Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الفتن وأشراط الساعة

Fitan & Signs of Qiyamah

8563 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9751

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ الضَّبِّيُّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ لَمْ يَنْفَعْ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَالدُّخَانُ وَدَابَّةُ الْأَرْضِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں کہ جب ان کا خروج ہو جائے تو پہلے سے ایمان نہ لانے والے یا اپنے ایمان میں نیکی نہ کمانے والے کسی نفس کو اس کا اس وقت ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ (١) مغرب کی جانب سے طلوع آفتاب (٢) دھواں (٣) دابۃ الارض۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ الضَّبِّيُّ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9751

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9855

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے کہ نبی عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے اور مسیح دجال کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← بُدَيْلٍ ← شُعْبَةُ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9855

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 9899

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ ثَلَاثُونَ دَجَّالُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَيَفِيضَ الْمَالُ فَيَكْثُرَ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ قَالَ قِيلَ وَأَيُّمَا الْهَرْجُ قَالَ الْقَتْلُ الْقَتْلُ ثَلَاثًا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تیس دجال ظاہر ہوجائیں ان میں سے ہر ایک کا گمان یہ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے مال کی خوب کثرت ہوجائے گی فتنوں کا دور دورہ ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی کسی نے پوچھا ہرج سے کیا مراد ہے؟ فرمایا قتل قتل قتل (تین مرتبہ)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 9899

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10040

قَالَ وَكَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ جَهَنَّمَ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے، عذاب جہنم سے، قبر سے زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے فتنے سے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10040

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10072

وَبِإِسْنَادِهِ هَذَا قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ میں عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10072

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10183

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَشَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص قعدہ اخیرہ سے فارغ ہوجائے تو اسے چاہئے کہ چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے عذاب قبر سے عذاب جہنم سے زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عَائِشَۃَ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10183

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10236

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ وَيُرْفَعُ الْعِلْمُ فَلَمَّا سَمِعَ عُمَرُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ يُرْفَعُ الْعِلْمُ قَالَ عُمَرُ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ يُنْزَعُ مِنْ صُدُورِ الْعُلَمَاءِ وَلَكِنْ يَذْهَبُ الْعُلَمَاءُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب فتنوں کا دور دورہ ہوگا ہرج (قتل) کی کثرت ہوگی اور علم اٹھالیا جائےگا جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ علماء کے سینوں سے علم کو کھینچ نہیں لیا جائےگا بلکہ علماء کو اٹھا لیا جائے گا

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10236

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13701

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُمْ سَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَتَّى أَجْهَدُوهُ بِالْمَسْأَلَةِ فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ فَأَشْفَقَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْ أَمْرٍ قَدْ حَضَرَ قَالَ فَجَعَلْتُ لَا أَلْتَفِتُ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا إِلَّا وَجَدْتُ كُلَّ رَجُلٍ لَافًّا رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي فَأَنْشَأَ رَجُلٌ كَانَ يُلَاحَى فَيُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ قَالَ ثُمَّ قَامَ عُمَرُ أَوْ قَالَ ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ قَطُّ صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَتَّى رَأَيْتُهُمَا دُونَ هَذَا الْحَائِطِ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ بِمِثْلِهِ قَالَ وَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ إِذَا سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد باہر آئے، ظہر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر منبر پر کھڑے ہوگئے اور قیامت کا ذکر فرمایا: نیز یہ کہ اس سے پہلے بڑے اہم امور پیش آئیں گے، پھر فرمایا کہ جو شخص کوئی سوال پوچھنا چاہتا ہے وہ پوچھ لے، بخدا! تم مجھ سے جس چیز کے متعلق بھی " جب تک میں یہاں کھڑا ہوں " سوال کرو گے میں تمہیں ضرور جواب دوں گا، یہ سن کر لوگ کثرت سے آہ وبکا کرنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے رہتے کہ مجھ سے پوچھو، چنانچہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کہاں داخل ہوں ؟ فرمایا جہنم میں ، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے پوچھ لیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل جھک کر کہنے لگے کہ ہم اللہ کو اپنا رب مان کر، اسلام کو اپنا دین قرار دے کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی مان کر خوش او مطمئن ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ بات سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس دیوار کی چوڑائی میں ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا تھا، جب کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، میں نے خیر اور شر میں آج کے دن جیسا کوئی دن نہیں دیکھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ یہ

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13701

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1438

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً فَجَعَلْنَا نَقُولُ مَا هَذِهِ الْفِتْنَةُ وَمَا نَشْعُرُ أَنَّهَا تَقَعُ حَيْثُ وَقَعَتْ آخِرُ حَدِيثِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

Az-Zubair bin al-'Awwam said: This verse was revealed when we were resent with the Messenger of Allah (PBUH): "And fear the Fitnah (affliction and trial) which affects not in particular (only) those of you who do wrong (but it may afflict all the good and the bad people)" [al-Anfal 8:25]. We started saying. What is this fitnah ? And we never thought that it would happen as it did.

الْحَسَنِ، ← جَرِيرٌ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1438

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1529

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ الْأَسْلَمِيُّ عَنِ الْمُطَّلِبِ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ جَاءَهُ ابْنُهُ عَامِرٌ فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ أَفِي الْفِتْنَةِ تَأْمُرُنِي أَنْ أَكُونَ رَأْسًا لَا وَاللَّهِ حَتَّى أُعْطَى سَيْفًا إِنْ ضَرَبْتُ بِهِ مُؤْمِنًا نَبَا عَنْهُ وَإِنْ ضَرَبْتُ بِهِ كَافِرًا قَتَلَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ التَّقِيَّ

It was narrated from Umar bin Saad, from his father, that he said: His son 'Amir came to him and he said: O my son, do you want me to be a leading figure in the turmoil? No, by Allah, not unless I am given a sword which, if I wanted to strike a believer with it, it would refuse to strike him, but if I wanted to strike a disbeliever with it, it would kill him. I heard the Messenger of Allah (PBUH) say: "Allah, may He be glorified and exalted, loves the one who is independent of means, reclusive and pious."

أَبِيهِ ← عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ← الْمُطَّلِبِ ← كثير بن زيد الأسلمى ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1529

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6734

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! میں سستی، بڑھاپے، قرض اور گناہ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں میں مسیح دجال کے فتنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ، عذاب قبر اور عذاب جہنم سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

النَّبِيِّ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ← لَيْثٌ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6734

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6749

حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! میں سستی، بڑھاپے قرض اور گناہ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں میں مسیح دجال کے فتنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں عذاب قبر اور عذاب جہنم سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ← لَيْثٌ، ← الْخُزَاعِيُّ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6749

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6793

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَهُوَ يُحَدِّثُ النَّاسَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشْرِهِ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ جَامِعَةً قَالَ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ وَيَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا يَعْلَمُهُ خَيْرًا لَهُمْ وَيُنْذِرَهُمْ مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ أَلَا وَإِنَّ عَافِيَةَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي أَوَّلِهَا وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَاءٌ وَفِتَنٌ يُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا تَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ مُهْلِكَتِي ثُمَّ تَنْكَشِفُ ثُمَّ تَجِيءُ فَيَقُولُ هَذِهِ هَذِهِ ثُمَّ تَجِيءُ فَيَقُولُ هَذِهِ هَذِهِ ثُمَّ تَنْكَشِفُ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنْ النَّارِ وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ فَلْتُدْرِكْهُ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنْ اسْتَطَاعَ وَقَالَ مَرَّةً مَا اسْتَطَاعَ فَلَمَّا سَمِعْتُهَا أَدْخَلْتُ رَأْسِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَقُلْتُ فَإِنَّ ابْنَ عَمِّكَ مُعَاوِيَةَ يَأْمُرُنَا فَوَضَعَ جُمْعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ ثُمَّ نَكَسَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ قُلْتُ لَهُ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي

عبدالرحمان بن عبد رب الکعبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا وہ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام پر پہنچ کر پڑاؤ ڈالا ہم میں سے بعض لوگوں نے خیمے لگا لئے بعض چراگاہ میں چلے گئے اور بعض تیر اندازی کرنے لگے اچانک ایک منادی نداء کرنے لگا کہ نماز تیار ہے ہم لوگ اسی وقت جمع ہو گئے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو وہ خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرما رہے تھے اے لوگو! مجھ سے پہلے جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام گذرے ہیں وہ اپنی امت کے لئے جس چیز کوخیر سمجھتے تھے انہوں نے وہ سب چیزیں اپنی امت کو بتا دیں اور جس چیز کو شر سمجھتے تھے اس سے انہیں خبردار کر دیا اور اس امت کی عافیت اس کے پہلے حصے میں رکھی گئی ہے اور اس امت کے آخری لوگوں کوسخت مصائب اور عجیب و غریب امور کا سامنا ہو گا ایسے فتنے رونما ہوں گے جو ایک دوسرے کے لئے نرم کر دیں گے مسلمان پر آزمائش آئے گی تو وہ کہے گا کہ یہ میری موت کا سبب بن کرر ہے گی اور کچھ عرصے بعد وہ بھی ختم ہو جائے گی۔ تم میں سے جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے جہنم کی آگ سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخلہ نصیب ہو جائے تو اسے اس حال میں موت آنی چاہئے کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کو وہ دے جو خود لینا پسند کرتا ہو اور جو شخص کسی امام سے بیعت کرے اور اسے اپنم ہاتھ کا معاملہ اور دل کا ثمرہ دے دے تو جہاں تک ممکن ہو اس کی اطاعت کرے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اپنا سر لوگوں میں گھسا کر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا یہ بات آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا میرے دونوں کانوں نے یہ بات سنی اور میرے دل نے اسے محفوظ کیا ہے

النَّاسُ: ← كنت جالسا معه في ظل الكعبة وهو ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَةِ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6793

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6987

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ أَبِي الْعَلَاءِ قَالَ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ ذَكَرُوا الْفِتْنَةَ أَوْ ذُكِرَتْ عِنْدَهُ قَالَ إِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَخَفَّتْ أَمَانَاتُهُمْ وَكَانُوا هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ كَيْفَ أَفْعَلُ عِنْدَ ذَلِكَ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ الْزَمْ بَيْتَكَ وَامْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَخُذْ مَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ وَعَلَيْكَ بِأَمْرِ خَاصَّةِ نَفْسِكَ وَدَعْ عَنْكَ أَمْرَ الْعَامَّةِ

حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگردبیٹھے ہوئے تھے کہ فتنوں کا تذکرہ ہونے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جب وعدوں اور امانتوں میں بگاڑ پیدا ہو جائے اور لوگ اس طرح ہو جائیں (راوی نے تشبیک کر کے دکھائی) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس وقت میرے لئے کیا حکم ہے ؟ فرمایا اپنے گھر کو لازم پکڑنا اپنی زبان کو قابو میں رکھنا نیکی کے کام اختیار کرنا برائی کے کاموں سے بچنا اور خواص کے ساتھ میل جول رکھنا عوام سے اپنے آپ کو بچانا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عِكْرِمَةَ، ← هلالِ بن {خبابٍ أبي العلاءِ} ← يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 6987

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7186

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيُلْقَى الشُّحُّ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قَالَ قَالُوا أَيُّمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْقَتْلُ الْقَتْلُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب زمانہ قریب آجائے گا لوگوں کے دلوں میں بخل اور کنجوسی انڈیل دی جائے گی ۔ فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل قتل۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7186

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7236

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنْ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ فَلْيَتَعَوَّذْ مِنْ أَرْبَعٍ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص قعدہ اخیرہ سے فارغ ہوجائے تو اسے چاہئے کہ چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے عذاب جہنم سے عذاب قبر سے زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ أَنَّهُ ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْعَبَّاسِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7236

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7258

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً وَالَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي كَبْشًا حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ میں سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والا گائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغی اور انڈے کا بھی ذکر فرمایا۔

الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ ← الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي كَبْشًا حَتَّى ← الْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7258

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7511

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي شَاةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَطَّةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي دَجَاجَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَيْضَةً

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کی نماز میں سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والا گائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا بکری قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے پھر بطخ پھر مرغی پھر انڈہ صدقہ دینے والے کی طرح ثواب پاتا ہے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7511

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7540

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ حَنْظَلَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبَضُ الْعِلْمُ وَيَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرْجُ قَالَ الْقَتْلُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم اٹھا لیا جائے گا فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل قتل۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← سَالِمًا ← حَنْظَلَةُ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7540

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7753

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي الْأَغَرُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبُ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ جَلَسَتْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ يَكْتُبُونَ كُلَّ مَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَتْ الْمَلَائِكَةُ الصُّحُفَ وَدَخَلَتْ تَسْمَعُ الذِّكْرَ قَالَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي شَاةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي دَجَاجَةً ثُمَّ كَالْمُهْدِي حَسِبْتُهُ قَالَ بَيْضَةً

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر بیٹھ جاتے ہیں اور جمعہ میں آنے والوں کا اندراج کرتے جاتے ہیں اور جب امام نکل آتا ہے تو وہ صحیفے لپیٹ کر مسجد میں ذکر سننے کے لئے داخل ہوجاتے ہیں نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلے جمعہ کے لئے آنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے اونٹ پیش کیا پھر جس نے گائے پیش کیا پھر جس نے بکری پیش کی پھر جس نے مرغی کو پیش کیا پھر جس نے انڈہ پیش کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الأَغَرُّ أَبو عَبدِ اللهِ، صَاحِبُ أَبِي هُرَيرَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7753

chevron_left Previous
1…161718…429
Next chevron_right