سنن الکبری البھیقی · كتاب الإجارة ‹ كتاب الإجارة · حديث 11686
[ 11466 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الحسن الطرائفي قال وفيما أجاز لنا عثمان بن سعيد الدارمي عن دحيم قال حديث أبي الدرداء رضى الله تعالى عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم من تقلد قوسا على تعليم القرآن ليس له أصل
11686 – حضرت ابو درداء سے روایت ہے کہ جس نے قرآن کی تعلیم پر کمان لی۔
النبي من تقلد قوسا على تعليم القرآن ليس له أصل ← حديث أبي الدرداء رضى الله تعالى عنه ← دُحَيْمٌ، ← وفيما أجاز لنا عثمان بن سعيد الدارمي ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الحسن الطرائفي
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Leasing book › Leasing book · Hadith 11686
سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13267
[ 13046 ] أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد أنبأ إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنبأ معمر عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن أبي ثور عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما قال لم أزل حريصا أن أسأل عمر رضى الله تعالى عنه عن المرأتين من أزواج النبي صلى الله عليه وسلم اللتين قال الله تعالى { إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما } حتى حج عمر رضى الله تعالى عنه وحججت معه فلما كان ببعض الطريق عدل عمر رضى الله تعالى عنه لحاجته وعدلت معه بالإداوة فتبرز ثم أتى فسكبت على يديه فتوضأ فقلت يا أمير المؤمنين من المرأتان من أزواج النبي صلى الله عليه وسلم اللتان قال الله تعالى { إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما } فقال عمر رضى الله تعالى عنه واعجبا لك يا بن عباس قال الزهري رحمه الله تعالى كره والله ما سأله عنه ولم يكتمه قال هي حفصة وعائشة ثم أخذ يسوق الحديث فقال كنا معشر قريش قوما نغلب النساء فلما قدمنا المدينة وجدنا قوما تغلبهم نساؤهم فطفق نساؤنا يتعلمن من نسائهم قال وكان منزلي في بني أمية بن زيد بالعوالي فتغضبت يوما على امرأتي فإذا هي تراجعني فأنكرت أن تراجعني فقالت ما تنكر أن أراجعك فوالله إن أزواج النبي صلى الله عليه وسلم يراجعنه وتهجره إحداهن اليوم إلى الليل قال فانطلقت فدخلت على حفصة فقلت أتراجعين رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت نعم وتهجره إحداهن اليوم إلى الليل قالت نعم قلت قد خاب من فعل ذلك منكن وخسر أفتأمن إحداكن أن يغضب الله عليها لغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا هي قد هلكت لا تراجعي رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا تسأليه شيئا وسليني ما بدا لك ولا يغرنك إن كانت جارتك هي أوسم وأحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم منك يريد عائشة قال وكان لي جار من الأنصار وكنا نتناوب النزول الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فينزل يوما وأنزل يوما فيأتيني بخبر الوحي وغيره وآتيه بمثل ذلك قال وكنا نتحدث أن غسان تنعل الخيل لغزونا فنزل صاحبي يوما ثم أتاني عشاء فضرب بابي ثم ناداني فخرجت إليه فقال حدث أمر عظيم قال قلت ماذا أجاءت غسان قال بل أعظم من ذلك وأطول طلق رسول الله صلى الله عليه وسلم نساءه قال فقلت قد خابت وخسرت قد كنت أظن هذا كائنا حتى إذا صليت الصبح شددت على ثيابي ثم نزلت فدخلت على حفصة وهي تبكي فقلت أطلقكن رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت لا أدري هو هذا معتزلا في هذه المشربة فأتيت غلاما له أسود فقلت أستأذن لعمر فدخل الغلام ثم خرج إلي فقال قد ذكرتك له فصمت فانطلقت حتى أتيت المسجد فإذا قوم حول المنبر جلوس يبكي بعضهم فجلست قليلا حتى غلبني ما أجد فأتيت الغلام فقلت استأذن لعمر فدخل ثم خرج إلي فقال قد ذكرتك له فصمت فخرجت فجلست إلى المنبر ثم غلبني ما أجد فأتيت الغلام فقلت استأذن لعمر فدخل ثم خرج إلي فقال قد ذكرتك له فصمت قال فوليت مدبرا فإذا الغلام يدعوني فقال ادخل قد أذن لك فدخلت فسلمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا هو متكئ على رمال حصير قد أثر في جنبه فقلت أطلقت يا رسول الله نساءك قال فرفع رأسه إلي وقال لا فقلت الله أكبر لو رأيتنا يا رسول الله وكنا معشر القريش قوما نغلب النساء فلما قدمنا المدينة وجدنا قوما تغلبهم نساؤهم فطفق نساؤنا يتعلمن فتغضبت على امرأتي يوما وإذا هي تراجعني يعني فأنكرت فقالت ما تنكر أن أراجعك فوالله إن أزواج النبي صلى الله عليه وسلم ليراجعنه وتهجره إحداهن اليوم إلى الليل فقلت قد خاب من فعل ذلك منهن وخسر أفتأمن إحداهن أن يغضب الله عليها لغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا هي قد هلكت فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يعني قد دخلت على حفصة فقلت لا يغرنك إن كانت جارتك هي أوسم منك وأحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم منك فتبسم أخرى فقلت استأنس يا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم فجلست فرفعت رأسي في البيت فوالله ما رأيت فيه شيئا يرد البصر إلا أهب ثلاثة فقلت ادع الله يا رسول الله أن يوسع على أمتك فقد وسع على فارس والروم وهم لا يعبدون الله فاستوى جالسا فقال أفي شك أنت يا بن الخطاب أولئك قوم قد عجلت لهم طيباتهم في الحياة الدنيا فقلت أستغفر الله يا رسول الله وكان أقسم أن لا يدخل عليهن شهرا من شدة موجدته عليهم حتى عاتبه الله عز وجل قال الزهري فأخبرني عروة عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت فلما مضت تسع وعشرون ليلة دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم بدأ بي فقلت يا رسول الله أقسمت أن لا تدخل علينا تعني شهرا إنك دخلت علي من تسع وعشرين أعدهن قال إن الشهر تسع وعشرون ثم قال يا عائشة إني ذاكر لك أمرا فلا عليك أن لا تعجلي فيه حتى تستأمري أبويك قال ثم قرأ علي يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا الآية قالت قد علم والله أن أبوي لم يكونا يأمراني بفراقه قالت قلت أفي هذا استأمر أبوي فإني أريد الله ورسوله والدار الآخرة قال معمر وأخبرني أيوب قال فقالت له عائشة لا تقل إني اخترتك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إنما بعثت مبلغا ولم أبعث متعنتا رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم ومحمد بن أبي عمر عن عبد الرزاق بطوله
13267 - ابن عباس کہتے ہیں کہ میری ہمیشہ یہی خواہش رہی کہ میں عمر سے یہ سوال کروں کہ وہ دو عورتیں کون سی ہیں جن کے بارے میں اللہ پاک نے فرمایا: یہاں تک کہ عمر نے بھی حج کیا او رمیں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا راستے میں حضرت عمر الگ ہو گئے قضا حآجت کے لیے تشریف لے گئے میں بھی برتن لے کر آپ کے ساتھ گیا پھر آپ نکلے تو میں نے آپﷺ کے ہاتھوں پر پانی بہایا آپ نے وضو فرمایا میں نے کہا: اے امیر المومنین نبی ﷺ کی کون سی دو بیویاں ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے عمر فرمانے لگے اے ابنعباس ! تجھ پر تعجبہے ! زہری فرماتے ہین قسم بخدا انہوںنے اس کے سوال نا پسند کیا آپنے اسے چھپایا نیں بلکہ فرمایا: وہ حفسہ اور عائشہ تھیں پھر واقعہ بیان کرنا شروع ہوئے کہ ہم قریشی لوگ عورتوں پر غالب رہتے تھے جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے یہاں ایسے لوگ دیکھے جن پر عورتیں غالب ہیں تو ہماری عورتیں بھی انسے سیکھنے لگی فرماتے ہیں : میا گھر بنو امیہ بن زید کے بالائی جانب تھا ایک روذ میں اپنی بجیوی پر غصہ ہوا تو وہ مجھے جواب دینے لگی مجھے اس کے جواب دینے پر تعجب ہو وہ کہنے لگی آپ کو م یرے جواب دیتے پر تعجب کیوں ہوا ؟ قسم بخدا ! نبی کریم ﷺ کی ازواج مطرات آپ کو جواب دیتی ہیں اور آج تو ان میں سے ایک نے آپ سے رات تک انہوں نے کہا ہاں اور آج رات تو ان میں سے ایک نے آپ سے علیحدگی اختیار کی ہوئی ہے میں ن ے کہا: تم میں سے جس نے یہ کام کیا ہے وہ تو خسارے میں رہی کیا تم میں سے کوئی اس سے مطمءن ہے کہ رسول اللہﷺ کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر نہ ہوگا ؟ وہ وت ہلاک ہو چکی تم ہرزگز رسول اللہﷺ کو جواب نہ دیا کرو اور نہ آپ سے کسی چیز کا سوال کرو جو چاہے مجھ سےت مانگ لیا کرو اور تمیں پڑوسن دھوکے میں نہ ڈالے وہ تمہاری نست رسول اللہﷺ کو زیادہ محبوب ہے ان کی مراد عائشہ تھیں۔ فرماتے ہیں: میرا ایک انصاری پڑوسی تھا اور ہم رسول اللہﷺ ک پاس باری باری جاتے رہتے ایک دن وہ آپ کے پاس جاتا تو دوسرے دن میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتا وہ مجھے کوئی وحی سناتااور میں بھی اسی طرح کوئی واقعہ سناتا ہم باتیں ر رہے تھے کہ غسان قبیلہ نے ہم سے جنگ کے لیے گھورے کے گھر تیار کر لیے ہیں میرا دوست آیا پھر وہ رات کو عشا میں بھی میرے پاس آیا اس نے میر ا دروازہ کھٹکھٹایا اور مجھے آواز دئی میں اس کی طرف نکلا تو اس نے کہا: بہت بڑا واقعہ پیش آگیا ہے میں نے کہا: کیا غسان والے نکل آئے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ اس سے بھی بڑا اور ہم رسول اللہﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاقے ےدی ہے میںنے کہا حفسہ تو خایب و خاسر ہو گئی میرا گمان تھا کہ ایسا ہونے والا ہے جب میں نے صبح کی نماز اا کیو اپنے کپڑے سمیٹے اور حفہ کے پاس چلا آیا دیکھا تو وہ رو رہی تھی میں نے پوچھا : کیا واقعی رسول اللہﷺے تمہیں طلاق دے دی ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نہیں جانتی وہ اس معاملہ می جدائیگ اختایر کیے ہوئے ہیں میں آپ کے ایک حبشی غلام سے ملا میں نے اسے کہا: عمر کے لیے اجازت مانگو غلام داخل ہوا پھر میرے پاس ایااور کہا اپ کا ذکر ان کے سامنے کئا گیا تو وہ خاموش رہے میں مسجد کی طرف چلا گیا وہاں لوگ منبر کے پاس بیٹھے ہوئے رو رہے تھے میںتھوری دیر بیٹھا رہا پھر مجھ پر میرا وجدان غالب آگیئ اتو واپس غلام کے پاس آیا اور کہا: عمر کے لیے اجازت مانگو غلام اندر گیا او رباہر آکر وہی جواب دیا میں پھر مسجد میں منبر کے پاس جا بیٹھا ؛یکن پھر وہیئ کیفیت ہوئیتو تیسری بار پھر گیا اور اجازت چاہی جب اجازت نہ ملی تو پیٹھ پھیر کر چل پڑا اچانک غلام مجھے اواز دینے لگا آئیے آپ کو اجازت مل گئی ہے میں اندر گیا اور رسول اللہﷺ کو سلام عرض کیا آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور اس کے نشان آپ کے بدن پر ظاہر تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا واقعی آپ نے اپنی بیویوں کو طلاقے دے دی ہے؟ آپﷺ نے میری طر ف سر اٹھا رک دیکھا اور فرمایا: نہیں میں نے کہا: اللہ اکبر ! اے اللہ کے رسول! ہمیں دیکھے ہم قریشی لوگ عورعتوں پر غالب رہتے تھے جب سے ہم مدینہ آئے وہاں ہم نے ایسی قوم دیکھی جن ہپر ان کی عورتیں غالب ہیں اب ہماری عورتیں بھی ان سے سیکھنے لگی ہیں ایک دن میں اپنی بیوی پر غصہپ ہوا تو وہ مجھے جواب دینے لگی مجھے تعجب ہوا تو وہ کہنے گلی: اپ کو تعجب کیوں ہے ؟ قسم بخدا ! نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات آپ کو جواب بھی دیتی ہیں اور آج تو ان میں سے ایک نے آپ سے علیحدگی اختیار کی ہوئی ہے میں نے کہا پھر تو وہ تباہ و برباد ہو گئی کیا تم میں سے کوئی اس سے مطمءن ہے کہر سول اللہﷺ کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا س پر غضب نازل ہو وہ تو ہلاک ہو گئی رسول اللہﷺمسکرا دیے میں نے کہپا: پھر میں حفصہ کے پاس گیا میں نے اسے کہا: تجھے یہ بات دھوکے میں نہ ڈال دے کہ تیری پڑوسن رسول اللہقکو تجھ سے زیادہ محبوب ہے آپ پھر مسکرائے میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں مانوس ہو جاؤں؟ آپ نے فرمایا:ؒ ہاں میں بیٹھ گیا پھر میں نے سر اٹھا کر گھر میں نظر دوڑائی قسم بخدا! میں نے تاحد نگاہ کچھ نہ دیکھا سوائے تین چمڑوں کے میں نے کہا: اے اللہ کےر سول!اپنی امت کے لیے وسعت کی دعا فرمائیے روم فارس پر کس قدر وسعت کی گئیہے حالاں کہ وہ اللہ کی عبطادت بھی نہیں کرتے اپ ﷺ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا: اے عمر ! کیا تم شک می ہو! یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کی پسندیدہ چیزیں دنیا میں دے دی گئی ہیں میں نے کہا : میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں آپﷺ نے قسم اٹھا لیتھی کہ اپنی ازواج کے پاس ایک ماہ تک نہ جائیں گے ان کو سختی سے تنبیہ کرنے کی غرض سے کہ اللہتعالیٰ نے آپ سے معمالہ صاف کروایا۔
لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا ← بن عباس رضى الله تعالى عنهما ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْد اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13267
سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13281
[ 13060 ] أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي أنبأ أبو علاثة محمد بن عمرو بن خالد ثنا أبي ثنا بن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة فذكر قصة أحد وإشارة النبي صلى الله عليه وسلم على المسلمين بالمكث في المدينة وأن كثيرا من الناس أبو إلا الخروج إلى العدو قال ولو تناهوا إلى قول رسول الله صلى الله عليه وسلم وأمره كان خيرا لهم ولكن غلب القضاء والقدر قال وعامة من أشار عليه بالخروج رجال لم يشهدوا بدرا وقد علموا الذي سبق لأهل بدر من الفضيلة فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الجمعة وعظ الناس وذكرهم وأمرهم بالجد والاجتهاد ثم انصرف من خطبته وصلاته فدعا بلأمته فلبسها ثم أذن في الناس بالخروج فلما أبصر ذلك رجال من ذوي الرأي قالوا أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نمكث بالمدينة فإن دخل علينا العدو قاتلناهم في الأزقة وهو أعلم بالله وبما يريد ويأتيه الوحي من السماء ثم اشخصناه فقالوا يا نبي الله أنمكث كما أمرتنا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا ينبغي لنبي إذا أخذ لامة الحرب وأذن في الناس بالخروج إلى العدو أن يرجع حتى يقاتل وقد دعوتكم إلى هذا الحديث فأبيتم إلا الخروج فعليكم بتقوى الله والصبر إذا لقيتم العدو وانظروا ما أمرتكم به فافعلوه فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم والمسلمون معه وذكر الحديث وهكذا ذكره موسى بن عقبة عن الزهري وكذلك ذكره محمد بن إسحاق بن يسار عن شيوخه من أهل المغازي وهو عام في أهل المغازي وإن كان منقطعا وكتبناه موصولا بإسناد حسن
جب نبی ﷺ نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو لوگوں کو وعظ کیا اور ان کی محنت اور کوشش کرنے کا ھکم دیا پھر جب آپ اپنی نماز اور خطبہ سے واپس پتے تو آپ نے ذرع منگوائی اور ا سکو پہن لیا پھر لوھوں م،یںآ علان کروایا کہ وہ جنگ کے لیے نکل؛یں جب ان لوگھوں نےدیکھا جن کے دلوں میں بیماری تھی و کہا ہمیں رسول اللہﷺ نے حکمدیا ہے کہ ہم مدینہ میں ٹھہریں اگر مدینے میں دشمن داخل ہو گئ تےتو ہم ان کا مقابلہ کریں گے حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا تھا جو وہ ارادہ رکھتےتھے پھر آسمان سے وحی ائی پھر ہم نے اسے روانگی کا وقت سمجھا انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی ! کیا ہم ٹھہرے رہیں جیسا کہ آپﷺ نے ہم کو حکم دیا ہے تو نبی ﷺنے فرمایا: کسی نبی کے لیے یہ لائق نہیں ہے کہ جب وہ لرائی کا سامان پکڑ لے اور لوگوں کو دشمن کی طرف نکلنے کا حکمدے تو وہ واپس آئے حتی کہ وہ قتل ہو جائے میں م کو اس کی طرف بلاتا ہوں اور تم نکلنے سے انکار کرتے ہو پھر فرمایا: تقویٰ اور صبر کو لازم پکڑو جب تم دشمن سے ملو تو دیکھو میں تم کو کیا حکم دیتا ہوں اس کام کو گزر و۔
عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← بن لهيعة ← أَبِي
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13281
سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13331
[ 13109 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أحمد بن سلمان الفقيه ثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي ثنا حجاج بن منهال ثنا همام بن يحيى ثنا عطاء بن أبي رباح ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال وأنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن محمد بن يحيى ثنا مسدد ثنا يحيى عن بن جريج قال أخبرني عطاء أخبرني صفوان بن يعلى أن يعلى كان يقول لعمر رضى الله تعالى عنه ليتني أرى رسول الله صلى الله عليه وسلم حين ينزل عليه فلما كان النبي صلى الله عليه وسلم بالجعرانة وعليه ثوب قد أظل عليه ومعه فيه ناس من أصحابه إذ جاءه رجل متضمخ بطيب فقال يا رسول الله كيف ترى في رجل أحرم في جبة بعد ما تضمخ بطيب فنظر إليه النبي صلى الله عليه وسلم فجاءه الوحي فأشار عمر إلى يعلى رضى الله تعالى عنه بيده أن تعالى فجاءه يعلى فأدخل رأسه فإذا هو محمر الوجه يغط كذلك ساعة ثم سرى عنه فقال النبي صلى الله عليه وسلم أين الذي سألني عن العمرة آنفا فالتمس الرجل فأتي به فقال أما الطيب الذي بك فاغسله ثلاث مرات وأما الجبة فانزعها ثم اصنع في عمرتك كما تصنع في حجك لفظ حديث بن جريج وفي حديث همام عن أبيه أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم وهو بالجعرانة وعليه جبة وعليه أثر خلوق ثم ذكر معناه وفيه قال همام أحسبه قال كغطيط البكر رواه البخاري في الصحيح عن أبي نعيم وغيره ورواه مسلم عن شيبان كلهم عن همام قال البخاري وقال مسدد ثنا يحيى فذكره وأخرجه مسلم من أوجه عن بن جريج
حضرت یعلی حضرت عمر سے فرماتے تھے کہ جب نبی ﷺ جعرانہ مقام پر تھے او رآپ ﷺ پر کپڑا تھا جس نے اپﷺپر سایہ کیا ہوا تھا آپ کے ساتھ صحابہ میں سے کچلوگ بھی تھے ایک آدمی آیا جو کہ خوشبو میں لت پت تھا اس نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ آپ کا اس بندے کے بارے میں کیا خیال ہے جو اپنے جبہ کو احرام بنا لیت اہے خوشبو لگانے کے بعد ؟ نبی ﷺنے ایک لمحہکے لئے اس کو دیکھا پھر وحی آگئی نبی ﷺ نےف رماا: سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ جس نے عمرہ کے بارے میں ابھی ابھی سوال کیا ہے ؟ ایک آدمی نےا سکو تلاش کیا اور پھر اس کو لایا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: جو خوشبو تجھے لگی ہوئی ہے اس کو تین مرتبہ دھولو اور جو جبہ ہے اس کو اتار لو پھر اپنے عمرے میں ہر وہ کام کر جو اپنے حج میں کرتا ہے ۔
صفوان بن يعلى أن يعلى كان ← عَطَاءٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← وأنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أحمد بن سلمان الفقيه
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13331
سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13335
[ 13113 ] وبهذا الإسناد عن بن شهاب قال سمعت أبا سلمة بن عبد الرحمن يقول أخبرني جابر بن عبد الله الأنصاري رضى الله تعالى عنهما أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ثم فتر الوحي عني فبينما أنا أمشي سمعت صوتا من السماء فرفعت بصري قبل السماء فإذا الملك الذي كان يجيئني قاعد على كرسي بين السماء والأرض فجئثت منه فزعا حتى هويت إلى الأرض فجئت إلى أهلي فقلت لهم زملوني فزملوه فأنزل الله تعالى { يا أيها المدثر قم فأنذر وربك فكبر وثيابك فطهر والرجز فاهجر } قال أبو سلمة الرجز الأوثان قال ثم جاء الوحي بعد وتتابع رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن بكير وأخرجه مسلم من وجه آخر عن الليث بالإسنادين جميعا دون كلام محمد بن النعمان
13335- بداللہ انصاری نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا: پھر وحی کچھ دنوں کے لیے رک گےی ایک دفعہ میں چل رہا تھا کہ می نے آسمان سے آواز سنی میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو ایک فرشتہ کرسی پر بیٹھا ہو ا تھا اور آسما اور ز مین کے درمیان تھا میں نےا س سے خؤف محسوس کیا اور نیچے زمین کی طرف اترنا شروع کر دیا اور میں اپنے گھر والوں کی طرف آیا میں نے ان کو کہا مجھے چادر اوڑھا دو مجھے چادر اوڑھا دو تو اللہ پاک نے یہ آیت نازل کیں۔
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13335
سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13340
[ 13118 ] أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنبأ عبد الله بن جعفر بن درستويه ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو عبد الرحمن المقري ثنا الليث بن سعد عن الوليد بن أبي الوليد أن سليمان بن خالد أخبره عن خارجة بن زيد أن نفرا دخلوا على أبيه زيد بن ثابت رضى الله تعالى عنه فقالوا حدثنا عن بعض أخلاق النبي صلى الله عليه وسلم فقال كنت جاره فكان إذا نزل الوحي بعث إلي فآتيه فأكتب الوحي وكنا إذا ذكرنا الدنيا ذكرها معنا وإذا ذكرنا الآخرة ذكرها معنا وإذا ذكرنا الطعام ذكره معنا أو كل هذا نحدثكم عنه
13340 – ایک جماعت زید بن ثابت کے پاس آئی انہوں نے کہا ہمیں نبی ﷺ کے اخلاق کے بارے میں کوئی حدیث سنائیں تو زید بن ثابت نے فرمایا: میں آپﷺ کا پڑوسی تھا جب وحی نازل ہوتی تو آپﷺ میری طرف پیغام بھیجتے تو میں وحی کو لکھ دیا کرتا اور ہم جب دنیا کا ذکر کرتے تو آپﷺ بھی ہمارے ستاھ زکر کرتے اور جب ہم آخرت کو یاد کرتے تو آپﷺ بھی کرتے اور جب ہم کھانے کا ذکر کرتے تو آپﷺ بھی کرتے تھے ہم یہ تمام چیزیں تمہیں آ پ سے بیان کرتے ہیں۔
الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنبأ عبد الله بن جعفر بن درستويه
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13340
سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13342
[ 13120 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس العنزي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك ح قال وثنا يحيى بن بكير ثنا مالك عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة أم المؤمنين رضى الله تعالى عنها أن الحارث بن هشام رضى الله تعالى عنه سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله كيف يأتيك الوحي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أحيانا يأتيني مثل صلصلة الجرس وهو أشده علي فيفصم عني وقد وعيت ما قال الملك وأحيانا يتمثل لي الملك رجلا فيعلمني فأعي ما يقول قالت عائشة رضى الله تعالى عنها ولقد رايته ينزل عليه الوحي في اليوم الشديد البرد فيفصم عنه وأن جبينه ليتفصد عرقا قال القعنبي فيكلمني رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن يوسف عن مالك وأخرجه مسلم من أوجه عن هشام
حارث بن ہشام نے آپﷺ سے سوال کیا کہ آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے ؟ تو نبیﷺ نے فرمایا: کبھی کبھی وحی گھنتیکی اواز کی طرح آتی ہے اور یہ مجھ پر بہت زیادہ سخت ہوتی ہے مجھ پر پیش کیا جاتا ہے او رپھر میںاس کو یاد کر لیتا ہوں جو کچھ فرشتے نے کہا ہوتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی شکل یں اتا ہے وہ مجھے پرھاتا ہےاو رمیں اسکو یاد کر لیتا ہوں۔
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13342
سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ كتاب النكاح · حديث 13343
[ 13121 ] أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا علي بن حمشاذ العدل ثنا الحارث بن أبي أسامة ثنا عبد الوهاب بن عطاء أنبأ سعيد عن قتادة عن الحسن عن حطان بن عبد الله الرقاشي عن عبادة بن الصامت وكان عقيبا بدريا أحد نقباء الأنصار أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا نزل عليه الوحي كرب لذلك وتربد له وجهه أخرجه مسلم في الصحيح من حديث سعيد بن أبي عروبة
13343 – نبی ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تو اس کی وجہ سے تکلیف ہوتی اور چہرہ سرخ ہوجاتا یا کانپ جاتا۔
عبادة بن الصامت وكان عقيبا بدريا أحد نقباء الأنصار ← حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← عبد الوهاب بن عطاء أنبأ سعيد ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › The Book of Marriage · Hadith 13343
سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ جماع أبواب ما خص به رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره مما أبيح له وحظر على غيره · حديث 13391
[ 13169 ] أخبرنا أبو علي الروذباري وأبو عبد الله الحسين بن عمر بن برهان الغزال وأبو الحسين محمد بن الحسين بن الفضل القطان وغيرهم قالوا ثنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا الحسن بن عرفة ثنا علي بن ثابت الجزري عن بكير بن مسمار مولى عامر بن سعد قال سمعت عامر بن سعد يقول قال سعد رضى الله تعالى عنه نزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم الوحي فأدخل عليا وفاطمة وابنيهما تحت ثوبه وقال اللهم هؤلاء أهلي وأهل بيتي
13391 – سعد فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ پر وحی نازل ہوئی آپﷺ نے اپنے کپرے کئ نیچے علی فاطمہ حسن حسین کو داخل کیااور فرمایا: اے اللہ! یہ میرے اہل میںسے ہیں اور میرے اہل بیت میں سے ہیں۔
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › Intercourse with the chapters on what the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, singled out for, excluding others, which were permitted for him and forbidden for others · Hadith 13391
سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17938
[ 17717 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر أحمد بن الحسن القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق ثنا معاوية بن عمرو عن أبي إسحاق عن عثمان بن عطاء عن أبيه عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما قال قال الله تبارك وتعالى خذوا حذركم فانفروا ثبات عصبا أو انفروا جميعا وقال انفروا خفافا وثقالا وقال إلا تنفروا يعذبكم عذابا أليما ثم نسخ هه الآيات فقال وما كان المؤمنون لينفروا كافة قال فتغزو طائفة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وتقيم طائفة قال فالماكثون مع رسول الله صلى الله عليه وسلم هم الذين يتفقهون في الدين وينذرون قومهم إذا رجعوا إليهم من الغزو لعلهم يحذرون ما نزل الله من كتابه وفرائضه وحدوده
17938 – حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہی:ں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ایمان وال؛و! اپنے بچاؤ کا سامان پکڑو پھر دستوں کی صورت میں نکلو ابن عباس کہتے ہیں کا معنی جماعت ہے اے ایمان والو! یا اکٹھے ہو کر نکلو ار فرمایا: نکلو لکے او ربوجھل اور فرمایا: اگرگ تم نہ نبکلو تو تمہیں دردناک عذاب دے گا پھر ان آیات کو منسوخ کر دیا اور فمایا: اور ممکن نہیں ہپے کہ مومن سب کے سب نکل جائیں اور فرمایا:ایک گروہ رسول اللہﷺ کے ساتھ محاذ پر ا ور ایک پیچھے رہتا تھا۔
فتغزو طائفة مع رسول الله وتقيم طائفة ← وما كان المؤمنون لينفروا كافة ← إلا تنفروا يعذبكم عذابا أليما ثم نسخ هه الآيات ← انفروا خفافا وثقالا ← الله تبارك وتعالى خذوا حذركم فانفروا ثبات عصبا أو انفروا جميعا ← بن عباس رضى الله تعالى عنهما ← أَبِيهِ ← عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17938
سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ جماع أبواب ما خص به رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره مما أبيح له وحظر على غيره · حديث 13428
[ 13206 ] أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم الإمام أنبأ عبد الخالق بن الحسن السقطي ثنا عبد الله بن ثابت أخبرني أبي عن الهذيل عن مقاتل بن سليمان قال يعني الله عز وجل فإنكن معشر أزواج النبي صلى الله عليه وسلم تنظرن إلى الوحي فأنتن أحق الناس بالتقوى وقال قبله يا نساء النبي من يأت منكن بفاحشة مبنية قال مقاتل يعني العصيان للنبي صلى الله عليه وسلم يضاعف لها العذاب ضعفين في الآخرة وكان ذلك على الله يسيرا يقول وكان عذابها على الله هينا { ومن يقنت منكن لله ورسوله } يعني ومن يطع منكن الله ورسوله { وتعمل صالحا نؤتها أجرها مرتين } في الآخرة بكل صلاة أو صيام أو صدقة أو تكبيرة أو تسبيحة باللسان مكان كل حسنة تكتب عشرين حسنة وأعتدنا لها رزقا كريما يعني حسن وهي الجنة
مقاتل بن سلیمان سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی کی بیویوں کی جماعت تم وحی کو دیکھتی ہو اور لوگوں کی نسبت تقوی کی زیادہ حق دار ہو اس سے پہلے فرمایا: معقل فرماتے ہیں فاحشہ سے مراد نبی ﷺ کی نافرمانی ہے اگے آیت ذکر کر کے فرمایا: دگنے عزاب سے مراد آخرت میں ہے او ریہ اللہ پر بہت آسان ہے یعی اسے عذاب دین اللہ پر اللہ پر آسان ہے اورجو اللہ اور اسکے رسول کیہ اطاعت کرے اور نیک اعامل کرے تو ہم اسے دو مرتبہ اجر دیں گے
قبله يا نساء النبي من يأت منكن بفاحشة مبنية ← يعني الله عز وجل فإنكن معشر أزواج النبي تنظرن إلى الوحي فأنتن أحق الناس ← مُقَاتِلِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← الْهُذَيْلِ ← أَبِي ← عَبْدِ اللہِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم الإمام أنبأ عبد الخالق بن الحسن السقطي
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › Intercourse with the chapters on what the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, singled out for, excluding others, which were permitted for him and forbidden for others · Hadith 13428
سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ جماع أبواب ما خص به رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره مما أبيح له وحظر على غيره · حديث 13443
[ 13221 ] وأخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الربيع أنبأ الشافعي أنبأ عبد العزيز الدراوردي عن عمرو بن أبي عمرو عن المطلب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما تركت شيئا مما أمركم الله به إلا وقد أمرتكم به ولا تركت شيئا مما نهاكم الله عنه إلا وقد نهيتكم عنه قال الشافعي رحمه الله فما لم يكن فيه وحي فقد فرض الله في الوحي اتباع سنته فمن قبل عنه فإنما قبل بفرض الله عز وجل والله سبحانه وتعالى أعلم جماع أبواب الترغيب في النكاح وغير ذلك
13443 – نبی ﷺ نےف رمایا: نہیں میں نے چھوڑی کوئی چیز تمہارے درمیان سج کا اللہ نے حکم دیا علاوہ اس چیز کے جس کا مجھے بھئ حکم دیا ہے او رمیں نے تمہارے درمیان کوئی چیز چھوری جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے مگر جس سے مجھے بھی منع کیا گیا ہو۔
الْمُطَّلِبِ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الربيع أنبأ الشافعي أنبأ عبد العزيز الدراوردي ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › Intercourse with the chapters on what the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, singled out for, excluding others, which were permitted for him and forbidden for others · Hadith 13443
سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب أقل ما يجزي من عمل الصلاة أو أكثره · حديث 3995
[ 3809 ] أخبرنا أبو نصر بن قتادة أخبرنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا بن أبي الزناد عن أبيه عن خارجة بن زيد عن زيد بن ثابت قال القراءة سنة وأنما أراد والله أعلم أن أتباع من قبلنا في الحروف وفي القراءات سنة متبعة لا يجوز مخالفة المصحف الذي هو أمام ولا مخالفة القراءات التي هي مشهورة وأن كان غير ذلك سائغا في اللغة أو أظهر منها وبالله التوفيق وأما الأخبار التي وردت في إجازة قراءة غفور رحيم بدل عليم حكيم فلان جميع ذلك مما نزل به الوحي فإذا قرأ ذلك في غير موضعه ما لم يختم به آية عذاب بآية رحمة أو رحمة بعذاب فكأنه قرأ آية من سورة وآية من سورة أخرى فلا يأثم بقرائتها كذلك والأصل ما استقرت عليه القراءة في السنة التي توفى فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ما عارضه به جبرائيل عليه السلام في تلك السنة مرتين ثم اجتمعت الصحابة على إثباته بين الدفتين
3995 - زید بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ قرآءت سنت ہے ان کی مراد اپنے سے پہلے والوں کی ہجوں میں اتباع کرناہے ۔ قراتوں میں جو لائق ا تباع ہیں ان میں اس مصحف کی مخالفت جائز نہیں جو امام ہے اور نہ ہی مشہور قرا توں کی مخالفت جائز ہے ۔ اگرچہ وہ اس کے علاوہ لغت میں جائز ہو یا زیادہ واضح ہی کیوں نہ ہو۔ رہی وہ احادیث جو علیم حکیم کی جگہ غفور رحیم کی قراءت کی اجازت کے بارے میں و ار دار ہوئی ہیں وہ اس لیے کہ یہ بھی ان میں سے ہیں جن کے بارے میں وحی نازل ہوئی ۔ اس کو اس کی جگہ کے علاوہ پڑھنا جائز ہے آیت عذاب کو آیت رحمت سے یا آیت رحمت کو آیت عذاب سے نہ بدلے ۔ ی ہ یا سا ہے گویا اس نے ایک آیت ایک سورت سے پڑھی اور دوسری آیت دوسری سورت سے تو اس طرح پڑھنے سے وہ گنہگار نہ ہو گا اور اصل جس پر قراءت قائم ہے جب تک وہ وہی جس کا رسول اللہﷺ جبیل امین کے ساتھ دور کرنے کے بعد فوت ہوئے ۔
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer · Hadith 3995
سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب القراءة · حديث 4012
[ 3823 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا أبو الوليد ثنا زائدة عن سماك عن جابر بن سمرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ في صلاة الفجر ق والقرآن المجيد وكانت صلاته بعد التخفيف أخرجه مسلم من حديث حسين الجعفي عن زائدة وأخرجه من حديث زهير بن معاوية عن سماك وزاد ونحوها ورواه الثوري وإسرائيل عن سماك وقالا في الحديث بالواقعة ونحوها من السور
4012 – جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فجر کی نماز میں پڑھی اور یہ آپ کی ہلکی نماز تھی ۔
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Group reading doors · Hadith 4012
سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب القراءة · حديث 4019
[ 3830 ]وبإسنادهما عن مالك عن نافع عن عبد الله بن عمر أنه كان يقرأ في الصبح في السفر بعشر السور الأول من المفصل في كل ركعة بسورة لم يذكر الشافعي السور وقال بالعشر الأول
4019 – نافع سیدنا عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ وہ سفر میں صبح کی نماز میں مفصلات میں سے پہلی دس سورتےیں پڑھا کرتے تھے ۔ ہر رکعت میں ان میں سے ایک ایک سورت پڑھتے تھے ۔ امام شافعی نے سورتوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ مفسلات میں سے دس سورتیں پڑھا کرتے تھے یا فرمایا: عشر اول۔ ابو ہریرہ فرماتےہیں: رسول اللہ ﷺ جنگ کے لیے نکلے تو سباع بن عرفط کو مدینہ پر والی مقرر کیا۔
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Group reading doors · Hadith 4019
سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب القراءة · حديث 4028
وحدثنا أبوبکر بن فورک حدثنا عبداللہ بن جعفر حدثنا یونس بن حبیب حدثنا أبوداود حدثنا حماد۔ وأخبرنا أبو الحسن بن عبدان أخبرنا أحمد بن عبید الصفار حدثنا بشر بن موسی حدثنا أبوزکریا یعنی السالحینی حدثنا بن سلمۃ عن سماک عن جابر:أن رسول اللہﷺ۔ کان یقرأفی الظھر والعصر(والسماء والطارق) (والسماء ذات البروج) لفط حدیث ابی داود۔ وفی روایۃ السالحینی: کان النبیﷺ۔ یقرأ فی الظھر والعصر بالسماء ذات البروج(والسماء والطارق)[الطارق:1] ونحوھا من السور۔
4028 - جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر کی نماز میں اور پڑھا کرتے تھے ۔ سالحینی کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ ظہر اور عسر کی نماز میں اور اور ان جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے ۔
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Group reading doors · Hadith 4028
سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب القراءة · حديث 4033
[ 3839 ] وأخبرنا أبو علي الروذباري أخبرنا أبو بكر ثنا أبو داود ثنا موسى بن إسماعيل ثنا حماد أخبرنا هشام بن عروة أن أباه كان يقرأ في صلاة المغرب بنحو مما يقرؤون والعاديات ونحوها من السور
4033 – ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نماز مغرب میں ویسی ہی سورتیں پڑھتے تھے جیسے تم اور اس جیسی سورتیں پڑھتے ہو ۔
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Group reading doors · Hadith 4033
سنن الکبری البھیقی · كتاب النكاح ‹ جماع أبواب ما خص به رسول الله صلى الله عليه وسلم دون غيره مما أبيح له وحظر على غيره · حديث 13536
[ 13314 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن نعيم ومحمد النضر الجارودي قالا ثنا الحسن بن علي الحلواني ثنا عمرو بن عاصم الكلابي ثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس رضى الله تعالى عنه قال ذهب رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أم ايمن زائرا وذهبت معه فقربت إليه شرابا فإما كان صائما وإما كان لا يريده فرده فأقبلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم تصاخبه فقال أبو بكر رضى الله تعالى عنه بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم لعمر رضى الله تعالى عنه انطلق بنا إلى أم أيمن نزورها فلما انتهينا إليها بكت قالا لها ما يبكيك ما عند الله خير لرسول الله صلى الله عليه وسلم قالت والله ما أبكي ألا أكون أعلم ما عند الله خير لرسول الله صلى الله عليه وسلم ولكن أبكي أن الوحي انقطع من السماء فهيجتهما على البكاء فجعلا يبكيان رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب عن عمرو بن عاصم
13536 – انس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ام ایمن کو ملنے کے لیے گئے اور میں بھی ساتھ تھا تو ا سنے کوئی پینے کی چیز آپ کے قریب کی تو آپ ﷺ نے اس کو لوٹا دیاتو انہوں نےر سول اللہﷺ کو ڈانٹا ابو بکر نے آپ کی وفات کے بعد عومر کو فرمایا کہ ہمارے ساتھ ام ایمن کی زیادت کے لیے چلیے جب ہم اس کے پاس گئ تو وہ رونے لگی تو ان دونوں نے کہا: تم کیوں روتی ہو؟ اللہ تعالیٰ کے پا سجو ہے وہ اس کے رسول کے لیے بہتر ہے انہوں نے کہا: میں اس لیے نہیں روتی کہ یہ بات نہیں جانتی لیکن میںآ سوھجہ سے روتی ہوں کہ اب آسمان سے وحی آنا بند ہوگئی ان کے یہ کہنے کے بعد ! ابو بکر و عمر بھی رونے لگے
ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← محمد بن نعيم ومحمد النضر الجارودي ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Marriage › Intercourse with the chapters on what the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, singled out for, excluding others, which were permitted for him and forbidden for others · Hadith 13536
سنن الکبری البھیقی · كتاب الجراح ‹ جماع أبواب تحريم القتل ومن يجب عليه القصاص ومن لا قصاص عليه · حديث 15892
[ 15670 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان ثنا الشافعي أنبأ معاذ بن موسى عن بكير بن معروف عن مقاتل بن حيان قال مقاتل أخذت هذا التفسير عن نفر حفظ معاذ منهم مجاهدا والضحاك والحسن فذكر معناه إلا أنه لم يذكر قوله ولبعضهم على بعض خماشات وقتل قال الشافعي وما أشبه ما قالوا من هذا بما قالوا لأن الله تعالى إنما ألزم كل مذنب ذنبه ولم يجعل جرم أحد على غيره ثم ساق الكلام إلى أن قال وقد جاء عن النبي صلى الله عليه وسلم أعدى الناس على الله من قتل غير قاتله
15892 - مقاتل فرماتے ہیں کہ میں نے یہ تفسیر ان سے لی ہے جنہوں نے حضرت معاذ سے یاد کیا ہے ان میں مجاہد ضحاک حسن ہیں پھر سابقہ روایت بیان کی لین اس میں یہ افلاظ نہیں ہیں کہ ان کے آپس میں کچھ بدلے یا قتل تھے ۔
معناه إلا ← نفر حفظ معاذ منهم مجاهدا والضحاك والحسن ← مُقَاتِلٌ: أَخَذْتُ هَذَا التَّفْسِيرَ ← مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ← بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ ← الشافعي أنبأ معاذ بن موسى ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Surgeon's Book › Collectively the chapters on the prohibition of murder, who must be punished, and whoever has no punishment for it · Hadith 15892
سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18100
[ 17879 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عبد الله محمد بن أحمد الجوهري ثنا أبو جعفر بن موسى الشطوي ثنا محمد بن سابق ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن البراء رضى الله تعالى عنه قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أبي رافع اليهودي وكان يسكن أرض الحجاز فندب له سرايا من الأنصار وأمر عبد الله بن عتيك وكان أبو رافع يؤذي النبي صلى الله عليه وسلم ويعين عليه وكان في حصين له بأرض الحجاز فلما دنوا منهم غربت الشمس وراح الناس بسرحهم فقال لهم عبد الله اجلسوا مكانكم فإني منطلق فمتطلع الأبواب لعلي ادخل فأقتله حتى إذا دنا من الباب تقنع بثوبه كأنه يقضي حاجة وقد دخل الناس فهتف به البواب فقال يا عبد الله إن كنت تريد أن تدخل فادخل فإني أريد أن اغلق الباب قال فدخلت فلما دخل الناس اغلق الباب ثم علق الأقاليد على وتد قال فقمت إلى الأقاليد فأخذتها ففتحت الباب وكان أبو رافع يسمر عنده في علال له فلما نزل عنه أهل سمره صعدت إليه فجعلت كلما فتحت بابا أغلقت علي من داخل فقلت إن القوم نذروا بي لم يخلصوا إلي حتى أقتله قال فانتهيت إليه فإذا هو في بيت مظلم وسط عياله لا أدري أين هو من البيت فقلت أبا رافع فقال من هذا فأهوى نحو الصوت فأضربه ضربة غير طائل وأنا دهش فلم أغن عنه شيئا وصاح فخرجت من البيت فمكثت غير بعيد ثم جئت فقلت ما هذا الصوت يا أبا رافع فقال لأمك الويل رجل في البيت ضربني قبل بالسيف قال فأضربه ضربة ثانية ولم أقتله ثم وضعت ضبابة السيف في بطنه ثم اتكيت عليه حتى سمعته أخذ في ظهره فعرفت أني قد قتلته فجعلت أفتح الأبواب بابا بابا حتى انتهيت إلى درجة فوضعت رجلي وأنا أرى أني قد انتهيت إلى الأرض فوقعت في ليلة مقمرة فانكسرت رجلي فعصبتها بعمامتي ثم إني انطلقت حتى جلست عند الباب قلت والله لا أخرج الليلة حتى أعلم أني قد قتلته أولا لا فلما صاح الديك قام الناعي على السور فقال أنعي أبا رافع تاجر أهل الحجاز فانطلقت أتعجل إلي أصحابي فقلت النجاء قد قتل الله أبا رافع حتى انتهينا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فحدثته فقال ابسط رجلك فبسطتها فمسحها فكأنما لم أشتكها قط
18100 - حضرت براء فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ابو رافع یہودی جو حجاز میںرہائش پذیر تھا اس کے لیے ایک انصاری گروہ کی ذمہ داری لگائی تھی جس کے امیر عبداللہ بن عتیک تھے ابورافع نبی ﷺ کو تکلیف دیتا آپﷺ کے خلا ف مدد کرتا اس کا قلعہ حجاز میں تھا جب صحابہ کا یہ گروہ اس کے قریب ہوا تو سورج غروب ہونے کو تھا لوگ اپنے مویشی لے کر جا رہے تھے تو عبداللہ ن اپنے ساتھیوں سے کہا: تم اپنی جگہ ٹھہرو میں جا کر دروازے کے متعلق معلومات ھاسل کرتا ہوںشاید میں داخل ہو کر اسے قتل کر سکوں جب وہ دروزے کے قریب ہوئے تو اپنا کپڑا اس طرح لپیٹ لیا جسے کوئی قضائے حاجت کرنے والا کرتا ہے لوگ قلعہ میں داخل ہوگئے تو دربان نے آواز لگائی اے اللہ کے بندے اگر اندر آنا ہے تو آجاؤ میں دروزہ بند کرنا چاہتا ہوں راوی کہتے ہیں کہ میں بھی داخل ہو گیا۔
بعث رسول الله إلى أبى رافع اليهودي ← البراء رضى الله تعالى عنه ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← أبو جعفر بن موسى الشطوي ← أبو عبد الله محمد بن احمد الجوهرى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18100