Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان والعمل

Faith & Deeds

26349 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9495

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي مُصْعَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحَا بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ الْإِيمَانُ يَمَانٍ الْإِيمَانُ يَمَانٍ الْإِيمَانُ يَمَانٍ رَأْسُ الْكُفْرِ الْمَشْرِقُ وَالْكِبْرُ وَالْفَخْرُ فِي الْفَدَّادِينَ أَصْحَابِ الْوَبَرِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اپنے دست مبارک سے اشارہ کر کے تین مرتبہ فرمایا یمن والوں کا ایمان بہت عمدہ ہے کفر کا مرکز مشرق کی جانب ہے اور غروروتکبر اونٹوں کے مالکوں میں ہوتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي مُصْعَبٍ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9495

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9497

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِيمَانُ قَالَ الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكِتَابِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِحْسَانُ قَالَ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنْ السَّائِلِ وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتْ الْأَمَةُ رَبَّهَا فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا كَانَتْ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ الْجُفَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا تَطَاوَلَ رُعَاةُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوهُ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا فَقَالَ هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کیا چیز ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں، کتابوں اس سے ملنے اس کے رسولوں اور دوبارہ جی اٹھنے پر یقین رکھو اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کیا ہے؟ فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ فرض نماز قائم کرو فرض زکوۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احسان کیا چیز ہے؟ فرمایا اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو اگر یہ تصور نہ کرسکو تو یہ تصور ہی کرلو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس سے اگلا سوال پوچھا یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس سے سوال پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، البتہ میں تمہیں اس کی علامات بتائے دیتا ہوں جب لونڈی اپنے مالک کو جنم دینے لگے تو یہ قیامت کی علامت ہے جب ننگے جسم اور ننگے پاؤں رہنے والے لوگوں کے سردار (حکمران) بن جائیں تو یہ قیامت کی علامت ہے اور جب بکریوں کے چرواہے بڑی بڑی عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں تو یہ قیامت کی علامت ہے اور پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کا یقینی عمل صرف اللہ ہی کے پاس ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی'بے شک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش برساتا ہے اور جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا؟ اور کوئی شخص نہیں جانتاکہ وہ کس علاقے میں مرے گا؟

کَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← أَبُو حَيَّانَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9497

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9524

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَبْلَى وَيَأْكُلُهُ التُّرَابُ إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین ابن آدم کا سارا جسم کھا جائے گی سوائے ریڑھ کی ہڈی کے کہ اسی سے انسان پیدا کیا جائے گا اور اسی سے اس کی ترکیب ہوگی۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9524

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9563

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نُعْمٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ نَبِيُّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بَرِيئًا مِمَّا قَالَ لَهُ إِلَّا قَامَ عَلَيْهِ يَعْنِي الْحَدَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم، نبی التوبہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اپنے کسی غلام پر ایسے کام کی تہمت لگائی جس سے وہ بری ہو قیامت کے دن اس پر اس کی حد جاری کی جائے گی، ہاں! اگر وہ غلام ویسا ہی ہو جیسے اس کے مالک نے کہا تو اور بات ہے۔

لَهُ إِلَّا قَامَ عَلَيْهِ يَعْنِي الْحَدَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا ← مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بَرِيئًا مِمَّا ← أَبُو الْقَاسِمِ نَبِيُّ التَّوْبَةِ ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← ابْنِ أَبِي نُعَمٍ، ← فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9563

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9596

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي فَإِنِّي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي وَأَنَا أَقْسِمُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا نام اور کنیت اپنے اندر جمع نہ کرو (صرف نام رکھو یا صرف کنیت) کیونکہ میری کنیت ابوالقاسم ہے اللہ تعالیٰ عطاء فرماتے ہیں اور میں تقسیم کرتا ہوں۔

أَبُو الْقَاسِمِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي وَأَنَا أَقْسِمُ ← لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي فَإِنِّي ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9596

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9691

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي جَوْفِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کے دل میں ایمان اور بخل اکٹھے نہیں ہوسکتے اسی طرح ایک مسلمان کے نتھنوں میں جہاد فی سبیل اللہ کا گردوغبار اور جہنم کا دھواں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ← صَفْوَانِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9691

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9692

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَسُرُّنَا نَتَكَلَّمُ بِهِ وَإِنَّ لَنَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ قَالَ أَوَجَدْتُمْ ذَلِكَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دلوں میں بعض اوقات ایسے خیالات آتے ہیں جنہیں ہم زبان پر لانا پسند نہیں کرتے اگرچہ اس کے بدلے میں ہمیں ساری دنیا مل جائے نبی کریم صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا واقعی ایسا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو خالص ایمان ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ وَيَزِيدُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9692

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9698

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ الْإِيمَانِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ وَغَزْوٌ لَا غُلُولَ فِيهِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَجٌّ مَبْرُورٌ يُكَفِّرُ خَطَايَا تِلْكَ السَّنَةِ قَالَ مَرْوَانُ لَا شَكَّ فِيهِ عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ أَوْ عَنْ هِشَامٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے افضل عمل اللہ پر ایسا ایمان ہے جس میں کوئی شک نہ ہو اور ایسا جہاد ہے جس میں خیانت نہ ہو اور حج مبرور ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حج مبرور اس سال کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي جَعْفَرٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9698

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9708

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنْ الْإِيمَانِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیاء بھی ایمان کا ایک اہم شعبہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عبد الله بن دينار ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9708

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9746

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ بَابًا فَأَدْنَاهُ إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنْ الطَّرِيقِ وَأَرْفَعُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان کے ستر سے زائد شعبے ہیں جن میں سے سب سے افضل اور اعلیٰ لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے ہلکا شعبہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عبد الله بن دينار ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9746

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9747

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ بَابًا فَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنْ الطَّرِيقِ وَأَرْفَعُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

ہمارے نسخے میں یہاں صرف لفظ "حدثنا" لکھا ہوا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9747

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9877

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَحَدَنَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِالشَّيْءِ مَا يُحِبُّ أَنَّهُ يَتَكَلَّمُ بِهِ وَإِنَّ لَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ قَالَ ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے دل میں ایسے وساوس اور خیالات آتے ہیں کہ انہیں زبان پر لانے سے زیادہ مجھے آسمان سے نیچے گرجانا محبوب ہے (میں کیا کروں ؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو صریح ایمان ہے۔

النَّبِيِّ أَنَّهُمْ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ذَكْوَانَ، ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9877

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9897

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْكُفْرُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَإِنَّ السَّكِينَةَ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَإِنَّ الرِّيَاءَ وَالْفَخْرَ فِي أَهْلِ الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَأَهْلِ الْخَيْلِ وَيَأْتِي الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَهِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ حَتَّى إِذَا جَاءَ دُبُرَ أُحُدٍ تَلَقَّتْهُ الْمَلَائِكَةُ فَضَرَبَتْ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ هُنَالِكَ يُهْلَكُ هُنَالِكَ يُهْلَكُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان (اور حکمت) یمن والوں کے ہاں بہت عمدہ ہے کفر مشرقی جانب ہے سکون واطمینان بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے جبکہ دلوں کی سختی اونٹوں کے مالکوں میں ہوتی ہے۔ مسیح دجال مشرق کی طرف سے آئے گا اور اس کی منزل مدینہ منورہ ہوگی یہاں تک کہ وہ احد کے پیچھے آکر پڑاؤ ڈالے گا پھر ملائکہ اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہیں وہ ہلاک ہوجائے گا۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9897

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9966

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا قَعَدَ قَوْمٌ مَقْعَدًا لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَإِنْ دَخَلُوا الْجَنَّةَ لِلثَّوَابِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ کسی جگہ پر مجلس کریں لیکن اس میں اللہ کا ذکر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دورد نہ کریں اور جدا ہوجائیں وہ ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی اگرچہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9966

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10090

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ وَإِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبَّادٌ الْمَعْنَى عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْبَلُ الصَّدَقَاتِ وَيَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ فَيُرَبِّيهَا لِأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَصِيرُ مِثْلَ أُحُدٍ وَقَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ وَ يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیزصدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشوونما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشوونما کرتا ہے اور انسان ایک لقمہ صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے وہ ایک لقمہ پہاڑ کے برابر بن جاتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا هُرَيْرَةَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عَبَّادٌ الْمَعْنَى ← عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ وَإِسْمَاعِيلُ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10090

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10138

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْفِقْهُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10138

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10220

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ذَكْوَانَ عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس وقت کوئی شخص بدکاری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شخص چوری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شراب پیتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ذَكْوَانَ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10220

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10227

وَبِإِسْنَادِهِ أَنَّهُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَأَلْيَنُ قُلُوبًا وَالْفِقْهُ يَمَانٍ وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ وَالْخُيَلَاءُ وَالْكِبْرُ فِي أَصْحَابِ الْإِبِلِ وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَصْحَابِ الشَّاءِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے غروروتکبر اونٹوں کے مالکوں میں ہوتا ہے اور سکون و وقار بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10227

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10288

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ زُهَيْرٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْكُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَالْفَخْرُ وَالرِّيَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْخَيْلِ وَأَهْلِ الْوَبَرِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان یمن والوں کا بہت عمدہ ہے کفر مشرق کی جانب ہے سکون و اطمینان بکری والوں میں ہوتا ہے فخروریاکاری گھوڑوں اور اونٹوں کے مالکوں میں ہوتی ہے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← زُهَيْرٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10288

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10290

وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَالْجُمُعَةَ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُمَا مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ

گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہو بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔

النَّبِيِّ ← وَبِإِسْنَادِهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10290

chevron_left Previous
1…313233…1,318
Next chevron_right