Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان والعمل

Faith & Deeds

26349 hadiths

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2365

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي غَامِدٍ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي فَقَالَ لَهَا ارْجِعِي فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَتْهُ أَيْضًا فَاعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَلَعَلَّكَ أَنْ تَرْدُدَنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَحُبْلَى فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعِي حَتَّى تَلِدِي فَلَمَّا وَلَدَتْ جَاءَتْ بِالصَّبِيِّ تَحْمِلُهُ فِي خِرْقَةٍ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا قَدْ وَلَدْتُ قَالَ فَاذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ ثُمَّ افْطِمِيهِ فَلَمَّا فَطَمَتْهُ جَاءَتْ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبْزٍ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ فَطَمْتُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِيِّ فَدُفِعَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَأَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا حُفْرَةٌ فَجُعِلَتْ فِيهَا إِلَى صَدْرِهَا ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهَا فَأَقْبَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِحَجَرٍ فَرَمَى رَأْسَهَا فَتَلَطَّخَ الدَّمُ عَلَى وَجْنَةِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَسَبَّهَا فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ إِيَّاهَا فَقَالَ مَهْ يَا خَالِدُ لَا تَسُبَّهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ فَأَمَرَ بِهَا فَصُلِّيَ عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتی ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا غامد قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک عورت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی یا رسول اللہ میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے میں یہ چاہتی ہوں کہ آپ مجھے پاک کردیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم واپس چلی جاؤ اگلے دن وہ عورت دوبارہ آئی اور عرض کی میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اے اللہ کے نبی مجھے پاک کردیں۔ شاید آپ بھی مجھے ایسے ہی واپس بھیج دینا چاہتے ہیں جیسے آپ نے ماعز بن مالک کو بھیجا تھا اللہ کی قسم میں حاملہ ہوچکی ہوں اور ابھی میری شادی بھی نہیں ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ارشاد فرمایا تم واپس جاؤ اور بچے کو جنم دو (راوی کہتے ہیں) جب اس عورت نے بچے کو جنم دیدیا تو اس بچے کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی اے اللہ کے نبی میں نے اس کو جنم دیاہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جاؤ اسے دودھ پلاؤ جب دودھ چھڑادوگی پھر آنا۔ جب اس نے دودھ چھڑا دیا توبچے کو لے کر آئی اس بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا تھا اس نے عرض کی اے اللہ کے نبی میں نے اس کا دودھ چھڑوادیاہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس بچے کو ایک مسلمان شخص کے حوالے کردیا گیا آپ نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا کہ اس عورت کے لئے گڑھا کھودا گیا اور اسے سینے تک اس گڑھے میں رکھا گیا پھر آپ نے لوگوں کو اسے پتھر مارنے کا حکم دیا حضرت خالد بن ولید نے ایک پتھر اس کے سر مارا اس کا خون اچھل کر حضرت خالد کے گال پر آگرا حضرت خالد نے اس عورت کو برا کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس عورت کو برا کہتے ہوئے سنا تو آپ نے ارشاد فرمایا اے خالد باز آجاؤ اس کو برا نہ کہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر وصول کرنے والا یہ توبہ کرتا تو اسے بھی بخش دیا جاتا۔ (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس خاتون کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور اسے دفن کردیا گیا۔

كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي غَامِدٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book Alhoudod › Door · Hadith 2365

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2366

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى مِنْ الزِّنَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا فَقَالَ اذْهَبْ فَأَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا فَأْتِنِي بِهَا فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ فَقَالَ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہ زنا کرنے کے بعد حاملہ ہوگئی تھی اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول میں نے ایک قابل حد جرم کا ارتکاب کیا ہے آپ مجھ پر حد قائم کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اور فرمایا اسے لے جاؤ اور اس کا خیال رکھنا اور جب یہ بچے کو جنم دے تو پھر اس کو میرے پاس لے کر آنا اس نے ایسا ہی کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس عورت کے کپڑے اچھی طرح باندھ دیئے گئے اور آپ کے حکم کے تحت اسے سنگسار کردیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی حضرت عمر نے دریافت کیا اے اللہ کے رسول آپ اس کی نماز جنازہ ادا کررہے ہیں حالانکہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر اسے مدینہ میں رہنے والے ستر افراد کے درمیان تقسیم کیا جائے تو ان سب کے لئے کافی ہو۔ کیا تمہیں اس سے زیادہ بہتر اور کوئی صورت نظر آتی ہے اس نے اپنی جان اللہ کے لئے قربان کردی۔

أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Sunan Darmi · From the book Alhoudod › Door · Hadith 2366

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2372

أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنَكْدِرِ عَنْ ابْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدٌّ غُفِرَ لَهُ ذَلِكَ الذَّنْبُ

ابن خزیمہ بن ثابت اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص پر حد قائم ہوجائے اس شخص کا وہ گناہ معاف ہوجاتاہے۔

أَبِيهِ ← ابْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ

Sunan Darmi · From the book Alhoudod › Door · Hadith 2372

سنن دارمی · 17-باب الظاء ‹ باب · حديث 2401

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَبَائِرُ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ شُعْبَةُ الشَّاكُّ أَوْ الْيَمِينُ الْغَمُوسُ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کبیرہ گناہ یہ ہیں کہ کسی کو اللہ کاشریک ٹھہرانا والدین کی نافرمانی کرنا۔ اور کسی کو ناحق قتل کرنا۔ راوی کو شک ہے یا شاید الفاظ یہ ہیں جھوٹی قسم اٹھانا۔

الْكَبَائِرُ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ شُعْبَةُ الشَّاكُّ أَوْ الْيَمِينُ الْغَمُوسُ ← النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sunan Darmi · From the book Diat › Door · Hadith 2401

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2431

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ قَعَدْنَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَذَاكَرْنَا فَقُلْنَا لَوْ نَعْلَمُ أَيَّ الْأَعْمَالِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى لَعَمِلْنَاهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا حَتَّى خَتَمَهَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَتَمَهَا قَالَ أَبُو سَلَمَةَ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا ابْنُ سَلَامٍ قَالَ يَحْيَى فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا أَبُو سَلَمَةَ وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا يَحْيَى وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا الْأَوْزَاعِيُّ وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا مُحَمَّدٌ

حضرت عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کرام میں بیٹھے ہوئے گفتگو کررہے تھے۔ ہم نے یہ کہا اگر ہمیں علم ہوجاتا کہ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کون ساہے تو ہم وہ عمل سرانجام دیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ۔ "آسمان وزمین میں جو کچھ موجود ہے وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہے اور وہ (یعنی اللہ تعالی) غالب اور حکمت والاہے" ۔ (راوی کہتے ہیں) یہ مکمل سورت نازل ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت ہمیں پڑھ کر سنائی اور پوری سورت پڑھ کر سنائی ۔ (راوی) ابوسلمہ بیان کرتے ہیں حضرت ابن سلام نے ہمیں یہ سورت پڑھ کر سنائی۔ (راوی) حضرت یحیی کہتے ہیں ابوسلمہ نے ہمیں یہ سورت پڑھ کر سنائی ۔ (راوی) یحیحی نے ہمیں یہ پوری سورت پڑھ کر سنائی۔ (راوی کہتے ہیں) اوزاعی نامی راوی نے یہ پوری سورت ہمیں پڑھ کر سنائی (امام دارمی فرماتے ہیں) محمدجو اس حدیث کے روایت میں میرے استاد ہیں انہوں نے یہ پوری سورت ہمیں پڑھ کر سنائی۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2431

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2434

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ قِيلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قِيلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے۔ جواب دیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ عرض کی گئی پھر اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے۔ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پھر عرض کی گئی پھر کون ساہے؟ آپ نے جواب دیا وہ حج ہے جس میں کوئی گناہ نہ کیا جائے۔

ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ ← ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قِيلَ ثُمَّ مَاذَا ← قِيلَ ثُمَّ مَاذَا ← «إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ»، ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2434

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2450

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ فَتَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَتَوَدُّ أَنَّهَا رَجَعَتْ إِلَيْكُمْ وَلَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلَّا الشَّهِيدَ فَإِنَّهُ وَدَّ أَنَّهُ قُتِلَ كَذَا مَرَّةً لِمَا رَأَى مِنْ الثَّوَابِ

حضرت انس روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جو بھی شخص مر کر جنت میں چلا جائے گا ان میں سے کوئی یہ خواہش نہیں کرے گا کہ وہ تمہارے پاس واپس آجائے اور اسے دنیا میں موجود سب کچھ مل جائے البتہ شہید یہ آرزو کرے گا کہ اسے اسی طرح دوبارہ قتل کیا جائے اس کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ شہادت کا اجروثواب اتنا دیکھ لے گا کہ اس کی دوبارہ آرزو کرے گا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2450

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2552

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فتح مکہ بعد ہجرت نہیں ہوگی البتہ جہاد ہوگا جب تمہیں جہاد کے لئے بلایا جائے تو تم آجانا۔

لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2552

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2553

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ أَبِي عَوْفٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هِنْدٍ الْبَجَلِيِّ وَكَانَ مِنْ السَّلَفِ قَالَ تَذَاكَرُوا الْهِجْرَةَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ ثَلَاثًا وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا

ابوہندبجلی بیان کرتے ہیں لوگوں نے حضرت معاویہ کی موجودگی میں ہجرت کا مسئلہ چھیڑ دیا اور وہ اس وقت اپنے پلنگ پر آرام فرما رہے تھے انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے ہجرت اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک توبہ ختم نہیں ہوگی۔ (یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا) توبہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب کی جانب سے طلوع نہیں ہوگا۔

النَّبِيِّ ← تَذَاكَرُوا الْهِجْرَةَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ ← أَبِي هِنْدٍ الْبَجَلِيِّ وَكَانَ مِنْ السَّلَفِ ← ابْنِ أَبِي عَوْفٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ← حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2553

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2728

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ وَكَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ وَدِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَمِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًا

حضرت عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابزی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کرتے تو یہ دعا پڑھتے ہم اسلام پر اعتقاد رکھتے ہوئے صبح کرتے ہیں اور اخلاص کے کلمہ پر اعتقاد رکھتے ہوئے صبح کرتے ہیں اور اپنے نبی کے دین پر صبح کرتے ہیں اور اپنے جد امجد حضرت ابراہیم کے مذہب پر صبح کرتے ہیں جو سیدھے راستے پر چلنے والے سچے مسلمان تھے۔

كَانَ النَّبِيُّ إِذَا أَصْبَحَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2728

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2764

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ سَلْمِ بْنِ قُتَيْبَةَ عَنْ سُهَيْلٍ الْقُطَعِيِّ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ قَالَ قَالَ رَبُّكُمْ أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى فَمَنْ اتَّقَانِي فَأَنَا أَهْلٌ أَنْ أَغْفِرَ لَهُ

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی۔ وہی تقوی والے ہیں اور وہی مغفرت والے ہیں ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہمارا پروردگار ارشاد فرماتا ہے میں سب سے زیادہ اس بات کا حق دارہوں کہ مجھ سے ڈراجائے جو شخص مجھ سے ڈرے گا تو میں اس بات کا زیادہ حق دار ہوں کہ میں اس کو بخش دوں۔

أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى فَمَنْ اتَّقَانِي فَأَنَا أَهْلٌ أَنْ أَغْفِرَ لَهُ ← رَبُّكُمْ ← النَّبِيِّ أَنَّهُ قَرَأَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُهَيْلٍ الْقُطَعِيِّ ← سَلمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2764

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2768

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ النُّعْمَانِ هُوَ ابْنُ بَشِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَافَرَ رَجُلٌ فِي أَرْضٍ تَنُوفَةٍ فَقَالَ تَحْتَ شَجَرَةٍ وَمَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ رَاحِلَتُهُ فَعَلَا شَرَفًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ عَلَا شَرَفًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ عَلَا شَرَفًا فَلَمْ يَرَ شَيْئًا قَالَ فَالْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِهَا تَجُرُّ خِطَامَهَا فَمَا هُوَ بِأَشَدَّ فَرَحًا بِهَا مِنْ اللَّهِ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ إِذَا تَابَ إِلَيْهِ

حضرت نعمان بن بشیر کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے ایک مرتبہ ایک شخص ایک بے آب وگیاہ جگہ پر سفر کر رہا تھا وہ دوپہر کے وقت ایک درخت کے نیچے سوگیا اس کے ساتھ اس کی سواری تھی جس پر اس کا سامان اور کھانے پینے کی چیزیں تھی جب وہ شخص بیدار ہوا تو اس کی سواری کہیں جاچکی تھی اس نے ادھر ادھر تلاش کی لیکن اسے کچھ نہیں ملا اس نے پھر تلاش کیا لیکن نہیں ملی ۔ پھر تلاش کیا لیکن نہیں ملی۔ پھر اس نے جب توجہ کی تو سواری وہاں موجود تھی اس نے اس کی لگام کو پکڑا تو وہ شخص جتناخوش ہواہے اللہ کا بندہ جب اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔

النُّعْمَانِ هُوَ ابْنُ بَشِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2768

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2778

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الْمُرَاوِحِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ

حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں ایک شخص نے سے سوال کیا کون سا عمل زیادہ افضل ہے ؟ نے جواب دیا اللہ پر ایمان رکھنا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔

إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ← سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ فَقَالَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي الْمُرَاوِحِ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2778

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2779

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَبُو جَعْفَرٍ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے افضل عمل ایسا ہے جس میں شک نہ ہو۔ امام دارمی فرماتے ہیں ابوجعفر نامی راوی انصاری ہیں۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّهُ ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2779

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2828

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ قَالَ يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ مَا كَانَ فِيكَ ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ إِنْ تَلْقَانِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا لَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً بَعْدَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ إِنْ تُذْنِبْ حَتَّى يَبْلُغَ ذَنْبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ تَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرْ لَكَ وَلَا أُبَالِي

حضرت ابوذر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اللہ کا فرمان نقل کرتے ہیں اے ابن آدم تو جب تک مجھ سے مانگتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا میں تیری تمام خامیوں کو بخش دوں گا اے ابن آدم تو اس حالت میں میری بارگاہ میں حاضر ہو کہ زمین جتنے تیرے گناہ ہوں تو میں اس حالت میں تجھ سے ملاقات کروں گا کہ اتنی ہی مغفرت ہوگی لیکن اس شرط پر کہ تم نے کسی کو میرا شریک نہ بنایا ہو اے ابن آدم اگر تو اتنے گناہ کر لے کہ وہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں پھر بھی تجھ کو بخش دوں گا مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

رَبِّهِ ← النَّبِيِّ يَرْوِيهِ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← مَعْدِي كَرِبَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← غَيْلَانَ ← مَهْدِيٌّ، ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2828

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3405

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مِنْ النَّاسِ مَنْ يُؤْتَى الْإِيمَانَ وَلَا يُؤْتَى الْقُرْآنَ وَمِنْهُمْ مَنْ يُؤْتَى الْقُرْآنَ وَلَا يُؤْتَى الْإِيمَانَ وَمِنْهُمْ مَنْ يُؤْتَى الْقُرْآنَ وَالْإِيمَانَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَا يُؤْتَى الْقُرْآنَ وَلَا الْإِيمَانَ ثُمَّ ضَرَبَ لَهُمْ مَثَلًا قَالَ فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ الْإِيمَانَ وَلَمْ يُؤْتَ الْقُرْآنَ فَمَثَلُهُ مَثَلُ التَّمْرَةِ حُلْوَةُ الطَّعْمِ لَا رِيحَ لَهَا وَأَمَّا مَثَلُ الَّذِي أُوتِيَ الْقُرْآنَ وَلَمْ يُؤْتَ الْإِيمَانَ فَمَثَلُ الْآسَةِ طَيِّبَةُ الرِّيحِ مُرَّةُ الطَّعْمِ وَأَمَّا الَّذِي أُوتِيَ الْقُرْآنَ وَالْإِيمَانَ فَمَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ طَيِّبَةُ الرِّيحِ حُلْوَةُ الطَّعْمِ وَأَمَّا الَّذِي لَمْ يُؤْتَ الْقُرْآنَ وَلَا الْإِيمَانَ فَمَثَلُهُ مَثَلُ الْحَنْظَلَةِ مُرَّةُ الطَّعْمِ لَا رِيحَ لَهَا

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں بعض لوگ وہ ہیں جنہیں ایمان دیا گیا ہے لیکن قرآن نہیں دیا گیا اور بعض لوگ وہ ہیں جنہیں قرآن دیا گیا ہے لیکن ایمان نہیں دیا گیا اور بعض لوگ وہ ہیں جنہیں قرآن اور ایمان دونوں دیئے گئے ہیں اور بعض لوگ وہ ہیں جنہیں نہ قرآن دیا گیا ہے اور نہ ایمان دیا گیا ہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی ایک مثال بیان کی اور فرمایا جس شخص کو ایمان دیا گیا ہو اور قرآن نہ دیا گیا ہو اس کی مثال کھجور کی مانند ہے جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی جس شخص کو قرآن دیا گیا اور ایمان نہ دیا گیا ہو اس کی مثال آساء نامی پھل کی ہے جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور جس شخص کو قرآن بھی دیا گیا ہو اور ایمان بھی دیا گیا ہو اس کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور جس شخص کو نہ قرآن نہ ایمان دیا گیا اس کی مثال حنظلہ کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَقَ ← فِطْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3405

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3407

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ مَثَلُ الَّذِي أُوتِيَ الْإِيمَانَ وَلَمْ يُؤْتَ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الَّذِي أُوتِيَ الْقُرْآنَ وَلَمْ يُؤْتَ الْإِيمَانَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ الْآسَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الَّذِي أُوتِيَ الْقُرْآنَ وَالْإِيمَانَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الَّذِي لَمْ يُؤْتَ الْإِيمَانَ وَلَا الْقُرْآنَ مَثَلُ الْحَنْظَلَةِ رِيحُهَا خَبِيثٌ وَطَعْمُهَا خَبِيثٌ

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جس شخص کو ایمان دیا گیا ہو اور قرآن نہ دیا گیا ہو اس کی مثال کھجور کی مانند ہے جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی جس شخص کو قرآن دیا گیا اور ایمان نہ دیا گیا ہو اس کی مثال آساء نامی پھل کی ہے جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور جس شخص کو قرآن بھی دیا گیا ہو اور ایمان بھی دیا گیا ہو اس کی مثال نارنگی کی طرح ہےجس کی خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور جس شخص کو نہ قرآن نہ ایمان دیا گیا ہو اس کی مثال حنظلہ کی سی ہے جس کی بو بھی بری ہوتی ہے اور ذائقہ بھی برا ہوتا ہے۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3407

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · كتاب الجمعة ‹ (85) جامع الصلاة · حديث 577

577 - حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيه وَسَلم، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ أَحَبُّ الأعمال إِلَى نبي اللَّهِ صَلى الله عَلَيه وَسَلم: الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ.

كَانَ أَحَبُّ الأعمال إِلَى نبي اللَّهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ. ← عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَبُو مُصْعَبٍ

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 577

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · كتاب الصيام ‹ (15) باب قضاء التطوع من الصوم · حديث 831

831 - قَالَ مَالِكٌ: وَلاَ يَنْبَغِي لأحد أَنْ يَدْخُلَ فِي شَيْءٍ مِنَ الأََعْمَالِ الصَّالِحَةِ: الصَّلاَةِ، وَالصِّيَامِ، وَالْحَجِّ، والعمرة وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الأََعْمَالِ الصَّالِحَةِ الَّتِي يَتَطَوَّعُ بِهَا النَّاسُ، فَيَقْطَعَهُ حَتَّى يُتِمَّهُ عَلَى سُنَّتِهِ: إِذَا كَبَّرَ لَمْ يَنْصَرِفْ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، وَإِذَا صَامَ لَمْ يُفْطِرْ حَتَّى يُتِمَّ يَوْمِهِ، وَإِذَا أَهَلَّ لَمْ يَرْجِعْ حَتَّى يُتِمَّ حَجَّهُ أو عمرته، وَلاَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتْرُكَ شَيْئًا مِنْ هَذَا إِذَا دَخَلَ فِيهِ حَتَّى يَقْضِيَهُ، إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ يَعْرِضُ لَهُ لابد له منه , مِمَّا يَعْرِضُ لِلنَّاسِ، مِنَ الأََسْقَامِ وَالأُمُورِ الَّتِي يُعْذَرُونَ بِهَا، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأََبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأََسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ} فَعَلَيْهِ الصِّيَامِ، كَمَا أمره اللَّهُ، وَقَالَ اللَّهُ تبارك تَعَالَى: {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ} قال: فَلَوْ أَنَّ رَجُلاً أَهَلَّ بِالْحَجِّ متَطَوُّعًا وَقَدْ قَضَى الْفَرِيضَةَ، لَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يَتْرُكَ الْحَجَّ بَعْدَ أَنْ دَخَلَ فِيهِ، وَيَرْجِعَ حَلاَلاً مِنَ الطَّرِيقِ، وَكُلُّ من دَخَلَ فِي نَافِلَةٍ فَعَلَيْهِ إِتْمَامُهَا، كَمَا يُتِمُّ الْفَرِيضَةَ. قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا أَحْب مَا سَمِعْتُ إلي.

مَالِكٌ: وَلاَ يَنْبَغِي لأحد

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 831

موطأ مالك رواية أبي مصعب الزهري · كتاب الصيام ‹ (23) كتاب الاعتكاف · حديث 867

867 - قَالَ مَالِكٌ: ولَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَذْكُرُ فِي الاعْتِكَافِ شَرْطًا، وَإِنَّمَا الاعْتِكَافُ عَمَلٌ مِنَ الأََعْمَالِ كهيئة الصَّلاَةِ , وَالصِّيَامِ , وَالْحَجِّ، وَمَا سوى ذَلِكَ مِنَ الأََعْمَالِ، مَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ فَرِيضَةً أَوْ نَافِلَةً، فَمَنْ دَخَلَ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ , فَإِنَّمَا يَعْمَلُ بِمَا مَضَى مِنَ السُّنَّةِ، وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُحْدِثَ فِي ذَلِكَ غَيْرَ مَا مَضَى عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ، مِنْ شَرْطٍ يَشْتَرِطُهُ وَلاَشئ يَبْتَدِعُهُ، وإنما العمل في هذه الأشياء بما مضى من السنة وَقَدِ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَرَفَ الْمُسْلِمُونَ سُنَّةَ الاِعْتِكَافِ.

Muwatta Malik, narrated by Abu Musab al-Zuhri · Book › Chapter · Hadith 867

chevron_left Previous
1…232425…1,318
Next chevron_right