Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الموت والجنائز

Death & Funeral

20724 hadiths

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2789

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَةِ مِنْ الزَّرْعِ تُفَيِّئُهَا الرِّيَاحُ تُعَدِّلُهَا مَرَّةً وَتُضْجِعُهَا أُخْرَى حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَى أَصْلِهَا لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْخَامَةُ الضَّعِيفُ

حضرت کعب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمانوں کی مثال ایک ایسے کمزور کھیت کی طرح ہے جس سے تیز ہوا گزرتی ہے تو اسے کبھی سیدھا کردیتی ہے اور کبھی لٹادیتی ہے یہاں تک کہ اسے موت آجاتی ہے اور کافر کی مثال اس کھیت کی طرح ہے جو اپنی جڑ کے سہارے کھڑا رہتا ہے اسے کوئی مصیبت لاحق نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ ایک مرتبہ اکھڑ جاتا ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ خامہ سے مراد کمزور ہوناہے۔

أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2789

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2796

أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ إِنَّا لَنَكْرَهُ الْمَوْتَ قَالَ لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَعُقُوبَتِهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَهَ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَكَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ

حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند نہیں کرتا اللہ بھی اس کی حاضری کو پسند نہیں کرتا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی دوسری زوجہ نے عرض کی ہمیں تو مرنا پسند نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ بلکہ مومن شخص کے پاس جب موت کا وقت آجائے تو اللہ کی رضامندی اور اس کی عطا کردہ بزرگی کی خوش خبری دی جاتی ہے اس وقت اس کے نزدیک کوئی چیز اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہوتی اس لئے وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے جبکہ کافر کے پاس موت کا وقت آجائے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی وعید سنائی جاتی ہے تو اس کے نزدیک آگے آنے والے وقت سے زیادہ ناپسند کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اس لئے وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2796

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2798

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ إِحْسَانًا وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے کوئی بھی شخص موت کی تمنا نہ کرے اگر وہ نیک ہوگا تو اس کی نیکی میں اضافہ ہوگا اگر وہ گناہ گار ہوگا تو ہوسکتا ہے کہ وہ نیکی کرنے لگ جائے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2798

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2851

أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُؤْتَى بِالْمَوْتِ بِكَبْشٍ أَغْبَرَ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ وَيُقَالُ يَا أَهْلَ النَّارِ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ وَيَرَوْنَ أَنْ قَدْ جَاءَ الْفَرَجُ فَيُذْبَحُ وَيُقَالُ خُلُودٌ لَا مَوْتَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں موت کو ایک خاکی رنگ والے دنبے کی شکل میں لایا جائے گا اے جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا کیا جائے گا اور پھر کہا جائے گا اہل جنت وہ لوگ جھانک کر دیکھیں گے پھر کہا جائے گا کہ اہل جہنم وہ لوگ جھانک کر دیکھیں گے وہ یہ سمجھیں گے اب ہمیں نجات مل جائے گی پھر موت کو ذبح کردیا جائے گا اور پھر یہ کہا جائے گا اب تم ہمیشہ یہاں ہی رہو گے تمیں موت نہیں آئے گی۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2851

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3040

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ وَجَبَتْ الْحُقُوقُ لِأَهْلِهَا وَلَمْ يَجْعَلْ لِمَنْ أَسْلَمَ أَوْ أُعْتِقَ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ الْمِيرَاثُ شَيْئًا

ابراہیم بیان کرتے ہیں جب میت فوت ہوجائے تو حق حقداروں کے لے واجب ہوتا ہے اور جو شخص وراثت کی تقسیم سے پہلے اسلام قبول کرلے یا آزاد ہوجائے تو اسے کچھ نہیں ملتا۔

إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← سَعِيدٌ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3040

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3078

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ الدِّيَةُ سَبِيلُهَا سَبِيلُ الْمِيرَاثِ

ابوقلابہ فرماتے ہیں دیت کی تقسیم کا طریقہ وہی ہے جو وراثت کی تقسیم کا ہے۔

الدِّيَةُ سَبِيلُهَا سَبِيلُ الْمِيرَاثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3078

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3119

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خِلَاسٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ رَمَى رَجُلٌ أُمَّهُ بِحَجَرٍ فَقَتَلَهَا فَطَلَبَ مِيرَاثَهُ مِنْ إِخْوَتِهِ فَقَالَ لَهُ إِخْوَتُهُ لَا مِيرَاثَ لَكَ فَارْتَفَعُوا إِلَى عَلِيٍّ فَجَعَلَ عَلَيْهِ الدِّيَةَ وَأَخْرَجَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ

خلاس روایت کرتے ہیں ایک شخص نے اپنی ماں کو پتھر کے ذریعے مار کر قتل کر دیا پھر اس شخص نے اپنے بھائیوں سے اس خاتون کی وراثت کا طالبہ کیا تو اس کے بھائیوں نے اس سے کہا تمہیں وراثت نہیں ملے گی یہ لوگ مقدمہ لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو اس شخص نے دیت کی ادائیگی لازم قرار دی اور اسے وراثت سے محروم قرار دیا۔

رَمَى رَجُلٌ أُمَّهُ بِحَجَرٍ فَقَتَلَهَا فَطَلَبَ مِيرَاثَهُ مِنْ إِخْوَتِهِ ← عَلِيٍّ، ← خِلَاسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3119

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3132

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الْأَسِيرِ يُوصِي قَالَ أَجِزْ لَهُ وَصِيَّتَهُ مَا دَامَ عَلَى دِينِهِ لَمْ يَتَغَيَّرْ عَنْ دِينِهِ

جو قیدی وصیت کر دے اس کے بارے میں عمر بن عبدالعزیز نے یہ فرمایا تھا کہ ہم اس کی وصیت کو برقرار رکھیں گے جب تک وہ اپنے دین پر قائم رہے گا اور اپنے دین میں تبدیلی نہ کرے۔

دِينِهِ ← أَجِزْ لَهُ وَصِيَّتَهُ مَا دَامَ عَلَى دِينِهِ لَمْ يَتَغَيَّرْ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الْأَسِيرِ يُوصِي ← إِسْحَقَ بْنِ رَاشِدٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3132

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3153

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ لِكُلِّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ بَعْدَهُ فَقَضَى إِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ يَطَؤُهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنْ اسْتَلْحَقَهُ وَلَيْسَ لَهُ مِمَّا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ وَلَا يَلْحَقُ إِذَا كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَا يَمْلِكُهَا أَوْ حُرَّةٍ عَاهَرَهَا فَإِنَّهُ لَا يَلْحَقُ وَلَا يَرِثُ وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ وَهُوَ وَلَدُ زِنَا لِأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا حُرَّةً أَوْ أَمَةً

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ جس شخص کا نسب مشکوک ہو اور اس کے باپ کے مرنے کے بعد اسے اس کے باپ کی طرف منسوب کرنے کا دعوی کیا جائے اور یہ دعوی مرحوم کے ورثاء کے مرنے کے بعد کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ اگر وہ بچہ کسی کنیز کی اولاد ہو جس کے ساتھ اس مرحوم نے صحبت کی تھی اس وقت وہ مرحوم اس کنیز کا مالک تھا تو اس بچے کانسب اس شخص کے ساتھ ثابت کیا جائے گا اور اس سے پہلے جو وراثت تقسیم ہوچکی ہو اس میں سے اس بچے کو کچھ بھی نہیں ملے گا البتہ جو وراثت ابھی تقسیم نہیں ہوئی اس میں سے اسے اس کا حصہ مل جائے گا جس شخص کے حوالے سے اس کے نسب کا دعوی کیا گیا تھا اگر وہ خود اس کا انکار کرچکا ہو تو بچے کا نسب اس سے ثابت نہیں ہوگا۔ اگر وہ بچہ کسی ایسی کنیز کی اولاد ہو جس کا وہ مرحوم شخص مالک نہیں تھا یا وہ کسی آزاد عورت کی اولاد ہو جس کے ساتھ اس مرحوم شخص نے زنا کیا تھا تو اس بچے کا نسب بھی ثابت نہیں ہوگا اور وہ بچہ وارث بھی نہیں بنے گا اگرچہ جس شخص کے ساتھ اس کا نسب ثابت کیا جا رہاہے اس نے خود اس بچے کے باپ ہونے کا دعوی کیا ہو وہ بچہ زنا کے نتیجے میں پیداہونے والا ہے اس لئے وہ اپنی ماں کے رشتہ داروں کو ملے گاخواہ وہ عورت آزاد ہو یا کنیز ہو۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ← زَيْدُ بْنُ يَحْيَى،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3153

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3197

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ يُحْرِزُ الْوَلَاءَ مَنْ يُحْرِزُ الْمِيرَاثَ

ہشام اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ولاء کا حق بھی وہی لے گا جو وراثت لینے کا حق دار ہوگا۔

يُحْرِزُ الْوَلَاءَ مَنْ يُحْرِزُ الْمِيرَاثَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3197

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3218

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کسی مسلمان کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز موجود ہو اس نے اس کی وصیت کرنی ہو اور وہ چیز اس کے پاس دو راتیں گزار دے ماسوائے اس کے کہ اس کی وصیت اس کے پاس تحریری موجود ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3218

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3219

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ الْمُؤْمِنُ لَا يَأْكُلُ فِي كُلِّ بَطْنِهِ وَلَا تَزَالُ وَصِيَّتُهُ تَحْتَ جَنْبِهِ

حسن بیان کرتے ہیں مومن پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاتا اور اس کی وصیت ہمیشہ اس کے پاس ہوتی ہے۔

الْمُؤْمِنُ لَا يَأْكُلُ فِي كُلِّ بَطْنِهِ وَلَا تَزَالُ وَصِيَّتُهُ تَحْتَ جَنْبِهِ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← عَفَّانُ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3219

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3220

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ لِي ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ مَا فَعَلَ أَبُوكَ قُلْتُ مَاتَ قَالَ فَهَلْ أَوْصَى فَإِنَّهُ كَانَ يُقَالُ إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ كَانَ وَصِيَّتُهُ تَمَامًا لِمَا ضَيَّعَ مِنْ زَكَاتِهِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد و قَالَ غَيْرُهُ الْقَاسِمُ بْنُ عَمْرٍو

قاسم بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ثمامہ بن حزن نے مجھ سے دریافت کیا تمہارے والد کا کیا حال ہے میں نے جواب دیا ان کا انتقال ہوگیا انہوں نے دریافت کیا انہوں نے وصیت کردی تھی کیونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ جب کوئی شخص وصیت کردیتا ہے تو اس کی زکوۃ کے حوالے سے جو کمی ہو یہ وصیت اسے پورا کردیتی ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس روایت کے راوی قاسم بن عمر رضی اللہ عنہ کو دیگر محدثین نے قاسم بن عمر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔

الْقَاسِمِ بْنِ عُمَرَ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3220

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3221

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ كَانَ يُقَالُ مَنْ أَوْصَى بِوَصِيَّةٍ فَلَمْ يَجُرْ وَلَمْ يَحِفْ كَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ مَا أَنْ لَوْ تَصَدَّقَ بِهِ فِي حَيَاتِهِ

شعبی ارشاد فرماتے ہیں جو شخص کوئی وصیت کرے اور اس میں کوئی کمی زیادتی یا ناانصافی نہ کرے تو اسے اتناہی اجر ملتا ہے جیسے وہ اپنی زندگی میں اس چیز کو صدقہ کرتا۔

الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3221

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3223

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ الْيَامِيِّ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا قُلْتُ فَكَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أَوْ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ فَقَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ و قَالَ هُزَيْلُ بْنُ شُرَحْبِيلَ أَبُو بَكْرٍ كَانَ يَتَأَمَّرُ عَلَى وَصِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَّ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ وَجَدَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا فَخَزَمَ أَنْفَهُ بِخِزَامَةٍ

طلحہ بن مصرف یامی بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے دریافت کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی انہوں نے جواب دیا نہیں میں نے پوچھا پھر لوگوں پر وصیت کرنا لازم کیوں کیا گیا یا انہیں وصیت کرنے کا حکم کیوں دیا گیا انہوں نے جواب دیا آپ نے اللہ کی کتاب کے مطابق وصیت کی تھی۔ ہزیل بن شرحبیل بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کی مکمل طور پر پیروی کرتے تھے ان کی یہ خواہش تھی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی بھی حکم پائیں تو اسے اپنے ناک میں لگام کے طور پر لگائیں یعنی اس کی مکمل پیروی کریں۔

أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ و ← عَلَی النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أَوْ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ ← لا قُلْتُ فَكَيْفَ ← سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى أَوْصَى رَسُولُ اللهِ ← طلحةَ بنِ مصرفٍ الياميِّ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3223

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3224

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ قَالَ الْخَيْرُ الْمَالُ كَانَ يُقَالُ أَلْفًا فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ

قتادہ کے بارے میں منقول ہے انہوں نے یہ آیت تلاوت کی۔ تو اگر وہ بھلائی چھوڑ کر جارہا ہو تو والدین اور قریبی رشتہ داروں کے بارے میں مناسب طور پر وصیت کردے یہ بات متقین پر لازم ہے۔ قتادہ فرماتے ہیں یہاں بھلائی سے مراد مال ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ خواہ وہ ایک ہزار ہو یا اس سے زیادہ ہو۔ (وصیت کرنی چاہیے)

الْخَيْرُ الْمَالُ كَانَ يُقَالُ أَلْفًا فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ ← قَتَادَةَ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ ← هَمَّامٌ، ← يَزِيدُ:

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3224

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3225

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ أَوْصَى ذِكْرُ مَا أَوْصَى بِهِ أَوْ هَذَا ذِكْرُ مَا أَوْصَى بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ بَنِيهِ وَأَهْلَ بَيْتِهِ أَنْ اتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ وَأَوْصَاهُمْ بِمَا أَوْصَى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمْ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ وَأَوْصَاهُمْ أَنْ لَا يَرْغَبُوا أَنْ يَكُونُوا مَوَالِيَ الْأَنْصَارِ وَإِخْوَانَهُمْ فِي الدِّينِ وَأَنَّ الْعِفَّةَ وَالصِّدْقَ خَيْرٌ وَأَتْقَى مِنْ الزِّنَا وَالْكَذِبِ إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ فِي مَرَضِي هَذَا قَبْلَ أَنْ أُغَيِّرَ وَصِيَّتِي هَذِهِ ثُمَّ ذَكَرَ حَاجَتَهُ

محمد بن سیرین کے بارے میں منقول ہے انہوں نے وہ ہی وصیت کی تھی جو محمد بن ابی عمرہ نے اپنے بچوں اور اہل خانہ کو کی تھی۔ اور وہ قرآن کی یہ آیت تھی۔ اللہ سے ڈرو اور اپنے درمیان اصلاح قائم رکھو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو۔ اور انہوں نے وہ وصیت بھی کی تھی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے کی تھی جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے۔ اور اس بات کی وصیت ابراہیم نے اپنے بچوں کو کی تھی اور یعقوب نے بھی اے میرے بچو بے شک اللہ نے تمہارے لئے ایک خاص دین کو پسند کر لیا ہے لہذا تم مرتے وقت مسلمان ہی رہنا۔ انہوں نے اپنے اہل خانہ کو یہ وصیت کی تھی وہ انصار کے حمایتی اور دینی بھائی بن کر رہیں گے بے شک پاکیز سیرت اور سچائی بہترہے اور زیادہ باقی رہنے والی ہے جھوٹ کے مقابلے میں۔ اگر میری اس بیماری کے دوران میرے ساتھ کوئی واقعہ پیش آجائے اور میری اس وصیت کو تبدیل کرنے سے پہلے میں مرجاؤں تو یہ کردینا پھر انہوں نے اس کام کا تذکرہ کیا۔

مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3225

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3227

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ عَنْ حَفْصِ بْنِ غَيْلَانَ عَنْ مَكْحُولٍ حِينَ أَوْصَى قَالَ تَشَهُّدُ هَذَا مَا شَهِدَ بِهِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَيُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ عَلَى ذَلِكَ يَحْيَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَيَمُوتُ وَيُبْعَثُ وَأَوْصَى فِيمَا رَزَقَهُ اللَّهُ فِيمَا تَرَكَ إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ وَهُوَ كَذَا وَكَذَا إِنْ لَمْ يُغَيِّرْ شَيْئًا مِمَّا فِي هَذِهِ الْوَصِيَّةِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ هَذِهِ وَصِيَّةُ أَبِي الدَّرْدَاءِ

مکحول کے بارے میں منقول ہے کہ جب انہوں نے وصیت کی تو یہ بولے میں اس بات کی گواہی دیتاہوں اور تم بھی اس پر گواہی دو ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور وہی ایک معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے حضرت محمد اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور طاغوت کا انکار کرتے ہیں اگر اللہ نے چاہا تو اس عقیدے پر زندہ رہیں گے اور اس پر ان کی موت ہوگی اور اسی پر انہیں زندہ کیا جائے گا پھر انہوں نے یہ وصیت کی کہ اللہ نے انہیں جو رزق عطا کیا ہے وہ جو چھوڑ کر جارہے ہیں اگر ان کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آجائے تو اسے اس طرح کیا جائے اگر وہ اس وصیت میں مرنے سے پہلے کوئی اور تبدیلی نہیں کرتے۔مکحول روایت کرتے ہیں یہ حضرت ابودرداء کی وصیت ہے۔

مكحول حين أوصى ← حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، ← الْوَلِیْدُ ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3227

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3228

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَتَبَ الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ وَصِيَّتَهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ وَأَشْهَدَ اللَّهَ عَلَيْهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا وَجَازِيًا لِعِبَادِهِ الصَّالِحِينَ وَمُثِيبًا بِأَنِّي رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَإِنِّي آمُرُ نَفْسِي وَمَنْ أَطَاعَنِي أَنْ نَعْبُدَ اللَّهَ فِي الْعَابِدِينَ وَنَحْمَدَهُ فِي الْحَامِدِينَ وَأَنْ نَنْصَحَ لِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ

ابوحیان تیمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت ربیع بن خثیم نے یہ وصیت تحریر کی تھی۔ اللہ کے نام سے آغاز کرتا ہوں وہ جو رحمن اور رحیم ہے۔ یہ وہ وصیت ہے جو ربیع بن خیثم نے کی ہے وہ اس پر اللہ کو گواہ بناتا ہے اور اللہ ہی گواہ کے طور پر کافی ہے اور اپنے نیک بندوں کو جزاء اور ثواب دینے کے لئے کافی ہے میں اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد کے نبی ہونے سے راضی ہوں میں اپنے آپ کو اور اپنے پیر وکاروں کو یہ حکم دیتاہوں کہ ہم عبادت گزاروں کے ہمراہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور حمد کرنے والوں کے ہمراہ اس کی حمد بیان کریں اور مسلمانوں کی جماعت کی خیرخواہی کریں۔ جن حضرات کے نزدیک تھوڑے مال کی وصیت کرنا ضروری نہیں ہے۔

أَبِيهِ ← أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3228

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3231

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ فَذَكَرُوا لَهُ الْوَصِيَّةَ فَقَالَ عَلِيٌّ قَالَ اللَّهُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا وَلَا أُرَاهُ تَرَكَ خَيْرًا قَالَ حَمَّادٌ فَحَفِظْتُ أَنَّهُ تَرَكَ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِ مِائَةٍ

ہشام اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک بیمار آدمی کے پاس تشریف لے گئے لوگوں نے ان کے سامنے وصیت کا تذکرہ کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا اللہ نے ارشاد فرمایا ہے اگر وہ بھلائی یعنی مال کو چھوڑ کر جائے۔ میرا خیال ہے اس نے بھلائی یعنی مال نہیں چھوڑا۔ حماد نامی روای بیان کرتے ہیں مجھے یاد ہے کہ اس شخص نے سات سو سے زیادہ ترکہ چھوڑا تھا۔

حَمَّادٌ فَحَفِظْتُ أَنَّهُ تَرَكَ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِ مِائَةٍ ← اللَّهُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا وَلَا أُرَاهُ تَرَكَ خَيْرًا ← أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ فَذَكَرُوا لَهُ الْوَصِيَّةَ فَقَالَ عَلِيٌّ ← هِشَامٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3231

chevron_left Previous
1…252627…1,037
Next chevron_right