Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأضحية والعقيقة

Qurbani & Aqiqah

11564 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24163

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ وَا ثُكْلَ أُمِّيَاهْ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ قَالَ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصْمِتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ وَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا شَتَمَنِي وَلَا ضَرَبَنِي قَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا إِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ نمازیوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی میں نے اسے " یرحمک اللہ " کہہ کر جواب دیا تو لوگ مجھے اپنی آنکھوں سے گھورنے لگے میں نے سٹپٹا کر کہا کیا مصیبت ہے؟ تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم " میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں " میں نے ان جیسا معلم پہلے دیکھا اور نہ ان سے بہتر تعلیم دینے والا ان کے بعد دیکھا " جب نماز سے فارغ ہوئے تو اللہ کی قسم انہوں نے مجھے ڈانٹا نہ ہی گالی دی اور نہ مارا پیٹا بلکہ فرمایا کہ اس نماز میں انسانوں کا کلام مناسب نہیں ہوتا نماز تو نام ہے تسبیح و تکبیر اور تلاوت قرآن کا، یا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24163

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24170

قَالَ فَصَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ وَا ثُكْلَ أُمِّيَاهْ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ قَالَ فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصْمِتُونِي سَكَتُّ حَتَّى صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي قَالَ فَبِأَبِي وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ فَمَا ضَرَبَنِي وَلَا كَهَرَنِي وَلَا سَبَّنِي وَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا إِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ ثَلَاثَةُ أَحَادِيثَ حَدَّثَنِيهَا

حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ نمازیوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی میں نے اسے " یرحمک اللہ " کہہ کر جواب دیا تو لوگ مجھے اپنی آنکھوں سے گھورنے لگے میں نے سٹپٹا کر کہا کیا مصیبت ہے؟ تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرانے چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم " میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں " میں نے ان جیسا معلم پہلے دیکھا اور نہ ان سے بہتر تعلیم دینے والا ان کے بعد دیکھا " جب نماز سے فارغ ہوئے تو اللہ کی قسم انہوں نے مجھے ڈانٹا نہ ہی گالی دی اور نہ مارا پیٹا بلکہ فرمایا کہ اس نماز میں انسانوں کا کلام مناسب نہیں ہوتا نماز تو نام ہے تسبیح و تکبیر اور تلاوت قرآن کا یا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24170

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24171

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاوِيةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ بِنَحْوِهِ فَزَادَ فِيهِ وَقَالَ إِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَالتَّحْمِيدُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ البتہ اس میں یوں ہے کہ نماز تو نام ہے تسبیح و تکبیر اور تلاوت قرآن کا ، یا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

بِهَذَا الْحَدِيثِ بِنَحْوِهِ فَزَادَ فِيهِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24171

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24172

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ وَا ثُكْلَ أُمِّيَاهْ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ قَالَ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ يُصْمِتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا شَتَمَنِي وَلَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا إِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ نمازیوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی میں نے اسے " یرحمک اللہ " کہہ کر جواب دیا تو لوگ مجھے اپنی آنکھوں سے گھورنے لگے میں نے سٹپٹا کر کہا کیا مصیبت ہے؟ تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرانے چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم " میرے ماں باپ ان پر قربان ہوں " میں نے ان جیسا معلم پہلے دیکھا اور نہ ان سے بہتر تعلیم دینے والا ان کے بعد دیکھا " جب نماز سے فارغ ہوئے تو اللہ کی قسم انہوں نے مجھے ڈانٹا نہ ہی گالی دی اور نہ مارا پیٹا بلکہ فرمایا کہ اس نماز میں انسانوں کا کلام مناسب نہیں ہوتا نماز تو نام ہے تسبیح و تکبیر اور تلاوت قرآن کا یا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ ← معاوية السلمى ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24172

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24531

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي الْأَزْرَقَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْمُكْتَبِ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ وَقَالَ يَحْيَى يُشْخِصُ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا قَالَتْ وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ وَكَانَ يَفْتَرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى وَكَانَ يَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ أَحَدُنَا ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ قَالَ يَحْيَى وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَفْتَرِشَ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز تکبیر سے کرتے تھے اور قرأت کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے، جب رکوع میں جاتے تھے تو سر کو اونچا رکھتے تھے اور نہ ہی جھکا کر رکھتے بلکہ درمیان میں رکھتے تھے، جب رکوع اٹھاتے تو دوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کرتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے، اور ہر دو رکعتوں پر "التحیات" پڑھتے تھے، اور شیطان کی طرح ایڑیوں کو کھڑا رکھنے سے منع فرماتے تھے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کر لیتے تھے، اور اس بات سے بھی منع فرماتے تھے کہ ہم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے بازوؤں کو بچھا لے، اور نماز کا اختتام سلام سے فرماتے تھے۔

إِسْحَاقُ يَعْنِي الْأَزْرَقَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24531

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2294

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَكُونُ فِي الصَّيْدِ فَأُصَلِّي وَلَيْسَ عَلَيَّ إِلَّا قَمِيصٌ واحد قال "فازرره ولو بشوكة" 1 [4: 3]

حضرت سلمہ بن اکوعؓ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ﷺ)! بعض اوقات میں شکار کے لئے گیا ہوتا ہوں اور میں ایسی حالت میں نماز ادا کرتا ہوں‘ میرے جسم پر صرف ایک قمیض ہوتی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اس کا بٹن لگا لو اگرچہ کانٹے کے ذریعے ہی لگاؤ۔

قُلْتُ ← سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2294

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1778

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ»، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، مَا تَقُولُ؟ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ». [5: 4]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں تکبیر کہتے تھے، تو آپ قرات سے پہلے کچھ دیر خاموش رہتے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ قرات اور تکبیر کے درمیان کیا پڑھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (یہ پڑھتا ہوں) "اے اللہ ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان فاصلہ کردے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے۔ اے اللہ! مجھے خطاؤں سے اس طرح صاف کردے جس طرح سفید کپڑے سے میل کو صاف کیا جاتا ہے اے اللہ! میری خطاؤں کو برف پانی اور اولوں کے ذریعے دھو دے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1778

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1797

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ قَالَ: أَخْبَرَنِي خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ نُعَيْمِ الْمُجْمِرِ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} قَالَ: آمِينَ وَقَالَ النَّاسُ: آمِينَ فَلَمَّا رَكَعَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ سَجَدَ فَلَمَّا رَفَعَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَلَمَّا سَجَدَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَلَمَّا رَفَعَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ قَائِمًا مَعَ التَّكْبِيرِ فَلَمَّا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم2. [5: 4]

نعیم مجمر بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھی پھر سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی یہاں تک کہ جب انہوں نے غیر المغصوب علیھم ولا الضالین پڑھ لیا تو آمین کہا لوگوں نے بھی آمین کہا جب وہ رکوع میں گئے۔ تو انہوں نے اللہ اکبر کہا۔ جب انہوں نےاپنا سر اٹھالیا تو سمع اللہ لمن حمدہ کہا پھر انہوں نے اللہ اکبر کہا۔ پھر جب وہ سجدے میں گئے ، تو انہوں نے اللہ اکبر کہا اور پھر سر اٹھایا تو اللہ اکبر کہا۔ پھر وہ تکبیر کہتے ہوئے سیدھے کھڑے ہوگئے۔ جب وہ دو رکعت ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوئے، تو انہوں نے اللہ اکبر کہا۔ پھر انہوں نے سلام پھیرا تو یہ کہا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تم میں سے، سب کے مقابلے میں زیادہ بہت طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھتا ہوں۔

نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← حَيْوَةُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1797

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْإِحْرَامِ · حديث 3776

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمُ1 بْنُ حَيَّانٍ قَالَ: سَمِعْتُ مَرْوَانَ الْأَصْفَرَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بم أهلت؟ " قال: أهلت بِمَا أَهَلَّ بِهِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "فَإِنِّي لَوْلَا أَنَّ مَعِيَ الهدي لحللت" 2. [50:4]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہہ یمن سے تشریف لائے تھے نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا: تم نے کیا احرام باندھا ہے (یعنی کیا نیت کی ہے) انہوں نے جواب دیا: میں نے وہی احرام باندھا ہے، جو اللہ کے نبی نے باندھا ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر میرے ساتھ قربانی کا جانور ہوتا تو میں احرام کھول دیتا۔

فإني لولا أن معي الهدي لحللت ← أهلت بِمَا أَهَلَّ بِهِ نَبِيَّ اللَّهِ ← لَهُ النَّبِيُّ "بم أهلت؟ ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ، ← مَرْوَانَ الْأَصْفَرَ ← سليم بن حيان، ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of respect · Hadith 3776

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَحْوَالِ الْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ · حديث 3114

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ حِينَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ يُصَلُّونَ وَإِذَا هِيَ قَائِمَةٌ تُصَلِّي فَقُلْتُ: مَا لِلنَّاسِ؟ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللَّهِ, فَقُلْتُ: آيَةٌ؟ فَأَشَارَتْ: أَيْ نَعَمْ قَالَتْ: فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ فَجَعَلْتُ أُصُبُّ الْمَاءَ فَوْقَ رَأْسِي فَلَمَّا انْصَرَفَ حَمِدَ اللَّهَ رَسُولَ اللَّهِ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: "مَا مِنْ شَيْءٍ كُنْتُ لَمْ أَرَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ- لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ- يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ لَهُ: مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ -فَلَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ- فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَأَجَبْنَا وَآمَنَّا وَاتَّبَعْنَا فَيُقَالُ لَهُ: نَمْ صَالِحًا قَدْ عَلِمْنَا إِنْ كُنْتَ لَمُؤْمِنًا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ - لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ- فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يقولون شيئا فقلته" 1. [71:3]

سیّد ہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سورج گرہن ہوا ، تو میں عائشہ کے پاس آئی وہاں لوگ کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے عائشہ بھی کھڑی ہوئی نماز ادا کر رہی تھی میں نے کہا : لوگوں کو کیا ہوا ہے، تو اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور سبحان اللہ کہا میں نے کہا: کیا کوئی نشانی نمودار ہوئی ہے، تو اس نے اشارے سے جواب دیا جی ہاں سیّد ہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں بھی کھڑی ہوئی یہاں تک کہ مجھ پے بے ہوشی طاری ہونے لگی، تو میں اپنے سر پر پانی انڈیلنے لگی جب نبی اکرمﷺ نے نماز مکمل کر لی، تو آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ " ہر وہ چیز جو میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی وہ میں نے اس جگہ پر کھڑے ہوئے دیکھ لی ہے، یہاں تک کہ جنت اور جہنم کو بھی دیکھ لیا اور میر ی طرف یہ بات وحی کی گئی ہے کہ تم لوگوں کو قبروں میں آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا جو دجال کی آزمائش کی مانند ہو گی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس کے قریب ہو گی (راوی کہتے ہیں) مجھے نہیں معلوم سیّد ہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کیا لفظ بیان کیا تھا تم میں سے کسی ایک کے پاس (فرشتہ) آئے گا اور اس سے دریافت کیا جائے گا ان صاحب کے بارے میں تمہارا علم کیا ہے، تو اگر ، تو وہ ایمان رکھنے والا شخص ہو گا(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یقین رکھنے والا شخص ہو گا (راوی کہتے ہیں) مجھے نہیں معلوم تھا سیّد ہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کیا لفظ بیان کیا تھا، تو ہ یہ کہے گا یہ حضرت محمد ﷺ ہیں جو اللہ کے رسول ﷺ ہیں یہ ہمارے پاس وض تح دلائل اور ہدایت لے کر آئے تھے ہم نے ان کی دعوت کو قبول کیا ہم ان پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی پیروی کی، تو اس شخص سے یہ کہا جائے گا تم اچھی حالت میں سو جاو ہمیں پتہ تھا تم ایمان رکھتے ہو اور اگر وہ شخص منافق ہو گا یا شک کا شکار ہو گا (راوی کہتے ہیں) مجھے نہیں معلوم کہ سیّد ہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کیا لفظ استعمال کیا تھا، تو وہ یہ کہے گا مجھے نہیں معلوم میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تھا، تو میں نے بھی وہی بات کہہ دی۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on the conditions of the dead in his grave · Hadith 3114

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ الْإِحْرَامِ · حديث 3795

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، وَلَيَالِي الْحَجِّ، وحرم الحج، حتى نزلنا بسرف، قالت: فخرج إلى أصحابه، وقال: "مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، وَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عَمْرَةً فَلْيَفْعَلْ. وَمَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، فلا". قالت: فلآخذ بِهَا وَالتَّارِكُ لَهَا، مِنْ أَصْحَابِهِ. قَالَتْ: فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَكَانُوا أَهَلَ قُوَّةٍ، وَكَانَ مَعَهُمُ الْهَدْيُ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الْعُمْرَةِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: "مَا يُبْكِيكِ يَا هَنْتَاهُ؟ " قلت: قد سمعت قولك لأصحابك، فمنعت العمرة، قَالَ: "وَمَا شَأْنُكِ؟ " قُلْتُ: لَا أُصَلِّي، قَالَ: "فَلَا يَضُرُّكِ إِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِ آدم كتب الله عليك ما كتب عليهن، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ فَعَسَى أَنْ تُدْرِكِيهَا". قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فِي حَجَّتِهِ حَتَّى قَدِمْنَا مِنًى، فَطَهَرْتُ، ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ مِنًى، فَأَفَضْتُ الْبَيْتَ، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي النَّفْرِ الْآخَرِ حَتَّى نزل المحصب، ونزلنا معه فدعا عبد الرحمن بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: "اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ، فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ افْرُغَا ثُمَّ ائْتِيَا ها هُنَا، فَإِنِّي أَنْظُرُكُمَا حَتَّى تَأْتِيَانِي". قَالَتْ: فَخَرَجْتُ لِذَلِكَ حَتَّى فَرَغْتُ، وَفَرَغْتُ مِنَ مِنَ الطَّوَافِ ، ثُمَّ جَئْتُہُ سَحْرًا ، فَقَالَ : ھَلْ فَرَغْتُمْ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ فَآذَنَ بِالرَّحِیلِ فِیْ اَصْحَابِہٖ ، فَارْتَحَلَ النَّاسُ ، فَمَرَّ بِالْبَیْتِ قَبْلَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ ، فَطَافَ بِہٖ ثُمَّ خَرَجَ فَرَکِبَ، ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّھًا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم حج کے مہینے میں حج کے احرام میں نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے جب ہم نے "سرف" کے مقام پر پڑاو کیا ، تو نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے ہمراہ قربانی کا جانور موجود نہ ہو اور وہ اسے عمرہ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے وہ ایسا کر لے، لیکن جس کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کچھ لوگوں نے اس حکم پر عمل کیا اور کچھ نے اسے ترک کر دیا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جہاں تک نبی اکر م ﷺ اور آ پ کے اصحاب میں سے کچھ افراد کا تعلق تھا جو صاحب حیثیت تھے اور ان کے ساتھ قربانی کا جانور موجود تھا وہ عمرہ ( میں تبدیل ) نہیں کر سکتے تھے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: اے خاتون تم کیوں رو رہی ہو؟ میں نےعرض کی : میں نے آپ کا وہ فرمان سنا ہے، جو آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا ہے، لیکن میں اب عمرہ نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کی: میں نماز ادا نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ تم آدم کی بیٹوں میں سے ایک عورت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر بھی وہ چیز مقرر کی ہے، جو ان پر مقرر کی ہے تم حج کرتی رہو۔ تمہیں عمرے کا بھی موقع مل جائے گا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر ہم لوگ حج کے لئے روانہ ہوئےہم منیٰ آ گئے پھر میں پاک ہو گئی۔ پھر میں منیٰ سے روانہ ہوئی۔ میں نے طواف افاضہ کیا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ آخری روانگی کے وقت میں نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئی، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے وادی محصب میں پڑاو کیا آپ کے ہمراہ ہم نے بھی پڑاو کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے عبدالرحمٰن بن ابو بکر کو بلوایا آپ نے فرمایا: اپنی بہن کو حرم سے باہر لے جاو اور اسے عمرہ کروا لاو پھر تم دونوں فارغ ہو کے فلاں مقام پر آ جانا میں تم دونوں کے آنے کا انتظار کروں گا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو میں اس کام کے لئے روانہ ہوئی۔ پھر میں اس سے فارغ ہو ئی پھر میں طواف سے فارغ ہوئی۔ پھر سحری کے وقت وہاں آئی، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تم لوگ فارغ ہو گئے ہو میں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو روانگی کا حکم دیا۔ لوگوں نے روانگی کی تیار ی کی۔ نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز سے پہلے خانہ کعبہ کے پاس گزرے آپ نے اس کا طواف کیا۔پھر آپ وہاں سے باہر نکلے اور سوار ہو گئے۔ پھر آپ مدینہ منورہ کی طرف رخ کر کے روانہ ہو گئے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of respect · Hadith 3795

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْقِرَانُ · حديث 3918

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَلَيَالِي الْحَجِّ وحرم الحج حتى نزلنا بسرف، قالت: فخرج صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: "مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، وَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عَمْرَةً فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَلَا". قَالَتْ: فَالْآخِذُ بِهَا، وَالتَّارِكُ لَهَا مِنْ أَصْحَابِهِ، قَالَتْ: فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ورجال من أصحابه، فكانوا أهل قُوَّةٍ، فَكَانَ مَعَهُمُ الْهَدْيُ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الْعُمْرَةِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا يُبْكِيكِ يَا هَنْتَاهُ؟ ". قلت: قد سمعت قولك لأصحابك، فمنعت العمرة، قَالَ: "وَمَا شَأْنُكِ؟ ". قَالَتْ: لَا أُصَلِّي. قَالَ: "فَلَا يَضُرُّكِ إِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِ آدم كتب الله عليك ما كتب عليهن، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ فَعَسَى أَنْ تُدْرِكِيهَا". قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فِي حَجِّهِ حَتَّى قَدِمْنَا مِنًى، فَطَهَرْتُ ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ مِنًى، فَأَفَضْتُ الْبَيْتَ، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي النَّفْرِ الْآخَرِ حَتَّى نزل المحصب، ونزلنا معه، فدعا عبد الرحمن بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ، فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ افْرُغَا، ثُمَّ ائْتِيَا هُنَا فَإِنِّي أَنْظُرُكُمَا حَتَّى تَأْتِيَانِي". قَالَتْ: فَخَرَجْتُ لِذَلِكَ حَتَّى فَرَغْتُ، وفرغت من الطَّوَافِ ،ثُمَّ جِئْتُہُ سَحْرًا ، فَقَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ھَلْ فَرَغْتُمْ ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاَذِنَ الرَّحِیلِ فِیْ اَصْحَابِہٖ ، فَارْتَحَلَّ النَّاسُ ،فَمَرَّ بِالْبَیْتِ قَبْلَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ ، فَطَافَ بِہٖ ، ثُمَ خَرَجَ ، فَرَکِبَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّھًا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم حج کے مہینوں میں حج کی راتوں میں حج کے قابل احترام (مخصوص موسم میں) نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے جب ہم نے سرف کے مقام پر پڑاو کیا ،تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے گئے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس قربانی کا جانور موجود نہ ہو اور وہ اسے عمرے میں تبدیل کرنا چاہتا ہو وہ ایسا کر لے اور جس کے پاس قربانی کا جانور موجود ہو وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کچھ لوگوں نے اسے موقوف کر دیا اور کچھ لوگوں نے اسے ترک کر دیا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ اور کچھ افراد کا تعلق تھاجو صاحب حیثیت تھے اور ان کے ساتھ قر بانی کا جانور موجو د تھا وہ عمر ہ ( کر کے احرام نہیں کھول ) سکتے تھے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو، تو میں نے عرض کی: میں نے آپ کا وہ فرمان سنا ہے، جو آپ نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا ہے، لیکن میں عمرہ نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیوں تمہیں کیا ہوا میں نے عرض کی: میں نماز ادا نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے۔ تم آدم کی بیٹیوں سے تعلق رکھنے والی ایک عورت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر بھی وہی چیز مقرر کی ہے، جو ان پر مقرر کی ہے۔ تم اپنے حج کو جاری رکھو۔ عنقریب تم اسے (یعنی عمرے کو ) پا لوگی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ حج کے لئے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ہم منیٰ آ گئے اور میں پاک ہو گئی۔ پھر میں منیٰ سے نکلی میں نے بیت اللہ کا طواف افاضہ کیا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر میں نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ آخری روانگی میں نکلی، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے وادی محصب میں پڑاو کیا۔ آپ کے ہمراہ ہم نے بھی پڑاو کیا۔ نبی ا کرم ﷺ نے حضرت عبدالرحمٰن بن ابو بکر رضی اللہ عنہہ کو بلایا اور ارشاد فرمایا: تم اپنی بہن کو حرم سے باہر لے جاو اسے عمرے کا احرام بندھوا لاو۔ تم دونوں فارغ ہو کر یہاں آ جانا میں تم دونوں کا انتظا کروں گا، جب تک تم آ نہیں جاتے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس موقع پر میں نکلی، یہاں تک کہ میں (عمرہ کر کے فارغ ہو گئی) اور میں طواف کر کے فارغ ہوئی پھر میں سحری کے وقت آ پ کی خدمت میں حاضر ہوئی، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ فارغ ہوگئے ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے سا تھیوں کو روانگی کا حکم دیا۔ ہم نے روانگی کی تیاری کر لی نبی اکرم ﷺ کا گزر بیت اللہ کے پاس ، صبح کی نماز سے پہلے ہوا آپ نے اس کا طواف کیا پھر (مکہ مکرمہ سے ) تشریف لے گئے اور مدینہ منورہ کی طرف چل پڑے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter of the Qur’an · Hadith 3918

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ التَّمَتُّعُ · حديث 3921

أخبرنا بْنِ سَلْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَهْلَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَا نخلط بغيره، فقدمنا مكة لأربع ليالي خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ، وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عَمْرَةً وَأَنْ نَحِلَّ إِلَى النِّسَاءِ، فَقُلْنَا بَيْنَنَا: لَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ، فَنَخْرُجُ إِلَيْهَا وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي لَأَبَرُّكُمْ وَأَصْدَقُكُمْ وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَأَحْلَلْتُ". فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْتِعَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بل للأبد" 1. [65:3]

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ صرف حج کا تلبیہ پڑھا اس میں کوئی دوسری چیز شامل نہیں کی ذوالحج کی چار تاریخ کو ہم لوگ مکہ آ گئے۔ جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کر لیا اور صفا و مروہ کی سعی کر لی، تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرے میں تبدیل کر لیں اور ہم اپنی خواتین کے لئے حلال ہو جائیں ہم نے آپ میں یہ کہا: ہمارے اور عرفہ میں صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں ہم جب عرفہ کی طرف جائیں گے، تو ہماری شرمگاہوں سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا؛ میں تم سب سےزیادہ نیکو کار اور تم سب سے زیادہ سچا ہوں ۔ اگر قربانی کا جانور ساتھ نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا۔ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عر ض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! کیا یہ سہولت اس سا ل لے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بلکہ ہمیشہ کے لئے ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door to enjoyment · Hadith 3921

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1301

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، قَالَ: [ص:120] حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَإِنَّا سِرْنَا لَيْلَةً، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ - وَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا - فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، قَالَ: وَكَانَ أَوَّلُ مَنِ اسْتَيْقَظَ فُلَانٌ، ثُمَّ فُلَانٌ، ثُمَّ فُلَانٌ، - وَكَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ - ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الرَّابِعُ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ نُوقِظْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ، لَأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ، قَالَ: فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ، قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا أَجْوَفَ جَلِيدًا، قَالَ: فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَكَوَا الَّذِي أَصَابَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: [ص:121] «لَا ضَيْرَ - أَوْ لَا يَضِيرُ - ارْتَحِلُوا» فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، وَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، قَالَ: «مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟ » قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ»، ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ الْعَطَشَ، قَالَ: فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا - وَكَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ - وَدَعَا عَلِيًّا، فَقَالَ: «اذْهَبَا فَابْغِيَا لَنَا الْمَاءَ»، فَلَقِيَا امْرَأَةً بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ، أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، فَقَالَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ، قَالَ: فَقَالَا لَهَا: انْطَلِقِي إِذًا، قَالَتْ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَا: إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِي؟ قَالَا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ، فَانْطَلِقِي إِذًا، فَجَاءَا [ص:122] بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ قَالَ: فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ، أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ، وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ، أَنِ اسْتَقُوا وَاسْقُوا، قَالَ: فَسَقَى مَنْ شَاءَ وَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ، وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أُعْطِيَ الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ: «اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ» قَالَ: وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا، قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا حِينَ أُقْلِعَ وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ لَنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلْئًا مِنْهَا حِينَ ابْتُدِئَ فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْمَعُوا لَهَا طَعَامًا» قَالَ: فَجَمَعَ لَهَا مِنْ بَيْنِ عَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسَوِيقَةٍ، حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا، وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ، وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا، وَوَضَعُوا الثَّوْبَ بَيْنَ يَدَيْهَا، قَالَ: فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعْلَمِينَ أَنَّا وَاللَّهِ مَا رَزِئْنَا مِنْ مَائِكَ شَيْئًا، وَلَكِنَّ اللَّهَ هُوَ سَقَانَا» قَالَ: فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: مَا حَبَسَكِ يَا فُلَانَةُ؟ قَالَتِ: الْعَجَبُ، لَقِيَنِي رَجُلَانِ، فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الصَّابِي، فَفَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا، الَّذِي قَدْ كَانَ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ، أَوْ إِنَّهُ لِرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ [ص:123] وَسَلَّمَ، حَقًّا، قَالَ: فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ ذَلِكَ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِ، فَقَالَتْ لِقَوْمِهَا: وَاللَّهِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ يَدَعُونَكُمْ عَمْدًا، فَهَلْ لَكُمْ فِي الْإِسْلَامِ؟ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَام. [1: 30]

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کررہے تھے۔ ہم رات بھر سفر کرتے رہے، جب رات کا آخری حصہ ہوا تو ہمیں نیند نے آلیا اور مسافر کے نزدیک نیند سے پیاری اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ہمیں سورج کی تپش نے بیدار کیا۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بیدار ہونے والوں میں سے سب سے پہلے فلاں شخص تھے پھر فلاں صاحب تھے اور پھر فلاں صاحب تھے۔ ابو رجاء نامی راوی نے ان کے نام بھی بیان کئے تھے لیکن عوف نامی راوی ان کے ناموں کو بھول گئے پھر چوتھے بیدار ہونے والے فرد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے، تو ہم آپ کو بیدار نہیں کرتے تھے۔ آپ خود ہی بیدار ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے، ہم یہ نہٰیں جان سکتے تھے کہ نیند کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا صورتحال پیش آرہی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور انہوں نے صورت حال کو دیکھا تو راوی بیان کرتے ہیں: وہ بلند آواز کے مالک ایک سخت مزاج شخص تھے۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے بلند آواز میں تکبیر کہی اور مسلسل تکبیر کہتے رہے۔ ان کی تکبیر کی آواز بلند رہی، یہاں تک کہ ان کی آواز کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوگئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو لوگوں نے پیش آنے والی صورت حال کی شکایت آپ کی خدمت میں کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی نقصان نہیں ہے۔ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے۔ تم لوگ روانہ ہوجاؤ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑا آگے گئے پھر آپ سواری سے نیچے اترے پھر آپ نے پانی منگوایا وضو کیا نماز کے لئے اذان دی گئی۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو ایک شخص الگ موجود تھا۔ اس نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے فلاں کیا وجہ ہے، تم نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، اور (غسل کرنے کے لئے) پانی نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: تم پر مٹی کو استعمال کرنا لازم ہے یہ تمہارے لئے کافی ہوگی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے لوگوں نے آپ کی خدمت میں پیاسے ہونے کی شکایت کی۔راوی بیان کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے نیچے اترے آپ نے فلاں صاحب کو بلوایا اس شخص کا نام ابورجاء نامی نے بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی اسے بھول گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلایا اور ارشاد فرمایا: تم دونوں جاؤ اور ہمارے لئے پانی تلاش کرو (یہ دونوں حضرات روانہ ہوگئے) ان دونوں حضرات کا سامنا ایک خاتون سے ہوا جو اپنے اونٹ پر دو مشکیزوں کے درمیان سوار تھی۔ ان دونوں حضرات نے اس خاتون سے دریافت کیا کہ پانی کہاں ہے۔ اس نے جواب دیا: گزشتہ کل اسی وقت میں پانی کے پاس تھی (یعنی ایک دن کے فاصلے پر ہے) اور ہمارے مرد قبیلے میں موجود نہیں تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان دونوں حضرات نے اس خاتون سے کہا پھر تم (ہمارے ساتھ) چلو۔ اس نے دریافت کیا: کیا ان دونوں حضرات نے جواب دیا: اللہ کے رسول کی طرف اس نے دریافت کیا: کیا یہی وہ شخص ہے، جسے بے دین کہا جاتا ہے ان دونوں صاحبان نے فرمایا: وہ وہی ہیں، جو تم مراد لے رہی ہو۔ اب تم چل پڑو پھر یہ دونوں اس خاتون کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علی وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو پورے واقعے کے بارے میں بتایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس خاتون کو اس کے اونٹ سے نیچے اتار لیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اور مشکیزوں کے منہ سے اس میں پانی انڈیلا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) آپ نے مشکیزےکے منہ کو بند رکھا اور اس کے نیچے کے سوراخ کو کھول دیا، اور لوگوں میں یہ اعلان کر دیا گی کہ تم لوگ خود بھی پانی حاصل کرو اور (اپنے جانوروں وغیرہ کو) بھی پلاؤ۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر جس نے چاہا اس نے پی لیا جس نے چاہا اس نے پلانے کے لئے حاصل کر لیا۔ سب سے آخر میں اس شخص کو پانی کا برتن دیا گیا جسے جنابت لاحق ہوئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم جاؤ اور اسے اپنے جسم پر انڈیل لو۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت کھڑی دیکھتی رہی۔ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! جب اس میں اتنا سارا پانی نکال لیا گیا، تو پھر بھی ہمیں یوں محسوس ہوا کہ شاید یہ مشکیزے سے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس عورت کے لئے کھانے کا سامان جمع کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس عورت کے لئے عجوہ کھجوریں اور دستو جمع کرلیے گئے، یہاں تک کہ اس کے لئے بہت سا اناج جمع ہوگیا اور لوگوں نے اسے ایک کپڑے میں ڈال دیا۔ اسے اس کے اونٹ پر سوار کر دیا، اور وہ کپڑا اس کے آگے رکھ دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: تم یہ بات جانتی ہو؟ اللہ کی قسم! ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کر دا۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت اپنے گھر والوں کے پاس آئی جبکہ وہ کچھ تاخیر سے گئی تھی ان لوگوں نے دریافت کیا: اے فلاں تم کہاں رہ گئی تھی۔ اس نے جواب دیا: بڑی حیرانگی کی بات ہے مجھے وہ لوگ ملے وہ مجھے ساتھ لے کر ان صاحب کے پاس چلے گئے جن کے بارے میں یہ کہاجاتا ہے،وہ بے دین ہیں۔ انہوں نے میرے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا یعنی اس چیز کے بارے میں بتایا جو ہو چکی تھی۔ اور کہا: اللہ کی قسم! وہ یہاں سے لے کر یہاں تک کے درمیانی حصے کے سب سے بڑے جادوگر ہیں یا پھر وہ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد وہاں کے مسلمانوں نے آس پاس کے مشرکیں پر حملے کئے لیکں اس بستی پر حملہ نہیں کیا جہاں وہ عورت رہتی تھی۔ اس عورت نے اپنی قوم سے کہا: اللہ کی قسم! یہ لوگ جان بوجھ کر تمہیں چھوڑ رہے ہیں تو کیا تم لوگ اسلام میں دلچسپی رکھتے ہو، تو ان لوگوں نے اس عورت کی بات مان لی اور اسلام میں داخل ہوگئے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبُو رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1301

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1302

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ - وَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا - فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، فَاسْتَيْقَظَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ - وَكَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ - ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الرَّابِعُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ يُوقَظْ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ، لَأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي النَّوْمِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ، وَكَانَ رَجُلًا جَلِيدًا، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَهُمْ، فَقَالَ: «لَا يَضِيرُ، فَارْتَحِلُوا» وَارْتَحَلَ، فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ، فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: «مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟ » فَقَالَ: [ص:125] يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، وَلَا مَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ» ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَا النَّاسُ إِلَيْهِ الْعَطَشَ، فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا - وَكَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ - وَدَعَا عَلِيًّا رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَقَالَ: «اذْهَبَا فَأَتَيَا بِالْمَاءِ»، فَانْطَلَقَا فَاسْتَقْبَلَتْهُمَا امْرَأَةٌ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ، أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، وَقَالَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ فَقَالَتْ: عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ قَالَا لَهَا: انْطَلِقِي، قَالَتْ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالَا: إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الصَّابِي؟ قَالَا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ، فَانْطَلِقِي، وَجَاءَا بِهَا إِلَى النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ، أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ، وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا، وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ: أَنِ اسْتَقُوا وَاسْقُوا، قَالَ: فَسَقَى مَنْ شَاءَ، وَاسْتَسْقَى مَنْ شَاءَ، وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ: «اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ»، قَالَ: وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا، قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ، لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا حِينَ أُقْلِعَ، وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلْئًا مِنْهَا حِينَ ابْتُدِئَ فِيهَا، [ص:126] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْمَعُوا لَهَا طَعَامًا»، فَجَمَعَ لَهَا مِنْ تَمْرٍ وَعَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسَوِيقَةٍ، حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا، وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا، وَوَضَعُوا الثَّوْبَ الَّذِي فِيهِ الطَّعَامُ بَيْنَ يَدَيْهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعْلَمِينَ وَاللَّهِ مَا رَزَأْنَا مِنْ مَائِكِ شَيْئًا، وَلَكِنَّ اللَّهَ هُوَ الَّذِي سَقَانَا» فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَنْهُمْ، قَالُوا: مَا حَبَسَكِ يَا فُلَانَةُ؟ قَالَتِ: الْعَجَبُ، لَقِيَنِي رَجُلَانِ فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الصَّابِي، فَفَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا - الَّذِي قَدْ كَانَ - وَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ وَهَذِهِ - وَقَالَتْ بِأُصْبُعَيْهَا السَّبَّابَةُ الْوُسْطَى، فَرَفَعَتْهُمَا إِلَى السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدُ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَلَا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِمْ، قَالَتْ يَوْمًا لِقَوْمِهَا: مَا أَرَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ يَدَعُونَكُمْ إِلَّا عَمْدًا، فَهَلْ لَكُمْ فِي الْإِسْلَامِ؟ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ. [5: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ عِمْرَانُ بْنُ تَيْمٍ، مَاتَ وَهُوَ ابْنُ مِائَةٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً»

1302حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ جب رات کا آخری حصہ آیا تو ہمیں نیند آگئی اور مسافر کے نزدیک نیند سے زیادہ پیاری کوئی اور چیز نہیں ہوتی۔ ہمیں سورج کی پیش نے بیدار کیا فلاں، فلاں اور فلاں، بیدار ہوئے ابورجاء نامی راوی نے ان کا نام بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی ان کا نام بھول گئے پھر چوتھے بیدار ہونے والے شخص حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علی وسلم جب سویا کرتے تھے، تو آپ کو بیدار نہیں کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ آپ خود ہی بیدار ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے، ہم یہ نہیں جان سکتے تھے کہ نیند کے دوران آپ کےساتھ کیا صورت حال پیش آرہی ہے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیدار ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ان پر ہو اور انہوں نے وہ چیز دیکھی جو لوگوں کو پیش آئی ہے وہ بلند آواز کے مالک تھے۔ انہوں نے تکبیر کہی اور تکبیر کہتے ہوئے آواز کو بلند کیا۔ وہ مسلسل تکبیر کہتے رہے اور بلند آواز میں تکبیر کہتے رہے یہاں تک کہ ان کی آواز کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوگئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو لوگوں نے پیش آنے والی صورت حال کی شکایت آپ کے سامنے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں تم لوگ روانہ ہوجاؤ پھر آپ روانہ ہوئے تھوڑا آگے جانے کے بعد آپ سواری سے اترے پھر آپ نے وضو کے لئے پانی منگوایا وضو کیا نماز کے لئے اذان دی گئی۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ لوگوں کو نماز پڑھا کر فارغ ہوئے تو ایک شخص الگ موجود تھا، جس نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی تھی۔ آپ نے دریافت کیا: اے فلاں کیا بات ہے، تم نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہوگئی تھی، اور پانی موجود نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر مٹی استعمال کرنا لازم ہے وہ تمہارے لئے کفایت کرے گی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے لوگوں نے اپ کی خدمت میں پیاسے ہونے کی شکایت کی، تو آپ سواری سے نیچے اترتے اور فلاں کو بلایا رجاءنامی راوی نے ان کا نام بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی اسے بھول گئے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی بلایا اور فرمایا تم دونوں جاؤ اور پانی لے کر آؤ۔ دونوں حضرات روانہ ہوئے ان کا سامنا ایک عورت سے ہوا جو اپنے اونٹ پر دو مشکیزوں کے درمیان سوار تھی (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) ان دونوں حضرات نے اس سے دریافت کیا پانی کہاں ہے۔ اس نے جواب دیا: گزشتہ دن اسی وقت میں پانی کے پاس موجود تھی۔ ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں ( اس لئے میں اتنی دور سے پانی لے کر آئی ہوں) ان دونوں حضرات نے اس سے کہا تم چلو اس نے دریافت کیا: کہاں؟ ان دونوں حضرات نے جواب دیا: اللہ کے رسول کی طرف اس نے دریافت کیا: کیا یہ وہی صاحب ہیں، جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے، وہ بے دین ہیں ان دونوں صاحبان نے جواب دیا: یہ وہی ہیں، جو تم مراد لے رہی ہو تم چلو۔ دونوں حضرات اس عورت کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ لوگوں نے اس عورت کو اس کےاونٹ سے نیچے اتارا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا۔ آپ نے مشکیزوں کے منہ سے پانی انڈیلا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ کو بند کردیا۔ ان کے نیچے والے سوراخ کو کھول دیا۔ لوگوں میں اعلان کر دیا کہ وہ پانی حاصل کرلیں اور (جانوروں وغیرہ کو بھی) پانی پلائیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر جس نے چاہا اس نے پانی پلایا اور جس نے چاہا پانی پی لیا۔ سب سے آخر میں اس شخص کو دیا، جسے جنابت لاحق ہوئی تھی۔ پانی کا برتن دیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور اسے اپنے اوپر بہا لو۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت کھڑی دیکھتی رہی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اس میں سے جتنا بھی پانی نکلا اس کے بعد بھی ہمیں یوں محسوس ہوا تھا شاید وہ مشکیزے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس عورت کے لئے کھانے کا سامان اکٹھا کرو، تو اس عورت کے لئے عجوہ کھجوریں آٹا اور ستواکٹھے کئے گئے، یہان تک کہ لوگوں نے اس کے لئے بہت سا اناج اکٹھا کر لیا۔ لوگوں نے اسے ایک کپڑے میں رکھا اور اس عورت کو اس کے اونٹ پر سوار کرکے، وہ تھیلا اس کے آگے رکھ دیا جس میں اناج موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا تم یہ بات جانتی ہو اللہ کی قسم! ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کیا ہے، پھر وہ عورت اپنے اہل خانہ کے پاس آئی وہ تاخیر سے ان کے پاس پہنچی تھی، تو ان لوگوں نے دریافت کیا: اے فلانہ تمہیں کس چیز نے روک لیا تھا۔ وہ بولی بڑی حیران کن بات ہے۔ مجھے دو آدمی ملے وہ مجھے ساتھ لے گئے اور ان صاحب کے پاس لے گئے جنہیں بے دین کہا جاتا ہے، پھر انہوں نے میرے ساتھ اس، اس طرح کا سلوک کیا یعنی جو کچھ ہوا تھا( اس کو اس نے بیان کیا) اللہ کی قسم! یہاں سے لے کر یہاں تک کے درمیان موجود اس جگہ میں وہ سب سے بڑے جادوگر ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس عورت نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو پہلے آسمان کی طرف اٹھایا۔ پھر زمین کی طرف کیا (اور یہ بات کہی) یا پھر وہ واقعی اللہ کے سچے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد مسلمانوں نے اس کے آس پاس کے علاقوں میں موجود مشرکین پر حملے کئے لیکن اس بستی پر حملہ نہیں کیا جہاں وہ عورت رہتی تھی۔ ایک دن اس عورت نے اپنی قوم سے کہا میرا یہ خیال ہے، یہ لوگ تم لوگوں کو جان بوجھ کر چھوڑ رہے ہیں، تو کیا تم لوگ اسلام میں دلچسپی رکھتے ہو، تو لوگوں نے اس کی بات مان لی اور اسلام میں داخل ہوگئے۔ (امان ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابورجاء بن عطاردی کا نام عمران بن تیم ہے ان کا انتقال 120 سال کی عمر میں ہوا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبُو رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of tayammum · Hadith 1302

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ التَّمَتُّعُ · حديث 3927

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ كَانَ مِنْكُمْ قَدْ سَاقَ هَدْيًا، فَلْيُهِلَّ بِحَجٍّ مَعَ عُمْرَتِهِ ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا". قَالَتْ: فَحِضْتُ لَيْلَةَ عَرَفَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي حَجَّتِي؟ قَالَ: "امْتَشِطِي وَدَعِي الْعُمْرَةَ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ". قَالَتْ: فَحَجَجْتُ، فَبَعَثَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بكر فأعمرني مكان عمرتي التي تركتها1. [11:5]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حجتہ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ میں نے عمرے کا تلبیہ پڑھا میں قربانی کا جانور ساتھ نہیں لے جا سکی۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص قربانی کا جانور ساتھ لایا ہو اسے عمرے کے ہمراہ حج کاتلبیہ بھی پڑھنا چاہئے پھر وہ اس وقت تک احرام نہیں کھولے گا۔ جب تک وہ ان دونوں سے فارغ نہیں ہو جاتا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: عرفہ کی رات مجھے حیض آ گیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! اب میں اپنے حج کے بارے میں کیا کروں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اپنے بالوں میں کنگھی کر لو اور عمرے کو چھوڑ دو اور حج کا تلبیہ پڑھو۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے حج کر لیا۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبدالرحمٰن بن ابو بکر رضی اللہ عنہہ کو میرے ہمراہ بھیجا ۔ انہوں نے میرے اس عمرے کی جگہ مجھے عمرہ کروا یا جو رہ گیا تھا۔

فَحِضْتُ لَيْلَةَ عَرَفَةَ، فَقُلْتُ: ← خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ، ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door to enjoyment · Hadith 3927

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ مَا جَاءَ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى الله عليه وسلم واعتماره · حديث 3941

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَا: حدثنا شعبة، عن الحكم بن عتبة، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ أَوْ خَمْسٍ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فِي حَجَّتِهِ وَهُوَ غَضْبَانُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَغْضَبَكَ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُهُمْ بِأَمْرٍ وَهُمْ يَتَرَدَّدُونَ فِيهِ، وَلَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَا اشْتَرَيْتَهُ حَتَّى أَحِلُّ كَمَا حَلُّوا" 1. [11:5] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَلَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ حَتَّى أَحِلَّ" أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ مُتَمَتِّعًا في حجته، إذ لو كان متمتعا، لَاحَلَّ کَمَا حَلُّوْا ، وَلَمْ یَتَلَھَّفْ عَلٰی مَا فَاتَہُ مِنْ ذٰلِکَ حَیْثُ سَاقَ الْھَدْیَ وَاَمَّا الْاَخْبَارُ الَّتِی ذَکَرْنَا ھَا قَبْلَ التَّمَتُّعِ فَاِنَّھَا مِمَّا نَقُوْلُ فِیْ کُتُبِنَا : اِنَّ الْعَرَبَ تُنْسَبُ الْفِعْلَ اِلَی الْاٰمِرِ ، کَمَا تَنْسَبَہُ اِلَی الْفَاعِلِ ، فَلَمَّا اَذِنَ لَھُمْ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ التَّمَتُّعِ ، وَقَالَ : مَنْ اَھَلَّ بِعُمْرَۃٍ وَّلَمْ یَکُنْ سَاقَ الْھَدْیَ فَلْیَحِلَّ ، کَانَ فِیہِ اِبَاحَۃُ التَّمَتُّعِ لِمَنْ شَاءَ ، فَنُسِبَ ھٰذَا الْفِعْلُ اِلَی الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی سَبِیلِ الْاَمْرِ بِہٖ ، لَا اَنَّہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، کَانَ مُتَمَتِّعًا ، وَلِذٰلِکَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلصُّبَیِّ ، ابْنِ مَعْبَدٍ ، حَیْثُ اَخْبَرَہُ اَنَّہٗ اَھَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ ، فَقَالَ : ھُدِیثَ ل،سُنَّۃِ ، نَبِیِّکَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ ذوالحج کی چار تاریخ کو نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے یہ آپ کے حج کے موقع کی بات ہے۔ آپ غصے کے عالم میں تھے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ میں نےعرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! جو شخص آپ کو غصہ دلائے۔ اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کرے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تمہیں پتہ نہیں چلا۔ میں نے ان لوگوں کو ایک بات کا حکم دیا اور وہ لو گ اس بارے میں تردّد کا شکار ہو رہے ہیں مجھے بعد میں جس چیز کا خیال آیا، اگر پہلے آ جاتا، تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا، میں اسے خریدتا بھی نہیں، یہاں تک کہ میں بھی اب اسی طرح احرام کھول دیتا جس طرح ان لوگوں نے کھولنا ہے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا فرمان " مجھے بعد میں جس چیز کا خیال آیا اگر پہلے آ جاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لے آتا اور احرام کھول دیتا۔" یہ اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے اس حج میں حج تمتع نہیں کیا تھا کیونکہ اگر آپ نے حج تمتع کیا ہوتا تو آپ بھی اسی طرح احرام کھول دیتے جس طرح دیگر لوگوں نے کھول دیا تھا اور آپ اس چیز کے رہ جانے کا اظہار نہ کرتے جو آپ کے قربانی کا جانور ساتھ لے جانے کی وجہ سے رہ گئی تھی۔ جہاں تک ان روایات کا تعلق ہے، جنہیں ہم اس سے پہلے تمتع کے بارے میں ذکر کر چکے ہیں تو ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں عرب بعض اوقات کسی فعل کی نسبت حکم دینے والے کی طرف کر دیتے ہیں۔ جس طرح وہ فعل کی نسبت کرنے والے کی طرف کرتے ہیں تو جب نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو حج تمتع کرنے کی اجازت دی تو آپ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے عمرے کا تلبیہ پڑھا ہے اور وہ قربانی کا جانور ساتھ نہیں لایا وہ احرام کھول دے تو اس میں اس شخص کے لئے حج تمتع کو مباح قرار دیا گیا ، جو ایسا کرنا چاہتا ہے، تو اس فعل کی نسبت نبی اکرمﷺ کی طرف اس اعتبار سے کی کیونکہ آپ نے اس کا حکم دیا ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خود حج تمتع کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ نے صبی بن معبد سے یہ کہا تھا جب انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کو یہ بتایا تھا کہ اس نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا تھا: تمہاری رہنمائی تمہارے نبی کی سنت کی طرف کی گئی ہے۔

عَائِشَةَ ← ذَكْوَانَ، مَوْلَى عَائِشَةَ، ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الحكم بن عتبة ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Chapter What came during the Hajj and Umrah of the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 3941

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْهَدْيُ · حديث 3999

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُمْ كَانُوا حَاضِرِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، «يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ، فَمَنْ شَاءَ مِنَّا أَخَّرَ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ مدینہ منورہ میں موجود تھے نبی اکرم ﷺ نے قربانی کے جانور کو بھجوا دیا ،تو ہم میں سے جس شخص نے چاہا اس نے موخر کر دیا اور جس نے چاہا اس نے ترک کر دیا۔

أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The section of guidance · Hadith 3999

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْهَدْيُ · حديث 4000

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَشْعَرَ الْهَدْيَ فِي جَانِبِ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ أَمَاطَ الدَّمَ، وَقَلَّدَهُ نَعْلَيْهِ، [ص:313] ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءُ، أَحْرَمَ وَأَهَلَّ بِالْحَجِّ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب ذوالحلیفہ تشریف لائے، تو آپ نے قر بانی کے جانور کی کوہا ن کے بائیں طر نشان لگا یا پھر آپ ﷺ نے خون کو صاف کیا اور اس جانور کے گلے میں جوتو ں کا ہار پہنا دیا پھر آپ ﷺ اپنی سواری پر سوار ہوئے جب وہ سواری "بیداء" کے مقام پر کھڑی ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے احرام شروع کیا اور حج کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔

أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ بِالْبَصْرَةِ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The section of guidance · Hadith 4000

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ الْهَدْيُ · حديث 4001

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، [ص:314] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَشْعَرَ الْهَدْيَ فِي جَانِبِ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ أَمَاطَ الدَّمَ، وَقَلَّدَهُ نَعْلَيْهِ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءُ أَحْرَمَ وَأَهَلَّ بِالْحَجِّ»

حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب ذو الحلیفہ پہنچے تو آپ ﷺ نے قر بانی کے جانور کی کوہان کی دائیں طرف نشان لگایا آپ ﷺ نے اس کے خون کو صاف کیا اسے جوتوں کا ہار پہنا یا پھر آپ ﷺ اپنی سواری پر سوار ہوئے جب بیداء کے مقام پر آپ ﷺ کی سواری کھڑی ہوئی تو آپ ﷺ نے احرام باندھا اور حج کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔

أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، [ص:314] ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The section of guidance · Hadith 4001

chevron_left Previous
1…282930…579
Next chevron_right