Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الموت والجنائز

Death & Funeral

20724 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21463

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ سَمِعَ ابْنَ أَبْزَى سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ سَمِعَ أُبَيًّا يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِحْدَى عَيْنَيْهِ كَأَنَّهَا زُجَاجَةٌ خَضْرَاءُ وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ

حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا اس کی ایک آنکھ سبز شیشے کی طرح محسوس ہوگی اور عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو ۔

أُبَيًا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ← ابْنِ أَبْزَى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، ← حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21463

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21464

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حَبِیبِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَاللہِ بْنَ اَبِی الْھُذَیْلِ قَالَ رَوْحٌ الْعَنْزِیُّ یُحَدَّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبْزَی عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ اُبَیَّ بْنِ کَعْبٍ وَقَالَ رَوْحٌ فِی حَدِیثِہِ إِنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ خَبَّابٍ حَدَّثَہُ عَنْ اُبَیْ بْنِ کَعْبٍ عَنْ النَّبِیْ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ ذَکَرَ الدَّجَّالَ عِنْدَہُ فَقَالَ عَیْنُہُ خَضْرَاءُ کَالزُّجَاجَۃِ فَتَعَوَّذُوا بِاللہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ

حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا اس کی ایک آنکھ سبز شیشے کی طرح محسوس ہوگی اور عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو ۔

الدَّجَّالَ عِنْدَہُ فَقَالَ عَیْنُہُ خَضْرَاءُ کَالزُّجَاجَۃِ فَتَعَوَّذُوا بِاللہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← اُبَیَّ بْنِ کَعْبٍ وَقَالَ رَوْحٌ فِی حَدِیثِہِ إِنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ خَبَّابٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← رَوْحٌ الْعَنْزِیُّ ← عبدالله بن أبي الهذيل ← حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَرَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21464

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17703

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي جُبَيْرَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ سِيَابَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرٍ فَقَالَ إِنَّ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ يُعَذَّبُ فِي غَيْرِ كَبِيرٍ ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَوَضَعَهَا عَلَى قَبْرِهِ فَقَالَ لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ مَا دَامَتْ رَطْبَةً

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گذرے تو فرمایا کہ اس قبر والے کو عذاب ہو رہا ہے، لیکن وہ کسی بڑی وجہ سے نہی ہیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ٹہنی منگوائی اور اسے اس قبر پر رکھ دیا اور فرمایا جب تک یہ تر رہے گی، ممکن ہے کہ اس کے عذاب میں اس وقت تک تخفیف رہے۔

يَعْلَى بْنُ سِيَابَةَ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي جَبِيرَةَ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادٌ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17703

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24828

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا قُدَامَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيَّ عَنْ جَسْرَةَ قَالَتْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَتْ إِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ مِنْ الْبَوْلِ فَقُلْتُ كَذَبْتِ فَقَالَتْ بَلَى إِنَّا لَنَقْرِضُ مِنْهُ الثَّوْبَ وَالْجِلْدَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقَدْ ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا فَقَالَ مَا هَذِهِ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَتْ فَقَالَ صَدَقَتْ قَالَتْ فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِئِذٍ إِلَّا قَالَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ أَعِذْنِي مِنْ حَرِّ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ عذاب قبر پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے، اس نے اس کی تکذیب کی، اس نے اپنی بات پر اصرار کر تے ہوئے کہا کہ ہم تو کپڑے یا جسم کی کھال پر پیشاب لگ جا نے سے اس کو کھرچ ڈالتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے جاچکے تھے، جبکہ دوران گفتگو ہماری آوازیں اونچی ہوگئی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیا ماجرا ہے؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس یہودیہ کی بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا ہے، پھر اس دن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز بھی پڑھائی، اس کے بعد بلند آواز سے یہ دعاء ضرور کی کہ اے جبرائیل و میکا ئیل اور اسرافیل کے رب اللہ! مجھے جہنم کی گرمی اور عذاب قبر سے محفوظ فرما۔

فَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ مِنْ يَوْمِئِذٍ إِلَّا ← صَدَقْتَ ← مَا هَذِهِ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا ← لَنَقْرِضُ مِنْهُ الثَّوْبَ وَالْجِلْدَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى الصَّلَاةِ وَقَدْ ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا ← بَلٰی ← إِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ مِنْ الْبَوْلِ فَقُلْتُ کَذَبْتِ ← دَخَلَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنْ الْيَهُودِ ← حَدَّثَتْنِي عَائِشَةَ ← جَسْرَةَ ← قُدَامَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيَّ، ← يعلى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24828

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24858

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَبَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ مَا رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو وہ میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے بعد میں کسی پر بھی موت کی شدت کو دیکھ کر اسے ناپسند نہیں کروں گی۔

عَائِشَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ← لَيْثٌ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24858

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24860

حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نزع کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک پیالے میں پانی رکھا ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پیالے میں ہاتھ ڈالتے جارہے ہیں اور اپنے چہرے پر اسے ملتے جا رہے ہیں، اور یہ دعا فرماتے جا رہے ہیں کہ اے اللہ ! موت کی بے ہوشیوں میں میری مدد فرما۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ ← يَزِيدُ: ← لَيْثٌ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24860

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24864

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اشْتَكَى أَصْحَابُهُ وَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عِيَادَتِهِمْ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ لِأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تَجِدُكَ فَقَالَ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَسَأَلَتْ عَامِرًا فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ وَسَأَلَتْ بِلَالًا فَقَالَ يَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِفَجٍّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ بِقَوْلِهِمْ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ وَأَشَدَّ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَفِي مُدِّهَا وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى مَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ كَمَا زَعَمُوا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بیمار ہو گئے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی بیمار ہوگئے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان لوگوں کی عیادت کے لئے جانے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اپنی صحت کیسی محسوس کررہے ہیں؟ انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ "شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کر تا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔" پھر میں نے عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ "کہ موت کا مزہ چکھنے سے پہلے موت کو محسوس کررہا ہوں اور قبرستان منہ کے قریب آگیا ہے۔ "پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے ان کی طبیعت پوچھی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ "ہائے! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ"فخ"میں رات گذار سکوں گا اور میرے آس پاس "اذخر" اور "جلیل" نامی گھاس ہوگی۔ "حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئیں اور ان لوگوں کی باتیں بتائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا اے اللہ! مدینہ منورہ کو ہماری نگاہوں میں اسی طرح محبوب بنا جیسے مکہ کو بنایا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ، اس سے بھی زیادہ، اے اللہ! مدینہ کے صاع اور مد میں برکتیں عطاء فرما، اور اس کی وباء کو حجفہ کی طرف منتقل فرما۔

لِأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تَجِدُكَ ← بِلَالٌ فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ فِي عِيَادَتِهِمْ فَأَذِنَ لَهَا ← عامر بن فهيرة مولى أبي بكر ← اشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ ← لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ الْمَدِينَةَ اشْتَكَى أَصْحَابُهُ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، ← أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ ← يزيد يعني ابن أبي حبيب ← لَيْثٌ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24864

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17814

و عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ خَارِجَةَ قَالَ لَيْثٌ فِي حَدِيثِهِ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ فَقَالَ أَلَا إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِي وَلَا لِأَهْلِ بَيْتِي وَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ كَاهِلِ نَاقَتِهِ فَقَالَ وَلَا مَا يُسَاوِي هَذِهِ أَوْ مَا يَزِنُ هَذِهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ إِنَّ اللَّهَ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ

حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں ۔ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔

عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَى أَنَّهُ ← و،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17814

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17815

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ فَلَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ أَلَا وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ رَغْبَةً عَنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ وَقَالَ يَزِيدُ وَقَالَ مَطَرٌ وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ أَوْ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ قَالَ أَبِي قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ وَلَا عَدْلٌ إِنَّ عَمْرَو بْنَ خَارِجَةَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ عَلَى رَاحِلَتِهِ

حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔

عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← سَعِيدٌ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17815

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17816

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ قَالَ كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَى لِكُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ وَلَيْسَ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ قَالَ عَفَّانُ وَزَادَ فِيهِ هَمَّامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُذْكَرْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ وَإِنِّي لَتَحْتَ جِرَانِ رَاحِلَتِهِ وَزَادَ فِيهِ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ وَقَالَ رَغْبَةً عَنْهُمْ

حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17816

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24920

حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فَيَمْسَحُ بِهِ وَجْهَهُ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نزع کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک پیالے میں پانی رکھا ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پیالے میں ہاتھ ڈالتے جارہے ہیں اور اپنے چہرے پر اسے ملتے ہیں، اور یہ دعا فرماتے جا رہے ہیں کہ اے اللہ! موت کی بے ہوشیوں میں مدد فرما۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← لَيْثٌ، ← الْخُزَاعِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24920

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17817

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ وَأَنَا تَحْتَ جِرَانِهَا وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَى لِكُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ

حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔

تَحْتَ جِرَانِهَا وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ ← خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ ← عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17817

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17820

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ خَارِجَةَ الْخُشَنِيَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَإِنَّ رَاحِلَتَهُ لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَإِنَّ لُعَابَهَا لَيَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ وَلَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِلْوَارِثِ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ أَلَا وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا أَوْ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا

حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ خَارِجَةَ الْخُشَنِيَّ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17820

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17821

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِمِنًى عَلَى رَاحِلَتِهِ وَإِنِّي لَتَحْتَ جِرَانِ نَاقَتِهِ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ وَلَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ أَلَا وَإِنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ أَلَا وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ رَغْبَةً عَنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ قَالَ مَطَرٌ وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ

عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17821

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24986

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِيهِ فَيَمْسَحُ بِهِ وَجْهَهُ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نزع کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک پیالے میں پانی رکھا ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پیالے میں ہاتھ ڈالتے جا رہے ہیں اور اپنے چہرے پر اسے ملتے جارہے ہیں، اور یہ دعا فرماتے جا رہے ہیں کہ اے اللہ! موت کی بے ہوشیوں میں میری مدد فرما۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← لَيْثٌ، ← مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24986

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24987

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قُبِضَ أَوْ مَاتَ وَهُوَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو وہ میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے بعد میں کسی پر بھی موت کی شدت کو دیکھ کر اسے ناپسند نہیں کروں گی۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← لَيْثٌ، ← مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24987

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25025

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَخْدُمُهَا فَلَا تَصْنَعُ عَائِشَةُ إِلَيْهَا شَيْئًا مِنْ الْمَعْرُوفِ إِلَّا قَالَتْ لَهَا الْيَهُودِيَّةُ وَقَاكِ اللَّهُ عَذَابَ الْقَبْرِ قَالَتْ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِلْقَبْرِ عَذَابٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ لَا وَعَمَّ ذَاكَ قَالَتْ هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ لَا نَصْنَعُ إِلَيْهَا مِنْ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا إِلَّا قَالَتْ وَقَاكِ اللَّهُ عَذَابَ الْقَبْرِ قَالَ كَذَبَتْ يَهُودُ وَهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كُذُبٌ لَا عَذَابَ دُونَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَتْ ثُمَّ مَكَثَ بَعْدَ ذَاكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ نِصْفَ النَّهَارِ مُشْتَمِلًا بِثَوْبِهِ مُحْمَرَّةً عَيْنَاهُ وَهُوَ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ أَيُّهَا النَّاسُ أَظَلَّتْكُمْ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ أَيُّهَا النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا أَيُّهَا النَّاسُ اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَقٌّ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت ان کی خدمت کیا کرتی تھی، حضرت عائشہ اس کے ساتھ جب بھی کوئی نیکی کرتیں تو وہ انہیں یہ دعا دیتی کہ اللہ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں نے ان سے پوچھا یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن سے پہلے قبر میں بھی عذاب ہو گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ تم کیوں پوچھ رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ اس یہودیہ کے ساتھ میں جب بھی کوئی بھلائی کرتی ہوں تو وہ یہی کہتی ہے کہ اللہ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودی جھوٹ بولتے ہیں، یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف بھی جھوٹی نسبت کردیتے ہیں قیامت سے پہلے کوئی عذاب نہ ہوگا۔ تھوڑے عرصے بعد "جب تک اللہ کو منظور ہوا" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نصف النہار کے وقت اپنے کپڑے اوپر لپیٹے ہوئے اس حال میں نکلے کہ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور بآ واز بلند فرما رہے تھے کہ اے لوگو! تم پر تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے چھا گئے ہیں، اے لوگو! جو میں جانتا ہوں اگر تم جانتے ہوتے تو زیادہ روتے اور تھوڑا ہنستے، اے لوگو! عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو اور عذاب قبر برحق ہے۔

سَعِيدٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25025

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25037

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَعَكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى قَالَ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَقْلَعَ عَنْهُ تَغَنَّى فَقَالَ أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدْنَ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ اللَّهُمَّ اخْزِ عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ كَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ مَكَّةَ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت صدیق اکبر اور بلال بھی بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر کو جب بخار ہوا تو وہ کہنے لگے "ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔ "حضرت بلال کو جب بخار کچھ کم ہو تا تو وہ یہ شعر پڑھتے "ہائے! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ "فخ" میں رات گذار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور"جلیل" نامی گھاس ہو گی، کیا میں کسی دن مجنہ کے چشموں پر جا سکوں گا اور شامہ اور طفیل میرے سامنے آسکیں گے، اے اللہ! عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف کو رسوا فرما، جیسے انہوں نے ہمیں مکہ مکرمہ سے نکالا۔ "

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25037

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17933

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ حَدَّثَهُ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ الْوَفَاةُ بَكَى فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ لِمَ تَبْكِي أَجَزَعًا عَلَى الْمَوْتِ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ وَلَكِنْ مِمَّا بَعْدُ فَقَالَ لَهُ قَدْ كُنْتَ عَلَى خَيْرٍ فَجَعَلَ يُذَكِّرُهُ صُحْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفُتُوحَهُ الشَّامَ فَقَالَ عَمْرٌو تَرَكْتَ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنِّي كُنْتُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَطْبَاقٍ لَيْسَ فِيهَا طَبَقٌ إِلَّا قَدْ عَرَفْتُ نَفْسِي فِيهِ كُنْتُ أَوَّلَ شَيْءٍ كَافِرًا فَكُنْتُ أَشَدَّ النَّاسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَوْ مِتُّ حِينَئِذٍ وَجَبَتْ لِي النَّارُ فَلَمَّا بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ أَشَدَّ النَّاسِ حَيَاءً مِنْهُ فَمَا مَلَأْتُ عَيْنِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَاجَعْتُهُ فِيمَا أُرِيدُ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَيَاءً مِنْهُ فَلَوْ مِتُّ يَوْمَئِذٍ قَالَ النَّاسُ هَنِيئًا لِعَمْرٍو أَسْلَمَ وَكَانَ عَلَى خَيْرٍ فَمَاتَ فَرُجِيَ لَهُ الْجَنَّةُ ثُمَّ تَلَبَّسْتُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالسُّلْطَانِ وَأَشْيَاءَ فَلَا أَدْرِي عَلَيَّ أَمْ لِي فَإِذَا مِتُّ فَلَا تَبْكِيَنَّ عَلَيَّ وَلَا تُتْبِعْنِي مَادِحًا وَلَا نَارًا وَشُدُّوا عَلَيَّ إِزَارِي فَإِنِّي مُخَاصِمٌ وَسُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ سَنًّا فَإِنَّ جَنْبِيَ الْأَيْمَنَ لَيْسَ بِأَحَقَّ بِالتُّرَابِ مِنْ جَنْبِي الْأَيْسَرِ وَلَا تَجْعَلَنَّ فِي قَبْرِي خَشَبَةً وَلَا حَجَرًا فَإِذَا وَارَيْتُمُونِي فَاقْعُدُوا عِنْدِي قَدْرَ نَحْرِ جَزُورٍ وَتَقْطِيعِهَا أَسْتَأْنِسْ بِكُمْ

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی وفات کا جب وقت آیا تو ان پر گریہ طاری ہوگیا، ان کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ آپ کیوں روتے ہیں ؟ کیا موت سے گھبراہٹ محسوس ہو رہی ہے؟ انہوں نے جوابا فرمایا بخدا! موت سے نہیں ، بلکہ موت کے بعد پیش آنے والے معاملات سے، صاحبزادے نے کہا کہ آپ تو خیر پر قائم رہے، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور فتوحات شام کا تذکرہ کیا۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ تم نے سب سے افضل چیز تو چھوڑ ہی دی یعنی لا الہ الا اللہ کی گواہی میری تین حالتیں رہی ہیں ، اور ہر حالت میں میں اپنے متعلق جانتا ہوں ، سب سے پہلے میں کافر تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تمام لوگوں میں انتہائی سخت تھا، اگر میں اسی حال میں مرجاتا تو میرے لئے جہنم واجب ہو جاتی، جب میں نے نبی سے بیعت کی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام لوگوں کی نسبت زیادہ حیاء کرتا تھا، اسی وجہ سے میں نے نگاہیں بھر کر، کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا، اور اپنی خواہشات میں بھی کبھی انہیں جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے، اگر میں اس زمانے میں فوت ہوجاتا تو لوگ کہتے کہ عمرو کو مبارک ہو، اس نے اسلام قبول کیا، وہ خیر پر تھا، اسی حال میں فوت ہوگیا، امید ہے کہ اسے جنت نصیب ہوگی۔ پھر میں حکومت اور دوسری چیزوں میں ملوث ہوگیا، اب مجھے معلوم نہیں کہ یہ میرے لئے باعث وبال ہے یا باعث ثواب، لیکن جب میں مر جاؤں تو تم مجھ پر مت رونا، کسی تعریف کرنے والے کو یا آگ کو جنازے کے ساتھ نہ لے جانا، میرا تہبند مضبوطی سے باندھ دو کہ مجھ سے جواب طلبی ہوگی، مجھ پر آہستہ آہستہ مٹی ڈالنا اور سب طرف بکھیر دینا کیونکہ دایاں پہلو بائٰیں پہلو سے زیادہ حق نہیں رکھتا، میری قبر پر کوئی لکڑی یا پتھر نہ گاڑنا اور جب تم مجھے قبر کی مٹی میں چھپا کر فارغ ہوجاؤ تو اتنی دیر قبر پر رکنا کہ جس میں ایک اونٹ ذبح کر کے اس کے ٹکڑے بنا لئے جائیں تاکہ میں تم سے انس حاصل کر سکوں ۔

لما حضرت عمرو بن العاص الوفاة بكى ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17933

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17936

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ قَيْسٍ الْجُذَامِيِّ رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطَى الشَّهِيدُ سِتَّ خِصَالٍ عِنْدَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ يُكَفَّرُ عَنْهُ كُلُّ خَطِيئَةٍ وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنْ الْجَنَّةِ وَيُزَوَّجُ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ وَيُؤَمَّنُ مِنْ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ

حضرت قیس جذامی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شہید کو اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی چھ انعامات دے دیئے جاتے ہیں ، اس کا ہر گناہ معاف کر دیا جاتا ہے ، جنت میں اسے اپنا ٹھکانہ نظر آجاتا ہے ، حور عین سے اس کی شادی کردی جاتی ہے، فزع اکبر سے اسے محفوظ کر دیا جاتا ہے، عذاب قبر سے اس کی حفاظت کی جاتی ہے اور اسے ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے۔

قَيْسٍ الْجُذَامِيِّ رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← مَكْحُولٌ ← أَبِيهِ ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17936

chevron_left Previous
1…424344…1,037
Next chevron_right