوان سمجھدار ہیں ہم آپ کو متہم بھی نہیں کر تے حالانکہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وحی لکھتے تھے، آپ قرآن کو تلاش کر لیں ، آپ جمع کر لیں ۔ حضرت زید فرماتے ہیں اگر مجھے ایک پہاڑ اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کر نے کا مکلف بنایا جا تا تو مجھے ایسے کرنا زیادہ آسان تھا۔ میں نے عرض کی میں وہ کام کیسے کروں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہیں کیا؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ میں مجھے مسلسل ابھارتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے میرے سینے کو کھول دیا جس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کے کو کھولا تھا ۔ میں نے قرآن تلاش کرنا شروع کیا، میں نے جمع کیا پرچوں اور شانے کی ہڈیوں اور کھجور کے پتوں سے ۔ اور مردوں کے سینوں سے، میں نے سورہ توبہ کی آخری آیت خزیمہ بن ثابت سے پائی ۔ وہ آیت یہ ہے: لقد جاء کم رسول من انفیکم . ومصاحف جو ہم نے جمع کیا تھا جس میں قرآن تھا وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا ان کی زندگی میں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو پھر حضرت حفصہ کےپاس رہا۔

أَبُو بَکْرٍ ← أرسل إلي أبو بكر مقتل أهل اليمامة فإذا عمر بن الخطاب عنده ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 91

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 196

196 - حدثنا عبد الله بن محمد بن أسماء حدثنا مهدي حدثنا سعيد الجريري عن أبي نضرة عن أبي فراس Y قال : شهدت عمر بن الخطاب وهو يخطب الناس قال فقال : يا أيها الناس إنه قد أتى علي زمان وأنا أرى أن من قرأ القرآن يريد الله وما عنده فيخيل إلي أن قوما قرؤوه يريدون به الناس ويريدون به الدنيا ألا فأريدوا الله بأعمالكم ألا إن إنما كنا نعرفكم إذ ينزل الوحي وإذ النبي صلى الله عليه و سلم بين أظهرنا وإذ ينبئنا الله من أخباركم فقد انقطع الوحي وذهب نبي الله فإنما نعرفكم بما نقول لكم ألا من رأينا منه خيرا ظننا به خيرا وأحببناه عليه ومن رأينا به شرا ظننا به شرا وأبغضناه عليه سرائركم بينكم وبين ربكم ألا إني إنما أبعث عمالي ليعلموكم دينكم وليعلموكم سننكم ولا أبعثهم ليضربوا ظهوركم ولا ليأخذوا أموالكم ألا فمن رابه شيء من ذلك فليرفعه إلي فو الذي نفس عمر بيده لأقصنكم منه قال : فقام عمرو بن العاص فقال : يا أمير المؤمنين أرأيت إن بعثت عاملا من عمالك فأدب رجلا من أهل رعيته فضربه إنك لمقصه منه ؟ قال : فقال : نعم والذي نفس عمر بيده لأقصن منه ألا أقص وقد رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقص من نفسه ؟ ألا لا تضربوا المسلمين فتذلوهم ولا تمنعوهم حقوقهم فتكفروهم ولا تجمروهم فتفتنوهم ولا تنزلوهم الغياض فتضيعوهم K أبو فراس قال الحافظ مقبول وباقي رجاله رجال الصحيح

حضرت ابوفراس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا' آپ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے فرمایا: اے لوگو! مجھ پر ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ جو قرآن پڑھتا ہے اللہ کی رضا چاہتا ہے اس کے پاس ہے اور ایسے لوگ آئیں گے کہ وہ قرآن دنیا کو پانے کے لیے اور لوگوں کی رضا حاصل کرنے کے لیے پڑھیں گے خبردار! اللہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے ہم تم کو پہچان لیتے تھے جب وحی نازل ہوتی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے۔ اللہ ہمیں تمہاری باتوں سے آگاہ کر دیتا تھا' وحی آنا بھی ختم ہوگئی اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی تشریف لے گئے ہیں ۔ ہم تمہیں پہچانتے ہیں جو ہم تمہارے لیے کہتے ہیں خبردار! جس سے ہم نیکی دیکھیں ہم اس کے متعلق اچھا گمان رکھیں گے اور اس کو ہم محبوب بنائیں گئے جس سے ہم شر محسوس کریں گے تو ہم اس کو شریر دیکھیں گے ہم اس سے بغض رکھیں گے، تمہارا باطنی معاملہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہے میں کچھ لوگوں کو بھیجتا ہوں کہ تمہیں دین سکھائیں اور تمہارے نبی کی سنتیں سکھائیں ان کو تمہیں مارنے کے لیے نہیں بھیجتا ہوں نہ تم سے مال لینے کے لیے جس کو کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ میری طرف آئے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں تمہارے لیے ضرور بدلہ لوں گا ۔ حضرت عمرو بن عاص کھڑے ہوئے اور عرض کی : اے امیرالمونین! آپ بتائیں کہ اگر آپ کسی عامل کو عوام کی طرف بھیجیں اور وہ اپنی رعیت کو ادب سکھانے کے لیے مارے تو آپ اس سے بھی بدلہ میں گے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! کیا میں بدلہ نہ لوں! میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے سے بدلہ دلا رہے تھے ۔خبر دار ! مسلمانوں کو نہ مارو ان کو ذلیل کرنے کے لیے ان کے حقوق نہ روکو ان کو ادا کرو ان پر زبردستی نہ کرو ان کو آزمائش میں ڈالنے کے لیے ان پر غصہ نہ نکالو ان کے حقوق ضائع نہ کرو ۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ ← شهدت عمر بن الخطاب وهو يخطب الناس ← أَبِي فِرَاسٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← مَهْدِيٌّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 196

مسند أبي يعلى · أبو عمران الجوني عن أنس ‹ أبو عمران الجوني عن أنس · حديث 4230

4230 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا سكين حدثنا المثنى القطان حدثني عبد العزيز يعني أبا سكين قال Y أتيت أنس بن مالك فقلت : أخبرني عن صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فأمر أهل بيته فصلى بنا الظهر و العصر فقرأ بنا قراءة همسا فقرأ بالمرسلات و النازعات و عم يتساءلون و نحوها من السور K إسناده لين

حضرت ابو سکین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے عرض کی : مجھے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بتائیں؟ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ کو نماز کا حکم دیتے تھے، ہم کو ظہر و عصر پڑھاتے تھے، اس نماز میں سورۃمرسلات والنازعات اور عم یتسالون یا اس جیسی سورتیں پڑھتے۔

أتيت أنس بن مالك فقلت ← عبد العزيز يعني أبا سكين ← المثنى القطان ← سكين ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Abu Imran al-Juni on the authority of Anas › Chapter · Hadith 4230

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4433

4433 - حدثنا نصر بن علي الجهضمي حدثنا محمد بن عبد الرحمن الطفاوي عن هشام بن عروة عن أبيه Y عن عائشة قالت : كانت سودة امرأة جسيمة إذا خرجت أشرفت على النساء فرآها عمر بن الخطاب فقال لها : انظري كيف تخرجين فو الله ما تخفين علينا إذا خرجت ! فذكرت ذلك سودة لرسول الله صلى الله عليه و سلم وفي يده عرق قال : فماد العرق من يده من فزع الوحي فقال : إن الله قد جعل لكن رخصة أن تخرجن لحوائجكن K إسناده صحيح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہ موٹی عورت تھیں۔ جب باہر نکلتی تھیں تو عورتوں سے ممتاز نظر آتی تھیں ۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو تو کیسے نکلتی ہے، اللہ کی قسم ! جب آپ رضی اللہ عنہ باہر تشریف لاتی ہیں تو ہم پر پوشیدہ نہیں ہوتیں ۔ حضرت سودہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں پسینہ تھا۔ عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں پسینہ کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وحی کی گھبراہٹ ہے ، اللہ عز وجل نے رخصت دی تمہارے لیے کہ تم اپنی ضرورت کےلیے باہر جاسکتی ہو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4433

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4626

4626 - حدثنا بشر بن الوليد الكندي حدثنا أبو حفص عمر عن سليمان الشيباتي عن علي بن زيد بن جدعان عن جدته Y عن عائشة أنها قالت : لقد أعطيت تسعا ما أعطيتها امرأة إلا مريم بنت عمران : لقد نزل جبريل بصورتي في راحته حتى أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم أ ن يتزوجني ولقد تزوجني بكرا وما تزوج بكرا غيري ولد قبض ورأسه لفي حجري ولقد قبرته في بيتي ولقد حفت الملائكة بيتي وإن كان الوحي لينزل عليه و هو في أهله فيتفرقون عنه وإن كان لينزل عليه وإني لمعه في لحافه وإني لابنه خليفته وصديقه ولقد نزل عذري من السماء ولقد خلقت طيبة وعند طيب ولقد وعدت مغفرة ورزقا كريما

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے نو چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو سوائے حضرت مریم بنت عمران کے نہیں دی گئیں، وہ چیز یں یہ تھیں: حضرت جبریل نے میری صورت کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دکھائی ،یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ شادی کرنے کا حکم دیا، میرے ساتھ کنواری حالت میں شادی کی، میرے علاوہ کسی کنواری سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی نہیں کی، آپ کا وصال اس حالت میں ہوا کہ آپ کا سر میری گود میں تھا، آپ کی قبر میرے گھر میں بنی ، بے شک فرشتے میرے گھر کو گھیر لیتے ہیں اور وحی میرے گھر میں نازل ہوتی رہیں ، جب آپ کسی اور گھر میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نہیں اترتی تھی ،آپ میرے ساتھ بستر میں لیٹتے تھے ،میں آپ کے خلیفہ اور آپ کے دوست کی بیٹی ہوں ، بے شک آسمان سے میرا عذر نازل ہوا ہے، مجھے پاک اور پاک کے پاس پیدا کیا گیا، میرے لیے بخشش اورپاک رزق کا وعدہ کیا گیا۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← جَدَّتِہٖ ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← سليمان الشيباتي ← أبو حفص عمر ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4626

مسند أبي يعلى · مسند عائشة ‹ مسند عائشة · حديث 4780

4780 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا محمد بن أبي عبيدة حدثنا أبي عن الأعمش عن تميم عن عروة بن الزبير قال Y قالت عائشة تبارك الذي وسع سمعه كل شئ إني لأسمع كلام خولة بنت ثعلبة ويخفى علي بعضه وهي تشتكي زوجها إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وهي تقول : يا رسول الله أكل شبابي ونثرت له بطني حتى إذا كبر سني وانقطع ولدي ظاهر مني اللهم إني أشكو إليك قالت : فما برحت حتى نزل جبريل بهذه الآيات : قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي إلى الله [ المجادلة : 1 ] K إسناده صحيح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ بابرکت ہے وہ ذات جس کی سماعت ہر شی پر وسیع ہے، بے شک میں حضرت خولہ بنت ثعلبہ کا کلام سن رہی تھی لیکن اس کا کچھ حصہ مجھ پر مخفی رہا، وہ نبی کریم صلى الله عليہ وسلم کی بارگاہ میں اپنے خاوند کی شکایت کر رہی تھی ،وہ کہہ رہی تھی: اے اللہ کے رسول! (اس نے میری جوانی کو کھالیا یعنی) میری جوانی سے فائدہ اٹھایا ،میرے بطن سے اس کے لیے کئی پھول کھلے یہاں تک کہ جب بوڑھی ہوگئی ہوں اور میری اولاد مجھ سے دور چلی گئی تو اس نے مجھ سے ظہار کیا (یعنی مجھے اپنی ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دی) اے اللہ! میں تیرے سامنے اپنی شکایات کا دفتر پھیلاتی ہوں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: ابھی وہ شکایت کر رہی تھی کہ حضرت جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر اتر آئے:’’بے شک اللہ نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے معاملہ میں بحث کرتی ہے اور اللہ سے شکایت کرتی ہے‘‘۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← تَمِيمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Aisha › Chapter · Hadith 4780

مسند أبي يعلى · حديث أم الفضل بنت الحارث ‹ حديث أم الفضل بنت الحارث · حديث 7302

7302 - وعن أبي موسى قال Y كسفت الشمس زمن رسول الله - صلى الله عليه و سلم - فقام يصلي بأطول قيام وركوع وسجود رأيته يفعله في صلاة قط ثم قال : إن هذه الآيات التي ترسل لا تكون لموت أحد ولا لحياته ولكن الله - عز و جل عليه السلام يرسلها يخوف بها عباده فإذا رأيتم منها شيئا فافزعوا إلى ذكره ودعائه واستغفاره K إسناده صحيح

حضرت ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز پڑھائی، لمبا قیام اور رکوع و سجدہ کیا۔ اتنا لمبا قیام و رکوع و سجدہ کسی اور نما زمیں نہیں کرتے تھے۔ پھر فرمایا: یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جو بھیجتا ہے۔ یہ کسی کی موت و زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا۔ لیکن اللہ عزوجل بھیجتا ہے اپنے بندوں کو ڈرانے کےلیے۔ جب تم ان میں سے کوئی شے دیکھو تو اللہ کے ذکر ودعا و استغفار کی طرف جلدی کیا کرو۔

اَبِیْ مُوْسیٰ

Musnad Abu Yaalaa · The hadith of Umm Al-Fadl bint Al-Harith › Chapter · Hadith 7302

مسند أبي يعلى · حديث أم الفضل بنت الحارث ‹ حديث أم الفضل بنت الحارث · حديث 7419

7419 - حدثنا أبو هشام محمد بن سليمان بن الحكم القديدي قال : حدثني أبي عن إسماعيل بن خالد الخزاعي أن محمد بن جبير بن مطعم Y سمع جبير بن مطعم وهو يقول : قال لي رسول الله - صلى الله عليه و سلم - : أتحب يا جبير إذا خرجت سفرا أن تكون من أمثل أصحابك هيئة وأكثرهم زادا ؟ فقلت : نعم بأبي أنت وأمي قال : فاقرأ هذه السور الخمس : { قل يا أيها الكافرون } و { إذا جاء نصر الله والفتح } و { قل هو الله أحد } و { قل أعوذ برب الفلق } و { قل أعوذ برب الناس } وافتح كل سورة ببسم الله الرحمن الرحيم واختم قراءتك ببسم الله الرحمن الرحيم قال جبير : وكنت غنيا كثير المال فكنت أخرج مع من شاء الله أن أخرج معهم في سفر فأكون أبذهم هيئة وأقلهم زادا فما زلت منذ علمنيهن رسول الله - صلى الله عليه و سلم - وقرأت بهن أكون من أحسنهم هيئة وأكثرهم زادا حتى أرجع من سفري ذلك

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے جبیر رضی اللہ عنہ کیا تو پسند کرتا ہے جب سفر کے لیے نکلے تو ان صحابہ) کی طرح حالت زاد راہ میں زیادہ ہو جائے۔ میں نے عرض کی ، جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر فدا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو ان پانچ سورتوں کو پڑھ لیاکر: قل یا ایها الكفرون، اذا جاء نصر الله والفتح، قل هو الله احد، قل اعوذ برب الفلق، قل اعوذ برب الناس ۔ ہر سورة کو بسم اللہ سے شروع کر۔ اور اپنی قرات کو بسم الله الرحمن الرحیم پر ختم کر۔ حضرت جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں مال دار تھا۔ میں نکلتا تھان کے ساتھ جیسے اللہ چاہتا میں سفر میں ان کی بنسبت حالت اور زاد راہ میں کم ہوتا تھا۔ میں مسلسل یہ پڑھتا رہا جو مجھے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سکھایا تھا۔ میں ان سے اچھی حالت اور زیادہ زاددراه والا ہو گیا۔ یہاں تک کہ میں سفر سے واپس آگیا۔

جبير بن مطعم وهو ← إسماعيل بن خالد الخزاعي أن محمد بن جبير بن مطعم ← أَبِي ← أبو هشام محمد بن سليمان بن الحكم القديدي

Musnad Abu Yaalaa · The hadith of Umm Al-Fadl bint Al-Harith › Chapter · Hadith 7419

مسند أبي يعلى · حديث أم الفضل بنت الحارث ‹ حديث أم الفضل بنت الحارث · حديث 7539

7539 - وعن سهل بن سعد Y قال : جاءت امرأة إلى رسول الله - صلى الله عليه و سلم - فقالت : يا رسول الله جئت أهب نفسي لك . قال : فنظر إليها رسول الله - صلى الله عليه و سلم - فصعد البصر فيها وصوبه فلما طال مقامها تنحت فجلست فقام رجل من أصحاب رسول الله - صلى الله عليه و سلم - فقال : يا رسول الله إن لم يكن لك بها حاجة فزوجنيها . قال : فهل عندك من شيء ؟ قال : لا والله يا رسول الله. قال : فاذهب فذهب ثم رجع فقال : ما وجدت شيئا قال : اذهب فانظر ولو خاتم من حديد. قال : فذهب ثم رجع فقال : يا رسول الله لا ولا خاتم من حديد هذا إزاري وما له رداء أصدقها إياه . فقال : إزارك إن لبسته لم يكن عليك منه شيء وإن لبسته لم يكن عليها منه شيء قال : فلما طال مجلسه قام فرآه رسول الله - صلى الله عليه و سلم - موليا فأمر به فدعي فقال : ماذا معك من القرآن ؟ قال : معي سورة كذا وسورة كذا - من السور عددها - فقال : اذهب فقد ملكتكها بما معك من القرآن إسناده صحيح

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ، عورت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی عرض، کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں اپنی جان آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سپرد کرنے آئی ہوں۔ راوی کا بیان ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا پس کافی دیر کھڑا رہنے کے بعد وہ پیچھے ہٹی اور بیٹھ گئی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ، صحابہ کرام میں سے ایک نے اٹھ کر عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں ہے تو میرا نکاح اس سے کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تیرے پاس کوئی چیز (مہر) ہے؟ اس نے عرض کی: کوئی چیز نہیں ہے قسم بخدا! اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جا کر تلاش کر پس وہ گیا پھر واپس آ کر عرض کی: میں نے کوئی چیز نہیں پائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جا کر دیکھ اگر چہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔ پس وہ گیا پھر واپس آ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کوئی چیز نہیں ہے اور نہ ہی لوہے کی انگوٹھی ہے کہ میری چادر ہے جو میں نے باندھی ہوئی اور کوئی چادر بھی نہیں جو میں اسے مہر کے طور پر دے سکوں ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اگر وہ تیری چادر کو پہنے گی تو تیرے اوپر کوئی چیز نہ ہوگی اگر تو پہنے گا تو اس پر کوئی شے نہ ہوگی۔ پس وہ کافی دیر بیٹھنے کے بعد محفل سے اٹھ کر جانے لگا پس رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مڑ کر اسے دیکھا اسے بلانے کا حکم فرمایا پس اسے بلایا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کتنا یاد ہے؟ عرض کی: فلاں فلاں سورت اس نے ان کو گن دیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو تو نے قرآن پڑھا ہوا ہے اس کے بدلے میں نے تجھے اس کی شرمگاہ کا مالک بنادیا۔

جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت ← وعن سهل بن سعد

Musnad Abu Yaalaa · The hadith of Umm Al-Fadl bint Al-Harith › Chapter · Hadith 7539

مسند أبي يعلى · من مسند الزبير بن العوام ‹ من مسند الزبير بن العوام · حديث 679

679 - حدثنا محمد بن إسماعيل بن علي الأنصاري حدثنا خلف بن تميم المصيصي عن عبد الجبار بن عمر الأيلي عن عبد الله بن عطاء بن إبراهيم عن جدته أم عطاء مولاة الزبير بن العوام قالت Y سمعت الزبير بن العوام يقول : لما نزلت : { وأنذر عشيرتك الأقربين } [ الشعراء : 214 ] صاح رسول الله صلى الله عليه و سلم على أبي قبيس : يا آل عبد مناف إني نذير فجاءته قريش فحذرهم وأنذرهم فقالوا : تزعم أنك نبي يوحى إليك وأن سليمان سخر له الريح والجبال وأن موسى سخر له البحر وأن عيسى كان يحيي الموتى ؟ فادع الله أن يسير غنا هذه الجبال ويفجر لنا الأرض أنهارا فنتخذها محارث فنزرع ونأكل وإلا فادع الله أن يحيي لنا موتانا فنكلمهم ويكلمونا وإلا فادع الله أن يصير هذه الصخرة التي تحتك ذهبا فننحت منها ويغنينا عن رحلة الشتاء والصيف فإنك تزعم أنك كهيئتهم ! فبينما نحن حوله إذ نزل عليه الوحي فلما سري عنه قال : والذي نفسي بيده لقد أعطاني ما سألتم ولو شئت لكان ولكنه خيرني بين أن تدخلوا من باب الرحمة فيؤمن مؤمنكم وبين أن يكلكم إلى أن ما اخترتم لأنفسكم فتضلوا عن باب الرحمة ولا يؤمن مؤمنكم فاخترت باب الرحمة فيؤمن مؤمنكم وأخبرني إن أعطاكم ذلك ثم كفرتم أنه معذبكم عذابا لا يعذبه أحدا من العالمين فنزلت : { وما منعنا أن نرسل بالآيات إلا أن كذب بها الأولون } [ الإسراء : 59 ] حتى قرأ ثلاث آيات ونزلت : { ولو أن قرآنا سيرت به الجبال أو قطعت به الأرض أو كلم به الموتى } الآية : [ الرعد : 31 ] K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن عطا بن ابراہیم اپنی دادی ام عطا زبیر بن عوام کی لونڈی فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : " اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں " ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جب ابی قبیس پر آواز دی: اے آل عبدمناف ! میں ڈرانے والا ہوں ، قریش آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ان کو ڈرایا۔ قریش کے لوگ کہنے لگے ، آپ کا خیال ہے کہ آپ نبی ہیں ، آپ کی طرف وحی آتی ہے ( دیکھو ) حضرت سلیمان علیہ السلام کے تابع ہوا اور پہاڑ کر دئیے گئے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے سمند تابع کر دیا گیا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ کرتے تھے ، آپ اللہ سے دعا کریں کہ یہ پہاڑ ہمارے ساتھ چلیں ! ہماری زمین سے نہریں بہیں، ہم کھیت چلائیں ، ہم کھیتی اگائیں اور ہم کھائیں ، ورنہ اللہ سے دعا کریں کہ ہمارے مردوں کو زندہ کرے ، ہم ان سے کلام کریں ، تو وہ ہم سے کلام کریں ورنہ اللہ سے دعا کریں کہ یہ چٹان جو آپ کے نیچے ہے وہ سونا ہو جائے ، ہم اس کو کھودیں ، ہم گرمیوں و سردیوں میں سواری چلانے سے بے نیاز ہو جائیں ، آپ گمان کرتے ہیں اس طرح کرنے کا ، ہم آپ کے اردگرد ہیں ۔ اچانک آپ پر وحی آنا شروع ہو گئی ، جب وحی ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، بے شک اللہ نے مجھے عطا کیا ہے جو تم نے مانگا ہے ، اگر میں چاہوں تو ہو جائے گا لیکن مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ تم رحمت کے دروازے سے داخل ہو ، تمہارے مؤمن ایمان لائیں اور اس کے درمیان تم اختیار کرو اپنے لیے وہ رحمت کے دروازے سے گمراہ ہو جائیں گے اور تمہارے مؤمن ایمان نہیں لائیں گے میں نے رحمت کا دروازہ اختیار کیا ، تمہارے مؤمن ایمان لائیں گے مجھے بتایا کہ اگر میں آپ کوعطا کروں پھر تم نے انکار کیا تو تم کو ایسا عذاب دوں گا کہ ایسا عذاب جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا ہو گا۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی : " وما منعنا الی آخرہ" یہ آیتیں آپ نے تین مرتبہ پڑھیں، اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی : " ولو ان قرانا الی آخرہ" ۔

الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، ← جدته أم عطاء مولاة الزبير بن العوام ← عبد الله بن عطاء بن إبراهيم ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ الْأَيْلِيُّ، ← خلف بن تميم المصيصي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Zubair bin Al-Awam › Chapter · Hadith 679

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 814

814 - حدثنا عبد الواحد حدثنا الحارث بن نبهان حدثنا عاصم بن بهدلة عن مصعب بن سعد Y عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خياركم من تعلم القرآن وعلمه قال : وأخذ بيدي فأقعدني مقعدي هذا أقرىء K إسناده ضعيف

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ۔ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے باپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے میری جگہ بٹھایا کہ میں پڑھوں ۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← الحارث بن نبهان ← عَبْدُ الْوَاحِدِ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 814

مسند أبي يعلى · مسند عقبة بن عامر الجهني ‹ مسند عقبة بن عامر الجهني · حديث 1745

1745 - حدثنا أحمد بن إبراهيم الدورقي حدثنا أبو عبدالرحمن حدثنا لهيعة عن مشرح بن هاعان المعافري عن عقبة بن عامر الجهني Y أن رسول الله رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لو أن القرآن جعل في إهاب ثم ألقي في النار ما احترقت قال أبو عبد الرحمن : ففسره : أن من جمع القرآن ثم دخل النار فهو شر من خنزير K إسناده ضعيف

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر قرآن اس کو کھال میں رکھا جائے پھر اس میں ڈالا جائے تو وہ نہیں جلے گا۔ حضرت عبدالرحمٰن اس کی تفسیر کرتے ہیں کہ جس نے قرآن کو اکٹھا کیا پھر آگ میں داخل ہوا تو خنزیر سے برا ہے۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← مشرح بن هاعان المعافري ← لهيعة ← أبو عبدالرحمن ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Uqba bin Amer al-Juhani › Chapter · Hadith 1745

سلسلہ الضعیفہ · کتاب ‹ باب · حديث 3985

3985 - (زوجوا عثمان، لو كان لي ثالثة لزوجته، وما زوجته إلا بالوحي من الله عز وجل)

Silsala Daeef · Book › Chapter · Hadith 3985

chevron_left Previous
1…424344…305
Next chevron_right