المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ الأُخْرَى كَانَ فِي صَلاةٍ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْهَا · حديث 194
194 - حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بن الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بن إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بن جَعْفَرِ بن الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بن الزُّبَيْرِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا إِلَى مُؤْتَةَ فِي جُمَادَى الأُولَى مِنْ سَنَةِ ثَمَانٍ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بن حَارِثَةَ، فَقَالَ لَهُمْ:"إِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ، فَجَعْفَرُ بن أبِي طَالبٍ عَلَى النَّاسِ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفرٌ، فَعَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ عَلَى النَّاسِ". فَتَجَهَّزَ النَّاسُ، ثُمَّ تَهَيَّأُوا لِلْخُرُوجِ وَهُمْ ثَلاثَةُ آلافٍ، فَلَمَّا حَضَرَ خُرُوجُهُمْ، وَدَّعَ النَّاسُ أُمَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَلَّمُوا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا وُدِّعَ عَبْدُ اللَّهِ مَعَ مَنْ وُدِّعَ بَكَى، فَقِيلَ لَهُ: مَا يَبْكِيكَ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ؟ قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا هِيَ حُبُّ الدُّنْيَا وَضَنًّا بِهَا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْرَأُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ يَذْكُرُ فِيهَا النَّارَ: ?وَإِنْ مِنكُمْ إِلا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا?[مريم آية 71]. فَلَسْتُ أَدْرِي كَيْفَ بِالصَّدْرِ بَعْدِ الوُرُودِ. فَقَالَ لَهُمُ الْمُسْلِمُونَ: صَحِبَكُمُ اللَّهُ وَدَفَعَ عَنْكُمْ، وَرَدَّكُمْ إِلَيْنَا صَالِحِينَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ: لَكِنَّنِي أَسْأَلُ الرَّحْمَنَ مَغْفِرَةً …… وَضَرْبَةً ذَاتَ فَرْعٍ تَقْذِفُ الزَّبَدَا أَوْ طَعْنَةً بِيَدَيْ حَرَّانَ مُجْهِزَةً …… بِحَرْبَةٍ تَنْفُذُ الأَحْشَاءَ وَالْكَبِدَا حَتَّى يَقُولُوا إِذَا مَرُّوا عَلَى جَدَثِي … أَرْشَدَهُ اللَّهُ مِنْ غَازٍ وَقَدْ رَشَدَا ثُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ تَهَيَّأُوا لِلْخُرُوجِ، فَأَتَى عَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَدِّعُهُ، فَقَالَ:@ ثَبَّتَ اللَّهُ مَا آتَاكَ مِنْ حُسْنٍ …… تَثْبِيتَ مُوسَى وَنَصْرًا كَالَّذِي نُصِرُوا إِنِّي تَفَرَّسْتُ فِيكَ الْخَيْرَ نَافِلَهُ …… فِرَاسَةً خَالَفْتُهُمْ فِي الَّذِي نَظَرُوا أَنْتَ الرَّسُولُ فَمَنْ يُحْرَمْ نَوَافِلُهُ …وَالْوَجْهُ فِيهِ فَقَدْ أَوْدَى بِهِ الْقَدَرُ ثُمَّ خَرَجَ الْقَوْمُ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشَيِّعُهُمْ، حَتَّى إِذَا وَدَّعَهُمْ وَانْصَرَفَ عَنْهُمْ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ: خَلِّفِ السَّلامَ عَلَى امْرِئٍ وَدَّعْتُهُ …فِي النَّخْلِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ وَكِليلٍ ثُمَّ مَضُوا، حَتَّى نَزَلُوا بِمَعَانَ مِنْ أَرْضِ الشَّامِ، فَبَلَغَ النَّاسَ أَنَّ هِرَقْلَ قَدْ نَزَلَ مَآبَ مِنْ أَرْضِ الْبَلْقَاءِ فِي مَائَةِ أَلْفٍ مِنَ الرُّومِ، وَقَدِ اجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ الْمُسْتَعْرِبَةُ مِنْ لَخْمٍ، وَجُذَامٍ، وَبَلْقَينَ، وَبَهْرَامٍ، وَبَلِيٍّ فِي مَائَةِ أَلْفٍ مِنْهُمْ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ يَلِي أَخْذَ رَايَتِهِ، يُقَالَ لَهُ: مَالِكُ بنزِنَانَةَ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ، أَقَامُوا بِمَعَانَ لَيْلَتَيْنِ يَنْظُرُونَ فِي أَمْرِهِمْ، وَقَالُوا: نَكْتُبُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُخْبِرُهُ بِعَدِدِ عَدُوِّنَا، فَإِمَّا أَنْ يُمِدَّنَا بِرِجَالٍ، وَإِمَّا أَنْ يَأْمُرَنَا بِأَمْرِهِ فَنَمْضِي لَهُ، فَشَجَّعَ عَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ النَّاسَ، وَقَالَ: يَا قَوْمُ، وَاللَّهِ إِنَّ الَّذِي تَكْرَهُونَ لِلَّذِي خَرَجْتُمْ لَهُ تَطْلُبُونَ الشَّهَادَةَ، وَمَا نُقَاتِلُ النَّاسَ بِعَدَدٍ، وَلا قُوَّةٍ، وَلا كَثْرَةٍ، إِنَّمَا نُقَاتِلُهُمْ بِهَذَا الدِّينِ الَّذِي أَكْرَمَنَا اللَّهُ بِهِ، فَانْطَلِقُوا فَإِنَّمَا هِيَ إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ، إِمَّا ظُهُورٌ، وَإِمَّا شَهَادَةٌ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بن رَوَاحَةَ فِي مَقَامِهِمْ ذَلِكَ ).@
حضرت عروہ بیان کرتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمادی الاولی آٹھ ہجری میں موتہ کی طرف لشکر روانہ فرمایا اور ان پر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو عامل مقرر کیا اور فرمایا :اگر زید شہید ہو جائیں تو حضرت جعفر بن ابی طالب عامل ہو ں گے اور اگر حضرت جعفر شہید ہو جائیں تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ عامل ہوں گے۔لوگوں نے سامان باندھا اور نکلنے کے لیے تیار ہو گئے ۔ان کی تعداد تین ہزار تھی اور جب نکلنے کا وقت آیا تو لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امیروں کو الوداع کیا اور سلامتی کی دعائیں دیں ۔جب حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو الوداع کرنے لگے تو آپ رونے لگے ۔پوچھا گیا کہ آپ کو کس بات نے رولا دیا ہے ؟فرمایا :اللہ کی قسم ! مجھے دنیا سے محبت نہیں اور نہ ہی تم سے عشق ہے لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا :"اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو جہنم پر سے نہ گزرے اور یہ تیرے رب کا پکا فیصلہ ہے "(سورۃ مریم ،آیت :71)تو میں نہیں جانتا کہ جہنم میں جانے کے بعد واپس کیسے لوٹوں گا۔مسلمانوں نے کہا :اللہ تمھارے ساتھ رہے ،وہ تمھاری حفاظت فرمائے اور تمہیں تندرستی و سلامتی سے واپس ہمارے پاس لوٹائے ۔اس موقع پر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے:لیکن میں رحمنٰ سے مغفرت کا سوال کرتا ہوں اور ایسی ضرب کا سوال کرتا ہوں جو وسعت والی ہو اور جھاگ پھینکتی ہو ۔یا ایسے نیزے کے وار کا سوال کرتا ہوں جو خون کے پیاسے کافروں کے دونوں ہاتھوں سے لگایا گیا جو نیزے پر پورا زور لگائے اور انتڑیوں اور جگر سے پار ہو جائے ۔حتیٰ کہ اس وقت یہ بات کہی جائے جب لوگ میری قبر پر سے گزریں ،اللہ نے تجھے صحیح راستہ دکھایا اور تو ہدایت یافتہ ہو گیا ۔پھر قوم جانے کیلئے تیار ہو گئی تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو الوداع کہنے کیلئے حاضر ہوئے تو یہ اشعار عرض کئے :اللہ نے ان خوبیوں کو مضبوط کر دیا جو آپ کو عطاکیں جس طرح موسیٰ علیہ السلام کی خوبیوں کو ثبت فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدد سے نوازا جیسے پہلے انبیاء کرام کی مدد کی گئی تھی ۔میں نے فراست سے یہ بات جان لی ہےکہ آپ میں جو بھلائیاں ہیں وہ اللہ کی عطا کی ہوئی ہیں ،یہ فراست اس کے خلاف ہےجو کافر آپ کے بارے میں سوچتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور جو شخص اللہ کی عطا کردہ عنایتوں سے محروم رہا تو اس کی قسمت نے اسے کوتاہ دست رکھا ہے ۔پھر قوم نکل کھڑی ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ حوصلہ بڑھانے کیلئے نکلے حتیٰ کہ جب انہیں وداع کیا اور واپس پلٹے تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے یہ شعر کہا :اللہ تعالیٰ کا سلام ہو اس شخص (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم )پر جس غیر آباد نخلستان سے الوداع ہوا ۔پھر وہ لوگ چلے گئے حتیٰ کہ شام کی سرزمین میں معان کے مقام پر اترے ۔یہاں لوگوں کو خبر ملی کہ ہرقل اپنی ایک لاکھ فوج لے کر بلقاء کے علاقے مآب میں ٹھہرا ہوا ہے ۔اور لخم ،جذام ،بلقین ،بہرام اور بلی کے ایک لاکھ عرب اس کی فوج میں شامل ہیں ۔اور ا ن پر بلی کا شخص امیر مقرر ہے جس نے اس کا جھنڈا تھاما ہوا تھا اس کانام مالک بن زانہ ہے۔جب مسلمانوں کو یہ خبر پہنچی تو وہ دو راتیں معان کے علاقے میں رکے رہے تاکہ اپنے معاملے میں غور کرسکیں انہوں نے سوچا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھ کر اپنے دشمنوں کی دعداد کے بارے میں بتا دیتے ہیں تاکہ یا تو وہ ہمیں سپاہیوں کی مدد بھیجیں یا ہمیں کوئی حکم دیں جس پر ہم عمل کریں گے۔تو حضرت عبداللہ بن رواحہ نے لوگوں کو جوش دلایا اور کہا :اے میری قوم کے جوانو! اللہ کی قسم جسے تم ناپسند کررہے ہو یہ وہی ہے جسکو پانے کیلئے تم نکلے تھے یعنی شہادت ،اور ہم لوگوں سے تعداد کے ساتھ نہیں لڑتے ،نہ ہی قوت اور کثرت کی بنا پر لڑتے ہیں بلکہ ہم دشمن سے صرف اس دین کی خاطر لڑتے ہیں جس سے اللہ نے ہمیں عزت بخشی ہے ۔پس تم چلو دو میں سے ایک بھلائی تو ملے گی ہی یا تو غلبہ نصیب ہو گا یا شہادت عطا ہو گی ۔اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے ان کے مقام میں یہ بات کی تھی ۔
عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 194
