Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الموت والجنائز

Death & Funeral

20724 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9025

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ إِنْسَانًا كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَسْوَدَ مَاتَ أَوْ مَاتَتْ فَفَقَدَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَ الْإِنْسَانُ الَّذِي كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ قَالَ فَقِيلَ لَهُ مَاتَ قَالَ فَهَلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ فَقَالُوا إِنَّهُ كَانَ لَيْلًا قَالَ فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهَا قَالَ فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهَا قَالَ ثَابِتٌ عِنْدَ ذَاكَ أَوْ فِي حَدِيثٍ آخَرَ إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک سیاہ فام عورت یا مرد مسجد نبوی کی خدمت کرتا تھا (مسجد میں جھاڑو دے کر صفائی ستھرائی کا خیال رکھتا تھا) ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نظر نہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ تو فوت ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ وہ رات کا وقت تھا (اس لئے آپ کو زحمت دینا مناسب نہ سمجھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی قبر بتاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتا دی چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر جا کر اس کے لئے دعاء مغفرت کی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9025

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9047

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَكْثَرَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْ الْبَوْلِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکثر عذاب قبر پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

إِنَّ أَكْثَرَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْ الْبَوْلِ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9047

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9233

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَأُومِنَ مِنْ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَغُدِيَ عَلَيْهِ وَرِيحَ بِرِزْقِهِ مِنْ الْجَنَّةِ وَكُتِبَ لَهُ أَجْرُ الْمُرَابِطِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو شخص سرحدوں کی حفاظت کرتا ہوا فوت ہوجائے وہ قبر کے عذاب سے محفوظ رہے گا اور بڑی گھبراہٹ کے دن مامون رہے گا صبح و شام اسے جنت سے رزق پہنچایا جائے گا اور قیامت تک اس کے لئے سرحدی محافظ کا ثواب لکھا جاتا رہے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنَ وَرْدَانَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9233

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9376

وَقَالَ اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ خَمْسٍ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

اور فرمایا پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرو، عذاب جہنم سے، قبر سے زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے فتنے سے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9376

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9422

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْقَارِيَّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنِ الْمُطَّلِبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ دَاوُدُ النَّبِيُّ فِيهِ غَيْرَةٌ شَدِيدَةٌ وَكَانَ إِذَا خَرَجَ أُغْلِقَتْ الْأَبْوَابُ فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَى أَهْلِهِ أَحَدٌ حَتَّى يَرْجِعَ قَالَ فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَغُلِّقَتْ الدَّارُ فَأَقْبَلَتْ امْرَأَتُهُ تَطَّلِعُ إِلَى الدَّارِ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ وَسَطَ الدَّارِ فَقَالَتْ لِمَنْ فِي الْبَيْتِ مِنْ أَيْنَ دَخَلَ هَذَا الرَّجُلُ الدَّارَ وَالدَّارُ مُغْلَقَةٌ وَاللَّهِ لَتُفْتَضَحُنَّ بِدَاوُدَ فَجَاءَ دَاوُدُ فَإِذَا الرَّجُلُ قَائِمٌ وَسَطَ الدَّارِ فَقَالَ لَهُ دَاوُدُ مَنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا الَّذِي لَا أَهَابُ الْمُلُوكَ وَلَا يَمْتَنِعُ مِنِّي شَيْءٌ فَقَالَ دَاوُدُ أَنْتَ وَاللَّهِ مَلَكُ الْمَوْتِ فَمَرْحَبًا بِأَمْرِ اللَّهِ فَرَمَلَ دَاوُدُ مَكَانَهُ حَيْثُ قُبِضَتْ رُوحُهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ شَأْنِهِ وَطَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ فَقَالَ سُلَيْمَانُ لِلطَّيْرِ أَظِلِّي عَلَى دَاوُدَ فَأَظَلَّتْ عَلَيْهِ الطَّيْرُ حَتَّى أَظْلَمَتْ عَلَيْهِمَا الْأَرْضُ فَقَالَ لَهَا سُلَيْمَانُ اقْبِضِي جَنَاحًا جَنَاحًا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُرِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ فَعَلَتْ الطَّيْرُ وَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَلَبَتْ عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ الْمَصْرَخِيَّةُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت داؤدعلیہ السلام میں غیرت کا مادہ بہت زیادہ تھا وہ جب گھر سے باہر جاتے تو ان کے گھر کے دروازے بند کر دئیے جاتے اور ان کی واپسی تک ان کے اہل خانہ کے پاس کوئی بھی نہ جا سکتا تھا، ایک دن حسب معمول اور اپنے گھر سے نکلے اور دورازے بند ہوگئے تو ان کی اہلیہ نے گھر میں جھانک کر دیکھا، وہاں وسط گھر میں ایک آدمی کھڑا ہوا دکھائی دیا، انہوں نے گھر میں موجود لوگوں سے پوچھا کہ گھر کا دروازہ تو بند ہے یہ آدمی گھر میں کیسے داخل ہوگیا؟ بخدا! تم داؤد کے سامنے شرمندہ کرواؤ گے۔ تھوڑی دیر بعد حضرت داؤدعلیہ السلام واپس آئے تو دیکھا کہ گھر کے عین بیچ میں ایک آدمی کھڑا ہے، انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ میں وہ ہوں جو بادشاہوں سے نہیں ڈرتا اور کوئی چیز مجھے روک نہیں سکتی، حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا بخدا! تم ملک الموت ہو حکم الٰہی کو خوش آمدید اور مٹی پر لیٹ گئے جہاں ان کی روح قبض ہوگئی اور فرشتہ اپنے کام سے فارغ ہوگیا۔ جب سورج طلوع ہوا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ حضرت داؤدعلیہ السلام پر سایا کریں، چنانچہ پرندوں نے ان پر سایا کرلیا، پھر جب زمین پر تاریکی چھا گئی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں سے فرمایا ایک ایک پر کو سمیٹو، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پرندوں کی کیفیت عملی طور پر دکھائی اور اپنا ہاتھ بند کرلیا، اس دن لمبے پروں والا شکرہ غالب آ گیا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمُطَّلِبِ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْقَارِيَّ ← قُتَيْبَةُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9422

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9460

حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعاء مانگے کرتے تھے کہ اے اللہ میں عذاب جہنم عذاب قبر زندگی اور موت کی آزمائش اور مسیح دجال کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى ← شَيْبَانَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9460

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9463

حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ مُوصِلِيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُؤْتَى بِالْمَوْتِ كَبْشًا أَغْثَرَ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ وَيُقَالُ لِأَهْلِ النَّارِ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ وَيَرَوْنَ أَنْ قَدْ جَاءَ الْفَرَجُ فَيُذْبَحُ فَيُقَالُ خُلُودٌ لَا مَوْتَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لا کر پل صراط پر کھڑا کر دیا جائے گا اور اہل جنت کو پکار کر بلایا جائے گا وہ خوفزدہ ہو کر جھانکیں گے کہ کہیں انہیں جنت سے نکال تو نہیں دیا جائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ جی (پروردگار یہ موت ہے) پھر اہل جہنم کو پکار کر آواز دی جائے گی کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے جی ہاں (یہ موت ہے) چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے پل صراط پر ذبح کردیا جائے اور دونوں گروہوں سے کہا جائے گا کہ تم جن حالات میں رہ رہے ہو۔ اس میں تم ہمیشہ ہمیش رہو گے؟

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ مُوصِلِيٌّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9463

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9467

وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ شِفَاءٌ لِكُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ وَالسَّامُ الْمَوْتُ

گذشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔

الْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ شِفَاءٌ لِكُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ وَالسَّامُ الْمَوْتُ ← النَّبِيِّ ← وَبِإِسْنَادِهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9467

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9538

حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا السَّامُ قَالَ الْمَوْتُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی کا استعمال اپنے اوپر لازم کر لو کیونکہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَحْيَى -وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ-

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9538

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9684

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ ائْتُونِي بِجَرِيدَتَيْنِ فَجَعَلَ إِحْدَاهُمَا عِنْدَ رَأْسِهِ وَالْأُخْرَى عِنْدَ رِجْلَيْهِ فَقِيلَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيَنْفَعُهُ ذَلِكَ قَالَ لَنْ يَزَالَ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ بَعْضُ عَذَابِ الْقَبْرِ مَا كَانَ فِيهِمَا نُدُوٌّ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک قبر پر ہوا تو فرمایا کہ میرے پاس دو ٹہنیاں لے کر آؤ ایک ٹہنی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کے سرہانے اور دوسری کو پائنتی کی جانب گاڑ دیا کسی نے پوچھا اے اللہ کے نبی! کیا یہ چیز اسے فائدہ پہنچا سکے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک اس ٹہنی میں تراوٹ باقی ہے اس کے عذاب میں کچھ تخفیف رہے گی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ کَيْسَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9684

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9686

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَبَكَى مَنْ حَوْلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر پر حاضری دی اور رو پڑے آپ کے ہمراہی بھی رونے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی بخشش طلب کرنے کی اجازت مانگی لیکن مجھے اجازت نہیں ملی میں نے قبر پر حاضری دینے کی اجازت مانگی تو وہ مل گئی اس لئے قبرستان جایا کرو کیونکہ قبرستان موت کو یاد دلاتا ہے۔

زَارَ النَّبِيُّ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَبَكَى مَنْ حَوْلَهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9686

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9721

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ أَفْضَلُ النَّاسِ فِيهِ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كُلَّمَا سَمِعَ بِهَيْعَةٍ اسْتَوَى عَلَى مَتْنِهِ ثُمَّ طَلَبَ الْمَوْتَ مَظَانَّهُ وَرَجُلٌ فِي شِعْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَدَعُ النَّاسَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ ایسا ضرور آئے گا جس میں مقام و مرتبہ کے اعتبار سے سب سے زیادہ افضل وہ آدمی ہوگا جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ کر اللہ کے راستے میں نکلا ہو جہاں سے کوئی پکار سنے اس کی پیٹھ پر سوار ہو اور موت کی تلاش میں نکل کھڑا ہو یا وہ آدمی جو عوام ہی میں رہتا ہو نماز قائم کرتا ہو زکوۃ ادا کرتا ہو اور خیر کے علاوہ لوگوں کو چھوڑے رکھے (کوئی نقصان نہ پہنچائے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9721

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9821

وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَحَبَّ الْعَبْدُ لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ وَإِذَا كَرِهَ الْعَبْدُ لِقَائِي كَرِهْتُ لِقَاءَهُ قَالَ فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ مَا مِنَّا مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَهُوَ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَيَفْظَعُ بِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّهُ إِذَا كَانَ ذَلِكَ كَشَفَ بِهِ

اور ارشاد باری تعالیٰ ہے جب میرا بندہ مجھ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہوں اور جب وہ مجھ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے کسی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم میں سے تو ہر شخص موت کو ناپسند کرتا اور اس سے گھبراتا ہے؟ انہوں نے فرمایا اس سے مراد وہ وقت ہے جب پردے ہٹا دیئے جائیں۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9821

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9855

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے کہ نبی عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے اور مسیح دجال کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← بُدَيْلٍ ← شُعْبَةُ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9855

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10040

قَالَ وَكَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ جَهَنَّمَ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے، عذاب جہنم سے، قبر سے زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے فتنے سے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10040

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10047

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ هِلاَلاً الْمُزَنِيَّ أَوْ الْمَازِنِيَّ يُحَدِّثُ عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ هَذِهِ الْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ دَوَاءٌ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا السَّامَ قَالَ قَتَادَةُ وَالسَّامُ الْمَوْتُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔

قَتَادَةُ وَالسَّامُ الْمَوْتُ ← شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا السَّامَ ← شُعْبَةُ أَوْ ← هَذِهِ الْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ دَوَاءٌ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هِلاَلاً الْمُزَنِيَّ أَوْ الْمَازِنِيَّ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10047

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10048

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ مَا السَّامُ قَالَ الْمَوْتُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔

الْمَوْتُ ← شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ مَا السَّامُ ← النَّبِيِّ إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← هِلَالِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10048

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10050

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَنْبَأَنِي قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَزِيدَ مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ شَيْبَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ السَّامَ و قَالَ قَتَادَةُ السَّامُ الْمَوْتُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔

قَتَادَةُ السَّامُ الْمَوْتُ ← النَّبِيِّ إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ السَّامَ و ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← هِلَالَ بْنَ يَزِيدَ مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ شَيْبَانَ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← حُسَيْنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10050

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10072

وَبِإِسْنَادِهِ هَذَا قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ میں عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10072

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10147

حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ فَإِنْ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُوضَعَ فِي الْقَبْرِ فَلَهُ قِيرَاطَانِ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا الْقِيرَاطُ قَالَ مِثْلُ أُحُدٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہا اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا قیراط سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا احد پہاڑ کے برابر۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو حَازِمٍ ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ کَيْسَانَ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10147

chevron_left Previous
1…353637…1,037
Next chevron_right