Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الزكاة والصدقة

Zakat & Charity

33359 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9221

حَدَّثَنَا عَتَّابٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ وسق سے کم میں زکوۃ نہیں ہے پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکوۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← عتاب

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9221

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9234

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ صِبْرَةَ وَعَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ وَلَا يَقْبَلُ مِنْهَا إِلَّا الطَّيِّبَ يَقْبَلُهَا بِيَمِينِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَيُرَبِّيهَا لِعَبْدِهِ الْمُسْلِمِ اللُّقْمَةَ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى يُوَافَى بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلَ أُحُدٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرمالیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشوونما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشوونما کرتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن وہاں سے احد پہاڑ کے برابر ادا کردیا جائے گا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ صِبْرَةَ وَعَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ← المبارك ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9234

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9253

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ فَإِنْ قِيلَ هَدِيَّةٌ أَكَلَ وَإِنْ قِيلَ صَدَقَةٌ قَالَ كُلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آپ کے گھر کے علاوہ کہیں اور سے کھانا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تناول فرما لیتے اور اگر بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو لوگوں سے فرما دیتے کہ تم کھا لو اور خود نہ کھاتے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9253

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9256

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَأَمَرَ فِيهِ بِأَمْرِهِ فَحَمَلَ الْحَسَنَ أَوْ الْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِهِ فَجَعَلَ لُعَابُهُ يَسِيلُ عَلَيْهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ يَلُوكُ تَمْرَةً فَحَرَّكَ خَدَّهُ وَقَالَ أَلْقِهَا يَا بُنَيَّ أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ آلَ مُحَمَّدٍ لَا يَأْكُلُونَ الصَّدَقَةَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کی کھجوریں لائی گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق ایک حکم دے دیا اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا ان کا لعاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کھجور نظر آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ڈال کر منہ میں سے وہ کھجور نکالی اور فرمایا کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) صدقہ نہیں کھاتی۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9256

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9270

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ فِي عَبْدِ الرَّجُلِ وَلَا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ نہیں ہے۔

لَيْسَ فِي عَبْدِ الرَّجُلِ وَلَا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← خُثَيْمُ بْنُ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9270

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9297

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ الْحَسَنَ أَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِخْ كِخْ أَلْقِهَا أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا أَهْلَ بَيْتٍ لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے صدقہ کی کھجور لے کر منہ میں ڈال لی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے نکالو کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) صدقہ نہیں کھاتے۔

أَهْلَ بَيْتٍ لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ كِخْ كِخْ أَلْقِهَا أَمَا شَعَرْتَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ الْحَسَنَ أَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9297

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9303

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ عَلَى غُلَامِ الْمُسْلِمِ وَلَا عَلَى فَرَسِهِ صَدَقَةٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ نہیں ہے۔

لَيْسَ عَلَى غُلَامِ الْمُسْلِمِ وَلَا عَلَى فَرَسِهِ صَدَقَةٌ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عبد الله بن دينار ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9303

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9333

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَثَوْا عَلَى الرُّكَبِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلِّفْنَا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ وَالْجِهَادَ وَالصَّدَقَةَ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا بَلْ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ فَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ فَلَمَّا أَقَرَّ بِهَا الْقَوْمُ وَذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِثْرِهَا آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ قَالَ عَفَّانُ قَرَأَهَا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ يُفَرِّقُ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِقَوْلِهِ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ فَصَارَ لَهُ مَا كَسَبَتْ مِنْ خَيْرٍ وَعَلَيْهِ مَا اكْتَسَبَتْ مِنْ شَرٍّ فَسَّرَ الْعَلَاءُ هَذَا رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا قَالَ نَعَمْ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا قَالَ نَعَمْ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ قَالَ نَعَمْ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورت بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی" کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے، وہ سب اللہ کی ملکیت میں ہے، تم اپنے دلوں کی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تم سے اس کا حساب خود ہی لے لے گا پھر جسے چاہے گا معاف فرما دے گا اور جسے چاہے گا سزا دے دے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے" تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر یہ بات بڑی گراں گذری چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اب تک جتنے اعمال نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ کامکلف بنایا گیا ہے، ہم ان کی طاقت نہیں رکھتے تھے لیکن اب آپ پر جو آیت نازل ہوئی ہے، ہم میں اس کی طاقت نہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم وہی بات کہنا چاہتے ہوں جو تم سے پہلے یہودیوں اور عیسائیوں نے کہی تھی کہ ہم نے سن لیا لیکن مانیں گے نہیں تمہیں یوں کہنا چاہئے کہ ہم نے سن لیا اور مانیں گے بھی، پروردگار! ہم آپ سے آپ کی مغفرت کے طلب گار ہیں اور آپ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہی کہنا شروع کردیا کہ ہم نے سن لیا اور مانگیں گے بھی، پروردگار! ہم آپ سے مغفرت کے طلب گار ہیں اور آپ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ جب انہوں نے اس کا اقرار کر لیا اور ان کی زبانوں نے اپنی عاجزی ظاہر کر دی تو اس کے بعد ہی اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی "آمن الرسول بما انزل الیہ" الی آخرہ کہ پیغمبر اور مومنین اپنے رب کی طرف سے نازل ہونے والی وحی پر ایمان لے آئے ان میں سے ہر ایک اللہ پر اس کے فرشتوں کتابوں، اور پیغمبروں پر ایمان لے آیا اور یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں روا رکھتے اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مانیں گے بھی، پروردگار! ہمیں معاف فرما تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے جب انہوں نے یہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ حکم کو منسوخ کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمادی کہ"اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتے، اس کے لئے وہی ہے جو اس نے کمایا اور اسی کا وبال ہے جو اس نے کیا "علماء اس کی تفسیر یہ بیان کرتے ہیں کہ انسان خیر کا جو کام کرتا ہے اس کا فائدہ اسی کو ہوگا اور برائی کا جو کام کرتا ہے، اسی کا نقصان بھی اسی کو ہوگا، پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں تو ہم سے مؤاخذہ نہ فرما" اللہ نے جواب دیا کہ ٹھیک ہے" پروردگار ہم پر پہلے لوگوں حیسا بوجھ نہ ڈال" اللہ نے جواب دیا ٹھیک ہے" پروردگار! ہم پر ایسی چیزوں کا بار نہ ڈال جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے"اللہ نے جواب دیا ٹھیک ہے" ہم سے درگذر فرما، ہمیں معاف فرما ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا آقا ہے، لہٰذا کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9333

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9367

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُمَةَ الضَّبِّيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ قَالَ أَنْ تَتَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَلَا تَمَهَّلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک کہ آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس موقع کے صدقہ کا ثواب سب سے زیادہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم تندرستی کی حالت میں صدقہ کرو جبکہ مال کی حرص تمہارے اندر موجود ہو۔ تمہیں فقروفاقہ کا اندیشہ ہو۔ اور تمہیں اپنی زندگی باقی رہنے کی امید ہو اس وقت سے زیادہ صدقہ خیرات میں تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق میں پہنچ جائے تو تم یہ کہنے لگو کہ فلاں کو اتنا دے دیا جائے اور فلاں کو اتنا دے دیا جائے حالانکہ وہ تو فلاں (ورثاء) کا ہو چکا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، ← عمارة بن القعقاع بن شبرمة الضبي ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9367

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9384

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ حَتَّى يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِزَكَاةِ مَالِهِ فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ وَحَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا وَحَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْقَتْلُ الْقَتْلُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مال کی اتنی کثرت اور ریل پیل نہ ہوجائے کہ ایک آدمی اپنے مال کی زکوۃ نکالے تو اسے قبول کرنے والا نہ ملے، اور جب تک سر زمین عرب دریاؤں اور نہروں سے لبریز نہ ہو جائے اور جب تک کہ "ہرج" کی کثرت نہ ہو جائے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ فرمایا قتل۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← يَعْقُوبُ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9384

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9413

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ أَبَا الْحُبَابِ أخْبَرَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا طَيِّبًا وَلَا يَصْعَدُ السَّمَاءَ إِلَّا طَيِّبٌ إِلَّا وَهُوَ يَضَعُهَا فِي يَدِ الرَّحْمَنِ أَوْ فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى إِنَّ التَّمْرَةَ لَتَكُونُ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِيمِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ "جو حلال قبول کرتا ہے" اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشوونما کرتا ہے، اسی طرح اللہ اس کی نشوونما کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک کھجور ایک بڑے پہاڑ کی طرح ہو جاتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ عَجْلَانَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ أَبَا الْحُبَابِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9413

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9436

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَيْسَ فِي الْعَبْدِ صَدَقَةٌ إِلَّا صَدَقَةَ الْفِطْرِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے کہ نبی نے فرمایا صدقہ فطر کے علاوہ غلام کی زکوۃ نہیں ہے۔

"لَيْسَ فِي الْعَبْدِ صَدَقَةٌ إِلَّا صَدَقَةَ الْفِطْرِ". ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بن معروف

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9436

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9469

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَلَمَّا كَانَتْ الرِّدَّةُ قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ تُقَاتِلُهُمْ وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ لَا أُفَرِّقُ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَلَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهَا قَالَ فَقَاتَلْنَا مَعَهُ فَرَأَيْنَا ذَلِكَ رَشَدًا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لاالہ الا اللہ نہ کہہ لیں، جب وہ کلمہ کہہ لیں تو انہوں نے اپنی جان مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا الاّ یہ کہ اس کلمہ کا کوئی حق ہو، اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہے جب فتنہ ارتداد پھیلا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ ان سے کیونکر قتال کرسکتے ہیں جبکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا! میں نماز اور زکوۃ میں فرق نہیں کروں گا اور ان دونوں کے درمیان فرق کرنے والوں سے ضرور قتال کروں گا، چنانچہ ہم نے ان کی معیت میں قتال کیا اور بعد میں ہم نے اسی میں خیروبھلائی دیکھی۔

أُمِرْتُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9469

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9470

قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَمِيرِ فِيهَا زَكَاةٌ فَقَالَ مَا جَاءَنِي فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْفَاذَّةُ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کی زکوۃ کے متعلق دریافت کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں تو یہی ایک جامع مانع آیت نازل فرما دی ہے کہ جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیک عمل سر انجام دے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرے کے برابر بھی برا عمل سر انجام دے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔

الْحَمِيرِ فِيهَا زَكَاةٌ ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9470

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9497

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِيمَانُ قَالَ الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكِتَابِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِحْسَانُ قَالَ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنْ السَّائِلِ وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتْ الْأَمَةُ رَبَّهَا فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا كَانَتْ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ الْجُفَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا تَطَاوَلَ رُعَاةُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوهُ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا فَقَالَ هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کیا چیز ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں، کتابوں اس سے ملنے اس کے رسولوں اور دوبارہ جی اٹھنے پر یقین رکھو اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کیا ہے؟ فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ فرض نماز قائم کرو فرض زکوۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احسان کیا چیز ہے؟ فرمایا اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو اگر یہ تصور نہ کرسکو تو یہ تصور ہی کرلو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس سے اگلا سوال پوچھا یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس سے سوال پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، البتہ میں تمہیں اس کی علامات بتائے دیتا ہوں جب لونڈی اپنے مالک کو جنم دینے لگے تو یہ قیامت کی علامت ہے جب ننگے جسم اور ننگے پاؤں رہنے والے لوگوں کے سردار (حکمران) بن جائیں تو یہ قیامت کی علامت ہے اور جب بکریوں کے چرواہے بڑی بڑی عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں تو یہ قیامت کی علامت ہے اور پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کا یقینی عمل صرف اللہ ہی کے پاس ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی'بے شک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش برساتا ہے اور جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا؟ اور کوئی شخص نہیں جانتاکہ وہ کس علاقے میں مرے گا؟

کَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← أَبُو حَيَّانَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9497

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9560

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الضِّيَافَةَ ثَلَاثَةٌ فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت (مہمان نوازی) تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد جو کچھ بھی وہ صدقہ ہے۔

إِنَّ الضِّيَافَةَ ثَلَاثَةٌ فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9560

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9561

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ إِلَّا طَيِّبٌ إِلَّا كَأَنَّمَا يَضَعُهَا فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُرَبِّيهَا كَمَا يُرَبِّي الرَّجُلُ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى إِنَّ التَّمْرَةَ لَتَعُودُ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِيمِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ "جو حلال قبول کرتا ہے" اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشوونما کرتا ہے، اسی طرح اللہ اس کی نشوونما کرتا ہے، حتیٰ کہ ایک کھجور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے ایک پہاڑ کے برابر بن جاتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9561

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9575

حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَلَا مَمْلُوكِهِ صَدَقَةٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ نہیں ہے۔

النَّبِيِّ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَلَا مَمْلُوكِهِ صَدَقَةٌ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي ← خُثَيْمِ بْنِ عِرَاکٍ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9575

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9611

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً لَا صَدَقَةَ إِلَّا مِنْ ظَهْرِ غِنًى

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اصل صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔

يَحْيَى مَرَّةً لَا صَدَقَةَ إِلَّا مِنْ ظَهْرِ غِنًى ← ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ» ← النَّبِيِّ أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9611

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9641

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا عَفَا رَجُلٌ إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهِ عِزًّا وَلَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَلَا عَفَا رَجُلٌ قَطُّ إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عِزًّا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی کسی ظلم سے درگذر کر لے اللہ اس کی عزت میں ہی اضافہ فرماتا ہے اور صدقہ کے ذریعے مال کم نہیں ہوتا ہے اور جو آدمی معاف کردیتا ہے اللہ اس کی عزت میں اضافہ کرتا ہے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9641

chevron_left Previous
1…555657…1,668
Next chevron_right