Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

المرأة

Women

21806 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25836

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ ابْنَةِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ عَلَى النِّسَاءِ مِنْ جِهَادٍ قَالَ نَعَمْ عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا عورتیں پر بھی جہاد فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! ان پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں قتال نہیں ہے یعنی حج اور عمرہ۔

قُلْتُ ← عَائِشَةَ ← عَائِشَةَ ابْنَةِ طَلْحَةَ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25836

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25846

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَكَانَ يَذْكُرُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَكَذَا كَانَ فِي كِتَابهِ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَأَخَذَتْهَا فَشَقَّتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ هِيَ وَابْنَتَاهَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى تَفِيئَةِ ذَلِكَ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ سِتْرًا لَهُ مِنْ النَّارِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کھجور دی، اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کر کے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کر دیا ( اور خود کچھ نہ کھایا) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔

عُرْوَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَائِشَةَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← كَذَا كَانَ فِي كِتَابهِ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَكَانَ يَذْكُرُهُ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25846

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21570

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ صُفُوفًا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ أَوْ الْعَصْرِ إِذْ رَأَيْنَاهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ لِيَأْخُذَهُ ثُمَّ تَنَاوَلَهُ لِيَأْخُذَهُ ثُمَّ حِيلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ ثُمَّ تَأَخَّرَ وَتَأَخَّرْنَا ثُمَّ تَأَخَّرَ الثَّانِيَةَ وَتَأَخَّرْنَا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ الْيَوْمَ تَصْنَعُ فِي صَلَاتِكَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ قَالَ إِنَّهُ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ بِمَا فِيهَا مِنْ الزَّهْرَةِ فَتَنَاوَلْتُ قِطْفًا مِنْ عِنَبِهَا لِآتِيَكُمْ بِهِ وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلَ مِنْهُ مَنْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَا يَتَنَقَّصُونَهُ فَحِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَلَمَّا وَجَدْتُ حَرَّ شُعَاعِهَا تَأَخَّرْتُ وَأَكْثَرُ مَنْ رَأَيْتُ فِيهَا النِّسَاءُ اللَّاتِي إِنْ اؤْتُمِنَّ أَفْشَيْنَ وَإِنْ سَأَلْنَ أَحْفَيْنَ قَالَ أَبِي قَالَ زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَلْحَفْنَ وَإِنْ أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ وَرَأَيْتُ فِيهَا لُحَيَّ بْنَ عَمْرٍو يَجُرُّ قُصْبَهُ وَأَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ مَعْبَدُ بْنُ أَكْثَمَ قَالَ مَعْبَدٌ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ يُخْشَى عَلَيَّ مِنْ شَبَهِهِ فَإِنَّهُ وَالِدٌ قَالَ لَا أَنْتَ مُؤْمِنٌ وَهُوَ كَافِرٌ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ جَمَعَ الْعَرَبَ عَلَى الْأَصْنَامِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ نماز ظہر یا عصر میں صف بستہ کھڑے ہوئے تھے تو ایسا محسوس ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں پھر وہ پیچھے ہٹنے لگے تو لوگ بھی پیچھے ہوگئے نماز سے فارغ ہو کر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آج تو آپ نے ایسے کیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے سامنے جنت کو اپنی تمام تر رونقوں کے ساتھ پیش کیا گیا میں نے انگوروں کا ایک گچھا توڑنا چاہا تاکہ تمہیں دے دوں لیکن پھر کوئی چیز درمیان میں حائل ہوگئی اگر وہ میں تمہارے پاس لے آتا اور سارے آسمان و زمین والے اسے کھاتے تب بھی اس میں کوئی کمی نہ ہوتی، پھر میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا جب میں نے اس کی بھڑک کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹ گیا اور میں نے اس میں اکثریت عورتوں کی دیکھی ہے جنہیں اگر کوئی راز بتایا جائے تو اسے افشاء کر دیتی ہیں کچھ مانگا جائے تو بخل سے کام لیتی ہیں خود کسی سے مانگیں تو انتہائی اصرار کرتی ہیں (مل جائے تو شکر نہیں کرتیں ) میں نے وہاں لحی بن عمرو کو بھی دیکھا جو جہنم میں اپنی انتڑیاں کھینچ رہا تھا اور میں نے اس کے سب سے زیادہ مشابہہ معبد بن اکثم کعبی کو دیکھا ہے اس پر معبد کہنے لگے یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کی مشابہت سے مجھے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ تو نہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں تم مسلمان ہو اور وہ کافر تھا اور وہ پہلا شخص تھا جس نے اہل عرب کو بت پرستی پر جمع کیا تھا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21570

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25968

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٌ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنْ الْغَلَسِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں اس طرح لپٹ کر نکلتی تھیں کہ انہیں اندھیرے کی وجہ سے کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔

عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ أَنَّهَا ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِكٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25968

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25971

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ أَبِي عُذْرَةَ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ عَنْ الْحَمَّامَاتِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ فِي الْمَيَازِرِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں مردوں اور عورتوں کو حمام میں جانے سے روک دیا تھا، بعد میں مردوں کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ وہ تہبندے کے ساتھ حمام میں جا سکتے ہیں۔

عَائِشَةَ ← أبي عذرة وكان قد أدرك النبي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25971

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25981

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس وقت تک نہیں ہوا جب تک ان کے لئے عورتیں حلال نہیں کردی گئیں۔ فائدہ : دراصل یہ سورت احزاب کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں فرمایا گیا تھا کہ اب آپ کے لئے مزید عورتوں سے نکاح کرنا حلال نہیں ہے ، بعد میں یہ پابندی ختم کر دی گئی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہ حدیث اسی بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ ی

مَا مَاتَ رَسُولُ اللهِ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءَ. ← عَائِشَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← وُهَيْبٌ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25981

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21614

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ حِمَازٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَتَعَجَّلَتْ رِجَالٌ إِلَى الْمَدِينَةِ وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِتْنَا مَعَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهُمْ فَقِيلَ تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَالنِّسَاءِ أَمَا إِنَّهُمْ سَيَدَعُونَهَا أَحْسَنَ مَا كَانَتْ ثُمَّ قَالَ لَيْتَ شِعْرِي مَتَى تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ الْيَمَنِ مِنْ جَبَلِ الْوِرَاقِ تُضِيءُ مِنْهَا أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بُرُوكًا بِبُصْرَى كَضَوْءِ النَّهَارِ

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر سے واپس آرہے تھے ہم نے ذوالحلیفہ میں پڑاؤ کیا کچھ لوگ جلد بازی کر کے مدینہ منورہ چلے گئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رات وہیں گذاری ہم بھی ہمراہ تھے جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے متعلق پوچھا، بتایا گیا کہ وہ جلدی مدینہ چلے گئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تو یہ مدینہ منورہ اور عورتوں کی طرف جلدی سے چلے گئے ہیں لیکن ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب یہ مدینہ منورہ کو بہترین حالت پر ہونے کے باوجود چھوڑ جائیں گے پھر فرمایا عنقریب یمن کے جبل وراق سے ایک آگ نکلے گی جس سے بصرے کے جوان اونٹوں کی گردنیں دن کی روشنی کی طرح روشن ہوجائیں گی۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← حَبِيبِ بْنِ حِمَازٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21614

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16180

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ قَالَتْ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ فَقَالَتْ لَهُ أَيَسَعُنِي أَنْ أَضَعَ صَدَقَتِي فِيكَ وَفِي بَنِي أَخِي أَوْ بَنِي أَخٍ لِي يَتَامَى فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَلِي عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا زَيْنَبُ تَسْأَلُ عَمَّا أَسْأَلُ عَنْهُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ عَنْ ذَلِكَ وَلَا تُخْبِرْ مَنْ نَحْنُ فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ هُمَا فَقَالَ زَيْنَبُ فَقَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ فَقَالَ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ وَزَيْنَبُ الْأَنْصَارِيَّةُ فَقَالَ نَعَمْ لَهُمَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ

حضرت زینب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صدقہ خیرات کیا کرو اگرچہ اپنے زیوارت ہی سے کرو وہ کہتی ہیں کہ میرے شوہر عبداللہ بن مسعود ہلکے ہاتھ والے مالی طور پر کمزور تھے میں نے ان سے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ میں تم پر اور اپنے یتیم بھتیجوں پر صدقہ کردیا کروں انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لو چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دروازے پر ایک اور انصاری عورت جس کا نام بھی زینب ہی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی مسئلہ پوچھنے کے لئے آئی ہوئی تھی۔ حضرت بلال باہر آئے تو ہم نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ کر آؤ اور یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ دونوں کون ہیں انہوں نے بتادیا کہ دونوں کا نام زینب ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون سی زینب انہوں نے بتایا کہ ایک تو عبداللہ بن مسعود کی بیوی اور دوسری زینب انصاریہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں دونوں کو اجرملے گا اور دوہرا اجر ملے گا ایک اجر قرابت داری کا اور ایک صدقہ کرنے کا۔

زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهَا ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← أَبِي وَائِلٍ ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16180

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16181

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ فَقَالَ تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ

حضرت زینب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صدقہ خیرات کیا کرو اگرچہ اپنے زیوارت ہی سے کرو وہ کہتی ہیں کہ میرے شوہر عبداللہ بن مسعود ہلکے ہاتھ والے مالی طور پر کمزور تھے میں نے ان سے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ میں تم پر اور اپنے یتیم بھتیجوں پر صدقہ کردیا کروں انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لو چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دروازے پر ایک اور انصاری عورت جس کا نام بھی زینب ہی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی مسئلہ پوچھنے کے لئے آئی ہوئی تھی۔ حضرت بلال باہر آئے تو ہم نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ کر آؤ اور یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ دونوں کون ہیں انہوں نے بتادیا کہ دونوں کا نام زینب ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون سی زینب انہوں نے بتایا کہ ایک تو عبداللہ بن مسعود کی بیوی اور دوسری زینب انصاریہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں دونوں کو اجرملے گا اور دوہرا اجر ملے گا ایک اجر قرابت داری کا اور ایک صدقہ کرنے کا۔

أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ بِالصَّدَقَةِ فَقَالَ تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ← عمرو بن الحارث بن المصطلق ← مَنْصُورٌ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16181

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16182

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ عَنْ زَيْنَبَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ فَذَكَرَهُ

حضرت زینب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صدقہ خیرات کیا کرو اگرچہ اپنے زیوارت ہی سے کرو وہ کہتی ہیں کہ میرے شوہر عبداللہ بن مسعود ہلکے ہاتھ والے مالی طور پر کمزور تھے میں نے ان سے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ میں تم پر اور اپنے یتیم بھتیجوں پر صدقہ کردیا کروں انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لو چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دروازے پر ایک اور انصاری عورت جس کا نام بھی زینب ہی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی مسئلہ پوچھنے کے لئے آئی ہوئی تھی۔ حضرت بلال باہر آئے تو ہم نے ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ کر آؤ اور یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ دونوں کون ہیں انہوں نے بتادیا کہ دونوں کا نام زینب ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون سی زینب انہوں نے بتایا کہ ایک تو عبداللہ بن مسعود کی بیوی اور دوسری زینب انصاریہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں دونوں کو اجرملے گا اور دوہرا اجر ملے گا ایک اجر قرابت داری کا اور ایک صدقہ کرنے کا۔

زَيْنَبَ، ← عمرو بن الحارث بن المصطلق ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16182

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16202

قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ إِنَّا لَبِمَكَّةَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَنَهَى عَنْ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ النَّاسُ صَنَعُوا ذَلِكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ وَمَا عِلْمُ ابْنِ الزُّبَيْرِ بِهَذَا فَلْيَرْجِعْ إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَلْيَسْأَلْهَا فَإِنْ لَمْ يَكُنْ الزُّبَيْرُ قَدْ رَجَعَ إِلَيْهَا حَلَالًا وَحَلَّتْ فَبَلَغَ ذَلِكَ أَسْمَاءَ فَقَالَتْ يَغْفِرُ اللَّهُ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ لَقَدْ أَفْحَشَ قَدْ وَاللَّهِ صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَقَدْ حَلُّوا وَأَحْلَلْنَا وَأَصَابُوا النِّسَاءَ

ابواسحق بن یسار کہتے ہیں کہ ہم اس وقت مکہ مکرمہ میں ہی تھے جب حضرت عبداللہ بن زبیر ہمارے یہاں تشریف لائے انہوں نے ایک ہی سفر میں حج وعمرہ کو اکٹھا کرنے سے منع فرمایا حضرت ابن عباس کو معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ ابن زبیر کو اس مسئلے کا کیا پتہ انہیں یہ مسئلہ اپنی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر سے معلوم کرنا چاہیے اگر حضرت زبیر ان کے پاس حلال ہونے کی صورت میں نہیں آتے تھے تو کیا تھا حضرت اسماء کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا اللہ ابن عباس کی بخشش فرمائے واللہ انہوں نے بے ہودہ بات کی گو کہ بات سچی ہے کہ عمرو بھی حلال ہوگئے تھے اور ہم عورتیں بھی اور مرد اپنی بیویوں کے پاس آئے تھے۔

لَبِمَكَّةَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَنَهَى ← أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16202

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26128

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ مَنَعَهُنَّ كَمَا مُنِعَ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ قُلْتُ لِعَمْرَةَ وَنِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُنِعْنَ الْمَسْجِدَ وَقَالَ نَعَمْ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر آج کی عورتوں کے حالات دیکھ لیتے تو انہیں ضرور مسجدوں میں آنے سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کردیا گیا تھا۔

عَائِشَةَ تَقُولُ لَوْ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَى ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26128

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26148

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ فَقَالَ الصَّلَاةَ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ قَالَتْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَدْيَانِ غَيْرُكُمْ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء چیز تاخیر کر دی حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ عورتیں اور بچے سو گئے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے اور فرمایا اہل زمین میں سے اس وقت کوئی بھی آدمی ایسا نہیں ہے جو تمہارے علاوہ یہ نماز پڑھ رہا ہو، اور اس وقت اہل مدینہ کے علاوہ یہ نماز کوئی نہیں پڑھ رہا۔

فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَدْيَانِ غَيْرُكُمْ ← أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ فَقَالَ الصَّلَاةَ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← رَبَاحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26148

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26191

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُحَدِّثُ عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْتَأْمِرُوا النِّسَاءَ فِي أَبْضَاعِهِنَّ قَالَ قِيلَ فَإِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي فَتَسْكُتُ قَالَ فَهُوَ إِذْنُهَا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رشتوں کے مسئلے میں عورتوں سے بھی اجازت لے لیا کرو، کسی نے عرض کیا کہ کنواری لڑکیاں اس موضوع پر بولنے میں شرماتی ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی خاموشی ہی ان کی اجازت ہے۔

فَهُوَ إِذْنُهَا ← قِيلَ فَإِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي فَتَسْكُتُ ← اسْتَأْمِرُوا النِّسَاءَ فِي أَبْضَاعِهِنَّ ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← ذَکْوَانَ أَبِي عَمْرٍو ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26191

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16322

قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ النِّسَاءَ فَوَعَظَ فِيهِنَّ وَقَالَ عَلَامَ يَضْرِبُ أَحَدُكُمْ امْرَأَتَهُ وَلَعَلَّهُ أَنْ يُضَاجِعَهَا مِنْ آخِرِ النَّهَارِ أَوْ آخِرِ اللَّيْلِ

حضرت عبداللہ بن زمعہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواتین کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا اور ان کے متعلق نصیحت کرتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو کس طرح مار لیتا ہے حالانکہ ہوسکتا ہے کہ اسی دن کے آخر یا رات کے آخر میں وہ اس کے ساتھ ہم بستری بھی کرے۔

النَّبِيَّ يَذْكُرُ النِّسَاءَ فَوَعَظَ فِيهِنَّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16322

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16324

قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ النَّاقَةَ وَذَكَرَ الَّذِي عَقَرَهَا فَقَالَ إِذْ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَارِمٌ عَزِيزٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فَوَعَظَهُمْ فِيهِنَّ فَقَالَ عَلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمْ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنْ الضَّرْطَةِ فَقَالَ عَلَامَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُ

حضرت عبداللہ بن زمعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اذانبعث اشقہا کی تفسیر میں فرمایا کہ ناقۃ اللہ کی ٹانگیں کاٹنے کے لئے ایک موذی آدمی جسے اپنے گروہ میں اہمیت وعزت حاصل تھی روانہ ہوا جیسے ابوزمعہ کی حثییت ہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے خروج ریح پر ہنسنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اس کام پر کیوں ہنستے ہو جو خود کرتے ہو پھر فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح کیوں مارتا ہے ہو سکتا ہے کہ دن کے آخری حصے میں اس کے ساتھ ہم بستری بھی کرے۔

الَّذِي عَقَرَهَا، ← النَّاقَةَ، ← خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16324

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21781

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ عَكَّافُ بْنُ بِشْرٍ التَّمِيمِيُّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَكَّافُ هَلْ لَكَ مِنْ زَوْجَةٍ قَالَ لَا قَالَ وَلَا جَارِيَةٍ قَالَ وَلَا جَارِيَةَ قَالَ وَأَنْتَ مُوسِرٌ بِخَيْرٍ قَالَ وَأَنَا مُوسِرٌ بِخَيْرٍ قَالَ أَنْتَ إِذًا مِنْ إِخْوَانِ الشَّيَاطِينِ وَلَوْ كُنْتَ فِي النَّصَارَى كُنْتَ مِنْ رُهْبَانِهِمْ إِنَّ سُنَّتَنَا النِّكَاحُ شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ وَأَرَاذِلُ مَوْتَاكُمْ عُزَّابُكُمْ أَبِالشَّيْطَانِ تَمَرَّسُونَ مَا لِلشَّيْطَانِ مِنْ سِلَاحٍ أَبْلَغُ فِي الصَّالِحِينَ مِنْ النِّسَاءِ إِلَّا الْمُتَزَوِّجُونَ أُولَئِكَ الْمُطَهَّرُونَ الْمُبَرَّءُونَ مِنْ الْخَنَا وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ إِنَّهُنَّ صَوَاحِبُ أَيُّوبَ وَدَاوُدَ وَيُوسُفَ وَكُرْسُفَ فَقَالَ لَهُ بِشْرُ بْنُ عَطِيَّةَ وَمَنْ كُرْسُفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ بِسَاحِلٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ ثَلَاثَ مِائَةِ عَامٍ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ ثُمَّ إِنَّهُ كَفَرَ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ فِي سَبَبِ امْرَأَةٍ عَشِقَهَا وَتَرَكَ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنْ عِبَادَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ اسْتَدْرَكَهُ اللَّهُ بِبَعْضِ مَا كَانَ مِنْهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ تَزَوَّجْ وَإِلَّا فَأَنْتَ مِنْ الْمُذَبْذَبِينَ قَالَ زَوِّجْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قَدْ زَوَّجْتُكَ كَرِيمَةَ بِنْتَ كُلْثُومٍ الْحِمْيَرِيِّ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ " عکاف بن بشر تمیمی " نام کا ایک آدمی آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا عکاف! تمہاری کوئی بیوی ہے؟ عکاف نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کوئی باندی؟ اس نے کہا نہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم مالدار بھی ہو؟ عرض کیا جی الحمدللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو تم شیطان کے بھائی ہو اگر تم عیسائیوں میں ہوتے تو ان کے راہبوں میں شمار ہوتے لیکن ہماری سنت تو نکاح ہے تم میں سے بدترین لوگ کنوارے ہیں اور گھٹیا ترین موت مرنے والے کنوارے ہیں کیا تم شیطان سے لڑتے ہو؟ شیطان کے پاس نیک آدمیوں کے لئے عورتوں سے زیادہ کارگر ہتھیار کوئی نہیں سوائے اس کے کہ وہ شادی شدہ ہوں یہی لوگ پاکیزہ اور گندگی سے مبرا ہوتے ہیں عکاف یہ عورتیں تو حضرت ایوب علیہ السلام داؤد علیہ السلام ، یوسف علیہ السلام اور کرسف علیہ السلام کی ساتھی رہی ہیں بشر بن عطیہ نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کرسف کون تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک آدمی تھا جو کسی ساحل پر تین سو سال تک اللہ کی عبادت میں مصروف رہا دن کو روزہ رکھتا تھا اور رات کو قیام کرتا تھا لیکن پھر ایک عورت کے عشق کے چکر میں پھنس کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کر بیٹھا اور اللہ کی عبادت بھی چھوڑ دی بعد میں اللہ نے اس کی دستگیری فرمائی اور اس کی توبہ قبول فرمالی ارے عکاف! نکاح کر لو ورنہ تم تذبذب کا شکار رہو گے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ خود ہی میرا نکاح کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے کریمہ بنت کلثوم حمیری سے تمہارا نکاح کر دیا۔

أَنْتَ إِذًا مِنْ إِخْوَانِ الشَّيَاطِينِ وَلَوْ كُنْتَ فِي النَّصَارَى كُنْتَ مِنْ رُهْبَانِهِمْ ← مُوسِرٌ بِخَيْرٍ ← وَأَنْتَ مُوسِرٌ بِخَيْرٍ؟ ← وَلَا جَارِيَةَ؟ ← وَلَا جَارِيَةَ؟ ← لَا۔ ← لَهُ النَّبِيُّ يَا عَكَّافُ هَلْ لَكَ مِنْ زَوْجَةٍ ← دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ عَكَّافُ بْنُ بِشْرٍ التَّمِيمِيُّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← رَجُلٌ: ← مَكْحُولٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21781

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26279

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ عَنْ كَرِيمَةَ بِنْتِ هَمَّامٍ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِيَّاكُنَّ وَقَشْرَ الْوَجْهِ فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ عَنْ الْخِضَابِ فَقَالَتْ لَا بَأْسَ بِالْخِضَابِ وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ لِأَنَّ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ رِيحَهُ

کریمہ بنت ہمام کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد حرام میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لئے ایک الگ جگہ بنا رکھی ہے، ان سے ایک عورت نے پوچھا کہ اے ام المومنین! مہندی کے متعلق آپ کیا کہتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا رنگ اچھا لگتا تھا لیکن مہک اچھی نہیں لگتی تھی۔

الْخِضَابِ فَقَالَتْ لَا بَأْسَ بِالْخِضَابِ وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ لِأَنَّ حَبِيبِي كَانَ يَكْرَهُ رِيحَهُ ← عَائِشَةَ تَقُولُ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِيَّاكُنَّ وَقَشْرَ الْوَجْهِ فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ ← كَرِيمَةَ بِنْتِ هَمَّامٍ ← عَلِيِّ بْنِ مُبَارَکٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26279

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26288

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ وَيَحْيَى قَالَا لَمَّا هَلَكَتْ خَدِيجَةُ جَاءَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَزَوَّجُ قَالَ مَنْ قَالَتْ إِنْ شِئْتَ بِكْرًا وَإِنْ شِئْتَ ثَيِّبًا قَالَ فَمَنْ الْبِكْرُ قَالَتْ ابْنَةُ أَحَبِّ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْكَ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ وَمَنْ الثَّيِّبُ قَالَتْ سَوْدَةُ ابْنَةُ زَمْعَةَ قَدْ آمَنَتْ بِكَ وَاتَّبَعَتْكَ عَلَى مَا تَقُولُ قَالَ فَاذْهَبِي فَاذْكُرِيهِمَا عَلَيَّ فَدَخَلَتْ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ يَا أُمَّ رُومَانَ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ مِنْ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ قَالَتْ وَمَا ذَاكَ قَالَتْ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ قَالَتْ انْتَظِرِي أَبَا بَكْرٍ حَتَّى يَأْتِيَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَتْ يَا أَبَا بَكْرٍ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَتْ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ قَالَ وَهَلْ تَصْلُحُ لَهُ إِنَّمَا هِيَ ابْنَةُ أَخِيهِ فَرَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ قَالَ ارْجِعِي إِلَيْهِ فَقُولِي لَهُ أَنَا أَخُوكَ وَأَنْتَ أَخِي فِي الْإِسْلَامِ وَابْنَتُكَ تَصْلُحُ لِي فَرَجَعَتْ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ قَالَ انْتَظِرِي وَخَرَجَ قَالَتْ أُمُّ رُومَانَ إِنَّ مُطْعِمَ بْنَ عَدِيٍّ قَدْ كَانَ ذَكَرَهَا عَلَى ابْنِهِ فَوَاللَّهِ مَا وَعَدَ مَوْعِدًا قَطُّ فَأَخْلَفَهُ لِأَبِي بَكْرٍ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى مُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ وَعِنْدَهُ امْرَأَتُهُ أُمُّ الْفَتَى فَقَالَتْ يَا ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ لَعَلَّكَ مُصْبٍ صَاحِبَنَا مُدْخِلُهُ فِي دِينِكَ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ إِنْ تَزَوَّجَ إِلَيْكَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِلْمُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ آقَوْلَ هَذِهِ تَقُولُ قَالَ إِنَّهَا تَقُولُ ذَلِكَ فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ وَقَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ فِي نَفْسِهِ مِنْ عِدَتِهِ الَّتِي وَعَدَهُ فَرَجَعَ فَقَالَ لِخَوْلَةَ ادْعِي لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَتْهُ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ وَعَائِشَةُ يَوْمَئِذٍ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ ثُمَّ خَرَجَتْ فَدَخَلَتْ عَلَى سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَقَالَتْ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ مِنْ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ قَالَتْ مَا ذَاكَ قَالَتْ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُكِ عَلَيْهِ قَالَتْ وَدِدْتُ ادْخُلِي إِلَى أَبِي فَاذْكُرِي ذَاكَ لَهُ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ أَدْرَكَهُ السِّنُّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنْ الْحَجِّ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَحَيَّتْهُ بِتَحِيَّةِ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقَالَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ قَالَ فَمَا شَأْنُكِ قَالَتْ أَرْسَلَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْطُبُ عَلَيْهِ سَوْدَةَ قَالَ كُفْءٌ كَرِيمٌ مَاذَا تَقُولُ صَاحِبَتُكِ قَالَتْ تُحِبُّ ذَاكَ قَالَ ادْعُهَا لِي فَدَعَيْتُهَا قَالَ أَيْ بُنَيَّةُ إِنَّ هَذِهِ تَزْعُمْ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَدْ أَرْسَلَ يَخْطُبُكِ وَهُوَ كُفْءٌ كَرِيمٌ أَتُحِبِّينَ أَنْ أُزَوِّجَكِ بِهِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ ادْعِيهِ لِي فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ فَجَاءَهَا أَخُوهَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ مِنْ الْحَجِّ فَجَعَلَ يَحْثِي فِي رَأْسِهِ التُّرَابَ فَقَالَ بَعْدَ أَنْ أَسْلَمَ لَعَمْرُكَ إِنِّي لَسَفِيهٌ يَوْمَ أَحْثِي فِي رَأْسِي التُّرَابَ أَنْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فِي السُّنْحِ قَالَتْ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْتَنَا وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَنِسَاءٌ فَجَاءَتْنِي أُمِّي وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ بَيْنَ عَذْقَيْنِ تَرْجَحُ بِي فَأَنْزَلَتْنِي مِنْ الْأُرْجُوحَةِ وَلِي جُمَيْمَةٌ فَفَرَقَتْهَا وَمَسَحَتْ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ أَقْبَلَتْ تَقُودُنِي حَتَّى وَقَفَتْ بِي عِنْدَ الْبَابِ وَإِنِّي لَأَنْهَجُ حَتَّى سَكَنَ مِنْ نَفْسِي ثُمَّ دَخَلَتْ بِي فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى سَرِيرٍ فِي بَيْتِنَا وَعِنْدَهُ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَجْلَسَتْنِي فِي حِجْرِهِ ثُمَّ قَالَتْ هَؤُلَاءِ أَهْلُكِ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكِ فِيهِمْ وَبَارَكَ لَهُمْ فِيكِ فَوَثَبَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ فَخَرَجُوا وَبَنَى بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا مَا نُحِرَتْ عَلَيَّ جَزُورٌ وَلَا ذُبِحَتْ عَلَيَّ شَاةٌ حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيْنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ بِجَفْنَةٍ كَانَ يُرْسِلُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَارَ إِلَى نِسَائِهِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ

ابو سلمہ رحمتہ اللہ علیہ اور یحییٰ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فوت ہو گئیں تو خولہ بنت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا " جو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں" نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ نکاح کیوں نہیں کر لیتے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس سے ؟ انہوں نے عرض کیا اگر آپ چاہیں تو کنواری لڑکی بھی موجود ہے اور شوہر دیدہ بھی موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کنواری لڑکی کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی مخلوق میں آپ کو سب سے محبوب آدمی کی بیٹی یعنی عائشہ بنت ابی بکر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا شوہر دیدہ کون ہے، انہوں نے عرض کیا سودہ بنت زمعہ، جو آپ پر ایمان رکھتی ہے اور آپ کی شریعت کی پیروی کرتی ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور دونوں کے یہاں میرا تذکرہ کر دو۔چنانچہ حضرت خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سیدنا صدیق اکبر کے گھر پہنچیں اور کہنے لگیں اے ام رومان ! اللہ تمہارے گھر میں کتنی بڑی خیرو برکت داخل کرنے والا ہے، ام رومان نے پوچھا وہ کیسے ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اپنے نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے، ام رومان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ ابوبکر کے آنے کا انتظار کر لو، تھوڑی ہی دیر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے، حضرت خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے درمیان بھی یہی سوال جواب ہوتے ہیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح کرنا جائز ہے؟ کیونکہ وہ تو ان کی بھتیجی ہے، خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا واپس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں جا کر کہہ دو کہ میں تمہارا اور تم میرے اسلامی بھائی ہو ، اس لئے تمہاری بیٹی سے میرے لئے نکاح کرنا جائز ہے، انہوں نے واپس آکر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ جواب بتا دیا، انہوں نے فرمایا تھوڑی دیر انتظار کرو اور خود باہر چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد ام رومان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ مطعم بن عدی نے اپنے بیٹے سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا رشتہ مانگا تھا، اور واللہ ابوبکر نے کبھی بھی وعدہ کر کے وعدہ خلافی نہیں کی تھی، لہذا ابوبکر رضی اللہ عنہ پہلے مطعم بن عدی کے پاس گئے ، اس کے پاس اس کی بیوی ام الفتی بھی موجود تھی ، وہ کہنے لگی، اے ابن ابی قخافہ! اگر ہم نے اپنے بیٹے کا نکاح آپ کے یہاں کر دیا تو ہو سکتا ہے کہ آپ ہمارے بیٹے کو بھی دین میں داخل کر لیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مطعم بن عدی سے پوچھا کہ کیا تم بھی یہی رائے رکھتے ہو؟ اس نے کہا کہ اس کی بات صحیح ہے، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ وہاں سے نکل آئے اور ان کے ذہن پر وعدہ خلافی کا جو بوجھ تھا وہ اللہ نے اس طرح دور کر دیا اور انہوں نے واپس آکر خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے یہاں بلا کر لے آؤ، خولہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے آئیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا، اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر چھ سال تھی۔ اس کے بعد خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہاں سے نکل کر سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئیں او ران سے کہا کہ اللہ تمہارے گھر میں کتنی بڑی خیروبرکت داخل کرنے والا ہے ، سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا وہ کیسے ؟ خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس اپنی جانب سے پیغام نکاح دیکر بھیجا ہے، انہوں نے کہا بہتر ہے کہ تم میرے والد کے پاس جا کر ان سے اس بات کا ذکر کرو، سودہ کے والد بہت بوڑھے ہو چکے تھے اور ان کی عمر اتنی زیادہ ہو چکی تھی کہ وہ حج نہیں کر سکتے تھے، خولہ ان کے پاس گئیں اور زمانہ جاہلیت کے طریقے کے مطابق انہیں اداب کہا، انہوں نے پوچھا کون ہے؟ بتایا کہ میں خولہ بنت حکیم ہوں، انہوں نے پوچھا کیا بات ہے؟خولہ نے کہا کہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن عبداللہ نے سودہ سے اپنا پیغام نکاح بھیجا ہے، زمعہ نے کہا کہ وہ تو بہترین جوڑ ہے، تمہاری سہیلی کی کیا رائے ہے؟خولہ نے کہا کہ اسے یہ رشتہ پسند ہے، زمعہ نے کہا کہ اسے میرے پاس بلاؤ، خولہ نے انہیں بلایا تو زمعہ نے ان سے پوچھا پیاری بیٹی ! ان کا کہنا ہے کہ محمد بن عبداللہ نے اسے تم سے اپنا پیغام نکاح دے کر بھیجا ہے اور وہ بہترین جوڑ ہے تو کیا تم چاہتی ہو کہ میں ان سے تمہارا نکاح کر دوں؟ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حامی بھر لی ، زمعہ نے مجھ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے پاس بلا کر لے آؤ ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، اور زمعہ نے ان سے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح کر دیا، چند دنوں کے بعد حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بھائی عبد بن زمعہ حج سے واپس آیا، اسے اس رشتے کا علم ہوا تو وہ اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا، اسلام قبول کرنے کے بعد وہ کہتے تھے تمہاری زندگی کی قسم ! میں اس دن بڑی بیوقوفی کر رہا تھا جب سودہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ہونے پر میں اپنے سر پر مٹی ڈال رہا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو ہم نے " مقام سخ" میں بنو حارث بن خزرج کے یہاں قیام کیا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لے آئے اور کچھ انصاری مرد و عورت بھی اکٹھے ہو گئے ، میری والدہ مجھے لے آئیں جبکہ میں دو درختوں کے درمیان جھولا جھول رہی تھی، اور میرے سر پر کسی وجہ سے بہت تھوڑے بال تھے، انہوں نے مجھے جھولے سے نیچے اتارا، مجھے پسینہ آیا ہوا تھا، اسے پونچھا اور پانی سے میرا منہ دھلایا، اور مجھے لے کر چل پڑیں ، حتیٰ کہ دروازے پر پہنچ کر رک گئیں ، میری سانس پھول رہی تھی ، جب میری سانس بحال ہوئی تو وہ مجھے گھر لے کر داخل ہو گئیں ، وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں ایک چار پائی پر بیٹھے ہوئے تھے، اور انصار کے کچھ مرووعورت بھی موجود تھے، میری والدہ نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب بٹھا دیا اور کہنے لگیں کہ یہ آپ کے گھر والے ہیں ، اللہ آپ کو ان کے لئے اور انہیں آپ کے لئے مبارک فرمائے، اس کے بعد مردوعورت یکے بعد دیگرے وہاں سے جانے لگے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں ہی میرے ساتھ تخلیہ فرمایا: میری اس شادی کے لئے کوئی اونٹ ذبح نہ ہوا اور نہ بکری ، تا آنکہ سعد بن عبادہ نے ہمارے یہاں ایک پیالہ بھیجا جو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت بھیجتے تھے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے پاس جاتے تھے اور اس وقت میری عمر نو سال کی تھی۔

لَمَّا هَلَكَتْ خَدِيجَةُ جَاءَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ← أَبُو سَلَمَةَ وَيَحْيَى ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26288

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26327

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَقَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَمَ بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا مِنْ النَّاسِ مِنْ أَحَدٍ يَنْتَظِرُ هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرَكُمْ قَالَ وَذَاكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ فِي النَّاسِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں تاخیر کردی، حتیٰ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ عورتیں اور بچے سو گئے ہیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے، اور فرمایا اہل زمین میں سے اس وقت کوئی بھی آدمی ایسا نہیں ہے جو تمہارے علاوہ یہ نماز پڑھ رہا ہو، یہ اس وقت کی بات ہے جب لوگوں میں اسلام نہیں پھیلا تھا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَقَالَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26327

chevron_left Previous
1…232425…1,091
Next chevron_right