Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الزكاة والصدقة

Zakat & Charity

33359 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7710

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَكَانَ مَعْمَرٌ يَقُولُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ فَقِيرٍ أَوْ غَنِيٍّ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ قَالَ مَعْمَرٌ وَبَلَغَنِي أَنَّ الزُّهْرِيَّ كَانَ يَرْوِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (غالبا مرفوعا) مروی ہے کہ ہر اس شخص پر جو آزاد ہو یا غلام مرد ہو یا عورت۔ بچہ ہو یا بوڑھا تنگدست ہو یا مالدار صدقہ فطر کے طور پر ایک صاع کھجور یا نصف صاع گندم ادا کرنا واجب ہے۔

أبي هريرة ثم ← الزُّهْرِيِّ، وَكَانَ مَعْمَرٌ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7710

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7727

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى قُلْتُ لِأَيُّوبَ مَا عَنْ ظَهْرِ غِنًى قَالَ عَنْ فَضْلِ غِنَاكَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7727

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7743

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عَلَى الْمُؤْمِنِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ نہیں ہے۔

النَّبِيِّ لَيْسَ عَلَى الْمُؤْمِنِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← مَكْحُولٌ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← مَعْمَرٌ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7743

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7744

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْسِمُ تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فِي حِجْرِهِ فَلَمَّا فَرَغَ حَمَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَاتِقِهِ فَسَالَ لُعَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَإِذَا تَمْرَةٌ فِي فِيهِ فَأَدْخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ ثُمَّ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صدقہ کی کھجوریں تقسیم فرما رہے تھے اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی گود میں بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب انہیں تقسیم کرکے فارغ ہوئے تو امام حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا ان کا لعاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کجھور نظر آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ڈال کر ان کے منہ میں سے وہ کجھور نکالی اور فرمایا کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّهُ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7744

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7860

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت (مہمان نوازی) تین دن تک ہوتی ہے اس کے بعد جو کچھ بھی ہے وہ صدقہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← أَبَانُ، ← سُوَيْدِ بْنِ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7860

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8001

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ فَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ أَكَلَ وَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ قَالَ كُلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آپ کے گھرکے علاوہ کہیں اور سے کھانا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تناول فرمالیتے اور اگر بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو لوگوں سے فرمادیتے کہ تم کھالو اور خود نہ کھاتے ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8001

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16488

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَأَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ قَالُوا وَمَا جَائِزَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثٌ فَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ وَقَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ وَلَا يَثْوِي عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ

حضرت ابوشریح سے مروی ہے کہ میں نے اپنے کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اور آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جو شخص اللہ پر آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے جو شخص اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو اپنے مہمان کا اکرام جائزہ سے کرنا چاہیے صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ جائزہ سے کیا مراد ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ضیافت تین دن تک ہوتی ہے اور جائزہ (پرتکلف دعوت) صرف ایک دن ایک رات ہوتی ہے اس سے زیادہ جو ہوگا وہ اس پر صدقہ ہوگا اور جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہوں اسے اچھی بات کہنی چاہیے یا پھر خاموش رہنا چاہیے اور کسی آدمی کے لئے جائز نہیں ہے کہ کسی شخص کے یہاں اتنا عرصہ ٹھہرے کہ اسے گناہ گار کردے۔

أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← ليث يعني ابن سعد ← حَجَّاجٌ وَأَبُو كَامِلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16488

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16513

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ كُلْثُومٍ ابْنَةُ عَلِيٍّ قَالَ أَتَيْتُهَا بِصَدَقَةٍ كَانَ أُمِرَ بِهَا قَالَتْ أَحَدُ رَبَائِبِنَا فَإِنَّ مَيْمُونَ أَوْ مِهْرَانَ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ يَا مَيْمُونُ أَوْ يَا مِهْرَانُ إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ نُهِينَا عَنْ الصَّدَقَةِ وَإِنَّ مَوَالِيَنَا مِنْ أَنْفُسِنَا وَلَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ

عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ام کلثوم بنت علی کے پاس صدقہ کی کوئی چیز لے کر آیا انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک آزاد کردہ غلام جس کا نام مہران تھا نے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہم آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے اور کسی قوم کا آزاد کردہ غلام بھی ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔

الصَّدَقَةِ وَإِنَّ مَوَالِيَنَا مِنْ أَنْفُسِنَا وَلَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ← أَهْلُ بَيْتٍ نُهِينَا ← أَنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ فَقَالَ لَهُ يَا مَيْمُونُ أَوْ يَا مِهْرَانُ ← أَحَدُ رَبَائِبِنَا فَإِنَّ مَيْمُونَ أَوْ مِهْرَانَ مَوْلَى النَّبِيِّ ← أَتَيْتُهَا بِصَدَقَةٍ كَانَ أُمِرَ بِهَا ← حَدَّثَتْنِي أُمُّ كُلْثُومٍ ابْنَةُ عَلِيٍّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16513

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16535

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كُنْتُ امْرَأً قَدْ أُوتِيتُ مِنْ جِمَاعِ النِّسَاءِ مَا لَمْ يُؤْتَ غَيْرِي فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ تَظَاهَرْتُ مِنْ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ رَمَضَانُ فَرَقًا مِنْ أَنْ أُصِيبَ فِي لَيْلَتِي شَيْئًا فَأَتَتَابَعُ فِي ذَلِكَ إِلَى أَنْ يُدْرِكَنِي النَّهَارُ وَأَنَا لَا أَقْدِرُ عَلَى أَنْ أَنْزِعَ فَبَيْنَا هِيَ تَخْدُمُنِي إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي وَقُلْتُ لَهُمْ انْطَلِقُوا مَعِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرُهُ بِأَمْرِي فَقَالُوا لَا وَاللَّهِ لَا نَفْعَلُ نَتَخَوَّفُ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا قُرْآنٌ أَوْ يَقُولَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَةً يَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهَا وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ قَالَ فَخَرَجْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي فَقَالَ لِي أَنْتَ بِذَاكَ فَقُلْتُ أَنَا بِذَاكَ فَقَالَ أَنْتَ بِذَاكَ فَقُلْتُ أَنَا بِذَاكَ قَالَ أَنْتَ بِذَاكَ قُلْتُ نَعَمْ هَا أَنَا ذَا فَأَمْضِ فِيَّ حُكْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنِّي صَابِرٌ لَهُ قَالَ أَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ فَضَرَبْتُ صَفْحَةَ رَقَبَتِي بِيَدِي وَقُلْتُ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ غَيْرَهَا قَالَ فَصُمْ شَهْرَيْنِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي إِلَّا فِي الصِّيَامِ قَالَ فَتَصَدَّقْ قَالَ فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ وَحْشَاءَ مَا لَنَا عَشَاءٌ قَالَ اذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقُلْ لَهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمْ عَنْكَ مِنْهَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ سِتِّينَ مِسْكِينًا ثُمَّ اسْتَعِنْ بِسَائِرِهِ عَلَيْكِ وَعَلَى عِيَالِكَ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي فَقُلْتُ وَجَدْتُ عِنْدَكُمْ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْيِ وَوَجَدْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعَةَ وَالْبَرَكَةَ قَدْ أَمَرَ لِي بِصَدَقَتِكُمْ فَادْفَعُوهَا لِي قَالَ فَدَفَعُوهَا إِلَيَّ

حضرت سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں عورتوں کو بہت چاہتا تھا اور میں کسی مرد کو نہیں جانتا جو عورتوں سے اتنی صحبت کرتا ہو، جیسے میں کرتا تھا۔ خیر رمضان آیا تو میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، اخیر رمضان تک تاکہ رات کے وقت اس کے قریب نہ چلا جاؤں ، دن ہونے تک میں اسی طرح کرتا تھا، اور اپنے اندر اتنی طاقت نہ پاتا تھا کہ اس سے مکمل جدا ہوجاؤں ، ایک رات میری بیوی میری خدمت کر رہی تھی کہ اس کی ران سے کپڑا اوپر ہوگیا، میں اس سے صحبت کر بیٹھا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں کے پاس گیا اور ان سے بیان کیا کہ میرے لئے یہ مسئلہ تم آنحضرت سے دریافت کرو۔ انہوں نے کہا ہم تو نہیں پوچھیں گے ایسا نہ ہو کہ ہمارے متعلق کتاب نازل جو تاقیامت باقی رہے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ (غصہ) فرما دیں اور اس کی شرمندگی تاعمر ہمیں باقی رے لیکن اب تم خود ہی جاؤ اور جو مناسب سمجھو کرو، چنانچہ میں وہاں سے نکلا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ بیان کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا یہ کام کیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور میں حاضر ہوں یا رسول اللہ! اور میں اللہ عزوجل کے حکم پر صابر رہوں گا جو میرے بارے میں اترے، آپ نے فرمایا تو ایک غلام آزاد کر، میں نے کہا قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا، میں تو بس اپنے ہی نفس کا مالک ہوں ، آپ نے فرمایا اچھا! دو ماہ لگاتار روزے رکھ، میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! یہ جو بلا مجھ پر آئی یہ روزہ رکھنے ہی سے تو آئی، آپ نے فرمایا تو صدقہ دے اور ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا، میں نے کہا قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہم تو اس رات بھی فاقے سے تھے، ہمارے پاس رات کا کھانا نہ تھا، آپ نے فرمایا بنی زریق کے صدقات کے ذمے دار کے پاس جا اور اس سے کہ وہ تجھے جو مال دے اس میں سے ساٹھ مساکین کو کھلا اور جو بچے اسے اپنے استعمال میں لا، چنانچہ میں اپنی قوم میں جب واپس آیا تو ان سے کہا کہ مجھے تمہارے پاس سے تنگی اور بری رائے ملی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں کشادگی اور برکت، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے تمہارے صدقات کا حکم دیا ہے لہذا وہ میرے حوالے کرو، چنانچہ انہوں نے وہ مجھے دے دیئے۔

سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الأَنْصَارِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16535

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16674

قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ زَرَعَ زَرْعًا فَأَكَلَ مِنْهُ الطَّيْرُ أَوْ الْعَافِيَةُ كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ

حضرت سائب سے رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کوئی کھیت لگاتا ہے اور اس سے پرندے یا درندے بھی کھاتے ہیں تو وہ بھی اس کے لئے صدقہ ہے۔

أَبِيهِ ← خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16674

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16702

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الصَّنْعَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي فَنَّجُ قَالَ كُنْتُ أَعْمَلُ فِي الدَّيْنَبَاذِ وَأُعَالِجُ فِيهِ فَقَدِمَ يَعْلَي بْنُ أُمَيَّةَ أَمِيرًا عَلَى الْيَمَنِ وَجَاءَ مَعَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَنِي رَجُلٌ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَهُ وَأَنَا فِي الزَّرْعِ أَصْرِفُ الْمَاءَ فِي الزَّرْعِ وَمَعَهُ فِي كُمِّهِ جَوْزٌ فَجَلَسَ عَلَى سَاقِيَةٍ مِنْ الْمَاءِ وَهُوَ يَكْسِرُ مِنْ ذَلِكَ الْجَوْزِ وَيَأْكُلُ ثُمَّ أَشَارَ إِلَى فَنَّجَ فَقَالَ يَا فَارِسِيُّ هَلُمَّ قَالَ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقَالَ الرَّجُلُ لِفَنَّجَ أَتَضْمَنُ لِي غَرْسَ هَذَا الْجَوْزِ عَلَى الْمَاءِ فَقَالَ لَهُ فَنَّجُ مَا يَنْفَعُنِي ذَلِكَ فَقَالَ الرَّجُلُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ مَنْ نَصَبَ شَجَرَةً فَصَبَرَ عَلَى حِفْظِهَا وَالْقِيَامِ عَلَيْهَا حَتَّى تُثْمِرَ كَانَ لَهُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُصَابُ مِنْ ثَمَرَتِهَا صَدَقَةٌ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ فَنَّجُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَنَّجُ فَأَنَا أَضْمَنُهَا قَالَ فَمِنْهَا جَوْزُ الدَّيْنَبَاذِ

فنج کہتے ہیں کہ میں 'دینباذ' (علاقے کا نام) میں کام کاج کرتا تھا اس دوران یعلی بن امیہ یمن کے گورنر بن کر آگئے، ان کے ساتھ کچھ صحابہ کرام بھی آئے تھے، ان میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا، میں اس وقت اپنے کھیت میں پانی لگا رہا تھا، اس آدمی کی جیب میں اخروٹ تھے، وہ پانی کی نالی پر بیٹھ گیا، اور اخروٹ توڑ توڑ کر کھانے لگا، پھر اس شخص نے اشارے سے مجھے اپنے پاس بلایا کہ اے فارسی! ادھر آؤ میں قریب چلا گیا تو وہ کہنے لگا کہ کیا تم مجھے اس بات کی ضمانت دے سکتے ہو کہ اس پانی کے قریب اخروٹ کے درخت لگائے جاسکتے ہیں؟ میں نے کہا کہ مجھے اس ضمانت سے کیا فائدہ ہوگا؟ اس شخص نے کہا کہ میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی درخت لگائے اور اس کی نگہداشت اور ضروریات کا خیال رکھتا رہے تا آنکہ اس پر پھل آجائے تو جس چیز کو بھی اس کا پھل ملے گا، وہ اللہ کے نزدیک اس کے لئے صدقہ بن جائے گا۔ فنج نے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا جی ہاں ! اس پر فنج نے انہیں ضمانت دے دی اور اب تک وہاں کے اخروٹ مشہور ہیں۔

فَنَّجُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← داود بن قيس الصنعاني ← عَبْدُ الرَّازَّقِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16702

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16711

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي هِلَالٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَصْلُحُ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ

بنوہلال کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مالدار یا تندرست و توانا آدمی کے لئے زکوۃ کا مال حلال نہیں ہے۔

لَا تَصْلُحُ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ ← رَسُولِ اللَّهِ ← رجل من بنى هلال ← أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ ← عِكْرِمَةَ، ← أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16711

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16731

قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلَاتُهُ فَإِنْ كَانَ أَتَمَّهَا كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَتَمَّهَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَتُكْمِلُوا بِهَا فَرِيضَتَهُ ثُمَّ الزَّكَاةُ كَذَلِكَ ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے جس چیز کا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ اس کی نماز ہوگی، اگر اس نے اسے مکل اداء کیا ہوگا تو وہ مکمل لکھ دی جائیں گی، ورنہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو! میرے بندے کے پاس کچھ نوافل ملتے ہیں ؟ کہ ان کے ذریعے فرائض کی تکمیل کر سکو، اسی طرح زکوۃ کے معاملے میں بھی ہوگا اور دیگر اعمال کا حساب بھی اسی طرح ہوگا۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16731

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16825

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٌ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَأَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِخِطَامِهَا فَدَفَعْتُ عَنْهُ فَقَالَ دَعُوهُ فَأَرَبٌ مَا جَاءَ بِهِ فَقُلْتُ نَبِّئْنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى الْجَنَّةِ وَيُبْعِدُنِي مِنْ النَّارِ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ فِي الْخُطْبَةِ لَقَدْ أَعْظَمْتَ أَوْ أَطْوَلْتَ تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا تُحِبُّ أَنْ يُؤْتُوهُ إِلَيْكَ وَمَا كَرِهْتَ لِنَفْسِكَ فَدَعْ النَّاسَ مِنْهُ خَلِّ عَنْ زِمَامِ النَّاقَةِ

مغیرہ بن سعد اپنے والد یا چچا سے نقل کرتے ہیں کہ میدان عرفات میں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی، لوگ مجھے ہٹانے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو، کوئی ضرورت ہے جو اسے لائی ہے، میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت کے قریب کردے اور جہنم سے دور کردے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر فرمایا اگرچہ تمہارے الفاظ مختصر ہیں لیکن بات بہت بڑی ہے، اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، حج بیت اللہ کرو، ماہ رمضان کے روزے رکھو، لوگوں کے پاس اس طرح جاؤ جیسے ان کا تمہیں اپنے پاس آنا پسند ہو اور جس چیز کو تم اپنے حق میں ناگوار سمجھتے ہو، اس سے لوگوں کو بھی بچاؤ اور اب اونٹنی کی رسی چھوڑ دو۔

أَتَيْتُ النَّبِيَّ بِعَرَفَةَ فَأَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِخِطَامِهَا فَدَفَعْتُ عَنْهُ ← عَمِّہٖ ← أَبِيهِ أَوْ ← المغيرة بن سعد، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16825

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17073

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ فَإِنْ كَانَ أَتَمَّهَا كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَتَمَّهَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَتُكْمِلُونَ بِهَا فَرِيضَتَهُ ثُمَّ الزَّكَاةُ كَذَلِكَ ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حِسَابِ ذَلِكَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے جس چیز کا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ اس کی نماز ہوگی، اگر اس نے اسے مکمل اداء کیا ہوگا تو وہ مکمل لکھ دی جائیں گی، ورنہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو! میرے بندے کے پاس کچھ نوافل ملتے ہیں ؟ کہ ان کے ذریعے فراض کی تکمیل کر سکو، اسی طرح زکوۃ کے معاملے میں بھی ہوگا اور دیگر اعمال کا حساب بھی اسی طرح ہوگا۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17073

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17079

وَدَاوُدَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الصَّلَاةُ فَإِنْ كَانَ أَكْمَلَهَا كُتِبَتْ لَهُ كَامِلَةً وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَكْمَلَهَا قَالَ لِلْمَلَائِكَةِ انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَأَكْمِلُوا بِهَا مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَةٍ ثُمَّ الزَّكَاةُ ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے جس چیز کا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ اس کی نماز ہوگی، اگر اس نے اسے مکمل اداء کیا ہوگا تو وہ مکمل لکھ دی جائیں گی، ورنہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو! میرے بندے کے پاس کچھ نوافل ملتے ہیں ؟ کہ ان کے ذریعے فراض کی تکمیل کر سکو، اسی طرح زکوۃ کے معاملے میں بھی ہوگا اور دیگر اعمال کا حساب بھی اسی طرح ہوگا۔

تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ← زُرَارَةَ ← وَدَاوُدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17079

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17141

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الدِّمَشْقِيِّ وَعَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ رَغِبْتُ عَنْ آلِهَةِ قَوْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَوَجَدْتُهُ مُسْتَخْفِيًا بِشَأْنِهِ فَتَلَطَّفْتُ لَهُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ مَا أَنْتَ فَقَالَ نَبِيٌّ فَقُلْتُ وَمَا النَّبِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ فَقُلْتُ وَمَنْ أَرْسَلَكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْتُ بِمَاذَا أَرْسَلَكَ فَقَالَ بِأَنْ تُوصَلَ الْأَرْحَامُ وَتُحْقَنَ الدِّمَاءُ وَتُؤَمَّنَ السُّبُلُ وَتُكَسَّرَ الْأَوْثَانُ وَيُعْبَدَ اللَّهُ وَحْدَهُ لَا يُشْرَكُ بِهِ شَيْءٌ قُلْتُ نِعْمَ مَا أَرْسَلَكَ بِهِ وَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ آمَنْتُ بِكَ وَصَدَّقْتُكَ أَفَأَمْكُثُ مَعَكَ أَمْ مَا تَرَى فَقَالَ قَدْ تَرَى كَرَاهَةَ النَّاسِ لِمَا جِئْتُ بِهِ فَامْكُثْ فِي أَهْلِكَ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِي قَدْ خَرَجْتُ مَخْرَجِي فَأْتِنِي فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرا دل زمانہ جاہلیت کے اپنے قومی معبودوں سے بیزار ہوگیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا، معلوم ہوا کہ وہ اپنے آپ کو پوشیدہ رکھے ہوئے ہیں ، میں بلطائف الحیل وہاں پہنچا، اور سلام کر کے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ فرمایا نبی! میں نے پوچھا نبی کون ہوتا ہے؟ فرمایا اللہ کا قاصد، میں نے پوچھا آپ کو کس نے بھیجا ہے؟ فرمایا اللہ تعالیٰ نے، میں نے پوچھا کہ اس نے آپ کو کیا پیغام دے کر بھیجا ہے؟ فرمایا صلہ رحمی کا، جانوں کے تحفظ کا، راستوں میں امن و امان قائم کرنے کا، بتوں کو توڑنے کا اور اللہ کی اس طرح عبادت کرنے کا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے، میں نے عرض کیا کہ آپ کو بہترین چیزوں کا داعی بنا کر بھیجا گیا ہے، اور میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں آپ پر ایمان لے آیا اور آپ کی تصدیق کرتا ہوں ، کیا میں آپ کے ساتھ ہی رہوں یا کیا رائے ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تو تم دیکھ ہی رہے ہو کہ لوگ میری تعلیمات پر کتنی ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں اس لئے فی الحال اپنے گھر لوٹ جاؤ اور جب تمہیں میرے نکلنے کی خبر معلوم ہو تو میرے پاس آجانا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔

حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ السُّلَمِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ← أَبِي سَلَّامٍ الدِّمَشْقِيِّ، ← يحيى بن أبي عمرو السيباني ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17141

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17144

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الدِّمَشْقِيُّ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ يَا عَمْرُو بْنَ عَبَسَةَ صَاحِبَ الْعَقْلِ عَقْلِ الصَّدَقَةِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ بِأَيِّ شَيْءٍ تَدَّعِي أَنَّكَ رُبُعُ الْإِسْلَامِ قَالَ إِنِّي كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَرَى النَّاسَ عَلَى ضَلَالَةٍ وَلَا أَرَى الْأَوْثَانَ شَيْئًا ثُمَّ سَمِعْتُ عَنْ رَجُلٍ يُخْبِرُ أَخْبَارَ مَكَّةَ وَيُحَدِّثُ أَحَادِيثَ فَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى قَدِمْتُ مَكَّةَ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفٍ وَإِذَا قَوْمُهُ عَلَيْهِ جُرَآءُ فَتَلَطَّفْتُ لَهُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ مَا أَنْتَ قَالَ أَنَا نَبِيُّ اللَّهِ فَقُلْتُ وَمَا نَبِيُّ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ آللَّهُ أَرْسَلَكَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ بِأَيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَكَ قَالَ بِأَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ وَلَا يُشْرَكَ بِهِ شَيْءٌ وَكَسْرِ الْأَوْثَانِ وَصِلَةِ الرَّحِمِ فَقُلْتُ لَهُ مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا قَالَ حُرٌّ وَعَبْدٌ أَوْ عَبْدٌ وَحُرٌّ وَإِذَا مَعَهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ وَبِلَالٌ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ قُلْتُ إِنِّي مُتَّبِعُكَ قَالَ إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَوْمَكَ هَذَا وَلَكِنْ ارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ فَإِذَا سَمِعْتَ بِي قَدْ ظَهَرْتُ فَالْحَقْ بِي قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي وَقَدْ أَسْلَمْتُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهَاجِرًا إِلَى الْمَدِينَةِ فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّرُ الْأَخْبَارَ حَتَّى جَاءَ رَكَبَةٌ مِنْ يَثْرِبَ فَقُلْتُ مَا هَذَا الْمَكِّيُّ الَّذِي أَتَاكُمْ قَالُوا أَرَادَ قَوْمُهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا ذَلِكَ وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ وَتَرَكْنَا النَّاسَ سِرَاعًا قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ فَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى قَدِمْتُ عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنِي قَالَ نَعَمْ أَلَسْتَ أَنْتَ الَّذِي أَتَيْتَنِي بِمَكَّةَ قَالَ قُلْتُ بَلَى فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ وَأَجْهَلُ قَالَ إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ فَلَا تُصَلِّ حَتَّى تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ فَإِذَا ارْتَفَعَتْ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى يَسْتَقِلَّ الرُّمْحُ بِالظِّلِّ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ فَإِذَا فَاءَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ فَإِذَا صَلَّيْتَ الْعَصْرَ فَأَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ حِينَ تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنْ الْوُضُوءِ قَالَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَقْرَبُ وَضُوءَهُ ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ وَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ فَمِهِ وَخَيَاشِيمِهِ مَعَ الْمَاءِ حِينَ يَنْتَثِرُ ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مِنْ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَنَامِلِهِ ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعَرِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَايَا قَدَمَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَصَابِعِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَقُومُ فَيَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا خَرَجَ مِنْ ذَنْبِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ يَا عَمْرُو بْنَ عَبَسَةَ انْظُرْ مَا تَقُولُ أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُعْطَى هَذَا الرَّجُلُ كُلَّهُ فِي مَقَامِهِ قَالَ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ يَا أَبَا أُمَامَةَ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي وَمَا بِي مِنْ حَاجَةٍ أَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَى رَسُولِهِ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا لَقَدْ سَمِعْتُهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن پوچھا کہ اے عمرو بن عبسہ! آپ کیسے یہ دعوی کرتے ہیں کہ آپ ربع اسلام ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں، میں خیال کرتا تھا کہ لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اور وہ کسی راستے پر نہیں ہیں اور وہ سب لوگ بتوں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں ، میں نے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ مکہ میں بہت سی خبریں بیان کرتا ہے تو میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کی خدمت میں حاضر ہوا (تودیکھا) یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ چھپ کر رہ رہے ہیں کیونکہ آپ کی قوم آپ پر مسلط تھی پھر میں نے ایک طریقہ اختیار کیا جس کے مطابق میں مکہ میں آپ تک پہنچ گیا اور آپ سے میں نے عرض کیا آپ کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں نبی ہوں ، میں نے عرض کیا نبی کسے کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے (اپنا پیغام دے کر) بھیجا ہے ، میں نے عرض کیا کہ آپ کو کس چیز کا پیغام دے کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ صلہ رحمی کرنا اور بتوں کو توڑنا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا، میں نے عرض کیا کہ اس مسئلہ میں آپ کے ساتھ اور کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایک آزاد اور ایک غلام ، راوی نے کہا کہ اس وقت آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے جو آپ پر ایمان لائے تھے، میں نے عرض کیا کہ میں بھی آپ کی پیروی کرتا ہوں ، آپ نے فرمایا کہ اس وقت تم اس کی طاقت نہیں رکھتے، اس وقت تم اپنے گھر جاؤ، پھر جب سنو کہ میں ظاہر (غالب) ہوگیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا، چنانچہ میں اپنے گھر کی طرف چلا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں آگئے تو میں اپنے گھر والوں میں ہی تھا اور لوگوں سے خبریں لیتا رہتا تھا اور پوچھتا رہتا تھا یہاں تک کہ مدینہ منورہ والوں سے میری طرف کچھ آدمی آئے تو میں نے ان سے کہا کہ اس طرح کے جو آدمی مدینہ منورہ میں آئے ہیں وہ کیسے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگ ان کی طرف دوڑ رہے ہیں (اسلام قبول کر رہے ہیں ) ان کی قوم کے لوگ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے ۔ میں مدینہ منورہ میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! تم تو وہی ہو جس نے مجھ سے مکہ میں ملاقات کی تھی، میں نے عرض کیا جی ہاں ، پھر عرض کیا اے اللہ کے نبی! اللہ نے آپ کو جو کچھ سکھایا ہے مجھے اس کی خبر دیجئے اور میں اس سے جاہل ہوں ، مجھے نماز کے بارے میں بھی خبر دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح کی نماز پڑھو پھر نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج نکل آئے اور نکل کر بلند ہوجائے کیونکہ جب سورج نکلتا ہے تو شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں ، پھر نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز کی گواہی فرشتے دیں گے اور حاضر ہوں گے یہاں تک کہ سایہ نیزے کے برابر ہوجائے، پھر نماز سے رکے رہو، کیونکہ اس وقت جہنم دہکائی جاتی ہے پھر جب سایہ آجائے تو نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز کی فرشتے گواہی دیں گے اور حاضر کئے جائیں گے یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو پھر سورج کے غروب ہونے تک نماز سے رکے رہو کیونکہ یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں ۔ میں نے پھر عرض کیا : وضو کے بارے میں بھی کچھ بتائیے؟ آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں جو وضو کے پانی سے کلی کرے اور ناک میں پانی ڈالے اور ناک صاف کرے مگر یہ کہ اس کے منہ اور نتھنوں کے سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں ۔ پھر جب وہ منہ دھوتا ہے جس طرح اللہ نے اسے حکم دیا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ اس کی داڑھی کے کناروں کے ساتھ لگ کر پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں پھر اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے اور اللہ کی حمدوثناء اور اس کی بزرگی اس کے شایان شان بیان کرے اور اپنے دل کو خالص اللہ کے لئے فارغ کر لے تو وہ آدمی اپنے گناہوں سے اس طرح پاک وصاف ہوجاتا ہے جس طرح کہ آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہے، حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ دیکھو! (غور کرو) کیا کہہ رہے ایک ہی جگہ میں آدمی کو اتنا ثواب مل سکتا ہے؟ تو حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے ، اے ابو امامہ! میں بڑی عمر والا (بوڑھا) ہوگیا اور میری ہڈیاں نرم ہوگئی ہیں اور میری موت (بظاہر) قریب آگئی ہے تو اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھوں ۔ اگر میں اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یا دومرتہ یا تین مرتبہ سنتا تو میں کبھی بھی اس حدیث کو بیان نہ کرتا لیکن میں نے تو اس حدیث کو سات مرتبہ سے بہی بہت زیادہ مرتبہ سنا ہے۔

كَانَ قَدْ أَدْرَكَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← شداد بن عبد الله الدمشقي، ← عكرمة يعني ابن عمار ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17144

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17210

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قُلْتُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان اپنے اہل خانہ پر کچھ خرچ کرتا ہے اور ثواب کی نیت رکھتا ہے تو وہ خرچ کرنا بھی صدقہ ہے۔

إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَی أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا کَانَتْ لَهُ صَدَقَةً ← النَّبِيِّ ← النَّبِيِّ ← أَبِي مَسْعُودٍ قُلْتُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17210

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17239

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ بَهْزٌ الْبَدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان اپنے اہل خانہ پر کچھ خرچ کرتا ہے اور ثواب کی نیت رکھتا ہے تو وہ خرچ کرنا بھی صدقہ ہے۔

إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَی أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا کَانَتْ لَهُ صَدَقَةً ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← بَهْزٌ الْبَدْرِيِّ ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17239

chevron_left Previous
1…606162…1,668
Next chevron_right