4929 - عبداللہ بن حارث نے حضرت عبداللہ بن عباس کے بارے میں یہ بات بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ میں زلزلہ آنے پر اُنہوں نے نماز ادا کرتے ہوئے طویل قیام کیا پھر وہ رکوع میں گئے پھر اُنہوں نے سر اُٹھایاا اور طویل قیام کیا پھر وہ رکوع میں گئے پھر وہ رکوع میں گئے پھر وہ سجدے میں گئے پھر اُنہوں نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی تو اُن کی نماز میں تین ر کوع اور سجدے ہو گئے اُنہوں نے بتایا کہ نشانیوں کے ظہور پذیر ہونے پر اسی طرح نماز ادا کی جاتی ہے ۔ معمر بیان کرتے ہیں: ہمارے بعض اصحاب یہ حدیث بیان کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے پہلی رکعت میں سورہ بقرہ اور دوسری رکعت میں سورہ آل عمران کی تلاوت کی تھی ۔
4930 – قتادہ بیان کرتے ہیں: حضرت حذیفہ نے مدائن میں اپنے ساتھیوں کو اُسی طرح نماز پڑھائی تھی جس طرح حضرت عبداللہ بن عباس نے پڑھائی تھی یہ نشانیوں کے نمودار ہونے کے موقع پر تھی ۔
4932 - عبداللہ بن حارث نے حضرت عبداللہ بن عباس کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ جب اُنہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو یہ فرمایا: یہ نشانیوں کے ظہور کے وقت ادا کی جانے والی نماز ہے ۔
18303 - ہشام بن عروہ نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : عمیر بن سعید کی والدہ جلاس بن سوید کے پاس موجود تھی غزوہ تبوک کے موقع پر جلاس نے یہ کہا حضرت محمد جو کہتے ہیں اگر وہ حق ہو تو پھر ہم حمیرے سے بھی زیادہ برے حال میں ہیں عمیر نے یہ بات سن لی انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر میں یہ معاملہ نبی اکرمﷺ کے سامنے پیش نہ کیا اور پھر اس کے بارے میں قرآن نازل ہو گیا تو ا س شخص کے گناہ مین میں بھی شریک ہو جاؤں گا ویسے میرے حق میں وہ ایک اچھا باپ ہے عمیر نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات بتا دی نبی اکرمﷺ نے جلاس کو بلوایا اور اس سے اس بارے میں دریافت کیا : وہ لوگ اس وقت روانگی کی تیاری کر چکے تھے ان دونوں نے حلف اٹھای اسی دوران نبی اکرمﷺ پر وحی نازم ہونا شروع ہو گئی لوگ خاموش ہو گئے اور کسی نئ حرکت نہیں کی ان لوگوں کا معاملہ اسی طرح تھا ۔
18678 - حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں: جب خوارج نے علیحدگی اختیار کی تو وہ ایک جگہ پر علیحدہ جا کر رہنے لگے میں نے حضرت علی سے عرض کی : اے امیر المومنین آپ نماز کو ذرامؤخر کر دیں تاکہ میں ان لوگوں کے پاس سے ہو کے آؤں اور ان سے بات چیت کروں حضرت علی نے فرمایا: مجھے اندئشہ ہے کہ وہ لوگ تمہیں نقصان نہ پہنچائیں میں نے عرض کی : اگر اللہ نے چاہا تو ایسا ہر گز نہیں ہو گا حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں میں نے اپنے پاس موجود سب سے بہرین یمانی لباس پہنا پھر میں ان کے پاس گیا وہ لوگ اس وقت دو پہر کے وقت آرام کر رہے تھے میں ایسے لوگوں کے پاس گیا کہ میں نے ان سے زیادہ محنتی کوئی شخص نہیں دیکھا کہ ان کے ہارھ انوٹوں کے ثفن کی مانند تھے اور ان کے شہروں پر بکثرت سجدوں کے نشانات تھے میں وہاں گیا تو انہوں نے کہا: اے ابن عباس آپ کو خؤش آمیدی ہے آپ کس سلسلے میں تشریف لائے ہیں میں نے کہا: میں تم لوگوں کے ساتھ اللہ کے رسول کے اصحاب کے حؤالےسے بات چیت کرنے کے لئے آیا ہوں جن پر وحی نازل ہوئی تھی اور یہ لوگ وحی کے مفہوم کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں ان مین ست بعض نے دوسروں سے کہا: کہ تم ان کے ساتگ بات چیت نہ کرو اور بعض نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ان کےساتھ بات چیت کریں گے حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں: میں نےکہا: تم لوگ مجھے بتاؤ کہ تم لوگ اللہ کے رسول کے چچا سے کیا اختلاف رکھتے ہو؟ جو اللہ تعالیٰ کے رسول کے داماد بھئ ہیں اور آپ پر ایمان لانےوالے پہلے فرد ہیں اور اللہ کے رسول کے اصحاب ان کے ساتھ ہیں ان لوگوں نے کہا: ہمیں ان ہر تین اعتراضات ہیں میں نے دریافت کیا: وہ اعتراضات کیا ہیں؟ ان لوگوں نے کہا: پہلی بات تو یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے دین کے معاملے میں انسانوں کو ثالث بنا دیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد رفرمایا ہے : حکم صرف اللہ کا ہو گا ۔
Musnad e Bazzar · The chain of narrators of Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him › And from what was narrated by Bakr Bin Mesmar, on the authority of Amer, on the authority of his father Saad · Hadith 1120
أَبِيهِ ← مصعب ← عَاصِمٍ، ← الحارث بن نبهان ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ،
Musnad e Bazzar · The chain of narrators of Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him › And from what Asim ibn Bahdala narrated, on the authority of Mas'ab, on the authority of his father · Hadith 1157
Musnad e Bazzar · The chain of narration of Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him › The first hadeeth of 'Alaqmah, on the authority of Abdullah bin Masoud, on the authority of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, on the authority of Abraham, on the authority of him · Hadith 1478
Musnad e Bazzar · The chain of narration of Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him › Unmasked on the authority of Abraham, on the authority of Alaqamah on the authority of Allah · Hadith 1516
Musnad e Bazzar · The chain of narration of Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him › And from what was narrated by Abu Nahshal, on the authority of Abu Wael, on the authority of Abdullah · Hadith 1748
Musnad e Bazzar · The chain of narration of Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him › Abd Al-Rahman bin Abi Al-Inqah Al-Thaqafi, on the authority of Abdullah · Hadith 2029
Musnad e Bazzar · The chain of narration of Ibn Abbas, may God be pleased with them › The hadith of Thamamah ibn Abdullah ibn Anas, on the authority of Anas · Hadith 7337
مسند بزار · مُسْنَدُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ‹ عبد الله بن رباح · حديث 9500
9500- حَدَّثَنا إبراهيم بن نصر حَدَّثَنا موسى بن إسماعيل حَدَّثَنا سليمان يعني ابن المغيرة، عن ثابت، عن عبد الله بن رباح قال: وفد وفد إلى معاوية رحمه الله وأنا فيهم، وأبو هريرة وذلك في رمضان، فكان بعضنا يصنع لبعض الطعام فكان أبو هريرة ممن يكثر فيدعو إلى رحله فقلت: ألا أصنع طعاما ثم أدعوهم إلى رحلي، قال ثم لقيت أبا هريرة من العشاء، قال: قلت: الدعوة عندي الليلة، قال: سبقتني؟ قلت: نعم، قال: فدعوتهم فهم عندي، فقال أبو هريرة رضي الله عنه: ألا أعلمكم بحديث من حديثكم يا معشر الأنصار، قال: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حتى إذا دخل مكة، قال: فبعث الزبير على إحدى المجنبتين، وبعث خالد بن الوليد على المجنبة الأخرى، وبعث أبا عبيدة على الحسر، والحسر الذين ليست عليهم أداة وقد وبشت قريش أوباشها وأتباعها قالوا: نقدم هؤلاء فإن كان لهم ساكنا معهم وأن أصيبوا أعطينا فأخذوا بطن الوادي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كتيبة فنظر فرآني فقال
: يا أبا هريرة قلت: لبيك رسول الله قال أترى إلى أوباش قريش وأتباعها ثم قال اهتف بالأنصار ولا يأتيني إلا أنصاري فهتف بهم فجاءوا حتى أطافوا برسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أترون إلى أوباش قريش وأتباعهم ثم قال بيده على الأخرى احصدوهم حصدا حتى توافوني بالصفا قال أبو هريرة فانطلقنا فما يشاء أحد منا أن يقتل منهم من شاء إلا فعل وجاء أبو سفيان فقال يا رسول الله أبيحت أو أبحت خضراء قريش لا قريش بعد اليوم , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ من أغلق بابه فهو آمن ومن دخل دار أبي سفيان فهو آمن قال فغلق الناس أبوابهم وأقبل رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انتهى إلى الحجر فاستلمه ثم طاف بالبيت وفي يده قوس قد أخذ بسية القوس فأتى على صنم إلى جنب البيت فجعل يطعن بها في عينه ويقول جاء الحق وزهق الباطل، ثم انطلق حتى أتى الصفا حيث ينظر إلى البيت فرفع يديه وجعل يحمد الله ويدعو والأنصار تحته يقول بعضهم لبعض أما الرجل فأدركته رغبة في قومه ورأفة لعشيرته قال وقال أبو هريرة رضي الله عنه وجاء الوحي وكان إذا جاء لم يخف عليهم فليس أحد يرفع طرفه إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حتى يقضي الوحي فلما قضى الوحي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يا معشر الأنصار أقلتم أما الرجل فأدركته رغبة في قرابته ورأفة بعشيرته ". قالوا: قد قلنا ذاك، قال كلا: إني عبد الله ورسوله هاجرت إلى الله وإليكم المحيا محياكم والممات مماتكم ". فأقبلوا إليه يبكون ويقولون: والله ما قلنا الذي قلنا إلا ظنا بالله ورسوله، قال فإن الله ورسوله يصدقانكم ويعذرانكم
Musnad e Bazzar · The chain of transmission of Hudhaifa ibn al-Yaman, may God be pleased with them › Abu Malik on the authority of Rabei, on the authority of Huzaifa · Hadith 2845
مسند بزار · مُسْنَدُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ‹ علي بن زيد، وهُو ابن جدعان، عن سَعِيد · حديث 7852
7852- حَدَّثنا الفضل بن يعقوب الجزري، قَال: حَدَّثنا مخلد بن يزيد عن الأحوص بن حكيم، عَن أبي عون، عَن سَعِيد بن الْمُسَيَّب، عَن أبي هُرَيرة، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم: إذا نزل عليه الوحي صدع فيغلف رأسه بالحناء.
وَهَذَا الْحَدِيثُ لاَ نعلمُهُ يُرْوَى عَن النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم إلاَّ مِنْ هَذَا الوجه بهذا الإسناد، ولاَ نعلمُ أسند أَبُو عون، عَن سَعِيد بن الْمُسَيَّب، عَن أبي هُرَيرة غير هذا الحديث.
Musnad e Bazzar · The chain of narration of Ibn Abbas, may God be pleased with them › Ali bin Zaid, who is Ibn Jadaan, on the authority of Saeed · Hadith 7852
مسند بزار · مسند عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها ‹ عبيد بن عمير الليثي , عن عائشة رضي الله عنها. · حديث 10263
181- حدثنا عمرو بن علي، قالَ: حَدَّثَنا معاذ بن هشام، قالَ: حَدَّثَنا أبي , عن قتادة , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنِ عائشة رضي الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلى رست ركعات في أربع سجدات يعني في الآيات.
Musnad e Bazzar · Musnad Aisha, Mother of the Believers, may God be pleased with her › Ubaid bin Omair Al-Laithi, on the authority of Aisha, may God be pleased with her. · Hadith 10263