Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الجهاد والمعارك

Jihad & Expeditions

40738 hadiths

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1462

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ قِيلَ فَأَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقِيَامِ قِيلَ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ جُهْدُ مُقِلٍّ قِيلَ فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ تَهْجُرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْكَ قِيلَ فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ قِيلَ فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ

حضرت عبداللہ بن حبشی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کون سے اعمال افضل ہیں؟ آپ نے جواب دیا: ایسا ایمان جس میں کوئی شک نہ ہو۔ ایسا جہاد جس میں (مال غنیمت میں) کوئی خیانت کی گئی ہو اور ایسا حج جس میں کوئی بری بات نہ ہو۔ دریافت کیا گیا کون سی نماز افضل ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: طویل قیام والی عرض کی گئی کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: تنگدستی کے عالم میں دیا جانے والا صدقہ عرض کی گئی کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ نے جواب دیا: اللہ نے تمہارے لئے جو چیزیں حرام کر دیں ہیں انہیں چھوڑ دینا۔ عرض کی گئی کون ساجہاد افضل ہے؟ آپ نے فرمایا اس شخص کا جہاد جو مشرکین کے ساتھ اپنی جان اور مال کے ہمراہ جہاد کرے۔ عرض کی گئی کون سا مقتول افضل ہے؟ آپ نے فرمایا جس کے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دی جائیں اور اس شخص کو شہید کردیا جائے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ← عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1462

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1474

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقُلْ إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَلَيْهِمَا قَالَ كُرَيْبٌ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي أُمُّ سَلَمَةَ تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ أَسْمَعْكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ قَالَتْ فَفَعَلَتْ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا ابْنَةَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ سُئِلَ أَبُو مُحَمَّد عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ أَنَا أَقُولُ بِحَدِيثِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ

حضرت کریب جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس حضرت عبدالرحمن بن ازہر اور حضرت مسوربن مخرمہ نے انہیں کریب کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور یہ ہدایت کی ان کو ہم سب کی طرف سے سلام کہنا اور ان کے عصر کے بعد والی دو رکعت کے بارے میں سوال کرنا۔ اور یہ کہنا کہ ہمیں یہ پتہ چلا کہ آپ یہ دو رکعت ادا کرتی یہں جب کہ ہم تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعت کو پڑھنے سے منع کیا ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عمر کے ساتھ مل کر ان دو رکعت ادا کرنے والوں کو مارا پیٹا تھا۔ کریب بیان کرتے ہیں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور جس سوال کے ہمراہ مجھے ان حضرات نے بھیجا تھا وہ انہیں بتایا سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہدایت کی تم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کرو، میں واپس ان حضرات کے پاس آیا اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جواب کے بارے میں بتایا ان حضرات نے مجھے اسی سوال کے ہمراہ جو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بھیجا تھا سیدہ ام سلمہ کی خدمت میں بھیج دیا۔ ام سلمہ نے جواب دیا میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دو رکعت ادا کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے لیکن پھر ایک مرتبہ میں نے آپ کو دو رکعت ادا کرتے ہوئے دیکھا آپ نے یہ دو رکعت اس وقت ادا کی تھیں جب آپ عصر کی نماز پڑھ لینے کے بعد میرے ہاں تشریف لائے اس وقت انصار کے قبیلہ بنوحرام سے تعلق رکھنی والی چند خواتین میرے پاس موجود تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو رکعت ادا کی ۔ میں نے ایک لڑکی کو آپ کے پاس بھیجا اور یہ ہدایت کی تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑی ہوجانا اور یہ کہنا ام سلمہ کہہ رہی ہیں یا رسول اللہ میں نے تو آپ کو ان دو رکعت کو اداکرنے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ خود یہ رکعت ادا کررہے ہیں ؟ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کریں تو تم پیچھے ہو کر کھڑی ہوجانا۔ ام سلمہ بیان کرتی ہیں اس لڑکی نے ایساہی کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا۔ وہ لڑکی پیچھے ہٹ گئی جب آپ نے نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا اے ابوامیہ کی صاحبزادی تم نے عصر کے بعد دو رکعت کے بارے میں دریافت کیا ہے میرے پاس عبدالقیس قبیلے کے چند لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے آئے تھے ان کی وجہ سے میں ظہر کے بعد والی دو رکعت ادا نہ کرسکا یہ وہی والی دو رکعت تھی۔ امام ابومحمد دارمی سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا میں حضرت عمر کے حوالے سے منقول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مطابق فتوی دیتاہوں کہ عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہوجانے تک کوئی نماز ادا نہیں کی جاسکتی اور فجر کے بعد سورج طلوع ہوجانے تک کوئی نماز ادا نہیں کی جاسکتی ۔

أَنَّکِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا ← الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقُلْ ← اقْرَأ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا ← الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَی عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← عبد الرحمن بن أزهر ← كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ الله بْنَ عَبَّاسٍ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أحمد بن عيسى،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1474

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1499

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ عَوْفٍ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامَ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ فَقَالُوا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ فَخَرَجْتُ فِيمَنْ خَرَجَ فَلَمَّا رَأَيْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلُ مَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْأَرْحَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ

حضرت عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ آپ کے استقبال کے لئے آئے اور بولے کہ اللہ کے رسول تشریف لائے ہیں اللہ کے رسول تشریف لائے ہیں حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے ساتھ میں بھی نکلا جب میں نے آپ کا چہرہ مبارک دیکھا تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ کسی جھوٹے شخص کا چہرہ نہیں ہے۔ میں نے سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اے لوگو سلام کو عام کرو۔ کھانا کھلاؤ رشتہ داری برقرار رکھو اور جب لوگ سو رہے ہوں اس وقت نوافل ادا کرو تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔

لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← عَوْفٌ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1499

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1638

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ أَوَ قُلْتَ لَهُ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ قَالَ بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَقُولُ بِهِ وَآخُذُ بِهِ وَلَا أَرَى أَنْ آخُذَ بِهِ إِلَّا فِي الْحَرْبِ

امام محمد بیان کرتے ہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوال کیا گیا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں دعائے قنوت پڑھتے تھے انہوں نے جواب دیا جی ہاں۔ ان سے یہ کہا گیا کہ آپ رکوع سے پہلے پڑھتے تھے یا بعد میں پڑھتے تھے انہوں نے جواب دیا رکوع کے بعد پڑھتے تھے۔ امام دارمی فرماتے ہیں میں بھی اس کے مطابق فتوی دیتا ہوں اور اس حدیث پر عمل کرتا ہوں میرے نزدیک جنگ کے دوران اس پر عمل کرنا چاہیے۔

بَعْدَ الرُّکُوعِ يَسِيرًا ← نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ أَوَ قُلْتَ لَهُ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ ← سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1638

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1725

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ وَعَمِّهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ وَالتَّوْفِيقِ لِمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى رَبُّنَا وَرَبُّكَ اللَّهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی کا چاند دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے تھے" اللہ سب سے بڑا ہے اے اللہ اس چاند کو ہمارے لئے امن ایمان سلامتی اور اسلام کا باعث بنا اور اس چیز کی توفیق کاجسے ہمارا پروردگار پسند کرتا ہے اور جس سے راضی ہے (اے چاند) ہمارا اور تمہارا پروردگار اللہ ہے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ، وَعَمِّهِ ← أَبِي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1725

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1726

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ الْمَدَنِيُّ عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْحَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ

حضرت طلحہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی کا چاند دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے تھے" اللہ سب سے بڑا ہے اے اللہ اس چاند کو ہمارے لئے امن ایمان سلامتی اور اسلام کا باعث بنا اور اس چیز کی توفیق کا جسے ہمارا پروردگار پسند کرتا ہے اور جس سے راضی ہے (اے چاند) ہمارا اور تمہارا پروردگار اللہ ہے۔

اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ ← كَانَ النَّبِيُّ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ ← طَلْحَةَ، ← أَبِيهِ ← بِلَالِ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ الْمَدَنِيُّ ← الْعَقَدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1726

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1811

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا الْعَمَلُ فِي أَيَّامٍ أَفْضَلَ مِنْ الْعَمَلِ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ قِيلَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی بھی دین میں کیا جانے والا عمل ذوی الحج کے پہلے عشرے میں کئے جانے والے عمل سے زیادہ افضل نہیں ہوگا۔ عرض کی گئی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں۔ البتہ جو شخص اپنی جان اور مال کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے تیار ہے اور پھر کچھ بھی واپس لے کر نہ آئے تو اس کا اجر زیادہ ہوگا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُسْلِمًا الْبَطِينَ ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ،

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1811

سنن دارمی · من كتاب الصوم ‹ باب · حديث 1812

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَصْبَغُ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ عَمَلٍ أَزْكَى عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا أَعْظَمَ أَجْرًا مِنْ خَيْرٍ تَعْمَلُهُ فِي عَشْرِ الْأَضْحَى قِيلَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ قَالَ وَكَانَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ إِذَا دَخَلَ أَيَّامُ الْعَشْرِ اجْتَهَدَ اجْتِهَادًا شَدِيدًا حَتَّى مَا يَكَادُ يَقْدِرُ عَلَيْهِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اللہ کے نزدیک کوئی بھی عمل اس سے زیادہ اجر پاکیزہ اور اس سے زیادہ اجر والا نہیں ہے جو عمل کوئی شخص ذوی الحج کے پہلے عشرے میں کرتا ہے عرض کیا گیا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں البتہ جو شخص جان اور مال کے ہمراہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لئے جائے اور ان میں سے کچھ بھی لے کر واپس نہ آئے تو اس کا اجر زیادہ ہوگا۔ راوی کہتے ہیں حضرت سعید بن جبیر کا یہ معمول تھا کہ جب ذوالحج کے عشرے کے ایام آجاتے تو وہ زیادہ محنت کے ساتھ عبادت کرتے اور اتنی محنت کرتے جتنی ان کے اندر طاقت ہوتی اور کبھی اتنی محنت کرتے کہ ان کی طاقت سے زیادہ ہوتی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدٌ، ← الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ← أَصْبَغُ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of fasting › Door · Hadith 1812

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2122

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ تَدْخُلُوا الْجِنَانَ

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رحمن کی عبادت کرو سلام کو عام کرو اور (لوگوں کو) کھانا کھلاؤ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى،

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2122

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2433

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں عرض کی گئی یا رسول اللہ کون سا جہاد افضل ہے؟ جواب دیا گیا جس میں آدمی کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دئے جائیں اور آدمی کا خون بہادیا جائے۔ (یعنی اسے شہید کردیا جائے)۔

قِيلَ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2433

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2434

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ قِيلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قِيلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے۔ جواب دیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ عرض کی گئی پھر اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے۔ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پھر عرض کی گئی پھر کون ساہے؟ آپ نے جواب دیا وہ حج ہے جس میں کوئی گناہ نہ کیا جائے۔

ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ ← ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قِيلَ ثُمَّ مَاذَا ← قِيلَ ثُمَّ مَاذَا ← «إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ»، ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2434

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2448

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَيْحٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ

سہل بن ابوامامہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگے اللہ تعالیٰ اسے شہداء کے مرتبے پر فائز کرے گا اگرچہ وہ اپنے بستر پر ہی فوت ہوجائے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← أَنَّهُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، ← القاسم بن كثير،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2448

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2453

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَخَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ الْجِهَادَ فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْهُ إِلَّا الْفَرَائِضَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهَلْ ذَلِكَ مُكَفِّرٌ عَنْهُ خَطَايَاهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِذَا قُتِلَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ إِلَّا الدَّيْنَ فَإِنَّهُ مَأْخُوذٌ بِهِ كَمَا زَعَمَ لِي جِبْرِيلُ

عبداللہ بن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے خطبہ دینا شروع کیا اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کی پھر جہاد کا ذکر کیا اس سے افضل صرف فرائض ہیں ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ آپ کے خیال میں جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے تو کیا اس کے گناہ ختم ہوجائیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جب وہ صبر کرتے ہوئے اور ثواب کے حصول کی نیت کرتے ہوئے دشمن کا سامنا کرتے ہوئے پیٹھ پھیرے بغیر ماراجائے تو اس کے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے البتہ قرض معاف نہیں ہوگا اسے اس کی وجہ سے پکڑا جائے گا جبرائیل نے مجھے اسی طرح بتایاہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2453

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2454

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالْغَزْوُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ وَالنُّفَسَاءُ

حضرت صفوان بن امیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں طاعون کی وجہ سے مرنا شہادت ہے ڈوب کر مرناشہادت ہے پیٹ کی تکلیف سے مرنا شہادت ہے نفاس کے وقت عورت کا مرجانا شہادت ہے۔

الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالْغَزْوُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ وَالنُّفَسَاءُ ← النَّبِيِّ ← صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ← عَامِرِ بْنِ مَالِکٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ هُوَ التَّيْمِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2454

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2455

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالْمَرْأَةُ يَقْتُلُهَا وَلَدُهَا جُمْعًا شَهَادَةٌ

حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں ماراجانا شہادت ہے۔ طاعون کی وجہ سے مرجانا شہادت ہے پیٹ کے درد کی وجہ سے مرجانا شہادت ہے بچے کی وجہ سے عورت کا مرجانا شہادت ہے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2455

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2507

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ شَهْرًا يُرْعَبُ مِنِّي الْعَدُوُّ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَقِيلَ لِي سَلْ تُعْطَهْ فَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى مَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا

حضرت ابوذرغفاری بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے پانچ خصوصیات عطاکی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں عطا کی گئی مجھے سرخ اور سیاہ فام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا اور میرے لئے تمام روئے زمین کو جائے نماز اور طہارت کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا میرے لئے مال غنیمت کو حلال کیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی دشمن ایک ماہ کے فاصلے سے مجھ سے مرعوب ہوجاتا ہے اور مجھ سے یہ کہا گیا کہ تم مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا تو میں نے اپنی دعا کو اپنی امت کی شفاعت کے لئے سنبھال کر رکھ لیاہے اور اگر اللہ نے چاہا تو جو شخص کسی کو اللہ کا شریک نہیں سمجھتا یہ شفاعت اسے نصیب ہوگی۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← مُجَاهِدٍ ← سُلَیْمَانَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2507

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2672

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ عَوْفٍ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ فَقَالُوا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَرَجْتُ فِيمَنْ خَرَجَ فَلَمَّا رَأَيْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلَ مَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْأَرْحَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ

حضرت عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ آپ کو دیکھنے کے لئے آئے اور بولے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے ساتھ میں بھی نکل کھڑا ہوا جب میں نے آپ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے شخص کا نہیں ہوسکتا۔ سب سے پہلی بات آپ کی زبانی میں نے یہ سنی آپ نے ارشاد فرمایا اے لوگو سلام کو عام کرو کھاناکھلاؤ رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھو اور اس وقت نماز ادا کر جب لوگ سورہے ہوں تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔

«قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ← لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← عَوْفٌ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2672

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2678

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ قَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَتْ وَهُوَ يَرَى مَا لَا أَرَى

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا ان پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ چیز دیکھ لیتے تھے جو میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔

أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2678

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2679

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ حِينَ قَضَى صَلَاتَهُ فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّا بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ قَالَ عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ قُلْتُ مِنْ غِفَارٍ قَالَ فَأَهْوَى بِيَدِهِ قُلْتُ فِي نَفْسِي كَرِهَ أَنِّي انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ

حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو میں آپ کے پاس آیا میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے اسلامی طریقے کے مطابق سلام کیا۔ آپ نے جواب دیا تمہیں بھی سلام اور اللہ کی رحمتیں ہوں تمہارا کہاں سے تعلق ہے حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں میں نے جواب دیا غفار قبیلے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کو بڑھایا تو میں نے دل میں خیال کیا شاید آپ نے غفار قبیلے سے میری نسبت کو پسند نہیں کیا۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ،

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2679

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2680

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَوْفٍ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ وَقَالَ عَشْرٌ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ وَقَالَ عِشْرُونَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ وَقَالَ ثَلَاثُونَ

حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی السلام علیکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اور ارشاد فرمایا اس شخص کو دس نیکیاں ملی ہیں۔ پھر ایک اور صاحب آئے تو انہوں نے سلام کیا اور بولے السلام علیکم ورحمتہ اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا اور ارشاد فرمایا (ان صاحب کو بیس نیکیاں ملی ہیں) پھر ایک صاحب آءے انہوں نے سلام کیا اور بولے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا اور ارشاد فرمایا ان صاحب کو تیس نیکیاں ملی ہیں۔

ثلاثون. ← السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ ← عِشْرُونَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ← السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ ← عَشْرٌ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ← السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2680

chevron_left Previous
1…434445…2,037
Next chevron_right