Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان والعمل

Faith & Deeds

26349 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24826

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ لَنَا حَصِيرَةٌ نَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ وَنَتَحَجَّرُهَا عَلَيْنَا بِاللَّيْلِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَسَمِعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ صَلَاتَهُ فَأَصْبَحُوا فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّاسِ فَكَثُرَ النَّاسُ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اكْلَفُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَقَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْوَمَهَا وَإِنْ قَلَّ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا وَقَالَ يَزِيدُ حَصِيرَةٌ نَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ وَنَحْتَجِرُهَا بِاللَّيْلِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن کو ہم لوگ بچھا لیا کرتے تھے اور رات کے وقت اسی کو اوڑھ لیتے تھے، ایک مرتبہ رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، مسجد والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے اگلے دن لوگوں سے اس کا ذکر کر دیا، چنانچہ اگلی رات کو بہت سے لوگ جمع ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا اپنے آپ کو اتنے اعمال کا مکلف بناؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو اس پر ثابت قدم رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہوتا تھا جو دائمی ہوتا۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدٌ وَيَزِيدُ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24826

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21491

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ أَضَاءَةَ بَنِي غِفَارٍ قَالَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ قَالَ أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ ثُمَّ جَاءَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ فَقَالَ أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ إِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ ثُمَّ جَاءَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا

حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو غفار کے ایک کنوئیں کے پاس تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ کا پروردگار آپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنی امت کو قرآن کریم ایک حرف پر پڑھائیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے درگذر اور بخشش کا سوال کرتا ہوں کیونکہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام دوبارہ پیغام لے کر آئے اور دوحرفوں پر پڑھنے کی اجازت دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا، تیسری مرتبہ بھی اسی طرح ہوا، چوتھی مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام سات حروف پر پڑھنے کا پیغام لے کر آئے اور کہنے لگے کہ وہ ان میں سے جس حرف کے مطابق بھی قرآءت کریں گے صحیح کریں گے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← مُجَاهِدٍ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21491

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21496

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِأَضَاءَةِ بَنِي غِفَارٍ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ فَقَالَ أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَمَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْهَا فَهُوَ كَمَا قَالَ

حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو اضاءہ کے کنوئیں کے پاس تھے اور کہا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت ایک حرف پر کریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی ، اور آہستہ آہستہ بڑھاتے ہوئے سات کے عدد تک پہنچ گئے۔

الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ ← أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ ← إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ وَهُوَ بِأَضَاءَةِ بَنِي غِفَارٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← الْحَكَمِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ الْبَصْرِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21496

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17800

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُمَيْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النِّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ عَبْدًا خَرَّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى أَنْ يَمُوتَ هَرَمًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ لَحَقَّرَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ وَلَوَدَّ أَنَّهُ يُرَدُّ إِلَى الدُّنْيَا كَيْمَا يَزْدَادَ مِنْ الْأَجْرِ وَالثَّوَابِ

حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی آدمی کو اس کی پیدائش کے دن سے بڑھاپے میں اس کی موت تک ایک ایک لمحہ رضاء الٰہی میں صرف کرنے کا موقع دے دیا جائے تب بھی قیامت کے دن وہ اسے کم تر اور حقیر سمجھے گا اور اس کی تمنا ہوگی کہ اسے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تاکہ اسے مزید اجروثواب مل سکے۔

مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُمَيْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النِّبِيِّ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17800

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24943

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَدَّانُ فَقِيلَ لَهَا مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ

محمد بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا لوگوں سے قرض لیتی رہتی تھیں، کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔

محمد بن علي ← الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24943

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24958

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا تُقْبَضُ نَفْسُهُ ثُمَّ يَرَى الثَّوَابَ ثُمَّ تُرَدُّ إِلَيْهِ فَيُخَيَّرُ بَيْنَ أَنْ تُرَدَّ إِلَيْهِ إِلَى أَنْ يَلْحَقَ فَكُنْتُ قَدْ حَفِظْتُ ذَلِكَ مِنْهُ فَإِنِّي لَمُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى مَالَتْ عُنُقُهُ فَقُلْتُ قَدْ قَضَى قَالَتْ فَعَرَفْتُ الَّذِي قَالَ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى ارْتَفَعَ فَنَظَرَ قَالَتْ قُلْتُ إِذَنْ وَاللَّهِ لَا يَخْتَارُنَا فَقَالَ مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فِي الْجَنَّةِ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کر تے تھے جس نبی کی روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، ان کی روح قبض ہونے کے بعد انہیں ان کا ثواب دکھایا جا تا تھا پھر واپس لوٹا کر انہیں اس بات کا اختیار دیا جا تا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر اس سے ملا دیا جائے (یا دنیا میں بھیج دیا جائے) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کو اچھی طرح اپنے ذہن میں محفوظ کرلیا تھا، مرض الوفات میں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے سہارا دیا ہوا تھا کہ اچانک میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کی گردن ڈھلک گئی ہے، میں نے سوچا کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، پھر مجھے وہ بات یاد آگئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی، چنانچہ اب جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے اپنی گردن اٹھا کر اوپر کو دیکھا، میں سمجھ گئی کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی صورت ہمیں ترجیح نہ دیں گے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "رفیق اعلیٰ کے ساتھ جنت میں" ارشاد ربانی ہے" ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا مثلاً انبیاء کرام علیم السلام اور صدیقین"۔

عَائِشَةُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24958

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17928

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَا أَنَا فِي مَنَامِي أَتَتْنِي الْمَلَائِكَةُ فَحَمَلَتْ عَمُودَ الْكِتَابِ مِنْ تَحْتِ وِسَادَتِي فَعَمَدَتْ بِهِ إِلَى الشَّامِ أَلَا فَالْإِيمَانُ حَيْثُ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ

حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ خواب میں میرے پاس کچھ فرشتے آئے، انہوں نے میرے تکیے کے نیچے سے کتاب کا ستون اٹھایا اور اسے شام لے گئے، یاد رکھو! جب فتنے رونما ہوں گے تو ایمان شام میں ہوگا۔

بَيْنَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17928

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17934

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نَوْفَلِ بْنُ أَبِي عَقْرَبٍ قَالَ جَزِعَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عِنْدَ الْمَوْتِ جَزَعًا شَدِيدًا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا هَذَا الْجَزَعُ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْنِيكَ وَيَسْتَعْمِلُكَ قَالَ أَيْ بُنَيَّ قَدْ كَانَ ذَلِكَ وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا ذَلِكَ كَانَ أَمْ تَأَلُّفًا يَتَأَلَّفُنِي وَلَكِنِّي أَشْهَدُ عَلَى رَجُلَيْنِ أَنَّهُ قَدْ فَارَقَ الدُّنْيَا وَهُوَ يُحِبُّهُمَا ابْنُ سُمَيَّةَ وَابْنُ أُمِّ عَبْدٍ فَلَمَّا حَدَّثَهُ وَضَعَ يَدَهُ مَوْضِعَ الْغِلَالِ مِنْ ذَقْنِهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ أَمَرْتَنَا فَتَرَكْنَا وَنَهَيْتَنَا فَرَكِبْنَا وَلَا يَسَعُنَا إِلَّا مَغْفِرَتُكَ وَكَانَتْ تِلْكَ هِجِّيرَاهُ حَتَّى مَاتَ

ابو نوفل کہتے ہیں کہ موت کے وقت حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ پر شدید گھبراہٹ طاری ہوگئی، ان کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ کیفیت دیکھی تو پوچھا اے ابو عبداللہ! یہ کیسی گھبراہٹ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو آپ کو اپنے قریب رکھتے تھے اور آپ کو مختلف ذمہ داریاں سونپتے تھے؟ انہوں نے فرمایا بیٹا! یہ تو واقعی حقیقت ہے، لیکن میں تمہیں بتاؤں ، بخدا! میں نہیں جانتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم محبت کی وجہ سے میرے ساتھ یہ معاملہ فرماتے تھے یا تالیف قلب کے لئے، البتہ میں اس بات کی گواہی دے سکتا ہوں کہ دنیا سے رخصت ہونے تک وہ دو آدمیوں سے محبت فرماتے تھے، ایک سمیہ کے بیٹے عمار رضی اللہ عنہ سے اور ایک ام عبد کے بیٹے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، یہ حدیث بیان کر کے انہوں نے اپنے ہاتھ اپنی ٹھوڑی کے نیچے رکھے اور کہنے لگے اے اللہ! تونے ہمیں حکم دیا، ہم نے اسے چھوڑ دیا، تونے ہمیں منع کیا اور ہم وہ کام کرتے رہے اور تیری مغفرت کے علاوہ کوئی چیز ہمارا احاطہ نہیں کرسکتی، آخر دم تک پھر وہ یہی کلمات کہتے رہے، یہاں تک کہ فوت ہوگئے۔

أَبُو نَوْفَلِ بْنُ أَبِي عَقْرَبٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17934

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17936

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ قَيْسٍ الْجُذَامِيِّ رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطَى الشَّهِيدُ سِتَّ خِصَالٍ عِنْدَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ يُكَفَّرُ عَنْهُ كُلُّ خَطِيئَةٍ وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنْ الْجَنَّةِ وَيُزَوَّجُ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ وَيُؤَمَّنُ مِنْ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ

حضرت قیس جذامی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شہید کو اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی چھ انعامات دے دیئے جاتے ہیں ، اس کا ہر گناہ معاف کر دیا جاتا ہے ، جنت میں اسے اپنا ٹھکانہ نظر آجاتا ہے ، حور عین سے اس کی شادی کردی جاتی ہے، فزع اکبر سے اسے محفوظ کر دیا جاتا ہے، عذاب قبر سے اس کی حفاظت کی جاتی ہے اور اسے ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے۔

قَيْسٍ الْجُذَامِيِّ رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← مَكْحُولٌ ← أَبِيهِ ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17936

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25082

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا فَأَذِنَ لَهَا فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ بُنَيَّةُ أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ فَقَالَتْ بَلَى فَقَالَ فَأَحِبِّي هَذِهِ لِعَائِشَةَ قَالَتْ فَقَامَتْ فَاطِمَةُ فَخَرَجَتْ فَجَاءَتْ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَتْهُنَّ بِمَا قَالَتْ وَبِمَا قَالَ لَهَا فَقُلْنَ لَهَا مَا أَغْنَيْتِ عَنَّا مِنْ شَيْءٍ فَارْجِعِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُهُ فِيهَا أَبَدًا فَأَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ فَاسْتَأْذَنَتْ فَأَذِنَ لَهَا فَدَخَلَتْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ أَزْوَاجُكَ يَسْأَلْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ وَقَعَتْ بِي زَيْنَبُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَطَفِقْتُ أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى يَأْذَنُ لِي فِيهَا فَلَمْ أَزَلْ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ قَالَتْ فَوَقَعْتُ بِزَيْنَبَ فَلَمْ أَنْشَبْهَا أَنْ أَفْحَمْتُهَا فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج مطہرات نے حضرت فاطمہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے ساتھ ان کی چادر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کو اندر آنے کی اجازت دے دی، وہ اندر آئی اور کہنے لگیں یارسول اللہ! مجھے آپ کی ازواج مطہرات نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے معاملے میں انصاف کی درخواست کرتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پیاری بیٹی! کیا تم اس سے محبت نہیں کروگی جس سے میں محبت کرتا ہوں؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کے متعلق فرمایا کہ پھر ان سے بھی محبت کرو، یہ سن کہ حضرت فاطمہ کھڑی ہوئیں اور واپس چلی گئیں اور ازواج مطہرات کو اپنے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہونے والی گفتگو بتا دی، جسے سن کر انہوں نے کہا آپ ہمارا کوئی کام نہ کر سکیں، آپ دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جایئے تو حضرت فاطمہ نے کہا واللہ اب میں اس سے معاملے میں ان سے بھی بات نہیں کروں گی۔ پھر ازواج مطہرات نے حضرت زینب بنت جحش کو بھیجا، انہوں نے اجازت طلب کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی اجازت دے دی، وہ اندر آئیں تو انہوں نے بھی کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے آپ کی ازواج مطہرات نے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے معاملے میں انصاف کی درخواست کرتی ہیں، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے مجھ پر حملے شروع کر دیئے (طعنے) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتی رہی کہ کیا وہ مجھے جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں؟ جب مجھے محسوس ہو گیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے محسوس نہیں فرمائیں گے، پھر میں نے زینب کو جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں؟ جب مجھے محسوس ہوگیا کہ اگر میں انہیں جواب دوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے محسوس نہیں فرمائیں گے، پھر میں نے زینب کو جواب دینا شروع کیا اور اس وقت تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑا جب تک انہیں خاموش نہیں کرا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران مسکراتے رہے، پھر فرمایا یہ ہے بھی تو ابوبکر کی بیٹی۔

مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25082

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25127

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ زَكَرِيَّا عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ الْبَهِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا عَلِمْتُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَيَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذْنٍ وَهِيَ غَضْبَى ثُمَّ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسِبُكَ إِذَا قَلَبَتْ لَكَ بُنَيَّةُ أَبِي بَكْرٍ ذُرَيِّعَيْهَا ثُمَّ أَقْبَلَتْ إِلَيَّ فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَكِ فَانْتَصِرِي فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا قَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فَمِهَا مَا تَرُدُّ عَلَيَّ شَيْئًا فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زینب میرے گھر میں غصے کی حالت میں اجازت لئے بغیر آگئیں اور مجھے پتہ بھی نہ چلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگیں کہ میرا خیال ہے جب ابوبکر کی بیٹی اپنی قمیض پلٹتی ہے (تو آپ کو مسحور کرلیتی ہے) پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئیں لیکن میں نے ان سے اعراض کیا، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنا بدلہ لے سکتی ہو، چنانچہ میں ان کی طرف متوجہ ہوئی اور پھر میں نے دیکھا کہ ان کے منہ میں ان کا تھوک خشک ہو گیا ہے اور وہ مجھے کوئی جواب نہیں دے پا رہیں اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر خوشی کے آثار دیکھے۔

عَائِشَةُ مَا عَلِمْتُ حَتَّی دَخَلَتْ عَلَيَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذْنٍ وَهِيَ غَضْبَی ثُمَّ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الْبَهِيِّ، ← خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، ← زَکَرِیَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← مِنْهُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25127

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25186

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَدَّانُ فَقِيلَ لَهَا مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ

محمد بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ لوگوں سے قرض لیتی رہتی تھیں، کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَدَّانُ فَقِيلَ لَهَا مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ فَقَالَتْ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي جَعْفَرٍ ← الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25186

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18194

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ عَنْ سَعِيدٍ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثَلَاثٌ أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ وَأُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ قَالَ فَأَمَّا الثَّلَاثُ الَّذِي أُقْسِمُ عَلَيْهِنَّ فَإِنَّهُ مَا نَقَّصَ مَالَ عَبْدٍ صَدَقَةٌ وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ بِمَظْلَمَةٍ فَيَصْبِرُ عَلَيْهَا إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا عِزًّا وَلَا يَفْتَحُ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ لَهُ بَابَ فَقْرٍ وَأَمَّا الَّذِي أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ فَإِنَّهُ قَالَ إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ عَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَيَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَيَعْلَمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ حَقَّهُ قَالَ فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ قَالَ وَعَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا قَالَ فَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِي مَالٌ عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ قَالَ فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ قَالَ وَعَبْدٌ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا فَهُوَ يَخْبِطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَلَا يَعْلَمُ لِلَّهِ فِيهِ حَقَّهُ فَهَذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ قَالَ وَعَبْدٌ لَمْ يَرْزُقْهُ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِي مَالٌ لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ قَالَ هِيَ نِيَّتُهُ فَوِزْرُهُمَا فِيهِ سَوَاءٌ

حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین چیزیں ہیں جن پر میں قسم کھا سکتا ہوں ، اور ایک حدیث ہے جو میں تم سے بیان کرتا ہوں ، سو اسے یاد رکھو، وہ تین چیزیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں وہ یہ ہیں کہ صدقہ کی وجہ سے کسی انسان کا مال کم نہیں ہوتا جس شخص پر کوئی ظلم کیا جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں مزید اضافہ کر دے گا، اور جو شخص اپنے اوپر سوال کا دروازہ کھولتا ہے اللہ اس پر فقروفاقہ کا دروازہ کھول دیتا ہے اور وہ حدیث جو میں تم سے بیان کرتا ہوں ، وہ یہ ہے کہ دنیا چار قسم کے آدمیوں کی ہے، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال اور علم سے نوازا ہو، وہ اپنے مال کے بارے اپنے علم پر عمل کرتا ہوا اور اسے اس کے حقوق میں خرچ کرتا ہو، اس کا درجہ سب سے اونچا ہے، دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے علم عطاء فرمایا ہو لیکن مال نہ دیا ہو اور وہ کہتا ہو کہ اگر میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں بھی اس شخص کی طرح اپنے علم پر عمل کرتا، یہ دونوں اجروثواب میں برابر ہیں ۔ تیسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال سے تو نوازا ہو لیکن علم نہ دیا ہو، وہ بدحواسی میں اسے ناحق مقام پر خرچ کرتا رہے اپنے رب سے ڈرے، نہ صلہ رحمی کرے اور نہ اللہ کا حق پہچانے اس کا درجہ سب سے بدترین ہے، اور چوتھا وہ آدمی جسے اللہ نے نہ مال سے نوازا ہو اور نہ ہی علم سے اور وہ یہ کہتا ہو کہ گر میرے پاس بھی اس شخص کی طرح مال ہوتا تو میں بھی اسے اس شخص کی طرح کے کاموں میں خرچ کرتا، یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں ۔

أَبِي کَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ ← سَعِيدٍ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ← عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُمَيْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18194

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18265

قَالَ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ مَسِيرَتُهُ سَبْعُونَ سَنَةً لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ

اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مغرب میں ایک دروازہ ہے جو توبہ کے لئے کھلا ہوا ہے اس کی مسافت ستر سال پر محیط ہے وہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18265

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18271

قَالَ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُحَدِّثُنَا حَتَّى قَالَ إِنَّ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ لَبَابًا مَسِيرَةُ عَرْضِهِ سَبْعُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ عَامًا فَتَحَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلتَّوْبَةِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يُغْلِقُهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْهُ

پھر وہ ہمیں مسلسل حدیثیں سناتے رہے حتیٰ کہ فرمایا مغرب میں ایک دروازہ ہے جو توبہ کے لئے کھلا ہوا ہے اس کی مسافت ستر سال پر محیط ہے اللہ نے اسے آسمان و زمین کی تخلیق کے دن کھولا تھا وہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے۔

ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُحَدِّثُنَا حَتَّى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18271

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18279

قَالَ فَمَا بَرِحَ يُحَدِّثُنِي حَتَّى حَدَّثَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَسِيرَةُ عَرْضِهِ سَبْعُونَ عَامًا لِلتَّوْبَةِ لَا يُغْلَقُ مَا لَمْ تَطْلُعْ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلِهِ وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا

پھر وہ ہمیں مسلسل حدیثیں سناتے رہے حتیٰ کہ فرمایا مغرب میں ایک دروازہ ہے جو توبہ کے لئے کھلا ہوا ہے اس کی مسافت ستر سال پر محیط ہے اللہ نے اسے آسمان و زمین کی تخلیق کے دن کھولا تھا وہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے، یہی مطلب ہے اس ارشادباری تعالیٰ یوم تاتی بعض آیات ربک ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الآیہ

فَمَا بَرِحَ يُحَدِّثُنِي حَتَّى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18279

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18358

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ وَالْمَاشِي أَمَامَهَا قَرِيبًا عَنْ يَمِينِهَا أَوْ عَنْ يَسَارِهَا وَالسِّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوار آدمی جنازے کے پیچھے چلے پیدل چلنے والے کی مرضی ہے (آگے چلے یاپیچھے دائیں جانب چلے یابائیں جانب ) اور نابالغ بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ، جس میں اس کے والدین کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعاء کی جائے گی ۔

يَسَارِهَا وَالسِّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ ← يَمِينِهَا أَوْ ← الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ وَالْمَاشِي أَمَامَهَا قَرِيبًا ← النَّبِيِّ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← أَبِي ← زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، ← المبارك ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18358

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18476

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ عَقَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ أَوْ فِي يَدِي فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ

بنوسلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں " سبحان اللہ" نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھردے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔

عَقَدَ رَسُولُ اللَّهِ فِي يَدِهِ أَوْ فِي يَدِي ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ← جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ، ← أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← شُعْبَةُ، ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18476

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18515

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ صَلَّى بِنَا عَمَّارٌ صَلَاةً فَأَوْجَزَ فِيهَا فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ فَقَالَ أَلَمْ أُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ قَالُوا بَلَى قَالَ أَمَا إِنِّي قَدْ دَعَوْتُ فِيهِمَا بِدُعَاءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَكَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا وَالْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَمِنْ فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مَهْدِيِّينَ

ابومجلز رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے مختصر سی نماز پڑھی ان سے کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے سرمو بھی تفاوت نہیں کیا۔ ابومجلز رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے ہمیں بہت مختصر نماز پڑھائی لوگوں کو اس پر تعجب ہوا تو انہوں نے فرمایا میں نے رکوع سجود مکمل نہیں کیا لوگوں نے کہا کیوں نہیں ، انہوں نے فرمایا میں نے اس میں ایک دعا مانگی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مانگتے تھے اور وہ یہ ہے اے اللہ اپنے علم غیب اور مخلوق پر قدرت کی وجہ سے مجھے اس وقت تک زندگی عطا فرما جب تک تیرے علم کے مطابق میں میرے لئے بہتری ہو اور جب میرے لئے موت بہتر ہو تو مجھے موت سے ہمکنار فرما، میں ظاہر باطن میں تیری خشیت کا سوال کرتا ہوں ناراضگی اور رضامندی میں کلمہ حق کہنے کی اور تنگدستی اور کشادہ دستی میں میانہ روی ، آپ کے روئے انور کی زیارت اور آپ سے ملاقات کا شوق مانگتا ہوں اور نقصان دہ چیزوں سے اور گمراہ کن فتنوں سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اے اللہ ہمیں ایمان کی زینت سے مزین فرما اور ہمیں ہدایت یافتہ اور ہدایت کنندہ بنا۔

بَلٰی ← أَلَمْ أُتِمَّ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ ← صَلَّى بِنَا عَمَّارٌ صَلَاةً فَأَوْجَزَ فِيهَا فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← أَبِي هَاشِمٍ ← شَرِيکٍ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18515

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18557

قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ كَتَبَ إِلَيَّ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ يَعْنِي الْحَلَبِيَّ فَكَانَ فِي كِتَابِهِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ قَالَ كُنْتُ إِلَى جَانِبِ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ مَا أُبَالِ أَنْ لَا أَعْمَلَ بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَسْقِيَ الْحَاجَّ وَقَالَ آخَرُ مَا أُبَالِ أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ وَقَالَ آخَرُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَلَكِنْ إِذَا صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فِيمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ كُلِّهَا

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں منبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب بیٹھا ہوا تھا ایک صاحب کہنے لگے کہ اسلام لانے کے بعد مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں کوئی عمل کروں الاّ یہ کہ حجاج کرام کو پانی پلاتا ہوں دوسرے نے کہا کہ میں مسجد حرام کو آباد کرتا ہوں لہٰذا اسلام لانے کے بعد مجھے کسی عمل کی کوئی پرواہ نہیں اور تیسرے نے کہا کہ تم نے جو باتیں بیان کی ہیں ان سب سے افضل جہاد ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹتے ہوئے فرمایا کہ منبر نبوی کے نزدیک اپنی آوازیں بلند نہ کرو وہ جمعہ کا دن تھا نماز کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور اس مسئلے کے متعلق دریافت کروں گا جس میں تم اختلاف کر رہے ہو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کیا تم حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد و تعمیر کرنا اس شخص کے برابر قرار دیتے ہو جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لاتاہے۔ "

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبَا سَلَّامٍ، ← اَخِیْہِ زَیْدِ بْنِ سَلَّامِ اَنَّہٗ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← إِلَيَّ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ يَعْنِي الْحَلَبِيَّ فَكَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18557

chevron_left Previous
1…383940…1,318
Next chevron_right