بلوغ المرام · كتاب الصيام ‹ باب · حديث 549
وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: هلكت يا رسول الله قال: «وما اهلكك؟» قال: وقعت على امراتي في رمضان فقال: «هل تجد ما تعتق رقبة؟» قال: لا، قال: «فهل تستطيع ان تصوم شهرين متتابعين؟» قال: لا، قال: «فهل تجد ما تطعم ستين مسكينا؟» قال: لا، ثم جلس فاتي النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعرق فيه تمر فقال:«تصدق بهذا» فقال: اعلى افقر منا؟ فما بين لابتيها اهل بيت احوج منا فضحك النبي صلى الله عليه وآله وسلم حتى بدت انيابه ثم قال: «اذهب فاطعمه اهلك» . رواه السبعة واللفظ لمسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کس چیز نے تجھے ہلاک کیا؟“ اس نے کہا میں رمضان میں اپنی عورت سے مباشرت کر بیٹھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تجھ میں اتنی طاقت ہے کہ ایک گردن کو آزاد کر دے؟“ اس نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ دو ماہ کے متواتر روزے رکھے؟“ اس نے کہا، نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تیرے پاس اتنا مال ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکے؟“ اس نے کہا نہیں۔ پھر وہ بیٹھ گیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ان کو خیرات کر دو۔“ اس نے کہا کیا اپنے سے زیادہ محتاج پر (خیرات کروں)؟ کیونکہ دو سنگلاخ پہاڑوں (مدینہ) کے مابین کوئی گھر والا ہم سے زیادہ محتاج نہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جاؤ اسے اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔“ اسے ساتوں نے روایت کیا ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔
جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: هلكت ← وعن ابي هريرة
Bulugh Al Maram · The Book of Fasting › Chapter · Hadith 549
