Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأضحية والعقيقة

Qurbani & Aqiqah

11564 hadiths

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الصَّيْدِ يَغِيبُ مَقْتَلُهُ · حديث 8453

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ: كَتَبَ مَعِي أَهْلُ الْكُوفَةِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسِ فَلَمَّا جِئْتُهُ كَفَانِي النَّاسُ مَسْأَلَتَهُ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مَمْلُوكٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ أَنَا أَرْمِي الصَّيْدَ فَأُصْمِي، وَأُنْمِي، فَقَالَ: «مَا أَصْمَيْتَ فَكُلْ، وَمَا تَوَارَى عَنْكَ لَيْلَةً فَلَا تَأْكُلْ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي أَنْتَ قَتَلْتَهُ أَمْ غَيْرُكَ» قَالَ: فَإِنِّي رَجُلٌ مَمْلُوكٌ يَمُرُّ بِي الْمَارُّ فَيَسْتَسِقِيَنِي مِنَ اللَّبَنِ فَأَسْقِيهُ قَالَ: «إِنْ [ص:460] خِفْتَ أَنْ يَمُوتَ مِنَ الْعَطَشِ، فَاسْقِهِ مَا يُبَلَّغُهُ غَيْرَكَ، ثُمَّ اسْتَأْذِنْ أَهْلَكَ مَا سَقَيْتَهُ» قَالَ: ثُمَّ إِنِّي أَجِدُ الْبَحْرَ قَدْ جَفَلَ سَمَكًا قَالَ: «فَلَا تَأْكُلْ مِنْهُ طَافِيًا»

عبداللہ بن ابو ہذیل نے یہ بات بیان کی ہے : اہل کوفہ میرے ہاتھ حضرت عبداللہ بن عباس کی طرف ایک خط لکھا جب میں حضرت عبداللہ بن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا تو میر ی جگہ دوسرے لوگوں نے یہ مسئلہ دریافت کیا ایک غلام اُن کے پاس آیا اور بولا : اے ابو عباس ! میں نے شکار کو تیر مارا اور پھر وہ اُسی وقت مر گیا یا میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا تو حضرت عبداللہ بن عبا س نے فرمایا: جسے تم نے اُسی وقت مار دیا ہو اُسے تم کھا لو اور جو ایک رات تک تم سے پوشیدہ رہا ہو اُسے تم نہ کھاؤ کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ تم نے اسے قتل کیا ہے یا کسی اور نے قتل کیا ہو گا ۔ اُس شخص نے کہا: میں ایک غلام ہوں ایک گزرنے والا میرے پاس سے گزرتا ہے اور مجھ سے پینے کے لیے دودھ مانگتا ہے تو کیا میں اُسے پینے کے لیے دے دوں؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ وہ پیاس کی وجہ سے مر جائے گا تو تم اُسے اتنا پینے کے لیے دو جس کے ذریعہ وہ تمہارے علاوہ کسی اور تک پہنچ سکے اور پھر تم نے جو اُسے پینے کے لیے دیا تھا اُس کے بارے میں اپنے مالک سے اجازت لے لینا ۔ اُس نے کہا: میں سمندر کو پاتا ہوں کہ وہ مچھلی کو باہر پھینک دیتا ہے تو اُنہوں نے فرمایا: تم اُس میں ست طافی کو نہ کھاؤ ۔

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The Hunted Gate misses its killer · Hadith 8453

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الصَّيْدِ يَغِيبُ مَقْتَلُهُ · حديث 8454

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَجِدَ سَهْمَهُ فِيهِ مِنَ الْغَدِ قَالَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ سَهْمَكَ قَتَلَهُ لَأَمَرْتُكَ بِأَكْلِهِ، وَلَكِنْ لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ قَتَلَهُ بَرَدٌ أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ»

8454 - عکرمہ نے حضرت عبداللہ بن عباس کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے اُن سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو کسی شکار کو تیر مارتا ہے اور پھر وہ اگلے دن اپنا تیر اُس شکار میں لگا ہوا پاتا ہے تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: اگر مجھے اس بات کا علم ہو کہ تمہارے تیر نے اُسے مارا ہے تو میں تمہیں اُسے کھانے کی اجازت دےد وں گا لیکن مجھے پتا نہیں ہو سکتا کہ وہ سردی کی وجہ سے مر گیا ہو یا کسی اور وجہ سے مر گیا ہو ۔

الرَّجُلِ يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَجِدَ سَهْمَهُ فِيهِ مِنَ الْغَدِ ← سُئِلَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The Hunted Gate misses its killer · Hadith 8454

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الصَّيْدِ يَغِيبُ مَقْتَلُهُ · حديث 8455

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي أَرْمِي الصَّيْدَ فَأُصْمِي، وَأُنْمِي، فَقَالَ: «مَا أَصْمَيْتَ فَكُلْ، وَمَا أَنْمَيْتَ فَلَا تَأْكُلْ»

8455 – مقسم نے حضرت عبداللہ بن عباس کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : ایک شخص اُن کے پاس آیا اور بولا : میں نے شکار کو تیر مارا تو وہ اسی وقت گر گیا یا میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: جسے تم نے اسی وقت گرا دیا ہو اسے تم کھا لو اور جسے تم نے اوجھل کر دیا ہو اُسے تم نہ کھاؤ۔

مَا أَصْمَيْتَ فَكُلْ وَمَا أَنْمَيْت فَلاَ تَأْكُلْ. ← إِنِّي أَرْمِي الصَّيْدَ فَأُصْمِي، وَأُنْمِي، ← جاءه رجل ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْاَعْمَشِ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The Hunted Gate misses its killer · Hadith 8455

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الصَّيْدِ يَغِيبُ مَقْتَلُهُ · حديث 8458

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْمِي الصَّيْدَ فَيَغِيبَ عَنِّي لَيْلَةً؟ فَقَالَ: «إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ، وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَهُ فَكُلْهُ»

8458 - حضرت حدی بن حاتم بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں شکار کو تیر مارتا ہوں اور وہ ایک رات تک مجھ سے اوجھل رہتا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم اُس میں اپنا تیر پا لیتے ہو اور تم اُس میں اور کوئی نشان نہیں پاتے تو تم اُسے کھا لو ۔

قُلْتُ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The Hunted Gate misses its killer · Hadith 8458

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الصَّيْدِ يُقْطَعُ بَعْضُهُ · حديث 8468

عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَمَّنَ، سَمِعَ عِكْرِمَةَ يَقُولُ: «إِذَا ضَرَبْتَ الصَّيْدَ فَسَقَطَ مِنْهُ عُضْوٌ، ثُمَّ عَدَا حَيًّا فَلَا تَأْكُلْ ذَلِكَ الْعُضْوَ، وَكُلْ سَائِرَهُ الَّذِي فِيهِ الرَّأْسُ، فَإِنْ مَاتَ حِينَ ضَرَبْتَهُ فَكُلْ كُلَّهُ مَا سَقَطَ مِنْهُ، وَمَا لَمْ يَسْقُطْ»، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَقَالَهُ عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ

معمر نے ایک راوی کے حوالے سے عکرمہ کا بیان نقل کیا ہے : جب تم شکار کو مارو جس کے نتیجہ میں اُس کا کوئی عضو کٹ جائے اور پھر بھی وہ شکار زندہ رہے تو تم اُس عضو کو نہ کھاؤ ۔ اور اس حصہ کو کھا لو جس میں سر موجود ہوتاہے ۔ جب تم نے اسے ضرب لگائی تھی تو اگر وہ اسی وقت مر گیا تھا تو تم اس پورے شکار کو کھا سکتے ہو خواہ اس کا کچھ حصہ کٹ کے گرا ہو یا نہ گرا ہو ۔ یہی روایت ابراہیم نخعی کے حوالے سے منقول ہے ۔

عِكْرِمَةَ، ← معمر عمن ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The fishing gate is cut off · Hadith 8468

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ صَيْدِ الْحَرَمِ يَدْخُلُ الْحِلَّ وَالْآهِلِ يَسْتَوْحِشُ · حديث 8478

عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسْ قَالَ: «مَا أَعْجَزَكَ مِنَ الْبَهَائِمِ، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الصَّيْدِ»

8478 - عکرمہ نے حضرت عبداللہ بن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے : جب کوئی جانور تمہارے قابو میں نہ آرہا ہو تو وہ شکار کے حکم میں ہو گا ۔

«مَا أَعْجَزَكَ مِنَ الْبَهَائِمِ، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الصَّيْدِ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of the sacred fishing enters the solution and the people go astray · Hadith 8478

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ صَيْدِ الْحَرَمِ يَدْخُلُ الْحِلَّ وَالْآهِلِ يَسْتَوْحِشُ · حديث 8482

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: فِي الْبَهِيمَةِ تَسْتَوْحِشُ؟ قَالَ: «هِيَ بِمَنْزِلَةِ الصَّيْدِ، أَوْ هِيَ صَيْدٌ»

طاؤس کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : جب کوئی جانور سرکش ہو جائے تو طاؤس فرماتے ہیں : وہ شکار کے حکم میں ہو گا وہ شکار شمار ہو گا ۔

«هِيَ بِمَنْزِلَةِ الصَّيْدِ، أَوْ هِيَ صَيْدٌ» ← فِي الْبَهِيمَةِ تَسْتَوْحِشُ؟ ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of the sacred fishing enters the solution and the people go astray · Hadith 8482

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ صَيْدِ الْجَارِحِ، وَهَلْ تُرْسَلُ كِلَابُ الصَّيْدِ عَلَى الْجِيَفِ · حديث 8499

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَعْنِي عَطَاءً يَقُولُ: «لَوْ أَرْسَلْتَ كَلْبًا مُعَلَّمًا عَلَى صَيْدٍ فَعَرَضَ الصَّيْدَ كَلْبٌ غَيْرُ مُعَلَّمٍ فَاجْتَمَعَا فِي قَتْلِهِ، فَلَا تَأْكُلْ»

8499 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم بیت یافتہ کو شکار پر بھیجتے ہو اور پھر ایک غیر تربیت یافتہ کتا بھی شکار پر حملہ آور ہوتا ہے اور وہ دونوں مل کر شکار کو مارتے ہیں تو تم اُس شکار کو نہ کھاؤ۔

يَعْنِي عَطَاءً ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Do you send hunting dogs on carrion? · Hadith 8499

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ صَيْدِ الْجَارِحِ، وَهَلْ تُرْسَلُ كِلَابُ الصَّيْدِ عَلَى الْجِيَفِ · حديث 8502

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضِي أَرْضُ صَيْدٍ قَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ، وَسَمَّيْتَ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ كَلْبُكَ، وَإِنْ قَتَلَ، فَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ مِنْهُ؛ فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ، فَخَالَطَتْهُ أَكْلُبٌ لَمْ يُسَمَّ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهَا، فَلَا تَأْكُلْ، لَا تَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَهُ» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْمِي الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنِّي لَيْلَةً قَالَ: «إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ، وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ غَيْرَهُ فَكُلْهُ»

8502- حضرت عدی بن حاتم بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میرا علاقہ شکار کا علاقہ ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے تربیت یافتہ کتے کو چھوڑتے ہوئے بسم اللہ پڑھ لو تو تمہارا کتا جو شکار تمہارے لیے روکے تم اُسے کھا لو خواہ اُس کے شکار کو مار دیا ہو لیکن اگر اُس شکار میں سے اُس نے خود کچھ کھا لیا ہو تو تم اُس میں سے نہ کھاؤ کیونکہ اُس نے وہ شکار اپنے لیےکیا ہو گا اور جب تم اپنے کتے کو چھوڑو اور اُس کے ساتھ دوسرے کتے بھی مل جائیں جن پر اللہ کا نام ذکر نہ کیا گیا ہو تو تم اُسے نہ کھاؤ کیونکہ تم نے جانتے کہ اُن میں سے کس نے اسے مارا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں شکار کو تیر مارتا ہوں پھر وہ ایک رات تک میری نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جب تم اُس میں اپنے تیر کو پاؤ اور تم اُس میں اُس کے علاوہ اور کچھ نہ پاؤ تو تم اُسے کھا لو ۔

قُلْتُ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Do you send hunting dogs on carrion? · Hadith 8502

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ صَيْدِ الْجَارِحِ، وَهَلْ تُرْسَلُ كِلَابُ الصَّيْدِ عَلَى الْجِيَفِ · حديث 8507

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ قَالَ: «كَانُوا يَكْرَهُونَ أَنْ يُرْسَلَ كَلْبُ الصَّيْدِ عَلَى الْجِيَفِ»

8507 – عبدالکریم جزری بیان کرتے ہیں: علما ء اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ شکاری کتے کو مردار پر بھیجا جائے ۔

«كَانُوا يَكْرَهُونَ أَنْ يُرْسَلَ كَلْبُ الصَّيْدِ عَلَى الْجِيَفِ» ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Do you send hunting dogs on carrion? · Hadith 8507

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ صَيْدِ الْجَارِحِ، وَهَلْ تُرْسَلُ كِلَابُ الصَّيْدِ عَلَى الْجِيَفِ · حديث 8510

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، فِي رَجُلٍ خَرَجَ يُرِيدُ الصَّيْدَ، فَتَقَلَّدَ قَوْسَهُ وَغَمْرَتَهُ، وَسَمَّى فَرَأَى صَيْدًا مُعَجَّلًا فَرَمَاهُ، وَنَسِيَ أَنْ يُسَمِّيَ قَالَ: «لَا بَأْسَ بِأَكْلِهِ»، قَالَهُ مَعْمَرٌ، وَقَالَهُ الزُّهْرِيُّ، وَقَتَادَةُ

8510 - طاؤس کے صاحبزادے اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص شکار کے لیے نکلتا ہے وہ اپنی کمان اور ترکش کو گلے میں لٹکا لیتا ہے اور بسم اللہ پڑھ لیتا ہے پھر وہ ایک جلدی کے شکار کو دیکھتا ہے اور اُسے تیر مارتا ہے اور بسم اللہ پڑھنی بھول جاتا ہے تو طاؤس نے کہا: اُسے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ معمر نے بھی یہی بات کہی ہے زہری نے بھی یہی بات کہی ہے اور قتادہ نے بھی یہی بات کہی ہے ۔

ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Do you send hunting dogs on carrion? · Hadith 8510

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الْجَارِحِ يَأْكُلُ · حديث 8515

عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ مِنْ دَمِ الصَّيْدِ، فَلَا تَأْكُلْهُ»

8515 - امام شعبی فرماتے ہیں: جب کتا شکار کا خون پی لے تو تم اُسے نہ کھاؤ ۔

«إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ مِنْ دَمِ الصَّيْدِ، فَلَا تَأْكُلْهُ» ← الشَّعْبِيِّ، ← أَشْعَثَ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of a prey will eat · Hadith 8515

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الْجَارِحِ يَأْكُلُ · حديث 8521

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «إِذَا أَكَلَ الْكَلْبُ مِنَ الصَّيْدِ فَلَا تَأْكُلْهُ»

8521 - حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں: جب کتا شکار میں سے کھا لے تو تم اُسے نہ کھاؤ۔

«إِذَا أَكَلَ الْكَلْبُ مِنَ الصَّيْدِ فَلَا تَأْكُلْهُ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of a prey will eat · Hadith 8521

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الْحَجَرِ وَالْبُنْدُقَةِ · حديث 8528

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ: «أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُقْتَلَ الصَّيْدُ بِالنَّبْلَةِ، ثُمَّ يَأْكُلُ»

8528 - ابراہیم نخعی کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ اُنہوں نے اس بات کو مکروہ قرار دیا ہے کہ نیزی کے ذریعہ شکار کو مارا جائے اور پھر اُسے کھایا جائے ۔

إِبْرَاهِيمَ: «أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُقْتَلَ الصَّيْدُ بِالنَّبْلَةِ، ثُمَّ يَأْكُلُ» ← مُغِيرَةَ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Stone door and rifle · Hadith 8528

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ التَّسْمِيَةِ عِنْدَ الذَّبْحِ · حديث 8545

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى عَنْ ذَبِيحَةِ الْمُسْلِمِ، يَنْسَى أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ قَالَ: «تُؤْكَلُ إِنَّمَا الذَّبْحُ عَلَى الْمِلَّةِ، أَلَا تَرَى أَنَّ مَجُوسِيًّا لَوْ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى ذَبِيحَتِهِ لَمْ تُؤْكَلْ»، عَبْدُ الرَّزَّاقِ، [ص:481]

8545 - حکم بیان کرتے ہیں: میں نے عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ سے مسلمان شخص کے ذبیحہ کے بارے میں دریافت کیا جس پر اللہ کا نام لینا آدمی بھول جاتا ہے تو اُنہوں نے فرمایا: اُسے کھا لیا جائے گا کیونکہ وہ ملت پر ذبح ہوا ہے کیا تم نے دیکھا نہیں ہے کہ اگر کوئی مجوسی شخص اپنے ذبیحہ پر اللہ کا نام لے کر بھی لے تو اُس کو نہیں کھایا جاتا۔

اسْمَ اللَّهِ عَلَى ذَبِيحَتِهِ لَمْ تُؤْكَلْ»، عَبْدُ الرَّزَّاقِ، [ص:481] ← «تُؤْكَلُ إِنَّمَا الذَّبْحُ عَلَى الْمِلَّةِ، أَلَا تَرَى أَنَّ مَجُوسِيًّا لَوْ ← ذَبِيحَةِ الْمُسْلِمِ، يَنْسَى أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ ← سَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Chapter on naming at slaughter · Hadith 8545

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الذَّبْحِ أَفْضَلَ أَمِ النَّحْرِ · حديث 8583

عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: «كَانَ الذَّبْحُ فِيهِمْ، وَالنَّحْرُ فِيهِمْ» فِي قَوْلِهِ: {فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ} [البقرة: 71]، وَقَالَ: {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} [الكوثر: 2]

8583 - مجاہد فرماتے ہیں: اُن لوگوں میں ذبح کا طریقہ بھی رائج تھا اور اُن لوگوں میں نحر کا طریقہ بھی رائج تھا اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : تو اُنہوں نے اسے ذبح کر لیا حالانکہ وہ ایسا کرنے والے نہیں تھے ۔ اور ایک اور مقام پر ارشاد ہے : تو تم اپنے پر وردگار کے لیے نماز ادا کرو اور نحر کرو ۔

{فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} [الكوثر: ← «كَانَ الذَّبْحُ فِيهِمْ، وَالنَّحْرُ فِيهِمْ» فِي قَوْلِهِ: {فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ} [البقرة: ← مُجَاهِدٍ ← عُبَيْدٌ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of slaughter is better or the slaughter · Hadith 8583

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الذَّبْحِ أَفْضَلَ أَمِ النَّحْرِ · حديث 8584

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: «ذَكَرَ اللَّهُ ذَبْحَ الْبَقَرَةِ فِي الْقُرْآنِ، فَإِنْ ذَبَحْتَ شَيْئًا يُنْحَرْ أَجْزَأَ عَنْكَ» قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَقَالَ عَطَاءٌ «الذَّبْحُ قَطْعُ الْأَوْدَاجِ»، قُلْتُ: فَذَبَحَ فَلَمْ يَقْطَعْ أَوْدَاجَهَا حَتَّى مَاتَتْ، وَهُوَ يَحَسَبُ أَنَّهُ قَطَعَ أَوْدَاجَهَا قَالَ: «مَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ ذَكَّى، فَلْيَأْكُلْ»

ابن جریح بیان کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں گائے کو ذبح کرنے کا ذکر کیا ہے تو اگر تم نحر کی جانے والی کسی چیز کو ذبح بھی کر لیتے ہو تو یہ تمہاری طرف سے ادا ہو جائے گا ۔ ابن جریح بیان کرتے ہیں: عطا ء فرماتے ہیں: ذبح کا مطلب لوگوں کو کاٹنا ہے ۔ میں نے دریافت کیا: اگر کوئی شخص ذبح کرتا ہے اور رگوں کو نہیں کاٹتا یہاں تک کہ جانور مر جاتا ہے حالانکہ آدمی یہی سمجھا تھا کہ اُس نے رگوں کو کاٹ دیا ہے ۔ تو عطا ء نے فرمایا: میرے خیال میں تو اُس نے ذبح کر لیا ہے اب وہ اُسے کھا سکتا ہے ۔

ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الرَّبِيعِ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › The door of slaughter is better or the slaughter · Hadith 8584

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ سُنَّةِ الذَّبْحِ · حديث 8603

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنَعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ مُحْسِنٌ يُحِبُّ الْإِحْسَانَ إِلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ»

8603 - حضرت شداد بن عوض بیان کرتےہیں: مجھے نبی اکرمﷺ کے حوالے سے دو باتیں یاد ہیں آپ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ بھلائی کرنے والا ہے اور ہر چیز کے ساتھ بھلائی کرنے کو پسند کرتا ہے تو جب تم قتل کرو تو اچھے طریقہ سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقہ سے ذبح کرو تمہیں اپنی چھری کو تیز کر لینا چاہیے اور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچانی چاہیے ۔

حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ اثْنَتَيْنِ ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Chapter of the law of slaughter · Hadith 8603

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ سُنَّةِ الذَّبْحِ · حديث 8604

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادٍ قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، لِيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ»

8604 - حضرت شداد بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کے حوالے سے دو باتیں یاد رکھی ہیں آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ بھلائی کرنے کو لازم قرار دیا ہے تو جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقہ سے ذبح کرو آدمی کو اپنی چھری کو تیز کر لینا چاہیے اور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچانی چاہیے ۔

إن الله ← حفظت من رسول الله اثنتين أنه ← شَدَّادٌ ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Chapter of the law of slaughter · Hadith 8604

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ مَا يُقْطَعُ مِنَ الذَّبِيحَةِ · حديث 8616

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: «الذَّبْحُ قَطْعُ الْأَوْدَاجِ»، قُلْتُ: فَذَبَحَ ذَابِحُ، فَلَمْ يَقْطَعُ أَوْدَاجَهَا قَالَ: «مَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ ذَكَّاهَا، فَلْيَأْكُلْهَا»

8616 - عطا ء فرماتے ہیں:ذبح کا مطلب رگوں کو کاٹ دینا ہے ۔ میں نے دریافت کیا: اگر کوئی شخص ذبح کرتا ہے اور رگوں کو نہیں کاٹتا تو میرا خیال ہے کہ اُنہوں نے جواب دیا کہ اُس شخص نے ذبح کر دیا ہے اب وہ اُسے کھا سکتا ہے ۔

«مَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ ذَكَّاهَا، فَلْيَأْكُلْهَا» ← «الذَّبْحُ قَطْعُ الْأَوْدَاجِ»، قُلْتُ: فَذَبَحَ ذَابِحُ، فَلَمْ يَقْطَعُ أَوْدَاجَهَا ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Chapter of what is cut off from the sacrifice · Hadith 8616

chevron_left Previous
1…444546…579
Next chevron_right