Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإسلام

Islam

  • Islam
  • اسلام

19304 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9630

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ دِينُهُمْ وَاحِدٌ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ مَرْبُوعٌ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبْطٌ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ بَيْنَ مُمَصَّرَتَيْنِ فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيُعَطِّلُ الْمِلَلَ حَتَّى يُهْلِكَ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا غَيْرَ الْإِسْلَامِ وَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ الْكَذَّابَ وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى تَرْتَعَ الْإِبِلُ مَعَ الْأُسْدِ جَمِيعًا وَالنُّمُورُ مَعَ الْبَقَرِ وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ وَيَلْعَبَ الصِّبْيَانُ وَالْغِلْمَانُ بِالْحَيَّاتِ لَا يَضُرُّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَيَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ يُتَوَفَّى فَيُصَلِّيَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ وَيَدْفِنُونَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام انبیاء کرام علیہم السلام علاتی بھائیوں (جن کا باپ ایک ہو مائیں مختلف ہوں ) کی طرح ہیں ان سب کی مائیں مختلف اور دین ایک ہے اور میں تمام لوگوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں' اور عنقریب وہ زمین پر نزول بھی فرمائیں گے اس لئے تم جب انہیں دیکھنا تو مندرجہ ذیل علامات سے انہیں پہچان لینا۔ وہ درمیانے قد کے آدمی ہوں گے سرخ و سفید رنگ ہوگا گیروے رنگے ہوئے دو کپڑے ان کے جسم پر ہوں گے ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوئے محسوس ہوں گے گوکہ انہیں پانی کی تری بھی نہ پہنچی ہو پھر وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کر دیں گے جزیہ موقوف کر دیں گے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں گے ان کے زمانے میں اللہ اسلام کے علاوہ تمام ادیان کو مٹا دے گا اور ان ہی کے زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کروائے گا اور روئے زمین پر امن و امان قائم ہو جائے گا حتی کہ سانپ اونٹ کے ساتھ چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑئیے بکریوں کے ساتھ ایک گھاٹ سے سیراب ہوں گے اور بچے سانپوں سے کھیلتے ہوں گے اور وہ سانپ انہیں نقصان نہ پہنچائیں گے اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین پر رہ کر فوت ہوجائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کریں گے

الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ دِينُهُمْ وَاحِدٌ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ، ← قَتَادَةَ ← ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9630

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9651

وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ مَعَادِنُ فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا

گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں۔

النَّاسُ مَعَادِنُ فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا ← وَبِإِسْنَادِهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9651

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9670

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ عِنْدَكَ مَنْفَعَةً فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ فَقَالَ بِلَالٌ مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِي الْإِسْلَامِ أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً إِلَّا أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي أَنْ أُصَلِّيَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا بلال مجھے اپنا کوئی ایسا عمل بتاؤ جو زمانہ اسلام میں کیا ہو اور تمہیں اس کا ثواب ملنے کی سب سے زیادہ امید ہو؟ کیونکہ میں نے آج رات جنت میں تمہارے قدموں کی چاپ اپنے آگے سنی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے زمانہ اسلام میں اس کے علاوہ کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس کا ثواب ملنے کی مجھے سب سے زیادہ امید ہو کہ میں نے دن یارات کے جس حصے میں بھی وضو کیا اس وضو سے حسب توفیق نماز ضرور پڑھی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← أَبُو حَيَّانَ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9670

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9915

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْجُلَاسِ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ شَمَّاسٍ قَالَ كَانَ مَرْوَانُ يَمُرُّ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ فَيَمُرُّ بِأَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُ فَقَالَ بَعْضَ حَدِيثِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ ثُمَّ مَضَى قَالَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ قَالَ قَالَ خَلَقْتَهَا أَوْ قَالَ أَنْتَ خَلَقْتَهَا شُعْبَةُ الَّذِي شَكَّ وَهَدَيْتَهَا إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا تَعْلَمُ سِرَّهَا وَعَلَانِيَتَهَا جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا

عثمان بن شماس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان کا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذر ہوا تو وہ کہنے لگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اپنی کچھ حدیثیں سنبھال کر رکھو تھوڑی دیربعد وہ واپس آ گیا ہم لوگوں نے اپنے دل میں سوچاکہ اب یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرے گا (کیونکہ ان کے درمیان کچھ ناراضگی تھی) مروان کہنے لگا کہ آپ نے نماز جنازہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ اے اللہ آپ ہی نے اسے پیدا کیا آپ ہی نے اسے رزق دیا آپ ہی نے اسلام کی طرف اس کی رہنمائی فرمائی اور آپ ہی نے اس کی روح قبض فرمائی آپ اس کے پوشیدہ اور ظاہر سب کو جانتے ہیں ہم آپ کے پاس اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں آپ اسے معاف فرما دیجئے۔

خَلَقْتَهَا أَوْ ← رَسُولَ اللهِ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ ← يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ ← ثم رجع ← ثُمَّ مَضَى ← بَعْضَ حَدِيثِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ← فَيَمُرُّ بِأَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ ← كَانَ مَرْوَانُ يَمُرُّ عَلَى الْمَدِينَةِ ← عُثْمَانَ بْنِ شَمَّاسٍ ← الجلاس ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9915

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10237

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا إِذَا فَقُهُوا

گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں اور وہ فقہیہ ہوں

خَيْرُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا إِذَا فَقُهُوا ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10237

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10300

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَمَّارٍ ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10300

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10301

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ مَعَادِنُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ خِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ خیر اور شر میں چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10301

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10302

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ النَّاسُ مَعَادِنُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ خیر اور شر میں چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں۔

اَبَا الْقَاسِمِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10302

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13681

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَقُولُونَ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْإِسْلَامِ مَا بَقِينَا أَبَدًا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ عَلَيْهِ إِهَالَةٌ سَنِخَةٌ فَأَكَلُوا مِنْهَا وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَهْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خندق کھودتے ہوئے یہ شعر پڑھتے جا رہے تھے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر مرنے تک کے لئے اسلام کی یقینی بیعت کی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جواباً یہ جملہ کہتے تھے کہ اے اللہ! اصل خیر تو آخرت کی خیر ہے، پس تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرما، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی لائی گئی جس پر سنا ہوا روغن رکھا تھا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسی کو تناول فرمالیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے۔

ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13681

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13701

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُمْ سَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَتَّى أَجْهَدُوهُ بِالْمَسْأَلَةِ فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ فَأَشْفَقَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْ أَمْرٍ قَدْ حَضَرَ قَالَ فَجَعَلْتُ لَا أَلْتَفِتُ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا إِلَّا وَجَدْتُ كُلَّ رَجُلٍ لَافًّا رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي فَأَنْشَأَ رَجُلٌ كَانَ يُلَاحَى فَيُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ قَالَ ثُمَّ قَامَ عُمَرُ أَوْ قَالَ ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ قَطُّ صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَتَّى رَأَيْتُهُمَا دُونَ هَذَا الْحَائِطِ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ بِمِثْلِهِ قَالَ وَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِذَا سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد باہر آئے، ظہر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر منبر پر کھڑے ہوگئے اور قیامت کا ذکر فرمایا: نیز یہ کہ اس سے پہلے بڑے اہم امور پیش آئیں گے، پھر فرمایا کہ جو شخص کوئی سوال پوچھنا چاہتا ہے وہ پوچھ لے، بخدا! تم مجھ سے جس چیز کے متعلق بھی " جب تک میں یہاں کھڑا ہوں " سوال کرو گے میں تمہیں ضرور جواب دوں گا، یہ سن کر لوگ کثرت سے آہ وبکا کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے رہتے کہ مجھ سے پوچھو، چنانچہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہاں داخل ہوں ؟ فرمایا جہنم میں ، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل جھک کر کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو اپنا دین قرار دے کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی مان کر خوش او مطمئن ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ بات سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس دیوار کی چوڑائی میں ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا تھا، جب کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، میں نے خیر اور شر میں آج کے دن جیسا کوئی دن نہیں دیکھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ یہ

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13701

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14023

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا مِنْ الْيَهُودِ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَهُوَ بِالْمَوْتِ فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَنَظَرَ الْغُلَامُ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ فَأَسْلَمَ ثُمَّ مَاتَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنْ النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، چنانچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٌ، وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ ← حَمَّادٌ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14023

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14031

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا وَقَالَ لَهُ قَائِلٌ بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ قَالَ فَغَضِبَ ثُمَّ قَالَ بَلَى بَلَى قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کیا آپ کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں کوئی مخصوص معاہدہ نہیں ہے، اس پر وہ غصے میں آگئے اور فرمایا کیوں نہیں ، کیوں نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات ہمارے گھر میں فرمائی تھی۔

أَنَسًا وَقَالَ لَهُ قَائِلٌ بَلَغَكَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14031

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14094

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا السُّنَّةَ وَالْإِسْلَامَ قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَقَالَ هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھیج دیں ، جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا اور فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں ۔

فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَقَالَ هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ ← ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا السُّنَّةَ وَالْإِسْلَامَ ← أَنَسٍ أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14094

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14107

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا فَبَعَثَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَقَالَ اشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ وَارْتَدُّوا عَنْ الْإِسْلَامِ فَأُتِيَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَأَلْقَاهُمْ بِالْحَرَّةِ قَالَ أَنَسٌ قَدْ كُنْتُ أَرَى أَحَدَهُمْ يَكْدُمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ يَكْدُمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ حَتَّى مَاتُوا حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَمَّادٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہو جاؤ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو بھگا کر لے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے ، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14107

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14114

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَقُولُونَ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْإِسْلَامِ مَا بَقِينَا أَبَدًا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ فَأَكَلُوا مِنْهَا وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَهْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خندق کھودتے ہوئے یہ شعر پڑھتے جا رہے تھے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر مرنے تک کے لئے اسلام کی یقینی بیعت کی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جواباً یہ جملہ کہتے تھے کہ اے اللہ! اصل خیر تو آخرت کی خیر ہے، پس تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرما، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی لائی گئی جس پر سنا ہوا روغن رکھا تھا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسی کو تناول فرما لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے۔

ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14114

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14119

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ السَّاعَةِ قَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا فَإِنَّهَا قَائِمَةٌ قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَثِيرَ عَمَلٍ غَيْرَ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ فَمَا فَرِحَ الْمُسْلِمُونَ بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ مَا فَرِحُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فَكَانَ أَنَسٌ يَقُولُ فَنَحْنُ نُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب قائم ہوگی؟ اس وقت اقامت ہوچکی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہاں ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ کیونکہ ہم اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں ۔

الرَجُلِ ← السَّاعَةِ ← "أَيْنَ السَّائِلُ ← قِيَامِ السَّاعَةِ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ← أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14119

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1255

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ طَارِقِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَارَ عَلِيٌّ إِلَى النَّهْرَوَانِ فَقَتَلَ الْخَوَارِجَ فَقَالَ اطْلُبُوا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَتَكَلَّمُونَ بِكَلِمَةِ الْحَقِّ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ سِيمَاهُمْ أَوْ فِيهِمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ مُخْدَجُ الْيَدِ فِي يَدِهِ شَعَرَاتٌ سُودٌ إِنْ كَانَ فِيهِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ شَرَّ النَّاسِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ خَيْرَ النَّاسِ قَالَ ثُمَّ إِنَّا وَجَدْنَا الْمُخْدَجَ قَالَ فَخَرَرْنَا سُجُودًا وَخَرَّ عَلِيٌّ سَاجِدًا مَعَنَا

It was narrated that Tariq bin Ziyad said: 'Ali marched to an-Nahrawan and killed the Khawarij. Then he said: Look, for the Prophet (PBUH) said: "There will come a people who will speak the word of truth but it will not go any further than their throats; they will pass out of Islam as the arrow passes out of the prey. Their sign - or among them will be a black man with a deformed arm, on which there are black hairs. If he is among them, then you will have killed the worst of people; if he is not among them, then you will have killed the best of people." Then we found the one with the deformity, and we fell down in prostration and 'AH fell down in prostration with us.

اطْلُبُوا فَإِنَّ النَّبِيَّ ← سَارَ عَلِيٌّ إِلَى النَّهْرَوَانِ فَقَتَلَ الْخَوَارِجَ ← طَارِقِ بْنِ زِيَادٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَی ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1255

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1303

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ حَدَّثَنِي أَبُو مَرْيَمَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ قَوْمًا يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ عَلَامَتُهُمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ

'Ali bin Abi Talib (RA)narrated that the Messenger of Allah (PBUH) said: "Some people will pass out of Islam as the arrow passes out of the prey. They will recite the Qur'an but it will go no further than their collarbones. Glad tidings to the one who kills them and they kill him. Their sign will be a man with a deformed arm.

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو مَرْيَمَ ← نعيم بن حكيم ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1303

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1346

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ قِتَالُهُمْ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ

It was narrated that 'Ali (RA)said: The Messenger of Allah (PBUH) said: 'At the end of time, there will be people who recite Qur'an but it will go no further than their collarbones; they will pass out of Islam as the arrow passes out of the prey. Fighting them is a duty upon every Muslim."

عَلِيٍّ، ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1346

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1390

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَمِّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ قَالَ لَا وَسَأَلَهُ عَنْ الصَّوْمِ فَقَالَ صِيَامُ رَمَضَانَ قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ قَالَ لَا قَالَ وَذَكَرَ الزَّكَاةَ قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا قَالَ لَا قَالَ وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ

Malik narrated from his paternal uncle, from his father, that he heard Talha bin 'Ubaidullah say: A Bedouin came to the Prophet (PBUH) and said: O Messenger of Allah, what is Islam? He said: "Five prayers every day and night." He said: Do I have to do anything other than that? He said: "No." He asked him about fasting and he said: "Fasting (the month of) Ramadan." He said: Do I have to do anything other than that? He said: "No," He mentioned zakah and said: Do I have to do anything other than that? He said: "No." He said: By Allah, I will do no more and no less than that. The Messenger of Allah (PBUH) said: He will prosper, if he means what he says."

جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللہِ ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← عَمِّہٖ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1390

chevron_left Previous
1…293031…966
Next chevron_right