مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الصَّيْدِ يَغِيبُ مَقْتَلُهُ · حديث 8453
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ: كَتَبَ مَعِي أَهْلُ الْكُوفَةِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسِ فَلَمَّا جِئْتُهُ كَفَانِي النَّاسُ مَسْأَلَتَهُ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مَمْلُوكٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ أَنَا أَرْمِي الصَّيْدَ فَأُصْمِي، وَأُنْمِي، فَقَالَ: «مَا أَصْمَيْتَ فَكُلْ، وَمَا تَوَارَى عَنْكَ لَيْلَةً فَلَا تَأْكُلْ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي أَنْتَ قَتَلْتَهُ أَمْ غَيْرُكَ» قَالَ: فَإِنِّي رَجُلٌ مَمْلُوكٌ يَمُرُّ بِي الْمَارُّ فَيَسْتَسِقِيَنِي مِنَ اللَّبَنِ فَأَسْقِيهُ قَالَ: «إِنْ [ص:460] خِفْتَ أَنْ يَمُوتَ مِنَ الْعَطَشِ، فَاسْقِهِ مَا يُبَلَّغُهُ غَيْرَكَ، ثُمَّ اسْتَأْذِنْ أَهْلَكَ مَا سَقَيْتَهُ» قَالَ: ثُمَّ إِنِّي أَجِدُ الْبَحْرَ قَدْ جَفَلَ سَمَكًا قَالَ: «فَلَا تَأْكُلْ مِنْهُ طَافِيًا»
عبداللہ بن ابو ہذیل نے یہ بات بیان کی ہے : اہل کوفہ میرے ہاتھ حضرت عبداللہ بن عباس کی طرف ایک خط لکھا جب میں حضرت عبداللہ بن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا تو میر ی جگہ دوسرے لوگوں نے یہ مسئلہ دریافت کیا ایک غلام اُن کے پاس آیا اور بولا : اے ابو عباس ! میں نے شکار کو تیر مارا اور پھر وہ اُسی وقت مر گیا یا میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا تو حضرت عبداللہ بن عبا س نے فرمایا: جسے تم نے اُسی وقت مار دیا ہو اُسے تم کھا لو اور جو ایک رات تک تم سے پوشیدہ رہا ہو اُسے تم نہ کھاؤ کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ تم نے اسے قتل کیا ہے یا کسی اور نے قتل کیا ہو گا ۔ اُس شخص نے کہا: میں ایک غلام ہوں ایک گزرنے والا میرے پاس سے گزرتا ہے اور مجھ سے پینے کے لیے دودھ مانگتا ہے تو کیا میں اُسے پینے کے لیے دے دوں؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ وہ پیاس کی وجہ سے مر جائے گا تو تم اُسے اتنا پینے کے لیے دو جس کے ذریعہ وہ تمہارے علاوہ کسی اور تک پہنچ سکے اور پھر تم نے جو اُسے پینے کے لیے دیا تھا اُس کے بارے میں اپنے مالک سے اجازت لے لینا ۔ اُس نے کہا: میں سمندر کو پاتا ہوں کہ وہ مچھلی کو باہر پھینک دیتا ہے تو اُنہوں نے فرمایا: تم اُس میں ست طافی کو نہ کھاؤ ۔
Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The Hunted Gate misses its killer · Hadith 8453
