Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

المرأة

Women

21806 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24967

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ السَّدُوسِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ قَالَ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ هُوَ جِهَادُ النِّسَاءِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا یارسول اللہ! کیا عورتوں پر جہاد فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کا جہاد حج اور عمرہ ہے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ فَقَالَتْ ← عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ السَّدُوسِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24967

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24973

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ يَزِيدَ أَبِي الْمُهَزِّمِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذُيُولِ النِّسَاءِ قَالَ شِبْرٌ قَالَتْ قُلْتُ إِذَنْ تَخْرُجَ سُوقُهُنَّ قَالَ فَذِرَاعٌ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے دامن کی لمبائی ایک بالشت کے برابر بیان فرمائی تو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں نظر آنے لگیں گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ایک گز کرلو۔

فَذِرَاعٌ ← قُلْتُ إِذَنْ تَخْرُجَ سُوقُهُنَّ ← شِبْرٌ ← رَسُولِ اللَّهِ فِي ذُيُولِ النِّسَاءِ ← عَائِشَةَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ أَبِي الْمُهَزِّمِ، ← حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24973

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17876

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى وَهَذَا حَدِيثُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيُّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَشِيرُوا عَلَى النِّسَاءِ فِي أَنْفُسِهِنَّ فَقَالُوا إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّيِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِهَا بِلِسَانِهَا وَالْبِكْرُ رِضَاهَا صَمْتُهَا

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شوہردیدہ عورت دوسرے نکاح کی صورت میں اپنی رضامندی کا اظہار زبان سے کرے گی اور کنواری کی خاموشی ہی اس کی رضامندی ہے۔

أَشِيرُوا عَلَى النِّسَاءِ فِي أَنْفُسِهِنَّ فَقَالُوا إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيِّ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى وَهَذَا حَدِيثُ عَلِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17876

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17919

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ قَالَ سَمِعْتُ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ عَنْ مَوْلًى لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ أَرْسَلَهُ إِلَى عَلِيٍّ يَسْتَأْذِنُهُ عَلَى امْرَأَتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ فَأَذِنَ لَهُ فَتَكَلَّمَا فِي حَاجَةٍ فَلَمَّا خَرَجَ الْمَوْلَى سَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ عَمْرٌو نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَأْذِنَ عَلَى النِّسَاءِ إِلَّا بِإِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے غلام کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زوجہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ سے ملنے کی اجازت لینے کے لئے بھیجا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی، انہوں نے کسی معاملے میں ان سے بات چیت کی اور واپس آگئے، باہر نکل کر غلام نے ان سے اجازت لینے کی وجہ پوچھی تو حضرت عمرو رضی اللہ نہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر عورتوں کے پاس نہ جائیں ۔

مولى لعَمْرو بن الْعَاصِ، ← ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17919

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17922

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَقَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الشِّعْبِ إِذْ قَالَ انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ شَيْئًا فَقُلْنَا نَرَى غِرْبَانًا فِيهَا غُرَابٌ أَعْصَمُ أَحْمَرُ الْمِنْقَارِ وَالرِّجْلَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ النِّسَاءِ إِلَّا مَنْ كَانَ مِنْهُنَّ مِثْلَ هَذَا الْغُرَابِ فِي الْغِرْبَانِ

عمارہ بن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج یا عمرہ کے سفر میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ اسی جگہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو! تمہیں کچھ دکھائی دے رہا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ چند کوے نظر آ رہے ہیں جن میں ایک سفید کوا بھی ہے جس کی چونچ اور دونوں پاؤں سرخ رنگ کے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں صرف وہی عورتیں داخل ہو سکیں گی جو کووں کی اس جماعت میں اس کوے کی طرح ہوں گی۔

بينا نحن مع عمرو بن العاص في حج أو عمرة ← عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17922

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25072

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ وَقَدْ نَفِسْتُ وَأَنَا مُنَكِّسَةٌ فَقَالَ لِي أَنَفِسْتِ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَحْسِبُ النِّسَاءَ خُلِقْنَ إِلَّا لِلشَّرِّ فَقَالَ لَا وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ ابْتُلِيَ بِهِ نِسَاءُ بَنِي آدَمَ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام "سرف" میں میرے پاس تشریف لائے، مجھے اس وقت ایام شروع ہو گئے تھے اور میں سر لٹکا کر بیٹھی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا کیا تمہارے ایام شروع ہوگئے؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! اور میرا تو خیال ہے کہ عورتوں کو شر کے لئے ہی پیدا کیا گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسی تو کوئی بات نہیں ہے، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں بنی آدم کی ساری عورتیں ہی مبتلا ہوتی ہیں۔

لِي أَنَفِسْتِ فَقُلْتُ نَعَمْ ← مُنَكِّسَةٌ ← عَائِشَةُ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ بِسَرِفَ وَقَدْ نَفِسْتُ ← أَبُو عُبَيْدٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25072

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25079

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ جَاءَتْ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْأَلُنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَأَخَذَتْهَا فَشَقَّتْهَا بِاثْنَيْنِ بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ هِيَ وَابْنَتَاهَا فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنْ النَّارِ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کھجور دی، اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کرکے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کر دیا (اور خود کچھ نہ کھایا) حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔

أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِي ← بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25079

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17958

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ مَوْلًى لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ أَرْسَلَهُ إِلَى عَلِيٍّ يَسْتَأْذِنُهُ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ فَأَذِنَ لَهُ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ سَأَلَ الْمَوْلَى عَمْرًا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَوْ نَهَى أَنْ نَدْخُلَ عَلَى النِّسَاءِ بِغَيْرِ إِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے ایک غلام کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زوجہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ سے ملنے کی اجازت لینے کی وجہ پوچھی تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر عورتوں کے پاس نہ جائیں ۔

مولى لعَمْرو بن الْعَاصِ، ← ذَكْوَانَ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17958

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25109

حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى مِنْ النِّسَاءِ مَا رَأَيْنَا لَمَنَعَهُنَّ مِنْ الْمَسَاجِدِ كَمَا مَنَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ نِسَاءَهَا قُلْتْ لِعَمْرَةَ وَمَنَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ نِسَاءَهَا قَالَتْ نَعَمْ

حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر آج کی عورتوں کے حالات دیکھ لیتے تو انہیں ضرور مسجدوں میں آنے سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرئیل کی عورتوں کو منع کردیا گیا تھا۔

لَوْ ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَى ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25109

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25116

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ ذُكِرَ لَهَا أَنَّ نَاسًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ فِي اللَّيْلَةِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَقَالَتْ أُولَئِكَ قَرَءُوا وَلَمْ يَقْرَءُوا كُنْتُ أَقُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ التَّمَامِ فَكَانَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءِ فَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخَوُّفٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَعَاذَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَغِبَ إِلَيْهِ

حضرت عائشہ کے سامنے ایک مرتبہ کچھ لوگوں کا ذکر کیا گیا جو ایک ہی رات میں ایک یا دو مرتبہ قرآن پڑھ لیتے تھے تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کا پڑھنا نہ پڑھنا برابر ہے۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساری رات قیام کرتی تھی تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف سورت آل عمران اور سورت نساء پڑھ پاتے تھے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسی جس آیت پر گذرتے جس میں خوف دلایا گیا ہوتا تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے اور دعاء فرماتے اور خوشخبری کے مضمون پر مشتمل جس آیت سے گذرتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے اور اس کی طرف اپنی رغبت کا اظہار فرماتے تھے۔

لَهَا أَنَّ نَاسًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ فِي اللَّيْلَةِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ← عَائِشَةَ ← مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقٍ، ← زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ، ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25116

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17980

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي هَوْدَجِهَا قَدْ وَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى هَوْدَجِهَا قَالَ فَمَالَ فَدَخَلَ الشِّعْبَ فَدَخَلْنَا مَعَهُ فَقَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ فَإِذَا نَحْنُ بِغِرْبَانٍ كَثِيرَةٍ فِيهَا غُرَابٌ أَعْصَمُ أَحْمَرُ الْمِنْقَارِ وَالرِّجْلَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ النِّسَاءِ إِلَّا مِثْلُ هَذَا الْغُرَابِ فِي هَذِهِ الْغِرْبَانِ قَالَ حَسَنٌ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي يَدَيْهَا حَبَائِرُهَا وَخَوَاتِيمُهَا قَدْ وَضَعَتْ يَدَيْهَا وَلَمْ يَقُلْ حَسَنٌ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ

عمارہ بن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج یا عمرہ کے سفر میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ اسی جگہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو! تمہیں کچھ دکھائی دے رہا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ چند کوے نظر آرہے ہیں ، جن میں ایک سفید کوا بھی ہے جس کی چونچ اور دونوں پاؤں سرخ رنگ کے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں صرف وہی عورتیں داخل ہو سکیں گی جو کووں کی اس جماعت میں اس کوے کی طرح ہوں گی۔

عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتِ ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَسْنُ بْنُ مُوسَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17980

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18060

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَن عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَن أَبِي نَضْرَةَ قَالَ أَتَيْنَا عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ لِنَعْرِضَ عَلَيْهِ مُصْحَفًا لَنَا عَلَى مُصْحَفِهِ فَلَمَّا حَضَرَتْ الْجُمُعَةُ أَمَرَنَا فَاغْتَسَلْنَا ثُمَّ أُتِينَا بِطِيبٍ فَتَطَيَّبْنَا ثُمَّ جِئْنَا الْمَسْجِدَ فَجَلَسْنَا إِلَى رَجُلٍ فَحَدَّثَنَا عَنْ الدَّجَّالِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَجَلَسْنَا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَكُونُ لِلْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةُ أَمْصَارٍ مِصْرٌ بِمُلْتَقَى الْبَحْرَيْنِ وَمِصْرٌ بِالْحِيرَةِ وَمِصْرٌ بِالشَّامِ فَيَفْزَعُ النَّاسُ ثَلَاثَ فَزَعَاتٍ فَيَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أَعْرَاضِ النَّاسِ فَيَهْزِمُ مَنْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ فَأَوَّلُ مِصْرٍ يَرِدُهُ الْمِصْرُ الَّذِي بِمُلْتَقَى الْبَحْرَيْنِ فَيَصِيرُ أَهْلُهُ ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ تَقُولُ نُشَامُّهُ نَنْظُرُ مَا هُوَ وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بالْأَعْرَابِ وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْمِصْرِ الَّذِي يَلِيهِمْ وَمَعَ الدَّجَّالِ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمْ السِّيجَانُ وَأَكْثَرُ تَبَعِهِ الْيَهُودُ وَالنِّسَاءُ ثُمَّ يَأْتِي الْمِصْرَ الَّذِي يَلِيهِ فَيَصِيرُ أَهْلُهُ ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ تَقُولُ نُشَامُّهُ وَنَنْظُرُ مَا هُوَ وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بالْأَعْرَابِ وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْمِصْرِ الَّذِي يَلِيهِمْ بِغَرْبِيِّ الشَّامِ وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَقَبَةِ أَفِيقٍ فَيَبْعَثُونَ سَرْحًا لَهُمْ فَيُصَابُ سَرْحُهُمْ فَيَشْتَدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ وَتُصِيبُهُمْ مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ وَجَهْدٌ شَدِيدٌ حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيُحْرِقُ وَتَرَ قَوْسِهِ فَيَأْكُلُهُ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنْ السَّحَرِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَتَاكُمْ الْغَوْثُ ثَلَاثًا فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ إِنَّ هَذَا لَصَوْتُ رَجُلٍ شَبْعَانَ وَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَيَقُولُ لَهُ أَمِيرُهُمْ رُوحَ اللَّهِ تَقَدَّمْ صَلِّ فَيَقُولُ هَذِهِ الْأُمَّةُ أُمَرَاءُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَيَتَقَدَّمُ أَمِيرُهُمْ فَيُصَلِّي فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ أَخَذَ عِيسَى حَرْبَتَهُ فَيَذْهَبُ نَحْوَ الدَّجَّالِ فَإِذَا رَآهُ الدَّجَّالُ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَاصُ فَيَضَعُ حَرْبَتَهُ بَيْنَ ثَنْدُوَتِهِ فَيَقْتُلُهُ وَيَنْهَزِمُ أَصْحَابُهُ فَلَيْسَ يَوْمَئِذٍ شَيْءٌ يُوَارِي مِنْهُمْ أَحَدًا حَتَّى إِنَّ الشَّجَرَةَ لَتَقُولُ يَا مُؤْمِنُ هَذَا كَافِرٌ وَيَقُولُ الْحَجَرُ يَا مُؤْمِنُ هَذَا كَافِرٌ

ابو نضرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن ہم لوگ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تاکہ مصحف کا ان کے مصحف کے ساتھ تقابل کر سکیں ؟ جب جمعہ کا وقت قریب آیا تو انہوں نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے غسل کیا، پھر ہمارے پاس خوشبو لائی گئی، جو ہم نے لگالی، پھر ہم مسجد میں آکر ایک آدمی کے پاس بیٹھ گئے، اس نے ہمیں دجال کے متعلق حدیث سنانا شروع کر دیں، اسی اثناء میں حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بھی آگئے، ہم ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے، انہوں نے ہمیں بیٹھنے کے لئے کہا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کے تین شہر ہوں گے، ایک شہر دو سمندروں کے سنگم پر واقع ہوگا، ایک حیرہ میں اور ایک شام میں ۔ لوگوں پر تین مرتبہ خوف وہراس کے واقعات پیش آئیں گے، پھر دجال کا خروج ہوجائے گا اور وہ اہل مشرق کو شکست دے دے گا، پھر سب سے پہلے وہ اس شہر پر حملہ کرے گا جو دو سمندروں کے سنگم پر واقع ہوگا، وہاں کے لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے، ایک فرقہ تو کھڑا ہوگا اور کہے گا کہ ہم اس کے پاس جا کر دیکھتے ہیں کہ وہ ہے کیا؟ دوسرا گروہ دیہاتیوں میں جا ملے گا اور تیسرا گروہ قریب کے شہر میں منتقل ہو جائے گا، اس وقت دجال کی معیت میں ستر ہزار افراد ہوں گے جنہوں نے سبز چادریں اوڑھ رکھی ہوں گی اور اس کے اکثر پیروکار یہودی اور عورتیں ہوں گی۔ پھر وہ دوسرے شہر کا رخ کرے گا تو وہاں کے لوگ بھی اسی طرح تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ( جیسا کہ ابھی گذرا) اس طرح مسلمان سمٹ کر افیق نامی گھاٹی میں جمع ہو جائیں گے، پھر وہ اپنا ایک دستہ مقابلہ کے لئے بھیجیں گے لیکن وہ سب شہید ہو جائیں گے، اس وقت مسلمان بڑی سختی کا شکار ہوں گے، انہیں شدید بھوک اور انتہائی پریشانی کا سامنا ہوگا حتی کہ ایک آدمی اپنی کمان کی تانت جلا کر اسے کھانے لگے گا۔ ابھی وہ انہی حالات میں ہوں گے کہ ایک دن صبح کے وقت ایک منادی آواز لگائے گا اے لوگو! تمہارے پاس فریاد رس آپہنچا، لوگ آپس میں کہیں گے کہ یہ تو کسی پیٹ بھرے ہوئے آدمی کی آواز ہے، اسی وقت نماز فجر کے قریب حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا، مسلمانوں کا امیر (امام مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ان سے درخواست کرے گا کہ اے روح اللہ! آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے، وہ فرمائیں گے کہ اس امت کے لوگ ہی ایک دوسرے پر امیر ہیں ، لہذا ان کا امیر ہی آگے بڑھ کر نماز پڑھائے۔ جب حضرت عیسی علیہ السلام نماز سے فارغ ہوں گے تو اپنا نیزہ لے کر دجال کی طرف روانہ ہوں گے، دجال جب انہیں دیکھے گا تو سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا، حضرت عیسی علیہ السلام اپنا نیزہ اس کی چھاتیوں کے درمیان ماریں گے، اور اسے قتل کر ڈالیں گے، اس کے پیروکار (شکست کھا جائیں گے اور اس دن کوئی چیز ایسی نہ ہوگی جو انہیں اپنے پیچھے چھپالے، حتی کہ درخت بھی کہے گا کہ اے مومن! یہ کافر ہے، اور پتھر بھی کہیں گے کہ اے مومن! یہ کافر ہے۔

أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18060

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25211

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ هَدِيَّةٌ فِيهَا قِلَادَةٌ مِنْ جَزْعٍ فَقَالَ لَأَدْفَعَنَّهَا إِلَى أَحَبِّ أَهْلِي إِلَيَّ فَقَالَتْ النِّسَاءُ ذَهَبَتْ بِهَا ابْنَةُ أَبِي قُحَافَةَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِهَا

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے ہدیہ آیا جس میں مہرہ کا ایک ہار بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہار میں اسے دوں گا جو مجھے اپنے اہل خانہ میں سے سب سے زیادہ محبوب ہو، عورتیں یہ سن کر کہنے لگیں کہ یہ ہار ابوقحافہ کی بیٹی لے گئی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امامہ بنت زینب کو بلایا اور ان کے گلے میں یہ ہار ڈال دیا۔

عَائِشَةَ ← أُمِّ مُحَمَّدٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25211

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18191

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ الْحَرَازِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيَّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ وَقَدْ اغْتَسَلَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ كَانَ شَيْءٌ قَالَ أَجَلْ مَرَّتْ بِي فُلَانَةُ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي شَهْوَةُ النِّسَاءِ فَأَتَيْتُ بَعْضَ أَزْوَاجِي فَأَصَبْتُهَا فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا فَإِنَّهُ مِنْ أَمَاثِلِ أَعْمَالِكُمْ إِتْيَانُ الْحَلَالِ

حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اچانک اپنے گھر میں چلے گئے، جب باہر آئے تو غسل کیا ہوا تھا، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ہوا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! ابھی میرے پاس سے ایک عورت گذر کر گئی تھی، میرے دل میں عورت کی خواہش پیدا ہوئی اس لئے میں اپنی بیوی کے پاس چلا گیا اور اس سے اپنی خواہش کی تکمیل کی، اگر تمہارے ساتھ ایسی کیفیت پیش آئے تو تم بھی یونہی کیا کرو، کیونکہ تمہارا بہترین عمل حلال طریقے سے آتا ہے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ جَالِسًا فِي أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ وَقَدْ اغْتَسَلَ فَقُلْنَا ← أَبَا كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيَّ ← أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ الْحَرَازِيِّ ← مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18191

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18328

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ وَرَّادٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأْدَ الْبَنَاتِ وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ وَمَنَعَ وَهَاتِ

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تین چیزوں کو تمہارے حق میں ناپسند کرتا ہے قیل وقال ، کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا اور دست سوال کرناحرام قرار دیا ہے۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← وَرَّادٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← شَيْبَانَ ← حُسَيْنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18328

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18377

وَكَانَ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ وَمَنْعٍ وَهَاتِ وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ وَوَأْدِ الْبَنَاتِ

اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا، بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا ممنوع قرار دیا ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ وَمَنْعٍ وَهَاتِ وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ وَوَأْدِ الْبَنَاتِ ← وَكَانَ يَنْهَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18377

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18418

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَقِيلَ وَقَالَ وَمَنْعَ وَهَاتِ وَوَأْدَ الْبَنَاتِ وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تین چیزوں کو تمہارے حق میں ناپسند کرتا ہے قیل وقال ، کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا اور دست سوال کرناحرام قرار دیا ہے۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18418

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18421

وَسَمِعْتُهُ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ وَعَنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ وَعَنْ وَأْدِ الْبَنَاتِ وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ وَمَنْعٍ وَهَاتِ

اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا، بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا ممنوع قرار دیا ہے۔

وأد البنات وعقوق الأمهات ومنع وهات ← كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ ← قِيلَ ← يَنْهَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18421

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18422

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عَبْدَةَ عَنْ وَرَّادٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ مِثْلَ حَدِيثِ الْمُغِيرَةِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ وَأْدَ الْبَنَاتِ

حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پھیرتے وقت یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا۔

النَّبِيِّ كَانَ إِذَا سَلَّمَ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← وَرَّادٍ ← عَبْدَةُ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← عَلِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18422

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18519

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا شَقِيقٌ قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ فَقَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَمْ يَجِدْ الْمَاءَ لَمْ يُصَلِّ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَمَا تَذْكُرُ إِذْ قَالَ عَمَّارٌ لِعُمَرَ أَلَا تَذْكُرُ إِذْ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِيَّاكَ فِي إِبِلٍ فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فَتَمَرَّغْتُ فِي التُّرَابِ فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا وَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ مَسَحَ كَفَّيْهِ جَمِيعًا وَمَسَحَ وَجْهَهُ مَسْحَةً وَاحِدَةً بِضَرْبَةٍ وَاحِدَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا جَرَمَ مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى فَكَيْفَ بِهَذِهِ الْآيَةِ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا قَالَ فَمَا دَرَى عَبْدُ اللَّهِ مَا يَقُولُ وَقَالَ لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي التَّيَمُّمِ لَأَوْشَكَ أَحَدُهُمْ إِنْ بَرَدَ الْمَاءُ عَلَى جِلْدِهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ قَالَ عَفَّانُ وَأَنْكَرَهُ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ فَسَأَلْتُ حَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ فَقَالَ كَانَ الْأَعْمَشُ يُحَدِّثُنَا بِهِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَذَكَرَ أَبَا وَائِلٍ

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں سنی کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا مجھ پر دوران سفر غسل واجب ہوگیا مجھے پانی نہیں ملا تو میں اسی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا جیسے چوپائے ہوتے ہیں پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس واقعے کا بھی ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے تو صرف یہی کافی تھا، یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنا ہاتھ مارا پھر دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر ملا اور چہرے پر مسح کرلیا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی بات پر قناعت نہیں کی تھی؟ شقیق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے ابوعبدالرحمن ! یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی ناپاک ہوجائے اور اسے پانی نہ ملے تو کیا وہ ایک مہینے تک جنبی ہی رہے گا اسے تیمم کرنے کی اجازت نہ ہوگی ؟ انہوں نے فرمایا نہیں خواہ ایک مہینے تک پانی نہ ملے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر سورت مائدہ کی اس آیت کا کیا کریں گے جس میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ " اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی گئی تو وہ معمولی سردی میں بھی مٹی سے تیمم کرکے نماز پڑھنے لگیں گے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا آپ صرف اسی وجہ سے ہی اسے مکروہ سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں سنی کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا مجھ پر دوران سفر غسل واجب ہوگیا مجھے پانی نہیں ملا تو میں اسی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا جیسے چوپائے ہوتے ہیں پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس واقعے کا بھی ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے تو صرف یہی کافی تھا، یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنا ہاتھ مارا پھر دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر ملا اور چہرے پر مسح کرلیا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی بات پر قناعت نہیں کی تھی؟

أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ لَوْ ← كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ← شَقِيقٍ، ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18519

chevron_left Previous
1…202122…1,091
Next chevron_right