Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإحسان

Ihsan

  • Ihsan
  • احسان

1155 hadiths

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 3 · حديث 8675

8658 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ثنا معتمر بن سليمان قال : سمعت منصورا عن عامر قال Y جلس شتير بن شكل و مسروق بن الأجدع فقال شتير لمسروق : حدث بما سمعت عبد الله وأصدقك أو أحدث وتصدقني قال : سمعت عبد الله يقول : إن أجمع آية في القرآن لخير وشر آية في سورة النحل { إن الله يأمر بالعدل والإحسان وإيتاء ذي القربى وينهى عن الفحشاء والمنكر والبغي يعظكم لعلكم تذكرون } قال : صدقت : قال : سمعت عبد الله يقول : إن أكبر آية في القرآن فرحا آية في سورة العرف : { قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله إن الله يغفر الذنوب جميعا } إن شاء قال : صدقت

حضرت امام شعبی فرماتے ہیں: حضرت مسروق اور شتیر بن شکل‘ مسجد اعظم میں بیٹھے تو کچھ لوگوں نے ان کو دیکھ لیا‘ پس وہ بھی ان کے پاس جا بیٹھے ‘ پس حضرت شتیر رضی اللہ عنہ سے مسروق نے کہا: یہ لوگ بھی ہماری طرف آ گئے ہیں ‘ ہم ان کو حدیثیں سنائیں یا آپ حدیث بیان کریں ‘ میں تصدیق کروں گا یا میں بیان کرتا ہوں اور آپ تصدیق کریں۔ پس حضرت مسروق نے کہا: آپ بیان کریں ‘ میں تصدیق کروں گا۔ حضرت شتیر نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہم سے حدیث بیان کی کہ قرآن میں اعظم آیت ( سورۂ بقرہ) میں یہ ہے: ’’ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ‘ وہ حیی اور قیوم ہے ‘‘ آیت کے آخر تک ۔ پس مسروق نے کہا: تو نے سچ کہا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ کتاب میں جامع آیت:”بے شک اللہ حکم فرماتا ہے عدل کا اور احسان کا ‘‘ آیت کے آخر تک ۔ حضرت مسروق نے کہا: تو نے سچ کہا! انہوں نے ہم کو حدیث بیان کی :کثرت یا بڑائی والی آیت خوشی کے لحاظ سے یہ ہے: ’’ اے محبوب! فرما دیجئے جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا کہ وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں ‘‘ آیت کے آخر تک ۔مسروق نے کہا: تو نے سچ کہا! ہمیں حدیث سنائی کہ تفویض کے لحاظ سے کتاب اللہ میں سخت آیت:”اور جو ڈرتے ہیں اللہ تعالی ٰ سے تو اللہ ان کے لیے نجات کا راستہ نکال دے گا اور انہیں وہاں سے روزی دے گا جہاں سے انہیں گمان نہیں ہو گا‘ ‘ آیت کے آخر تک ۔ مسروق نے کہا: تو نے سچ کہا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عبد الله وأصدقك أو أحدث وتصدقني ← شتير لمسروق حدث بما ← جلس شتير بن شكل و مسروق بن الأجدع ← عَامِرٍ، ← مَنْصُورًا ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8675

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 3 · حديث 8676

8659 - حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا سعيد بن منصور ثنا أبو الأحوص عن سعيد بن مسروق عن الشعبي قال Y جلس مسروق و شتير بن شكل في مسجد الأعظم فرآهما ناس فتحولوا إليهما فقال : مسروق لشتير : إنما تحول إلينا هؤلاء لنحدثهم فإما أن تحدث وأصدقك وأما أن أحدث وتصدقني فقال مسروق : حدث أصدقك قال شتير : ثنا عبد الله بن مسعود أن أعظم آية في كتاب الله { الله لا إله إلا هو الحي القيوم } إلى آخر الآية فقال مسروق : صدقت حدثنا عبد الله أن أجمع آية في كتاب الله { إن الله يأمر بالعدل والإحسان } إلى آخر الآية قال مسروق : صدقت وحدثنا أن أكثر أو أكبر آية في كتاب الله فرحا { يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله } إلى آخر الآية فقال مسروق : صدقت وحدثنا أن أشد آية في كتاب الله تفويضا { ومن يتق الله يجعل له مخرجا * ويرزقه من حيث لا يحتسب } إلى آخر الآية فقال مسروق : صدقت

امام شعبی سے روایت ہے کہ حضرت شتیر بن شکل عبسی فرماتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے تو لوگ اٹھ کر آ گئے تو ایک نے دوسرے سے کہا: یہ لوگ ہمارے پاس سے نہیں اٹھیں گے یہاں تک کہ ہم ان کو حدیثیں سنائیں یا تو میں ان کو حدیث سناتا ہوں ‘ آپ تصدیق کریں یا آپ حدیث بیان کریں اور میں تصدیق کروں گا۔ تو ان میں سے ایک نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: قرآن میں اعظم آیت ’’ آیت الکرسی‘ ‘ ہے۔ دوسرے نے کہا: تو نے سچ کہا! ایک بولا : میں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: قرآن میں ( خیروشرکی ) جامع آیت یہ ہے: ”بے شک اللہ حکم فرماتا ہے عدل کا اور احسان کا ‘‘ ۔ دوسرے نے کہا: سچ ہے! ایک بولا: اور میں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کوفر ماتے ہوئے سنا: تفویض کے لحاظ سے سخت آیت قرآن میں یہ ہے: ”اور جو ڈرے اللہ تعالی ٰ سے تو اللہ تعالی ٰ اس کے لیے وہ نکالے گا ‘‘ ۔ دوسرے نے کہا: سچ ہے! پہلے نے کہا: اور میں نے ان کو فرماتے ہوئے سنا: خوشی کے لحاظ سے قرآن میں بڑی آیت: ”اے محبوب! فرما دیجئے میرے بندوں سے جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ‘‘ ۔ دوسرا بولا : سچ ہے!

جلس مسروق و شتير بن شكل في مسجد الأعظم فرآهما ناس فتحولوا إليهما ← الشَّعْبِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8676

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 3 · حديث 8677

8660 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن الثوري عن جابر وغيره عن الشعبي عن مسروق و شتير بن شكل العبسي قال Y جلسنا في المسجد فثار إليهما الناس فقال أحدهما لصاحبه : إنهم لم يقوموا إلينا إلا لنحدثهم فإما أن أحدثهم وتصدقني وإما أن تحدثهم فأصدقك فقال أحدهما : سمعت عبد الله يقول : أعظم آية في القرآن أية الكرسي فقال الآخر صدقت قال الآخر : سمعت عبد الله يقول : أجمع آية في القرآن { إن الله يأمر بالعدل والإحسان } قال : صدقت قال وسمعته يقول : أشد آية في القرآن تفويضا { ومن يتق الله يجعل له مخرجا } قال : صدقت قال الآخر : وسمعته يقول : أكبر آية في القرآن فرحا { يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم } قال : صدقت

حضرت ابوالضحی ٰفرماتے ہیں: حضرت مسروق اور شتیر بن شکل مسجد میں بیٹھے تھے ‘ مسجد میں موجود حلقے ان کے پاس جمع ہو گئے تو حضرت مسروق نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ لوگ ہمارے پاس بیٹھے رہیں گے جب تک ہم سے بھلی بات نہ سن لیں ! یا تو آپ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایات بیان کریں اور میں تصدیق کروں گا ‘ یا میں بیان کرتا ہوں اور آپ تصدیق کرنا ۔ پس انہوں نے کہا: آپ ہمیں حدیث سنائیں! اے ابوعائشہ! پس حضرت مسروق نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: دونوں آنکھیں بھی زنا کر سکتی ہیں دونوں پاؤں بھی زنا کر سکتے ہیں ‘ دونوں ہاتھ بھی زانی ہو سکتے ہیں اور یہ فرج یا تو تصدیق کرتی ہے یا تکذیب کرتی ہے۔ حضرت شتیر نے کہا: جی ہاں! میں نے بھی یہ سنی تھی۔انہوں نے کہا: کیا آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن میں جامع آیت ‘ حلال ‘ حرام ‘ امر‘ نہی (سب کو جمع کرنے والی یہ ہے: )” بے شک اللہ حکم فرماتا ہے عدل کا اور احسان کا اور دو تم اپنے رشتہ داروں کو اور منع کرتا ہے برائی سے ‘‘ آیت کے آخر تک ۔ انہوں نے کہا: جی ہاں! اور میں نے بھی سنی تھی ۔ فرمایا: کیا آپ نے یہ بھی سنا؟ فرمایا: قرآن میں تفویض کے لحاظ سے اکبر آیت ( یہ ہے: ) ‘‘ اور جو ڈرے اللہ سے تو اللہ تعالی ٰ اس کے لیے راہ بنا دیتا ہے نکالنے کی اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان نہیں ہوتا ‘‘ ۔انہوں نے کہا: جی ہاں ! فرمایا: میں نے بھی سنی تھی ۔ فرمایا: کیا آپ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن میں بہت زیادہ خوشی دلانے والی آیت ( یہ ہے: )”اے میرے بندے! جنہوں نے اپنی جانوں پرظلم کیا‘ میری رحمت سے نا امید نہ ہوں‘ ‘ آیت کے آخر تک۔ انہوں نے کہا: جی ہاں! کہا: پس میں نے بھی یہ سنی تھی ۔ اور یہ الفاظ حضرت حماد بن زید کی حدیث کے ہیں۔

أَحَدُهُمَا: لِصَاحِبِهِ ← جلسنا في المسجد فثار إليهما الناس ← مسروق و شتير بن شكل العبسي ← الشَّعْبِيِّ، ← جَابِرٍ، وَغَيْرِهِ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8677

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ شهر بن حوشب عن ابن عباس ] · حديث 10666

10646 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني محمد بن بكار ثنا عبد الحميد بن بهرام عن شهر بن حوشب قال قال ابن عباس Y بينا رسول الله صلى الله عليه و سلم بفناء بيته بمكة جالسا إذ مر به عثمان بن مظعون فكشر إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تجلس فقال : بلى فجلس رسول الله مستقبله فبينما هو يحدثه إذ شخص رسول الله صلى الله عليه و سلم ببصرة إلى السماء فنظر ساعة إلى السماء فأخذ يضع بصره حيث وضعه عن يمينه في الأرض فتحرف رسول الله صلى الله عليه و سلم عن جليسه عثمان إلى حيث وضع بصره وأخذ نيفض برأسه كأنه يستفقه ما يقال له و ابن مظعون ينظر فلما قضى حاجته واستفقه ما يقال له أشخص رسول الله بصره حتى توارى في السماء فأقبل إلى عثمان بجلسته الأولى فقال : يما محمد فيما كنت أجالسك ما رأيتك تفعل كفعلك الغداة قال : فظنت لذلك ؟ قال عثمان : نعم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتاني رسول الله عليه السلام وأنت جالس ؟ قال : نعم قال : فما قال لك ؟ قال : إن الله يأمر بالعدل والإحسان وإيتاء ذي القربى وينهى عن الفحشاء والمنكر والبغي يعظكم لعلكم تذكرون قال عثمان : فذلك حين استقر الإيمان في قلبي وأحببت محمدا صلى الله عليه و سلم

حضرت علی بن عبداللہ بن عباس اپنے والد گرامی سے حدیث بیان فرماتے ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا: حضرت عباس بن عبدالمطلب نے مجھے حکم دیا ‘فرمایا: میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر رات گزاروں ۔ پس میں مسجد کی طرف گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائی یہاں تک کہ مسجد میں آپ کے علاوہ کوئی نہ رہا۔ فرماتے ہیں: پھر میرے پاس سے گزرے۔ فرمایا: یہ کون ہے؟ ( پیار سے ) میں نے عرض کی : عبداللہ ! فرمایا: کس لئے آئے ہو؟ میں نے عرض کی: مجھے حضرت عباس نے حکم دیا ہے کہ میں آج رات تمہارے پاس گزاروں ۔ فرمایا : جاؤ! فرماتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ کر گھر داخل ہوئے تو فرمایا : عبداللہ کے لیے بستر بچھاؤ! میں ایک تکیہ لایا۔ فرماتے ہیں: مجھے پہلے حضرت عباس نے کہہ دیا تھا کہ سونا نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھ کر طریقہ یاد کرنا ہے۔ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے ہو کر سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی۔ پس آپ بستر پر برابر لیٹے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف سر اُٹھایا ‘تین بار ’’ سبحان الملك القدوس “ پڑھا پھر سورۂ آل عمران کے آخر سے آیات پڑھیں یہاں تک کہ ان کو پورا کیا: ’’ ان فی خلق السموات والارض “ پھر اُٹھ کر مسواک کی ‘وضو فرمایا پھر اپنی جائے نماز پر تشریف لے گئے اور دو رکعت نماز اس طرح ادا کی کہ نہ وہ چھوٹی تھیں نہ لمبی تھیں پھر اپنے بستر کی طرف لوٹ آئے اور سو گئے حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی ‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بستر پر ہی تھے ۔ پہلے عمل کی طرح عمل کیا پھر مسواک کر کے وضو فرمایا پھراپنی جائے نماز پر جا کر دو رکعت ادا کیں نہ وہ زیادہ لمبی نہ چھوٹی تھیں ‘پھر بستر کی طرف واپس آکر سو گئے حتیٰ کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی ‘پھر بستر پر اسی طرح کیا جس طرح پہلے دوبار کیا تھا ‘پھر نماز پڑھی پھر وتر ادا کئے ‘جب آپ نے نماز ادا کر لی تو میں نے یہ دعا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی : ’’ اللّٰهم اجعل في بصرى نوراً الٰى آخرہٖ ‘‘۔

شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10666

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ من اسمه مجاشع مجاشع بن مسعود السلمي · حديث 17522

768 - حدثنا جعفر بن محمد القلانسي ثنا آدم بن أبي اياس ثنا شيبان ( ح ) وحدثنا العباس بن حمدان الحنفي الاصبهاني ثنا عبد الله بن أبي يعقوب الكرماني ثنا يحيى بن أبي بكير ثنا شيبان عن يحيى بن أبي كثير أخبرني يحيى بن أبي اسحاق عن مجاشع بن مسعود Y أنه أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم ليبايعه على الهجرة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا بل نبايع على الاسلام فانه لا هجرة بعد الفتح فتكون من البايعين بالاحسان

حضرت مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہجرت پر بیعت کرنے کیلئے آئے‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہجرت پر بیعت نہیں ہے‘ ہم اسلام پر بیعت لیں گے کیونکہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں‘ تو نیکی کے ساتھ پیروی کرنے والوں میں سے ہو گا (اگر تو نے اسلام پر بیعت کی)۔

يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← شَيْبَانَ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← عبد الله بن أبي يعقوب الكرماني ← العباس بن حمدان الحنفي الأصبهاني ← شَيْبَانَ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17522

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ أبو بكر الهذلي عن الحسن عن سمرة · حديث 6978

6962 - حدثنا علي بن العزيز ثنا أبي نعيم الواسطي ثنا محمد بن يزيد عن أبي بكر الهذلي عن الحسن عن سمرة بن جندب قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الصدقة اللسان قيل : يا رسول الله وما صدقة اللسان ؟ قال : الشفاعة يفك بها الأسير ويحقن بها الدم وتجر بها المعروف والإحسان إلى أخيك وتدفع عنه الكريهة

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو آدمیوں کا کھانا چار کے لیے اور چار کا آٹھ کے لیے کافی ہوتا ہے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ← أبي نعيم الواسطي ← علي بن العزيز

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 6978

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ أبو الأشعث الصنعاني عن شداد · حديث 7130

7114 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري أنا عبد الرزاق ثنا ري عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن شداد بن أوس قال Y حفظت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم اثنتين أنه قال : إن الله عز و جل كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبحة وليحد أحدكم شفرته ثم ليرح ذبيحته

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے دو چیزیں یاد کی تھیں‘ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے ہرشی کے ساتھ احسان کرنا لکھا ہے‘ جب تم کسی کوقتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو (یعنی مثلہ وغیرہ نہ کرو) اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو‘ تم میں سے کوئی اپنی چھری تیز کرے تاکہ ذبح کرنے والی شی کو راحت ہو۔

ان الله عز و جل ← رسول الله صلى الله عليه و سلم اثنتين أنه ← حَفِظْت ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← ري ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7130

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ أبو الأشعث الصنعاني عن شداد · حديث 7131

7115 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا شعبة عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن شداد بن أوس قال Y خصلتان سمعتهما من النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبحة وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو چیزیں یاد کی تھیں‘ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے ہر شی کے ساتھ احسان کرنا لکھا ہے‘ جب تم کسی کو قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو‘ تم میں سے کوئی اپنی چھری تیز کرے تاکہ ذبح کرنے والی شی کو راحت ہو۔

إن الله ← خصلتان سمعتهما من النبي صلى الله عليه و سلم ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7131

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ أبو الأشعث الصنعاني عن شداد · حديث 7132

7116 - حدثنا أحمد بن داود المكي ثنا سهل بن بكار ثنا وهب عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن شداد Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله عز و جل كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبحة وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو چیزیں یاد کی تھیں‘ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے ہرشی کے ساتھ احسان کرنا لکھا ہے‘ جب تم کسی کو قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو‘ تم میں سے کوئی اپنی چھری تیز کرے تاکہ ذبح کرنے والی شی کو راحت ہو۔

ان الله عز و جل ← النبي صلى الله عليه و سلم ← شَدَّادٌ ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← وَھْبٍ ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7132

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ أبو الأشعث الصنعاني عن شداد · حديث 7133

7117 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا إسماعيل بن إبراهيم الترجماني ثنا أبوحفص الأبار عن الأعمش عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن شداد بن أوس رضي الله عنه قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عزوجل كتب الاحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبحة وليحد أحدكم شفرتة وليرح ذبيحته

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو چیزیں یاد کی تھیں‘ آپ نے فرمایا : اللہ عزوجل نے ہرشی کے ساتھ احسان کرنا لکھا ہے‘ جب تم کسی کوقتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو‘ تم میں سے کوئی اپنی چھری تیز کرے تاکہ ذبح کرنے والی شی کو راحت ہو۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← الْاَعْمَشِ ← أبوحفصٍ الأبارُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7133

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ أبو الأشعث الصنعاني عن شداد · حديث 7134

7118 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا جرير عن منصور عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن شداد بن أوس رضي الله عنه قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبحة وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو چیزیں یاد کی تھیں‘ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے ہرشی کے ساتھ احسان کرنا لکھا ہے‘ اس کے بعد حسب سابق حدیث ذکر کی۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7134

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ أبو الأشعث الصنعاني عن شداد · حديث 7135

7119 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا هشيم و خالد بن عبد الله عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن شداد بن أوس قال Y حفظت من رسول الله صلى الله عليه و سلم خصلتين : إن الله كتب الإحسان على كل شيء فذكر نحوه

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے دو چیزیں یاد کی تھیں‘ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے ہرشی کے ساتھ احسان کرنا لکھا ہے‘ اس کے بعد حسب سابق حدیث ذکر کی۔

الإحسان على كل شيء فذكر نحوه ← حفظت من رسول الله صلى الله عليه و سلم خصلتين إن الله ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← هشيم و خالد بن عبد الله ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7135

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ أبو الأشعث الصنعاني عن شداد · حديث 7136

7120 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا إسماعيل عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن شداد بن أوس قال Y إثنتان حفظتهما من رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل كتب الإحسان على كل شيء فذكر نحوه

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے دو چیزیں یاد کی تھیں‘ آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل احسان فرمانے والا ہے اور احسان کو پسند کرتا ہے‘ جب تم کسی کو مارو تو اچھے طریقے سے مارو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو‘ تم میں سے کوئی اپنی چھری تیز کرے تاکہ ذبح کی جانے والی شی کو راحت ہو۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7136

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ أبو الأشعث الصنعاني عن شداد · حديث 7137

7121 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري أنا عبد الرزاق ثنا معمر عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي الاشعث الصنعاني عن شداد بن أوس قال Y حفظت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم اثنتين أنه قال : إن الله عز و جل محسن يحب الإحسان فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح وليحد أحدكم شفرتة ثم ليرح ذبيحته

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے ہر شی کے ساتھ احسان کرنا لکھا ہے‘ جب تم کسی کو مارو تو اچھے طریقے سے مارواور جب تم ذبح کروتو اچھے طریقے سے ذبح کرو‘ تم میں سے کوئی اپنی چھری تیز کرے تاکہ ذبح کی جانے والی شی کو راحت ہو۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم اثنتين أنه ← حَفِظْت ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7137

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ أبو الأشعث الصنعاني عن شداد · حديث 7138

7122 - حد ثنا أحمد بن داود المكي ثنا سهل بن بكار ثنا وهب ثنا أيوب عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن شداد بن أوس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله عز و جل كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنو الذبح وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے ہر شی کے ساتھ احسان کرنا لکھا ہے‘ جب تم کسی کو مارو تو اچھے طریقے سے مارو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو‘ تم میں سے کوئی اپنی چھری تیز کرے تاکہ ذبح کی جانے والی شی کو راحت ہو۔

ان الله عز و جل ← النبي صلى الله عليه و سلم ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← وَھْبٍ ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ← حَدَّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7138

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الشين ‹ أبو الأشعث الصنعاني عن شداد · حديث 7139

7123 - حدثنا محمد بن عباس الأخرم الأصبهاني ثنا إسماعيل بن أبي الحارث ثنا شبابة بن سوار ثنا شعبة عن عاصم الأحول عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن شداد بن أوس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے اور لگوانے والا روزہ افطار کریں۔

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← شُعْبَةُ، ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَارِثِ ← محمد بن عباس الأخرم الأصبهاني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7139

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ عطاء بن أبي رباح عن ابن عمر ] · حديث 13612

13581 - حدثنا الحسين بن بهان العسكري ثنا سهل بن عثمان ( ح ) وحدثنا محمد بن الحسين بن مكرم ثنا الحسن بن حماد سجادة قالا : ثنا المطلب بن زياد الثقفي عن منصور بن المعتمر عن عطاء عن ابن عمر Y قال : أتى رجل ابن عمر قال : يا أبا عبد الرحمن إنا نسافر فنلقى أقواما يقولون : لاقدر قال : فإذا لقيت أولئك فأخبرهم أن ابن عمر منهم بريء كنا عند رسول الله إذا أتاه رجل حسن الوجه طيب الريح نقي الثوب فقال : السلام عليك يا رسول الله صلى الله عليه و سلم أدنو منك ؟ قال : ( ادنه ) فدنا دنوة قال ذلك مرارا حتى اصطكتا ركبتاه بركبتي النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يارسول الله ما الاسلام ؟ قال : ( شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وحج البيت وصيام رمضان والغسل من الحنابة ) قال : فإذا فعلت ذلك فأنا مسلم ؟ قال : ( نعم ) قال : صدقت قال : فما الايمان ؟ قال : ( الايمان أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله والجنة والنار والقيامة والقدر خيره وشره وحلوه ومره من الله ) قال : فإذا فعلت ذلك فأنا مؤمن ؟ قال : ( نعم ) قال : صدقت فما الاحسان ؟ قال : ( تعبد الله كأنك تراه فإن كنت لا تراه فإنه يراك ) قال : فإذا فعلت ذلك فأنا محسن ؟ قال : ( نعم ) قال : صدقت قلنا : مارأينا رجلا أحسن وجها ولا أطيب ريحا ولا أشد توقيرا للنبي صلى الله عليه و سلم وقوله للنبي صلى الله عليه و سلم : صدقت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( علي بالرجل ) فقمنا وقمنت أنا على طريق من طرق المدينة فلم نر شيئا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( هل تدرون من هذا ؟ ) قالوا : الله ورسوله أعلم قال : ( هذا جبريل صلى الله عليه و سلم يعلمكم مناسك دينكم ما أتاني في صورة قط إلا عرفته إلا هذه الصورة )

حضرت عطاء حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور عرض کی: اے ابو عبد الرحمن ٰ! بے شک ہم سفر کرتے ہیں‘ کئی ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جو کہتے ہیں کہ کوئی تقدیر نہیں ہے۔ فرمایا: پس جب تو ایسے لوگوں سے ملے تو ان سے کہنا کہ ابن عمر‘ ان سے بری ہے‘ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا ‘ اس کا چہرہ خوبصورت تھا‘ خوشبو بہترین اور کپڑے صاف تھے ۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر سلام ہو! کیا میں آپ کے قریب آ سکتا ہوں؟ فرمایا: قریب ہو جاؤ! پس وہ تھوڑا قریب ہوا ‘ اس نے یہی سوال کئی بار دہرایا یہاں تک کہ اس کے دونوں گھٹنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں گھٹنوں سے مل گئے ۔ پھر عرض کی: اے اللہ کے رسول ! اسلام کیا ہے؟ فرمایا: گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور یہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں‘ نماز قائم کرنا ‘ زکوۃ ادا کرنا ‘ حج کرنا ‘ رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور جنابت سے غسل کرنا۔ اس نے عرض کی: پس جب میں یہ کام کرلوں تو میں مسلمان ہوں؟ فرمایا: جی ہاں! اس نے عرض کی: آپ نے سچ فرمایا۔ پھر اس نے عرض کی : اسلام کیا ہے؟ فرمایا: اسلام یہ ہے کہ سچے دل سے ماننا اللہ کو ‘ فرشتوں کو ‘ ( اللہ کی نازل کردہ ) کتابوں کو ‘ اس کے رسولوں کو ‘ جنت ‘ دوزخ ‘ قیامت اور تقدیر کو ‘ اس کی خیر اور اس کے شر اور اس کے میٹھے اور اس کے کڑوے کو ۔ عرض کی : پس جب میں نے یہ کر لیا تو کیا میں مؤمن ہوں؟ فرمایا: جی ہاں! پھر اس نے کہا: آپ نے سچ کہا‘ پس احسان کیا ہے؟ فرمایا: تم اللہ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو پس اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو ‘ تو وہ یقینا ً تمہیں دیکھ رہا ہے ‘ کہا: پس جب میں نے یہ کر لیا تو کیا میں محسن ہوں؟ فرمایا: جی ہاں ! کہا: آپ نے سچ کہا۔ ہم نے عرض کی: ہم نے اس سے خوبصورت چہرے والا اور اس سے زیادہ اچھی خوشبو والا آدمی نہیں دیکھا اور اس سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرنے والا ( بھی نہیں دیکھا ) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا کہنا کہ آپ نے سچ کہا ( یہ عجیب ہے)۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو بلا کر میرے پاس لاؤ۔ پس ہم کھڑے ہوئے اور میں مدینہ کے راستوں میں سے کئی راستوں میں کھڑا رہا ‘ لیکن میں نے کوئی شی نہ دیکھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون تھا؟ صحابہ نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں! فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے ‘ تمہیں تمہارے دین کے احکام سکھا رہے تھے ‘ وہ کبھی کسی صورت میں میرے پاس نہیں آئے مگر میں نے انہیں پہچان لیا مگر اس صورت میں۔

فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ ← نسافر فنلقى أقواما يقولون لاقدر ← يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَتَى رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءٍ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ الثَّقَفِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ، ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ بَهَانٍ الْعَسْكَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13612

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ نسبته · حديث 14873

165 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا محمد بن يحيى الأزدي ثنا داود بن المحبر بن فخذم بن سليمان مولى أبي بكرة قال ثنا أبي المحبر بن فخذم عن المسور بن عبد الله الباهلي عن بعض ولد الجارود عن الجارود Y أنه أخذ هذه النسخة من نسخة عهد العلاء الذي كتب له النبي صلى الله عليه و سلم وحين بعثه إلى البحرين : ( بسم الله الرحمن الرحيم هذا كتاب من محمد رسول الله النبي الأمي القرشي الهاشمي رسول الله ونبيه إلى خلقه كافة للعلاء بن الحضرمي ومن معه من المسلمين عهدا أعهده إليهم اتقوا الله أيها المسلمون ما استطعتم فإني قد بعثت عليكم العلاء بن الحضرمي وأمرته أن يتقي الله وحده لا شريك له وأن يلين فيكم الجناح ويحيسن فيكم السيرة ويحكم بينكم وبين من لقيه من الناس بنما أمر الله في كتابه من العدل وأمرتكم بطاعته إذا فعل ذلك فإن حكم فعدل وقسم فأقسط واسترحم فرحم فاسمعوا له وأطيعوا وأحسنوا مؤازرته ومعاونته فإن له عليكم من الحق طاعته وحقا عظيما لا تقدرون كل قدره ولا يبلغ القول كنه عظمة حق الله وحق رسوله وكما أن لله ولرسوله على الناس عامة وعليكم خاصة حقا واجبا في طاعته والوفاء بعهده ورضي الله عمن اعتصم بالطاعة حق كذلك للمسلمين على ولاتهم حق واجب وطاعة فإن في الطاعة دركا لكل حين ونجاة من كل شر يتقى وأنا أشهد على من وليته شيئا من أمر المسلمين قليلا أو كثيرا فليستخيروا الله عند ذلك ثم ليستعملوا عليهم أفضلهم في أنفسهم إلا وأصابت العلاء بن الحضرمي مصيبة الموت فخالد بن الوليد سيف الله يخلف فيكم العلاء بن الحضرمي فاستمعوا له وأطيعوا أحسنوا مؤازرته وطاعته فسيروا على بركة الله وعونه ونصره وعاقبة رشده وتوفيقه من لقيتم من الناس فادعوهم إلى كتاب الله المنزل وسنة رسوله واحلال ما أحل الله لهم في كتابه وتحريم ما حرم الله عليهم في كتابه وأن يخلعوا الأنداد ويبرأوا من الشرك والكفر والنفاق وأن يكفروا بعبادة الطواغيت واللاتي والعزى وأن يتركوا عبادة عيسى بن مريم وعزيز بن مروة والملائكة والشمس والقمر والنيران وكل شيء متخذ نصبا من دون الله وأن يتبرأوا مما بريء الله ورسوله فإذا فعلوا ذلك فأقروا به فقد دخلوا في الولاية سموهم عند ذلك بما في كتاب الله الذي تدعونهم إليه كتاب الله المنزل مع الروح الأمين على صفيه من العالمين محمد بن عبد الله رسول الله ونبيه أرسله رحمه للعالمين عامة الأبيض منهم والأسود والأنس والجن كتاب فيه بيان لكل شيء كان قبلكم وما هو كائن بعدكم ليكون حاجزا بين الناس حجز الله به بعضهم عن بعض وهو كتاب الله مهيمنا على الكتب مصدقا لما فيها من التوراة والانجيل والزبور يخبركم الله فيه بما قد كان قبلكم مما قد فاتكم دركه في آبائكم الأولين الذين اقتصر رسل الله وأنساؤه كيف كان حوانهم لرسله وكيف كان تصديقهم بآيات الله وكيف كان تكذيبهم بآيات الله فأخبركم الله في كتابه شأنهم وأعمالهم وأعمال من هلك منهم بذنبه ليجتنبوا مثل ذفلك أن يعملوا مثله كي لا تحل عليهم من سخطه ونقمته مثل الذي حل عليهم من سوء أعمالهم وتهاونهم بأمر الله واخبركم الله عز و جل في كتابه هذا بانجاء من نجا ممن كان قبلكم لكي تعملوا مثل أعمالهم فكتب لكم في كتابه هذا تبيان لكل شيء ذلك كله برحمة منه لكم وشفقا من ربكم عليكم وهو هدى من الله من الله من الضلالة تبيان من العمي وإقالة من العثرة ونجاة من الفتنة ونور من الظلمة وشفاء من الأحداث وعصمة من الهلكة ورشد من الغواية وتبيان ما بين الدنيا والآخرة وفيه كمال دينكم فإذا عرضتم عليهم هذا فأقروا كلكم فقد استكملوا الولاية فاعرضوا عليهم عند ذلك الاسلام والاسلا م الصلوات الخمس وإيتاء الزكاة وحج البيت وصيام شهر رمضان والغسل من الجنابة والطهور قبل الصلاة وبر الوالدين وصلة الرحم المسلمة وحسن صحبة الوالدين المشركين فإذا فعلوا ذلك فقد أسلموا فادعوهم عند ذلك إلى الإيمان وابعثوا لهم شرائعكم ومعالم الإيمان شهادة أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله وإن ما جاء به محمد الحق وأن ما سواه الباطل والإيمان بالله وملائكته وكتبه ورسله وأنبيائه واليوم الآخر والإيمان بهذا الكتاب ما بين يديه وما خلفه بالتوراة والانجيل والزبور والإيمان بالبينات والموت والحياة والبعث بعد الموت والحساب والجنة والنار والإيمان بالله ولرسوله وللمؤمنين كافة فإذا فعلوا ذلك واقروا به فهم مسلمون مؤمنون ثم تدعوهم بعد ذلك إلى الإحسان أن يحسنوا فيما بينهم وبين الله في أداء الأمانة وعهده الذي عهده إلى رسوله وعهد رسوله إلى خلقه وائمة المؤمنين والتسليم لأئمة المسمين من كل غائلة لسان ويد وأن يبتغوا لبقية المسلمين خيرا كما يبتغي أحدهم لنفسه والتصديق بمواعيد الرب عز و جل ولقائه ومعاتبته والوداع من الدنيا في كل ساعة والمحاسبة للنفس عن استئناف كل يوم وليلة والتعاهد لما فرض الله يؤديه إليه في السر والعلانية فإذا فعلوا ذلك فهم مسملون محسنون مؤمنون ثم انعتوا لهم الكبائر ودلوهم عليها وخوفوهم من الهلكة في الكبائر إن الكبائر من الموبقات أولهن الشرك بالله لا يغفر أن يشرك به والسحر وما للساحر من خلاق وقطيعة الرحم يلعنهم الله والفرار من الزحف يبوؤوا بغضب من الله والغلول فيأتوا بما غلوا يوم القيامة لا يقبل الله منهم وقتل النفس المؤمنة جزاؤه جهنهم وقذف المحصنة لعنوا في الدنيا والآخرة وأكل مال اليتيم يأكلومن في بطونهم نارا وسيصلون سعيرا وأكل الربا فائذنوا بحرب من الله ورسوله فإذا انتهوا من الكبائر فهم مسلمون مؤمنون محسنون متقون فقد استكملوا التقوى فادعوهم بعد ذلك إلى العبادة والعبادة الصيام والقيام والخشوع والركوع والسجود والإنابة والإحسان والتحميد والتهليل والتسبيح ولاتكبير والصدقة بعد الزكاة والتواضع والسكينة والسكون والمواساة والدعاء والتضرع والإقرار بالملكة والعبودية واستقلاله لما كثر من العمل الصالح فإذا فعلوا ذلك فهم مسلمون مؤمنون محسنون متقون عابدون وقد استكملوا العبادة فادعوهم عند ذلك إلى الجهاد وبينوا لهم ورغبوهم فيما رغبهم الله فيه من فضل الجهاد وفضل ثوابه عند الله فإن انتدجبوا لهم فبايعوهم وادعوهم حتى تبايعوهم إلى سنة الله وسنة رسوله عليكم عهد الله وذمته وسبع كفالات منه لا تنكثوا أيديكم من بيعته ولاتنقضون أمر ولاتي من ولاة المسلمين فإذا أقروا بذلك فبايعوهم وأتسغفروا الله لهم فإذا خرجتم تقاتلون في سبيل الله غضبا لله ونصرا لدينه فمن لقوا من الناس فليدعوهم إلى مثل الذي دعو إليه من كتاب الله وإسلامه وإيمانه وإحسانه وتقواه وعباداته وهجرته فمن تبعهم فهو المستجيب المؤمن المحسن التقي العابد المهاجر له ما لكم وعليه ما عليكم ومن أبى هذا عليكم فقاتلوه حتى يفي إلى أمر الله ويفيء إلى فتنته ومن عاهدتم وأعطيتم ذمة الله كفوا له بها ومن أسلم وأعطاكم الرضا فهو منكم وأنتم منه ومن قاتلكم على هذا من بعد ما بينتموه له فقاتلوه ومن حاربكم فحاربوه أو كايدكم فكيدوا له أو جمع لكم فاجمعوا له أو غالكم فغولوه أو خادعكم فاخدعوه من غير أن تعتدوا أو ماكركم فامكروا به من غير أن تعتدوا سرا وعلانية فإنه من ينتصر من بعد ظلمه فأولئك ما عليهم من سبيل واعملوا أن الله معكم يراكم ويرى أعمالكم ويعلم ما تصنعون كله فاتقوا الله وكونوا على حذر في إنما هذه أمانة ائتمنني عليها ربي أبلغها عباده عذرا منه إليهم وحجة منه احتج بها على من بلغه من الخلق جميعا فمن عمل بما فيه نجا ومن اتبع ما فيه اهتدى ومن خاصم به فلح ومن قاتل به نصر ومن تركه ضل حتى يراجعه تعلموا ما فيه واسمعوه آذانكم وعوه أجوافكم واستحفظووه قلوبكم فإنه نور الأنصار وربيع القلوب وشفاء لما في الصدور وكفى به أمرا ومعتبرا وزاجرا وعظة وداعيا إلى الله ورسوله هذا هو الخير الذي لا شر فيه كتاب محمد بن عبد الله رسول الله صلى الله عليه و سلم للعلاء بن الحضرمي حين بعثه إلى البحرين يدعو إلى الله عز و جل ورسوله أمره أن يدعو إلى ما فيه من حلال وينهاه عما فيه من حرام ويدل على ما فيه من رشد وينهى عما فيه من غي

حضرت جارود سے مروی ہے کہ انہوں نے یہ نسخہ حضرت علاءکے زمانے کے نسخہ سے لیا جو ان کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا تھا جب ان کو بحرین کی طرف بھیجا: اللہ کے نام سے شروع جو انتہائی مہربان ‘ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے! یہ خط اللہ کے نبی ورسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جواُمی نبی ہیں، قریشی ہاشمی ہیں ‘کی طرف سے اللہ کی تمام مخلوق کی طرف حضرت علاء حضرمی کے واسطہ سے اور جو ان کے ساتھ دیگر مسلمان موجود ہیں‘ یہ ایک وعدہ ہے جو میں ان سے کر رہا ہوں ‘اے مسلمانو ! اللہ سے ڈرو جہاں تک تمہاری طاقت ہے ‘بے شک میں نے تمہاری طرف حضرت علاء بن حضرمی اور ان کی بیوی کو بھیجا ہے کہ وہ اللہ وحدہ ‘لاشریک سے ڈر یں اور تمہارے ساتھ نرمی کا سلوک کر یں اور تمہارے ساتھ اچھے چال چلن کا مظاہرہ کریں‘ تمہارے درمیان اور مسلمانوں میں سے جو ان سے ملے ‘اُن کے درمیان فیصلہ کر یں اس چیز کے ساتھ جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں دیا یعنی عدل کا اور میں تم لوگوں کو حکم دیتا ہوں کہ ان کی اطاعت کرو جب وہ عدل کر یں ‘اگر وہ فیصلہ کر یں اور عدل کر یں تقسیم کر یں‘ اور انصاف کریں ‘ان سے رحم کی اپیل کی جائے تو رحم کر یں ‘ان کی بات سنو اور اطاعت کرو اور اچھی طرح ان کی معاونت کرو ‘بے شک تمہارے اوپر حق ہے کہ ان کی اطاعت کر واور بہت بڑاحق ہے جس پر کماحقہ‘ تم قادر نہ ہوسکو اور ساری بات اللہ اور اس کے رسول کے حق تک نہیں پہنچ سکتی ہے جیسے اللہ اور اس کے رسول کا عام لوگوں پر حق ہے تمہارے اوپر خاص حق ہے‘ جو ان کی اطاعت اور ان کے وعدہ کو پورا کرنے میں واجب ہے۔ اللہ راضی ہوا‘ اس سے جس نے اطاعت کو لازم پکڑا ‘یہ اسی طرح تمام مسلمانوں کا ان کے والیوں پر حق ہے۔ بے شک اطاعت میں ہر خیر کو پانا ہے اور ہر اس شر سے نجات ہے جس سے بچنا ضروری ہے اور میں گواہ ہوں ‘ہر اُس آدمی پر جو مسلمانوں کے امر میں سے کسی شی کا والی بنا خواہ وہ تھوڑی ہے یا زیادہ۔ ایسے موقعہ پر اللہ سے خیر مانگو پھر لوگوں پر عامل بنے وہ آدمی جو ان میں سے زیادہ فضیلت والا ہے ‘ورنہ حضرت علاء بن حضرمی کوموت کی مصیبت پہنچے کی تو حضرت خالد بن ولید اللہ کی تلوار تمہارے اند ر حضرت علاء بن حضرمی کے نائب ہوں گے۔ ان کی بات سننا اور ان کی اطاعت کرنا ‘اچھی طرح ان کی اطاعت کرنا ‘اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ کی برکت اور مدد ونصرت کی راہ چلنے والے ہو گے ‘انجام کار اللہ کی طرف سے رہنمائی اور اس کی توفیق ہو گی‘ لوگوں میں سے جس سے تم ملو‘ اسے اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دو جو اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ اس کے رسول کی سنت کی طرف بلاؤ اور انہیں بتاؤ جو اللہ نے اپنی کتاب میں ان کے لیے حلال کیا اور اپنی کتاب میں جوان پر حرام کیا ‘اور یہ کہ اس کا مدمقابل نہ بنائیں ‘شرک سے برأت کا اظہار کر یں‘کفر اور نفاق سے دور ہوں ‘طاغوت اور لات وعزیٰ کی عبادت کا انکار کر یں ۔حضرت عیسیٰ بن مریم ‘حضرت عزیر بن مروہ ‘فرشتوں ‘سورج‘ چاند‘ آگ اور ہر وہ چیز جس کو انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر بت بنایا ہے ‘اس کی عبادت کو ترک کر دیں۔ ہر اس چیز سے برأت کا اظہار کر یں جس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے برأت کی ہے۔ پس جب وہ یہ کام کر یں اور اقراری ہوں تو وہ تمہاری ولایت میں داخل ہو گئے ۔اس وقت ان کے سامنے نام لو ان چیزوں کا جواللہ کی کتاب میں ہیں‘ جس کی طرف تم ان کو بلاتے ہو ‘وہ اللہ کی کتاب ہے جو حضرت روح الامین کی معیت میں تمام عالموں میں سے چنے ہوئے بندے پر نازل ہوئی ہے‘ جن کا نام نامی اسم گرامی محمد بن عبداللہ ہے ‘وہ اللہ کے رسول و نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں‘ اللہ نے آپ کو تمام عالموں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے ‘عام کر کے خواہ وہ سفید ہیں یا سیاہ ‘انسان ہیں یا جن ۔ یہ ایسی کتاب ہے جس میں ہرشی کا بیان ہے جو تم سے پہلے تھی ‘جو تمہارے بعد ہو گی تا کہ لوگوں کے درمیان رکاوٹ ہو ‘جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض سے روکا ہے‘ یہ کتاب پہلی کتابوں کی محافظ اور تورات‘ انجیل اور زبور میں جو ہے اس کی تصدیق کرنے والی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں بتا تا ہے جو تم سے پہلے تھا ‘اس میں سے تم نے فوت کیا جس کا پانا تمہارے پہلے آباء میں ‘جن کے پاس اللہ کے رسول و انبیاء تشریف لائے‘ ان کا اللہ کے رسولوں کو کیسا جواب تھا۔ اللہ کی آیتوں کی تصدیق تھی تو کس انداز میں اور تکذیب کس انداز میں تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تمہیں ان کے کام اور اعمال سے آ گاہ فرمایا ‘نیز ان لوگوں کے اعمال سے جو اپنے گناہ کے سبب ان سے پہلے ہلاک ہوئےتاکہ تم ان جیسے اعمال سے اجتناب کرو۔ ایسا نہ ہو کہ ان لوگوں پر بھی ایسی ہی مصیبت آئے جیسی ان پر ان کے اعمال کے سبب آئی‘ اللہ کی ناراضگی اور انتقام کیونکہ انہوں نے اللہ کے حکم کو بجالانے میں سستی کا مظاہرہ کیا ‘اللہ نے تمہیں خبر دار کیا ہے اپنی اس کتاب میں پہلوں میں سے جس کو اس نے نجات دی‘ کیسے اس کو نجات دی تا کہ تم اس جیسے اعمال کرو۔ پس اس نے تمہارے لیے اس کو ہرشی کا بیان بنایا۔ یہ سب کچھ اس کی رحمت ہے تمہارے لیے اور تم پر تمہارے رب کی طرف سے شفقت ہے‘ یہ اللہ کی طرف سے ہدایت ہے گمراہی سے اور اندھے پن سے بیان ‘پھسلاہٹ سے بچنا‘ فتنہ سے نجات ‘تاریکی سے نور‘ حادثات سے شفاء ‘ہلاکت سے بچاؤ کا سبب گمراہی سے رُشد و ہدایت ‘نیز دنیا و آخرت کے درمیان پھیلی ہوئی ہر چیز کا بیان ہے۔ اس میں تمہارا مکمل دین ہے ‘پس جب اسے پیش کرو تو وہ تمہارے سامنے اقرار کریں تو وہ ولایت کو مکمل کرنے والے ہوں گے۔ اس وقت ان پر اسلام پیش کرو اور اسلام‘ پانچ نماز یں زکوٰۃ ادا کرنا‘ بیت اللہ کا حج ‘ماہِ رمضان کے روزے رکھنا‘جنابت سے غسل‘ نماز سے پہلے وضو کرنا‘ والدین سے نیکی کرنا ‘صلہ رحمی کرنا اور مشرک والدین سے اچھی صحبت رکھنا۔ پس جب وہ یہ کام کر لیں تو وہ مسلمان بن گئے ‘اس وقت ان کو ایمان کی طرف بلاؤ ‘ان کیلئے اپنی شریعتوں کو واضح کرو اور ایمان کی علامات بتاؤ۔ اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ‘وہ لاشریک ہے ‘حضرت محمد اس کے بندے اور سچے رسول ہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کرآئے وہ حق ہے اور اس کے علاوہ باطل ہے۔ اللہ پر ایمان ‘اس کے فرشتوں ‘اس کی کتابوں ‘اس کے رسولوں ‘نبیوں اور یومِ آخرت پر ایمان اور اس کتاب پر ایمان جو سامنے ہے اور جو پیچھے تھا ‘مثلا ً تو رات انجیل اور زبور ‘واضح دلیلوں پر ایمان ‘موت ‘حیات‘ موت کے بعد اٹھنا‘ حساب ‘جنت ‘دوزخ پر ایمان ۔ خیر خواہی اللہ ‘اس کے رسول اور تمام مسلمانوں کیلئے ‘پس جب انہوں نے ایسا کر لیا اور اقرار کیا تو وہ مسلمان بھی ہیں اور مؤمن بھی ہیں پھر ان کو احسان کی طرف دعوت دو کہ وہ احسان کریں اپنے اور اللہ کے درمیان جو کچھ معاملہ ہے‘ امانت کو ادا کرنے میں اس کے وعدہ کو پورا کرنے میں جو اس نے اپنے رسول سے لیا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مخلوق اور مؤمنوں کے اماموں سے لیا۔ محفوظ رکھنا‘ مسلمانوں کے اماموں کو ہر تکلیف دِہ زبان اور ہاتھ سے۔ بقیہ مسلمانوں کیلئے خیر طلب کرنا جیسے ان میں سے کوئی اپنے لیے خیر طلب کرتا ہے ‘اللہ کے وعدوں ‘ملاقات‘ اس کی سزا ‘ہر گھڑی اس دنیا سے الوداع ہونے کی ‘ہر دن اور رات شروع ہونے پر اپنے نفس کے محاسبہ کی تصدیق کرنا۔ معاہدہ کرنا کہ جب اللہ تعالیٰ کوئی چیز فرض فرمائے گا تو اسے پوشیدہ و اعلانیہ ادا کروں گا۔ پس جب لوگوں نے یہ کر لیا تو وہ مسلمان بھی ہیں‘محسن بھی اور مؤمن بھی ہیں ۔ پھر ان لوگوں کے سامنے وضاحت کر یں کہ کبیرہ گناہ کیا ہیں اور ان پر ان کی راہنمائی کریں۔ کبیرہ گنا ہوں کے ارتکاب کی صورت میں ہلاکت سے ان کو خوف دلائیں‘ بے شک کبیرہ گناہ ہلاک کرنے والے ہیں‘ ان میں سے پہلا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا ہے۔ جادو ‘جادوگر کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ قطع تعلقی‘ قطع تعلقی کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے۔ لشکر سے بھاگنا‘اللہ کے غضب کا حق دار بنا تا ہے۔خیانت کرنا ‘پس جن لوگوں نے خیانت کی ہوگی وہ قیامت کے دن ان چیزوں کو اُٹھا کر لائیں گے ‘اللہ قبول نہ فرمائے گا مؤمن کو قتل کرنا تو اس کی سزا جہنم ہے ‘پاکدامن پر تہمت لگانا تو ایسے لوگوں پر دنیا و آخرت میں لعنت کی گئی ہے۔ یتیم کا مال کھانا ‘جو کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں اور عنقریب جہنم رسید ہوں گے۔سود کھانا‘ جو سود کھاتے ہیں وہ اللہ و رسول کو جنگ کا چیلنج دیتے ہیں۔ پس جب وہ کبیرہ گناہوں سے رُک جائیں تو وہ مؤمن مسلمان ‘محسن اور متقی ہیں ۔ انہوں نے تقوی ٰکی ایک منزل حاصل کر لی ہے۔ اس کے بعد ان کو عبادت کی طرف بلائیں۔ عبادت یہ ہے: روزے رکھنا‘ رات کو قیام کرنا ‘خشوع کرنا ‘رکوع کرنا‘ سجود کرنا‘ اللہ کی طرف رجوع کرنا ‘اچھائی کرنا ‘حمد بیان کرنا ‘لا الہ الا اللہ پڑھنا ‘سبحان اللہ کہنا ‘اللہ اکبر کہنا ‘زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد صدقہ کرنا‘ عاجزی کرنا ‘سکینت ‘سکون ‘با ہم غمگساری ‘دعا‘ آہ وزاری (اللہ کی بارگاہ میں )اللہ کی ملکیت ‘عبودیت اور اس کے اپنی ہر صفت میں مستقل ہونے کا اقرار کر نا‘ عمل صالح کی فہرست لمبی ہے‘ پس جب وہ یہ کر لیں تو وہ مسلمان‘مؤمن‘محسن‘ متقی اور عابد ہیں ‘پس انہوں نے عبادت کا راستہ طے کر لیا ہے۔ اس وقت ان کو جہاد کی دعوت دیں‘ ان کیلئے پوری وضاحت کر یں ‘انہیں اس چیز میں رغبت دلائیں جس میں اللہ نے رغبت دلائی ہے ‘جہاد کی فضیلت سے (جنت) انہیں بتائیں کہ اللہ کے ہاں اس کا کتنا ثواب ہے‘ پس اگر وہ اس کے قابل ہو جائیں تو ان سے با قاعدہ بیعت لیں اور ان کو دعوت دیں حتیٰ کہ ان سے اللہ و رسول کی سنت کی بیعت لیں‘ تم پر اللہ کا وعدہ اور اس کا ذمہ ہے ‘اس کی طرف سے سات کفالتیں ہیں: تمہارے ساتھ اس کی بیعت نہ توڑیں ‘مسلمانوں کے والیوں میں سے میرے والیوں کے عہد کو نہ توڑیں‘ پس جب وہ اس کا اقرار کر لیں تو ان کو بیعت کر یں‘ ان کیلئے اللہ سے بخشش مانگیں‘ پس جب تم نکلوتو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے نکلو ‘اگر کسی پر غصہ کروتو اللہ کی رضا کیلئے اور اس کے دین کی مدد کیلئے ‘لوگوں میں سے جوملیں تو ان کو دعوت دینی چاہیے اسی کی مثل کی طرف جس کی طرف دوسروں کو بلایا گیا۔ مثلاً اللہ کی کتاب ‘اس کے اسلام ‘ایمان ‘احسان ‘تقوی ٰ‘عبادت اور ہجرت کی طرف ۔ پس ان میں سے جو پیروی کرے تو وہ قبول کرنے والا مؤمن‘محسن‘ متقی‘ عابد اور مہاجر ہے ۔ اس کے وہی حقوق ہیں جو تمہارے ہیں ‘ان پر وہی فرائض ہیں جو تمہارے اوپر ہیں اور جس نے انکار کیا تمہارے اوپر لازم ہے کہ اس سے جنگ کر وحتیٰ کہ وہ اللہ کے امر کی طرف لوٹ آئے اور فتنہ سے بچ جائے ۔ جوتم نے وعدہ کیا اور اللہ کا ذمہ دیا تو اسے پورا کرو‘ جو مسلمان ہوا اور اس نے تمہیں رضا عطا کی تو وہ تم سے اور تم اس سے ہو اور جس نے اس پرتم سے قتال کیا‘ اس کے بعد کہ تم نے اس کیلئے سب کچھ بیان کر دیا تو اس سے قتال کرو۔ جو تم سے جنگ کرے تم بھی اس سے جنت کر سکتے ہو جوتم سے مکر کرے اُسے اس کے مکر کی سزا دو‘ یا وہ تمہارے لیے لشکر جمع کرے تو تم اس کیلئے جمع کر و‘یا تمہیں دھوکہ دے تو تم اسے دھوکہ کی سزا دو‘ یا جوتم سے خیانت کرے تو اسے خیانت کی سزا دولیکن حد سے تجاوز نہ کرنا ‘یا جوتمہیں فریب دے اسے فریب کی سزا دو بغیر زیادتی کیے ‘پوشیدگی میں اور علانیہ طور پر کیونکہ جو ظلم کے بعد غالب آئیں تو ان پر کوئی راستہ نہیں ہے۔ جان لو! اللہ تمہارے ساتھ ہے ‘وہ تمہیں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے ‘جو تم کرتے ہو ‘وہ سب کچھ جانتا ہے ۔ پس اللہ سے ڈرو اور محتاط ہو جاؤ اس بات میں کہ یہ امانت ہے جس پر مجھے میرے رب نے امین بنایا ہے کہ میں اس کے بندوں کو پہنچاؤں اس کی طرف سے ان کی طرف عذر‘ اس کی طرف سے حجت‘ جس کے ساتھ اس نے دلیل قائم کی ہے ‘اس کے خلاف جس کو اس کی تمام مخلوق میں سے یہ پیغام پہنچا ہے‘ اس میں جو ہے جس نے اس پر عمل کیا اُس نے نجات پائی ‘جو اس میں ہے جس نے اس کی پیروی کی اُس نے ہدایت پائی‘ جس نے اس کے ذریعے دشمن پر دلیل قائم کی اُس نے فلاح پائی ‘جس نے اس کو سامنے رکھ کر جہاد کیا اُس کی مدد کی گئی ‘جس نے اس کو چھوڑا وہ گمراہ ہوا یہاں تک کہ وہ رجوع کرلے‘ جو اس میں ہے اسے اچھی طرح سیکھ لو اور اسے اپنے کانوں کو سنوا لو ‘اپنے پیٹوں میں یاد رکھ لو اور اپنے دلوں کو یاد کر وا لو کیونکہ یہ آنکھوں کا نور‘ دلوں کو موسمِ بہار اور سینوں کی بیماری کیلئے شفاء ہے۔ حکم دینے‘ اعتبار کرنے ‘جھڑ کنے‘ نصیحت کرنے اور اللہ و رسول کی طرف بلانے کو کافی ہے‘ یہی وہ خبر ہے جس میں کوئی بُرائی نہیں ۔ حضرت محمد بن عبداللہ جو اللہ کے رسول ہیں‘ کا خط حضرت علاء بن حضرمی کیلئے جس وقت ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کی طرف بھیجا ‘وہ اللہ کے رسول کی طرف بلانے والے تھے‘ انہیں حکم صادر فرمایا کہ اس میں جو حلال ہے ‘اس کی طرف بلاؤ اور منع کرو اس سے جو حرام ہے اور راہنمائی کرواس پر جو اس میں ہدایت ہے اور جو گمراہی ہے ‘ اس سے روکو۔

الْجَارُودِ، ← بعض ولد الجارود ← المسور بن عبد الله الباهلي ← أَبِي الْمُحَبَّرُ بْنُ فَخْذَمٍ ← دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ بْنِ فَخْذَمِ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى أَبِي بَكْرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14873

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7389

7389 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ [ص:242] الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تَحُثُّ عَلَى صِلَةِ الرَّحِمِ، وَالْإِحْسَانِ فِي الْجَارِ، وإِيوِاءِ الْيَتِيمِ، وَإِطْعَامِ الضَّيْفِ، وَإِطْعَامِ الْمَسَاكِينِ، وَكُلُّ هَذَا كَانَ هِشَامُ بْنُ الْمُغِيرَةِ يَفْعَلُهُ، فَمَا ظَنُّكَ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ قَبْرٍ قُبِرَ لَا يَشْهَدُ صَاحِبُهُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَهُوَ جَذْوَةٌ مِنَ النَّارِ، وَقَدْ وَجَدْتُ عَمِّيَ أَبَا طَالِبٍ فِي طَمْطَامٍ مِنَ النَّارِ، فَأَخْرَجَهُ اللَّهُ لِمَكَانِهِ مِنِّي وإحْسَانِهِ إِلَيَّ، فَجَعَلَهُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَلَا عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ إِلَّا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، وَلَا يُرْوَى عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ "

حضرت اُم سلمہ زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا حجۃ الوداع کے موقع پر ۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ صلہ رحمی ، پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک ، یتیم کے ساتھ محبت ، مہمان کو کھانا کھلانا ، مساکین کو کھانا کھلانے پر ابھارتے ہیں ، یہ کام ہشام بن مغیرہ کرتے رہے ، آپ کا کیا خیال ہے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ان کے متعلق؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوبھی قبر والا لا الہ الا الہ نہیں پڑھے گا وہ جہنم میں ہو گا۔ میں نے اپنے چچا ابو طالب کو آگ کے درمیان میں پایا ، سو اللہ نے ان کو اس سے نکالا کیونکہ وہ میری عزت کرتے اور مجھ پر احسان کرتے تو اللہ نے ان کو آ گ کے اوپر والی سطح میں رکھا۔

أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ [ص:242] الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عمرو بن ثابت ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7389

المعجم الاوسط للطبرانی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 2630

2630 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ قَالَ: نا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، [ص:106] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ حِينَ يُوَلُّونَ عَنْهُ، فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَانَتِ الصَّلَاةُ عِنْدَ رَأْسِهِ، وَالزَّكَاةُ عَنْ يَمِينِهِ، وَالصَّوْمُ عَنْ شِمَالِهِ، وَفِعْلُ الْخَيْرَاتِ وَالْمَعْرُوفُ وَالْإِحْسَانُ إِلَى النَّاسِ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ، فَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ، فَتَقُولُ الصَّلَاةُ: لَيْسَ قِبَلِي مَدْخَلٌ، فَيُؤْتَى عَنْ يَمِينِهِ، فَتَقُولُ الزَّكَاةُ: لَيْسَ مِنْ قِبَلِي مَدْخَلٌ، ثُمَّ يُؤْتَى عَنْ شِمَالِهِ، فَيَقُولُ الصَّوْمُ: لَيْسَ مِنْ قِبَلِي مَدْخَلٌ، ثُمَّ يُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ، فَيَقُولُ فِعْلُ الْخَيْرَاتِ وَالْمَعْرُوفُ وَالْإِحْسَانُ إِلَى النَّاسِ: لَيْسَ مِنْ قِبَلِي مَدْخَلٌ، فَيُقَالُ لَهُ: اجْلِسْ، فَيَجْلِسُ وَقَدْ مَثُلَتْ لَهُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ، فَيُقَالَ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ؟ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا، فَصَدَّقْنَا وَاتَّبَعْنَا، فَيُقَالُ لَهُ: صَدَقْتَ، وَعَلَى هَذَا حَيِيتَ، وَعَلَى هَذَا مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27] فَيُقَالُ: افْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ، فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ، فَيُقَالُ: هَذَا كَانَ مَنْزِلَكَ لَوْ عَصَيْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَزْدَادُ غِبْطَةً وَسُرُورًا، وَيُقَالُ لَهُ: افْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ، فَيُفْتَحُ لَهُ، فَيُقَالُ: هَذَا مَنْزِلُكَ، وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ، فَيَزْدَادُ غِبْطَةً وَسُرُورًا، فَيُعَادُ الْجِلْدُ إِلَى مَا بَدَأَ مِنْهُ، وتُجْعَلُ رُوحُهُ فِي نَسَمِ طَيْرٍ تَعْلَقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ، فَيُؤْتَى فِي قَبْرِهِ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ، فَلَا يُوجَدْ شَيْءٌ، فَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ، فَيَجْلِسُ خَائِفًا مَرْعُوبًا، فَيُقَالُ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ؟ وَمَا تَشْهَدُ بِهِ؟ فَلَا يَهْتَدِي لِاسْمِهِ، فَيُقَالُ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ: سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا، فَقُلْتُ كَمَا قَالُوا، فَيُقَالُ لَهُ: صَدَقْتَ، عَلَى هَذَا حَيِيتَ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ، فَذَلِكَ [ص:107] قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَ: {وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا} [طه: 124] فَيُقَالُ: افْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ، فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا كَانَ مَنْزِلَكَ وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ لَوْ أَنْتَ أَطَعْتَهُ، فَيَزْدَادُ حَسْرَةً وثُبُورًا، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: افْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ، فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَيْهَا، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا مَنْزِلُكَ وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ، فَيَزْدَادُ حَسْرَةً وثُبُورًا» قَالَ أَبُو عُمَرَ: قُلْتُ لِحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ: كَانَ هَذَا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ أَبُو عُمَرَ: كَأَنَّهُ يَشْهَدُ بِهَذِهِ الشَّهَادَةِ عَلَى غَيْرِ يَقِينٍ يَرْجِعُ إِلَى قَلْبِهِ، كَانَ يَسْمَعُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَيَقُولُهُ لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِهَذَا التَّمَامِ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ

یہ محمد بن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی سند سے صرف حماد بن سلمہ رضی اللہ عنہ ہی روایت کرتے ہیں ان سے یہ روایت کر نے میں ابوعمر ضریر اکیلے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ، [ص:348] ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← اَبُوْ عُمَرَ الضَّرِیْرُ ← أَبُو مُسْلِمٍ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Chapter of the thousand › A door of his name is Abraham · Hadith 2630

chevron_left Previous
1…678…58
Next chevron_right