Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 6- بابٌ. · حديث 31072

31072- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ ، عَنْ غُلامٍ لِحُجْر ، أَنَّ حُجْرًا رَأَى ابْنًا لَهُ خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ ، فَقَالَ : يَا غُلامُ نَاوِلْنِي الصَّحِيفَةَ مِنَ الْكُوَّةِ فَسَمِعْت عَلِيًّا يَقُولُ : الطُّهُورُ نِصْفُ الإِيمَانِ.

31072 - حضرت ابو لیلیٰ کندی فرماتے ہیں کہ حضرت حجرت کے لڑکے نے فرمایا کہ حضرت حجرے نے اپنے ایک لڑکے کو دیکھا کہ وہ بیت الخلا ء سے نکل کر کہنے لگا اے لڑکے مجھے طاقچے سے قرآن دو : میں نے حضرت علی کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پاکی نصف ایمان ہے ۔

الطُّهُورُ نِصْفُ الإِيمَانِ. ← عَلِيًّا ← يَا غُلامُ نَاوِلْنِي الصَّحِيفَةَ مِنَ الْكُوَّةِ ← غُلامٍ لِحُجْر أَنَّ حُجْرًا رَأَى ابْنًا لَهُ خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ ← أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 6- Chapter. · Hadith 31072

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 6- بابٌ. · حديث 31076

31076- حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ كَعْبٍ ، قَالَ : مَنْ أَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ فَقَدَ تَوسَّطَ الإِيمَانَ.

31076 - حضر ت عبداللہ بن ضمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا: جو شخص نماز قائم کرتا ہے اور زکوٰۃ ادا کرتا ہے تحقیق اس کا ایمان درمیانے درجہ کا ہے ۔

مَنْ أَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ فَقَدَ تَوسَّطَ الإِيمَانَ. ← کَعْبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 6- Chapter. · Hadith 31076

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 6- بابٌ. · حديث 31077

31077- حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْنُ عُبَيْد ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ كَعْبٍ ، قَالَ : مَنْ أَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَسَمِعَ وَأَطَاعَ فَقَدْ تَوَسَّطَ الإِيمَانَ ، وَمَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الإِيمَانَ.

31077 - حضرت عبداللہ بن ضمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا: جو شخص نماز قائم کرتا ہے اور زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور سنتا ہے اور اطاعت کرتا ہے تحقیق اس کا ایمان درمیانے درجہ کا ہے اور جو شخص اللہ کے لیے محبت رکھتا ہے اور اللہ ہی کے لیے بغض رکھتا ہے اور اللہ ہی کے لیے عطا کرتا ہے اور اللہ ہی کے لیے روکتا ہے تحقیق اس کا ایمان مکمل ہو گیا۔

مَنْ أَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ ← کَعْبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 6- Chapter. · Hadith 31077

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 6- بابٌ. · حديث 31078

31078- حَدَّثَنَا إسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلاعِيِّ ، قَالَ : أَخَذَ بِيَدِي مَكْحُولٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا وَهْبٍ ، لِيَعْظُمْ شَأْنُ الإِيمَانِ فِي نَفْسِكَ ، مَنْ تَرَكَ صَلاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللهِ ، وَمَنْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللهِ فَقَدْ كَفَرَ.

31078 - حضرت عبید اللہ بن عبید الکلاعی فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول نے میرا ہاتھ پکڑا کر ارشاد فرمایا : اے ابو وہب ! اپنے نفس میں ایمان کی عظمت بڑھاؤ جس شخص نے جان بوجھ کر فرض نماز چھوڑی تحقیق اللہ کا ذمہ اس سے بری ہے اور جس سے اللہ کا ذمہ بری ہو تحقیق اس نے کفر کیا ۔

أَخَذَ بِيَدِي مَكْحُولٌ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلاَعِيِّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 6- Chapter. · Hadith 31078

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 6- بابٌ. · حديث 31079

31079- حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : الصَّبْرُ مِنَ الإِيمَانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ ، فَإِذَا ذَهَبَ الصَّبْرُ ذَهَبَ الإِيمَانُ.

31079- حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا: صبر کا ایمان میں وہی درجہ ہے جو سرکا جسم میں ہے ۔ پس جب صبر گیا تو ایمان بھی چلا جاتا ہے ۔

أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← أَبُو خَالِدٍ؛

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 6- Chapter. · Hadith 31079

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 6- بابٌ. · حديث 31080

31080- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ ، عَنْ عَمَّارٍ ، قَالَ : ثَلاثٌ مَنْ جَمَعَهُنَّ جَمَعَ الإِيمَانَ : الإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ ، وَالإِنْفَاقُ مِنَ الإِقْتَارِ ، وَبَذْلُ السَّلامِ لِلْعَالِمِ.

31080 - حضرت صلہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمار نے ارشاد فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں جس نے ان کو جمع کیااس نے ایمان کو جمع کر لیا ! اپنے نفس سے انصاف کرنا اور کنجوسی کی بجائے خرچ کرنا اور دنیا میں سلامتی پھیلانا۔

عَمَّارٍ ← صِلَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 6- Chapter. · Hadith 31080

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 6- بابٌ. · حديث 31083

31083- حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنِ الصَّعْقِ بْنِ حَزْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنِي عَقِيلُ الْجَعْدِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُوَيْد بْنِ غَفَلَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : أَوْثَقُ عُرَى الإِيمَانِ الْحُبُّ فِي اللهِ وَالْبُغْضُ فِي اللهِ.

31083 - حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ایمان کی مضبوط بنیاد کسی سے اللہ کی خؤشنودی میں محبت کرنا اور اللہ ہی کی خؤشنودی میں بغض رکھنا ہے ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَقِيلُ الْجَعْدِي ← الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 6- Chapter. · Hadith 31083

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 6- بابٌ. · حديث 31084

31084- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنا عَدِيُّ بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ : كَتَبَ إلَيَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الإِيمَان فَرَائِضَ وَشَرَائِعَ وَحُدُودَ وَسُنَن ، فَمَنَ اسْتَكْمَلَهَا اسْتَكْمَلَ الإِيمَانَ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَكْمِلْهَا لَمْ يَسْتَكْمِلَ الإِيمَانَ ، فَإِنْ أَعِشْ فَسَأُبَيِّنُهَا لَكُمْ حَتَّى تَعْمَلُوا بِهَا ، وَإِنْ أَمُتْ قَبْلَ ذَلِكَ فَمَا أَنَا عَلَى صُحْبَتِكُمْ بِحَرِيصٍ.

31084 - حضرت عدی بن عدی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مجھے لکھا اور فرمایا: حمدو صلوۃ کے بعد ایمان کے کچھ فرائض و احکام اور حدود اور ضامطے ہیں ۔ پس جس نے ان کو پورا کر لیا اس کا ایمان مکمل ہو گیا اور جس شخص نے ان کو پورانہ کیا اس کا ایمان بھی مکمل نہہوا۔ پس اگر میں زندہ رہا تو عنقریب میں ان کو تمہارے سامنے بیان کروں گا تاکہ تم ان پر عمل کرنے لگو اور اگر میں یہ بناتے سے پہلے ہی مر جاؤ تو میں تمہاری صحبت پر زیادہ حریص نہیں ہوں ۔

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 6- Chapter. · Hadith 31084

مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 6- بابٌ. · حديث 31085

31085- حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : لاَ بُدَّ لأَهْلِ هَذَا الدِّينِ مِنْ أَرْبَعٍ : دُخُولٌ فِي دَعْوَةِ الإسْلامِ ، وَلا بُدَّ مِنَ الإِيمَانِ وَتَصْدِيقٌ بِاللهِ وَبِالْمُرْسَلِينَ أَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ وَبِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَلا بُدَّ من أَنْ تَعْمَلَ عَمَلاً تُصَدِّقُ بِهِ ، وَلا بُدَّ مِنْ أَنْ تَعْلَمَ عِلْمًا يُحْسِنُ بِهِ عَمَلَك ، ثُمَّ قَرَأَ : {وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى}.

31085 - حضرت ہشام بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن اسلم نے ارشاد فرمایا: دین والوں کے لیے چار باتیں لازم ہیں اسلام کی دعوت میں داخل ہونا اور ایمان لانا ضروری ہے اور تصدیق کرنا اللہ کی اور اس کے پہلے اور آخری رسولوں کی اور جنت جہنم کی اور موت کے بعد دوبارہ اٹھنے کی اور ضروری ہے کہ ایسا عمل کریں وج ان کے ایمان کے سچا ہونے کی تصدیق کرے اور ضڑوری ہے کہ وہ اتنا علم سیکھیں جس کے ذریعہ ان کا عمل اچھا ہو جائے ۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور بے شک میں غفار ہوں اس شخص کے حق میں ھس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کیے پھر سیدھی راہ پر چلتا رہا۔

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 6- Chapter. · Hadith 31085

مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 44- مَا جَاءَ فِي خِلاَفَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. · حديث 38218

38218- حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ السَّعْدِيِّ ، قَالَ : حجَجْتُ الْعَامَ الَّذِي أُصِيبَ فِيهِ عُمَرُ ، قَالَ : فَخَطَبَ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ أَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي نَقْرَتَيْنِ ، أَوْ ثَلاَثًا ، ثُمَّ لَمْ تَكُنْ إِلاَّ جُمُعَةٌ ، أَوْ نَحْوَهَا حَتَّى أُصِيبَ ، قَالَ : فَأُذِنَ لأَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، ثُمَّ أُذِنَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ أُذِنَ لأَهْلِ الشَّامِ ، ثُمَّ أُذِنَ لأَهْلِ الْعِرَاقِ ، فَكُنَّا آخِرَ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ ، وَبَطْنُهُ مَعْصُوبٌ بِبُرْدٍ أَسْوَدَ ، وَالدِّمَاءُ تَسِيلُ ، كُلَّمَا دَخَلَ قَوْمٌ بَكَوْا وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ ، فَقُلْنَا لَهُ : أَوْصِنَا ، وَمَا سَأَلَهُ الْوَصِيَّةَ أَحَدٌ غَيْرَنَا ، فَقَالَ : عَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللهِ ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَضِلُّوا مَا اتَّبَعْتُمُوهُ ، وَأُوصِيكُمْ بِالْمُهَاجِرِينَ ، فَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ ، وَأُوصِيكُمْ بِالأَنْصَارِ ، فَإِنَّهُمْ شِعَبُ الإِيمَانِ الَّذِي لَجَأَ إِلَيْهِ ، وَأُوصِيكُمْ بِالأَعْرَابِ فَإِنَّهَا أَصْلُكُمْ وَمَادَّتُكُمْ ، وَأُوصِيكُمْ بِذِمَّتِكُمْ ، فَإِنَّهَا ذِمَّةُ نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم ، وَرِزْقُ عِيَالِكُمْ ، قُومُوا عَنِّي ، فَمَا زَادَنَا عَلَى هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ.

حضرت جاریہ بن قدامہ سعدی سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں : جس سال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا میں نے اس سال حج کیا۔ بیان کر تے ہیں کہ ۔۔۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور (اس میں ) ارشاد فرمایا۔ میں نے ( خواب ) دیکھا ہے کہ ایک مرغ نے مجھے دو یا تین مرتبہ ٹھونگ ماری ہے ۔ پھر اس کے بعد ایک جمعہ یا اس کے قریب ہی وقت گزرا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ ہو گیا۔ راوی کہتے ہیں: پس ( پہلے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کو اجازت دی گئی ۔ پھر اہل مدینہ کو اجازت دی گئی پھر اہل شام کو اجازت دی گئی پھر اہل عراق کو اجازت دی گئی ۔ پس ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے والے آخری لوگ تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا پیٹ سیاہ چادر سے باندھا ہوا تھا اور خون بہہ رہا تھا۔ جب بھی کچھ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو لوگ رو پڑتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ۔ ہم نے آپ رضی اللہ عنہ سے کہا۔ آپ ہمیں وصیت کریں ۔اور ہمارے علاوہ کسی نے بھی آپ رضی اللہ عنہ سے وصیت کر نے کا سوال نہیں کیا۔۔۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ کتاب اللہ کو لازم پکڑو۔ کیونکہ جب تک تم لوگ اس کی تابعداری کرتے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے ۔ اور میں تمہیں مہاجرین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ دیگر لوگ بڑھیں گے اور یہ کم ہوں گے ۔ اور میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ لوگ ایمان کی ایسی گھائی ہیں جس کی طرف ایمان نے پناہ پکڑی اور میں تمہیں دیہاتیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہاری اصل اور مادہ ہیں ۔ اور میں تمہیں تمہارے ذمیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں یہ لوگ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ ہیں اور تمہارے مال بچوں کی روزی ہیں۔ میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ اس سے زیادہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمارے ساتھ بات نہیں کی ۔

فَخَطَبَ ← حجَجْت الْعَامَ الَّذِي أُصِيبَ فِيهِ عُمَرُ ← جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ السَّعْدِيِّ ← أَبِي جَمْرَةَ ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 44- What was stated in the succession of Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 38218

مصنف ابن أبي شيبة · 26- كِتَابُ الرّؤيا ‹ 12- رؤيا خزيمة بنِ ثابِتٍ رضي الله عنه. · حديث 31157

31157- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَأْكُلُ تَمْرًا ، فَكَتَبْتُ إلَيْهِ : إنِّي رَأَيْتُك تَأْكُلُ تَمْرًا وَهُوَ حَلاَوَةُ الإِيمَانِ إنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.

31157 - حضرت انس سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن عمر چھو ہارے کھا رہے ہیں چنانچہ میں نے ان کو خط لکھا کہ میں نے آپ کو چھوہارے کھاتے ہوئے دیکھا ہے اور اس کی تعبیر ان شا ء اللہ تعالیٰ حلاوت ایمان ہے ۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 26- Book of Revelation › 12- Revelation Khuzaymah ibn Thabit, may God be pleased with him. · Hadith 31157

مصنف ابن أبي شيبة · 27-كِتاب الأمراءِ ‹ 1- ما ذكِر مِن حدِيثِ الأمراءِ والدّخولِ عليهِم. · حديث 31179

31179- حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ مُجَمِّعٍ ، قَالَ : دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى عَلَى الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ لِجُلَسَائِهِ : إذَا أَرَدْتُمْ أَنْ تَنْظُرُوا إلَى رَجُلٍ يَسُبُّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ فَهَذَا عِنْدَكُمْ ، - يَعْنِي : عَبْدَ الرَّحْمَن - ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : مَعَاذَ اللهِ أَيُّهَا الأَمِيرُ أَنْ أَكُونَ أَسُبُّ عُثْمَانَ ، أَنَّهُ لَيَحْجُزنِي عَنْ ذَلِكَ ثَلاث آيَاتٌ فِي كِتَابِ اللهِ ، قَالَ اللَّهُ : {لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللهِ وَرِضْوَانًا وَيَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ هُمَ الصَّادِقُونَ} قَالَ : فَكَانَ عُثْمَان مِنْهُمْ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : {وَالَّذِينَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ} ، فَكَانَ أَبِي مِنْهُمْ : {وَالَّذِينَ جَاؤُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلاِِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالإِيمَانِ} فَكُنْت مِنْهُمْ ، قَالَ : صَدَقْت.

31179 - حضرت مجمع سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلی حجاج کے پاس تشریف لائے تو حجاج نے اپنے ہم نشینوں سے کہا کہ اگر تم چاہو کہ اس آدمی کو دیکھ لو جو حضرت امیر المومنین عثمان کو گالی دیتا ہے تو یہ عبدالرحمٰن تمہارے پاس ہیں ان کو دیکھ لو حضرت عبدالرحمٰن نے فرمای اکہ اے میرا! میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں حضرت عثمان کو برا بھلا کہوں مجھے اس بات سے کتابت اللہ کی تین آیتیں روکتی ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں حضرت عثمان بھی ان لوگوں میں سے تھے پھر آپ نے پڑھا میرے والد ان لوگوں میں سے تھے ۔

لِجُلَسَائِهِ إذَا أَرَدْتُمْ ← دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى عَلَى الْحَجَّاجِ ← مجمع ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 27-The Book of Princes › 1- What was mentioned about the princes speaking and entering upon them. · Hadith 31179

مصنف ابن أبي شيبة · 40- كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ 1- مَنْ كَرِهَ الْخُرُوجَ فِي الْفِتْنَةِ وَتَعَوَّذَ مِنْهَا. · حديث 38590

38590- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : لاَ يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ ، الإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكِ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن کو دھوکے سے قتل نہیں کیا جائے گا ایمان نے دھوکے سے قتل کرنے کو روک دیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← السُّدِّيِّ ← أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 40- Book of Temptation › 1 - Whoever hates going out in fitna and seeking refuge from it. · Hadith 38590

مصنف ابن أبي شيبة · 40- كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ 1- مَنْ كَرِهَ الْخُرُوجَ فِي الْفِتْنَةِ وَتَعَوَّذَ مِنْهَا. · حديث 38591

38591- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الزُّبَيْرِ أَيَّامَ الْجَمَلِ ، فَقَالَ : أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا ، قَالَ : وَكَيْفَ ، قَالَ : آتِيهِ فَأُخْبِرُهُ أَنِّي مَعَهُ ، ثُمَّ أَفْتِكُ بِهِ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : لاَ ، سَمِعْت رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ : الإِيمَانُ قَيَّد الْفَتْك ، لاَ يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ.

حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جنگ جمل کے دنوں میں ایک آدمی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا میں آپ کے لیے علی کوقتل کر دوں انہوں نے کہا کیسے اس نے کہا میں اس کے پاس جاؤں گا اور اسے بتلاؤں گا کہ میں اس کے ساتھ ہوں پھر دھوکے سے موقع پا کر قتل کر دوں گا حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایمان دھوکے سے قتل کرنے کو روکتا ہے مومن کو دھو کے سے قتل نہیں کیا جائے گا ۔

الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْکَ لَا يَفْتِکُ مُؤْمِنٌ ← رَسُولِ اللَّهِ ← آتِيهِ فَأُخْبِرُهُ أَنِّي مَعَهُ ثُمَّ أَفْتِكُ بِهِ فَقَالَ الزُّبَيْرُ لاَ ← وَكَيْفَ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الزُّبَيْرِ أَيَّامَ الْجَمَلِ فَقَالَ أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا ← الْحَسَنِ، ← عَوْفٌ، ← أَبُو أُسَامَةَ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 40- Book of Temptation › 1 - Whoever hates going out in fitna and seeking refuge from it. · Hadith 38591

مصنف ابن أبي شيبة · 40- كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ 2- ما ذكِر فِي فِتنةِ الدّجّالِ. · حديث 38728

38728- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، قَالَ : قَالَ : مَا أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ أَحَدُ رَجُلَيْنِ : مُؤْمِنٌ قَدِ اسْتَبَانَ إيمَانُهُ ، وَكَافِرٌ قَدْ تَبَيَّنَ كُفْرُهُ ، وَلَكِنْ أتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ مُتَعَوِّذًا بِالإِيمَانِ يَعْمَلُ بِغَيْرِهِ.

حضرت مطلب بن عبداللہ بن حنطب سے روایت ہے ارشاد فرمایا دو آدمیوں میں سے کسی ایک کے بارے میں مجھے خوف نہیں ایک مؤمن جس کا ایمان واضح ہے اور دوسرا کافر جس کا کفر واضح ہے لیکن مجھے خوف تم پر اس آدمی کے بارے میں ہے جو ایمان کے ذریعے پناہ پکڑنے والا ہے اور عمل اسلام کے علاوہ کرتا ہے۔

الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← وَكِيعٌ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 40- Book of Temptation › 2- What was mentioned in the charlatan of the Antichrist. · Hadith 38728

مصنف ابن أبي شيبة · 41- كِتاب الجملِ ‹ 1- فِي مسِيرِ عائِشة وعلِيٍّ وطلحة والزّبيرِ رضي الله عنهم. · حديث 38968

38968- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الزُّبَيْرِ يَوْمَ الْجَمَلِ ، فَقَالَ : أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا ، قَالَ : وَكَيْفَ ، قَالَ : آتِيهِ فَأُخْبِرُهُ أَنِّي مَعَهُ ، ثُمَّ أَفْتِكُ بِهِ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : سَمِعْت رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ : إِنَّ الإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْك ، لاَ يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ.

حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا میں آپ کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر دوں ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ کیسے؟ اس نے جواب دیا میں اس کے پاس جا کر کہوں گا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں پھر میں انہیں دھو کے سے قتل کر ڈالوں گا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایمان دھو کے کوروکنے والا ہے اور مومن کبھی دھوکا نہیں دیتا۔

إِنَّ الإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْك لاَ يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← آتِيهِ فَأُخْبِرُهُ أَنِّي مَعَهُ ثُمَّ أَفْتِكُ بِهِ فَقَالَ الزُّبَيْرُ ← وَكَيْفَ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الزُّبَيْرِ يَوْمَ الْجَمَلِ فَقَالَ أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا ← الْحَسَنِ، ← عَوْفٌ، ← أَبُو أُسَامَةَ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 41- Sentence book › 1- In the path of Aisha, Ali, Talha, and Zubayr, may God be pleased with them. · Hadith 38968

مصنف ابن أبي شيبة · 30-كِتاب الْفَضَائِلِ ‹ 18- فضائِل علِيِّ بنِ أبِي طالِبٍ رضي الله عنه. · حديث 32744

32744- حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ رِبْعِيٍّ , عَنْ عَلِيٍّ , عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ , لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ رَجُلاً مِنْكُمْ قَدِ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلإِيمَانِ فَيَضْرِبُكُمْ , أَوْ يَضْرِبُ رِقَابَكُمْ , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ , قَالَ : لاَ فَقَالَ عُمَرُ : أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ , قَالَ : لاَ , وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ , وَكَانَ أَعْطَى عَلِيًّا نَعْلَهُ يَخْصِفُهَا.

32744 - حضرت علی فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: اے گروہ قریش اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور ایک آدمی بھیجیں گے جو تم ہی میں سے ہو گا ۔ تحقیق اللہ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے چن لیا ہے ۔ پس وہ تمہیں قتل کرے گا یا یوں فرمایا: کہ وہ تمہاری گر دنیں مارے گا۔ تو حضرت ابو بکر نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ کیا وہ شخص میں ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔

عَلِيٍّ، ← رِبْعِيٍّ ← مَنْصُورٌ، ← شَرِيکٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 30- The Book of Virtues › 18- The virtues of Ali bin Abi Talib, may God be pleased with him. · Hadith 32744

مصنف ابن أبي شيبة · 30-كِتاب الْفَضَائِلِ ‹ 26- ما ذكِر فِي العبّاسِ رضي الله عنه عمِّ النَّبِيّ صلى الله عليه وسلم. · حديث 32875

32875- حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ يَزِيدَ , عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ , قَالَ : حدَّثَنِي عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ الْعَبَّاسَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم وأنا عنده , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : مَنْ أَغْضَبَك , قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ : مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إذَا تَلاقَوْا تَلاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبَشِّرَةٍ , وَإِذَا لَقَوْنَا لَقَوْنَا بِغَيْرِ ذَلِكَ , قَالَ : فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ وَحَتَّى اسْتَدَرَّ عَرَقٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ , وَكَانَ إذَا غَضِبَ اسْتَدَرَّ , فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ , قَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لاَ يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ , ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ , مَنْ آذَى الْعَبَّاسَ فَقَدْ آذَانِي , إنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ.

حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب فرماتے ہیں کہ حضرت عباس اور رسول اللہﷺ کے پاس آئے اس حال میں کہ میں آپﷺ کے پاس تھا ۔ تو رسو ل اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: کس نے آپ کو غصہ دلایا آپ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول ﷺ ! قریش کے لوگوں کو ہم سے کیا ہوا؟ جب وہ آپس میں ملتے ہیں ت وبڑے خؤشگوار چہرے سے ملتے ہیں اور جب تم سے ملتے ہیں تو وہ اس طرح نہیں ہوتے ؟ راوی کہتے ہیں : یہ بات سن کر رسول اللہﷺ کو غصہ آ گیا یہاں تک کہ آپﷺ کا چہرہ غصہ سے سرخ ہو گیا اور دونوں آنکھوں کے درمیان موجود رگ پھڑ کنے لگی ۔

عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب. ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدُ: ← ابْنُ فُضَيْلٍ،

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 30- The Book of Virtues › 26- What was mentioned in Al-Abbas, may God be pleased with him, the uncle of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him. · Hadith 32875

مصنف ابن أبي شيبة · 30-كِتاب الْفَضَائِلِ ‹ 29- ما ذكِر فِي عمّارِ بنِ ياسِرٍ رضي الله عنه. · حديث 32914

32914- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ , قَالَ : سُئِلَ عَلِيٌّ , عَنْ عَمَّارٍ , قَالَ : مُؤْمِنٌ نَسِيّ , وَإِنْ ذَكَّرْته ذَكَرَ , وَقَدْ دَخَلَ الإِيمَانُ فِي سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ , وَذَكَرَ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ جَسَدِهِ.

32914 - حضرت ابو البختری فرماتے ہیں کہ حضرت علی سے حضرت عمار کے متعلق پوچھا گیا : آپ نے فرمایا: بھولنے والے مومن تھے ۔ جب تم ان کو یاد کراتے تو ان کو یار آجاتا۔ اور تحقیق ایمان ان کے کان اور ان کی آنکھ میں داخل ہوا۔ اور آپ نے ان کے جسم کے اس حصہ کو ذکر کیا جو اللہ نے چاہا ۔

وَقَدْ دَخَلَ الإِيمَانُ فِي سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ وَذَكَرَ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ جَسَدِهِ. ← مُؤْمِنٌ نَسِيّ وَإِنْ ذَكَّرْته ← عَمَّارٍ ← سُئِلَ عَلِيٌّ ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 30- The Book of Virtues › 29- What was mentioned in Ammar ibn Yasir, may God be pleased with him? · Hadith 32914

مصنف ابن أبي شيبة · 30-كِتاب الْفَضَائِلِ ‹ 57- ما ذكِر فِي المدِينةِ وفضلِها. · حديث 33096

33096- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : إنَّ الإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إلَى جُحْرِهَا.

33096 - حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک ایمان مدینہ کی طرف ایسے ہی سمٹ جائے گا جیسا کہ سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ آتا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو أُسَامَةَ

Musannaf Ibne Abi Shaibah · 30- The Book of Virtues › 57- What was mentioned in the city and its virtues? · Hadith 33096

chevron_left Previous
1…707172…484
Next chevron_right