31072 - حضرت ابو لیلیٰ کندی فرماتے ہیں کہ حضرت حجرت کے لڑکے نے فرمایا کہ حضرت حجرے نے اپنے ایک لڑکے کو دیکھا کہ وہ بیت الخلا ء سے نکل کر کہنے لگا اے لڑکے مجھے طاقچے سے قرآن دو : میں نے حضرت علی کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پاکی نصف ایمان ہے ۔
31076 - حضر ت عبداللہ بن ضمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا: جو شخص نماز قائم کرتا ہے اور زکوٰۃ ادا کرتا ہے تحقیق اس کا ایمان درمیانے درجہ کا ہے ۔
31077 - حضرت عبداللہ بن ضمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا: جو شخص نماز قائم کرتا ہے اور زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور سنتا ہے اور اطاعت کرتا ہے تحقیق اس کا ایمان درمیانے درجہ کا ہے اور جو شخص اللہ کے لیے محبت رکھتا ہے اور اللہ ہی کے لیے بغض رکھتا ہے اور اللہ ہی کے لیے عطا کرتا ہے اور اللہ ہی کے لیے روکتا ہے تحقیق اس کا ایمان مکمل ہو گیا۔
31078 - حضرت عبید اللہ بن عبید الکلاعی فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول نے میرا ہاتھ پکڑا کر ارشاد فرمایا : اے ابو وہب ! اپنے نفس میں ایمان کی عظمت بڑھاؤ جس شخص نے جان بوجھ کر فرض نماز چھوڑی تحقیق اللہ کا ذمہ اس سے بری ہے اور جس سے اللہ کا ذمہ بری ہو تحقیق اس نے کفر کیا ۔
31079- حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا: صبر کا ایمان میں وہی درجہ ہے جو سرکا جسم میں ہے ۔ پس جب صبر گیا تو ایمان بھی چلا جاتا ہے ۔
31080 - حضرت صلہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمار نے ارشاد فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں جس نے ان کو جمع کیااس نے ایمان کو جمع کر لیا ! اپنے نفس سے انصاف کرنا اور کنجوسی کی بجائے خرچ کرنا اور دنیا میں سلامتی پھیلانا۔
31083 - حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ایمان کی مضبوط بنیاد کسی سے اللہ کی خؤشنودی میں محبت کرنا اور اللہ ہی کی خؤشنودی میں بغض رکھنا ہے ۔
31084 - حضرت عدی بن عدی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مجھے لکھا اور فرمایا: حمدو صلوۃ کے بعد ایمان کے کچھ فرائض و احکام اور حدود اور ضامطے ہیں ۔ پس جس نے ان کو پورا کر لیا اس کا ایمان مکمل ہو گیا اور جس شخص نے ان کو پورانہ کیا اس کا ایمان بھی مکمل نہہوا۔ پس اگر میں زندہ رہا تو عنقریب میں ان کو تمہارے سامنے بیان کروں گا تاکہ تم ان پر عمل کرنے لگو اور اگر میں یہ بناتے سے پہلے ہی مر جاؤ تو میں تمہاری صحبت پر زیادہ حریص نہیں ہوں ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 25- Book of Faith and Revelation › 6- Chapter. · Hadith 31084
مصنف ابن أبي شيبة · 25- كِتاب الإِيمانِ والرّؤيا ‹ 6- بابٌ. · حديث 31085
31085 - حضرت ہشام بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن اسلم نے ارشاد فرمایا: دین والوں کے لیے چار باتیں لازم ہیں اسلام کی دعوت میں داخل ہونا اور ایمان لانا ضروری ہے اور تصدیق کرنا اللہ کی اور اس کے پہلے اور آخری رسولوں کی اور جنت جہنم کی اور موت کے بعد دوبارہ اٹھنے کی اور ضروری ہے کہ ایسا عمل کریں وج ان کے ایمان کے سچا ہونے کی تصدیق کرے اور ضڑوری ہے کہ وہ اتنا علم سیکھیں جس کے ذریعہ ان کا عمل اچھا ہو جائے ۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور بے شک میں غفار ہوں اس شخص کے حق میں ھس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کیے پھر سیدھی راہ پر چلتا رہا۔
حضرت جاریہ بن قدامہ سعدی سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں : جس سال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا میں نے اس سال حج کیا۔ بیان کر تے ہیں کہ ۔۔۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور (اس میں ) ارشاد فرمایا۔ میں نے ( خواب ) دیکھا ہے کہ ایک مرغ نے مجھے دو یا تین مرتبہ ٹھونگ ماری ہے ۔ پھر اس کے بعد ایک جمعہ یا اس کے قریب ہی وقت گزرا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ ہو گیا۔ راوی کہتے ہیں: پس ( پہلے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کو اجازت دی گئی ۔ پھر اہل مدینہ کو اجازت دی گئی پھر اہل شام کو اجازت دی گئی پھر اہل عراق کو اجازت دی گئی ۔ پس ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے والے آخری لوگ تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا پیٹ سیاہ چادر سے باندھا ہوا تھا اور خون بہہ رہا تھا۔ جب بھی کچھ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو لوگ رو پڑتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ۔ ہم نے آپ رضی اللہ عنہ سے کہا۔ آپ ہمیں وصیت کریں ۔اور ہمارے علاوہ کسی نے بھی آپ رضی اللہ عنہ سے وصیت کر نے کا سوال نہیں کیا۔۔۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ کتاب اللہ کو لازم پکڑو۔ کیونکہ جب تک تم لوگ اس کی تابعداری کرتے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے ۔ اور میں تمہیں مہاجرین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ دیگر لوگ بڑھیں گے اور یہ کم ہوں گے ۔ اور میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ لوگ ایمان کی ایسی گھائی ہیں جس کی طرف ایمان نے پناہ پکڑی اور میں تمہیں دیہاتیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہاری اصل اور مادہ ہیں ۔ اور میں تمہیں تمہارے ذمیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں یہ لوگ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ ہیں اور تمہارے مال بچوں کی روزی ہیں۔ میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ اس سے زیادہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمارے ساتھ بات نہیں کی ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 44- What was stated in the succession of Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 38218
مصنف ابن أبي شيبة · 26- كِتَابُ الرّؤيا ‹ 12- رؤيا خزيمة بنِ ثابِتٍ رضي الله عنه. · حديث 31157
31157 - حضرت انس سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن عمر چھو ہارے کھا رہے ہیں چنانچہ میں نے ان کو خط لکھا کہ میں نے آپ کو چھوہارے کھاتے ہوئے دیکھا ہے اور اس کی تعبیر ان شا ء اللہ تعالیٰ حلاوت ایمان ہے ۔
أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 26- Book of Revelation › 12- Revelation Khuzaymah ibn Thabit, may God be pleased with him. · Hadith 31157
مصنف ابن أبي شيبة · 27-كِتاب الأمراءِ ‹ 1- ما ذكِر مِن حدِيثِ الأمراءِ والدّخولِ عليهِم. · حديث 31179
31179 - حضرت مجمع سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلی حجاج کے پاس تشریف لائے تو حجاج نے اپنے ہم نشینوں سے کہا کہ اگر تم چاہو کہ اس آدمی کو دیکھ لو جو حضرت امیر المومنین عثمان کو گالی دیتا ہے تو یہ عبدالرحمٰن تمہارے پاس ہیں ان کو دیکھ لو حضرت عبدالرحمٰن نے فرمای اکہ اے میرا! میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں حضرت عثمان کو برا بھلا کہوں مجھے اس بات سے کتابت اللہ کی تین آیتیں روکتی ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں حضرت عثمان بھی ان لوگوں میں سے تھے پھر آپ نے پڑھا میرے والد ان لوگوں میں سے تھے ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 27-The Book of Princes › 1- What was mentioned about the princes speaking and entering upon them. · Hadith 31179
مصنف ابن أبي شيبة · 40- كِتَابُ الْفِتَنِ ‹ 1- مَنْ كَرِهَ الْخُرُوجَ فِي الْفِتْنَةِ وَتَعَوَّذَ مِنْهَا. · حديث 38590
38590- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : لاَ يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ ، الإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكِ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن کو دھوکے سے قتل نہیں کیا جائے گا ایمان نے دھوکے سے قتل کرنے کو روک دیا۔
حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جنگ جمل کے دنوں میں ایک آدمی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا میں آپ کے لیے علی کوقتل کر دوں انہوں نے کہا کیسے اس نے کہا میں اس کے پاس جاؤں گا اور اسے بتلاؤں گا کہ میں اس کے ساتھ ہوں پھر دھوکے سے موقع پا کر قتل کر دوں گا حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایمان دھوکے سے قتل کرنے کو روکتا ہے مومن کو دھو کے سے قتل نہیں کیا جائے گا ۔
حضرت مطلب بن عبداللہ بن حنطب سے روایت ہے ارشاد فرمایا دو آدمیوں میں سے کسی ایک کے بارے میں مجھے خوف نہیں ایک مؤمن جس کا ایمان واضح ہے اور دوسرا کافر جس کا کفر واضح ہے لیکن مجھے خوف تم پر اس آدمی کے بارے میں ہے جو ایمان کے ذریعے پناہ پکڑنے والا ہے اور عمل اسلام کے علاوہ کرتا ہے۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا میں آپ کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر دوں ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ کیسے؟ اس نے جواب دیا میں اس کے پاس جا کر کہوں گا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں پھر میں انہیں دھو کے سے قتل کر ڈالوں گا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایمان دھو کے کوروکنے والا ہے اور مومن کبھی دھوکا نہیں دیتا۔
32744 - حضرت علی فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: اے گروہ قریش اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور ایک آدمی بھیجیں گے جو تم ہی میں سے ہو گا ۔ تحقیق اللہ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے چن لیا ہے ۔ پس وہ تمہیں قتل کرے گا یا یوں فرمایا: کہ وہ تمہاری گر دنیں مارے گا۔ تو حضرت ابو بکر نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ کیا وہ شخص میں ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔
حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب فرماتے ہیں کہ حضرت عباس اور رسول اللہﷺ کے پاس آئے اس حال میں کہ میں آپﷺ کے پاس تھا ۔ تو رسو ل اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: کس نے آپ کو غصہ دلایا آپ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول ﷺ ! قریش کے لوگوں کو ہم سے کیا ہوا؟ جب وہ آپس میں ملتے ہیں ت وبڑے خؤشگوار چہرے سے ملتے ہیں اور جب تم سے ملتے ہیں تو وہ اس طرح نہیں ہوتے ؟ راوی کہتے ہیں : یہ بات سن کر رسول اللہﷺ کو غصہ آ گیا یہاں تک کہ آپﷺ کا چہرہ غصہ سے سرخ ہو گیا اور دونوں آنکھوں کے درمیان موجود رگ پھڑ کنے لگی ۔
عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب. ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدُ: ← ابْنُ فُضَيْلٍ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 30- The Book of Virtues › 26- What was mentioned in Al-Abbas, may God be pleased with him, the uncle of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him. · Hadith 32875
مصنف ابن أبي شيبة · 30-كِتاب الْفَضَائِلِ ‹ 29- ما ذكِر فِي عمّارِ بنِ ياسِرٍ رضي الله عنه. · حديث 32914
32914 - حضرت ابو البختری فرماتے ہیں کہ حضرت علی سے حضرت عمار کے متعلق پوچھا گیا : آپ نے فرمایا: بھولنے والے مومن تھے ۔ جب تم ان کو یاد کراتے تو ان کو یار آجاتا۔ اور تحقیق ایمان ان کے کان اور ان کی آنکھ میں داخل ہوا۔ اور آپ نے ان کے جسم کے اس حصہ کو ذکر کیا جو اللہ نے چاہا ۔