Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صحیفہ ہمام بن منبہ

Saheefah Hamam bin Munabah

by أبو عقبة همام بن منبه بن كامل بن سيج اليماني الصنعاني الأبناوي

139 Hadith2 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

All Chapters
1. sporadic
    0. Chapter

صحیفہ ہمام بن منبہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 121

(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إذا قلت للناس انصتوا وهم يتكلمون، فقد لغوت على نفسك يعني يوم الجمعة" .

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے روز (دورانِ خطبہ) لوگوں کو تیرا یہ کہنا ”چپ رہو“ جب کہ وہ باہم گفتگو کر رہے ہوں، ایک فضول اور لغو بات ہے۔“

Hadith 121

صحیفہ ہمام بن منبہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 122

(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " انا اولى الناس بالمؤمنين في كتاب الله، فايكم ترك دينا او ضيعة، فادعوني فإني وليه، وايكم ما ترك مالا، فليؤثر بماله عصبته من كان" .

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتاب اللہ کے مطابق دوسرے لوگوں کی نسبت میں اہل ایمان کا زیادہ قریبی ہوں، پس تم میں سے جو کوئی قرض یا عیال چھوڑ کر مرے، تو مجھے بلاؤ میں ان کی کفالت کروں گا۔ اور جو کوئی مال چھوڑ کر مرا، تو وہ (ورثہ میں) اپنے ورثاء کو ترجیح دے گا، وہ جو بھی ہوں۔“

Hadith 122

صحیفہ ہمام بن منبہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 123

(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يقل احدكم: اللهم اغفر لي إن شئت , او ارحمني إن شئت , او ارزقني إن شئت , ليعزم المسالة، إنه يفعل ما يشاء لا مكره له" .

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اس انداز سے دعا نہ کرے کہ ”اے اللہ! اگر تو چاہے مجھے بخش دے، اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما، یا اگر تو چاہے تو مجھے رزق دے۔“ بلکہ وہ پورے یقین کے ساتھ مانگے کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کر گزرتا ہے، اس پر زبردستی کرنے والا کوئی نہیں۔“

Hadith 123

صحیفہ ہمام بن منبہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 124

(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " غزا نبي من الانبياء، فقال للقوم: لا يتبعني رجل قد كان ملك بضع امراة يريد ان يبني بها ولما يبني، ولا آخر بنى بناء له ولما يرفع سقفها، ولا آخر قد اشترى غنما او خلفات وهو ينتظر ولادها، فغزا فدنا القرية حين صلى العصر او قريبا من ذلك، فقال للشمس: انت مامورة وانا مامور، اللهم احبسها علي شيئا، فحبست عليه حتى فتح الله عليه، فجمعوا ما غنموا، فاقبلت النار لتاكله فابت ان تطعمه، فقال: فيكم غلول، فليبايعني من كل قبيلة رجل، فبايعوه فلصقت يد رجل بيده فقال: فيكم الغلول، فلتبايعني قبيلته، فبايعته قبيلته فلصق يد رجلين او ثلاثة بيده، فقال: فيكم الغلول، انتم غللتم، قال: فاخرجوا له مثل راس بقرة من ذهب فوضعوه في المال وهو بالصعيد فاقبلت النار فاكلته، قال: فلم تحل الغنائم لاحد من قبلنا , ذلك بان الله راى ضعفنا وعجزنا فطيبها لنا" .

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(گذشتہ) انبیآء علیھم السلام میں سے ایک نبی نے لڑائی کی تیاری کی اور انہوں نے قوم سے کہا: ایسا شخص میری اتباع نہ کرے جس نے شادی کی ہے اور وہ اپنی بیوی سے شب زفاف گزارنے کا متمنی ہو۔ لیکن ابھی اپنی بیوی سے خلوت نشین نہیں ہوا۔ اور نہ وہ شخص میری پیروی کرے جس نے اپنا مکان تعمیر کیا ہے لیکن اس پر چھت نہیں چڑھائی اور نہ وہ شخص چلے جس نے گابھن بکریاں اور گابھن اونٹنیاں خریدی ہیں اور وہ ان کے بچے پیدا ہونے کا منتظر ہے، پھر اس نبی نے جنگ لڑی نماز عصر کے وقت یا عصر کے قریب اس بستی میں پہنچے تو اس نبی علیہ السلام نے سورج سے کہا: ”تو بھی امرِ الٰہی کا پابند ہے اور میں بھی امرِ الٰہی کا پابند ہوں۔ (اس کے بعد اللہ کے حضور دعا کی) اے اللہ! اس سورج کو کچھ وقت میرے خاطر روک دے۔ پھر سورج روک دیا گیا، حتٰی کہ اللہ نے انہیں فتح یاب فرمایا، پھر لوگوں نے مالِ غنیمت جمع کیا (جب جمع کر چکے تو) پھر اسے لقمہ (جلانے) کے لیے آگ آئی، لیکن اس نے لقمہ (جلانے) بنانے (کھانے) سے انکار کر دیا۔ اس پر اس (نبی علیہ السلام) نے کہا: تم میں سے کسی آدمی نے (مال غنیمت) میں خیانت کی ہے۔ لہٰذا ہر قبیلے کا ایک ایک آدمی میرے ہاتھ پر بیعت کرے، پھر جب سلسلہ بیعت شروع ہوا۔ تو ایک آدمی کا ہاتھ اس نبی (علیہ السلام) کے ہاتھ سے چمٹ گیا۔ تو نبی علیہ السلام نے فرمایا: خیانت کرنے والا آدمی تمہارے ہی قبیلہ میں موجود ہے، لہٰذا اب تمہارا پورا قبیلہ میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔ چنانچہ انہوں نے بیعت کی اور پھر دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ نبی علیہ السلام کے ہاتھ سے چمٹ گئے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا: خیانت تمہارے قبیلہ والوں نے کی ہے۔ آخر کار وہ گائے کے سر کے برابر سونا نکال لائے (جو مال غنیمت میں سے چرا لیا گیا تھا) اور اسے مال غنیمت میں رکھ دیا، پھر آگ آئی اور اس مال کو لقمہ بنا لیا۔“ (آخر میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم سے پہلے لوگوں کے لیے غنیمت کا مال جائز نہیں تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عاجزی کے پیشِ نظر اس مال کو ہمارے لیے جائز بنا دیا۔“

Hadith 124

صحیفہ ہمام بن منبہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 125

(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " بينما انا نائم، رايت اني انزع على حوض اسقي الناس، فاتاني ابو بكر فاخذ الدلو من يدي ليريحني، فنزع دلوين وفي نزعه ضعف والله يغفر له، قال: فاتاني عمر بن الخطاب فاخذها منه، فلم ينزع رجل نزعه حتى ولى الناس والحوض ينفجر" .

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مرتبہ میں سو رہا تھا، میں نے خواب دیکھا کہ میں حوض سے پانی کھینچ کر لوگوں کو پلا رہا ہوں، پھر ابو بکر میرے پاس آئے اور مجھے راحت پہنچانے کے لیے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا، اور دو ڈول پانی نکالا، اور ان کے پانی نکالنے میں کمزوری تھی۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میرے پاس عمر بن خطاب آئے اور وہ ڈول ان سے لے لیا اور ان کے پانی نکالنے میں ان جیسا کوئی دوسرا آدمی ڈول نہ نکال سکا، حتیٰ کہ لوگ سیراب ہو کر چلے گئے اور حوض لبالب بہہ رہا تھا۔“

Hadith 125

صحیفہ ہمام بن منبہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 126

(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا جور كرمان قوما من الاعاجم حمر الوجوه فطس الانوف صغار الاعين , كان وجوههم المجان المطرقة" .

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت تب تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ”جور کرمان“ سے قتال نہ کر لو گے، وہ ایک عجمی قوم ہے۔ ان کے چہرے سرخ، آنکھیں چھوٹی اور ناک چپٹی ہو گی۔ ان کے چہرے ایسے ہوں گے جیسے کوٹی ہوئی ڈھالیں ہیں۔“

Hadith 126

صحیفہ ہمام بن منبہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 127

(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما نعالهم الشعر" .

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت تب تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کرو جس کے جوتے بال کے ہوں گے۔“

Hadith 127

صحیفہ ہمام بن منبہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 128

(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الخيلاء والفخر في اهل الخيل والإبل , والسكينة في اهل الغنم" .

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑے اور اونٹ والوں میں فخر و غرور ہوتا ہے اور بکریاں چرانے والوں میں سنجیدگی اور وقار ہے۔“

Hadith 128

صحیفہ ہمام بن منبہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 129

(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الناس تبع لقريش في هذه الشان اراه يعني الإمارة مسلمهم تبع لمسلمهم وكافرهم تبع لكافرهم" .

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سمجھتا ہوں کہ لوگ اس معاملہ یعنی امارت میں قریش کے تابع ہیں۔ مسلمان، مسلمان قریشیوں کے اور کافر، کافر قریشیوں کے تابع ہیں۔“

Hadith 129

صحیفہ ہمام بن منبہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 130

(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " خير نساء ركبن الإبل صالح نساء قريش , احناه على ولد في صغره وارعاه على زوج في ذات يده" .

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ پر سفر کرنے والی عورتوں میں بہتریں قریش کی عورتیں ہیں، جو اپنے بچوں پر کم سنی میں انتہائی شفیق اور اپنے شوہر کے مال کی بہت زیادہ حفاظت کرنے والی ہیں۔“

Hadith 130

صحیفہ ہمام بن منبہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 131

(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " العين حق، ونهي رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الوشم." .

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نظر کا لگ جانا حق ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وشم یعنی گود کر سرمہ بھروانے سے منع فرمایا۔“

Hadith 131

صحیفہ ہمام بن منبہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 132

(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يزال احدكم في صلاة ما كانت تحبسه، ولا يمنعه ان يخرج إلا انتظارها" .

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ہمیشہ نماز میں رہتا ہے جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے، اور نماز سے نکلنے سے اس کے انتظار کے سوا کوئی اور امر مانع نہ ہو۔“

Hadith 132

chevron_left Previous
1…9101112
Next chevron_right