5995 – حضرت عثمان غنی روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : تم میں سب سے زیادہ فضیلت والا شخص وہ ہے جو قرآن کا علم حاصل کرے اور اُس کی تعلیم دے ۔
6030 - عاصم بن عمر بیان کرتے ہیں: حضرت عمر اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم کی ہدایت نہیں دیتے تھے اگر تم میں سے کسی ایک نے سیکھنا ہی ہے تو مفصل سورتوں کو پہلے سیکھے کیونکہ یہ زیادہ آسان ہیں ۔
6026 - سعید جریری بیان کرتے ہیں؛ حضرت عمر بن خطاب نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : مجھ پر ایک ایسا زمانہ ایسا بھی آیا کہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی کتا ب کا علم سیکھتا ہے وہ اللہ کی رضا کے لیے بھی اسے حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ اب زمانہ آگیا ہے جس کے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ لوگ قرآن کا علم اس لیے حاصل کرتے ہیں کہ وہ اس کے ذریعہ لوگوں کی توجہ چاہتے ہیں اور لوگوں کے پاس جو مال موجود ہے وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو تم لوگ اپنے اعمال اور اپنی قرات کے ذریعہ صرف اللہ کی رضا کا صرف اللہ کی رضا کا حصول خیال رکھو کیونکہ ہم تمہیں جانتے ہیں نبی اکرمﷺ ہمارے درمیان موجود تھے وحی نازل ہوتی تھی نبی اکرمﷺ تم لوگوں کے بارے میں ہمیں بتایا کرتے تھے اور آج تمہارے اقوال کے حوالے سے میں تمہیں پہچان گیا ہوں جو شخص ہمارے سامنے بھلائی کا اعلان کرے گا ہم اُس کے بارے میں بھلائی کا گمان رکھیں گے اور اُس بھلائی کے حوالے سے اُسے پسند کریں گے جو شخص ہمارے سامنے برائی کا اعلان کرے ہم اُس کے بارے میں برا گمان رکھیں گے اور اس وجہ سے اُسے ناپسند کریں گے اور تمہارے باطن کے معاملات تمہارے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہیں۔
حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کے چہرے کے پاس سے شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح کی آواز آتی تھی جب آپ ہر وحی نازل ہو گئی تو تھوڑی دیر گزرنے کے بعد نبی اکرمﷺ نے قبلہ کی طرف رُخ کیا دونون ہاتھ بلند کیے اور دعا کی: اے اللہ! ہمیں مزید عطا ء کرنا ہمیں کمی نہ کرنا ہمیں رسوا نہ کرنا ہمیں عطا ء کرنا ہمیں محروم نہ رکھنا ہمیں ترجیح دینا کسی کو ہم پر ترجیح نہ دینا اور ہم سے راضی رہنا۔ پھر نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی: مجھ پر دس آیات نازل ہوئی ہیں کہ جو شخص اُنہیں قائم رکھے گا تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ پھر نبی اکرمﷺ نے سورہ کی دس ابتدائی آیات کی تلاوت کی۔
زہری بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے دادا جناب عبدالمطلب کے بارے میں سب سے پہلی چیز یہ ذکر کی گئی ہے کہ جب ہاتھوں کے لشکر سے ڈر کر قریش حر م کو چھوڑ کر جانے لگے تو جناب عبدالمطلب اُس وقت ایک نوجوان شخص تھے اُنہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں کسی اور جگہ پر عزت حاصل کرنےکے لیے اللہ کی حرم کی حدود سے باہر نہیں جاؤں گا ۔ وہ بیت اللہ کے پاس بیٹھ گئے جبکہ قریش اُس کو چھوڑ کر چلے گئے تو اُنہوں نے ہہ شعر کہا: یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی سواری کو روک لو ان کی صلیب ہر گز غالب نہیں آئیں گی اور ان کا ارادہ تمہاری طرف سے آنے کا ہے ۔ اس کے بعد وہ اپنی جگہ مسلسل ثابت قدم رہے یہا ں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں اور اُس کے ساتھ کے لشکر کو بر باد کر دیا جب قریش واپس آئے تو جناب حضرت عبدالمطلب کے صبر اور اللہ تعالیٰ کے حرم کی تعظیم کے حوالے سے اُن کی بہت عزت کرنے لگے ۔ اسی دوران جناب عبدالمطلب کے ہاں اُن کے سب سے بڑے صاحبزادے کی پیدائش ہوئی وہ صاحبزادے بالغ ہوگئے اُن کا نام حارث بن عبدالمطلب تھا ایک مرتبہ جناب عبدالمطلب نے خواب میں دیکھا کہ اُن سے کہا گیا تم آب زمزم کا کنواں کھودو ! جو ایک بڑے بزرگ کو سنبھال کر رکھی ہوئی چیز ہے ۔ جناب عبدالمطلب بیمار ہوئے تو اُنہوں نے دعا کی : اے اللہ! تو میرے لیے مزید واضح کر دے ! تو اُنہیں دوسری مرتبہ خواب میں یہ بات دکھائی گئی تم زمزم کو کھودو جو لید اور خون کے درمیان چھپا ہوا ہے جو چیونٹیوں کی بستی میں کوے کے تلاش کرنے کی جگہ پر ہو گا اُس کا رُخ سر خ مٹی کی طرف ہو گا ۔ جناب عبدالمطلب اُٹھے وہ چلتے ہوئے آئے اور مسجد حرام میں بیٹھ گئے اور اس بات کا جائز لینت لگے کہوہ نشانیاں کون سی ہو سکتی ہیں ؟ جو اُنہیں دکھائی گئی تھیں اسی دوران حزورہ کے مقام پر ایک گائے ذبح کی گئی تھی وہ ذبح کرنے والے کے ہاتھ سے چھوٹ کر اپنے آپ کو بچاتی ہوئی آگے بڑھی یہاں تک کہ جس جگہ آب زمزم ہونا چاہیے تھا مسجد میں اُس جگہ وہ مر گئی ۔ تو اُس گائے کو اُسی جگہ پر قربان کیا گیا اُس کا گوشت اُٹھا لیا گیا اسی دوران ایک وا نیچے کی طرف آیا اور اُس نے اُس کی لید کے اندر سے کچھ نکلنے کی کوشش کی وہ چیونٹیوں کی وادیوں کے اندر کچھ تلاش کر رہا تھا ۔ جناب عبدالمطلب اُٹھے اور اُنہوں نے اُس جگہ کھدائی کرنا شروع کی قریش اُن کے پاس آئے اور اُنہوں نے جناب عبدالمطلب سے دریافت کیا: یہ کیا کر رہے ہیں؟ ہم آپ کو جاہل نہیں سمجھتے ! آپ ہماری مسجد میں کیوں کھدائی کرر ہے ہیں ؟ تو جناب عبدالمطلب نے کہا: میں یہاں ایک کنواں کھود رہا ہوں اور جو شخص اُس سے روکنے کی کوشش کرے گا میں اُس کا مقابلہ کروں گا ۔ جناب عبدالمطلب اور اُن کے صاحبزادے جناب حارث نے اُسے کھودنا شروع کیا اُن دنوں جناب حارث کے علاوہ اُن کی کوئی اور اولاد نہیں تھی ۔ قریش کے کچھ افراد نے ان دونوں حضرات کے کے خلاف مزحمت کی کوشش کی اور ان دونوں کے ساتھ جھگڑا کیا کچھ قریش نے اُنہیں ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ جناب عبدالمطلب کا نسب باوقار ہے وہ سچے آدمی ہیں اور اپنے دین میں بھر پور کوشش کرتے ہیں یہاں تک کہ جناب عبدالمطلب کو کنویں کو کھودنے کے قابل ہوئے اور اُن کے خلاف زیادتیاں شدید ہو گئیں تو اُنہوں نے یہ نذر مانی کی کہ اُن کے ہاں دس بیٹے ہوئے تو وہ اُن میں سے کسی ایک کو قربان کر دیں گے اور پھر ا ُنہوں نے کھدائی شروع کر دی یہاں تک کہ وہ اُن تلوار تک پہنچ گئے جو زمزم کے پاس دفن کی گئی تھیں۔ جب قریش نے یہ دیکھا کہ یہ تلواروں تک پہنچ گئے ہیں تو اُنہوں نے جناب عبدالمطلب سے کہا: آپ نے جو کچھ کھایا ہے وہ ہمیں بھی دیجئے۔ تع جناب عبدالمطلب نے کہا: یہ تلواریں اللہ ے گھر کے لیے ہوں گی ۔ پھر اُنہوں نے کھدائی شروع کی یہاں تک کہ پانی پھوٹ پڑا اُنہوں نے مزید اُس جگہ کھدائی کی تو پھر تو اتنا پانی نکلنے لگا کہ وہ رُکتا ہی نہیں تھا تو اُنہوں نے اُس کے لیے حوض بنا دیا ۔ وہ اور اُن کے صاحبزادے پانی نکالتے تھے اور اُس حوض کو بھر دیتے تھے حاجی لوگ وہاں سے پیا کرتے تھے ۔ ایک دن قریش سے تعلق رکھنے والے حاسد لوگوں نے رات کے وقت اُس حوض کو توڑ دیا جناب عبدالمطلب نے اگلے دن صبح اُسے ٹھیک کیا جب اُن لوگوں نے بار بار اُسے خراب کرنا شروع کیا تو جناب عبدالمطلب نے اپنے پروردگار سے دعا کی : تو اُن خواب میں یہ بات دکھائی گئی کہ تم یہ پڑھو : اے اللہ! میں کسی غسل کرنے والے شخص کے لیے اسے حلال قرار نہیں دیتا یہ پینے والے شخص کے لیے ہے حلال بھی ہے اور مباح بھی ہے تو تمہاری اس حوالے سے کفایت ہو جائے گی۔ اگلے دن جب قریش مسجد میں اکٹھے ہوئے تو جناب عبدالمطلب کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے بلند آواز میں وہ خواب سنا دیا جو اُنہیں دکھایا گیا تھا پھر وہ واپس چلے گئے اُس کے بعد قریش کے تعلق رکھنے والے جس بھی شخص نے اُس حوض کو خراب کرنے کی کوشش کی تو اُس کے جسم میں کوئی بیماری مسلط ہو گئی یہاں تک کہ اُن لوگوں نے حوض کو ترک کر دیا اور پانی پلانے کی خدمت جناب عبدالمطلب کے پاس رہنے دی ۔ اُس کے بعد جناب عبدالمطلب نے کچھ شادیاں کیں اور اُن کے ہاں دس بیٹے پیدا ہوئے تو اُنہوں نے عرض کی : اے اللہ! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میں ان میں سے کسی ایک کو تیرے لیے قربان کر دوں گا اب میں ان کے درمیان قرعہ اندازی کی تو قرعہ عبداللہ بن عبدالمطلب کے نا م نکلا جو اُن کی اولاد میں اُنہیں سب سے زیادہ محبوب تھے تو جناب عبدالمطلب نے دعا کی : اے اللہ! یہ تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے یا ایک سو اونٹ ؟ پھر اُنہوں نے جناب عبداللہ اور ایک سو اونٹوں کے درمیان قرعہ اندازی کی تو قرعہ ایک سو اونٹوں کے نام نکل آیا جناب عبدالمطلب نے جناب عبداللہ کی جگہ اُن اونٹوں کو قربان کیا ۔ جناب عبداللہ قریش کے سب سے وجیہیہ شکیل شخص تھے ایک دن وہ کچھ خواتین کے پاس سے گزرے جن کا تعلق قریش سے تھا اور وہ اکھٹی بیٹھی ہوئی تھی تو اُن میں سے ایک نے کہا: اے قریش کی عورتوں! تم میں سے کون اس نوجوان کے ساتھ شادی کرے گی ؟ جس کی دونوں آنکھوں کے درمیان نور چکمتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں: اُن کی دو آنکھوں کے درمیان نور چمکتا تھا ۔ پھر سیدہ آمنہ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرہ کی شادی اُن کے ساتھ ہو گئی ۔ رخصتی کے بعد سیدہ آمنہ نبی اکرمﷺ سے حاملہ ہو گئین جناب عبدالمطلب نے جناب عبداللہ کو یثرب سے کچھ کھجوریں لانے کے لیے بھیجا جناب عبداللہ کا انتقال وہیں ہو گیا پھر سیدہ آمنہ نے نبی اکرمﷺ کو جنم دیا آپ جناب عبدالمطلب کی زیر پروش رہے بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھنے والی خاتون نے آپ کو دودھ پلانا شروع کیا وہ خاتون جو آپ کو دودھ پلاتی تھی ایک مرتبہ وہ ساتھ لے کر عکاظ کے میلہ میں گئیں وہاں ایک کاہن نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا تو بولا : اے عکاظ کے رہنے والو! اس بچہ کو قتل کر دو! اسے بادشاہی ملے گی۔ تو نبی اکرمﷺ کی دائی ماں آپ کو لے کر وہاں سے آگئیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺ کو بچا لیا پھر نبی اکرمﷺ کچھ عرصہ ان کے ہاں رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ کیرضاعی بہن جو آپ کی دیکھ بھال کیا کرتی تھیں وہ دوڑتی ہوئی اپنی والدہ کے پاس آئی اور بولی : اےا می جان! میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے کہ اُنہوں نے ابھی میرے بھائی کو پکڑ لیا ہے اور ان کا پیٹ چیر دیا ہے تو آپ کی رضاعی ماں گھبرا کر کھڑی ہوئی اور نبی اکرمﷺ کےپاس آئیں تو نبی اکرمﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کی رنگت متغیر ہوئی تھی لیکن آپ کے پاس کوئی شخص نہیں تھا ۔ سیدہ حلیمہ نبی اکرمﷺ کو لے کر اُن کی والدہ کے پاس آئی اور اُن سے کہا: آپ اپنے بیٹے کو واپس لے لیں کیونکہ مجھے اس کے حوالے سے یہ اندیشہ ہے ۔ تو نبی اکرم ﷺ کی والدہ نے کہا : جی نہیں ۔ اللہ کی قسم! تم میرے بیٹے کے حوالے سے کسی اندیشہ کا شکار نہ ہو کیونکہ جب یہ میرے پیٹ میں تھا تو میں نے دیکھا: میرے جسم سے ایک نور نکلا جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا اور جب میں نے اسے جنم دیا تو اپنے ہاتھوں کے سہارے جھکا اور اس نے اپنا سر آسمان کی طرف اُٹھا لیا پھر نبی اکرمﷺ کی والدہ اور آپ کے دادا جناب عبدالمطلب نے آپ کا دودھ چھڑ وایا پھر نبی اکرمﷺ کی والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ نبی اکرمﷺ اپنے دادا کے زیر پوش آگئے نبی اکرمﷺ ا بھی بچہ تھے آپ اپنے دادا کے تکیہ کے پاس آتے تھے اور اُس پر بیٹھ جاتے تھے آپ کے دادا جو عمر رسیدہ ہو چکے تھے وہ بعد میں آتے تھے تو اُنہیں ساتھ لانے والی کنیز یہ کہتی تھی : آپ اپنے دادا کے تکیہ سے نیچے اُتر جائیں ۔ تو جناب عبدالمطلب یہ کہتے تھے : تم میرے بیٹے کو رہنے دو! کیونکہ یہ بھلائی کرنے والا ہے ۔ پھر نبی اکرمﷺ کے دادا کا انتقال ہو گیا نبی اکرمﷺ اُن دنوں کمسن تھے جناب ابو طالب نے آپ کی کفایت اپنے ذمہ لی جو جناب عبداللہ کے سگے بھائی تھے جب نبی اکرمﷺ قریب البلوغ ہوئے تو جناب ابو طالب آپ کو ساتھ لے کر تجارت کے لیے شام کی طرف لے گئے جب ان دونوں صاحب نے تیما ء نامی بستی میں پڑاؤ کیا تو وہاں تمیم یہوں دیاں کے قبیلہ کے ایک عالم نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا تو جناب ابو طالب نے دریافت کیا: اس لڑکے کا تمہارے ساتھ کیا رشتہ ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا: یہ میرا بھتیجا ہے ! اُس یہودی نے جناب ابو طالب سے دریافت کیا: کیا تم اس سے محبت رکھتے ہو ؟ جنا ب ابو طالب نے جواب دیا: جی ہاں! تو اُ س یہودی نے یہ کہا: اللہ کی قسم! اگر تم اسے لے کر شام چلے گئے تو پھر تم اسے ساتھ لے کر ب کبھی نہیں جا سکو گے کیونکہ وہ لوگ اسے قتل کر دیں گے یہ اُن کا دشمن ہے ۔ تو ابو طالب تیما ء سے مکہ واپس آگئے ۔ جب نبی اکرمﷺ بالغ ہوئے تو ایک عورت نے خانہ کعبہ میں دھونی دی ۔ اس کے کچھ شرارے خانہ کعبہ کو لگے اور اُسے جلا دیا۔ قریش نے خانہ کعبہ کو منہدم کرنے کا مشورہ کیا لیکن وہ اسے منہدم کرنے سے خوفزدہ ہو گئے تو ولید بن مغیرہ نے ان سے کہا: تم اسے کیوں منہدم کرنا چاہتے ہو ؟ تم بہتری چاہتے ہو یا خرابی ۔ اُنہوں نے کہا: بہتری۔ ولید نے کہا: اللہ تعالیٰ بہتری کرنے والوں کو ہلاکت کا شکار نہیں کرتا ۔ اُنہوں نے کہا: کون اس پر چڑھ کر اس کو منہدم کرنے کا آغاز کرے گا ؟ ولید نے کہا: میں اس پر چڑھ کر اس کو منہدم کرنے کا آغاز کرتا ہوں ۔ پھر ولید بن مغیرہ خانہ کعبی کی چھت پر چڑھا اور اس کے پاس پھاؤڑا تھا۔ اس نے کہا: اے اللہ! ہم صرف بہتری چاہتے ہیں پھر اس نے منہدم کرنے کا آغاز کیا ۔ جب قریش نے دیکھا کہ اس نے کچھ حصہ منہدم کیا لیکن ان پر وہ عذاب نازل نہیں ہوا جس کا اُنہیں اندیشہ تھا تو وہ لوگ بھی منہدم کرنے میں ان کے ساتھ شامل ہو گئے جب اُنہوں نے اس کی تعمیر نو کی تو حجر اسود رکھنے کا وقت آیا تو قریش کے درمیان جھگڑا ہو گیا کہ کون سا قبیلہ اسے اُٹھا کر اوپر رکھے گا ۔ جب یہ اختلاف بڑھ گیا تو اُنہوں نے کہا: ہم ا س بارے میں اس شخص کو ثالت مقرر کریں گے جو اس اگلی سے سب سے پہلے ہمارے سامنے آئے گا ۔ اُنہوں نے اس پر اتفاق کیا تو نبی اکرمﷺ ان کے سامنے آگئے ۔ آپ نوجوان تھے ۔ آپ نے اونی لباس پہنا ہوا تھا ان لوگوں نے آپ کو ثاکت مقرر کیا آپ کی ہدایت کے مطابق حجر اسود کو ایک کپڑے میں رکھا گیا اور ایک ہدایت کے تحت ہر قبیلہ کے سردار نے اس کپڑے کا ایک کونہ پکڑ کر حجر اسود کو اُٹھا کر اس کی جگہ پر رکھ دیا نبی اکرمﷺ بھی اسے رکھنے والوں میں شامل تھے ۔ اس کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ نبی اکرمﷺ کی پسندیدگی میں اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ آپ پر وحی نازل ہونے سے پہلے لوگوں نے آپ کو امین کا خطاب دے دیا ۔ اس کے بعد جب لوگ اونٹ ذبح کرتے تھے تو نبی اکرمﷺ کو بلواتے تھے اور نبی اکرمﷺ ان کے لیے دعا کیا کرتے تھے ۔ جب آپ جوان ہوئے تو آپ کے پاس زیادہ مال نہیں تھا ۔ سیدہ
الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Maghazi Book › The door of what came in Hafar Zamzam, and has entered during the Hajj the first of what was mentioned by Abd Al-Muttalib · Hadith 9718
سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ پر وحی کا آغاز سچے خوابو ں کے ذریعہ ہوا آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے وہ صبح کی مانند واضح طور پر پھر آپ کے لیے تنہائی کو محبوب کر دیا گیا آپ غار حرام آتے تھے اور وہاں تخت کرتے تھے اس سے مراد متعدد راتوں تک عبادت کے لیے وہاں رہنا ہے ۔ آپ اس لیے زاد راہ ساتھ لے جاتے تھے پھر واپس دسیدہ خدیجہ کے پاس آتے تھے وہ آپکو مزید زاد راہ دے دیا کرتی تھیں یہاں تک کہ وہ وقت آگیا جب حق آپ کے پاس آگیا آپ اُس وقت غار حرا میں موجود تھے اُس غار میں فرشتہ آپ کے پاس آیا اُٗ س نے آپ سے کہا: آپ تلاوت کیجئے! اُس نے نبی اکرمﷺ سے کہا تھا کہ آپ تلاوت کیجئے! نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں: میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا ! اُس نے مجھے پکڑا اور مجھے بھینچ لیا یہاں تک کہ مجھے اُس کی طر ف سے شدت کا سامنا کرنا پڑا پھر اُس نے مجھے چھوڑ دیا اور بولا : آپ پڑھیے! میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا ! تو اُس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر بھینچا یہاں تک کہ مجھے دشواری ہوئی تو اُس نے مجھے چھوڑ دیا اُس نے کہا: آپ اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھئے جس نے پیدا کیا ہے یہ آیت یہاں تک ہے جو وہ نہیں جانتا ۔ نبی اکرمﷺ جب وہاں سے واپس آئے تو آپ پر کپکی طاری تھی یہاں تک کہ آپ سیدہ خدیجہ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: مجھے کچھ اوڑھنے کے لیے دو ! مجھے کچھ اوڑھنے کے لیے دو ! اُنہوں نے آپ کو اوڑھنے کے لیے دیا یہاں تک کہ جب آپ کی کیفیت زائل ہوئی تو آپ نے سیدہ خدیجہ کو پورا واقعہ سنا یا اور فرمایا: مجھے اپنی ذات کے حوالے سے اندیشہ ہے ! تو سیدہ خدیجہ نے کہا: ہر گز نہیں! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوائی کا شکار نہیں کرے گا کیونکہ آپ رشہ داری کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں سچ بولتے ہیں مہمان نوازی کرتے ہیں ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرتے ہیں ۔ پھر سیدہ خدیجہ نے نبی اکرمﷺ کو لے کر ورقہ بن نوفل بن راشد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس گئیں جو سیدہ خدیجہ کا چچا زاد تھا یعنی اُن کے والد کے بھائی کا بیٹا تھا ۔راوی بیان کرتے ہیں: ہم تک یہ روایت پہنچی ہے : نبی اکرمﷺ کو وحی کے آغاز میں جس پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا اب اس کا انقطا ع کے بعد آپ کی پریشانی زیادہ ہو گئی یہاں تک کہ آپ دن میں کئی مرتبہ جاتے تھے تاکہ پہاڑ کی چوٹی سے چھلانگ لگا دیں جب آپ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو حضرت جبرائیل آپ کے سامنے آتے اور بولتے : اے حضرت محمد! اے اللہ کے رسول! آپ حق پر ہیں۔ اس سے آپ کو سکون ملتا ہے اور آپ کو قرار آجاتا ہے پھر آپ واپس جاتے تھے جب وحی کے انقطاع کا سلسلہ طویل ہو گیا تو ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے پھر ایسا ہی کیا جب آپ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھے تو حضرت جبرائیل آپ کے سامنے آگئے اور اس کی مانند کلمات کہے: معمر بیا ن کرتے ہیں: زہری نے یہ بات بیان کی ہے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت جابر بن عبداللہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں نے نبی اکرمﷺ کو وحی کے انقطاع کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے سنا آپ نے اپنی بات میں یہ بات بھی ارشاد فرمائی : ایک مرتبہ میں جا رہا تھا میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنائی میں نے سر کو اُٹھا کر دیکھا تو جو فرشتہ میرے پاس غار حرام میں آیا تھا وہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اُسے دیکھ کر مجھ پر بڑا رعب طاری ہوا پھر وہ واپس آگیا اور میں نے کہا: مجھے کچھ اوڑھنے کے لیے دو ! مجھے کچھ اوڑھنے کے لیے دو! مجھے اوڑھنے کے لیے کمبل دو! تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : اے کمبل اوڑھنے والے ! یہ آیت یہاں تک ہے رجز سے علیحدگی اختیار کرو ۔ راوی کہتے ہیں: یہ نماز کی فرضیت سے پہلے کی بات ہے اور رجز سے مراد بت ہے ۔ معمر بیان کرتے ہیں: زہری نے یہ بات بیان کی ہے کہ اُنہوں نے مجھے یہ بات بھی سنائی : جب سیدہ خدیجہ کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے جنت میں خدیجہ کا گھر دکھایا گیا جو موتیوں سے بنا ہوا تھا جس میں کوئی شور اور کوئی تکلیف نہیں تھی اور وہ کھوکلے موتی کا بنا ہوا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ سے ورقہ بن نوفل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: میں نے اُسے خواب میں دیکھا اُس کے جسم پر سفید کپڑے تھے میرا یہ گمان ہے کہ اگر وہ جہنمی ہوتا تو میں اُس پر سفید کپڑے نہ دیکھتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ نے اسلام کی طرف پوشیدہ طور پر اور اعلانیہ طور پر دعوت دینا شروع کر دی ۔ حسن بصری اور دیگر حضرات نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرمﷺ پر سب سے پہلے ایمان لانے والے شخص حضرت علی بن ابو طالب تھے جن کی عمر اُس وقت پندرہ یا شاید سولہ سال تھی ۔ حضرت عبداللہ بن عبا س بیان کرتے ہیں: حضرت علی اسلام قبول کرنے والے سب سے پہلے فرد ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے زہری سے دریافت کیا تو اُنہوں نے کہا: ہمارے علم کے مطابق حضرت زید بن حارثہ سے پہلے اور کسی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ۔ حضرت عمر نے اسلام قبول کر لیا تو اس سے پہلے بہت سے لوگ اسلام قبول کر چکے تھے کہ حضرت علی کو یہ بات بتائی گئی کہ اُنہیں اُن کی بہن اُم جمیل بنت خطاب نے اسلام قبو کر لیا اور اُن کے پاس کندھا ہے جس پر اُنہوں نے قرآن نوٹ کیا ہو ا ہے جسے وہ پوشیدہ طور پر تلاوت کرتی ہیں ۔ حضرت عمر کو یہ بات بھی بتائی گئی کہ وہ مردار گوشت نہیں کھاتی ہیں جس کا گوشت حضر ت عمر کھا لیتے ہیں۔ حضرت عمر اُس خاتون کے پاس تشریف لے گئے اور بولے: کندھے کی اُس ہڈی کا کیا معاملہ ہے ؟ جس کے بارے میں مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ تمہارے پاس موجود ہے اور تم اُس کو دیکھ کر وہ چیز پڑھتے ہو جو ابن ابو قبثہ کہتے ہیں حضرت عمر کی مراد نبی اکرمﷺ تھے ۔ اُس خاتون نے جواب دیا: میرے پاس تو کوئی کندھے کی ہڈی نہیں ہے ۔ تو حضرت عمر نے اُسے طمانچہ رسید کیا اُس کی پٹائی کی پھر وہ کھڑے ہوئے گھر میں وہ ہڈی تلاش کرنے لگے یہاں تک کہ وہ اُنہیں مل گئی ۔ پھر وہ اُس ہڈی کو لے کر نکلے تاکہ کسی پرھنے والے کو بلوائیں جو اُن کے سامنے پڑھ کر سنائے کہ اس میں کیا لکھا ہے حضرت عمر خود نہیں پڑھ سکتے تھے ۔ جب اُس پڑھنے والے نے اُنہیں پڑھ کر سنایا اور اُنہوں نے قرآن کو سنا تو اُن کے دل میں حر کت پیدا ہوئی اور اُن کے دل میں اسلام کے بارے میں محبت پیدا ہوئی وہ شام کے وقت گئے تو نبی اکرمﷺ کے قریب پہنچے نبی اکرمﷺ اُس وقت نماز پڑھ رہے تھے اور بلند آواز میں تلاوت کر رہے تھے اُنہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہآیت تلاوت کرتے ہوئے سنا: اور تم اس سے پہلے اُن کے سامنے نہ تو کتا ب کی تلاوت کرتے تھے اور نہ ہی اپنےہاتھ کے ذریعہ لکیریں کھینچتے تھے یہ آیت یہاں تک ہے ظلم کرنے والا۔ اُنہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بھی تلاوت کرتے ہوئے سنا : اور وہ لوگ جو کافر ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ تم رسول نہیں ہو یہ آیت یہاں تک ہے کتاب کا علم۔ جب حضرت عمر نے اسلام قبول کر لیا تو وہ نکلے اور ولید بن مغیرہ کے پاس پہنچے اُنہوں نے کہا: اے میرے ماموں! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لے آیا ہوں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد اُس کے بندے اور اُس کے رسول ہیں آپ اپنی قوم کو اس بارے میں بتا دیجئے۔ تو ولید بن مغیرہ نے کہا: اے میرے بھانجے ! تم اپنے معاملہ پر ثابت قدم رہنا تم ایک ایسی حالت پر ہو کہ جس کے بارے میں لوگوں کے بارے میں یہ پتا چلتا ہے کہ و ہ صبح ایک وقت ایکحالت میں ہوتے ہیں اور شام کے وقت کسی اور حالت میں ہوتے ہیں ۔ تو حضرت عمر نے کہ ا: اللہ کی قسم! معاملہ میرے سامنے واضح ہو گیا ہے آپ اپنی قوم کو میرے اسلام کے بارے میں بتا دیجئے۔ تو ولید نے کہا: میں تمہارے حوالے سے یہ چیز ذکر کرنے والا پہلا فرد نہیں بنو ں گا۔ زہری بیان کرتے ہیں: مجھے حضرت انس نے یہ بات بتائی ہے : جب نبی اکرمﷺ پر معراج کی رات نمازیں فرض ہوئیں تو پچا س نمازیں فرض ہوئی تھی پھر وہ کم ہوتی ہوئی پانچ ہو گئی پھر یہ پکا ر کر کہا گیا : اے محمد! ہمارا فرمان تبدیل نہیں ہوتا تمہیں پانچ کے بدلے میں پچاس کا ثواب ملے گا ۔ زہری بیان کرتے ہیں: ابو سلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب میری قوم نے مجھے جھوٹا قرار دیا تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا گیا یہاں تک کہ میں نے اُن کی صفات اُن لوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کی : سعید بن مسیب نے ابو ہریرہ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : جب معراج کروائی گئی تو میری ملاقات حضرت ابو موسیٰ سے ہوئی نبی اکرمﷺ نے اُن کاحلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : وہ ایک شخص تھے جن کے س کے بال گھنگریالے تھے یوں لگتا تھا جیسے وہ شنو قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے ابراہیم کو بھی دیکھا اُن کی اولاد میں میں اُن سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے پاس دو برتن لائے گئے اُن میں سے ایک مین دودھ تھا اور دوسرے میں شراب تھی فرشتہ نے کہا :
Musannaf Abdul Razzaq · The Maghazi Book › The door of what came in Hafar Zamzam, and has entered during the Hajj the first of what was mentioned by Abd Al-Muttalib · Hadith 9719
زہری بیان کرتے ہیں: سعید بن مسیب عروہ بن زبیر علقمہ بن وقاص عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے مجھے نبی اکرمﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ کے متعلق واقعہ اُفق کے بارے میں یہ بات بیان کی ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ کو بری قرار دیا تھا ان تمام حضرات نے اپنی اپنی روایات بیان کی تھیں ان میں سے بعض حضرات میں اپنی روایات کو زیادہ بہتر طور ہر یاد رکھا اور اُس نے واقعہ زیادہ مناسب طور پر بیا ن کیا میں نے اُن تمام حضرات کی روایت کو نوٹ کر لیا جو اُنہوں نے مجھے بیان کی تھیں اورا ن میں سے ایک کی روایت دوسرے کی تصدیق کرتی تھی ان تمام حضرات نے یہ بات ذکر کی:
ابو ضحیٰ نے مسروق کا یہ قول نقل کیا ہے : جب اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کر دیں تو سود کے متعلق آیات سورۃ بقرہ کی آخری آیات تھیں تو نبی اکرمﷺ کھرے ہوئے آپ نے انہیں ہمارے سامنے تلاوت کیا اور پھر آپ نے شراب کی تلاوت کو حرام قرار دے دیا۔
عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب نے آپس میں مشورہ کیا کہ نماز کے اکھٹے ہونے کے لیے اُنہیں کیا کرنا چاہیے ؟ جس کی وجہ سے وہ اکھٹے ہوں تو بعض لوگوں نے مشورہ دیا کہ ناقوس بجایا جائے ۔ ابھی حضرت عمر یہ ارادہ کر رہے تھے کہ وہ دو لکڑیاں خریدیں جس کے ذریعے ناقوس بجایا جائے کہ اسی دوران اُنہوں نے خواب دیکھا کے تم ناقوس نہ بناؤ بلکہ نماز کے لیے اعلان کرو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت عمر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ اُنہیں اس خواب کے بارے میں بتائیں جو اُنہوں نے دیکھا ہے تو اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کے پاس وحی آچکی تھی جب حضرت عمر پہنچے تو حضرت بلال آذان دے رہے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وحی تم پر سبقت لے گئی ہے ۔آپ نے اُس وقت ارشاد فرمائی جب حضرت عمر نے آپ کو اس بارے میں بتایا تھا ۔
6696 - عمر بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اُس نے عرض کی: کیا آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ پر وحی نازل ہوتی ہے ؟میرے بیٹے انتقال کر چکے ہیں جیسا کہ آپ جانتے ہیں اگر تو وہ دو مؤمن ہیں تو ہم اُن کے بارے میں وہی کہتے ہیں جن کا ہمیں علم ہے اور اگر وہ دونوں منافق ہیں تو ہم اُن پر نہیں روتے ہیں اُن پر آنسو نہیں بہاتے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:جی نہیں ! بلکہ وہ دونوں مؤمن ہیں اور وہ دونوں اہل جنت ہیں ۔ تو اُس عورت نے کہا: اب میں اُن پر خوب روؤں گی۔
أتت امرأة النبي ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← رَجُلٌ: ← مِسْعَرٍ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › Door of patience, weeping and mourning · Hadith 6696
6784 - حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں: نبی اکرؐﷺ پر جب وحی نزول شروع ہوا تو آپ کی عمر 40 برس تھی آپ 13 برس مکہ میں مقیم رہے اور 10 سال مدینہ میں مقیم رہے آپ کا وصال 63 برس کی عمر میں ہوا۔
Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › Chapter of Omar the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and Omar of some of his companions · Hadith 6784
6786 - حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نہ تو بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ ہی بالک چھوٹے تھے آپ کے بال نہ تو بالکل گھنگھریالے تھے اور نہ ہی بالکل سیدھے تھے نبی اکرمﷺ نہ ہی بالکل گندمی تھے اور نہ ہی بالکل سفید تھے آپ پر وحی اُس وقت نازل ہونا شروع ہوئی جب آپ کی عمر 40 برس تھی آپ 10 سال مکہ میں مقیم رہے اور 10 سال مدینہ میں مقیم رہے جب آپ کا وصال ہوا تو آپ کی عمر 60 سال تھی اُس وقت آپ کے سر مبارک اور داڑھی مبارک میں بیس سفید بال بھی نہیں تھے۔
Musannaf Abdul Razzaq · The Funeral Book › Chapter of Omar the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and Omar of some of his companions · Hadith 6786
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! ایک شخس فوت ہو گیا ہے اس نے اپنی خالہ اور پھوپھی چھوڑی ہیں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: خالہ اور پھوپھی آپ ان کلمات کو دہراتے رہے آپ ان کے بارے میں وحی کا انتظار کرتے رہے ۔
2852 – ابن جریح عطا ء کے بارے میں نقل کرتے ہیں: وہ ایک رکعت میں متعدد سورتیں ایک ساتھ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ۔ ابن جریح بیان کرتے ہیں: طاؤس ایک رکعت میں تین سورتیں اکھٹی پڑھ لیتے تھے ۔
3866 - حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں: ایک مرتبہ وہ اپنی خالہ سیدہ میمونہ کے ہاں ٹھہرے ۔ وہ بیا ن کرتے ہیں: میں چوڑائی کی سمت میں لیٹ گیا نبی اکرمﷺ اور آپ کی اہلیہ محترمہ لمبائی کی سمت میں لیٹ گئے ۔ نبی اکرمﷺ سو گئے یہاں تک کہ جب نصف رات کا وقت ہوا یا شاید اُس سے کچھ پہلے یا اُس کے بعد کی بات ہے تو نبی اکرمﷺ بیدار ہوئے آپ تشریف فرما ہوئے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر کر نیند کے اثرات ختم کیے پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی پھر آپ لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف گئے اُس سے وضو کیا آپ نے اچھی طرح وضو کیا پھر آپ کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے میں نے بھی اسی طرح کیا جس طرح نبی اکرمﷺ نے کیا تھا پھر میں آیا اور آکر آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا نبی اکرمﷺ نے میرا دست مبارک اپنے سر پر رکھا اور میرے کام پکڑ کر اُس سے ملنے لگے پھر نبی اکرمﷺ نے دو رکعات اد کیں پھر دو رکعات ادا کیں پھر آپ نے وتر ادا کیے اور لیٹ گئے کہ مؤذن آگیا پھر آپ اُٹھے آپ نے دو مختصر دو رکعت ادا کیں پھر تشریف لے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی ۔
«وَاضْطَجَعْتُ فِي عَرَضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ النَّبِيُّ ← أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتُهِ مَيْمُونَةَ ← كريب أن ابن عباس ← مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door of the man leads the man · Hadith 3866
4237 – حضرت ابو عیاش زرقی بیان کرتے ہیں: ہم عسفان میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہمارا سامنا مشرکین سے ہوا جن کے سردار خالد بن ولید تھے مشرکین ہمارے اور قبیلہ کے درمیان موجود تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے ظہر کی نماز ادا کی تو مشرکین نے کہا: یہ لوگ ایک ایسی صورت حال میں ہیں کہ اگر ہم ان پر حملہ کر دیں تو مناسب رہے گا ۔ اُن لوگوں نے کہا: تم ان پر اُس وقت حملہ کرنا جب یہ نماز ادا کر رہے ہوں گے جو ان کے نزدیک ان کے بال بچوں اور ان کی جانوں سے زیادہ محبوب ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو ظہر اور عصر کے درمیان حضرت جبرائیل یہ آیات لے کر نازل ہوئے : جب تم اُن کے درمیان موجود ہو تو تم اُن کے لیے نماز قائم کرو ۔ راوی بیان کرتے ہیں: نماز کا وقت ہو گیا تو نبی اکرمﷺ نے لوگوں کو ہدایت کی اُنہوں نے ہتھیار اُٹھالیے اور نبی اکرمﷺ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ رکوع میں گئے تو آپ کے ساتھ ہم سب بھی رکوع میں چلے گئے پھر نبی اکرمﷺ نے سر اُٹھایا تو ہم سب نے بھی سر اُٹھایا پھر نبی اکرمﷺ نے اُس صف کے ہمراہ سجدہ کیا جو صف آپ کے قریب موجود تھی جبکہ دوسرے لوگ کھڑے ہوئے ان لوگوں کی حفاظت کرتے رہے جب اُن لوگوں نے سجدہ کر لیا اور کھڑے ہو گئے تو پیچھے والے لوگ بیٹھے اور اُنہوں نے اپنی جگہ پر رہتے ہوئے سجد ہ کیا پھر پیچھے والے لوگ آگے والی صف کی جگہ آگئے اور آگے والی صف کے لوگ پیچھئ والی صف میں چلے گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ رکو ع میں گئے تو آپ کے ساتھ سب لوگ رکوع میں گئے پھر نبی اکرمﷺ نے رکوع سے سر اُٹھایا تو سب لوگوں نے سر اُٹھایا پھر نبی اکرمﷺ نے اُس صف سمیت سجدہ کیا جو آپ کے قریب تھے اور دوسری صف کے لوگ کھڑے رہ کر حفاظت کرتے رہے جب یہ لوگ بیٹھے تو د وسری صف کے لوگ بھی بیٹھے اور اُنہوں نے سجدہ کیا پھر نبی اکرمﷺ نے ان سب لوگوں سمیت سلام پھیر کر نماز کو ختم کیا ۔ راوی بیان کرتے ہیںل نبی اکرمﷺ نے یہ دو مرتبہ ادا کی ہے ایک مرتبہ عسفان میں اور ایک مرتبہ بنو سلیم کی سر زمین میں ۔
9076 – ابن ابو ملیکہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن نبی اکرمﷺ نے حضرت عثمان بن طلحہ کو خانہ کعبہ کی چابی کے ساتھ طلب کیا تو وہ اُسے لے کر آئے جبکہ اُس پر کوئی چیز نہی تھی اُنہوں نے وہ چابی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں پیش کی حضرت عباس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اگر آپ سقایہ کے ساتھ حجابہ کی خدمت میں ہمیں دے دیں ۔ نبی اکرمﷺ پر وحی نازل ہو رہی تھی آپ نے ارشاد فرمایا:عثمان بن طلحہ کو میرے پاس لے کر آؤ! اُنہیں لایا گیا تو نبی اکرمﷺ نے وہ چابی اُن کے سپرد کی اور اُس پر پرد ڈال دیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے سب سے پہلے اُس پر پردہ ڈالا تھا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اے اولاد طلحہ! تم اسے حاصل کر لو یہ تم سے کوئی ظالم شخص ہی چھینے گا ۔
17201 - طاؤس کے صاحبزادے اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: یہ میرے والد کے پاس ایک تحریر تھی جس مین دیت سے متعلق احکام تھے جس میں اس وحی کا تذکرہ تھا جو نبی اکرمﷺ کی طرف آئی اس میں یہ تحریر تھا کہ نبی اکرمﷺ نے جب بھی دیت یا صدقے کے بارے میں فیصلہ دیا تو وہ وحی کے مطابق تھا راوی بیان کرتے ہیں: اس کتاب میں یہ تحریر تھا اور یہ بات نبی اکرمﷺ کے بارے میں منقول تھی قتل عمد کی دیت قتل خطا کی دیت ہوگی جو پتھر یا عصا یا لاٹھی کے ذریعے قتل ہو گا جبکہ آدمی نے ہتھیار نہ اٹھایا ہو ۔
4708 - حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں خالہ سیدہ میمونہ بنت حارث کے ہاں رات کے وقت سو گیا رات میں کسی وقت نبی اکرمﷺ بیدا ہو ئے آپ نے قضائے حاجت کی پھر آپ تشریف لائے آپ نے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے پھر آپ سوئے پھر رات میں کسی وقت آپ بیدار ہوئے آپ مشکیزہ کی طرف تشریف لائے آپ نے اُس کا منہ کھولا اور اُس کے ذریعہ درجہ کا وضو کیا جو بہت زیادہ بھی نہیں تھا لیکن مکمل تھا پھر آپ کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے ۔ میں نے یوں ظاہر کیا کہ جیسے میں ابھی اُٹھا ہوں مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ نبی اکرمﷺ یہ محسوس کریں کہ میں آپ کا جائزہ لے رہا تھا پھر میں اُٹھا میں نے ویسے ہی کیا جس طرح نبی اکرمﷺ نے کیا تھا پھر میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہوا تو آپ نے مجھے کان کے پاس سے پکڑ کر پیچھے سے گھما کر اپنے دائیں طرف کر دیا نبی اکرمﷺ نے تیرہ رکعات مکمل ادا کیں جس میں صبح بھی شامل تھی پھر نبی اکرمﷺ لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اُٹھے آپ نے دو مختصر رکعت ادا کیں پھر اپ تشریف لے گئے اور صبح کی نماز پرھائی ۔
فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ النَّبِيُّ ← أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتُهِ مَيْمُونَةَ ← كريب أن ابن عباس ← مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of the prayer of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, both at night and at night · Hadith 4708