Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإحسان

Ihsan

  • Ihsan
  • احسان

1155 hadiths

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْقَوْلُ فِي الْإِيمَانِ بِالْقَدَرِ · حديث 80

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا [ص:133] كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُرَيْدَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ فَانْطلَقْنَا حُجَّاجًا أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَلَمَّا قَدِمْنَا قُلْنَا: لَوْ لَقِينَا بَعْضَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ فِي الْقَدَرِ؟ قَالَ: فَوَافَقْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فِي الْمَسْجِدِ فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبي أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ قَالَ يَحْيَى: فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي يَكِلُ الْكَلَامَ إِلَيَّ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ ظَهَرَ قَبْلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَعْرِفُونَ الْعِلْمَ يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ وَإِنَّمَا الْأَمْرُ أُنُفٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَإِذَا لَقِيتُمْ أُولَئِكَ فَأَخْبِرُوهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مِنِّي بُرَآءُ، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ كَانَ لِأَحَدِهِمْ مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهُ مَا قَبِلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا نَعْرِفُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخْذَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ السَّبِيلَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: صَدَقْتَ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ [ص:134] الْإِيمَانِ مَا الْإِيمَانُ؟ فَقَالَ: الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْقدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ، فَقَالَ: صَدَقْتَ، فَقَالَ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ مَا الْإِحْسَانُ؟ فَقَال: الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ فَحَدِّثْنِي عَنِ السَّاعَةِ مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا؟ قَال: أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاةِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبِنَاءِ، ثُمَّ انْطَلَقَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عُمَرُ مَا تُدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلمُ، قَالَ: ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ

ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نے خبر دی کہا ہم سے عیسیٰ بن عبداللہ الطیالسی نے بیان کیا کہا ہم سے ابو عبدالرحمٰن المقری نے بیان کیا کہا ہم سے کہمس بن حسن نے بیان کیا کہا میں نے عبد اللہ بن بریدہ کو بیان کرتے ہوئے سناوہ یحییٰ بن یعمر سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا: سب سے پہلا شخص جس نے تقدیر کے متعلق(بری) بات کی وہ بصرہ میں معبد جہنی تھا چنانچہ میں اور حمید بن عبدالرحمٰن حج کرنے کے لیے گئے جب وہاں پہنچے تو ہم نے کہا اگر ہم رسول اللہ سلیم کے بعض صحابہ سے ملاقات کریں تو ہم ان سے سوال کریں گے کہ وہ تقدیر کے متعلق باتیں کرنے والی اس قوم کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومسجد میں پالیا تو میں اور میرا دوست انہیں ملے ہم میں سے ایک ان کی دائیں جانب تھا اور دوسرا ان کی بائیں جانب۔ یحییٰ نے کہا: میں نے یہ گمان کیا کہ میرا دوست کلام کو میرے سپرد کر دے(یعنی مجھے گفتگو کر نے کا موقع دے) تو میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن ! ہمارے ہاں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور علم پہچانتے ہیں وہ گمان کرتے ہیں کہ تقدیر کچھ نہیں اور بلاشبہ یہ نیا معاملہ ہے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: تم جب ان سے ملاقات کرو گے تو انہیں خبر دے دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں اور اس ذات کی قسم جس کیساتھ عبداللہ بن عمر حلف اٹھاتا ہے اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابرسونا ہو پھر وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے تو اللہ تعالیٰ اس سے اس خرچ کردہ کو قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ وہ اس کی تمام اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لائیں۔ پھر فرمایا: مجھ سے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک انتہائی سفید کپڑوں ، انتہائی سیاہ بالوں والا آدمی آیا اس پر کوئی آثار سفر دکھائی نہیں دیتے تھے اور ہم اسے پہچانتے بھی نہ تھے حتٰی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا چنانچہ اس نے اپنے گھٹنے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں کیساتھ ملا لیے اور اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے پھر کہا : یامحمد !(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) مجھے اسلام کے متعلق خبر دیجئے کہ اسلام کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور بلاشبہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں اور تو نماز قائم کر ، زکوٰۃ ادا کر ، رمضان کے روزے رکھ اور اگر تو راستے کی طاقت رکھتا ہے تو بیت اللہ کا حج کر ! اس آدمی نے کہا: آپ نے سچ کہا: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر اس نے کہا: اے محمد!(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) مجھے ایمان کے متعلق خبر دیجئے کہ ایمان کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر ، اس کے فرشتوں ،اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، قیامت کے دن اور ہر قسم کی اچھی وبری تقدیر پر ایمان لائے تو اس نے کہا آپ نے سچ کہا پھر اس نے کہا : مجھے احسان کے متعلق خبر دیجئے کہ احسان کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت ایسے کر گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو تو(کم از کم اتنی کیفیت ہونی چاہیئے کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔اس نے کہا: مجھے قیامت کے متعلق بتائیے کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس سے سوال کیا گیا ہے(یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) وہ سوال کرنے والے(یعنی جبریل) سے زیادہ نہیں جانتا(یعنی جتنا تجھے علم ہے کہ وقت قیامت کسی کو بتانا نہیں مجھے بھی اتنا علم ہے کہ وقت قیامت کسی کو نہیں بتانا) تو اس نے کہا: مجھے اس کی نشانیوں کی خبر دیجئے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لونڈی اپنے مالک کو جنے گی ، اور تو ننگے پاؤں، ننگے بدن بکریاں چرانے والوں کو دیکھے گا کہ وہ محلات پر فخر کریں گے۔ پھر وہ آدمی چلا گیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں تھوڑی دیر ٹھہرا رہا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے فرمایا : اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ سائل کون ہے؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول(عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم) زیادہ جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے جو تمہارے پاس تمہارا دین سکھانے کے لیے آئے تھے۔

یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← کهمس بن الحسن ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← عيسى بن عبد الله الطيالسي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أبو الحسن بن بشران

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying on Faith in Destiny · Hadith 80

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابٌ الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَأَنَّهُمَا مَخْلُوقَتَانِ مُعَدَّتَانِ لِأَهْلِهِمَا وَبِمَا أَخْبَرَ عَنْهُ مِنْ حَوْضِهِ ومِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ قَبْلَ قِيَامِهَا · حديث 179

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، أنا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبُحْتُرِيِّ الرَّزَّازُ قَالَا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي (ح) ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَائِينِيُّ قَالَا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ قَوْمًا يَزْعُمُونَ أَنْ لَيْسَ قَدَرٌ، قَالَ: فَهَلْ عِنْدَنَا مِنْهُمْ أَحَدٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَأَبْلِغْهُمْ عَنِّي إِذَا لَقِيتَهُمْ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بَرِيءٌ إِلَى اللَّهِ مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ بُرَآءُ مِنْهُ، سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ سَحْنَاءُ سَفَرٍ، وَلَيْسَ مِنْ [ص:207] أَهْلِ الْبَادِيَةِ، يَتَخَطَّى حَتَّى وَرَكَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يَجْلِسُ أَحَدُنَا فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: «الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنْ تُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتِ وَتَعْتَمِرَ، وَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَتُتِمَّ الْوُضُوءَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ» ، قَالَ: فَإِنْ فَعَلْتُ هَذَا فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: «الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْمِيزَانِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ» ، قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ هَذَا فَأَنَا مُؤْمِنٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: «أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ» قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ هَذَا فَأَنَا مُحْسِنٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَمَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ إِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ بِأَشْرَاطِهَا» ، قَالَ: أَجَلْ، قَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ الْعَالَةَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبِنَاءِ، وَكَانُوا مُلُوكًا قَالَ: مَا الْعَالَةُ الْحُفَاةُ الْعُرَاةُ؟ قَالَ: الْعَرِيبُ، قَالَ: وَإِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ تَلِدُ رَبَّتَهَا وَربَّهَا فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ "، قَالَ: صَدَقْتَ، ثُمَّ نَهَضَ فَوَلَّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَىَّ بِالرَّجُلِ» . قَالَ: فَطَلَبْنَاهُ، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ فَخُذُوا عَنْهُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا شُبِّهَ عَلَيَّ مُنْذُ أَتَاني غَيْرَ مَرَّتِي هَذِهِ مَا عَرَفْتُهُ حَتَّى وَلَّى» قَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ: قَدْ سَمَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةَ الشَّهَادَةِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِسْلَامًا، وَسَمَّاهُ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قِصَّةِ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ إِيمَانًا، وَفِي [ص:208] الْحَدِيثَيْنِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُمَا اسْمَانِ لِمُسَمًّى وَاحِدٍ إِلَّا أَنَّهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَسَّرَ الْإِيمَانَ بِمَا هُوَ صَرِيحٌ فِيهِ وَهُوَ التَّصْدِيقُ، وَفَسَّرَ الْإِسْلَامَ بِمَا هُوَ أَمَارَةٌ لَهُ، وَإِنْ كَانَ اسْمُ صَرِيحِهِ يَتَنَاوَلُ أَمَارَتَهُ، وَاسْمُ أَمَارَتِهِ يَتَنَاوَلُ صَرِيحَهُ، وَهَذَا كَمَا فَصَلَ بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ الْإِحْسَانِ وَإِنْ كَانَ الْإِيمَانُ وَالْإِسْلَامُ إِحْسَانًا، وَالْإِحْسَانُ الَّذِي فَسَّرَهُ بِالْإِخلَاصِ وَالْيَقِينِ يَكُونُ إِيمَانًا، وَقَوْلُهُ فِي أَشْرَاطِ السَّاعَةِ «تَلِدُ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا وَربَّهَا» يُرِيدُ بِهِ اتِّسَاعَ الْإِسْلَامِ وَكَثْرَةَ السَّبَايَا حَتَّى يَسْتَوْلِدَ النَّاسُ الْجَوَارِيَ فَتَلِدَ الْأَمَةُ مِنْ سَيِّدِهَا ابْنَةً أَوِ ابْنًا فَيَكُونَ وَلَدَهَا فِي مَعْنَى سَيِّدِهَا إِذْ هُوَ وَلَدُ مَوْلَاهَا، وَبَعْثَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتِّسَاعُ شَرِيعَتِهِ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ بِمَعْنَى أَنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّاعَةِ نَبِيٌّ آخَرُ ثُمَّ لَا يَعْلَمُ أَحَدٌ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ

ابو الحسین علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران العدل نے ہمیں خبر دی کہا ابو علی اسماعیل بن محمد الصفار اور ابو جعفر محمد بن عمرو بن البحتری الرزاز نے خبر دی دونوں نے کہا ہم سے محمد بن عبیداللہ بن منادی نے بیان کیا۔ یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف گئے اور فرمایا : ابو عبداللہ الحافظ ، ابو الحسن علی بن محمد بن علی الاسفرائینی نے ہمیں خبر دی دونوں نے کہا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ابو جعفر محمد بن عبیداللہ بن المنادی نے بیان کیا کہا ہم سے یونس بن محمد المؤدب نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا وہ پہ باپ سے وہ یحییٰ بن یعمر سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے عرض کیا اے ابو عبدالرحمٰن ! ایک قوم یہ گمان کرتی ہے کہ تقدیر کچھ نہیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا ان میں سے یہاں کوئی ہے؟ کہتے ہیں میں نے عرض کی : یہاں ان میں سے کوئی نہیں تو آپ نے فرمایا: جب تم ان سے ملاقات کرو تو میری طرف سے انہیں یہ بات پہنچا دینا کہ ابن عمر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم سے بری ہے اور تم ابن عمر سے بری ہو میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک آدمی آیا اس پر آثار سفر تھے نہ تو وہ اہل دیہات سے تھا اور نہ اہل شہر میں سے تھا وہ چلتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس طرح بیٹھ گیا جیسے ہم سے کوئی ایک نماز کی حالت میں بیٹھتا ہے پھر اس نے اپنے دونوں ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ دیئے پھر کہا : اے محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اسلام کیا ہے؟ فرمایا: ’’اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد پاک اللہ کے رسول ہیں اور تو نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور بیت اللہ کا حج وعمرہ کرے اور غسل جنابت کرے، مکمل وضو کرے اور رمضان کے روزے رکھے‘‘۔اس نے کہا اگر میں یہ کرلوں تو کیا میں مسلمان ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا اس نے کہا: اے(سیدنا) محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ایمان کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر ایمان لائے اور اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر اور تو جنت ، دوزخ اور میزان پر ایمان لائے اور تو موت کے بعد جی اٹھنے پر ایمان لائے اور تو اس کی اچھی بری تقدیر پر ایمان لائے‘‘۔اس نے کہا : جب میں ایسا کرلوں تو کیا میں مومن ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” ہاں‘‘ اس نے کہا آپ نے سچ فرما یا پھر اس نے کہا :اے(سیدنا) محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’تو اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو(یہ خیال ضرور ہونا چاہیے کہ) وہ دیکھ رہا ہے‘‘ اس نے کہا جب میں ایسا کرلوں تو کیا میں محسن ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں‘‘ اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا اس نے کہا: قیامت کب قائم ہو گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ پاک ہے جس سے سوال کیا جا رہا ہے وہ سائل سے زیادہ قیامت کے بارے میں نہیں جانتا اگر تو چاہے میں اس کی علامات کی تجھے خبر دوں ؟‘‘اس نے کہا ہاں علامات بتائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب تو دیکھے فقیر ، ننگے پاؤں اور ننگے بدن والوں کو کہ وہ اس پر فخر کرنے لگیں اور وہ بادشاہ ہو جائیں‘‘۔ اس نے کہا :فقیر ، ننگے پاؤں اور ننگے بدن والے کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ دیہاتی ہوں گے ‘‘فرمایا:’’ اور جب تو لونڈی کو دیکھے کہ وہ اپنی مالکن اور مالک کو جنے تو یہ قیامت کی علامات میں سے ہے‘‘ اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا پھر وہ آدمی اٹھا اور چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تم جانتے ہو یہ کون ہے ؟ یہ جبریل علیہ السلام ہیں وہ تمہارے پاس تمہارے دین کوسکھانے کے لیے آئے تھے تو تم اس سے ان باتوں کو لے لو! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب سے وہ میرے پاس آ رہا ہے اس بار کے علاوہ وہ مجھ پر مشتبہ نہ ہوا اور میں اسے پہچان نہ سکا یہاں تک کہ وہ واپس چلا گیا‘‘۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں کلمہ شہادت کو اسلام کا نام دیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث میں وفد عبد القیس کی حدیث میں کلمہ شہادت کو ایمان کا نام دیا یہ دونوں حدیثیں اس کی دلیل ، کہ ایمان واسلام ایک ہی چیز کے نام ہیں مگر اس حدیث میں ایمان کی تفسیر اس بات سے بیان کی جو اس بارے میں صریح ہے اور وہ تصدیق ہے(یعنی ایمان تصدیق کا نام ہے) اور ایمان کی تفسیر اس بات سے کی جو اس کی نشانی ہے اگرچہ اس کی صریح کا نام اس کی نشانی کا شامل ہے اور اس کی نشانی کا نام اس کے صریح کو شامل ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے ان دونوں کے مابین اور احسان کے مابین تفصیل بیان کی اگرچہ ایمان و اسلام ،احسان ہی ہیں اور احسان کی تفسیر اخلاص ویقین کیساتھ بیان کی جو ایمان ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیامت کی علامات کے بارے میں یہ فرمان : ’’لونڈی اپنی مالکن اور مالک کا جنے گی‘‘ اس سے مراد اسلام کو وسعت دینا اور کثرت سے لونڈیوں کا ہونا ہے حتٰی کہ لوگ اپنی لونڈیوں سے اولاد حاصل کریں گئے تو لونڈی اپنے مالک کی بیٹی یا بیٹے کو جنے گی تو اس کا بیٹا بھی اس کا سردار ہی ہو گا کیونکہ وہ اپنے مالک کا بیٹا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وسعت اور آپ کی شریعت کا وسیع ہونا یہ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے اس معنی میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قیامت کے مابین کوئی دوسرا نبی نہیں ہے پھر کوئی نہیں جانتا ہے کہ قیامت کب قائم ہو گی مگر اللہ تعالیٰ(یا جسےاللہ تعالیٰٰ قیامت کا علم عطا فرمائے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے قیامت کا علم عطافرمایا ہے یہی محققین کا مذہب ہ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے : انباء الحیی از تصنیف امام الشاہ احمد رضا خان محدث بریلی رحمہ اللہ تعالیٰ)

قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ← أبو جعفر محمد بن عبيد الله بن المنادي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو الحسن علي بن محمد بن علي الإسفراييني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ← أبو جعفر محمد بن عمرو بن البحتري الرزاز ← أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h · Hadith 179

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْإِيمَانِ بِعَذَابِ الْقَبْرِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ · حديث 202

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ [ص:221] عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ حِينَ يُوَلُّونَ عَنْهُ، فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَانَتِ الصَّلَاةُ عِنْدَ رَأْسِهِ، وَكَانَ الصِّيَامُ عَنْ يَمِينِهِ، وَكَانَتِ الزَّكَاةُ عَنْ يَسَارِهِ، وَكَانَ فِعْلُ الْخَيْرَاتِ مِنَ الصَّدَقَةِ، وَالصِّلَةِ وَالْمَعْرُوفِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى النَّاسِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ، فَتَقُولُ الصَّلَاةُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، ثُمَّ يُؤْتَى عَنْ يَمِينِهِ فَيَقُولُ الصِّيَامُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، ثُمَّ يُؤْتَى عَنْ يَسَارِهِ فَتَقُولُ الزَّكَاةُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، ثُمَّ يُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ، فَيَقُولُ فِعْلُ الْخَيْرَاتِ مِنَ الصَّدَقَةِ وَالصِّلَةِ وَالْمَعْرُوفِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى النَّاسِ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، فَيُقَالَ لَهُ: اجْلِسْ فَيَجْلِسُ قَدْ مُثِّلَتْ لَهُ الشَّمْسُ قَدْ دَنَتْ لِلْغُرُوبِ ـ فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا الرَّجُلُ مَاذَا تَقُولُ فِيهِ؟ فَيَقُولُ: دَعُونِي حَتَّى أُصَلِّي، فَيَقُولُونَ: إِنَّكَ سَتَفْعَلُ، أَخْبِرْنَا عَمَّا نَسْأَلُكَ عَنْهُ، قَالَ: عَمَّ تَسْأَلُونِي؟ قَالُوا مَاذَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي فِيكُمْ، وَبِمَاذَا تَشْهَدُ عَلَيْهِ؟ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّهُ جَاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، فَيُقَالُ لَهُ: عَلَى ذَلِكَ حَيِيتَ وَعَلَى ذَلِكَ مِتَّ وَعَلَى ذَلِكَ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنْهَا وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ فِيهَا، فَيَزْدَادُ غِبْطَةً وَسُرُورًا، ثُمَّ يُفْسَحُ لَهُ قَبْرُهُ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَيُنَوَّرُ لَهُ وَيُعَادُ الْجَسَدُ كَمَا بُدِئَ وَيُجْعَلُ نَسَمَةً مِنَ النَّسَمِ الطَّيِّبِ وَهِيَ طَائِرٌ تَعَلَّقَ فِي شَجَرَةِ الْجَنَّةِ ". قَالَ مُحَمَّدٌ: وَسَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ قَالَ: فَيَنَامُ نَوْمَةَ الْعَرُوسِ لَا يُوقِظُهُ إِلَّا أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ، ثُمَّ عَادَ إِلَى حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ} [إبراهيم: 27] وَإِنْ كَانَ كَافِرًا أُتِيَ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَلمْ يُوجَدْ شَيْءٌ، ثُمَّ أُتِيَ عَنْ يَمِينِهِ فَلمْ يُوجَدْ شَيْءٌ، ثُمَّ أُتِيَ عَنْ يَسَارِهِ فَلمْ يُوجَدْ شَيْءٌ، ثُمَّ أُتِيَ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ فَلمْ يُوجَدْ شَيْءٌ، فَيُقَالُ [ص:222] لَهُ: اجْلِسْ فَيَجْلِسُ خَائِفًا مَرْعُوبًا، فَيُقَالُ لَهُ: أَرَأَيْتُكَ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ، أَيُّ رَجُلٍ هُوَ؟ وَمَاذَا تَقُولُ فِيهِ؟ وَمَاذَا تَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ؟ فَيَقُولُ: أَيُّ رَجُلٍ؟ فَيُقَالُ: الَّذِي فِيكُمْ، فَلَا يَهْتدِي لَاسْمِهِ حَتَّى يُقَالَ لَهُ: مُحَمَّدٌ، فَيَقُولُ: مَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ قَالُوا قَوْلًا فَقُلْتُ كَمَا قَالَ النَّاسُ، فَيُقَالُ لَهُ: عَلَى ذَلِكَ حَيِيتَ وَعَلَى ذَلِكَ مِتَّ وَعَلَى ذَلِكَ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ النَّارِ فَيُقَالُ لَهُ: ذَلِكَ مَقْعَدُكَ مِنَ النَّارِ وَمَا أَوْعَدَ اللَّهُ لَكَ فَيَزْدَادُ حَسْرَةً وَثُبُورًا ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَيُقَالُ لَهُ: ذَلِكَ كَانَ مَقْعَدَكَ مِنَ الْجَنَّةِ وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ فِيهَا لَوْ أَطَعْتَهُ فَيَزْدَادُ حَسْرَةُ وَثُبُورًا، ثُمَّ يُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى} [طه: 124]

قبر میں بندے کے نیک اعمال کا ساتھ دینا: ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ابو الحسن علی بن محمد المصری نے ہمیں خبر دی کہا ابو غسان مالک بن یحییٰ نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالوہاب بن عطاء نے ہم سے بیان کیا کہا محمد بن عمرو نے ہمیں خبر دی وہ ابو سلمہ سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ میت کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور لوگ جب واپس آتے ہیں تو یقیناً وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے پھر اگر وہ مؤمن ہوتا ہے تو نماز اس کے سر کے پاس ہوتی ہے ، روزہ دائیں جانب اور زکوٰۃ اس کی بائیں جانب اور تمام نیک افعال یعنی صدقہ ،صلہ رحمی ، نیکی اور لوگوں کیساتھ بھلائی اس کے پاؤں کے پاس ہوتی ہے پھر جب فرشتے اس کی سر کی جانب آتے ہیں تو نماز کہتی ہے میری طرف سے داخل ہونے کا راستہ نہیں ہے پھر وہ دائیں جانب سے آتے ہیں تو روزہ کہتا ہے میری طرف سے داخل ہونے کا راستہ نہیں ہے پھر وہ بائیں جانب سے آتے ہیں تو زکوٰۃ کہتی ہے میری طرف سے داخل ہونے کا راستہ نہیں ہے پھر وہ پاؤں کی جانب سے آتے ہیں تو تمام نیک افعال یعنی صدقہ ،صلہ رحمی ، نیکی اور لوگوں کیساتھ بھلائی کہتی ہے میری جانب سے داخل ہونے کا راستہ نہیں ہے تو اسے کہا جاتا ہے بیٹھ جا! تو وہ بیٹھ جاتا ہے اور اسے سورج کی تمثیل دکھائی جاتی ہے جو غروب کے قریب ہو گیا ہو پھر اسے کہا جاتا ہے یہ شخصیت ہے ان کے بارے میں تو کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے مجھے چھوڑ دو یہاں تک کہ میں نماز پڑھ لوں ، وہ کہتے ہیں: بلاشبہ یہ کام عنقریب تو کر لینا جس کے بارے میں ہم تجھ سے سوال کر رہے ہیں ان کے متعلق ہمیں خبر دے ! وہ کہتا ہے کس کے بارے میں تم مجھ سے سوال کر رہے ہو؟ وہ کہتے ہیں: اس ہستی کے بارے میں کیا کہتا ہے جو تم میں(مبعوث کیئے گئے) ہیں ؟ اور کس چیز کی شہادت ان پر دیتا ہے؟ تو وہ کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حق لے کر آئے ہیں تو اسے کہا جاتا ہے : اسی پر تو زندہ رہا ، اسی پر تیری موت آئی اور ان شاء اللہ اسی پرتو اٹھے گا پھر اس کے لیے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے پھر اسے کہا جاتا ہے اس میں اپنا ٹھکانہ اور جو کچھ اس میں اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے تیار کیا ہے وہ دیکھ لے تو اس کے رشک اور خوشی میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر اس کی قبر ستر ہاتھ وسیع ہو جاتی ہے اور اس کے لے اس کی قبر منور ہو جاتی ہے اور اس کے جسم کولوٹا دیا جاتا ہے جیسے پہلے کیا گیا تھا اور اس کی روح پاکیزہ روحوں میں سے کر دی جاتی ہے اور وہ پرندہ(کی صورت میں) ہوتا ہے جو جنت کے درختوں میں لٹکا ہوا ہے‘‘۔ محمد نے کہا: میں نے عمر بن حکم بن ثوبان سے سنا، آپ نے کہا: ’’پھر وہ دولہن کی طرح سو جاتا ہے جسے اس کے اہل میں محبوب ہی جگاتا ہے(وہ اسی طرح سو یار ہے گا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ(قیامت کے دن) اسے اٹھائے گا‘‘۔ پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی طرف لوٹے اور کہا: یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: یُثَبِّتُ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوٓا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ، وَیُضِلُّ اللہُ الظّٰلِمِیْنَ (سيدنا ابراہیم علیہ السلام :27) ترجمہ: اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے(اور اللہ جو چاہے کرے) اور اگر مرنے والا کافر ہو تو فرشتے اس کے سر کے پاس آتے ہیں تو وہاں کسی چیز کونہیں پاتے پھر دائیں جانب آتے ہیں وہاں بھی کسی چیز کو نہیں پاتے پھر بائیں جانب آتے ہیں وہاں بھی کوئی چیز نہیں پاتے ہیں پھر پاؤں کی جانب آتے ہیں وہاں بھی کوئی چیز نہیں پاتے پھر اسے کہا جاتا ہے : بیٹھ جا تو وہ خوفزدہ اور مرعوب ہو کر بیٹھ جاتا ہے پھر اسے کہا جاتا ہے : تیرا کیا خیال ہے اس ہستی کے بارے میں جو تم میں(مبعوث کی گئی) تھی ؟ یہ کون سی ہستی ہے ؟ اور تو اس کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ اور کس چیز کے ساتھ ان پر شہادت دیتا ہے؟ وہ کہتا ہے : کون سی ہستی ؟ کہا جاتا ہے : جو تم میں تھی وہ اس ہستی کے نام کی ہدایت نہیں پاتا یہاں تک کہ اسے کہا جاتا ہے : وہ ہستی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں تو وہ کہتا ہے : میں نہیں جانتا میں نے لوگوں کو کہتے ہوئے سنا تو میں نے بھی ایسے ہی کہا جیسا لوگوں نے کہا تو اسے کہا جاتا ہے : اسی عقیدے پر تو زندہ رہا اور اسی پر تو مرا اور اسی پر تو اٹھایا جائے گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ پھر اس کے لیے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانہ ہے آگ سے اور جو کچھ اس میں اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے تیار کر رکھا ہے تو اسکی حسرت ولعنت میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر اس کے لیے جنت کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے :اگر تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا تو یہ تیرا جنت سے ٹھکانہ تھا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے اس میں تیار کر رکھا تھا پھر اس کی حسرت ولعنت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ پھر اس پر اسکی قبر تنگ ہوجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی ہڈیاں ایک دوسرے میں داخل ہو جاتی ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّنَحْشُرْۂ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی (سيدنا طہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :124) ترجمہ:(اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا) تو بے شک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ [ص:374] عَمْرٍو، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← مَالِكُ بْنُ يَحْيَى أَبُو غَسَّانَ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire · Hadith 202

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الْقَوْلِ فِي إِثْبَاتِ نُبُوَّةِ مُحَمَّدٍ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 259

وَرُوِّينَا عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسلًا فِي قِصَّةِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ عَلَيَّ فَقَرَأَ عَلَيْهِ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} [النحل: 90] قَالَ: أَعِدْ، فَأَعَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنَّ لَهُ لَحَلَاوَةً وَإِنَّ عَلَيْهِ لَطَلَاوَةً وَإِنَّ أَعْلَاهُ لَمُثْمِرٌ وَإِنَّ أَسْفَلَهُ لَمُغْدِقٌ وَمَا يَقُولُ هَذَا بَشَرٌ، وَقَالَ لِقَوْمِهِ: وَاللَّهِ مَا فَيكُمْ رَجُلٌ أَعْلَمُ بِالْأَشْعَارِ مِنِّي وَلَا أَعْلَمُ بِرَجَزِهِ وَلَا بِقَصِيدَتِهِ مِنِّي وَلَا بِأَشْعَارِ الْجِنِّ، وَاللَّهِ مَا يُشْبِهُ هَذَا الَّذِي يَقُولُ شَيْئًا مِنْ هَذَا وَاللَّهِ إِنَّ لِقَوْلِهِ الَّذِي يَقُولُ حَلَاوَةً وَإِنَّ عَلَيْهِ لَطَلَاوَةً وَإِنَّهُ لَمُثْمِرٌ أَعْلَاهُ مُغْدِقٌ أَسْفَلُهُ وَإِنَّهُ لَيَعْلُو وَمَا يُعَلَى وَإِنَّهُ لَيُحَطِّمُ مَا تَحْتَهُ

ولید بن مغیرہ کا اعتراف حقیقت: اور ہم نے عکرمہ سے مرسلا ولید بن مغیرہ کا قصہ روایت کیا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: مجھ پر پڑھیئے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر پڑھا: ترجمہ: بے شک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اورمنع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو(النحل:90) ۔ اس نے کہا دوبارہ پڑھیئے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ پڑھا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم ! اسکی الگ ہی مٹھاس ہے ، یقیناً اس پر خوبصورتی چڑہائی گئی ،اس کا بلند حصہ پھل دار ہے اور نچلا حصہ شیریں چشمہ ہے یہ کوئی بشر نہیں کہہ سکتا اور اس نے اپنی قوم سے کہا: اللہ کی قسم !تم میں کوئی بھی آدمی مجھ سے زیادہ اشعار جاننے والانہیں نہ مجھ سے زیادہ رجز جاننے والا کوئی ہے نہ قصیدہ جاننے والا اور نہ ہی جنوں کے اشعار جانے والا اللہ کی قسم یہ جو چیز پڑھتے ہیں وہ ان میں سے کسی کے مشابہ نہیں ہے اللہ کی قسم! یہ جوقول پڑھتے ہیں اس کی ایک مٹھاس ہے ، اس پر خوبصورتی چڑھائی گئی ،اسکا اوپر والا حصہ پھلدار ہے اور نچلا شیریں چشمہ، می غالب آ کر رہے گا اس پر کوئی غلبہ نہیں پا سکتا اور جو اس کے نیچے ہے اسے توڑ دے گا۔ اور ہم نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث روایت کی جس میں حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاشا نجاشی کے پاس آنے کا قصہ ہے اور اس میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نجاشی سے یہ فرمایا : بَعَثَ اللہُ اِلَیْنَا رَسُولًا نَعْرِفُ نَسَبَہُ وَصِدْقَہُ وَعَفَا وَتَلَا عَلَیْنَا تَنْزِیلَا لَا یُشْبِھُہُ شَیْءٌ غَیْرُہُ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایسے رسول کو مبعوث فرمایا جن کا نسب ، سچائی اور پاکدامنی معروف ہے اور ہم پر نازل کردہ ایسی آیات تلاوت کیں کوئی دوسرا جن کی مشابہت نہیں کر سکتا۔

عِكْرِمَةَ مُرْسلًا فِي قِصَّةِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← وَرُوِّينَا

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace · Hadith 259

الآداب للبيهقي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب من خاف الله عز وجل فترك معاصيه ، ومن رجاه فعبده على اليقين كأنه يراه · حديث 1004

825 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ، حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ، حدثنا زيد بن محمد بن عبد الصمد الدمشقي ، حدثنا نعيم بن حماد ، حدثنا عثمان بن كثير بن دينار ، عن محمد بن مهاجر أخي عمرو بن المهاجر ، عن عروة بن رويم اللخمي ، عن عبد الرحمن بن غنم ، عن عبادة بن الصامت قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « إن من أفضل إيمان المرء أن يعلم أن الله معه حيث كان » . وروينا في حديث الإيمان ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : « الإحسان أن تعبد الله كأنك تراه ، فإن لم تكن تراه فإنه يراك »

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ، ← محمد بن مهاجر أخي عمرو بن المهاجر ← عثمان بن كثير بن دينارٍ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← زيد بن محمد بن عبد الصمد الدمشقي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Aadab Al Baihaqee · Book › Chapter of the one who fears God Almighty and forsakes his sins, and whoever aspires to worship him with certainty as if he sees him · Hadith 1004

الآداب للبيهقي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب في شكر المعروف · حديث 237

وقد مضى في حديث ابن عباس في الخسوف ، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال : « ورأيت النار فلم أر كاليوم منظرا قط ، ورأيت أكثر أهلها النساء قالوا : لم ؟ قال : » لكفرهن « ، قالوا : أيكفرن بالله ؟ قال : ويكفرن العشرة ، ويكفرن الإحسان ، لو أحسنت إلى إحداهن الدهر ثم رأت منك شيئا قالت : ما رأيت منك خيرا قط »

وقد مضى في حديث ابن عباس في الخسوف

Al Aadab Al Baihaqee · Book › Section in thanks to the well-known · Hadith 237

الترغيب في فضائل الأعمال وثواب ذلك · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب مختصر من كتابي كتاب بر الوالدين وما فيه من الفضل والندب على ذلك · حديث 289

289 - حدثنا الشيخ محمد بن سعيد بن عبد الرحمن الحراني بالرقة ، حدثني سليمان بن عبد الله بن محمد بن سليمان بن أبي داود ، حدثني جدي محمد بن سليمان ، عن أبيه ، عن عبد الكريم بن فرات بن ثعلبة الهمداني ، عن أبي الدرداء ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال : « الباب الأوسط من الجنة مفتوح لبر الوالدين ، فمن برهما (1) فتح له ، ومن عقهما أغلق دونه » __________ (1) بر الوالدين : التوسع في الإحسان إليهما ووصلهما

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← عبد الكريم بن فرات بن ثعلبة الهمداني ← أَبِيهِ ← جدي محمد بن سليمان ← سليمان بن عبد الله بن محمد بن سليمان بن أبي داود ← الشيخ محمد بن سعيد بن عبد الرحمن الحراني بالرقة

Al Targeeb Fi Fazail Al Amal w Sawab Zalik · Book › A brief chapter from my book, The Book of Honoring Parents, and the merit and lament for that · Hadith 289

مكارم الأخلاق للخرائطي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْبِئْرِ إِذَا وَقَعَ فِيهَا حَيَوَانٌ · حديث 117

117 - أَنْشَدَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَاهِرٍ الرَّافِقِيُّ: [البحر الخفيف] لَيْسَ فِي كُلِّ حَالَةٍ وَأَوَانِ ... تَتَهَيَّا صَنَائِعُ الْإِحْسَانِ فَإِذَا أَمْكَنَتْ فَبَادِرْ إِلَيْهَا ... حَذِرًا مِنْ تَعَذُّرِ الْإِمْكَانِ "

Makarim Al Ikhlaq Al Khraiti · Book › Chapter · Hadith 117

مكارم الأخلاق للخرائطي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حِفْظِ الْأَمَانَةِ وَذَمِّ الْخِيَانَةِ · حديث 168

168 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الرَّبَعِيُّ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: «إِنَّ مِنْ أَجْدَرِ الْأَعْمَالِ أَنْ لَا تُؤَخَّرَ عُقُوبَتُهُ أَوْ تُعَجَّلَ عُقُوبَتُهُ الْأَمَانَةَ تُخَانُ، وَالرَّحِمَ تُقْطَعُ، وَالْإِحْسَانَ يُكْفَرُ»

خَالِدٍ الرَّبَعِيِّ ← عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ

Makarim Al Ikhlaq Al Khraiti · Book › Chapter · Hadith 168

مكارم الأخلاق للخرائطي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي صِلَةِ الْأَرْحَامِ وَالْعَطْفِ عَلَيْهِمْ · حديث 276

276 - حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: " لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ عَرَضَ لَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ النِّسَاءَ الْبِيضَ، وَالنُّوقَ الْأُدْمَ، فَعَلَيْكَ بِبَنِي مُدْلِجٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ مَنَعَ مِنِّي بَنِي مُدْلِجٍ بِصِلَتِهِمُ الرَّحِمَ، وَطَعْنِهِمْ فِي أَلِبَّاتِ الْإِبِلِ " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ: فِي لَبَّاتِ الْإِبِلِ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَالَّذِي يُرَادُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ الْإِحْسَانَ وَالصِّلَةَ يَدْفَعَانِ مِيتَةَ السُّوءِ وَالْمَكَارِهَ

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، ← أَبُو عُبَيْدٍ ← نَصْرُ بْنُ دَاوُدَ،

Makarim Al Ikhlaq Al Khraiti · Book › Chapter · Hadith 276

مكارم الأخلاق للخرائطي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضِيلَةِ إِنْصَافِ الرَّجُلِ مِنْ نَفْسِهِ · حديث 364

364 - حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى قَالَ: قَالَ بَعْضُ الْحُكَمَاءِ: «أَحَقُّ النَّاسِ بِالْإِحْسَانِ مِنَ اللَّهِ إِلَيْهِ، وَأوْلَاهُمْ بِالْإِنْصَافِ مَنْ بُسِطَتْ بْالْمَقْدِرَةِ يَدَاهُ، فَاسْتَدِمْ مَا أُوتِيتَ مِنَ النِّعْمَةِ بِتَأْدِيَةِ مَا عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ»

أَبُو مُوسَى عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى

Makarim Al Ikhlaq Al Khraiti · Book › Chapter · Hadith 364

مكارم الأخلاق للخرائطي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الْإِنْصَافِ · حديث 367

367 - سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى عِمْرَانَ بْنَ مُوسَى يَقُولُ: بَلَغَنِي أَنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، " سُئِلَ عَنِ الْمُرُوءَةِ مَا هِيَ؟ قَالَ: الْإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ، وَالتَّفَضُّلُ لِلَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ} [النحل: 90] ، وَهُوَ الْإِنْصَافُ، {وَالْإِحْسَانُ} [النحل: 90] ، وَهُوَ التَّفَضُّلُ، وَلَا يَتِمُّ الْأَمْرُ إِلَّا بِهِمَا، أَلَا تَرَاهُ لَوْ أَعْطَى جَمِيعَ مَا يَمْلِكُ، وَلَمْ يُنْصِفْ مِنْ نَفْسِهِ لَمْ تَكُنْ لَهُ مُرُوءَةٌ؛ لِأَنَّهُ لَا يُرِيدُ أَنْ يُعْطِيَ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ مِنْ صَاحِبِهِ مِثْلَهُ، وَلَيْسَ مَعَ هَذَا مُرُوءَةٌ

الْمُرُوءَةِ مَا هِيَ؟ ← بَلَغَنِي أَنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، سُئِلَ ← أَبَا مُوسَى عِمْرَانَ بْنَ مُوسَى

Makarim Al Ikhlaq Al Khraiti · Book › Chapter · Hadith 367

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} [الرحمن: 60] · حديث 1544

1544 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبِي، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} [الرحمن: 60] قَالَ: " هَلْ جَزَاءُ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِلَّا الْجَنَّةُ "

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں: {ہَلْ جَزَاء ُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ}احسان کا بدلہ احسان ہی ہے ۔(الرحمن:60)اس کا مطلب ہے کہ جس شخص نے کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کہااس کے لیے جنت ہے ۔

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِلَّا الْجَنَّةُ ← هَلْ جَزَاءُ مَنْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} [الرحمن: ← عِكْرِمَةَ، ← النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، ← أَبِي ← يحيى الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1544

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} [الرحمن: 60] · حديث 1545

1545 - حَدَّثَنَا الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} [الرحمن: 60] قَالَ: " هَلْ جَزَاءُ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِلَّا الْجَنَّةُ "

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں: {ہَلْ جَزَاء ُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ}احسان کا بدلہ احسان ہی ہے ۔(الرحمن:60)اس کا مطلب ہے کہ جس شخص نے کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کہااس کے لیے جنت ہے ۔

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِلَّا الْجَنَّةُ ← هَلْ جَزَاءُ مَنْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} [الرحمن: ← الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ ← أَبِي مَرْزُوقٍ ← بشر بن عمارة، ← عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ ← الْحَضْرَمِيِّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1545

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} [الرحمن: 60] · حديث 1546

1546 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} [الرحمن: 60] قَالَ: «هَلْ جَزَاءُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِلَّا الْجَنَّةُ»

امام مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں: {ہَلْ جَزَاء ُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ}احسان کا بدلہ احسان ہی ہے ۔(الرحمن:60)اس کا مطلب ہے کہ جس شخص نے کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کہااس کے لیے جنت ہے ۔

«هَلْ جَزَاءُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِلَّا الْجَنَّةُ» ← مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} [الرحمن: ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1546

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} [الرحمن: 60] · حديث 1547

1547 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْحَرِيشِ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الضَّيْفِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} [الرحمن: 60] قَالَ: " هَلْ جَزَاءُ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِلَّا الْجَنَّةُ "

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں: {ہَلْ جَزَاء ُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ}احسان کا بدلہ احسان ہی ہے ۔(الرحمن:60)اس کا مطلب ہے کہ جس شخص نے کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کہااس کے لیے جنت ہے ۔

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِلَّا الْجَنَّةُ ← هَلْ جَزَاءُ مَنْ ← عِكْرِمَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} [الرحمن: ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الضَّيْفِ، ← أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْحَرِيشِ الْأَهْوَازِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1547

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} [الرحمن: 60] · حديث 1548

1548 - حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي يَعْلَى يَعْنِي مُنْذِرًا الثَّوْرِيَّ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} [الرحمن: 60] قَالَ: «هِيَ لِلْبَرِّ وَالْفَاجِرِ» قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ: يَعْنِي مِمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں: {ہَلْ جَزَاء ُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ}احسان کا بدلہ احسان ہی ہے ۔(الرحمن:60)یہ نیکو کار اور فاجر دونوں کے لیے ہے ۔ابو القاسم طبرانی کہتے ہیں: جس شخص نے کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کہااس کے لیے جنت ہے ۔

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ← أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ: يَعْنِي مِمَنْ ← «هِيَ لِلْبَرِّ وَالْفَاجِرِ» ← ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ} [الرحمن: ← أَبِي يَعْلَى يَعْنِي مُنْذِرًا الثَّوْرِيَّ، ← سَالِمٍ ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1548

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ تَأْوِيلُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ} [النحل: 90] · حديث 1583

1583 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ} [النحل: 90] قَالَ: " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، {وَالْإِحْسَانِ} [النحل: 90] : أَدَاءُ الْفَرَائِضِ، {وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى} [النحل: 90] : صِلَةُ الْأَرْحَامِ، {وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ} [النحل: 90] : عَنِ الزِّنَا، {وَالْمُنْكَرِ} [النحل: 90] : الشِّرْكِ، {وَالْبَغْيِ} [الأعراف: 33] : الْكِبْرِ وَالظُّلْمِ، {يَعِظُكُمْ} [البقرة: 231] : يُوصِيكُمْ "

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس عزوجل کے اس فرمان کی تفسیر میں فرماتے ہیں :{إِنَّ اللَّہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ}بے شک اللہ تعالیٰ عدل کا حکم دیتا ہے ۔(النحل:90) یعنی کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کا اقرار کرنااور اس کی گواہی دینا ۔{والاحسان}تمہیں احسان کا حکم دیتا ہے ۔(النحل:90)فرائض کو ادا کرنے کا حکم دیتا ہے ۔{وَإِیتَاء ِ ذِی الْقُرْبَی}قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے ۔(النحل :90)یعنی اللہ تعالیٰ صلہ رحمی کرنے کا حکم دیتا ہے ۔{وَیَنْہَی عَنِ الْفَحْشَائِ}اور وہ منع کرتا ہے بے حیائی سے ۔(النحل :90)یعنی اللہ تعالیٰ زناکاری سے روکتا ہے ۔{وَالْمُنْکَرِ}اور وہ منع کرتا ہے برائی سے ۔(النحل:90)یعنی اللہ تعالیٰ شر ک سے روکتا ہے ۔{وَالْبَغْیِ}وہ منع کرتا ہے بغاوت سے ۔(الاعراف:30)یعنی اللہ تعالیٰ تکبر اور ظلم سے منع کرتا ہے ۔{یَعِظُکُمْ}تمہیں نصیحت کرتا ہے ۔(البقرۃ:231)یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں وصیت کرتا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1583

اعتلال القلوب · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب ذكر الوفاء بالعهد والمحافظة على الود · حديث 414

405 - حدثنا داود بن علي المخرمي قال : حدثنا الحسين بن علي ، عن عامر بن حذافة قال : « رأيت بصحار جارية (1) قد ألصقت خدها بقبر وهي تبكي وتقول : خدي يقيك خشونة اللحد وقليلة لك سيدي خدي يا ساكن الترب الذي بوفاته عميت علي مسالك الرشد اسمع فديتك غلتي فلعلني أشفي بذلك غلة الوجد (2) قال : فسألتها عن صاحب القبر فقالت : فتى رافقته في الصبا ، وأنشأت تقول : كنا كروح حمامة في أيكة متنعمين بصحة وشباب فعدا الزمان مشتتا بفراقه تعس الزمان بفرقة الأحباب قال : فبكيت لرقة شعرها ، فأنشأت تقول : تبكي عليه ولست تعرف أمره فلأعلمنك ماله ببيان ما كان للعافين غير نواله فإذا استجير ففارس الفرسان لا يتبع الجيران ريبة طرفه (3) ويتابع الإحسان للجيران عف السريرة (4) والجهيرة مثلها فإذا استضيم أراك سبق طعان فقلت : أعلميني من هو ؟ قالت : سنان بن وبرة الذي يقول فيه الشاعر : يا رايدا غيثا لنجعة قومه يكفيك من غيث نوال سنان ثم قالت : يا هذا ، والله لولا أنك غريب ما متعتك من حديثي ، ما كان يجل عن السامعين ، قلت : فكيف كان حبه لك ؟ قالت : آلى (5) ألا يوسدني إلا يده عمره وعمري ، فبقيت معه أربعين أحوالا ، ما علم الله أني توسدت غيرها إلا في حال يمنعه مني مانع ، وكان قليل الإفاقة من ذلك » __________ (1) الجارية : الشابة من النساء (2) الوجد : الغضب ، والحزن والمساءة وأيضا : وَجَدْتُ بِفُلانَة وَجْداً، إذا أحْبَبْتها حُبّا شَديدا. (3) الطرف : النظر (4) السريرة : ما يكتمه المرء ويخفيه ويسره في نفسه (5) آلى : حلف وأقسم

عامر بن حذافة ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ← داود بن علي المخرمي

Etal Al Qaloob · Book › Chapter · Hadith 414

شرح مشكل الآثار الطحاوي · کتاب ‹ باب بيان مشكل ما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال أكثر أهل الجنة البله وما يدخل في ذلك · حديث 2985

كما حدثنا جعفر بن محمد بن الحسن الفريابي قال ثنا عثمان بن أبي شيبة قال ثنا جرير بن عبد الحميد عن عمارة وهو ابن القعقاع عن أبي زرعة @ 435 @ عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأصحابه سلوني فهابوه أن يسألوه فجاء رجل فجلس عند ركبته فقال يا رسول الله ما الإسلام قال ألا تشرك بالله شيئا وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان قال صدقت قال ما الإيمان قال أن تؤمن بالله وملائكته وكتابه ولقائه ورسله وتؤمن بالبعث وتؤمن بالقدر كله قال صدقت قال يا رسول الله فما الإحسان قال أن تخشى الله عز وجل كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك قال يا رسول الله متى تقوم الساعة قال ما المسئول بأعلم من السائل وسأحدثك من أشراطها إذا رأيت المرأة تلد ربتها فذلك من أشراطها وإذا رأيت الحفاة العراة البكم الصم ملوك الأرض فذلك من أشراطها وإذا رأيت رعاء الغنم يتطاولون في البنيان فذلك من أشراطها في خمسة من الغيب لا يعلمهن إلا الله عز وجل ثم قرأ هذه الآية إن الله عنده علم الساعة إلى آخر السورة ثم قام الرجل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ردوه علي فالتمسوه فلم يجدوه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا جبرائيل صلى الله عليه وسلم @ 436 @ قال أبو زرعة إذ لم يسألوه ففي هذا الحديث من قول رسول الله صلى الله عليه وسلم من أشراط الساعة وإذا رأيت الحفاة العراة البكم الصم ملوك الأرض فذلك من أشراطها ليس يعني بذلك البكم المتعارف ولا الصم المتعارف ولكن يعني بالبكم عن القول المحمود ويعني بالصم الصم عن القول المحمود ومثل هذا في القرآن في غير موضع منه ما قد جاء عن رسول الله صلى الله عليه وسلم مما هذا معناه عند أهل العلم

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ -وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ- ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْفِرْيَابِيُّ، ← كَمَا

Sharah Mushkil Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2985

chevron_left Previous
1…121314…58
Next chevron_right