Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإسلام

Islam

  • Islam
  • اسلام

19304 hadiths

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1725

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ وَعَمِّهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ وَالتَّوْفِيقِ لِمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى رَبُّنَا وَرَبُّكَ اللَّهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی کا چاند دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے تھے" اللہ سب سے بڑا ہے اے اللہ اس چاند کو ہمارے لئے امن ایمان سلامتی اور اسلام کا باعث بنا اور اس چیز کی توفیق کاجسے ہمارا پروردگار پسند کرتا ہے اور جس سے راضی ہے (اے چاند) ہمارا اور تمہارا پروردگار اللہ ہے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ، وَعَمِّهِ ← أَبِي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1725

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1726

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ الْمَدَنِيُّ عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْحَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ

حضرت طلحہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی کا چاند دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے تھے" اللہ سب سے بڑا ہے اے اللہ اس چاند کو ہمارے لئے امن ایمان سلامتی اور اسلام کا باعث بنا اور اس چیز کی توفیق کا جسے ہمارا پروردگار پسند کرتا ہے اور جس سے راضی ہے (اے چاند) ہمارا اور تمہارا پروردگار اللہ ہے۔

اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ ← كَانَ النَّبِيُّ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ ← طَلْحَةَ، ← أَبِيهِ ← بِلَالِ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ الْمَدَنِيُّ ← الْعَقَدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1726

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1802

أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ

حضرت عقبہ بن عامر روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عرفہ کے دن اور ایام تشریق ہمارے اہل اسلام کی عید ہے اور ہمارے کھانے پینے کے دن ہیں۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1802

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1874

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ مَوْلًى لِآلِ الْزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ رُكُوبَ الرَّحْلِ وَالْحَجُّ مَكْتُوبٌ عَلَيْهِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ أَنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ أَكَانَ ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاحْجُجْ عَنْهُ

حضرت عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی میرے والد کو اسلام کا زمانہ نصیب ہوگیا وہ بوڑھے ہوچکے ہیں اور سواری پر سوار نہیں ہوسکتے ان پر حج فرض ہوچکا ہے کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیا تم ان کی اولاد میں سب سے بڑے ہو اس نے جواب دیا جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہارے والد کے ذمہ کوئی قرض ہوتا تو تم ان کی طرف سے ادا کردیتے اور کیا وہ ان کی طرف سے ادا ہوجاتا اس نے عرض کی جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم ان کی طرف سے حج کرلو۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← يوسف بن الزبير مولى لآل الزبير ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1874

سنن دارمی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 2141

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْكَلَاعِيِّ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُكْفَأُ قَالَ زَيْدٌ يَعْنِي الْإِسْلَامَ كَمَا يُكْفَأُ الْإِنَاءُ كَفْيَ الْخَمْرِ فَقِيلَ فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ فِيهَا مَا بَيَّنَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا فَيَسْتَحِلُّونَهَا

حضرت عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے سب سے پہلے اس چیز کو انڈیلا جائے گا جیسے برتن کو انڈیلا جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں یعنی اسلام میں شراب کو سب سے پہلے عام استعمال کیا جائے گا) عرض کی گئی یا رسول اللہ یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں واضح کردیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ لوگ اس کا نام تبدیل کردیں گے اور اسے حلال قرار دے دیں گے۔

زَيْدٌ يَعْنِي الْإِسْلَامَ كَمَا يُكْفَأُ الْإِنَاءُ كَفْيَ الْخَمْرِ فَقِيلَ فَكَيْفَ ← إِنَّ أَوَّلَ مَا يُكْفَأُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبِي وَهْبٍ الْكَلَاعِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ← زَيْدُ بْنُ يَحْيَى،

Sunan Darmi · From the book of drinks › Door · Hadith 2141

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2197

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ كَثِيرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِمَّا يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا فَلْيَقُصَّهَا عَلَيَّ فَأَعْبُرَهَا لَهُ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ ظُلَّةً بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ تَنْطِفُ عَسَلًا وَسَمْنًا وَرَأَيْتُ أُنَاسًا يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا فَمُسْتَكْثِرٌ وَمُسْتَقِلٌّ وَرَأَيْتُ سَبَبًا وَاصِلًا مِنْ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَأَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ فَأَعْلَاكَ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ الَّذِي بَعْدَكَ فَعَلَا فَأَعْلَاهُ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَهُ الَّذِي بَعْدَهُ فَعَلَا فَأَعْلَاهُ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَهُ الَّذِي بَعْدَهُ فَقُطِعَ بِهِ ثُمَّ وُصِلَ فَاتَّصَلَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فَأَعْبُرَهَا فَقَالَ اعْبُرْهَا وَكَانَ أَعْبَرَ النَّاسِ لِلرُّؤْيَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَّا الظُّلَّةُ فَالْإِسْلَامُ وَأَمَّا الْعَسَلُ وَالسَّمْنُ فَالْقُرْآنُ حَلَاوَةُ الْعَسَلِ وَلِينُ السَّمْنِ وَأَمَّا الَّذِينَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهُ فَمُسْتَكْثِرٌ وَمُسْتَقِلٌّ فَهُمْ حَمَلَةُ الْقُرْآنِ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْتَ وَأَخْطَأْتَ فَقَالَ فَمَا الَّذِي أَصَبْتُ وَمَا الَّذِي أَخْطَأْتُ فَأَبَى أَنْ يُخْبِرَهُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں سے فرمایا کرتے تھے جو شخص خواب دیکھے وہ میرے سامنے بیان کرے میں اس کی تعبیر بتایا کروں گا راوی کہتے ہیں ایک شخص آیا اور عرض کی یا رسول اللہ میں نے آسمانوں اور زمین کےدرمیان بادلوں کا ایک ٹکڑا دیکھا جس میں سے شہد اور گھی برس رہا تھا میں نے آسمان سے لے کر زمین تک لٹکی رسی دیکھی میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اسے حاصل کررہے ہیں کچھ کم حاصل کررہے ہیں اور کچھ زیادہ حاصل کررہے ہیں پھر آپ نے اس رسی کو پکڑا اور اوپر تشریف لے گئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلندی عطا کردی پھر آپ کے بعد ایک صاحب نے اس رسی کو پکڑا اور وہ بھی اوپر چڑھنے لگے، اللہ تعالیٰ انہیں بھی اوپر لے گیا پھر اس کے بعد ایک شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر کی طرف چڑھے اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اوپر چڑھادیا پھر اس کے بعد ایک اور صاحب نے پکڑا اور وہ رسی ٹوٹ گئی پھر اس رسی کو ملا دیا گیا وہ جڑگئی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی تعبیر بیان کرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خواب کی تعبیر کے سب سے بڑے ماہر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے عرض کی بادل سے مراد اسلام ہے شہد اور گھی سے مراد قرآن ہے جس میں شہد کی مٹھاس اور گھی کی نرمی پائی جاتی ہے لوگوں کا اسے حاصل کرنا اور کم یا زیادہ حاصل کرنا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرآن کا علم حاصل کرتے ہیں آسمان سے زمین تک لٹکی رسی سے مراد وہ حق ہے جس پر آپ گامزن ہیں۔ آپ اس پر عمل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے اللہ آپ کو بلندی عطا کرتا ہے اور پھر اس کے بعد جو شخص اس کو پکڑتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس کو بھی بلندی عطا کردیتا ہے پھر جو شخص اسے پکڑتا ہے تو اللہ اسے بھی بلندی عطا کردیتا ہے اور پھر جو شخص پکڑے گا تو وہ اس کی وجہ سے منقطع ہوجائے گی اور پھر اسے چھوڑ دیا جائے گا۔ یا رسول اللہ آپ مجھے بتائیں میرے والد آپ پر قربان ہوں میں نے صحیح تعبیر بیان کی ہے یا غلط؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کچھ صحیح ہے اور کچھ غلط ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتانے سے انکار کردیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ كَثِيرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Sunan Darmi · From the Book of Roya › Door · Hadith 2197

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2200

أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ وَرَأَيْتُ بَقَرًا يُنْحَرُ فَأَوَّلْتُ أَنَّ الدِّرْعَ الْمَدِينَةُ وَأَنَّ الْبَقَرَ نَفَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ وَلَوْ أَقَمْنَا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا دَخَلُوا عَلَيْنَا قَاتَلْنَاهُمْ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا دُخِلَتْ عَلَيْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَفَتُدْخَلُ عَلَيْنَا فِي الْإِسْلَامِ قَالَ فَشَأْنَكُمْ إِذًا وَقَالَتْ الْأَنْصَارُ لِبَعْضٍ رَدَدْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْيَهُ فَجَاءُوا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ شَأْنُكَ فَقَالَ الْآنَ إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَضَعَهُ حَتَّى يُقَاتِلَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے دیکھا کہ ایک مضبوط زرہ پہنے ہوئے ہوں اور پھر میں نے ایک بیل کو دیکھا کہ اسے قربان کیا گیا ہے تو میں نے اس کی تعبیر یہ کہ زرہ سے مراد مدینہ منورہ ہے اور بیل سے مراد مسلمانوں کی نفری ہے اور اللہ بہتری عطاکرنے والاہے اگر ہم مدینہ میں رہیں تو یہ مناسب ہے۔ اگر دشمن اس میں داخل ہوگیا تو ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے لوگوں نے عرض کیا اللہ کی قسم زمانہ جاہلیت میں بھی کبھی دشمن ہمارے علاقے میں داخل نہیں ہوسکا تو کیا اسلام کی حالت میں داخل ہوگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر تمہاری مرضی ہے اس کے بعد انصار نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے تسلیم نہیں کی وہ لوگ آئے اور عرض کی یا رسول اللہ جو آپ مناسب سمجھیں ویسا ہی ہوگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی نبی کے لئے مناسب نہیں کہ جب ہتھیار سجالے توجنگ کرنے سے پہلے اتارے۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ

Sunan Darmi · From the Book of Roya › Door · Hadith 2200

سنن دارمی · من النذور و الايمان ‹ باب · حديث 2374

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ نَذْرًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ جَاءَ الْإِسْلَامُ قَالَ فِ بِنَذْرِكَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک نذرمانی تھی پھر اسلام قبول کرلیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنی نذر کو پورا کرو ۔

قُلْتُ ← عُمَرَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← حَفْصٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · Of vows and faith › Door · Hadith 2374

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2483

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنْ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِلَالٍ أَوْ خِصَالٍ فَأَيَّتُهُمْ مَا أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ وَأَخْبِرْهُمْ إِنْ هُمْ فَعَلُوا أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَلَيْسَ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا أَنْ يَدْخُلُوا فِي الْإِسْلَامِ فَسَلْهُمْ إِعْطَاءَ الْجِزْيَةِ فَإِنْ فَعَلُوا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَقَاتِلْهُمْ وَإِنْ حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَإِنْ أَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ وَلَكِنْ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَبِيكَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا بِذِمَّتِكُمْ وَذِمَّةِ آبَائِكُمْ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ وَإِنْ حَاصَرْتَ حِصْنًا فَأَرَادُوكَ أَنْ يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ اللَّهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لَا ثُمَّ اقْضِ فِيهِمْ بِمَا شِئْتَ

سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں جب کسی شخص کو کسی مہم کا امیر مقرر کرتے تو اسے یہ ہدایت کرتے جب تمہارا اپنے کسی مشرک دشمن سے سامنا ہو تو انہیں تین میں سے کسی ایک بات کو قبول کرنے کی دعوت دو۔ ان میں سے جو بھی بات وہ قبول کرلیں اس کو ان کی طرف سے تم قبول کرلینا اور ان سے لڑائی سے رک جانا۔ تم انہیں اسلام کی دعوت دو اگر وہ قبول کرلیں تو ان کی طرف سے اسے قبول کرلینا اور لڑائی سے رک جانا۔ اگر نہ مانیں تو پھر تم انہیں دعوت دو کہ وہ اپنے علاقے کو چھوڑ کر مہاجرین کے علاقے کی طرف آجائیں اور اگر وہ ایسا کریں گے تو تم انہیں بتا دینا کہ انہیں وہی کچھ ملے گا جو مہاجرین کو ملتا ہے اور ان کے ذمہ وہی ادائیگی لازم ہوگی جو مہاجرین کے ذمے لازم ہے۔ اگر وہ انکار کریں تو تم انہیں بتانا کہ وہ لوگ دیہاتی مسلمانوں کی مانند ہوں گے ان پر اللہ کے وہ تمام احکام جاری ہوں گے جو مسلمانوں پر ہوتے ہیں انہیں مال فئی اور مال غنیمت میں سے کچھ نہیں ملے گا البتہ اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں تو انہیں حصہ ملے گا اگر وہ اسلام میں داخل ہونے سے انکار کردیں تو تم انہیں جزیہ ادا کرنے کا کہو اگر وہ ایسا کریں تو ان کی طرف سے یہ قبول کرلو اور لڑائی بند کر دو۔ اگر وہ انکار کریں تو اللہ سے مدد حاصل کرو اور ان سے جنگ شروع کردو۔ اگر تم کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کرو اور وہ یہ چاہیں کہ تم انہیں اللہ کے ذمے اور اس کے نبی کے ذمے کرو تو تم انہیں اللہ کا ذمہ اور اس کے نبی کا ذمہ نہ دو بلکہ انہیں اپنا اور اپنے باپ کا ذمہ دو اور اپنے ساتھیوں کے ذمہ دو کیونکہ تم اپنے ذمے اور اپنے باپ دادا کے ذمہ کی خلاف ورزی کرو۔ یہ تمہارے حق میں اس سے کم نقصان والا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے ذمے کی خلاف ورزی کرو۔ اگر تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور وہ یہ چاہیں کہ تمیں اللہ کے حکم پر لے آئیں تو تم ان کے ساتھ اللہ کے حکم پر معاہدہ نہ کرو بلکہ اپنے فیصلے پر معاہدہ کرو کیونکہ تم جانتے ہو کہ تم ان کے بارے میں اللہ کے حکم تک پہنچ جاؤ گے یا نہیں پھر تم ان کے بارے میں جو چاہو فیصلہ کرو۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2483

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2566

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قِيلَ لِشَرِيكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَفِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً وَجِدَّةً

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے اس حدیث کے راوی شریک سے کوئی سوال کیا گیا یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول ہے انہوں نے جواب دیا جی ہاں (وہ بات یہ ہے) اسلام میں غلط بات کو پورا کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور زمانہ جاہلیت میں جو طے کیا گیا تھا اسلام نے اس میں سختی اور پابندی کا اضافہ کیا ہے۔

النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ قِيلَ لِشَرِيكٍ ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2566

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2679

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ حِينَ قَضَى صَلَاتَهُ فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّا بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ قَالَ عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ قُلْتُ مِنْ غِفَارٍ قَالَ فَأَهْوَى بِيَدِهِ قُلْتُ فِي نَفْسِي كَرِهَ أَنِّي انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ

حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو میں آپ کے پاس آیا میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے اسلامی طریقے کے مطابق سلام کیا۔ آپ نے جواب دیا تمہیں بھی سلام اور اللہ کی رحمتیں ہوں تمہارا کہاں سے تعلق ہے حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں میں نے جواب دیا غفار قبیلے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کو بڑھایا تو میں نے دل میں خیال کیا شاید آپ نے غفار قبیلے سے میری نسبت کو پسند نہیں کیا۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ،

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2679

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2728

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ وَكَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ وَدِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَمِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًا

حضرت عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابزی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کرتے تو یہ دعا پڑھتے ہم اسلام پر اعتقاد رکھتے ہوئے صبح کرتے ہیں اور اخلاص کے کلمہ پر اعتقاد رکھتے ہوئے صبح کرتے ہیں اور اپنے نبی کے دین پر صبح کرتے ہیں اور اپنے جد امجد حضرت ابراہیم کے مذہب پر صبح کرتے ہیں جو سیدھے راستے پر چلنے والے سچے مسلمان تھے۔

كَانَ النَّبِيُّ إِذَا أَصْبَحَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2728

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2750

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ فِي الْإِسْلَامِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا قَالَ اتَّقِ اللَّهَ ثُمَّ اسْتَقِمْ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ شَيْءٍ قَالَ فَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ

حضرت عبداللہ بن سفیان بیان کرتے ہیں اپنے والد کے حوالے سے کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ مجھے کسی ایسے اسلامی عمل کے بارے میں بتائیں جس کے بارے میں مجھے کسی اور سے دریافت نہ کرناپڑے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ سے ڈرو اور پھر استقامت اختیار کرو۔ حضرت سفیان بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی پھر اس کے بعد کون سی چیز ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا اس کی حفاظت کرو۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2750

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2752

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ کون سا مسلمان افضل ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا جس کی زبان اور ہوں۔

قِيلَ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2752

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2795

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا أَظُنُّ حَفْصًا قَالَ فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ قِيلَ وَمَنْ الْغُرَبَاءُ قَالَ النُّزَّاعُ مِنْ الْقَبَائِلِ

حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ارشاد فرمایا اسلام آغاز میں غریب وطن تھا اور یہ عنقریب غریب الوطن ہوجائے گا راوی کہتے ہیں شاید میرے استاد نے یہ بات نقل کی تھی کہ اس لئے غریب الوطن کےلیے خوش خبری ہے عرض کی گئی غریب الوطن کون ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےجواب دیا قبیلوں سے تعلق رکھنے والے مسافر۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَقَ ← الْاَعْمَشِ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2795

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2950

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَعَلَهُ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا أَحَدًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُهُ خَلِيلًا وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ جَعَلَهُ أَبًا يَعْنِي الْجَدَّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص کے بارے میں یہ بات بیان فرمائی ہے کہ اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں اسے خلیل بناتا لیکن اسلام کا بھائی چارہ افضل ہے یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے اسے باپ کی مانند قرار دیاہے۔ راوی بیان کرتے ہیں یعنی دادا کو۔

جَعَلَهُ الَّذِي ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2950

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2954

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ جَدٍّ وَرِثَ فِي الْإِسْلَامِ عُمَرُ

شعبی بیان کرتے ہیں اسلام میں دادا کے طور پر سب سے پہلے حضرت عمر وارث بنے تھے۔

إِنَّ أَوَّلَ جَدٍّ وَرِثَ فِي الْإِسْلَامِ عُمَرُ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2954

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2955

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا حَسَنٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ أَوَّلُ جَدٍّ وَرِثَ فِي الْإِسْلَامِ عُمَرُ فَأَخَذَ مَالَهُ فَأَتَاهُ عَلِيٌّ وَزَيْدٌ فَقَالَا لَيْسَ لَكَ ذَاكَ إِنَّمَا أَنْتَ كَأَحَدِ الْأَخَوَيْنِ

شعبی بیان کرتے ہیں اسلام میں دادا کے طور پر حضرت عمر سب سے پہلے وارث بنے تھے انہوں نے اپنا حصہ وصول کرلیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید ان کے پاس آئے اور یہ بات بیان کی آپ کے لئے اتنی گنجائش نہیں ہے آپ دو بھائیوں میں سے ایک کی حثییت رکھتے ہیں۔

لَيْسَ لَكَ ذَاكَ إِنَّمَا أَنْتَ كَأَحَدِ الْأَخَوَيْنِ ← أَوَّلُ جَدٍّ وَرِثَ فِي الْإِسْلَامِ عُمَرُ فَأَخَذَ مَالَهُ فَأَتَاهُ عَلِيٌّ وَزَيْدٌ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ، ← حَسَنٌ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2955

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2972

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ جَدَّةٍ أُطْعِمَتْ فِي الْإِسْلَامِ سَهْمًا أَمُّ أَبٍ وَابْنُهَا حَيٌّ

حضرت ابن مسعود ارشاد فرماتے ہیں اسلام میں سے سب سے پہلے جس دادی کو حصہ دیا گیا وہ باپ کی ماں تھی اور اس کا بیٹا یعنی میت کا باپ زندہ تھا۔

إِنَّ أَوَّلَ جَدَّةٍ أُطْعِمَتْ فِي الْإِسْلَامِ سَهْمًا أَمُّ أَبٍ وَابْنُهَا حَيٌّ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← الْأَشْعَثِ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2972

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3036

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كَانَ مُعَاوِيَةُ يُوَرِّثُ الْمُسْلِمَ مِنْ الْكَافِرِ وَلَا يُوَرِّثُ الْكَافِرَ مِنْ الْمُسْلِمِ قَالَ قَالَ مَسْرُوقٌ وَمَا حَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ قَضَاءٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ تَقُولُ بِهَذَا قَالَ لَا

مسروق بیان کرتے ہیں حضرت معاویہ کافر شخص کو مسلمان کا وارث قرار دیتے تھے۔ مسروق بیان کرتے ہیں اسلام میں میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ فیصلہ کوئی اور نہیں دیا گیا۔ امام ابومحمد دارمی سے دریافت کیا گیا آپ اس کے مطابق فتوی دیتے ہیں انہوں نے جواب دیا نہیں۔

مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3036

chevron_left Previous
1…222324…966
Next chevron_right