Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأضحية والعقيقة

Qurbani & Aqiqah

11564 hadiths

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْهَدْيُ · حديث 4004

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَحَرْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً، الْبَدَنَةُ عَنْ [ص:316] سَبْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَشْتَرِكُ النَّفَرُ فِي الْهَدْيِ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے حدیبیہ کے دن ستر اونٹ قربان کیے تھے ایک اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے تھا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا: کچھ لوگ ایک قر بانی میں حصہ دار بن جائیں۔

[ص:316] سَبْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ «يَشْتَرِكُ النَّفَرُ فِي الْهَدْيِ» ← نَحَرْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً، الْبَدَنَةُ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The section of guidance · Hadith 4004

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْهَدْيُ · حديث 4010

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:322] عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «إِنْ كُنْتُ لَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَهْدِي، ثُمَّ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ، وَهُوَ مُقِيمٌ عِنْدَنَا بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ لَا يُحْرِمُ، وَلَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کے قر با نی کے جانوروں کیلئے خود ہار تیار کیا کرتی تھی۔ نبی اکر مﷺ قر بانی کے وہ جانور ( مکہ ) بھجوا دیتے تھے آپ ﷺ خود ہمارے پاس مدینہ منور ہ میں مقیم رہتے تھے پھر آپ ﷺ احرام کی پابندی نہیں کرتے تھے اور نہ ہی ایسی کسی چیز سے اجتناب کرتے تھے جس سے محرم شخص اجتناب کرتا ہے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ، [ص:184] ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The section of guidance · Hadith 4010

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْهَدْيُ · حديث 4015

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْكَبُوا الْهَدْيَ بِالْمَعْرُوفِ حَتَّى تَجِدُوا ظَهْرًا»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "تم لو گ مناسب طور پر قر بانی کے جانور پر سوار ہو جاؤ، اس وقت تک جب تک تمہیں (سواری کیلئے ) کوئی جانور نہیں ملتا"۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The section of guidance · Hadith 4015

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْهَدْيُ · حديث 4017

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، [ص:327] قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْكَبُوا الْهَدْيَ بِالْمَعْرُوفِ حَتَّى تَجِدُوا ظَهْرًا»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " مناسب طور پر تم لوگ اس وقت تک قر بانی کے جانور پر سواری کر لو جب تک تمہیں (سواری کیلئے ) جانور نہیں ملتا"۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، [ص:267] ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The section of guidance · Hadith 4017

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْهَدْيُ · حديث 4019

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا وهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، قَالَ: وَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ سَبْعَ بَدَنَاتٍ قِيَامًا»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب مکہ تشریف لائے ، تو آپ ﷺ نے لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ احرام کھول دیں ، ماسوائے ان لوگوں کے، جن کے ساتھ قر بانی کے جانور موجود تھے۔ راو ی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے سات جانور کھڑے کر کے ذبح کیے۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The section of guidance · Hadith 4019

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْهَدْيُ · حديث 4020

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:329] سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْهَدْيِ مِنْ كُلِّ جَزُورٍ بَضْعَةٍ، فَجُعِلَتْ فِي قَدْرٍ، فَأَكَلُوا مِنَ اللَّحْمِ وَحَسَوْا مِنَ الْمَرَقِ»

امام جعفر صادق اپنے والد (امام محمد باقر ) کے حوالے سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے قربانی کے جانوروں کے بارے میں حکم دیا کہ ان میں سے ہر جانور کا کچھ گوشت لے کر ، ان سب کا گوشت ایک ہنڈیا میں پکایا جائے نبی اکرم ﷺ نے ان کا گوشت کھایا اور ان کا شوربہ پیا۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← [ص:329] سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The section of guidance · Hadith 4020

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ فَصْلُ ذِكْرِ الْخِصَالِ الَّتِي تَقُومُ لِمُعْدِمِ الْمَالِ مَقَامَ الصَّدَقَةِ لِبَاذِلِهَا · حديث 3377

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حرملة، حدثنا بن وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَهْرِيُّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَيْسَ مِنْ نفس بن آدَمَ إِلَّا عَلَيْهَا صَدَقَةٌ فِي كُلِّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمِنْ أَيْنَ لَنَا صَدَقَةٌ نَتَصَدَّقُ بِهَا؟ فَقَالَ: "إِنَّ أَبْوَابَ الْخَيْرِ لَكَثِيرَةٌ: التَّسْبِيحُ، وَالتَّحْمِيدُ، وَالتَّكْبِيرُ، وَالتَّهْلِيلُ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَتُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَتُسْمِعُ الْأَصَمَّ، وَتَهْدِي الْأَعْمَى، وَتُدِلُّ الْمُسْتَدِلَّ عَلَى حَاجَتِهِ، وَتَسْعَى بِشِدَّةِ سَاقَيْكَ مَعَ اللَّهْفَانِ الْمُسْتَغِيثِ، وَتَحْمِلُ بِشِدَّةِ ذِرَاعَيْكَ مَعَ الضَّعِيفِ، فَهَذَا كُلُّهُ صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ" (1) .

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " انساں کی ہر ایک سانس کے عوض میں اس پر روزانہ صدقہ دینا لازم ہوتا ہے، جس میں سورج نکلتا ہے۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ ﷺ ! اتنا زیادہ صدقہ دینے کے لئے ہمارے پاس کہاں گنجائش ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بھلائی کے دروازے زیادہ ہیں سبحان اللہ کہنا، الحمداللہ کہنا، اللہ اکبر کہنا، لا الہٰ الا اللہ پڑھنا ، نیکی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا، تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹا دینا، بہرے شخص کو بات سمجھا دینا، نابینا شخص کی رہنمائی کر دینا، کسی کام کے سلسلے میں رہنمائی مانگنے والے کی رہنمائی کر دینا ، اپنی ٹانگوں کی مضبوطی کی وجہ سے مدد مانگنے والے پریشان حال شخص کے لیے کوشش کرنا، اپنے بازووں کی مضبوطی کی وجہ سے کمزور شخص کے لئے وزن اٹھا دینا یہ سب تمہاری طرف سے تمہارے نفس کے لئے صدقہ ہیں۔"

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَهْرِيُّ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › The chapter on the characteristics that make up for one who has no money is as opposed to giving charity for the one who does it · Hadith 3377

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2692

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ (1) ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ (2) وَهُوَ يُرِيدُ سَفَرًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ» ، حَتَّى إِذَا أَدْبَرَ الرَّجُلُ قَالَ: «اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» (3) . [5: 12]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ سفر پر جانا چاہتا تھا اس نے نبی اکرمﷺ کو سلام کیا نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی اور ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے اللہ اکبر کہنے کی تلقین کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرمﷺ نے دعا کی : اے اللہ! اس کے لئے زمین کو لپیٹ دے اور اس کے لئے سفر کو آسان کر دے۔

اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ وَهُوَ يُرِيدُ سَفَرًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ← أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2692

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْمُسَافِرِ · حديث 2702

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ» ، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» (1) . [1: 104]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص سفر پر جانا چاہتا تھا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے نصیحت کیجئے نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اور ہر بلندی پرچڑھتے ہوئے اللہ اکبر کہنے کی تلقین کرتا ہوں جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرمﷺ نے دعا کی : اے اللہ ! اس کے لئے زمین کو لپیٹ دے اور اس کے سفر کو آسان کر دے۔

جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ ← الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The traveler's door · Hadith 2702

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 840

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اسْتَكْثِرُوا مِنَ الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ» ، قِيلَ: وَمَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: «التَّكْبِيرُ، وَالتَّهْلِيلُ، وَالتَّسْبِيحُ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو سعید خدریؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ باقی رہنے والی نیکیوں کی کثرت کرو ‘ عرض کی گئی : یا رسول اللہ! اس سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس سے مراد سبحان اللہ ، الحمد اللہ ، اللہ اکبر اور ولا حول ولا قوۃ پڑھنا ہے ‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Remembrance section · Hadith 840

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّیْدِ ‹ کِتَابُ الصَّیْدِ · حديث 5879

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ مِنْ أَهْلِ كِتَابٍ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ، وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ، أَصِيدُ بِقَوْسِي، وَبِالْكَلْبِ الْمُكَلَّبِ، وَبِالْكَلْبِ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ، فَأَخْبِرْنِي مَاذَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيَّ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا فِيهَا، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الصَّيْدِ، فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَكُلْ مِنْهُ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَأَمَّا مَا أَصَابَ كَلْبُكَ الْمُكَلَّبُ، فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَأَمَّا مَا أَصَابَ كَلْبُكَ الَّذِي لَيْسَ [ص:191] بِمُكَلَّبٍ، فَإِنْ أَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ، وَمَا لَمْ تُدْرِكْ ذَكَاتَهُ فَلَا تَأْكُلْ»

حضرت ابو ثعلبہ خشنی ؓ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! ہم اہل کتاب کی سر زمین پر رہتے ہیں ہم ان کے برتنوں میں کھا لیتے ہیں ہمارا علاقہ ایسا ہے جہاں شکار بہت ہوتاہے میں اپنی کمان کے ذریعے شکار کرتا ہوں اور تربیت یافتہ کتے کے ذ ریعے بھی کرتا ہوں اور غیر تربیت یافتہ کتے کے ذریعے بھی کرتا ہوں ‘ تو آپﷺ مجھے بتائیے کہ ان میں سے کون سے چیز میرے لئے حرام ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: جہاں تک تم نے اس بات کا ذکر کیا ہے ‘ تم اہل کتاب کی سر زمین پر رہتے ہو اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہو ‘ تو اگر تمہیں ان کے برتنوں کے علاوہ برتن مل جاتے ہیں ‘ تو تم ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ ‘لیکن اگر تمہیں ان کے برتنوں کے علاوہ اور برتن نہیں ملتے ‘ تو تم ان کے برتنوں کو دھو کر ان میں کھا لو جہاں تک تم نے شکار کا ذکر کیا ہے‘ تو جس چیز کو تم اپنی کمان کے ذریعے شکار کرتے ہو اسے تم کھا لو اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لے لو اور جو شکار تربیت یافتہ کتا تمہارے لیے محفوظ رکھتا ہے تم اللہ کا نام لے کر اس میں سے کھا لو اور جو شکار غیر تربیت یافتہ کتے کے ذریعے ہوتاہے اگر تمہیں اس شکار کو ذبح کرنے کا موقع مل جاتا ہے ‘ تو اسے کھا لو اور جسے ذبح کرنے کا موقع نہیں ملتا اسے تم نہ کھانا۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، ← أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ، أَنَّهُ ← رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Hunting Book › The Hunting Book · Hadith 5879

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّیْدِ ‹ کِتَابُ الصَّیْدِ · حديث 5880

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَرْمِي بِسَهْمِي فَأُصِيبُ، فَلَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ إِلَّا بَعْدَ يَوْمٍ أَوِ اثْنَيْنِ، قَالَ: «إِنْ قَدَرْتَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ بِهِ أَثَرٌ، وَلَا خَدْشٌ إِلَّا رَمْيَتُكَ فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ بِهِ أَثَرًا غَيْرَ رَمْيَتِكَ فَلَا تَأْكُلْهُ، وَإِنْ أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَأَدْرَكْتَهُ قَبْلَ أَنْ يَقْتُلَهُ فَذَكِّهِ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَهُ وَلَمْ يَأْكُلْ [ص:193] مِنْهُ شَيْئًا فَكُلْهُ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ وَقَدْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ» قَالَ عَدِيٌّ: فَإِنِّي أُرْسِلُ كِلَابِي وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ، فَتَخْتَلِطُ بِكِلَابِ غَيْرِي، فَيَأْخُذْنَ الصَّيْدَ فَيَقْتُلْنَهُ، قَالَ: «فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي: كِلَابُكَ قَتَلَتْهُ أَمْ كِلَابُ غَيْرِكَ»

حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرمﷺ سے سوال کیا کہ میں اپنے تیر کے ذریعے شکار کرتا ہوں بعض اوقات وہ تیر شکار کو لگ جاتا ہے ‘ لیکن ایک یا دو دن گزرنے کے بعد مجھے وہ شکار ملتا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر وہ تمہیں ایسی حالت میں ملتا ہے ‘ اس پر کوئی اور نشان یا زخم نہ ہو ماسوائے تمہارے تیر کے نشان کے ‘ تو تم اسے کھا لو اور اگر تمہیں اپنے تیر کے نشان کے علاوہ کوئی اور نشان اس پر مل جاتاہے ‘ تو تم اسے نہ کھاؤ اگر تم اپنے کتے کو چھوڑتے ہوئے ا للہ تعالیٰ کا نام ذکر دیتے ہو اور تمہیں وہ شکار مل جاتا ہے اور اس کتے نے اسے مارا نہیں تھا ‘ تم اسے ذبح کر لو ‘ اگر وہ تمہیں ایسی حالت میں ملتا ہے ‘ کتے نے اسے مار دیا تھا اور خود اس میں سے کچھ نہیں کھایا تھا ‘ تو تم اسے کھا لو اور اگر تمہیں ایسی حالت میں ملتا ہے ‘ کتے نے خود بھی اس میں سے کچھ کھایا تھا ‘ تو تم اسے نہ کھاؤ کیونکہ یہ شکار اس نے اپنے لیے کیا تھا۔ حضرت عدی ؓ نےعرض کی: اگر میں اپنے کتے کو چھوڑتا ہوں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام بھی لے لیتا ہوں پھر میرے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی ساتھ مل جاتاہے اور وہ دونوں شکار کرتے ہیں اور شکار کو مار دیتے ہیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اسے نہ کھاؤ کیونکہ تم یہ بھی نہیں جانتے کہ کیا تمہارے کتے نے اسے قتل کیا ہے یا دوسرے کتے نے اسے مارا ہے۔

الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Hunting Book › The Hunting Book · Hadith 5880

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّیْدِ ‹ کِتَابُ الصَّیْدِ · حديث 5881

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ [ص:195] إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ، وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، قَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلِّمَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ»، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَتَلْنَ، مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مَعَهَا» قُلْتُ لَهُ: فَإِنِّي أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ الصَّيْدَ فَأُصِيبُ، قَالَ: «إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ، فَخَزَقَ فَكُلْهُ، وَإِنْ أَصَابَهُ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْهُ»

حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں اپنے تربیت یافتہ کتے کو چھوڑتا ہوں وہ میرے لیے شکار روک لیتا ہے میں اس پر اللہ تعالیٰ کا نام بھی ذکر کر دیتا ہوں ( تو ا س کا کیا حکم ہو گا) نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم اپنے تربیت یافتہ کتے کو چھوڑتے وقت اس پر اللہ کا نام لے لو ‘ تو تم اسے کھا لو۔ میں نے عرض کی: اگرچہ اس نے شکار کو مار دیا ہو ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگرچہ اس نے شکار کو مار دیا ہو جبکہ اس کے ہمراہ کوئی ایسا کتا شریک نہ ہو جوان میں شامل نہیں تھا میں نے آپﷺ کی خدمت میں عرض کی میں بعض اوقات تیر مارتا ہوں جو اسے لگ جاتا ہے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اگر تم تیر کو چوڑائی کی سمت میں مارتے ہو اور وہ اسے پھا ڑ دیتا ہے ‘ تو تم اسے کھا لو ‘ لیکن اگر وہ اس کو چوڑائی کی سمت میں لگتا ہے ( اور جانور چوٹ لگنے سے مرتا ہے) ‘ تو تم اسے نہ کھاؤ ۔

قُلْتُ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ [ص:268] إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Hunting Book › The Hunting Book · Hadith 5881

صیح ابن حبان · کِتَابُ الذَّبَائحِ ‹ کِتَابُ الذَّبَائحِ · حديث 5883

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ»

حضرت شداد بن او سؓ بیان کرتے ہیں: دو باتیں میں نے نبی اکرمﷺ کی زبانی یاد رکھی ہیں ( آپﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ اچھائی کرنے کو لازم قرار دیا ہے ‘ تو جب تم قتل کرو ‘ تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو ‘ تو اچھے طریقے سے ذبح کرو تمہیں اپنی چھری کو تیز کر لینا چاہئے اور اپنے ذبیحہ کو تکلیف نہیں پہنچانی چاہئے‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ «إِنَّ اللَّهَ ← ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sacrifices › The Book of Sacrifices · Hadith 5883

صیح ابن حبان · کِتَابُ الذَّبَائحِ ‹ کِتَابُ الذَّبَائحِ · حديث 5884

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ، بِالْبَصْرَةَ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ»

حضرت شداد بن اوسؓ بیان کرتے ہیں: دو باتیں میں نے نبی اکرمﷺ کی زبانی یاد رکھی ہیں ( آپﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ اچھائی کرنے کو لازم قرار دیا ہے ‘ تو جب تم قتل کرو ‘ تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو ‘ تو اچھے طریقے سے ذبح کرو تمہیں اپنی چھری کو تیز کر لینا چاہئے اور اپنے ذبیحہ کو تکلیف نہیں پہنچانی چاہئے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان :’’ اچھے طریقے سے قتل کرو ‘‘ اس سے مراد یہ ہے : جب قصاص لیتے ہوئے قتل کرو ( تو تکلیف نہ پہنچاؤ )

رَسُولِ اللَّهِ «إِنَّ اللَّهَ ← ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ، بِالْبَصْرَةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Sacrifices › The Book of Sacrifices · Hadith 5884

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاُضْحِیَّۃِ ‹ کِتَابُ الْاُضْحِیَّۃِ · حديث 5905

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ، بِمَنْبِجَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ، ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَضْحَى، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ أُضْحِيَّةً أَخِّرِي، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: لَا أَجِدُ إِلَّا جَذَعًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلَّا جَذَعًا فَاذْبَحْهُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «أَمْرُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِعَادَةِ الْأُضْحِيَّةِ أَمْرُ نَدْبٍ قَصَدَ بِهِ التَّعْلِيمَ، إِذِ النَّسِيكَةُ لَا يَكُونُ فَضْلُهَا إِلَّا لِمَنْ ذَبْحَهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَمَا كَانَ مِنْهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ فَفِيهِ الْفَضْلُ لَا فَضْلَ النَّسِيكَةِ، لِأَنَّ الشَّيْءَ إِذَا جُعِلَ لِفَضْلِ الْوَقْتِ ثُمَّ نُدِبَ إِلَيْهِ، لَوْ قَدَّمَهُ الْإِنْسَانُ عَنْ وَقْتِهِ [ص:227] لَمْ يَجِدْ ذَلِكَ الْفَضْلَ الَّذِي وُعِدَ عَلَى ذَلِكَ الْفَضْلِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْوَقْتِ، وَإِنْ لَمْ يَعْدَمِ الْفَضْلَ فِي ذَلِكَ الْفِعْلِ الْمُقَدَّمِ عَنْ وَقْتِهِ، وَنَظِيرُ هَذَا أَنَّ صَلَاةَ الضُّحَى نُدِبَ إِلَيْهَا لِوَقْتِ الضُّحَى، فَلَوْ صَلَّى إِنْسَانٌ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ يُرِيدُ بِهِ صَلَاةَ الضُّحَى لَمْ يُؤْجَرْ عَلَيْهِ أَجْرَ صَلَاةِ الضُّحَى، وَإِنْ كَانَ الْفَضْلُ مَوْجُودًا فِي صَلَاتِهِ تِلْكَ»

حضرت ابو بردہ بن نیازؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرمﷺ کے عید قربان کے دن ذبح کرنے سے پہلے اپنا جانور ذبح کر لیا۔ حضرت ابو بردہ ؓ نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرمﷺ نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ دوسری قربانی کریں حضرت ابو بردہ ؓ نے عرض کی: مجھے ‘ تو صرف چھ ماہ کا بچہ ملتا ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تمہیں صرف چھ ماہ کا بچہ ملتا ہے ‘ تو تم اسے ہی ذبح کر دو۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دینا یہ استحباب کے طور پر تھا اور اس کے ذریعے مراد تعلیم دینا تھا کیونکہ قربانی کی فضیلت اسی وقت حاصل ہوتی ہے ‘ جو شخص نماز عید ادا کرنے کے بعد اسے ذبح کرتا ہے ‘ جو شخص نماز عید سے پہلے قربانی کر لیتا ہے ‘ تو اس میں فضیلت ‘ تو ہے ‘لیکن قربانی کی فضیلت نہیں ہے کیونکہ جب کسی چیز کو کسی خاص وقت کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہو اور پھر اسے اس بارے میں مستحب قرار دیا گیا ہو ‘ تو اگر آدمی اس مخصوص وقت سے پہلے وہ کام کرے ‘ تو اسے اس عمل کی وہ فضیلت حاصل نہیں ہوتی جو اس مخصوص وقت میں کرنے کی فضیلت کا وعدہ کیا گیا ہے اگرچہ وقت سے پہلے کیے جانے والے اس فعل کی فضیلت مطلق طور پر بھی معدوم نہیں ہوتی اس کی مثال یہ ہے چاشت کی نماز کےلئے مستحب یہ قرار دیا گیا ہے ‘ اسے چاشت کے وقت ادا کیا جائے اگر کوئی شخص رات کے وقت چاشت کی نماز کے طور پر کوئی نماز ادا کر لیتا ہے ‘ توا سے چاشت کی نماز کا اجر نہیں ملے گا ‘ لیکن اسے وہ نماز پڑھنے کا اجر ملےگا۔

يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Sacrifice Book › The Sacrifice Book · Hadith 5905

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاُضْحِیَّۃِ ‹ کِتَابُ الْاُضْحِیَّۃِ · حديث 5912

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْمَازِنِيِّ، أَنَّهُ «ذَبَحَ أُضْحِيَّةً قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ يَوْمَ الْأَضْحَى وَأَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ أُضْحِيَّةً أُخْرَى»

حضرت عویمر بن اشقر انصاریؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نماز عید کے لیے جانے سےپہلے جانور قربان کر لیا پھر انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سےکیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نےانہیں حکم دیا کہ وہ دوسری مرتبہ قربانی کریں۔

عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Sacrifice Book › The Sacrifice Book · Hadith 5912

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاُضْحِیَّۃِ ‹ کِتَابُ الْاُضْحِیَّۃِ · حديث 5914

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، [ص:236] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: «أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ»، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةَ أُنْثَى، أَفَأُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ، وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ، وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ، وَتَقُصُّ شَارِبَكَ، فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَتِكَ عِنْدَ اللَّهِ»

حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا مجھے یہ حکم دیا گیا ہے ‘ قربانی کے دن کو عید قرار دوں اللہ تعالیٰ نے اسے اس امت کے لیے ( عید قرار دیا ہے ) ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! آپ کی کیا رائے ہے اگر مجھے قربانی کے لیے صرف مونث جانور ملتا ہے ‘ تو کیا میں اس کی قربانی کر لوں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یا نہیں تم اپنے بال کاٹ لو ، ناخن کاٹ لو ، زیر ناف بال صاف کر لو، اپنی مونچھیں چھوٹی کر لو یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی بارباہ میں تمہاری قربانی شمار ہوں گی۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، [ص:236] ← عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Sacrifice Book › The Sacrifice Book · Hadith 5914

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاُضْحِیَّۃِ ‹ کِتَابُ الْاُضْحِیَّۃِ · حديث 5922

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، قَالَ: سَأَئلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ مَا كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأُضْحِيَّةِ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْبَعٌ لَا تَجُوزُ فِي الْأَضْحَى: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ عَرَجُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تُنْقِي»

عبید بن فیروز بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت براء بن عازب ؓ سے دریافت کیا نبی اکرمﷺ کون سے جانوروں کی قربانی کو نا پسند سمجھتے تھے ‘ تو انہوں نے بتایا نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ چار طرح کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے ایسا کانا جس کا کانا پن واضح ہو ، ایسا لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو، ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو اور ایسا کمزور جانور ‘ جس کے جسم میں گودا نہ ہو ‘‘۔

سَأَئلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ مَا كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ مِنَ الْأُضْحِيَّةِ؟ فَقَالَ: ← عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← شُعْبَةُ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَکِ

Sahih Ibn Hibban · The Sacrifice Book › The Sacrifice Book · Hadith 5922

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاُضْحِیَّۃِ ‹ کِتَابُ الْاُضْحِیَّۃِ · حديث 5923

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «لَا يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ مِنْ لَحْمِ أُضْحِيَتِهِ فَوْقَ ثَلَاثِ أَيَّامٍ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ ’’ کوئی بھی شخص اپنی قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ ہر گز نہ کھائے‘‘۔

«لَا يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ مِنْ لَحْمِ أُضْحِيَتِهِ فَوْقَ ثَلَاثِ أَيَّامٍ» ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Sacrifice Book › The Sacrifice Book · Hadith 5923

chevron_left Previous
1…293031…579
Next chevron_right