حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: " تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی، وہ ایمان کی حلاوت کو پا لے گا، یہ کہ اللہ اور اس کا رسول ، اس شخص کے نزدیک ان دونوں کے علاوہ ، ہر ایک سے زیادہ محبوب ہوں ، یہ کہ وہ کسی بندے کے ساتھ محبت رکھتا ہو، اور وہ اس (بندے ) کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے محبت رکھتا ہو، اور یہ کہ آگ میں ڈالا جانا اس کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو ، کہ وہ کفر کی طرف واپس چلا جائے، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کفر سے بچا لیا ہو"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے، جس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔
اَبِیْ اُمَامَۃَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Section of it] · Hadith 301
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الصِّدْقَ مِنَ الْإِيمَانِ] · حديث 330
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " کفر اور ایمان کسی ایک شخص کے دل میں اکٹھے نہیں ہو سکتے ، اور سچ اور جھوٹ اکٹھے نہیں ہو سکتے ہیں ، اور خیانت اور امانت دونوں ( کسی ایک شخص کے دل میں ( اکٹھے نہیں ہو سکتے ہیں : ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter What came that truthfulness is from faith] · Hadith 330
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : " لا الہ الا اللہ پڑھنے والوں سے رکے رہو ! اور کسی گناہ کی وجہ سے انہیں کافر قرار نہ دو ! جو شخص لا الہ الا اللہ پڑھنے والوں کو کافر قرار دیتا ہے وہ خود کفر کے زیادہ قریب ہوتا ہے "۔ یہ روایت امام طبرانی معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے صحاک بن حمران نے علی بن زید سے نقل کیا ہے ، اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے
ابْنِ عُمَرَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter No one of the people of the Qiblah shall make an atonement of a sin.] · Hadith 402
یزید قاشی ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : میں نے کہا: اے ابو حمزہ ! کچھ لوگ ہمارے خلف کفر اور شرک کی گواہی دیتے ہیں ، تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ خلق اور خلیفہ کے بدترین لوگ ہیں ۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ، جسے اکثر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابو احمد بن عدی نے اسے ثقہ کہا ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، صالح روایات نقل کی ہیں اور مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter No one of the people of the Qiblah shall make an atonement of a sin.] · Hadith 407
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ فِي الْمُنَافِقِينَ] · حديث 439
سعد بن حذیفہ بیان کرتے ہیں : جنگ صفین کے موقع پر ، حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : انہوں نے ان لوگوں کا معاملہ اور صلح کا معاملہ ذکر کرتے ہوئے ، یہ بات ارشاد فرمائی : اللہ کی قسم ! یہ لوگ مسلمان نہیں ہوئے ، انہوں نے اسلام ظاہر کیا اور کفر کو پوشیدہ رکھا، جب انہیں اس حوالے سے مددگار مل گئے ، تو انہوں نے اسے ظاہر کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، میں نے کسی کو سعد بن حذیفہ نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے : " ( ( قیامت کے دن ) ہر شخص کو اس کی خواہش کے مطابق اٹھایا جائے گا، جس شخص کی خواہش کفر ہو گی ، وہ کافروں کے ساتھ ہوگا، اور اس نے ( دنیا میں ظاہری طور پر مسلمانوں کی طرح کا ) جو عمل کیا ہوگا، وہ اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا" ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے " صحیح " میں صرف یہ الفاظ منقول ہیں : " ہر شخص کو اس ( عقیدے ) کے مطابق زندہ کیا جائے گا، جس ( عقیدہ ) پر وہ مرا تھا " ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
جَابِرٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › A door shoving each soul in its air] · Hadith 442
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ] ‹ [بَابُ التَّعْزِيرِ بِالْكَلَامِ] · حديث 10693
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:)ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ہمارے ساتھ کچھ کھجوریں تھیں صفوان نے مجھ سے کہا یہ کھجوریں مجھے کھانے کے لئے دو تو حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یہ تھوڑی کھجوریں ہیں اور مجھے اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ یہ لوگوں کے لیے منگوائی جائیں گی جب وہ لوگ پڑاؤ کریں گے تو ان کے ساتھ تم بھی کھا لینا انہوں نے کہا: تم مجھے کھانے کے لئے دو کیونکہ بھوک مجھے ہلاک کر دے گی ان کی یہ حالت ہو چکی تھی لیکن میں نے اس حوالے سے ان کی بات کا انکار کر دیا میں اس سواری کو پہچانتا تھا، جس میں کھجوریں موجود تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا تم لوگ صفوان سے کہو کہ وہ جائے اس دن حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مختلف اصحاب کے پاس جاتے رہے پھر وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھی آئے اور انہوں نے کہا: میں کہاں جاؤں کیا کفر کی طرف جاؤں؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس بارے میں آپ کو بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ صفوان سے یہ کہو کہ وہ ساتھ شامل ہو جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
سَعْدٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hudud and Diyat al-Diyyat] › [Chapter of discretionary speech] · Hadith 10693
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً} [البقرة: 213]. · حديث 10857
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں (ارشاد باری تعالیٰ ہے:)’’پہلے لوگ ایک امت تھے‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ماتے ہیں :اس سے مراد یہ ہے : پہلے سب لوگ اسلام کے پیروکار تھے ۔ کلبی فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے: پہلے سب لوگ کفر پر عمل پیرا تھے۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ثعلبہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت اسد بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور یہودیوں سے تعلق رکھنے والے حضرات نے اسلام قبول کر لیا وہ ایمان لے آئے انہوں نے تصدیق کر دی اور اسلام میں رغبت ظاہر کی تو یہودیوں کے علماء نے یہ کہا: یہ اہل کفر ہیں ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو لوگ بھی ایمان لائے اور جنہوں نے ان کی پیروی کی وہ ہمارے برے لوگ تھے اگر وہ ہمارے بہترین لوگوں میں سے ہوتے تو اپنے آباؤاجداد کا دین ترک نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ’’اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے لوگ برابر نہیں ہیں‘‘۔ یہ آیت یہاں سے لے کر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک ہے :’’ نیک لوگوں میں سے‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں آپ نے فرمایا :’’اے اللہ ! میں اس بازار کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں کفر اور فسق سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ اس نوعیت سے متعلق احادیث اذکار سے متعلق باب میں آگے آئیں گی اگر اللہ نے چاہا۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › [Chapter of what he says when he enters the market] · Hadith 6334
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَذْكَارِ] ‹ بَابُ مَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ] · حديث 17176
حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:’’ یہ معاملہ ضرور وہاں تک پہنچے گا‘ جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں‘ اور اللہ تعالیٰ کوئی بھی کچا یا پکا گھر نہیں چھوڑے گا‘ مگر یہ کہ اس میں اس دین کو داخل کر دے گا‘ خواہ کسی کو عزت حاصل ہو‘ یا کسی کو ذلت حاصل ہو‘ عزت والا وہ ہو گا‘ جسے اللہ تعالیٰ اسلام کے ذریعے عزت عطا کرے‘ اور ذلت والا وہ ہو گا‘ جسے اللہ تعالیٰ کفر کے ذریعے ذلیل رکھے گا‘‘۔ حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے خود اپنے خاندان میں یہ بات جان لی‘ اُن میں سے جو لوگ مسلمان ہوئے تھے انہیں بھلائی شرف اور عزت نصیب ہوا‘ اور جو کافر رہے تھے‘ انیں ذلت‘ ہلکا پن اور جزیہ دینا نصیب ہوا۔یہ روایت امام احمد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے‘ اس سے پہلے یہ جہاد اور مغازی سے متعلق کتاب میں گزر چکی ہے۔
تَمِيمٍ الدَّارِيِّ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter of his mission, may God’s prayers and peace be upon him, reach every one] · Hadith 13964
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَحْكَامِ] ‹ [بَابٌ فِي الرِّشَا] · حديث 7031
مسروق بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک شخص نے ان سے دریافت کیا:حرام کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: فیصلہ دیتے ہوئے رشوت لینا، انہوں نے فرمایا: یہ کفر ہے ،پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی:’’اور جوشخص اس کے مطابق فیصلہ نہیں دیتا، جواللہ نے نازل کیا ہے، تو یہی لوگ کافر ہیں‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نےنقل کی ہے، امام ابویعلیٰ کے استادمحمد بن عثمان بن عمر سے میں واقف نہیں ہوں۔
الرشا في الحكم ← له رجل ما السحت ← كنت جالسا عند عبد الله ← مَسْرُوقٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Rulings] › [Door in the sprinkler] · Hadith 7031
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ [بَابٌ فِي أَسْمَائِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 14061
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں احمد ہوں‘ اور میں بندہ ہوں‘ اور میں وہ حاشر ہوں کہ لوگوں کا حشر‘ میرے قدموں میں کیا جائے گا‘ اور میں مٹانے والا ہوں اللہ تعالیٰ میرے ذریعے کفر کو مٹا دے گا‘ جب قیامت کا دن آئے گا‘ تو ”لواء الحمد‘‘ میرے پاس ہو گا اور ’’مرسلین‘ کا پیشوا ہوؤں گا اور ان کا شفاعت کرنے والا ہوؤں گا“۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی عروہ بن مروان ہے‘ اس کے بارے میں کہا گیا ہے: وہ قوی نہیں ہے‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter in his names, may God bless him and grant him peace] · Hadith 14061
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ} [المائدة: 62] · حديث 10974
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ان سے لفظ ’’سحت‘‘ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: رشوت لینا ان سے دریافت کیا گیا عدالتی فیصلہ کر تے ہوئے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ تو کفر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے شریک کی سری کے حوالے سے ابو ضحیٰ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور سری نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ اور جولوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں دیتے ہیں تو یہی لوگ کافر ہیں‘‘۔ (اور پھر فرمایا: ’’ یہی لوگ ظالم ہیں ‘‘۔ اور پھر فرمایا: ’ ’’یہی لوگ فاسق ہیں‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات یہودیوں کے دو گروہوں کے بارے میں نازل کی تھیں زمانہ جاہلیت میں ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر غالب آ گیا پھر ان کے درمیان آپس میں یہ طے ہوا اور اس بات پر صلح ہوئی کہ غالب گروہ جس مقتول کو قتل کرے گا تو اس کی دیت پچاس وسق ہو گی اور مغلوب گروہ جس مقتول کو قتل کرے گا اس کی دیت ایک سو وسق ہو گی وہ لوگ اس چیز پر کار بند رہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو دونوں گروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری پر اسی صورت حال پر تھے اور نبی اکرم کو ابھی ریاستی طور پر غلبہ حاصل نہیں ہوا تھا وہ لوگ صلح کا وقت گزار ہے تھے اسی دوران کمتر گروہ کے ایک شخص نے غالب گروہ کے ایک شخص قتل کر دیا تو غالب گروہ نے کمتر گروہ کو یہ پیغام بھیجا کہ تم ایک سو وسق ہماری طرف بھجو ا دو تو کمزور گروہ نے کہا: کیا اس میں کبھی کوئی بھلائی ہوسکتی ہے جبکہ دونوں طرف کے لوگوں کا دین ایک ہے دونوں کا نسب ایک ہے دونوں کا شہر ایک ہے تو ان میں سے کسی ایک کی دیت دوسرے کی دیت کا نصف ہو گی ہم نے تو تمہیں یہ چیز اس لئے دی تھی کیونکہ ہم تم سے بچنا چاہ رہے تھے اور تم سے خوف زدہ تھے اور جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں تو ہم تمہیں یہ ادائیگی نہیں کر لیں گے ان گروہوں کے درمیان جنگ بھٹرکنے والی تھی کہ ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ اپنے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ثالث بنا لیتے ہیں پھر غالب گروہ نے یہ بات ذکر کی اور کہا: اللہ کی قسم! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہاری طرف سے جو انہیں دیتے ہیں اس کا دگنا ان لوگوں کی طرف سے تمہیں نہیں دیں گے اور ان لوگوں نے یہ بات ٹھیک بیان کی ہے کہ انہوں نے ہمارے غلبے اور خوف کی وجہ سے ایسا کیا تھا، توتمہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کسی شخص کو بھجوانا چاہیے جو تمہیں اس بارے میں بتائے کہ ان کی کیا رائے ہے اگر تو وہ وہی فیصلہ دیں گے جو تم چاہتے ہو تو تم انہیں ثالث بنا لینا اور اگر وہ تمہیں وہ فیصلہ نہیں دیں گے ’’تو تم اس چیز سے بچ جانا تم انہیں ثالث نہ بنانا ان لوگوں نے کچھ منافقین کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا تاکہ وہ منافقین ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رائے کے بارے میں بتائیں جب وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان لوگوں کے پورے معاملے کے بارے میں اور ان کے ارادے کے بارے میں بتا دیا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’اے رسول ! وہ لوگ جو کفر میں جلدی کرتے ہیں وہ تمہیں غمگین نہ کریں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے یہ کہا: ہم ایمان لائے انہوں نے اپنے منہ کے ذریعے یہ بات کہی‘‘۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک ہے: ’’اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں دیتا تو یہی لوگ فاسق ہیں‘‘۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں گروہوں کے بارے میں فرمایا: اللہ کی قسم ! حکم نازل ہو گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہی لوگ مراد لیے ہیں۔(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:)میں یہ کہتا ہوں : امام ابو داؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمٰن بن ابو زناد ہے، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے امام احمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › The Almighty said: {And whoever does not judge by what God has revealed, they will be those of you.} [Al-Ma`idah: 44]) · Hadith 10975
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابٌ فِي إِسْلَامِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ] · حديث 14415
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! زمانہ کفر میں‘ میں جس بھی محفل میں بیٹھتا رہا ہوں۔ اس میں سے ہر ایک محفل میں اسلام کا اعلان کروں گا پھر وہ مسجد میں آئے‘ وہاں قریش کی مختلف شاخوں سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے‘ جو حلقہ بنا کے بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام کا اعلان کرنا شروع کیا اور اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ سلم اللہ کے رسول ہیں‘ تو مشرکین حملہ آور ہوئے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مارنے لگے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہیں مارنے لگے‘ جب ان لوگوں کی تعداد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف زیادہ ہو گئی‘ تو ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چھڑوایا (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں:) میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا: وہ شخص کون تھا جس نے آپ کو مشرکین سے چھڑوایا تھا؟ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:وہ عاص بن وائل سہمی تھا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
عُمَرَ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [Chapter on his Islam, may God be pleased with him] · Hadith 14415
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ} [المعارج: 23]. · حديث 11440
قاسم اور حسن بن سعد بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نماز کا ذکر کثرت کے ساتھ کیا ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے: ’’وہ لوگ جو اپنی نماز پر ہمیشگی قائم رکھتے ہیں‘‘۔ ’’اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں‘‘۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ انہیں مخصوص اوقات میں ادا کرتے ہیں لوگوں نے کہا ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسے چھوڑ دیتے ہیں تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس کو چھوڑ دینا تو کفر ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے حسن بن سعد اور قاسم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فر ماتے ہوئے سنا ہے: میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے کہ اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہاری ناشکری کریں گے اور اگر تم ان کی نافرمانی کرو گے تو وہ تمہیں قتل کروادیں گے وہ کفر کے پیشوا اور گمراہی کے سر براہ ہوں گے۔ یہ روایت امام ابویعلی اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن منذر ہے اور وہ کذاب اور متروک ہے
رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي بَرْزَةَ:
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Succession] › [Chapter on the Imams of Injustice and Unjust, and the Imams of Misguidance] · Hadith 9207
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزُّهْدِ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ أَحَبَّ أَهْلَ الشَّرِّ] · حديث 17992