Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الموت والجنائز

Death & Funeral

20724 hadiths

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3304

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمْ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ فَأَمَرَ أَنْ يُوصِيَ لِوَالِدَيْهِ وَأَقَارِبِهِ ثُمَّ نُسِخَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ فَجَعَلَ لِلْوَالِدَيْنِ نَصِيبًا مَعْلُومًا وَأَلْحَقَ لِكُلِّ ذِي مِيرَاثٍ نَصِيبَهُ مِنْهُ وَلَيْسَتْ لَهُمْ وَصِيَّةٌ فَصَارَتْ الْوَصِيَّةُ لِمَنْ لَا يَرِثُ مِنْ قَرِيبٍ وَغَيْرِهِ

قتادہ کے بارے میں منقول ہے انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ جب کسی شخص کے پاس موت آجائے اور اگر وہ بھلائی (مال) چھوڑ کر جارہاہے تو اسے والدین اور قریبی رشتے داروں کے بارے میں مناسب طور پر وصیت کرنی چاہیے یہ پرہیز گاروں پر لازم ہے۔ قتادہ نے کہا یہ حکم دیا گیا کہ والدین اور رشتہ داروں کے لئے وصیت کی جائے اس کے بعد اسے سورت نساء میں منسوخ کردیا گیا ہے اور والدین کے لئے طے شدہ حصہ ہے۔ اس لئے ورثاء کے بارے میں وصیت نہیں ہوسکتی۔ وصیت اس شخص کے بارے میں ہوگی جو وارث نہیں بنتا ہے خواہ وہ قریبی عزیز ہو یا دور کا عزیز۔

قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3304

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3305

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْمَالُ لِلْوَلَدِ وَكَانَتْ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ فَنَسَخَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ مَا أَحَبَّ فَجَعَلَ لِلذَّكَرِ مِثْلَ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ وَجَعَلَ لِلْأَبَوَيْنِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسَ وَالثُّلُثَ وَجَعَلَ لِلْمَرْأَةِ الثُّمُنَ وَالرُّبُعَ وَلِلزَّوْجِ الشَّطْرَ وَالرُّبُعَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں پہلے مال اولاد کے لئے ہوتا تھا اور وصیت والدین کے اور قریبی رشتہ داروں کے لئے ہوتی تھی پھر اللہ نے اپنی مرضی کے مطابق اسے منسوخ کردیا ہے اور ہر مذکر کے لئے دو مونث کے لئے ایک حصہ مقرر کیا والدین میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا اور تیسراحصہ مقرر کیا بیوی کے لئے آٹھواں حصہ مقرر کیا اور شوہر کے لئے چوتھا یا نصف حصہ مقرر کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← وَرْقَاءُ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3305

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3306

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ يَزِيدَ عَنْ عِكْرِمَةَ وَالْحَسَنِ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَكَانَتْ الْوَصِيَّةُ كَذَلِكَ حَتَّى نَسَخَتْهَا آيَةُ الْمِيرَاثِ

عکرمہ بیان کرتے ہیں اللہ فرماتے ہیں اگر وہ بھلائی (مال) چھوڑ کر جا رہا ہے تو والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لئے مناسب وصیت کرے۔ عکرمہ اور حسن فرماتے ہیں پہلے وصیت اس طرح ہوتی تھی یہاں تک کہ وراثت کے متعلق آیت نے اسے منسوخ کردیا۔

يَزِيدُ: ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← أَبُو تُمَيْلَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3306

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3314

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي رَجُلٍ أَعْتَقَ غُلَامَهُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَلَيْسَ لَهُ غَيْرُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ قَالَ يَسْعَى لِلْغُرَمَاءِ فِي ثَمَنِهِ

شعبی فرماتے ہیں جو شخص مرتے وقت اپنے غلام کو آزاد کردے اور اس کے پاس غلام کے علاوہ کوئی اور مال نہ ہو اور اس کے ذمے قرض بھی ہو توشعبی فرماتے ہیں وہ غلام اپنی قیمت ان قرض خواہوں کو ادا کرے گا۔

يَسْعَى لِلْغُرَمَاءِ فِي ثَمَنِهِ ← الشَّعْبِيِّ فِي رَجُلٍ أَعْتَقَ غُلَامَهُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَلَيْسَ لَهُ غَيْرُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ← مُطَرِّفٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3314

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3323

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ لَا تَشْهَدْ عَلَى وَصِيَّةٍ حَتَّى تُقْرَأَ عَلَيْكَ وَلَا تَشْهَدْ عَلَى مَنْ لَا تَعْرِفُ

حسن فرماتے ہیں اس وقت تک کسی وصیت کے گواہ نہ بنو جب تک اسے تمہارے سامنے پڑھ نہ لیا جائے اور ایسی چیز کے بارے میں گواہی نہ دو جس سے تم واقف نہ ہو۔

الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← مَخْلَدٌ، ← سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3323

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3325

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُ أَجَازَ وَصِيَّةَ ابْنِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً

عمر بن عبدالعزیز کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے تیرہ سال کے لڑکے کی وصیت کو درست قرار دیا تھا۔

عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُ أَجَازَ وَصِيَّةَ ابْنِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3325

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3326

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ أَوْصَى غُلَامٌ مِنْ الْحَيِّ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ فَقَالَ شُرَيْحٌ إِذَا أَصَابَ الْغُلَامُ فِي وَصِيَّتِهِ جَازَتْ قَالَ أَبُو مُحَمَّد يُعْجِبُنِي وَالْقُضَاةُ لَا يُجِيزُونَ

ابواسحاق بیان کرتے ہیں ایک قبیلے کے لڑکے نے جس کی عمر سات سال تھی وصیت کی تو قاضی شریح نے کہا اگر اس بچے نے درست وصیت کی ہے تو یہ درست ہوگی۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے مجھے یہ بات اچھی لگی لیکن قاضی اس کے مطابق فیصلہ نہیں دیتے ۔

أَبُو مُحَمَّد يُعْجِبُنِي وَالْقُضَاةُ لَا يُجِيزُونَ ← شُرَيْحٌ إِذَا أَصَابَ الْغُلَامُ فِي وَصِيَّتِهِ جَازَتْ ← أَوْصَى غُلَامٌ مِنْ الْحَيِّ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ ← أَبِي إِسْحَقَ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3326

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3327

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ أَنَّهُ شَهِدَ شُرَيْحًا أَجَازَ وَصِيَّةَ عَبَّاسِ بْنِ إِسْمَعِيلَ بْنِ مَرْثَدٍ لِظِئْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْحِيرَةِ وَعَبَّاسٌ صَبِيٌّ

ابواسحاق بیان کرتے ہی وہ اس وقت قاضی شریح کے پاس موجود تھے جب انہوں نے عباس بن اسماعیل بن مرثد نامی آدمی جو کہ حیرہ میں موجود تھا اس کی اپنی دانائی کے لئے وصیت کو درست قرار دیا تھا حالانکہ عباس نامی شخص ان دنوں بچہ تھا۔

يُونُسَ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3327

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3328

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ قَالَ قَالَ شُرَيْحٌ إِذَا اتَّقَى الصَّبِيُّ الرَّكِيَّةَ جَازَتْ وَصِيَّتُهُ

ابواسحاق بیان کرتے ہیں قاضی شریح فرماتے ہیں جب بچہ چکی سے بچنے لگ جائے تو اس کی وصیت درست ہوگی۔

شُرَيْحٌ إِذَا اتَّقَى الصَّبِيُّ الرَّكِيَّةَ جَازَتْ وَصِيَّتُهُ ← أَبُو إِسْحَقَ ← يُونُسَ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3328

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3330

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ غُلَامًا بِالْمَدِينَةِ حَضَرَهُ الْمَوْتُ وَوَرَثَتُهُ بِالشَّامِ وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوا لِعُمَرَ أَنَّهُ يَمُوتُ فَسَأَلُوهُ أَنْ يُوصِيَ فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يُوصِيَ فَأَوْصَى بِبِئْرٍ يُقَالُ لَهَا بِئْرُ جُشَمَ وَإِنَّ أَهْلَهَا بَاعُوهَا بِثَلَاثِينَ أَلْفًا ذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّ الْغُلَامَ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ أَوْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ

یحیی بیان کرتے ہیں ابوبکر نے انیہں بتایا کہ مدینہ میں ایک لڑکا تھا اس کی موت کا وقت قریب ہوا تو اس کے ورثاء شام میں رہتے تھے لوگوں نے اس بات کا تذکرہ حضرت عمر نے کیا کہ وہ مرنے والا ہے اور لوگوں نے اس سے کہا وہ وصیت کردے حضرت عمر نے اسے ہدایت کی کہ وہ وصیت کردے تو اس نے بئر جشم نامی ایک کنویں کے بارے میں وصیت کی کہ اس کے مالکان نے اس کنویں کو تیس ہزار درہم میں فروخت کیا تھا ابوبکر نے یہ بات بیان کی اس وقت اس لڑکے کی عمر دس سال یا شاید بارہ سال تھی۔

يَحْيَى ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3330

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3331

حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ يَجُوزُ وَصِيَّةُ الصَّبِيِّ فِي مَالِهِ فِي الثُّلُثِ فَمَا دُونَهُ وَإِنَّمَا يَمْنَعُهُ وَلِيُّهُ ذَلِكَ فِي الصِّحَّةِ رَهْبَةَ الْفَاقَةِ عَلَيْهِ فَأَمَّا عِنْدَ الْمَوْتِ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَمْنَعَهُ

ابراہیم بیان کرتے ہیں ایک تہائی مال میں یا اس سے کم میں بچے کی وصیت درست ہوتی ہے اس کا ولی اس کو صحت کے عالم میں اس لئے تصرف کرنے سے روکتا ہے تاکہ اس پر فاقہ نہ آجائے البتہ مرتے وقت ولی اس کو اس بات سے منع نہیں کرتا۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← يَزِيدُ:

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3331

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3335

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ وَصِيَّتُهُ لَيْسَتْ بِجَائِزَةٍ إِلَّا مَا لَيْسَ بِذِي بَالٍ يَعْنِي الْغُلَامَ قَبْلَ أَنْ يَحْتَلِمَ

زہری بیان کرتے ہیں بچے کی وصیت جائز نہیں ہوتی ماسوائے اس کے اس کی کوئی حثییت نہیں ہو (یعنی اس سے مراد وہ لڑکا جو بالغ نہ ہواہو)۔

الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ كَانَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3335

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3336

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ لَا يَجُوزُ طَلَاقُ الْغُلَامِ وَلَا وَصِيَّتُهُ وَلَا هِبَتُهُ وَلَا صَدَقَتُهُ وَلَا عَتَاقَتُهُ حَتَّى يَحْتَلِمَ

حسن بیان کرتے ہیں لڑکے کی طلاق، وصیت، ہبہ اور صدقہ کرنا اور آزاد کرنے کا حکم اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک وہ بالغ نہ ہوجائے۔

الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3336

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3337

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَا يَجُوزُ طَلَاقُ الصَّبِيِّ وَلَا عِتْقُهُ وَلَا وَصِيَّتُهُ وَلَا شِرَاؤُهُ وَلَا بَيْعُهُ وَلَا شَيْءٌ

ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں بچے کی طلاق، اس کاغلام آزاد کرنا اور اس کی وصیت، اس کا فروخت کرنا، اس کا خریدنا اس کا کوئی بھی تصرف درست نہیں ہوتا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← حجاج، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3337

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3338

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ لَا يَجُوزُ طَلَاقٌ وَلَا وَصِيَّةٌ إِلَّا فِي عَقْلٍ إِلَّا النَّشْوَانَ يَعْنِي السَّكْرَانَ فَإِنَّهُ يَجُوزُ طَلَاقُهُ وَيُضْرَبُ ظَهْرُهُ

حبیب بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں طلاق اور وصیت اس وقت جائز ہوتی ہے جب عقل موجود ہو ما سوائے اس صورت کے جب انسان نشے میں ہو کیونکہ ایسی حالت میں طلاق جائز ہوتی ہے اور ایسے شخص کی پشت پر کوڑے لگائے جاتے ہیں۔

حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3338

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3339

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ عَنْ رَجُلٍ قَالَ فِي وَصِيَّتِهِ كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي حُرٌّ وَلَهُ مَمْلُوكٌ آبِقٌ فَقَالَا هُوَ حُرٌّ و قَالَ الْحَسَنُ وَإِيَاسٌ وَبَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِحُرٍّ

یحیی بن ابواسحاق بیان کرتے ہیں میں نے قاسم بن عبدالرحمن اور معاویہ بن قرہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جس نے اپنی وصیت میں یہ کہا کہ میرا ہر غلام آزاد ہے اور اس کے غلاموں میں ایک مفرور غلام بھی ہو تو دونوں حضرات نے جواب دیا وہ آزاد شمار ہوگا۔ حسن، ایاس اور بکربن عبداللہ فرماتے ہیں وہ آزاد نہیں ہوگا۔

الْحَسَنُ وَإِيَاسٌ وَبَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِحُرٍّ ← هُوَ حُرٌّ و ← فِي وَصِيَّتِهِ كُلُّ مَمْلُوكٍ لِي حُرٌّ وَلَهُ مَمْلُوكٌ آبِقٌ ← رَجُلٌ: ← سَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ ← يَحْيَی بْنِ أَبِي إِسْحَقَ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3339

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3342

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ أَوْصَى غُلَامٌ مِنْ الْحَيِّ يُقَالُ لَهُ عَبَّاسُ بْنُ مَرْثَدٍ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ لِظِئْرٍ لَهُ يَهُودِيَّةٍ مِنْ أَهْلِ الْحِيرَةِ بِأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا فَقَالَ شُرَيْحٌ إِذَا أَصَابَ الْغُلَامُ فِي وَصِيَّتِهِ جَازَتْ وَإِنَّمَا أَوْصَى لِذِي حَقٍّ قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَنَا أَقُولُ بِهِ

ابواسحاق بیان کرتے ہیں ایک قبیلے کے لڑکے نے جس کا نام عباس تھا اور وہ سات برس کا تھا حیرہ میں موجود اپنی دائی جو یہودن تھی کے بارے میں چالیس درہم کی وصیت کی تھی توقاضی نے یہ کہا کہ لڑکے نے درست وصیت کی ہے یہ جائز ہے کیونکہ اس نے حق دار کے لئے وصیت کی ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں میں بھی اس کے مطابق فتوی دیتاہوں۔

أَبِي إِسْحَقَ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3342

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3345

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يُوصِي لِلرَّجُلِ بِالْوَصِيَّةِ فَيَمُوتُ الْمُوصَى لَهُ قَبْلَ الْمُوصِي قَالَ هِيَ جَائِزَةٌ لِوَرَثَةِ الْمُوصَى لَهُ

حسن بیان کرتے ہیں جو شخص کسی دوسرے شخص کے بارے میں وصیت کرے اور جس کے بارے میں وصیت کی گئی ہے وہ وصیت کرنے والے سے پہلے فوت ہوجائے تو حسن فرماتے ہیں جس شخص کے بارے میں وصیت کی گئی تھی اس کے ورثاء کے بارے میں یہ وصیت جائز ہوگی۔

هِيَ جَائِزَةٌ لِوَرَثَةِ الْمُوصَى لَهُ ← الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يُوصِي لِلرَّجُلِ بِالْوَصِيَّةِ فَيَمُوتُ الْمُوصَى لَهُ قَبْلَ الْمُوصِي ← أَشْعَثَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3345

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3434

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا بَشِيرٌ هُوَ ابْنُ الْمُهَاجِرِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ تَعَلَّمُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ تَعَلَّمُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا الزَّهْرَاوَانِ وَإِنَّهُمَا تُظِلَّانِ صَاحِبَهُمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ غَيَايَتَانِ أَوْ فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ وَإِنَّ الْقُرْآنَ يَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ كَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ فَيَقُولُ لَهُ هَلْ تَعْرِفُنِي فَيَقُولُ مَا أَعْرِفُكَ فَيَقُولُ أَنَا صَاحِبُكَ الْقُرْآنُ الَّذِي أَظْمَأْتُكَ فِي الْهَوَاجِرِ وَأَسْهَرْتُ لَيْلَكَ وَإِنَّ كُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَتِهِ وَإِنَّكَ الْيَوْمَ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تِجَارَةٍ فَيُعْطَى الْمُلْكَ بِيَمِينِهِ وَالْخُلْدَ بِشِمَالِهِ وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ لَا يُقَوَّمُ لَهُمَا الدُّنْيَا فَيَقُولَانِ بِمَ كُسِينَا هَذَا وَيُقَالُ لَهُمَا بِأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ ثُمَّ يُقَالُ لَهُ اقْرَأْ وَاصْعَدْ فِي دَرَجِ الْجَنَّةِ وَغُرَفِهَا فَهُوَ فِي صُعُودٍ مَا دَامَ يَقْرَأُ هَذًّا كَانَ أَوْ تَرْتِيلًا

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میں بیٹھا ہوا تھا میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا سورت بقرہ کا علم حاصل کرو کیونکہ اس کو پڑھنا برکت ہے اور اسے چھوڑنا حسرت ہے اور جادوگر اس کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر آپ کچھ دیر کے لئے خاموش ہوگئے اور پھر ارشاد فرمایا سورت بقرہ اور آل عمران کا علم حاصل کرو یہ دونوں روشن چیزیں ہیں یہ دونوں قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں پر یوں سایہ کریں گی جیسے یہ دونوں بادل ہیں یا یہ دونوں سائبان ہیں یا یہ دونوں لائن میں چلنے والے پرندے ہیں اور قرآن قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے سے اس وقت ملاقات کرے گا جب اس کی قبر شق ہوگی وہ ایک خوف زدہ شخص کی مانند ہوگا قرآن اس سے کہے گا کیا تم مجھے پہچانتے ہو وہ شخص جواب دے گا میں تمہیں نہیں پہچانتا قرآن یہ کہے گا کہ میں تمہارا ساتھی قرآن ہوں۔ جسے تم پیاس کی حالت میں دوپہر کے وقت پڑھتے تھے اور رات کے وقت جاگ کر پڑھتے تھے ہر تجارت کرنے والے کی تجارت پیچھے رہ گئی آج تم ہر تجارت سے دور ہو پھر بادشاہی کی زندگی اس کے دائیں ہاتھ اور ہمیشہ کی زندگی اس کے بائیں ہاتھ پر دی جائے گی اور اس شخص کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا اس کے والدین کو ایسے جوڑے پہنائے جائیں گے جن کی قیمت پوری دنیا بھی نہیں ہوسکتی۔ وہ دونوں کہیں گے ہمیں یہ لباس کیوں پہنایا گیا ان سے کہا جائے گا کیونکہ تمہارے بچے نے قرآن کا علم حاصل کیا تھا پھر اس شخص سے کہا جائے گا تم قرآن پڑھنا شروع کردو اور جنت کے درجات اور بالاخانہ پر چڑھنا شروع کر دو جب تک وہ شخص قرآن پڑھتارہے گا لگاتار چڑھتا رہے گا خواہ تیزی سے پڑھے یا ہلکی رفتار سے پڑھے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← بَشِيرٌ هُوَ ابْنُ الْمُهَاجِرِ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3434

سنن دارمی · من كتاب فضائل القرآن ‹ باب · حديث 3453

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا خَالِدٍ عَامِرَ بْنَ جَشِيبٍ وَبَحِيرَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثَانِ أَنَّ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ قَالَ إِنَّ الم تَنْزِيلُ تُجَادِلُ عَنْ صَاحِبِهَا فِي الْقَبْرِ تَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ مِنْ كِتَابِكَ فَشَفِّعْنِي فِيهِ وَإِنْ لَمْ أَكُنْ مِنْ كِتَابِكَ فَامْحُنِي عَنْهُ وَإِنَّهَا تَكُونُ كَالطَّيْرِ تَجْعَلُ جَنَاحَهَا عَلَيْهِ فَيُشْفَعُ لَهُ فَتَمْنَعُهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَفِي تَبَارَكَ مِثْلَهُ فَكَانَ خَالِدٌ لَا يَبِيتُ حَتَّى يَقْرَأَ بِهِمَا

خالد بن معدان فرماتے ہیں بے شک سورت سجدہ اپنے پڑھنے والے کی طرف سے قبر میں بحث کرے گی اور یوں کہے گی کہ اے اللہ اگر میں تیری کتاب کا حصہ ہوں تو اس شخص کے بارے میں میری شفاعت کو قبول کر۔ اور اگر میں تیری کتاب کا حصہ نہیں ہوں تو اس شخص کے ذریعے مجھے مٹا دے یہ سورت ایک پرندہ کی مانند ہوگی جو اپنے پر اس شخص پر پھیلا دے گی اور اس کے لئے شفاعت کرے گی اور اسے قبر کے عذاب سے بچائے گی۔ خالد بن معدان نے سورت ملک کے بارے میں بھی یہی روایت بیان کی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں خالد بن معدان روزانہ رات کے وقت یہ دونوں سورتیں پڑھا کرتے تھے۔

إِنَّ {الم تَنْزِيلُ} تُجَادِلُ ← بَحِيرَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثَانِ أَنَّ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ ← أَبَا خَالِدٍ عَامِرَ بْنَ جَشِيبٍ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، أَنَّهُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · From the book The Virtues of the Qur’an › Door · Hadith 3453

chevron_left Previous
1…272829…1,037
Next chevron_right