حضرت معدان بن ابی طلحہ یعمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے یا آپ رضی اللہ عنہ نے جمعہ کا خطبہ دیا۔۔۔پس اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔اے لوگو! میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ گویا کہ ایک مرغ تھا اس نے مجھے دو مرتبہ ٹھونگ ماری اور میں اس خواب کو اپنی عمر کے پورا ہونے سے ہی کنایہ دیکھ رہا ہوں اور لوگ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں خلیفہ مقرر کر دوں ۔ یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو خلافت کو ضائع نہیں کرے گا اور اس چیز کو بھی ضائع نہیں کرے گا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا ہے ۔ پس اگر مجھے جلد ہی موت نے آلیا تو پھر خلافت ان چھ لوگوں کے درمیان مشاورت کے ساتھ (طے ) ہوگی جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رضا مندی کے ساتھ رخصت ہوئے ۔ان میں سے جس کی بھی تم بیعت کر لوتو پھر اس کی بات سنو اور مانو ۔ یقینا ً مجھے معلوم ہے کہ عنقریب کچھ لوگ اس معاملہ میں طعن کریں گے ۔ اگر یہ لوگ ایسا کریں گے تو یہ اللہ کے دشمن ، کافر اور گمراہ ہوں گے ۔۲) میں نے اپنے بعد کلالہ کے معاملہ سے زیادہ اہم بحث نہیں چھوڑی اور تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ سوال کیا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی چیز میں اتنی سختی نہیں کی جو سختی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ اس ( کلالہ ) میں فرمائی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ اے عمر رضی اللہ عنہ تمہیں سورۃ نساء کے آخر میں نازل ہونے والی آیتہ الصیف کافی ہے ۔ ‘‘ اور اگر میں مزید زندہ رہا تو عنقریب میں کلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ کر جاؤں گا کہ پھر کوئی اس مسئلہ میں اختلاف نہیں کرے گا ۔ چاہے وہ قرآن پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو۔ ۳) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔۔۔ اے اللہ! میں تجھے شہروں کے امراء پر گواہ بناتا ہوں ۔ کیونکہ میں نے انہیں صرف اس لئے بھیجا تھا تاکہ وہ لوگوں کو ان کا دین اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سکھائیں ۔ اوران کی فئی ان ہی میں تقسیم کریں اور ان میں انصاف کریں اور انہیں جس بات کا اشکال ہو وہ بات مجھ تک لائیں ۔۴) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔اے لوگو! تم دو درخت ( پیداوار ) ایسے کھاتے ہو کہ جن کو میں خبیث ( نا پسند ید ہ ) ہی خیال کرتا ہوں ۔ یہ تھوم اور یہ پیاز ہے یقینا ً میں ایک آدمی کو عہد پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھتا کہ اس سے یہ بو آتی تو اس کو ہاتھ سے پکڑ کر باہر لے جایا جاتا یہاں تک کہ اس کو بقیع کی طرف نکال دیا جاتا ۔ پس جو شخص ان کو ضرور کھانا چاہے تو پکا کر ان کی بوکو مارڈالے۔۵) راوی کہتے ہیں : پس یہ خطبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن ارشاد فرمایا اور بدھ کے روز آپ رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا ۔ ابھی ذی الحجہ میں چار دن باقی تھے ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 44- What was stated in the succession of Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 38217
مصنف ابن أبي شيبة · 40- كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ 1- مَنْ كَرِهَ الْخُرُوجَ فِي الْفِتْنَةِ وَتَعَوَّذَ مِنْهَا. · حديث 38303
حضرت زید فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت ( فقاتلوا ائمة الكفر) تلاوت کی (یعنی کفر کےرہنماؤں کوقتل کرو ) پھر ارشاد فرمایا اس آیت کے مصداق لوگوں سے اس کے بعد قتال نہیں کیا گیا۔
31293 - عبدالواحد بن ایمن فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے کہا کہ آپ حجاج کے پاس جا رہے ہیں تو ذرا دھیان سے بات کرنا کہیں ایسی بات نہ کہہ بیٹھنا جس سے وہ تمہارے خون کو مباح سمجھ کر قتل کر ڈالے انہوں نے فرمایا : وہ مجھ سے پوچھے گا کہ تم کافر ہو یا مؤمن ؟ مین تو اپنی ذات پر کفر کی گواہی نہیں دے سکتا اور مجھے اس کا کوئی علم نہیں کہ میں اس کے شر سے نجات پاؤں گا یا نہیں۔
حضرت عوف بن مالک سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے داخل ہونے کی اجازت لی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا داخل ہو جاؤ میں نے عرض کیا میں سارا داخل ہو جاؤں یا کچھ ( یہ مزاقا ً کہا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سارا داخل ہو جامیں آپ کے پاس گیا آپ آہستہ سے وضو کر رہے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعوف بن مالک چھ باتیں قیامت سے پہلے ہوں گی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موت یہ ایک لے لے ( راوی نے فرمایا ) اس بات سے گویا انہوں نے میرا دل کھینچ لیا اور ( دوسری ) بیت المقدس کی فتح حاصل ہوگی اور ( تیسری ) موت ہوگی تو تمہیں آن لے گی تم اس سے جلدی مر جاؤ گے جیسے بکریاں قعاص کی پیاری سے جلدی مر جاتی ہیں اور ( چوتھا ) مال کثرت سے ہو جائے گا یہاں تک کہ ایک آدمی کو سو دینار دیے جائیں گے وہ انہیں ناپسند کرے گا کفار کا شہر فتح ہوگا اورصلح ہوگی تمہارے اور رومیوں کے درمیان وہ تمہارے پاس اسی جھنڈیوں کے نیچے آئیں گے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے وہ تم سے عذر کرنے میں آگے ہوں گے ۔
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے (فقاتلوا ائمة الكفر) (یعنی کفر کے سرداروں کو قتل کرو) تلاوت کی اور فرمایا کہ اس آیت کے مصداق لوگ ابھی تک قتل نہیں کیے گئے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ آپس میں جاہلیت کی پکار کے نقاضوں پر لڑائی کریں گے کسی امیر کے قتل ہونے یا اس کے نکالنے کو وقت پس دونوں گروہوں میں سے ایک غالب آجائیگا جب کہ وہ ذلیل تھا تو ان کے پاس والے دشمن ان میں رغبت کریں گے اور ان پر حملہ کر دیں گے اور لوگ کفر میں گرتے چلے جائیں گے۔
32349 - حضت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے بہت سے نام ہیں میں محمد ہوں میں احمد ہوں اور میں ماحی ہوں میرے ذریعے اللہ کفر کو مٹائیں گے اور میں حاشر ہوں لوگوں کو میرے قدموں سے اٹھایا جائے گا اور میں عاقب ہوں ایک شخص نے عرض کیا کہ عاقب کا کیا معنی ہے ؟ فرمایا کہ جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔
طارق بن شباب سے روایت ہے کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کوقتل کیا گیا میں نے دل میں سوچا کہ مجھے کس شئے نے عراق میں ٹھہرایا ہوا ہے حالانکہ جماعت تو مدینہ میں ہے مہاجرین اور انصار کے پاس کہتے ہیں میں نکلا مجھے خبر ملی کہ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے کہتے ہیں کہ میں ربذہ مقام پر پہنچا تو وہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ موجود تھے ۔ ان کے لیے ایک شخص نے بیٹھنے کے لیے نشست رکھی ۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہونے کی حالت میں تھے ۔ انہوں نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا کہ طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ نے بیعت خوشی خوشی کی تھی نہ کہ حالت اکراہ میں ۔ اب چاہتے ہیں کہ وہ معاملے کو بگاڑ دیں اور مسلمانوں کی لاٹھی ( جمعیت ) کو توڑ ڈالیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کر نے کے لیے لوگوں کو ابھارا۔ پھر حسن رضی اللہ عنہ بن علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں نے آپ کو نہیں کہا تھا کہ عرب ان کے ساتھ جمع ہو جائیں گے اگر اس شخص ( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ) کوشہید کیا گیا۔ اگر آپ اپنے گھر میں رہتے یعنی مدینہ میں تو مجھے ڈر تھا کہ آپ کو بھی اس لا پرواہی سے قتل کر دیا جا تا اور آپ کا کوئی مددگار نہ ہوتا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایاتم بیٹھ جاؤ تم ایسے گنگناتے ہو جیسے دوشیزہ گنگناتی ہے یا یہ فرمایا کہ تمہارے لیے ایسا گنگنا ہونا ہے جیسے دوشیزہ کے لیے گنگنا ہونا۔ اللہ کی قسم میں مدینہ میں اس بھیٹریے کی طرح بیٹھا تھا جوزمین پر پتھر گرنے کی آواز سن رہا ہو۔ پس میں نے اس معاملے کا بہت گہرائی سے مشاہدہ کیا میں نے سوائے تلوار یا کفر کے کچھ نہیں پایا۔
حضرت جعفر رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے اصحاب جمل کا ذکر کیا یہاں تک کہ کفر تک پہنچا دیا پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو منع کیا ۔
حضرت صلہب فقصی کہتے ہیں کہ جنگ صفین میں ہمارے خیموں کے باہر لاشیں پڑی تھیں اور ہم بد بو کی وجہ سے کھانا بھی نہیں کھا سکتے تھے۔ ایک آدمی نے کہا جس دن اہل شام نے کفر کیا اس دن خچر کسی نے منگوایا تھا ۔ حضرت علی نے فرمایا کہ وہ کفر سے بھاگے تھے۔
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشا دفرمایا: تمہارے پاس یمن والے آئیں گے ۔ وہ دل کئے اعتبار بہت نرم ہیں۔ ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے اور کفر کی بنیاد مشرق کی جانب سے ہے ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 30- The Book of Virtues › 58 - What came in Yemen and its merits. · Hadith 33099
مصنف ابن أبي شيبة · 30-كِتاب الْفَضَائِلِ ‹ 58- ما جاء فِي اليمنِ وفضلِها. · حديث 33107
33107- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ ، فَقَالَ : رَأْسُ الْكُفْرِ من هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ، يَعْنِي الْمَشْرِقَ.
33107 - حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ حضرت عائشہ ام المومنین کے گھر سے نکلے اور ارشاد فرمایا: کفر کی بنیاد تو یہاں سے ہے جہاں شیطان کے سینگ طلوع ہوتے ہیں یعنی مشرق میں ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← يزيد بن يوسف ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَعْصَعَةَ الْبَغْدَادِيُّ،
Musnad Al Shammean · He did not end the chain of transmission of Muhammad ibn al-Walid al-Zubaidi and was called Abu al-Hudhail › Al-Zuhri on the authority of Abd al-Rahman al-Araj · Hadith 1812
Musnad Al Shammean · We have not finished the chain of transmission of Raja bin Hayat al-Kindi › Raja on the authority of Jaber bin Abdullah · Hadith 2109
Musnad Al Shammean · What has come to us from the chain of transmission of Qubaisah ibn Dhuayb al-Khuza’i was born in the life of the Prophet, may God bless him and grant him peace › Qubaisah ibn Dhuayb from Tamim al-Dari · Hadith 2134
Musnad Al Shammean · What has been completed to us from the chain of transmission of Ata 'ibn Maysara al-Khurasani and Yusra called Aba Muslim › Attendance on the authority of Abu Huraira · Hadith 2349
Musnad Al Shammean · What has been completed to us from the chain of transmission of Ata 'ibn Maysara al-Khurasani and Yusra called Aba Muslim › Attendance on the authority of Abu Huraira · Hadith 2385
Musnad Al Shammean · What has not been completed from the chain of transmission of Abd al-Rahman ibn Yazid ibn Jabir › Ibn Jabir, on the authority of Bilal bin Saad · Hadith 611
Musnad Al Shammean · The chain of narration of Sa`id ibn Bashir did not end in us from the chain of transmission of Bashir and its origin was Basri. He descended the Levant and died in it › Saeed, on the authority of Qadada, on the authority of Suleiman ibn Yasar · Hadith 2744
Musnad Al Shammean · What has not been completed to us from the chain of transmission of Marzooq ibn Abi Al-Hudhail › Shu'ayb, on the authority of Al-Zahri, on the authority of Abu Salamah ibn Abd al-Rahman ibn Awf · Hadith 3048