Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الجهاد والمعارك

Jihad & Expeditions

40738 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17495

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا قَبَاثُ بْنُ رَزِينٍ اللَّخْمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يَقُولُ كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلَامَ ثُمَّ قَالَ تَعَلَّمُوا كِتَابَ اللَّهِ وَاقْتَنُوهُ قَالَ وَحَسِبْتُهُ قَالَ وَتَغَنُّوا بِهِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنْ الْمَخَاضِ مِنْ الْعُقُلِ

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے، اور ہمیں سلام کیا، ہم نے جواب دیا، پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کتاب اللہ کا علم حاصل کیا کرو، اسے مضبوطی سے تھامو اور ترنم کے ساتھ اسے پڑھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، یہ قرآن باڑے میں بندھے ہوئے اونٹوں سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ نکل جاتا ہے ۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ ← قباث بن رزين اللخمي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17495

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10404

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي وَقَرَّتْ عَيْنِي فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ فَقَالَ كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنْ مَاءٍ قَالَ فَأَنْبِئْنِي بِعَمَلٍ إِنْ عَمِلْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَالَ أَفْشِ السَّلَامَ وَأَطِبْ الْكَلَامَ وَصِلْ الْأَرْحَامَ وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلْ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور آنکھوں کو قرار آجاتا ہے آپ مجھے ہر چیز کی اصل بتائیے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چیز پانی سے پیدا کی گئی ہے میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتادیجئے کہ اگر میں اس پر عمل کرلوں تو جنت میں داخل ہوجاؤں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلام پھیلاؤ اچھی بات کرو صلہ رحمی کرو اور راتوں کو جب لوگ سورہے ہوں تم قیام کرو اور سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ ← أَبِي مَيْمُونَةَ2 ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10404

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10412

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ انْتَدَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ يَخْرُجُ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْإِيمَانُ بِي وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِي أَنَّهُ عَلَيَّ ضَامِنٌ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ بِإِيمَانِهِ مَا كَانَ إِمَّا بِقَتْلٍ وَإِمَّا بِوَفَاةٍ أَوْ أَرُدَّهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَالَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے متعلق اپنے ذمے یہ بات لے رکھی ہے جو اس کے راستے میں نکلے کہ اگر وہ صرف میرے راستے میں جہاد کی نیت سے نکلا ہے اور مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے پیغمبر کی تصدیق کرتے ہوئے روانہ ہوا ہے تو مجھ پر یہ ذمہ داری ہے کہ اسے جنت میں داخل کروں یا اس حال میں اس کے ٹھکانے کی طرف واپس پہنچا دوں کہ وہ ثواب یا مال غنیمت کو حاصل کرچکاہو۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ أَنَّهُ ← سَعِيدٌ، ← لَيْثٌ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10412

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10435.1

وَبِإِسْنَادِهِ هَذَا قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا إِنْ شِئْتُمْ دَلَلْتُكُمْ عَلَى أَمْرٍ إِنْ فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ قَالُوا أَجَلْ قَالَ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ

گذشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک کامل مومن نہ ہوجاؤ اور کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگو کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس پر عمل کرنے کے بعد تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10435.1

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10625

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا جُهَيْرُ بْنُ يَزِيدَ الْعَبْدِيُّ عَنْ خِدَاشِ بْنِ عَيَّاشٍ قَالَ كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ بِالْكُوفَةِ فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ شَهِدَ عَلَى مُسْلِمٍ شَهَادَةً لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

خداش بن عیاش رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ کوفہ کے ایک حلقہ درس میں بیٹھے ہوئے تھے جہاں ایک آدمی احادیث بیان کررہا تھا اس نے کہا کہ ہم لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کے متعلق ایسی گواہی دے جس کا وہ اہل نہ ہو تو اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالینا چاہئے۔

مَنْ شَهِدَ عَلَى مُسْلِمٍ شَهَادَةً لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← كُنَّا جُلُوسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ ← كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ بِالْكُوفَةِ فَإِذَا رَجُلٌ ← خِدَاشِ بْنِ عَيَّاشٍ ← جهير بن يزيد العبدي ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10625

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10658

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا قَالَ إِنْ شِئْتُمْ دَلَلْتُكُمْ عَلَى مَا إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک کامل مومن نہ ہوجاؤ اور کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگو کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس پر عمل کرنے کے بعد تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10658

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10775

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْهُنَائِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بَيْنَ ضَجَنَانِ وَعُسْفَانَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّ لِهَؤُلَاءِ صَلَاةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ وَهِيَ الْعَصْرُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ فَمِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً وَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ شَطْرَيْنِ فَيُصَلِّيَ بِبَعْضِهِمْ وَتَقُومَ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى وَرَاءَهُمْ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ ثُمَّ تَأْتِي الْأُخْرَى فَيُصَلُّونَ مَعَهُ وَيَأْخُذُ هَؤُلَاءِ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ لِتَكُونَ لَهُمْ رَكْعَةً رَكْعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ ڈالا مشرکین نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان لوگوں کو اپنی نماز عصر اپنے آباؤ اجداد اور اپنی بیویوں سے بھی زیادہ محبوب ہے اس لئے تم اس وقت اکٹھے ہو کر حملہ کردینا تاکہ وہ ایک دفعہ ہی میں شکست خوردہ ہوجائیں ادھر حضرت جبرائیل علیہ السلام حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دو گروہوں میں کھڑا کرنے کے لئے کہا تاکہ ایک گروہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا دیں اور دوسرا ان کے پیچھے دشمن کے سامنے ڈٹا رہے اور وہ اپنا حفاظتی سامان اور اسلحہ اپنے ساتھ رکھے پھر دوسرا گروہ آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ لے اور پہلا گر وہ اپنا حفاظتی سامان اور اسلحہ اپنے ساتھ رکھے اس طرح ان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہوجائے گی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں رکعتیں مکمل ہوجائیں گی۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْهُنَائِيُّ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10775

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10810

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإِذَا لَقِيتُمْ الْمُشْرِكِينَ فِي الطَّرِيقِ فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم مشرکین سے راستے میں ملو تو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کردو۔

فَإِذَا لَقِيتُمْ الْمُشْرِكِينَ فِي الطَّرِيقِ فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10810

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10827

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بھی مجھے سلام کرتا ہے اللہ تعالیٰ میری روح کو واپس لوٹا دیتا ہے اور میں خود اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو صَخْرٍ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ← حَيْوَةُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10827

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10891

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ يَعْنِي ابْنَ غَالِبٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَلِكَ قَالَ احْبِسْ نَفْسَكَ عَنْ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی! کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا اس نے پوچھا کہ اگر میں اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہوں تو؟ فرمایا پھر اپنے آپ کو شر اور گناہ کے کاموں سے بچا کر رکھو کیونکہ یہ بھی ایک عمدہ صدقہ ہے جو تم اپنی طرف سے دوگے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ فَقَالَ ← أَبِيهِ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← خَلِيفَةُ يَعْنِي ابْنَ غَالِبٍ ← أَبُو سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10891

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10898

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ يَعْنِي الْفِرْيَابِيَّ بِمَكَّةَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلام کو مختصر کرنا سنت ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← قُرَّۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ يَعْنِي الْفِرْيَابِيَّ بِمَكَّةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10898

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10900

حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے سلام کے بعد کئے تھے۔

سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سُفْيَانَ ← دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ الْحُصَيْنِ، ← مَالِكٍ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10900

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10904

حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سُوقِ بَنِي قَيْنُقَاعَ مُتَّكِئًا عَلَى يَدِي فَطَافَ فِيهَا ثُمَّ رَجَعَ فَاحْتَبَى فِي الْمَسْجِدِ وَقَالَ أَيْنَ لَكَاعٌ ادْعُوا لِي لَكَاعًا فَجَاءَ الْحَسَنُ عَلَيْهِ السَّلَام فَاشْتَدَّ حَتَّى وَثَبَ فِي حَبْوَتِهِ فَأَدْخَلَ فَمَهُ فِي فَمِهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ ثَلَاثًا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا رَأَيْتُ الْحَسَنَ إِلَّا فَاضَتْ عَيْنِي أَوْ دَمَعَتْ عَيْنِي أَوْ بَكَتْ شَكَّ الْخَيَّاطُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنوقینقاع کے بازار میں میرے ہاتھ سے سہارا لگائے ہوئے نکلے وہاں کا چکر لگا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس آئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر کے صحن میں پہنچ کر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو آوازیں دینے لگے او بچے او بچے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ آگئے وہ آتے ہی دوڑتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چمٹ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انہیں اپنے ساتھ چمٹا لیا اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت فرما حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جب بھی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10904

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10918

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَام فَذَكَرَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ملک الموت پہلے سب کے سامنے آکر روح قبض کیا کرتے تھے چنانچہ جب وہ حضرت موسی علیہ السلام کی روح قبض کرنے کے لئے ان کے پاس پہنچے تو حضرت موسی علیہ السلام نے ایک طمانچہ مارا ان کی آنکھ پھوڑ دی وہ پروردگار کے پاس واپس جا کر کہنے لگے کہ آپ کے بندے نے میری آنکھ پھوڑ دی اگر آپ کی مہربانی ان پر نہ ہوتی تو میں بھی انہیں سخت جواب دیتا اللہ نے ان کی آنکھ واپس لوٹا دی اور فرمایا ان کے پاس واپس جا کر ان سے کہو کہ ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھ دیں ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال أگئے ہر بال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہو جائے گا حضرت موسی علیہ السلام نے پوچھا کہ اے پروردگار پھر کیا ہوگا فرمایا پھر موت آئے گی انہوں نے کہا تو پھر ابھی سہی چنانچہ ملک الموت نے انہیں کوئی چیز سونگھائی اور ان کی روح قبض کرلی۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10918

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11085

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ الصُّورِ فَقَالَ عَنْ يَمِينِهِ جِبْرِيلُ وَعَنْ يَسَارِهِ مِيكَائِيلُ عَلَيْهِمْ السَّلَام

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صور پھونکنے والے فرشتے (اسرافیل علیہ السلام) کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی دائیں جانب حضرت جبرائیل علیہ السلام اور بائیں جانب حضرت میکائیل علیہ السلام ہیں ۔

يَمِينِهِ جِبْرِيلُ وَعَنْ يَسَارِهِ مِيكَائِيلُ عَلَيْهِمْ السَّلَام ← رَسُولُ اللَّهِ صَاحِبَ الصُّورِ فَقَالَ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← سَعْدٍ الطَّائِیِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11085

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11118

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ ثَلَاثَةٌ مَنْ قَالَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ وَالرَّابِعَةُ لَهَا مِنْ الْفَضْلِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَهِيَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ابوسعید! تین چیزیں ایسی ہیں کہ جو انہیں کہہ لیا کرے، وہ جنت میں داخل ہوگا، میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا چیزیں ہیں ؟ فرمایا جو اللہ کو اپنا رب بنا کر، اسلام کو اپنا دین مان کر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اپنا رسول بنا کر خوش اور راضی ہو، پھر فرمایا ابوسعید! ایک چوتھی چیز بھی ہے جس کی فضیلت زمین و آسمان کے درمیانی فاصلے کے برابر ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ۔

أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ بِيَدِي، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11118

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11125

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ أَنَّ أَبَا النَّجِيبِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمُ ذَهَبٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْ شَيْءٍ فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَحَدَّثَهَا فَقَالَتْ إِنَّ لَكَ لَشَأْنًا فَارْجِعْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَأَلْقَى خَاتَمَهُ وَجُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ أُذِنَ لَهُ وَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْرَضْتَ عَنِّي قَبْلُ حِينَ جِئْتُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ جِئْتَنِي وَفِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ وَكَانَ قَدْ قَدِمَ بِحُلِيٍّ مِنْ الْبَحْرَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَا جِئْتَ بِهِ غَيْرُ مُغْنٍ عَنَّا شَيْئًا إِلَّا مَا أَغْنَتْ حِجَارَةُ الْحَرَّةِ وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَقَالَ الرَّجُلُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْذُرْنِي فِي أَصْحَابِكَ لَا يَظُنُّونَ أَنَّكَ سَخِطْتَ عَلَيَّ بِشَيْءٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَذَرَهُ وَأَخْبَرَ أَنَّ الَّذِي كَانَ مِنْهُ إِنَّمَا كَانَ لِخَاتَمِهِ الذَّهَبِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نجران سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا اور اس سے کچھ بھی نہ پوچھا، وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس واپس چلا گیا اور اسے سارا واقعہ بتایا، اس نے کہا کہ ضرور تمہارا کوئی معاملہ ہے، تم دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جاتے ہوئے اپنی انگوٹھی اور اپنا جبہ " جو اس نے زیب تن کیا ہوا تھا " اتاردیا، اس مرتبہ جب اس نے اجازت چاہی تو اسے اجازت مل گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب بھی دیا، اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب پہلے آپ کے پاس آیا تھا تو آپ نے مجھ سے اعراض فرمایا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت تمہارے ہاتھ میں جہنم کی آگ کی ایک چنگاری تھی، اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو میں بہت سی چنگاریاں لے کر آیا ہوں ، دراصل وہ بحرین سے بہت سا زیور لے کر آیا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم وہ چیز لے کر آئے جس کا ہمیں صرف اتنا ہی فائدہ ہوسکتا ہے جتنا پتھریلے علاقے کے پتھروں سے، البتہ یہ دنیوی زندگی کا سازو سامان ہے۔ پھر اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے صحابہ کے سامنے میری طرف سے عذر داری کردیجئے تاکہ وہ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ آپ کسی وجہ سے مجھ سے ناراض ہیں ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اس کی طرف سے عذر داری کرلی، اور لوگوں کو دیا کہ اس کے ساتھ اعراض ان کی سونے کی انگوٹھی کی وجہ سے تھا۔

اَنَّ اَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ ← بَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ، اَنَّ اَبَا النَّجِیْبِ مَوْلٰی عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعْدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بن معروف

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11125

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11131

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَاتَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ يَقْرَأُ اللَّيْلَ كُلَّهُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَام وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَعْدِلُ نِصْفَ الْقُرْآنِ أَوْ ثُلُثَهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سورت اخلاص ہی پر ساری رات گذار دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، سورت اخلاص نصف یا تہائی قرآن کے برابر ہے۔

ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ← بَاتَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ يَقْرَأُ اللَّيْلَ كُلَّهُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11131

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11160

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى مُغَيْرِبَانِ الشَّمْسِ حَفِظَهَا مِنَّا مَنْ حَفِظَهَا وَنَسِيَهَا مِنَّا مَنْ نَسِيَهَا فَحَمِدَ اللَّهَ قَالَ عَفَّانُ وَقَالَ حَمَّادٌ وَأَكْثَرُ حِفْظِي أَنَّهُ قَالَ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ أَلَا إِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ شَتَّى مِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا أَلَا إِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ تُوقَدُ فِي جَوْفِ ابْنِ آدَمَ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَالْأَرْضَ الْأَرْضَ أَلَا إِنَّ خَيْرَ الرِّجَالِ مَنْ كَانَ بَطِيءَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الرِّضَا وَشَرَّ الرِّجَالِ مَنْ كَانَ سَرِيعَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الرِّضَا فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ بَطِيءَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ وَسَرِيعَ الْغَضَبِ وَسَرِيعَ الْفَيْءِ فَإِنَّهَا بِهَا أَلَا إِنَّ خَيْرَ التُّجَّارِ مَنْ كَانَ حَسَنَ الْقَضَاءِ حَسَنَ الطَّلَبِ وَشَرَّ التُّجَّارِ مَنْ كَانَ سَيِّئَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ حَسَنَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ أَوْ كَانَ سَيِّئَ الْقَضَاءِ حَسَنَ الطَّلَبِ فَإِنَّهَا بِهَا أَلَا إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ أَلَا وَأَكْبَرُ الْغَدْرِ غَدْرُ أَمِيرِ عَامَّةٍ أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا مَهَابَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا عَلِمَهُ أَلَا إِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ مُغَيْرِبَانِ الشَّمْسِ قَالَ أَلَا إِنَّ مِثْلَ مَا بَقِيَ مِنْ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا مِثْلُ مَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک مسلسل خطبہ ارشاد فرمایا جس نے اسے یاد رکھ لیا سو رکھ لیا اور جو بھول گیا سو بھول گیا ، اس خطبے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد وثناء کرنے کے بعد فرمایا اما بعد ! دنیا سر سبز وشاداب اور شریں ہے ، اللہ تمہیں اس میں خلافت عطاء فرما کر دیکھے گا کہ تم کیا اعمال سر انجام دیتے ہو ؟ یاد رکھو! دنیا اور عورت سے ڈرتے رہو ، اور یاد رکھو! کہ بنی آدم کی پیدائش مختلف درجات میں ہوئی ہے چنانچہ بعض تو ایسے ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں ، مؤمن ہو کر زندہ رہتے ہیں او رمؤمن ہو کر ہی مرجاتے ہیں ، بعض کافر پیدا ہوتے ہیں ، کافر ہو کر زندگی گذار تے ہیں اور کافر ہو کر ہی مرجاتے ہیں ، بعض ایسے ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں مؤمن ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور کافر ہو کر مرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو کافر پیدا ہوتے ہیں کافر ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور مؤمن ہو کر مرجاتے ہیں ۔ یاد رکھو! غصہ ایک چنگاری ہے جو ابن آدم کے پیٹ میں سلگتی ہے ، تم غصے کے وقت اس کی آنکھوں کا سرخ ہونا اور رگوں کا پھول جانا ہی دیکھ لو ، جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آئے تو وہ زمین پر لیٹ جائے یاد رکھو! بہترین آدمی وہ ہے جسے دیر سے غصہ آئے اور وہ جلدی راضی ہو جائے، اور بدترین آدمی وہ ہے جسے جلدی غصہ آئے اور وہ دیر سے راضی ہو ، اور جب آدمی کو غصہ دیر سے آئے اور دیر ہی سے جائے یاجلدی ہی چلا جائے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے ۔ یاد رکھو! بہترین تاجر وہ ہے جو عمدہ انداز میں قرض اداء کرے اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے ، اور بدترین تاجر وہ ہے جو بھونڈے انداز میں ادا کرے اور اسی انداز میں مطالبہ کرے ، اور اگر کوئی آدمی عمدہ انداز میں ادا اور بھونڈے انداز میں مطالبہ کرے یا بھونڈے انداز میں ادا اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے ۔ قیامت کے دن ہر دھوکے باز کا اس کے دھوکے بازی کے بقدر ایک جھنڈا ہوگا ، یاد رکھو سب سے زیادہ بڑا دھوکہ اس آدمی کا ہوگا جو پورے ملک کا عمومی حکمران ہو ، یاد رکھو! کسی شخص کو لوگوں کا رعب و دبدبہ کلمہ حق کہنے سے روکے جبکہ وہ اسے اچھی طرح معلوم بھی ہو ، یاد رکھو! سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے ، پھر جب غروب شمس کا وقت قریب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو ! دنیا کی جتنی عمر گزر گئی ہے ، بقیہ عمر کی اس کے ساتھ وہی نسبت سے جو آج اسے گزرے ہوئے دن کے ساتھ اس وقت کی ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يزيد بن هارون وعَفَّان

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11160

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11193

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَمَّنْ لَقِيَ الْوَفْدَ وَذَكَرَ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ وَلَسْنَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ إِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ وَنَأْمُرُ بِهِ أَوْ نَدْعُو مَنْ وَرَاءَنَا فَقَالَ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ اعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا فَهَذَا لَيْسَ مِنْ الْأَرْبَعِ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتَوْا الزَّكَاةَ وَصُومُوا رَمَضَانَ وَأَعْطُوا مِنْ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ قَالُوا وَمَا عِلْمُكَ بِالنَّقِيرِ قَالَ جِذْعٌ يُنْقَرُ ثُمَّ يُلْقُونَ فِيهِ مِنْ الْقُطَيْعَاءِ أَوْ الثَّمَرِ وَالْمَاءِ حَتَّى إِذَا سَكَنَ غَلَيَانُهُ شَرِبْتُمُوهُ حَتَّى إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَضْرِبُ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ مِنْ ذَلِكَ فَجَعَلْتُ أُخَبِّئُهَا حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَشْرَبَ قَالَ فِي الْأَسْقِيَةِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا قَالُوا إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ كَثِيرَةُ الْجُرْذَانِ لَا تَبْقَى فِيهَا أَسْقِيَةُ الْأُدُمِ قَالَ وَإِنْ أَكَلَتْهُ الْجُرْذَانُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَقَالَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ إِنَّ فِيكَ خُلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے، ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ حائل ہے اور ہم آپ کی خدمت میں صرف اشہر حرم میں حاضر ہوسکتے ہیں اس لئے آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتادیجئے جس پر عمل کرکے ہم جنت میں داخل ہوجائیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی بتائیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں چار باتوں کا حکم اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں ، اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرنا، زکوۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال کو بھجوانا، اور میں تمہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع کرتا ہوں ، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " نقیر " کا مطلب پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مکڑی کا وہ کانٹا جسے کھوکھلا کرکے اس میں ٹکڑے، کھجوریں یا پانی ڈال کر جب اس کا جوش ختم ہوجائے تو اسے پی لیا جائے، پھر تم میں سے کوئی شخص اپنے چچا زاد ہی کو تلوار مارنے لگے، اتفاق سے اس وقت لوگوں میں ایک آدمی موجود تھا، جسے اسی وجہ سے زخم لگا تھا ، میں شرم کے مارے اسے چھپانے لگا۔ پھر ان لوگوں نے پوچھا کہ مشروبات کے حوالے سے آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان مشکیزوں میں پیا کرو جن کا منہ بندھا ہوا ہو، انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے علاقے میں چوہوں کی بہتات ہے، اس میں چمڑے کے مشکیزے باقی رہ نہیں سکتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ فرمایا اگرچہ چوہے انہیں کتر لیا کریں اور وفد کے سردار سے فرمایا کہ تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں جو اللہ کو بہت پسند ہیں ، بردباری اور وقار

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبَا نَضْرَةَ ← قَتَادَةُ عَمَّنْ لَقِيَ الْوَفْدَ ← ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11193

chevron_left Previous
1…656667…2,037
Next chevron_right