Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

المرأة

Women

21806 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22209

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ قَالَا ثَنَا حَسَّانُ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ هَرَمِيِّ بْنِ عَمْرٍو الْخَطْمِيِّ عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحِي مِنْ الْحَقِّ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں جھجھکتا، لہٰذا تم عورتوں کے " پچھلے حصے میں " مت آیا کرو ۔

خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ ← هَرَمِيِّ بْنِ عَمْرٍو الْخَطْمِيِّ، ← عبد الله بن علي ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← حَسَّانُ، مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ ← حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22209

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22218

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ الْحُصَيْنِ الْوَائِلِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ هَرَمِيَّ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاقِفِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ الْخَطْمِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسْتَحِي اللَّهُ مِنْ الْحَقِّ ثَلَاثًا لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ

خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں جھجھکتا، لہٰذا تم عورتوں کے " پچھلے حصے میں " مت آیا کرو ۔

يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22218

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22475

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ الصَّلَاةَ أُحِيلَتْ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ فَذَكَرَ أَحْوَالَهَا فَقَطْ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ أُحِيلَتْ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ وَأُحِيلَ الصِّيَامُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ فَأَمَّا أَحْوَالُ الصَّلَاةِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ يُصَلِّي سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ عَلَيْهِ قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ قَالَ فَوَجَّهَهُ اللَّهُ إِلَى مَكَّةَ قَالَ فَهَذَا حَوْلٌ قَالَ وَكَانُوا يَجْتَمِعُونَ لِلصَّلَاةِ وَيُؤْذِنُ بِهَا بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى نَقَسُوا أَوْ كَادُوا يَنْقُسُونَ قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ وَلَوْ قُلْتُ إِنِّي لَمْ أَكُنْ نَائِمًا لَصَدَقْتُ إِنِّي بَيْنَا أَنَا بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ رَأَيْتُ شَخْصًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَثْنَى مَثْنَى حَتَّى فَرَغَ مِنْ الْأَذَانِ ثُمَّ أَمْهَلَ سَاعَةً قَالَ ثُمَّ قَالَ مِثْلَ الَّذِي قَالَ غَيْرَ أَنَّهُ يَزِيدُ فِي ذَلِكَ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمْهَا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ بِهَا فَكَانَ بِلَالٌ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ بِهَا قَالَ وَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ طَافَ بِي مِثْلُ الَّذِي أَطَافَ بِهِ غَيْرَ أَنَّهُ سَبَقَنِي فَهَذَانِ حَوْلَانِ قَالَ وَكَانُوا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ وَقَدْ سَبَقَهُمْ بِبَعْضِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَكَانَ الرَّجُلُ يُشِيرُ إِلَى الرَّجُلِ إِنْ جَاءَ كَمْ صَلَّى فَيَقُولُ وَاحِدَةً أَوْ اثْنَتَيْنِ فَيُصَلِّيهَا ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِي صَلَاتِهِمْ قَالَ فَجَاءَ مُعَاذٌ فَقَالَ لَا أَجِدُهُ عَلَى حَالٍ أَبَدًا إِلَّا كُنْتُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَضَيْتُ مَا سَبَقَنِي قَالَ فَجَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِهَا قَالَ فَثَبَتَ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَامَ فَقَضَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ قَدْ سَنَّ لَكُمْ مُعَاذٌ فَهَكَذَا فَاصْنَعُوا فَهَذِهِ ثَلَاثَةُ أَحْوَالٍ وَأَمَّا أَحْوَالُ الصِّيَامِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَقَالَ يَزِيدُ فَصَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا مِنْ رَبِيعِ الْأَوَّلِ إِلَى رَمَضَانَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَصَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِ الصِّيَامَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمْ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ قَالَ فَكَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَطْعَمَ مِسْكِينًا فَأَجْزَأَ ذَلِكَ عَنْهُ قَالَ ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ الْآيَةَ الْأُخْرَى شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ إِلَى قَوْلِهِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ قَالَ فَأَثْبَتَ اللَّهُ صِيَامَهُ عَلَى الْمُقِيمِ الصَّحِيحِ وَرَخَّصَ فِيهِ لِلْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ وَثَبَّتَ الْإِطْعَامَ لِلْكَبِيرِ الَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ الصِّيَامَ فَهَذَانِ حَوْلَانِ قَالَ وَكَانُوا يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ وَيَأْتُونَ النِّسَاءَ مَا لَمْ يَنَامُوا فَإِذَا نَامُوا امْتَنَعُوا قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ صِرْمَةُ ظَلَّ يَعْمَلُ صَائِمًا حَتَّى أَمْسَى فَجَاءَ إِلَى أَهْلِهِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ نَامَ فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَشْرَبْ حَتَّى أَصْبَحَ فَأَصْبَحَ صَائِمًا قَالَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ جَهَدَ جَهْدًا شَدِيدًا قَالَ مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَهَدْتَ جَهْدًا شَدِيدًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَمِلْتُ أَمْسِ فَجِئْتُ حِينَ جِئْتُ فَأَلْقَيْتُ نَفْسِي فَنِمْتُ وَأَصْبَحْتُ حِينَ أَصْبَحْتُ صَائِمًا قَالَ وَكَانَ عُمَرُ قَدْ أَصَابَ مِنْ النِّسَاءِ مِنْ جَارِيَةٍ أَوْ مِنْ حُرَّةٍ بَعْدَ مَا نَامَ وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ إِلَى قَوْلِهِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَقَالَ يَزِيدُ فَصَامَ تِسْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا مِنْ رَبِيعِ الْأَوَّلِ إِلَى رَمَضَانَ

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ نماز تین مراحل سے گذر کر آئی ہے پھر انہوں نے ان احوال کی تفصیل بیان فرمائی ۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز تین مراحل سے گذری ہے اور روزے بھی تین مراحل سے گذرے ہیں ، نماز کے احوال تو یہ ہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد سترہ ماہ تک بیت المقدس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے رہے حتیٰ کہ تحویل قبلہ کا حکم اللہ تعالیٰ نے نازل فرما دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ مکہ مکرمہ کی طرف کر دیا، ایک مرحلہ تو یہ ہوا لوگ نماز کے لئے جمع ہوتے تھے اور دوسروں کو اطلاع دیتے تھے اور اس کے لئے وہ لوگ ناقوس بجانے لگے یا ناقوس بجانے کے قریب ہوگئے پھر ایک انصاری صحابی آئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ایک شخص کو خواب میں دیکھا " جبکہ میں نیند اور بیداری کے درمیان تھا " اور جو سبز لباس زیب تن کئے ہوئے تھا اس نے قبلہ رخ کھڑے ہو کر اذان دی ، اس کے بعد کچھ وقت بیٹھ کر پھر وہ کھڑا ہوگیا اور اذان کے جو کلمات کہے تھے وہی کلمات کہے البتہ اس میں قد قامت الصلوٰۃ کا اضافہ کیا اور اگر لوگ میری تکذیب نہ کریں تو اچھی طرح میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس وقت جاگ رہا تھا سویا ہوا نہیں تھا یہ سن کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم (حضرت) بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کے لئے یہ کلمات سکھادو چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ یہ اذان دینے والے پہلے آدمی تھے اتنے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے بھی بالکل یہی خواب دیکھا ہے لیکن انصاری آدمی اپنا خواب مجھ سے پہلے بیان کر چکے تھے یہ دو مرحلے ہوئے راوی کہتے ہیں کہ پہلے جب کوئی مسجد میں اور جماعت ہوتے ہوئے دیکھتا تو وہ یہ معلوم کرتا کہ اب تک کتنی رکعات ہوچکی ہیں اسے اشارے سے بتا دیا جاتا، وہ پہلے ان رکعتوں کو پڑھتا، پھر وہ بقیہ نماز میں شرکت کرتا، ایک دن حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آئے اور کہا کہ میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس حالت میں دیکھوں گا اسی حالت اور کیفیت کو بہر صورت اختیار کروں گا بعد میں اپنی چھوٹی ہوئی نماز مکمل کرلوں گا، کیونکہ جس وقت وہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نماز پڑھا چکے تھے چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کرلی تو انہوں نے بھی کھڑے ہو کر اپنی نماز مکمل کرلی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں کے لئے معاذ رضی اللہ عنہ نے ایک طریقہ مقرر کر دیا ہے اس لئے تم ایساہی کیا کرو یہ تین مرحلے ہوگئے ۔ روزوں کے مراحل یہ ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو اس وقت ہر مہینے تین روزے اور یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا اس کے بعد رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے یہ آیت کریمہ نازل ہوگئی اے اہل ایمان ! تم پر روزے فرض کر دیئے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سو جو چاہتا وہ روزے رکھ لیتا اور جو چاہتا مسکینوں کو کھانا کھلا دیتا اور یہ بھی کافی ہوجاتا، پھر اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت نازل فرما دی کہ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم میں سے جس کو ماہ رمضان المبارک نصیب ہو وہ بہرحال روزہ رکھے اس کے بعد سوائے مریض اور مسافر کے رخصت ختم ہوگئی اور دوسرے کے لئے روزہ رکھنے کا حکم ہوا البتہ وہ عمر رسیدہ آدمی جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا اس کے حق میں کھانا کھلانے کی اجازت باقی رہی یہ دو مرحلے ہوئے ، ابتداء اسلام میں سونے سے پہلے تک کھانے پینے اور عورتوں کے پاس جانے کی اجازت ہوتی تھی اور سونے کے بعد، دوسرے دن کے روزے کے روزے کھولنے کے وقت تک کھانا پیناجائز نہ ہوتا چنانچہ ایک روز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اہلیہ سے ہمبستری کا ارادہ کیا تو آپ کی اہلیہ مطہرہ نے فرمایا کہ مجھے نیند آگئی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ گمان ہوا کہ اہلیہ ہمبستری سے بچنے کے لئے کوئی بہانہ بنا رہی ہے بہرحال حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہلیہ سے صحبت کرلی اسی طرح ایک انصاری صحابی نے ایک مرتبہ افطار کے بعد کھانے پینے کا ارادہ کر لیا لوگوں نے کہا کہ ٹھہر جاؤ ذرا ہم تمہارے لئے کھانا گرم کر دیں وہ انصاری صحابی سوگئے جب صبح ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ احل لکم لیلۃ الصیام الرفث (الایۃ البقرہ ،١٨٧) نازل فرما دی یعنی روزہ کی رات میں بیویوں سے جماع کرنا جائز ہے " اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول سے رمضان تک ١٩ماہ میں ہر ماہ تین روزے رکھے۔ ی

مُعَاذٌ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22475

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19353

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ فَمَاتَتْ ابْنَةٌ لَهُ وَكَانَ يَتْبَعُ جِنَازَتَهَا عَلَى بَغْلَةٍ خَلْفَهَا فَجَعَلَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ فَقَالَ لَا تَرْثِينَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمَرَاثِي فَتُفِيضُ إِحْدَاكُنَّ مِنْ عَبْرَتِهَا مَا شَاءَتْ ثُمَّ كَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا ثُمَّ قَامَ بَعْدَ الرَّابِعَةِ قَدْرَ مَا بَيْنَ التَّكْبِيرَتَيْنِ يَدْعُو ثُمَّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي الْجِنَازَةِ هَكَذَا

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ شرکاء بیعت رضوان میں سے تھے ان کی ایک بیٹی فوت ہوگئی وہ ایک خچر پر سوار ہو کر اس کے جنازے کے پیچھے چل رہے تھے کہ عورتیں رونے لگیں انہوں نے خواتین سے فرمایا کہ تم لوگ مرثیہ نہ پڑھو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرثیہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے البتہ تم میں سے جو عورت جتنے آنسو بہانا چاہتی ہے سوبہالے پھر انہوں نے اس کے جنازے پر چار تکبیرات کہیں اور چوتھی تکبیرکے بعد اتنی دیرکھڑے ہو کر دعاء کرتے رہے جتنا وقفہ دو تکبیروں کے درمیان تھا، پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جنازے میں اسی طرح فرماتے تھے۔

إبراهيم الهجري ← شُعْبَةُ، ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19353

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19637

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا الْهَجَرِيُّ قَالَ خَرَجْتُ فِي جِنَازَةِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ حَوَّاءَ يَعْنِي سَوْدَاءَ قَالَ فَجَعَلَ النِّسَاءُ يَقُلْنَ لِقَائِدِهِ قَدِّمْهُ أَمَامَ الْجِنَازَةِ فَفَعَلَ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ أَيْنَ الْجِنَازَةُ قَالَ فَقَالَ خَلْفَكَ قَالَ فَفَعَلَ ذَلِكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ أَلَمْ أَنْهَكَ أَنْ تُقَدِّمَنِي أَمَامَ الْجِنَازَةِ قَالَ فَسَمِعَ امْرَأَةً تَلْتَدِمُ وَقَالَ مَرَّةً تَرْثِي فَقَالَ مَهْ أَلَمْ أَنْهَكُنَّ عَنْ هَذَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ الْمَرَاثِي لِتُفِضْ إِحْدَاكُنَّ مِنْ عَبْرَتِهَا مَا شَاءَتْ فَلَمَّا وُضِعَتْ الْجِنَازَةُ تَقَدَّمَ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ ثُمَّ قَامَ هُنَيْهَةً فَسَبَّحَ بِهِ بَعْضُ الْقَوْمِ فَانْفَتَلَ فَقَالَ أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنِّي أُكَبِّرُ الْخَامِسَةَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَبَّرَ الرَّابِعَةَ قَامَ هُنَيَّةً فَلَمَّا وُضِعَتْ الْجِنَازَةُ جَلَسَ وَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَسُئِلَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَقَالَ تَلَقَّانَا يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرٌ أَهْلِيَّةٌ خَارِجًا مِنْ الْقَرْيَةِ فَوَقَعَ النَّاسُ فِيهَا فَذَبَحُوهَا فَإِنَّ الْقُدُورَ لَتَغْلِي بِبَعْضِهَا إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْرِيقُوهَا فَأَهْرَقْنَاهَا وَرَأَيْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى مِطْرَفًا مِنْ خَزٍّ أَخْضَرَ

ہجری کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے جنازے میں شریک ہوا وہ خود ایک سیاہ رنگ کے خچر پر سوار تھے عورتیں ان کے رہبر سے کہنے لگیں کہ انہیں جنازے کے آگے لے کر چلو اس نے ایسا ہی کیا میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ جنازہ کہاں ہے ؟ (کیونکہ وہ نابینا ہوچکے تھے ) اس نے بتایا آپ کے پیچھے ایک دو مرتبہ اسی طرح ہونے کے بعد انہوں نے فرمایا کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا کہ مجھے جنازے سے آگے لے کر مت چلا کرو ۔ پھر انہوں نے ایک عورت کی آواز سنی جو بین کررہی تھی انہوں نے اسے روکتے ہوئے فرمایا کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بین کرنے سے منع فرماتے تھے ہاں البتہ آنسو بہانا چاہتی ہو بہالو، پھر جب جنازہ سامنے رکھا گیا تو انہوں نے آگے بڑھ چار تکبیرات کہیں اور تھوڑی دیر کھڑے رہے یہ دیکھ کر کچھ لوگ " سبحان اللہ " کہنے لگے انہوں نے مڑ کر فرمایا کیا تم یہ سمجھ کر رہے تھے کہ میں پانچویں تکبیر کہنے لگا ہوں ؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب تکبیر کہہ چکتے تو تھوڑی دیر کھڑے رہتے تھے۔ پھر جب جنازہ لا کر رکھا گیا تو حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے کسی شخص نے ان سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ غزوہ خیبر کے موقع پر شہر سے باہر ہمیں کچھ پالتو گدھے مل گئے لوگ ان پر جاپڑے اور انہیں ذبح کرلیا، ابھی کچھ ہانڈیوں میں اس کا گوشت ابل ہی رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے نداء لگائی انہیں بہادو، چنانچہ ہم نے اسے بہا دیا اور میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے جسم پر نہایت عمدہ لباس جو سبز ریشم کا تھا دیکھا۔

الْهَجَرِيِّ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19637

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19717

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً ثُمَّ قَالَ عَلَى مَكَانِكُمْ اثْبُتُوا ثُمَّ أَتَى الرِّجَالَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَكُمْ أَنْ تَتَّقُوا اللَّهَ تَعَالَى وَأَنْ تَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ثُمَّ تَخَلَّلَ إِلَى النِّسَاءِ فَقَالَ لَهُنَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَكُنَّ أَنْ تَتَّقُوا اللَّهَ وَأَنْ تَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا قَالَ ثُمَّ رَجَعَ حَتَّى أَتَى الرِّجَالَ فَقَالَ إِذَا دَخَلْتُمْ مَسَاجِدَ الْمُسْلِمِينَ وَأَسْوَاقَهُمْ وَمَعَكُمْ النَّبْلُ فَخُذُوا بِنُصُولِهَا لَا تُصِيبُوا بِهَا أَحَدًا فَتُؤْذُوهُ أَوْ تَجْرَحُوهُ

حضرت عبداللہ بن قیس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور نماز کے بعد فرمایا اپنی جگہ پر ہی رکو پھر پہلے مردوں کے پاس آکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اللہ سے ڈرنے اور درست بات کہنے کا حکم دوں، پھر خواتین کے پاس جا کر ان سے بھی یہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیاہے کہ تمہیں اللہ سے ڈرنے اور درست بات کہنے کا حکم دوں، پھر واپس مردوں کے پاس آکر فرمایا جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں جایا کرو اور تمہارے پاس تیر ہوں تو ان کا پھل قابو میں رکھا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو لگ جائے اور تم کسی کو اذیت پہنچاؤ یا زخمی کردو۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ قَیْسِ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← لَيْثٌ، ← يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19717

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19752

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَلَ مِنْ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنْ النِّسَاءِ إِلَّا آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مردوں میں سے کامل افراد تو بہت گذرے ہیں لیکن عورتوں میں کامل عورتیں صرف حضرت آسیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا " جوفرعون کی بیوی تھیں " اور حضرت مریم علیہا السلام گذری ہیں اور تمام عورتوں پر عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کو فضیلت حاصل ہے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← عَمْرٍو، ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19752

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13008

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ أَبُو الْأَسْوَدِ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ وَالْإِبِلِ وَالنَّعَمِ فَجَعَلُوهُمْ صُفُوفًا يُكَثِّرُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا الْتَقَوْا وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عِبَادَ اللَّهِ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ قَالَ عَفَّانُ وَلَمْ يَضْرِبُوا بِسَيْفٍ وَلَمْ يَطْعَنُوا بِرُمْحٍ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ قَالَ وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ فَأُجْهِضْتُ عَنْهُ فَانْظُرْ مَنْ أَخَذَهَا فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَا أَخَذْتُهَا فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ لَا وَاللَّهِ لَا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ صَدَقَ عُمَرُ قَالَ وَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ مَا هَذَا مَعَكِ قَالَتْ اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ أَنْ أَبْعَجَ بِهِ بَطْنَهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنْ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَانَا وَأَحْسَنَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ وَجَمَعَتْ هَوَزِانُ وَغَطَفَانُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْعًا كَثِيرًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَشْرَةِ آلَافٍ أَوْ أَكْثَرَ وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ فَجَاءُوا بِالنَّعَمِ وَالذُّرِّيَّةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو ہوازن کے لوگ غزوہ حنین میں بچے، عورتیں ، اونٹ اور بکریاں تک لے کر آئے تھے، انہوں نے اپنی کثرت ظاہر کرنے کے لئے ان سب کو بھی مختلف صفوں میں کھڑا کر دیا، جب جنگ چھڑی تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو آواز دی کہ اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں ) ہوں ، اے گروہِ انصار! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں ) ہوں ، اس کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو فتح اور کافروں کو شکست سے دوچار کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یہ اعلان فرمایا تھا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سارا سازوسامان قتل کرنے والے کو ملے گا، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نتہا اس دن بیس کافروں کو قتل کیا تھا اور ان کا سازوسامان لے لیا تھا۔ اسی طرح حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک آدمی کو کندھے کی رسی پر مارا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی، میں نے اسے بڑی مشکل سے قابو کر کے اپنی جان بچائی، آپ معلوم کر لیجئے کہ اس کا سامان کس نے لیا ہے؟ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا وہ سامان میں نے لے لیا ہے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ انہیں میری طرف سے اس پر راضی کر لیجئے اور یہ سامان مجھ ہی کو دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کا سوال کرتا تو اسے عطاء فرما دیتے یا پھر سکوت فرما لیتے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے بخدا! ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ اپنے ایک شیر کو مال غنیمت عطاء کر دے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ تمہیں دے دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا عمر سچ کہہ رہے ہیں ۔ غزوہ حنین ہی میں حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ایک خنجر تھا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ یہ تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ میں نے اپنے پاس اس لئے رکھا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اسی سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ام سلیم کی بات سنی؟ پھر وہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو لوگ آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، انہیں قتل کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام سلیم! اللہ نے ہماری کفایت خود ہی فرمائی اور ہمارے ساتھ اچھا معاملہ کیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ: أَبُو الْأَسْوَدِ الْعَمِّيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13008

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13063

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ حِينَ بَايَعَهُنَّ أَنْ لَا يَنُحْنَ فَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَفَنُسْعِدُهُنَّ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا إِسْعَادَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا شِغَارَ وَلَا عَقْرَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا جَلَبَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا جَنَبَ وَمَنْ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، اس پر عورتوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! زمانہ جاہلیت میں کچھ عورتوں نے ہمیں پرسہ دیا تھا، کیا ہم انہیں اسلام میں پرسہ دے سکتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ، نیز اسلام میں وٹے سٹے کے نکاح کی " جس میں مہر مقرر نہ کیا گیا ہو " کوئی حیثیت نہیں ہے، اسلام میں فرضی محبوباؤں کے نام لے کر اشعار میں تشبیہات دینے کی کوئی حٰثیت نہیں ، اسلام میں کسی قبیلے کا حلیف بننے کی کوئی حیثیت نہیں ، زکوۃ وصول کرنے والے کا اچھا مال چھانٹ لینا یا لوگوں کا زکوۃ سے بچنے کے حیلے اختیار کرنا بھی صحیح نہیں ہے اور جو شخص لوٹ مار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

أَخَذَ النَّبِيُّ عَلَى النِّسَاءِ حِينَ بَايَعَهُنَّ أَنْ لَا يَنُحْنَ فَقُلْنَ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّازَّقِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13063

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13088

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ أَبُو عُبَيْدَةَ عَنْ سَلَّامٍ أَبِي الْمُنْذِرِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حُبِّبَ إِلَيَّ النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا میں میرے نزدیک صرف عورت اور خوشبو کی محبت ڈالی گئی اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سَلَامٍ أَبِي الْمُنْذِرِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ أَبُو عُبَيْدَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13088

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13126

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ لَا يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا وَيَقِلَّ الرِّجَالُ وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ قَيِّمَ خَمْسِينَ امْرَأَةً رَجُلٌ وَاحِدٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بات بھی ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، بدکاری عام ہوگی، اور شراب نوشی بکثرت ہوگی، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ لَا يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ بَعْدِي، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13126

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13263

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَنْبَرٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ لَا يُحَدِّثُكُمُوهُ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا وَتَقِلَّ الرِّجَالُ وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ فِي الْخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بات بھی ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، بدکاری عام ہوگی، اور شراب نوشی بکثرت ہوگی، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ لَا يُحَدِّثُكُمُوهُ أَحَدٌ بَعْدِي ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَنْبَرٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13263

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13410

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ وَكَانَ مَعَهُ غُلَامٌ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ يَحْدُو قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ ارْفُقْ بِالْقَوَارِيرِ قَالَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ يَعْنِي النِّسَاءَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی " جس کا نام انجثہ تھا " امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی سے ہانکنا شروع کر دیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انجشہ! ان آبگینوں کو آہستہ لے چلو۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13410

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26725

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا قَالَ يَغْتَسِلُ وَعَنْ الرَّجُلِ يَرَى أَنَّهُ قَدْ احْتَلَمَ وَلَا يَرَى بَلَلًا قَالَ لَا غُسْلَ عَلَيْهِ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِكَ شَيْءٌ قَالَ نَعَمْ إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کا حکم پوچھا جو تری دیکھتا ہے لیکن اسے خواب یاد نہیں ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ غسل کرے گا، سائل نے پوچھا کہ جو آدمی سمجھتا ہو کہ اس نے خواب دیکھا ہے لیکن اسے تری نہ آئے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر غسل نہیں ہے، حضرت ام سلیم نے عرض کیا اگر عورت ایسی کوئی چیز دیکھتی ہے تو اس پر بھی غسل واجب ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! کیونکہ عورتیں مردوں کا جوڑا ہی تو ہیں۔

نعم إنما النساء شقائق الرجال ← لَا غُسْلَ عَلَيْهِ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِكَ شَيْءٌ ← يَغْتَسِلُ وَعَنْ الرَّجُلِ يَرَى أَنَّهُ قَدْ احْتَلَمَ وَلَا يَرَى بَلَلًا ← الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْکُرُ احْتِلَامًا ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← أخيه عبيد الله ← عَبْدُ اللَّهِ ← حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26725

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26779

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ قِلَادَةُ جَزْعٍ فَقَالَ لَأَدْفَعَنَّهَا إِلَى أَحَبِّ أَهْلِي إِلَيَّ فَقَالَتْ النِّسَاءُ ذَهَبَتْ بِهَا ابْنَةُ أَبِي قُحَافَةَ فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِ أُمَامَةَ بِنْتِ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے ہدیہ آیا جس پر مہرہ کا ایک ہار بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہار میں اسے دوں گا جو مجھے اپنے اہل خانہ میں سے سب سے زیادہ محبوب ہو، عورتیں یہ سن کر کہنے لگیں کہ یہ ہار ابو قحافہ کی بیٹی لے گئی ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امامہ بنت زینب کو بلایا اور ان کے گلے میں یہ ہار ڈال دیا۔

عَائِشَةَ ← أُمِّ مُحَمَّدٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يُونُسُ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26779

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26835

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ أَتَيْنَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ لَعَلَّكُنَّ مِنْ النِّسَاءِ اللَّاتِي يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ فَقُلْنَ لَهَا إِنَّا لَنَفْعَلُ فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ وَضَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا هَتَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ پر اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان حائل پر دے کو چاک کر دیتی ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← لَهُنَّ عَائِشَةُ أَمَا إِنِّي ← لَنَفْعَلُ ← لَهُنَّ عَائِشَةُ لَعَلَّكُنَّ مِنْ النِّسَاءِ اللَّاتِي يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ فَقُلْنَ لَهَا ← أَتَيْنَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ عَائِشَةَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← عُبَيْدَةُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26835

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26839

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيَّ خُوَيْلَةُ بِنْتُ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ السُّلَمِيَّةُ وَكَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَتْ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَذَاذَةَ هَيْئَتِهَا فَقَالَ لِي يَا عَائِشَةُ مَا أَبَذَّ هَيْئَةَ خُوَيْلَةَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَةٌ لَا زَوْجَ لَهَا يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ فَهِيَ كَمَنْ لَا زَوْجَ لَهَا فَتَرَكَتْ نَفْسَهَا وَأَضَاعَتْهَا قَالَتْ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَجَاءَهُ فَقَالَ يَا عُثْمَانُ أَرَغْبَةً عَنْ سُنَّتِي قَالَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ قَالَ فَإِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون کی اہلیہ خویلہ بنت حکیم پہلے مہندی لگاتی تھیں اور خوشبو سے مہکتی تھیں لیکن ایک دم انہوں نے یہ سب چیزیں چھوڑ دیں، ایک دن وہ میرے پاس پراگندہ حال آئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سے فرمایا عائشہ! خویلہ کی یہ خراب حالت کیوں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ ایسی عورت ہے جس کا شوہر نہیں کیونکہ وہ سارا دن روزہ رکھتا ہے اور ساری رات نماز پڑھتا ہے تو یہ ایسے ہی جیسے کسی کا شوہر نہ ہو، اس لئے انہوں نے اپنے آپ کو اسی حال میں چھوڑ دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے اور فرمایا اے عثمان! کیا تم میری سنت سے اعراض کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا نہیں واللہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی سنت کا تو میں متلاشی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں اس لئے اے عثمان! اللہ سے ڈرو ، کہ تمہارے اہل خانہ، مہمان اور خود تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے لہٰذا روزہ بھی رکھا کرو اور ناغہ بھی کیا کرو، نماز بھی پڑھا کرو اور سویا بھی کرو۔

فَقُلْتُ: ← لِي يَا عَائِشَةُ مَا أَبَذَّ هَيْئَةَ خُوَيْلَةَ ← فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ بَذَاذَةَ هَيْئَتِهَا ← كَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ← دَخَلَتْ عَلَيَّ خُوَيْلَةُ بِنْتُ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ السُّلَمِيَّةُ ← عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26839

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26868

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَمَ لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ وَهِيَ الَّتِي يَقُولُ النَّاسُ لَهَا صَلَاةُ الْعَتَمَةِ قَالَتْ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ عُمَرُ الصَّلَاةَ قَدْ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ غَيْرَكُمْ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ فِي النَّاسِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء میں تاخیر کر دی ، حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے ، اور فرمایا اہل زمین میں سے اس وقت کوئی بھی آدمی ایسا نہیں ہے جو تمہارے علاوہ یہ نماز پڑھ رہا ہو، اور اس وقت اہل مدینہ کے علاوہ یہ نماز کوئی نہیں پڑھ رہا یہ اسلام پھیلنے سے پہلے کی بات ہے۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ أَخْبَرَتْهُ ← عَمِّہٖ ← ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26868

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26880

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَفِي دَوْلَتِي لَمْ أَظْلِمْ فِيهِ أَحَدًا فَمِنْ سَفَهِي وَحَدَاثَةِ سِنِّي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قُبِضَ وَهُوَ فِي حِجْرِي ثُمَّ وَضَعْتُ رَأْسَهُ عَلَى وِسَادَةٍ وَقُمْتُ أَلْتَدِمُ مَعَ النِّسَاءِ وَأَضْرِبُ وَجْهِي

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میری گردن اور سینہ کے درمیان اور میری باری کے دن میں ہوا تھا ، اس میں میں نے کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا، لیکن یہ میری بیوقوفی اور نوعمری تھی کہ میری گود میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور پھر میں نے ان کا سر اٹھا کر تکیہ پر رکھ دیا اور خود عورتوں کے ساتھ مل کر رونے اور اپنے چہرے پر ہاتھ مارنے لگی۔

أبيه عباد ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26880

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26895

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا أَتَى قَتْلُ جَعْفَرٍ عَرَفْنَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُزْنَ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النِّسَاءَ قَدْ غَلَبْنَنَا وَفَتَنَّنَا قَالَ فَارْجِعْ إِلَيْهِنَّ فَأَسْكِتْهُنَّ قَالَ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ يَقُولُ وَرُبَّمَا ضَرَّ التَّكَلُّفُ أَهْلَهُ قَالَ فَاذْهَبْ فَأَسْكِتْهُنَّ فَإِنْ أَبْيَنَ فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ قَالَتْ قُلْتُ فِي نَفْسِي أَبْعَدَكَ اللَّهُ فَوَاللَّهِ مَا تَرَكْتَ نَفْسَكَ وَمَا أَنْتَ بِمُطِيعٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَا يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَحْثُوَ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت زید بن حارثہ ، اور عبدالرحمن بن رواحہ رضی اللہ عنہما کی شہادت کی خبر آئی ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے اور روئے انور سے غم کے آثار ہویدا تھے، میں دروازے کے سوراخ سے جھانک رہی تھی کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم جعفر کی عورتیں رو رہی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ انہیں منع کر دو، وہ آدمی چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد واپس آیا اور کہنے لگا میں نے انہیں منع کیا ہے لیکن وہ میری بات نہیں مانتیں، تین مرتبہ اس طرح ہوا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ جا کر ان کے منہ میں مٹی بھر دو، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس سے فرمایا اللہ تجھے خاک آلود کرے، واللہ تو وہ کرتا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے حکم دیتے اور نہ ہی ان کی جان چھوڑتا ہے۔

فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ ← لَمَّا أَتَى قَتْلُ جَعْفَرٍ عَرَفْنَا فِي رَسُولِ اللَّهِ الْحُزْنَ ← عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26895

chevron_left Previous
1…252627…1,091
Next chevron_right